Al-Masad 111:2

Al-Masad · from ayah 2

111:2

مَاۤ اَغْنٰی عَنْهُ مَالُهٗ وَمَا كَسَبَ ۟ؕمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُ مَالُهٗ وَمَا كَسَبَؕ

نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

His wealth will not avail him or that which he gained.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 36 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Masad

All translations of 111:2

اُس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اُس کے کسی کام نہ آیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کی دولت اور اس نے جو کمائی کی تھی وہ اس کے کچھ کام نہیں آئی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اسے اس کے (موروثی) مال نے کچھ فائدہ نہ پہنچایا اور نہ ہی اس کی کمائی نے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہ اس کے کام اس کا مال آیا اور نہ جو کچھ اس نے کمایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نہ اس کا مال اس کے کسی کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آسکا اور نہ ہی اس کی دوسری کمائی

— مولانا اسحاق مدنی

نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی ہی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کچھ کام نہ آیا اس کے اس کا یہ مال اور وہ کمائی جو اس نے کی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس کا مال اور اعمال اس کے کسی کام نہ آئے

— محترمہ رفعت اعجاز

His wealth did not avail him, nor his acquisitions.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Neither his wealth benefited him, nor what he earned.

— Muhammad Taqi Usmani

Neither his wealth benefited him, nor what he earned.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

His wealth and his children will not benefit him!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

His wealth and gains will not exempt him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

His wealth will not avail him or that which he gained.

— Saheeh International

May he too perish!

— Muhammad Sarwar

His wealth and what he earns will not avail him.

— Muhammad Habib Shakir

His substance availed him not, nor that which he earned.

— Abdul Majid Daryabadi

No profit to him from all his wealth, and all his gains!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 111:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

تفسیر سورة تبت بدترین اور بدنصیب میاں بیوی :٭٭ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ بطحا میں جا کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور اونچی آواز سے یاصباحاہ یاصباحاہ کہنے لگے قریش سب جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا اگر میں تم سے کہوں کہ صبح یا شام دشمن تم پر چھاپہ مارنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمھو گے ؟ سب نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں اللہ کے سخت عذاب کے آنے کی خبر دے رہا ہوں تو ابو لہب کہنے لگا تجھے ہلاکت ہو، کیا اسی لئے تو نے ہمیں جمع کیا تھا ؟ اس پر یہ سورت اتری (بخاری) دوسری روایت میں ہے کہ یہ ہاتھ جھاڑتا ہوا یوں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ تبت بددعا ہے اور تب خبر ہے، یہ ابو لہب آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–3

سورة اللھب 2 ابو لہب سخت بخیل اور زرپرست آدمی تھا۔ ابن اثیر کا بیان ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ اس پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ اس نے کعبہ کے خزانے میں سے سونے کے دو ہرن چرا لیے ہیں۔ اگرچہ بعد میں وہ ہرن ایک اور شخص کے پاس سے برآمد ہوئے، لیکن بجائے خود یہ بات کہ اس پر یہ الزام لگایا گیا، یہ ظاہر کرتی ہے کہ مکہ کے لوگ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے۔ اس کی مالداری کے متعلق قاضی رشید بن زبیر اپنی کتاب الذخائر والحف میں لکھتے ہیں کہ وہ قریش کے ان چار آدمیوں میں سے ایک تھا جو ایک قنطار سونے کے مالک تھے (قنطار دو سو اوقیہ کا اور ایک اوقیہ سوا تین تولہ کا ہوتا ہے) اس کی زرپرستی کا اندازہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ برباد ہوجائے۔ نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی (مال سے مراد اصل سرمایہ اور کمائی سی مراد اس کا نفع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی سامان اس کو ہلاکت سے نہ بچاوے گا، یہ حالت تو اس کی دنیا میں ہوئی اور آخرت میں) وہ عنقریب (یعنی مرتے ہی) ایک شعلہ زن آگ میں داخل ہوگا، وہ بھی اور اس کی بیوی بھی جو لکڑیاں لاد کر لاتی ہے (مراد خار دار لکڑیاں ہیں جن کو وہ رسول اللہ ﷺ کے راستہ میں بچھا دیتی تھی تاکہ آپکو تکلیف پہنچے اور دوزخ میں پہنچ کر) اس کے گلے میں (دوزخ کی زنجیر اور طوق ہوگا کہ گویا وہ) ایک رسی ہوگی خوب بٹی ہوئی (تشبیہ شدت اور استحکام میں ہے) معارف و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

روپیہ کی بڑی سے بڑی مقدار بھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچا سکتی: روپیہ کے حریص روپیہ ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے ذہن کے اندر یہ خناس سما جاتا ہے کہ اگر روپیہ ہے تو وہ خدا کی گرفت سے بھی محفوظ ہیں۔ سورۂ ھمزہ میں زرپرست بخیلوں کی ذہنیت سے یوں پردہ اٹھایا گیا ہے: الَّذِي جَمَعَ مَالا وَعَدَّدَهٗ۔ يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهٗٓ أَخْلَدَهٗ۔ الھمزہ: ۲-۳ (جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا گمان کرتے ہوئے کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ رکھے گا۔) ہم نے اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھا ہے کہ یہ درحقیقت ابولہب اور اس کے ہم مشربوں کی تصویر ہے۔ اسی طرح کے لوگ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ انہیں خدا سے بھی سابقہ پیش…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 2–3

2۔ 1 کمائی میں اس کی رئیسانہ حثییت اور جاہ ومنصب اور اس کی اولاد بھی شامل ہے یعنی جب اللہ کی گرفت آئی تو کوئی چیز اس کے کام نہ آئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: ابو لہب حضور اقدس ﷺ کا ایک چچا تھا جو آپ کی دعوت اسلام کے بعد آپ کا دشمن ہوگیا تھا اور طرح طرح سے آپ کو تکلیف پہنچاتا تھا، جب آنحضرت ﷺ نے پہلی بار اپنے خاندان کے لوگوں کو صفا پہاڑ پر جمع فرما کر ان کو اسلام کی دعوت دی تو ابو لہب نے یہ جملہ کہا تھا کہ : تبا لک ألھذا جمعتنا : یعنی بربادی ہو تمہاری کیا اس کام کے لئے تم نے ہمیں جمع کیا تھا، اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی، اور اس میں پہلے تو ابولہب کو بددعا دی گئی ہے کہ بربادی (معاذاللہ) نبی کریم ﷺ کی نہیں ہے بلکہ ہاتھ ابو لہب کے برباد ہوں (عربی محاورہ میں ہاتھوں کی بربادی کا مطلب انسان کی بربادی ہوتا ہے) پھر فرمایا گیا ہے کہ وہ بربادی ہو ہی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

یہ سورت اللہ کی طرف سے اس لئے نازل ہوئی کہ ابولہب اور اسکی بیوی کی طرف سے برپا کی ہوئی جنگ میں حضور ﷺ کی حمایت کی جائے۔ گویا یہ معرکہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ تبت یدا ........................ وتب (1:111) ” ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ “۔ تبت تباب سے مشتق ہے جس کے معنی ہلاکت ، تباہی انقطاع کے ہیں۔ یہاں تبت کے معنی ہیں بددعا کے اور دوسرے تب کے معنی ہیں کہ وہ ہلاک ہوگیا تباہ ہوگیا اور اس کا سلسلہ کٹ گیا۔ یہ خبر ہے وقوع بددعا کی۔ سورت کے آغاز ہی میں اس مختصر آیت میں بددعا اور اس کی تکمیل کا مکمل منظر ہے ۔ گویا معرکہ ختم ہوجاتا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والی دوسری…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

آیت 3{ سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ۔ } ”عنقریب وہ جھونکا جائے گا بھڑکتی ہوئی آگ میں۔“ لَہَبکے معنی آگ کے شعلے اور انگارے کے ہیں۔ اس شخص کی کنیت ابولہب کے حوالے سے یہاں اس لفظ کا استعمال ”صنعت ِ لفظی“ کی بہترین مثال ہے۔ اس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا ‘ لیکن اپنی سرخ وسفید رنگت کی وجہ سے ”ابولہب“ شعلہ رو کی کنیت سے مشہور تھا۔ ظاہری اعتبار سے ابولہب بہت وجیہہ اور خوبصورت شخص تھا۔ اس پس منظر میں اس آیت کے الفاظ گویا یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اس شخص کو سرخ وسفید رنگت اور خوبصورت شکل و صورت بھی ہم نے عطا کی ہے اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں بھی اسے ہم ہی جھونکیں گے۔ ] قرآن مجید کا یہ واحد مقام ہے جہاں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 ابو لہب کا جنگ بدر میں شامل نہ ہونے کا منصوبہ :۔ مال کی ہوس اور بخل مل کر ایک تیسری صفت پیدا کرتے ہیں اور وہ ہے بزدلی۔ جب جنگ بدر کے لیے بھرتی کا اعلان عام ہوا تو ابو لہب اس سے فرار کی راہیں سوچنے لگا۔ ایک شخص سے اس نے چار ہزار درہم قرضہ لینا تھا جس کے ملنے کی اسے کوئی توقع نہ تھی۔ کیونکہ وہ شخص مفلس تھا۔ ابو لہب نے اس سے سودابازی کی کہ اگر وہ اس کی جگہ جنگ بدر میں شریک ہوجائے تو وہ اس سے اپنے قرض کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ اس طرح ابو لہب نے ایک تیر سے دو شکار کیے۔ ڈوبے ہوئے قرضہ کی وصولی بھی ہوگئی اور جنگ سے بچاؤ کا مقصد بھی حاصل ہوگیا۔ جنگ بدر میں قریشیوں کی شکست فاش کی خبر سن کر اسے اتنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ یعنی تباہی، ہلاکت، نامرادی سے اس کا مال و دولت اسے ذرا نہ بچا سکا۔ (آیت) ” مالہ “۔ یعنی اس کا مستقل سرمایہ “۔ (آیت) ” ماکسب “۔ یعنی اس مستقل سرمایہ پر حاصل ہونے والا نفع۔ اللہ اکبر ! قرآن کس جزم وقطعیت کے ساتھ مستقبل کی پیشگوئی کررہا ہے۔ وہ شخص اچھا خاصا زندہ و سلامت اپنے اثر واقتدار کے ساتھ موجود ہے، اور ایک بیکس وبےیار شخص ﷺ پکار پکار کر کہہ ہے کہ اس کا یہ انجام ہوچکا ! صیغہ ماضی برابر ملحوظ خاطر رہے، جو عربی اسلوب بیان میں مستقبل کے اظہار قطعیت کے لئے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما اغنی عنہ مالہ . ما نفی کے لیے یا استفہام انکاری کے لیے ہے ‘ یعنی اس کا جمع کردہ مال اس سے عذاب کو دور نہیں کرے گا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اس کا مال کیا اس کو عذاب سے بچا لے گا۔ ابولہب بڑا مالدار اور مویشیوں کا مالک تھا۔ وما کسب . اور جو کچھ اس نے حاصل کر رکھا ہے یعنی مال و اولاد۔ حضرت عائشہ کی مرفوع روایت ہے ‘ حضور ﷺ نے فرمایا : اپنی کمائی کھانا تمہارے لیے پاکیزہ ترین کھانا ہے اور تمہاری اولاد تمہاری کمائی ہے (گویا کسب کا اطلاق مال پر بھی ہوتا ہے اور اولاد پر بھی) ۔ (رواہ البخاری فی التاریخ والترمذی) ابولہب کے بیٹے عتبہ کو شام کے راستہ میں شیر نے پھاڑ کھایا اور خود ابولہب واقعۂ بدر سے چند روز…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–5

(2۔ 5) یہ دنیاوی مال و اولاد آخرت میں اس کے کچھ کام نہیں آیا اور وہ آخرت میں دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے گا اور اس کی بیوی ام جمیلہ بنت حارث بھی جو مسلمانوں اور کافروں میں چغلیاں لگایا کرتی تھیں یا یہ کہ جو خار دار لکڑیاں لا کر حضور کے اور مسلمانوں کے راستہ میں ڈال دیا کرتی تھی۔ دوزخ میں پہنچ کر اس کی گردن میں لوہے کی زنجیریں ہوں گی یا یہ کہ اس کی گردن میں ایک بل دی ہوئی رسی تھی جس سے گلا گھٹ کر وہ مرگئی۔ شان نزول : سورة اللہب امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر آواز دی چناچہ آپ کے پاس قریش جمع ہوگئے آپ نے فرمایا کہ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ دشمن صبح…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ما اغنی عنہ مالہ وما کسب :”نہ اس کے کام اس کا مال آیا اور نہ جو کچھ اس نے کمایا“ کمائی سے مفسرین نے اس کے بیٹے مراد لئے ہیں، علاوہ ازیں اس نے اپنے خیال میں جو اعمال نیکی سمجھ کر کئے تھے وہ اس کے کسی کام نہ آئے صحیح بخاری میں ہے :(قال عروۃ وثوبیہ مولاۃ لابی لھب و کان ابولھب اعتقھا فارضعت النبی ﷺ، فلما مات ابولھب اریۃ بعض اھلہ بشر حیبۃ (بشر خیبۃ) قال لہ ماذا لقیث، قال ابولھب ، لم الق بعدکم غیر (لم الق بعدکم خیراً غیر) انی سقیت فی ھذہ بعتاقتی ثوبیۃ) (بخاری، النکاح ، باب : زوامھاتکم الاتی ارضعنکم):(5101)”عروہ نے کہا کہ ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی جسے ابولہب نے آزاد کیا تھا، پھر اس نے بنی ﷺ کو دودھ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ما اغنی عنہ مالہ و ما کسب۔ کوئی فائدہ نہ پہنچایا اسے اس کے مال نے اور جو اس نے کمایا۔ حضرت ابو امامہ باہلی نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : الکنود ھو الذی یا کل وحدہ و یمنع رفدہ و یضرب عبدہ، کنود اسے کہتے ہیں جو تنہا کھانا کھاتا ہے، عطیہ نہیں دیتا اور اپنے غلام کو مارتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : الا انبئکم بشرارکم ؟ قالوا بلی یا رسول اللہ، قال من نزل وحدہ ومنع رفدہ وجلد عبدہ، کیا میں تمہیں سب سے برے آدمی کے بارے میں آگاہ نہ کروں ؟ صحابہ نے عرض کی : کیوں نہیں یار سول اللہ، فرمایا : جو تنہا پڑاؤ ڈالے، عطیہ نہ دے اور اپنے غلام کو مارے،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تبت یدا ابی لہب مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ نے دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔ سورۃ اللہب کی شان نزول 3۔ ابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو لہب کفار قریش میں سے تھا۔ یہاں تک کہ وہ اس قوت شعب ابی طالب سے نکل آیا جب قریش نے آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہم کو گھاٹی میں محصور کردیا۔ اور اس نے ان کی مدد کی۔ جب ابولہب گھاٹی سے نکلا اور ان کی مدد کی۔ جب وہی اپنی قوم سے علیحدہ ہوا تو وہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ سے ملا۔ کہنے لگا اے عتبہ کی بیٹی ! کیا لات اور عزی نے تیری مدد کی ؟ کہنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَآ اَغْنٰى عَنْهُ : کام نہ آئے اس کے ][ مَالُهٗ : اس کا مال ][ وَمَا : اور وہ جو ][ كَسَبَ : اس نے کمایا ] (آیت۔ 2) مَا اَغْنٰی مَا کو نافیہ بھی مانا جاسکتا ہے اور استفہائیہ بھی، دونوں ترجمے درست ہوں گے۔ ہم نافیہ کو ترجیح دیں گے۔ مَاکَسَبَ میں مَا موصولہ ہے نوٹ 3: کَسَبَ کے معنی ہیں کمانا۔ یعنی وقت، محنت اور اپنے وسائل خرچ کر کے کوئی چیز حاصل کرنا۔ ظاہر ہے اس میں وہ مال بھی آتا ہے جو انسان کماتا ہے، معاشرے میں وہ مقام و مرتبہ بھی جو وہ کوشش کر کے اپنے لیے بناتا ہے، وہ انصار واعوان بھی جو وہ اپنے تعلقات کے ذریعہ بناتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق آدمی کا بیٹا بھی اس کا کسب ہے۔ یہاں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ002﴾ (ابو لہب کو اس کے مال نے اور جو کچھ اس نے کمایا اس نے کچھ فائدہ نہ دیا) ۔ ابو لہب کثیر المال تھا تجارت کے منافع سے مالا مال تھا اور اولاد بھی اس کی خاصی تعداد میں تھی۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے ﴿مَا كَسَبَ﴾ سے اولاد مراد ہے کیونکہ حدیث شریف میں وارد ہے۔ ان اولادکم من کسبکم یعنی انسان کی اولاد اس کے کسب میں سے ہے (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 242) ۔ لہٰذا آیت کریمہ کا مطلب یہ ہوا کہ ابو لہب کو اس کے مال نے اور اس کی اولاد نے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچایا دنیا میں بھی بدحالی کے ساتھ مرا اور آخرت میں تو دوزخ میں جانا ہی ہے۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب رسول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

خسران و بربادی در دنیا وعقبی ازدشمنی رسول خدا ﷺ : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” تبت یدآ ابی لھب ........ الی ........ حبل من مسد “۔ (ربط) گزشتہ سورة نصر میں یہ بتایا گیا تھا کہ حق اور ہدایت ہی کو غلبہ و کامیابی حاصل ہوتی ہے اور دنیا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور اپنے دین کو غالب وکامیاب فرمایا ہے، تاریخ عالم میں اس نے اپنی قدرت عظیمہ کا مشاہدہ کرا دیا کہ وہ پیغمبر اور ان کے ساتھی جو مکہ سے مجبور ومظلوم ہو کر ہجرت کرکے مدینہ آئے چند ہی سال گذرنے پر وہی اللہ کا رسول دس ہزار قدسیوں کے ساتھ اسی سرزمین میں فاتح وکامیاب داخل ہورہا ہے، تو اس کے بالمقابل اس سورت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–4

3:۔ ” ما اغنی “ اس کا مالک اور اس کا جاہ و حشم اس کو خدا کے عذاب سے نہ بچا سکا۔ ماکسب، دنیوی عز و جاہ یا اعمال مشرکانہ غیر اللہ کی دعا و پکار وغیرہ۔ سیصلی نارا، یہ تخویف اخری ہے۔ دنیا میں ابو لہب کیلئے ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں اسے بھڑکتی آگ میں داخل کیا جائے گا۔ ” وامراتہ “ یہ ” یصلی “ کی ضمیر مستتر پر معطوف ہے۔ حمالۃ الحطب، منصوب علی الذم ہے، یہ چغلی کھانے اور بدگوئی کرنے سے کنایہ ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ باہر سے خاردار لکڑیاں اٹھا کر لاتی اور آنحضرت ﷺ کے راستے میں بچھا دیتی تھی۔ (من الکبیر والروح والقرطبی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة اللھب ہے۔ اس کی پہلی اور تیسری آیت میں لہب کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ اسے سورة تبت یدا بھی کہتے ہیں۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اس کی پانچ آیتیں تئیس الفاظ اور اکہتر حروف ہیں۔ اقرباء سے خطاب مفسرین کرام فرماتے ہیں 1 ؎ کہ حضور ﷺ پر پہلی وحی کے نزول کے بعد تین سال تک وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ اس عرصہ میں آپ خاموشی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے اور اندرونی طور پر آہستہ آہستہ ساتھی تیار کرتے رہے۔ پھر جب سورة شعراء کی آیت وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی یعنی آپ اپنے عزیز و اقارب کو خدا کے عذاب سے ڈرائیں۔ تو آپ نے خطاب فرمایا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَآ اَغْنٰى عَنْہُ مَالُہٗ وَمَا كَسَبَ۝ 2 ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب ¦ تبت فعل یدا اصلھا یدان سقطت النون بالاضافۃ ابی لہب مضاف الیہ والمضاف مع ماا ضیف الیہ فاعل تبت والید مونث عندالعرب وابولہب کنیۃ عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب بن ہاشم والعزی اسم صنم وھوعم رسول اللہ ﷺ وکان مشہورا بالکنیۃ وانما اشتھر بھذا لانہ کان جمیلا وان وجہ کان یتلھب لمزید حسنہ کما یتلھب بالنار۔ وتب فعل والضمیر فاعلہ یرجع الی ابی لہب عطف الجملۃ علی والتباب الخسران والحرمان من کل خیروقیل الھلاک والتردی۔ والجملتان دعاء علیہ وقیل الاولی دعاء والثانیۃ اخبار۔ ما نافیۃ اغنی فعل عنہ متعلق بہ ما لہ فاعلہ معطوف علیہ وماموصولۃ کسب صلۃ والعائد محذوف والکل معطوف وقیل مامصدریۃ فما کسب بتاویل المصدر فاعل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَـآ اَغْنٰی عَنْہُ مَالُـہٗ وَمَا کَسَبَ ۔ (اللہب : 2) (اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا۔ ) ابولہب کی امارت پر تعریض کہا جاتا ہے کہ ابولہب مکہ معظمہ کے چار امیرترین لوگوں میں سے تھا۔ قاضی رشید بن زبیر اپنی کتاب الذخائروالتحف میں فرماتے ہیں کہ ان چار آدمیوں میں سے ہر ایک، ایک قنطار سونے کا مالک تھا۔ قنطار دو سو اوقیہ کا اور ایک اوقیہ سوا تین تولے کا ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی تو اس کا یہ کثیر مال اس کے کسی کام نہ آیا اور اسے عزت کی موت بھی نصیب نہ ہوسکی۔ حالانکہ اس کا حال یہ تھا کہ حضرت ابن عباس ( رض) فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : نبی ﷺ کو سورة النّصر میں ہر قسم کی کامیابی اور دین کے غالب ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے اور سورة اللّہب میں بتلایا ہے کہ عنقریب دین اور آپ کا دشمن ہلاک ہوجائے گا۔ مفسّرِ قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ “ اے نبی ! اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں تو نبی ﷺ صفا پہاڑی پر جلوہ افروز ہوئے اور آپ نے قریش کے قبائل کا نام لے لے کر بلایا لوگ دوڑتے ہوئے صفا پہاڑی کی طرف پہنچے، جس قبیلے کا سربراہ خود نہ پہنچ سکا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا کہ جاؤ پتہ کرو کہ محمد بن عبداللہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ وَمَاکَسَبَ (اور نہ مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی) ماؔ پہلا نافیہ ہے۔ اور ماکسب کا ما موصولہ یا مصدر یہ ہے۔ ای مکسوبہٗ یا کسبہ ٗ یعنی اس کا کمایا ہوا یا کمانا۔ یعنی اس کے اس مال نے بھی فائدہ نہ دیا۔ جو باپ سے وراثت میں اس نے پایا اور نہ وہ مال جو بذات خودکمایا۔ یا پرانا مال اور تازہ کمایا ہوا کام نہ آیا۔ قول ابن عباس ؓ : ماکسب ولدہ جو اس کی اولاد نے کمایا۔ روایت میں ہے کہ وہ کہا کرتا تھا۔ اگر میرے بھتیجے ہی کی بات درست ہے تو پھر میں اس سے بچنے کیلئے اپنا مال اور اولاد قربان کردونگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” مااغنیٰ عنہ مالہ وما کسب “ ابن مسعود ؓ ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کی طرف بلایا تو ابولہب نے کہا میرا بھتیجا جو کچھ کہہ رہا ہے اگر وہ حق ہے تو میں اپنے مال اور اولاد کا فدیہ دے دوں گا تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔ ” مااغنی عنہ مالہ وما کسب “ یعنی نہیں نفع دے گا اور کہا گیا ہے کون سی چیز اس سے نفع دے گی، اس کا مال۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کو اس سے وہ دور نہ کرسکے گا جو اس نے مال جمع کیا ہے اور وہ مویشیوں والا تھا۔” وما کسب “ کہا گیا ہے یعنی اس کی اولاد اس لئے کہ انسان کی اولاد اس کی کمائی سے ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ سب سے پاکیزہ وہ ہے جو تم اپنی کمائی سے کھاتے ہو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ صحیح 2 ؎ بخاری مسلم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا 2 حاصل یہ ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے مکہ کے صفا پہاڑ پر چڑھ کر قریش کو آواز دی جس سے بہت سے لوگ قریش کے جمع ہوگئے۔ اس کے بعد ان لوگوں کو آپ ﷺ نے طرح طرح کی نصیحت کی اور شرک سے ڈرایا۔ ان لوگوں میں ابو لہب بھی تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ کی نصیحت سن کر بڑی نخوت سے گھڑی گھڑی اپنے دونوں ہاتھ جھٹکے اور کہا کہ اے محمد ﷺ تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں کیا تو نے اسی واسطے آواز دے کر اور ہاتھوں کے اشارہ سے بلا کر ہم سب لوگوں کو جمع کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔ یہ ابو لہب آنحضرت ﷺ کے چچاؤں میں سے تھا اس کا نام عبد العزیٰ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(مَآ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ ) وہ مال اس کے کسی کام نہ آیا جو اس کے پاس تھا اور اس مال نے اسے سرکش بنادیا تھا اور جو مال اس نے کمایا تھا جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس عذاب کو کچھ بھی دور نہ کرسکا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

باپ کو بیٹے کے قصاص میں قتل نہ کیا جائے قول باری ہے (مااغنی عنہ مالہ وما کسب اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ (ماکسب) سے اس کی اولاد مراد ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی اولاد کو کسب خبیث کا نام دیا تھا۔ حضور ﷺ سے مروی ہے ۔ کہ آپ نے فرمایا (ان افضل مااکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ۔ انسان جو کچھ کھاتا ہے اس میں افضل ترین کھانا وہ ہے جسے وہ اپنے ہاتھوں کی کمائی سے حاصل کرے، انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس ارشاد کی مثال آپ کا یہ ارشاد ہے (انت ومالک لا بیک تو تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے) یہ بات کسی شخص کے اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

2 ۔ مال و دولت اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتے : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے کچھ کام نہ آسکا اس کا مال، یعنی اس کا وہ مال جس کا اس کو بڑا زعم اور گھمنڈ تھا، سو انسان اگر ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہو تو اس کا مال و متاع اور روپیہ پیسہ اس کو کچھ بھی کام نہیں دے سکتا، بلکہ الٹا وہ اس کے لیے مزید تباہی اور محرومی کا باعث بنتا ہے، اور اس کی بناء پر وہ راہ حق و صواب سے اور دور و محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جبکہ ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کے بعد انسان کا مال اور اس کی دولت اس کے لیے خیر میں اضافے کا باعث اور فوز و فلاح کا ذریعہ و وسیلہ بن جاتا ہے، سو اصل اور حقیقی دولت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

ابو لہب اور اس کی بیوی کے لیے عذاب کی خبر تشریح : ابو لہب لقب ہے کیونکہ وہ بڑا ہی خوبصورت انسان تھا اس کا چہرہ آگ کی طرح دمکتا تھا اسی لیے لہب یعنی آگ کی لپٹ یا شعلہ اس کا لقب پڑگیا۔ وہ بڑا مالدار خوشحال انسان تھا یہاں ہاتھ ٹوٹ گئے محاورتاً کہا گیا ہے۔ یعنی یہ تباہ و برباد ہوجائے گا۔ اس کا فخر ' غرور ' دشمنی ' آل اولاد اور مال و دولت سب کچھ غارت ہوجائے گا اور ان میں کچھ بھی اس کو دوزخ کی اس آگ سے ہرگز بچا نہ سکیں گے جو کہ خاص اس کے لیے تیار کی جا چکی ہے۔ اور وہ آگ لپٹیں مارتی ہوئی تیز آگ ہوگی۔ پھر اس کی بیوی کے لیے بھی سخت ترین سزا کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ کہ یہی جو ایندھن اٹھا کر لاتی ہے وہی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–5

سورة اللھب۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار معارف۔ ہاتھ ٹوٹ جائیں ابولہب کے اور تباہ ہوجائے اس کا نام عبدالعزی تھا حضرت عبدالمطلب کی اولاد میں سے تھا اور سرخ رنگ ہونے کے باعث کنیت ابولہب مشہور تھی ، اس نے آپ کی شدت سے مخالفت کی کہ اللہ کریم نے نام لے کردوزخی ہونے کا اعلان فرمایا۔ اسے اس کا مال وزر کام نہ آئے کہ ایک پھوڑا نکلا جو بہت بدبودار تھا لاعلاج ہو کر اور تنہائی میں مرگیا اس قدر بدبو تھی کہ لاش دفن نہ ہوسکتی تھی وہی مکان اس پر گرادیا گیا چناچہ اس کا مال وزر کام نہ آیا اور اس کی بیوی بھی اس کے ساتھ بھڑکتے ہوئے دزوخ میں داخل ہوگی جو آپ کی راہ میں کانٹے بچھاتی تھی ، دوزخ میں اس کے گلے میں طوق ہوگا جو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی اس کی کوئی چیز اسے تباہی سے نہ بچا سکی۔ ” مال “ سے مراد اس کا جمع کردہ مال ہے اور ” کمائی “ سے مراد اولاد، عزت و درجات وغریہ یا مال سے مراد اس کا موروثی مال ہے اور کمائی سے مراد اس کا اپنا کمایا ہوا مال۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(111:2) ما اغنی عنہ مالہ وما کسب : ما نافیہ۔ اغنی فعل ۔ عنہ متعلق بہ فعل۔ مالہ اس کا فاعل (معطوف علیہ) واؤ عاطفہ ما موصولہ کسب اس کا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر (معطوف) اغنی عنہ کذا۔ کسی چیز کا کافی ہونا۔ فائدہ بخشنا۔ ما اغنی عنہ مالہ نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا۔ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ما اغنی عنی مالیہ (69:28) میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا۔ کہتے ہیں :۔ ھذا ما یغنی عنک شیئا۔ یہ تجھے کوئی فائدہ نہ دیگا۔ اغنی ماضی کا صیغہ ماضی واحد مذکر غائب۔ اغناء (افعال) مصدر سے وہ کام آیا۔ اس نے غنی بنادیا۔ اس نے دولت دی۔ غنی مالدار اغنیاء جمع مالدار لوگ۔ کسب ماضی واحد مذکر غائب۔ کسب (باب ضرب)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ تبت۔ تباہ ہوگئی۔ (ہوگئے) ۔ یدا۔ دونوں ہاتھ۔ تب۔ تباہ ہوا۔ ما اغنی۔ کام نہ آیا۔ کسب۔ کمایا۔ سیصلی۔ بہت جلد جا پڑے گا۔ امرائہ ۔ عورت ۔ جید۔ گردن۔ حبل من مسد۔ مضبوط پٹی ہوئی رسی۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے نبی کرم ﷺ کو خطاب کرتے فرمایا ……… یعنی اے کپڑا اوڑھ کر لیٹنے والے آپ اتھئے۔ اللہ کے خوف سے لوگوں کو ڈرائیے اور اپنے رب کی بڑائی قائم کیجئے۔ اس کے بعد جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ……… یعنی آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کے خوف سے ڈرائیے تو آپ نے مکہ مکرمہ کے کوہ صفا پر چرھ کر مکہ والوں کو ”…“ (اے صبح کی آفت) کہہ کر آواز دی۔ جس کا عام طور پر یہ مطلب ہوتا تھا کہ رات کو کسی دشمن نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

ابولہب اور اس کی بیوی کی اسلام دشمنی اور ان کی ہلاکت۔ (ف 1) شان نزول : صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے کوہ صفا پر عرب کے لوگوں کو دعوت دی ہر طرف سے لوگ آئے اور حضور ﷺ نے ان سے اپنے صداقت وامانت کی شہادتیں لینے کے بعد فرمایا، انی لکم نذیر بین یدی عذاب شدید۔ اس پر ابولہب نے حضور سے کہا تھا کہ تم تباہ ہوجاؤ، کیا تم نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم کی طرف سے جواب دیا، ابولہب نبی ﷺ کا بڑا مخالف تھا جہاں نبی ﷺ لوگوں کو وعظ ونصیحت کرتے تھے تو یہ آپ کو جھٹلانے کی تقریر ضرور کیا کرتا تھا، ابولہب کی بی بی کا نام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] ابو لہب جس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا رسول اکرم ﷺ کا حقیقی چچا تھا۔ سرخ رنگ کی وجہ سے اس کی کنیت ابو لہب مشہور تھی۔ قرآن نے اس کا اصل نام اس لئے نہیں لیا کہ وہ مشرکانہ تھا۔ علاوہ ازیں کنیت ابو لہب میں لہب جہنم سے ایک مناسبت بھی تھی۔ یہ شخص رسول اللہ ﷺ کا شدید دشمن اور اسلام کا نہایت سخت مخالف تھا۔ تبت یدآ ابی لہب وتب ایک پیشنگوئی ہے جس میں آئندہ پیش آنے والی بات کو ماضی کے صیغوں میں بیان کیا گیا ہے گویا اس کا ہونا ایسا یقینی ہے جیسے وہ ہوچکی ہو۔ اب فی الواقع وہی کچھ ہوا جو اس سورة میں چند سال پہلے بیان کیا جا چکا تھا۔ ہاتھ ٹوٹنے سے مراد جسمانی ہاتھ ٹوٹنا نہیں ہے بلکہ کسی شخص کا اپنے مقصد…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

سورة اللھب ابولہب کنیت ہے ۔ اصلی نام عبدالعزیٰ تھا ۔ لعب کے معنی آگ اور شعلے کے ہیں ۔ وجہ مناسبت یہ ہے کہ اس کے رخسارے آگ کی طرح روشن تھے ۔ یہ اور اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب حضور ﷺ کے سخت معاندین میں سے تھے ۔ جہاں حضور ﷺ جاتے ۔ وہاں ابولہب ان کو بدنام کرنے کے لئے پہنچ جاتا اور ہر شرارت میں پیش پیش رہتا ۔ اور ام جمیل جنگل سے خود کانٹے کاٹ کر لاتی اور حضور ﷺ کے راستے میں بچھادیتی ۔ اس پر ان آیتوں کا نزول ہوا کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں ۔ نہ دنیا اس کی سنورے اور نہ عاقبت ۔ یہ ہلاک ہو اور اس کا مال اور اس کی اولاد اس کو اللہ کے عذاب سے نہ بچاسکیں ۔ شعلہ زن آگ میں جائے اور اس کی بیوی ام جمیل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی کچھ اس کے کام آئی۔ یہ شاید اس کا جواب ہے جو اس نے کہا تھا کہ اگر محمد ﷺ کی بات سچی ہوئی تو میں اپنے مال کا فدیہ دے کر اس مفروضہ عذاب سے بچ جائوں گا ماکسب سے مراد یا تو مال کے متعلقات ہیں یعنی مال کانفع وغیرہ یا مراد اہل قرابت ہیں یا اس کی اولاد مراد ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے وان اولاد کم من کسبکم مطلب یہ ہے کہ نہ مال اس کو نفع دے گا نہ اس کی اولاد۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 10۔ چناچہ غزوہ بدر کے سات روز بعد اس کے طاعون کا دانہ جس کو حدسہ کہتے ہیں نکلا اور مرض کے لگ جانے کے خوف سے گھر والوں نے اس کو الگ ڈالدیا۔ یہاں اسی حالت میں ہلاک ہوگیا، تین روز تک لاش یونہی پڑی رہی، جب سڑنے لگا تو مزدوروں سے اٹھوا کر شہر سے باہر بھیج دیا، انہوں نے جاکر اس کو گڑھے میں پھینک دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس کے مال نے بھی اس کو کچھ فائدہ نہ دیا اور اس کی کمائی کچھ بھی کام نہ آئی 2 عبدالعزیٰ ابنِ عبدالمطلب قریش کے خاندان میں سب سے زیادہ مالدار تھا اور سودی کاروبار اس کا وطیرہ تھا۔ دولت کو خوب جمع کرنے اور گن گن کر رکھنے کا شوق جاگزیں تھا۔ اس نے ساری زندگی مال اکٹھا کرنے میں خرچ کی۔ بیت اللہ کے بیت المال کا انتظام و انصرام بھی اسی کے ہاتھ میں تھا۔ اس پر خرد برد کے الزامات بھی لگتے رہے لیکن اس نے سب کچھ برداشت کرتے ہوئے اس انتظام کو کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں جانے دیا اور یہ بات آج سے نہیں شروع سے چلتی آرہی ہے کہ ” جس کے ہاتھ میں ڈوئی اس کا سب کوئی “ اسی اصول کے تحت آج بھی جتنے و ڈیرے ہیں سب کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Name and Nickname of Abu Lahab Abu Lahab [ Father of Flame ] was the Nickname of ` Abd-ul-` Uzza, one of the sons of ` Abdul-Muttalib. As he was ruddy in complexion, he was nicknamed Abu Lahab [ Father of Flame ]. The Qur'an did not mention his real name, because it smacked of paganism, and the last element 'lahab' [ Flame ] in the nickname has also nexus with the flame of Hell. This person was the inveterate enemy and persecutor of the Holy Prophet ﷺ ، and violently opposed Islam. Whenever the Holy Prophet ﷺ invited the people to Islamic Faith, he would stand up and cry lie to his message. […

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

2 Abu Lahab was a stingy, materialistic man. Ibn Jarir has stated that once in the pre-Islamic days he was accused of having stolen two golden deer from the treasury of the Ka'bah. Though later the deer were recovered from another person, the fact that he was accused of stealing indicates the opinion the people of Makkah held of him. About his riches Qadi Rashid bin Zubair writes in his Adh-Dhakha'ir wat-Tuhaf. He was one of the four richest men of the Quraish, who owned one qintar (about 260 oz) of gold each. His love of wealth can be judged from the fact that when on the occasion of the…

Read the full tafseer →