Explained with ayahs 1–5
تفسیر سورة تبت
بدترین اور بدنصیب میاں بیوی :٭٭ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ بطحا میں جا کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور اونچی آواز سے یاصباحاہ یاصباحاہ کہنے لگے قریش سب جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا اگر میں تم سے کہوں کہ صبح یا شام دشمن تم پر چھاپہ مارنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمھو گے ؟ سب نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں اللہ کے سخت عذاب کے آنے کی خبر دے رہا ہوں تو ابو لہب کہنے لگا تجھے ہلاکت ہو، کیا اسی لئے تو نے ہمیں جمع کیا تھا ؟ اس پر یہ سورت اتری (بخاری) دوسری روایت میں ہے کہ یہ ہاتھ جھاڑتا ہوا یوں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ تبت بددعا ہے اور تب خبر ہے، یہ ابو لہب آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →سورة اللھب 1
اس شخص کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا، اور اسے ابو لہب اس لیے کہا جاتا تھا کہ اس کا رنگ بہت چمکتا ہوا سرخ وسفید تھا۔ لہب آگ کے شعلے کو کہتے ہیں اور ابو لہب کے معنی ہیں شعلہ۔ یہاں اس کا ذکر اس کے نام کے بجائے اس کی کنیت سے کرنے کے کئی وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ وہ زیادہ تر اپنے نام سے نہیں بلکہ اپنی کنیت ہی سے معروف تھا۔ دوسرے یہ کہ اس کا نام عبدالعزیٰ (بندہ عزی) ایک مشرکانہ نام تھا اور قرآن میں یہ پسند نہیں کیا گیا کہ اسے اس نام سے یاد کیا جائے۔ تیسرے یہ کہ اس کا جو انجام اس سورة میں بیان کیا گیا ہے اس کے ساتھ اس کی یہ کنیت ہی زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔
تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ کے معنی بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خلاصہ تفسیر
ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ برباد ہوجائے۔ نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی (مال سے مراد اصل سرمایہ اور کمائی سی مراد اس کا نفع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی سامان اس کو ہلاکت سے نہ بچاوے گا، یہ حالت تو اس کی دنیا میں ہوئی اور آخرت میں) وہ عنقریب (یعنی مرتے ہی) ایک شعلہ زن آگ میں داخل ہوگا، وہ بھی اور اس کی بیوی بھی جو لکڑیاں لاد کر لاتی ہے (مراد خار دار لکڑیاں ہیں جن کو وہ رسول اللہ ﷺ کے راستہ میں بچھا دیتی تھی تاکہ آپکو تکلیف پہنچے اور دوزخ میں پہنچ کر) اس کے گلے میں (دوزخ کی زنجیر اور طوق ہوگا کہ گویا وہ) ایک رسی ہوگی خوب بٹی ہوئی (تشبیہ شدت اور استحکام میں ہے)
معارف و…
Read the full tafseer →’تبت یداہ‘ کا مفہوم: ’تَبٌّ‘ کے معنی ہلاک ہونے اور خسارہ میں پڑنے کے ہیں۔ اسی سے ’تبت یدا فلان‘ کا محاورہ نکلا ہے جس کے معنی یہی ہو سکتے ہیں کہ فلاں کے دونوں ہاتھ حصول مقصد میں ناکام وعاجز رہے۔ دونوں ہاتھوں کی ناکامی اور بے بسی کامل بے بسی کی تعبیر ہے۔ اگر کہیں کہ ’تبت یداہ‘ تو اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ وہ مقابلہ کرنے سے بالکل عاجز ہو گیا۔ اسی طرح ’کسر ید‘ یعنی ہاتھ توڑ دینا، کسی کا زور توڑ دینے کی تعبیر ہے۔ فند الزمانی کا شعر ہے:
وترکنا دیار تغلب تفرا
وکسرنا من الفواۃ الجناھا
(یعنی ہم نے تغلب کے علاقہ کو چٹیل بنا کے چھوڑ دیا اور ان کے سرکشوں کے بازو توڑ دیے۔)
عبرانی زبان میں بھی، جو عربی کی…
Read the full tafseer →1۔ 1 یدا، ید (ہاتھ) کا تثنیہ ہے، مراد اس سے اس کا نفس ہے، جز بول کر کل مراد لیا گیا ہے یعنی ہلاک اور برباد ہوجائے یہ بد دعا ان الفاظ کے جواب میں ہے جو اس نے نبی ﷺ کے متعلق غصے اور عداوت میں بولے تھے۔ وَ تَبَّ (اور وہ ہلاک ہوگیا) یہ خبر ہے یعنی بد دعا کے ساتھ ہی اللہ نے اس کی ہلاکت اور بربادی کی خبر دے دی، چناچہ جنگ بدر کے چند روز بعد یہ عدسیہ بیماری میں مبتلا ہوگیا، جس میں طاعون کی طرح گلٹی سی نکلتی ہے، اسی میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ تین دن تک اسکی لاش یوں ہی پڑی رہی، حتیٰ کہ سخت بدبو دار ہوگئی۔ بالآخر اس کے لڑکوں نے بیماری کے پھیلنے اور عار کے خوف سے، اس کے جسم پر دور سے ہی پتھر اور مٹی ڈال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: ابو لہب حضور اقدس ﷺ کا ایک چچا تھا جو آپ کی دعوت اسلام کے بعد آپ کا دشمن ہوگیا تھا اور طرح طرح سے آپ کو تکلیف پہنچاتا تھا، جب آنحضرت ﷺ نے پہلی بار اپنے خاندان کے لوگوں کو صفا پہاڑ پر جمع فرما کر ان کو اسلام کی دعوت دی تو ابو لہب نے یہ جملہ کہا تھا کہ : تبا لک ألھذا جمعتنا : یعنی بربادی ہو تمہاری کیا اس کام کے لئے تم نے ہمیں جمع کیا تھا، اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی، اور اس میں پہلے تو ابولہب کو بددعا دی گئی ہے کہ بربادی (معاذاللہ) نبی کریم ﷺ کی نہیں ہے بلکہ ہاتھ ابو لہب کے برباد ہوں (عربی محاورہ میں ہاتھوں کی بربادی کا مطلب انسان کی بربادی ہوتا ہے) پھر فرمایا گیا ہے کہ وہ بربادی ہو ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورت اللہ کی طرف سے اس لئے نازل ہوئی کہ ابولہب اور اسکی بیوی کی طرف سے برپا کی ہوئی جنگ میں حضور ﷺ کی حمایت کی جائے۔ گویا یہ معرکہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
تبت یدا ........................ وتب (1:111) ” ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ “۔ تبت تباب سے مشتق ہے جس کے معنی ہلاکت ، تباہی انقطاع کے ہیں۔ یہاں تبت کے معنی ہیں بددعا کے اور دوسرے تب کے معنی ہیں کہ وہ ہلاک ہوگیا تباہ ہوگیا اور اس کا سلسلہ کٹ گیا۔ یہ خبر ہے وقوع بددعا کی۔ سورت کے آغاز ہی میں اس مختصر آیت میں بددعا اور اس کی تکمیل کا مکمل منظر ہے ۔ گویا معرکہ ختم ہوجاتا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔
اس کے بعد آنے والی دوسری…
Read the full tafseer →1 " ابو لہب " (جس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب ہے) آنحضرت ﷺ کا حقیقی چچا تھا، لیکن اپنے کفر و شقاوت کی وجہ سے حضور ﷺ کا شدید ترین دشمن تھا۔ جب آپ ﷺ کسی مجمع میں پیغام حق سناتے یہ بدبخت پتھر پھینکتا۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ کے پائے مبارک لہولہان ہوجاتے اور زبان سے کہتا کہ لوگو ! اس کی بات مت سنو، یہ شخص (معاذاللہ) جھوٹا بےدین ہے۔ کبھی کہتا کہ محمد ﷺ ہم سے ان چیزوں کا وعدہ کرتے ہیں جو مرنے کے بعد ملیں گی۔ ہم کو تو وہ چیزیں ہوتی نظر نہیں آتیں۔ پھر دونوں ہاتھوں سے خطاب کر کے کہتا۔ " تبالکما ما اریٰ فیکما شیأ اً مما یقول محمد " ﷺ (تم دونوں ٹوٹ جاؤ کہ میں تمہارے اندر اس میں سے کوئی چیز نہیں دیکھتا جو محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 3{ سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ۔ } ”عنقریب وہ جھونکا جائے گا بھڑکتی ہوئی آگ میں۔“
لَہَبکے معنی آگ کے شعلے اور انگارے کے ہیں۔ اس شخص کی کنیت ابولہب کے حوالے سے یہاں اس لفظ کا استعمال ”صنعت ِ لفظی“ کی بہترین مثال ہے۔ اس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا ‘ لیکن اپنی سرخ وسفید رنگت کی وجہ سے ”ابولہب“ شعلہ رو کی کنیت سے مشہور تھا۔ ظاہری اعتبار سے ابولہب بہت وجیہہ اور خوبصورت شخص تھا۔ اس پس منظر میں اس آیت کے الفاظ گویا یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اس شخص کو سرخ وسفید رنگت اور خوبصورت شکل و صورت بھی ہم نے عطا کی ہے اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں بھی اسے ہم ہی جھونکیں گے۔
] قرآن مجید کا یہ واحد مقام ہے جہاں…
Read the full tafseer →1 ابو لہب کا تعارف :۔ ابو لہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا اور رسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا حقیقی چچا تھا۔ نہایت ہی حسین و جمیل تھا۔ رنگ سیب کی طرح دمکتا تھا۔ اسی وجہ سے اس کی کنیت ابو لہب ہوئی۔ مالدار تھا مگر طبعاً بخیل تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی ولادت کی خبر اسے اس کی لونڈی ثویبہ نے دی تو اس خوشی میں اس نے ثویبہ کو آزاد کردیا۔ (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب امھاتکم الٰتی ارضعنکم) آپ ﷺ کے والد تو آپ ﷺ کی ولادت سے پیشتر ہی وفات پاچکے تھے۔ بڑا چچا ہونے کی حیثیت سے اپنے آپ کو باپ کا قائم مقام سمجھ کر اس نے اپنی طبیعت کے خلاف اس خوشی کا اظہار کیا تھا یا اسے کرنا پڑا تھا۔ یہ اس کے بخل ہی کا نتیجہ تھا کہ جب آپ کے دادا…
Read the full tafseer →1۔ ابولھب۔ لفظی معنی ہیں ” شعلہ کا باپ “ عرب جاہلی میں کنیت کارواج عام تھا۔ یہ کنیت ایک سردار قریش عبدالعزی بن عبدالمطلب کی تھی، یہ رسول اللہ ﷺ کا چچا تھا، اور چونکہ اس کے چہرے کا رنگ بہت ہی سرخ تھا، اس کی آتشیں رخساری کی بناء پر اسے ابولہب کہنے لگے تھے۔ یہ اتنے قریب کے عزیز ہونے کے باوجود رسول اللہ ﷺ اور آپ کے مشن کا شدید ترین مخالف تھا، اور ریاست مکہ کا ایک ذی اثر رئیس تھا۔ بعض محققین نے لکھا ہے کہ قرآن میں جو ابولہب آیا ہے، یہ بطور کنیت کے نہیں، بلکہ بطور پیش خبری کے ہے کہ اس شخص کا انجام جہنمی ہونا ہے۔ قال بعض المفسرین انہ لم یقصد بذلک مقصد کنیتہ التی اشتھر ھا وانما قصد الی اثبات النار لہ…
Read the full tafseer →تبت . ہلاک ہوگئے ‘ ثباب ایسا گھاٹا جو ہلاکت کا موجب ہو۔
ید ابی لھب . ابولہب کے دونوں ہاتھ۔ یعنی اس کی ذات جیسے آیت : ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ میں
ایدی سے مراد جانیں ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ دونوں ہاتھوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر اس لیے کیا کہ ابولہب نے ہاتھ سے پتھر مارنے کو اٹھایا تھا۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مراد دنیا اور آخرت ہے یا مال اور ملک ہے۔ قلیلٌ ذات یدٍ ۔ کم مال والا۔
ابولہب کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ مقاتل نے کہا : حسن اور چہرہ کی چمک کی وجہ سے عبدالعزیٰ کی کنیت ابولہب ہوگئی تھی (شعلہ رو) اس جگہ کنیت اسلئے ذکر کی کہ نام کا ذکر قبیح تھا اور دوزخی ہونے کی…
Read the full tafseer →جس وقت رسول اکرم ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ اپنے قریبی کنبہ کو ڈرائیے آپ نے ان کو بلانے کے بعد کلمہ لا الہ الا اللہ کی دعوت دی اس پر ابولہب نے کہا محمد ﷺ آپ کے ہاتھ ٹوٹ جائیں کیا اسی لیے آپ نے ہمیں جمع کیا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ذلیل و خوار ہو۔
Read the full tafseer →(1) تبت یدا ابی لھب و تب : ابولہب رسول اللہ ﷺ کا چچا تھا، نام عبدالعزیٰ بن عبد المطلب تھا۔”لھب“ شعلے کو کہتے ہیں،”ابی لھب“ شعلے کا باپ یا شعلے والا۔ رخس اورں کی خوبصورتی اور سرخی کی وجہ سے یا طبیعت کی تیزی اور جشو کی وجہ سے ابولہب کے نام سے مشہور ہوا، پھر جہنمی ہونے کی وجہ سے فی الواقع شعلے والا ہی بن گیا۔ اس شخص کو رسول اللہ ﷺ سے سخت عداوت تھی۔ باوجود اس کے کہ چچا باپ کی طرح ہوتا ہے، یہ ہر موقع پر آپ کی مخالفت کرتا اور ایذا پہنچانے کی کوشش کرتا۔ آپ کے دشمنوں میں سے یہ واحد شخص ہے جس کے نام سے قرآن میں اس کے برے انجام کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں نسب اور خاندان کی بنیاد…
Read the full tafseer →تبت یدا ابی لھب و تب
ٹوٹ جائیں ابو لہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ و برباد ہوگیا۔
اس میں تین مسائل ہیں :
شان نزول :
مسئلہ نمبر 1: تبت یدا ابی لھب و تب۔ بیشک وہ (آگ) ان پر بند کردی جائے گی (اس کے شعلے) لمبے لمبے ستونوں کی صورت میں ہوں گی۔
موصدۃ کا معنی ہے مطبقہ، یعنی تہہ در تہہ ہوگی۔ یہ حضرت حسن بصری اور ضحاک کا نقطہ نظر ہے سورة بلد میں اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ قریش کی لغت کے مطابق اس کا معنی مغلقہ ہے یعنی بند کردی جائے گی وہ کہتے ہیں : آصدت الماب جب تو دروزے کو بند کردے ؛ یہ مجاہد کا قول ہے ؛ اس معنی میں عبید اللہ بن قیس رقیات کا قول ہے :
ان فی القصر لو دخلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تبت یدا ابی لہب مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ نے دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔
سورۃ اللہب کی شان نزول
3۔ ابو نعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو لہب کفار قریش میں سے تھا۔ یہاں تک کہ وہ اس قوت شعب ابی طالب سے نکل آیا جب قریش نے آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہم کو گھاٹی میں محصور کردیا۔ اور اس نے ان کی مدد کی۔ جب ابولہب گھاٹی سے نکلا اور ان کی مدد کی۔ جب وہی اپنی قوم سے علیحدہ ہوا تو وہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ سے ملا۔ کہنے لگا اے عتبہ کی بیٹی ! کیا لات اور عزی نے تیری مدد کی ؟ کہنے…
Read the full tafseer →[تَبَّتْ : تباہ ہوں ][ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ : ابولہب کے دونوں ہاتھ ][ وَّتَبَّ : اور وہ (بھی) تباہ ہو ]
ترکیب : (آیت۔ 1) تَبَّتْ واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ اسی کا فاعل یَدَانِ ہے۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون تثنیہ گرا ہوا ہے۔ تَبَّ واحد مذکر غائب ہے۔ اس کا فاعل اس میں شامل ھُوَ کی ضمیر ہے۔ افعال ماضی میں خبر دینے کا مفہوم بھی ہوتا ہے اور دعا مانگنے کا بھی۔ (دیکھیں آیت۔ 2: 72، نوٹ۔ 2) اس آیت کے خبریہ اور دعائیہ، دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے۔ ہم دعائیہ کو ترجیح دیں گے۔
نوٹ 1: قرآن مجید میں یہ ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنانِ اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے حالانکہ مکہ میں بھی…
Read the full tafseer →محمد رسول اللہ ﷺ کے والد کے دس بھائی تھے جو عبدالمطلب کے بیٹے تھے، ان میں ایک شخص ابو لہب بھی تھا اس کا نام عبدالعزیٰ تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نبوت کا اظہار فرمایا تو قریش مکہ میں سے جن لوگوں نے بہت زیادہ آپ کی دشمنی پر کمر باندھی ان میں ابو لہب بھی تھا۔ یہ بہت زیادہ مخالفت کرتا تھا اور اس کی بیوی بھی آپ کی مخالفت میں بہت آگے بڑھی ہوئی تھی، جب سورة الشعراء کی آیت کریمہ ﴿وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَۙ00214﴾ نازل ہوئی تو نبی (کریم ﷺ صفا پہاڑ پر تشریف لے گئے اور قریش کے قبیلوں کو نام لے لے کر پکارتے رہے اے بنی عدی ادھر آؤ اور اے بنی فہر ادھر آؤ، آپ کے بلانے پر قریش جمع ہوگئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خسران و بربادی در دنیا وعقبی ازدشمنی رسول خدا ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” تبت یدآ ابی لھب ........ الی ........ حبل من مسد “۔
(ربط) گزشتہ سورة نصر میں یہ بتایا گیا تھا کہ حق اور ہدایت ہی کو غلبہ و کامیابی حاصل ہوتی ہے اور دنیا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور اپنے دین کو غالب وکامیاب فرمایا ہے، تاریخ عالم میں اس نے اپنی قدرت عظیمہ کا مشاہدہ کرا دیا کہ وہ پیغمبر اور ان کے ساتھی جو مکہ سے مجبور ومظلوم ہو کر ہجرت کرکے مدینہ آئے چند ہی سال گذرنے پر وہی اللہ کا رسول دس ہزار قدسیوں کے ساتھ اسی سرزمین میں فاتح وکامیاب داخل ہورہا ہے، تو اس کے بالمقابل اس سورت…
Read the full tafseer →2:۔ ” تبت “۔ ابولہب اور اس کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علی ہو سلم کو قول و فعل سے سخت ترین ایذاء دیتے تھے۔ ابو لہن نے ایک موقع پر آپ ” تبا لک ‘ (تو بربادہو) (عیاذا باللہ) سے خطاب کیا تھا۔ اس کی بیوی لوگوں کے سامنے آپ کے خلاف بد گوئی کرتی اور رات کو آپ کے راستے میں کانٹے بچھا دیتی تھی۔ اس سورت میں دونوں کو تخویف سنا دی اور ہلاکت کا ایک نمونہ ذکر فرما دیا۔ ” یدان “ نفس سے کنایہ ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ بماقدمت یداک (الحج، رکوع 1) ۔ یہ ابو لہب کیلئے تباہی و بربادی کی بد دعا ہے اور ” و تب “ اس کی تباہی کی خبر ہے۔ قال الفراء التب الاول دعاء والثانی خبر کما یقال اھل کہ اللہ وقد ھلک (قرطبی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة اللھب ہے۔ اس کی پہلی اور تیسری آیت میں لہب کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے۔ اسے سورة تبت یدا بھی کہتے ہیں۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اس کی پانچ آیتیں تئیس الفاظ اور اکہتر حروف ہیں۔
اقرباء سے خطاب
مفسرین کرام فرماتے ہیں 1 ؎ کہ حضور ﷺ پر پہلی وحی کے نزول کے بعد تین سال تک وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ اس عرصہ میں آپ خاموشی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے اور اندرونی طور پر آہستہ آہستہ ساتھی تیار کرتے رہے۔ پھر جب سورة شعراء کی آیت وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی یعنی آپ اپنے عزیز و اقارب کو خدا کے عذاب سے ڈرائیں۔ تو آپ نے خطاب فرمایا…
Read the full tafseer →تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَہَبٍ وَّتَبَّ 1 ۭ
تبَ
التَبُّ والتَّبَابُ : الاستمرار في الخسران، يقال : تَبّاً له وتَبٌّ له، وتَبَبْتُهُ : إذا قلت له ذلك، ولتضمن الاستمرار قيل : اسْتَتَبَّ لفلان کذا، أي : استمرّ ، وتَبَّتْ يَدا أَبِي لَهَبٍ [ المسد/ 1] ، أي : استمرت في خسرانه، نحو : ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ، وَما زادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ [هود/ 101] ، أي : تخسیر، وَما كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِي تَبابٍ [ غافر/ 37] .
( ت ب ب ) التب والتبات
( ض ) کے معنی مسلسل خسارہ میں رہنے کے ہیں کہا جاتا ہے تبالہ ( اللہ اسے خائب و خاسر کرے ( وتبیتہ کسی سے تبالک کہنا ۔ قرآن میں ہے ۔ وتَبَّتْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب ¦ تبت فعل یدا اصلھا یدان سقطت النون بالاضافۃ ابی لہب مضاف الیہ والمضاف مع ماا ضیف الیہ فاعل تبت والید مونث عندالعرب وابولہب کنیۃ عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب بن ہاشم والعزی اسم صنم وھوعم رسول اللہ ﷺ وکان مشہورا بالکنیۃ وانما اشتھر بھذا لانہ کان جمیلا وان وجہ کان یتلھب لمزید حسنہ کما یتلھب بالنار۔ وتب فعل والضمیر فاعلہ یرجع الی ابی لہب عطف الجملۃ علی والتباب الخسران والحرمان من کل خیروقیل الھلاک والتردی۔ والجملتان دعاء علیہ وقیل الاولی دعاء والثانیۃ اخبار۔ ما نافیۃ اغنی فعل عنہ متعلق بہ ما لہ فاعلہ معطوف علیہ وماموصولۃ کسب صلۃ والعائد محذوف والکل معطوف وقیل مامصدریۃ فما کسب بتاویل المصدر فاعل…
Read the full tafseer →تَـبَّتْ یَدَٓا اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ ۔ (اللہب : 1)
(ٹوٹ جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ، اور وہ تباہ و برباد ہوگیا۔ )
لفظ ابولہب کی تحقیق
ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا جس کا معنی ہے عزیٰ کا بندہ۔ عزیٰ ایک بت کا نام ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے اسے عبدالعزیٰ کے نام سے پکارنا پسند نہ فرمایا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ابولہب کا معنی ہے شعلے والا، یعنی شعلہ رو۔ اس کا رنگ بہت چمکتا ہوا اور سرخ وسفید تھا۔ اس لیے یہ ابولہب کے نام سے مشہور ہوگیا تھا۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے خود اپنی کنیت ابولہب رکھی یا اس کے خوشامدیوں نے اسے ابولہب کی کنیت سے پکارنا شروع کردیا۔ قرآن کریم نے بھی اسے اسی کنیت سے ذکر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن
ربط سورت : نبی ﷺ کو سورة النّصر میں ہر قسم کی کامیابی اور دین کے غالب ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے اور سورة اللّہب میں بتلایا ہے کہ عنقریب دین اور آپ کا دشمن ہلاک ہوجائے گا۔
مفسّرِ قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ “ اے نبی ! اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں تو نبی ﷺ صفا پہاڑی پر جلوہ افروز ہوئے اور آپ نے قریش کے قبائل کا نام لے لے کر بلایا لوگ دوڑتے ہوئے صفا پہاڑی کی طرف پہنچے، جس قبیلے کا سربراہ خود نہ پہنچ سکا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا کہ جاؤ پتہ کرو کہ محمد بن عبداللہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →1 : تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ (ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ برباد ہوجائے) التباب ہلاکت اسی سے عرب کا یہ قول ہے۔ أشابۃ ام تابۃ کیا تو جوان ہونے والی یا ہلاک ہونے والی ہے۔ یعنی بڑھاپے سے ہلاک ہونے والی ہے۔ معنی یہ ہے کہ اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوں۔ کیونکہ روایات کے مطابق اس نے ہاتھ سے رسول اللہ ﷺ کو مارنے کیلئے پتھر تھاما تھا۔
وَّتَبَّ اور وہ سارا ہلاک ہو یا اس کے دونوں ہاتھوں کو ہلاکت والا بتلایا اور مراد اس سے اس کی تمام ہلاکت ہے۔ جیسے فرمایا بما قدمت یداک ] الحج : 10 [ اور وتب کا معنی یہ ہوگا جیسا اس قول شاعر میں ؎
جزانی جزاہ اللہ شر جزائہٖ ٭ جزاء الکلاب والعاویات و قد فعل
(اس…
Read the full tafseer →سورة مسد کا شان نزول
1 ۔” تبت یدابی لھب وتب “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ ایک دن صفا پر چڑھ گئے، پھر فرمایا، اے ساتھیو ! فرماتے ہیں تو آپ (علیہ السلام) کے پاس قریش جمع ہوگئے اور آپ ﷺ کو کہا آپ کو کیا ہوا ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم دیکھتے ہو اگر میں تمہیں خبروں کی دشمن صبح کو تم پر حملہ کرنے والا ہے، کیا تم میری تصدیق کرو گے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ فرمایا : بیشک میں تمہیں ڈرانے والا ہوں سامنے سے آنے والے سخت عذاب سے۔ تو ابولہب نے کہا تیرے لئے خسارہ ہوگیا تونے اس کے لئے ہم سب کو بلایا تھا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” تبت یدا ابی لھب وتب “ سورة کے آخر تک۔ اللہ تعالیٰ کا قول ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ صحیح 2 ؎ بخاری مسلم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا 2 حاصل یہ ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے مکہ کے صفا پہاڑ پر چڑھ کر قریش کو آواز دی جس سے بہت سے لوگ قریش کے جمع ہوگئے۔ اس کے بعد ان لوگوں کو آپ ﷺ نے طرح طرح کی نصیحت کی اور شرک سے ڈرایا۔ ان لوگوں میں ابو لہب بھی تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ کی نصیحت سن کر بڑی نخوت سے گھڑی گھڑی اپنے دونوں ہاتھ جھٹکے اور کہا کہ اے محمد ﷺ تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں کیا تو نے اسی واسطے آواز دے کر اور ہاتھوں کے اشارہ سے بلا کر ہم سب لوگوں کو جمع کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔ یہ ابو لہب آنحضرت ﷺ کے چچاؤں میں سے تھا اس کا نام عبد العزیٰ بن…
Read the full tafseer →ابولہب، نبی اکرم کا چچا تھا، آپ سے شدید عدوات رکھتا تھا اور آپ کو سخت اذیت دیتا تھا اس میں کوئی دین کی رمق تھی نہ قرابت کی حمیت۔ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ذم عظیم کے ذریعے سے اس کی مذمت بیان فرمائی جو قیامت کے دن تک اس کے لیے رسوائی ہے۔ (تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ وَّتَبَّ ) یعنی اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ بدبختی میں پڑگیا۔ اور اس نے نفع حاصل نہیں کیا۔
Read the full tafseer →1 ۔ ابو لہب کی شقاوت و بدبختی اور اس کے انجام بد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ٹوٹ گئے ابو لہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہوگیا، یعنی وہ تباہ ہوگیا اپنی ازلی شقاوت و بدبختی اور اس دین دشمنی کی وجہ سے جو وہ اپنے باطن میں حق اور اہل حق اور حضرت امام الانبیاء ﷺ کے خلاف رکھتا تھا، والعیاذ باللہ۔ اس ملعون کا نام عبدالعزی تھا اور ابولہب اس کی کنیت تھی، کیونکہ لہب کے معنی آگ کے شعلہ کے آتے ہیں، تو ابولہب کے معنی ہوئے شعلے والا، شعلہ رو، کہ اس کا چہرہ آگ کے شعلے کی طرح سرخ تھا، جس پر اس کو بڑا فخر و ناز اور گھمنڈ تھا، قرآن پاک نے اس کو اس کے نام کی بجائے اسی کنیت سے ذکر فرمایا ہے کیونکہ ایک تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ابو لہب اور اس کی بیوی کے لیے عذاب کی خبر
تشریح : ابو لہب لقب ہے کیونکہ وہ بڑا ہی خوبصورت انسان تھا اس کا چہرہ آگ کی طرح دمکتا تھا اسی لیے لہب یعنی آگ کی لپٹ یا شعلہ اس کا لقب پڑگیا۔ وہ بڑا مالدار خوشحال انسان تھا یہاں ہاتھ ٹوٹ گئے محاورتاً کہا گیا ہے۔ یعنی یہ تباہ و برباد ہوجائے گا۔ اس کا فخر ' غرور ' دشمنی ' آل اولاد اور مال و دولت سب کچھ غارت ہوجائے گا اور ان میں کچھ بھی اس کو دوزخ کی اس آگ سے ہرگز بچا نہ سکیں گے جو کہ خاص اس کے لیے تیار کی جا چکی ہے۔ اور وہ آگ لپٹیں مارتی ہوئی تیز آگ ہوگی۔ پھر اس کی بیوی کے لیے بھی سخت ترین سزا کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ کہ یہی جو ایندھن اٹھا کر لاتی ہے وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة اللھب۔
آیات 1 تا 5۔
اسرار معارف۔
ہاتھ ٹوٹ جائیں ابولہب کے اور تباہ ہوجائے اس کا نام عبدالعزی تھا حضرت عبدالمطلب کی اولاد میں سے تھا اور سرخ رنگ ہونے کے باعث کنیت ابولہب مشہور تھی ، اس نے آپ کی شدت سے مخالفت کی کہ اللہ کریم نے نام لے کردوزخی ہونے کا اعلان فرمایا۔
اسے اس کا مال وزر کام نہ آئے کہ ایک پھوڑا نکلا جو بہت بدبودار تھا لاعلاج ہو کر اور تنہائی میں مرگیا اس قدر بدبو تھی کہ لاش دفن نہ ہوسکتی تھی وہی مکان اس پر گرادیا گیا چناچہ اس کا مال وزر کام نہ آیا اور اس کی بیوی بھی اس کے ساتھ بھڑکتے ہوئے دزوخ میں داخل ہوگی جو آپ کی راہ میں کانٹے بچھاتی تھی ، دوزخ میں اس کے گلے میں طوق ہوگا جو…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی اس کی دنیا و آخرت دونوں تباہ ہوگئیں۔ یہ ابو لہب (جس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا) نبی ﷺ کا حقیقی چچا تھا لیکن اپنے کفر اور بدبختی کی بدولت آپ کا شدید ترین دشمن تھا اور آپ کو ہر طرح سے ستانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتا تھا حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب آیت وانذر عشیر تک الاقربین نازل ہوئی تو نبی ﷺ صفا کی پہاڑی پر چڑھ گئے اور یاصباء کہہ کر اپنے قبیلے قریش کو پکارا۔ جب وہ سب جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا :” مجھے یہ بتائو کہ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اس پہاڑی کے پیھچے سے کچھ گھوڑ سوار تم پر حملہ کیا چاہتے ہیں تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے، انہوں نے کہا ” ہمیں آج تک جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا۔…
Read the full tafseer →(111:1) تبت یدا ابی لھب وتب ۔ یہ دونوں جملے تبت یدا ابی لہب اور وتب۔ بددعا کے لئے ہیں۔
تبت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ تب وتباب (باب ضرب) مصدر بمعنی ٹوٹنا۔ یا ٹوٹے میں رہنا۔
یدا اصل میں یدان تھا۔ اضافت کی وجہ سے ن گرا دیا گیا۔ مضاف دونوں ہاتھ۔ ابی لھب مضاف الیہ۔ ابی لہب کے (دونوں ہاتھ) ۔ تبت یدا ابی لہب۔ ابی لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں۔
لغت عرب میں ید کے مختلف معانی ہیں :۔
آیت بل یداہ مبسوطتن ینفق کیف یشاء (5:64) میں بمعنی جود و کرم مستعمل ہے۔ بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں۔ یعنی وہ بڑا صاحب جودوسخا ہے وہ جس طرح اور جتنا چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔
اور آیت ونسی ما قدمت یداہ (18:57) میں بمعنی ذات،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
تبت۔ تباہ ہوگئی۔ (ہوگئے) ۔ یدا۔ دونوں ہاتھ۔ تب۔ تباہ ہوا۔ ما اغنی۔ کام نہ آیا۔ کسب۔ کمایا۔ سیصلی۔ بہت جلد جا پڑے گا۔ امرائہ ۔ عورت ۔ جید۔ گردن۔ حبل من مسد۔ مضبوط پٹی ہوئی رسی۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے نبی کرم ﷺ کو خطاب کرتے فرمایا ……… یعنی اے کپڑا اوڑھ کر لیٹنے والے آپ اتھئے۔ اللہ کے خوف سے لوگوں کو ڈرائیے اور اپنے رب کی بڑائی قائم کیجئے۔
اس کے بعد جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ……… یعنی آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کے خوف سے ڈرائیے تو آپ نے مکہ مکرمہ کے کوہ صفا پر چرھ کر مکہ والوں کو ”…“ (اے صبح کی آفت) کہہ کر آواز دی۔
جس کا عام طور پر یہ مطلب ہوتا تھا کہ رات کو کسی دشمن نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ابولہب اور اس کی بیوی کی اسلام دشمنی اور ان کی ہلاکت۔
(ف 1) شان نزول : صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے کوہ صفا پر عرب کے لوگوں کو دعوت دی ہر طرف سے لوگ آئے اور حضور ﷺ نے ان سے اپنے صداقت وامانت کی شہادتیں لینے کے بعد فرمایا، انی لکم نذیر بین یدی عذاب شدید۔ اس پر ابولہب نے حضور سے کہا تھا کہ تم تباہ ہوجاؤ، کیا تم نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم کی طرف سے جواب دیا، ابولہب نبی ﷺ کا بڑا مخالف تھا جہاں نبی ﷺ لوگوں کو وعظ ونصیحت کرتے تھے تو یہ آپ کو جھٹلانے کی تقریر ضرور کیا کرتا تھا، ابولہب کی بی بی کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] ابو لہب جس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا رسول اکرم ﷺ کا حقیقی چچا تھا۔ سرخ رنگ کی وجہ سے اس کی کنیت ابو لہب مشہور تھی۔ قرآن نے اس کا اصل نام اس لئے نہیں لیا کہ وہ مشرکانہ تھا۔ علاوہ ازیں کنیت ابو لہب میں لہب جہنم سے ایک مناسبت بھی تھی۔ یہ شخص رسول اللہ ﷺ کا شدید دشمن اور اسلام کا نہایت سخت مخالف تھا۔ تبت یدآ ابی لہب وتب ایک پیشنگوئی ہے جس میں آئندہ پیش آنے والی بات کو ماضی کے صیغوں میں بیان کیا گیا ہے گویا اس کا ہونا ایسا یقینی ہے جیسے وہ ہوچکی ہو۔ اب فی الواقع وہی کچھ ہوا جو اس سورة میں چند سال پہلے بیان کیا جا چکا تھا۔ ہاتھ ٹوٹنے سے مراد جسمانی ہاتھ ٹوٹنا نہیں ہے بلکہ کسی شخص کا اپنے مقصد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة اللھب
ابولہب کنیت ہے ۔ اصلی نام عبدالعزیٰ تھا ۔ لعب کے معنی آگ اور شعلے کے ہیں ۔ وجہ مناسبت یہ ہے کہ اس کے رخسارے آگ کی طرح روشن تھے ۔ یہ اور اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب حضور ﷺ کے سخت معاندین میں سے تھے ۔ جہاں حضور ﷺ جاتے ۔ وہاں ابولہب ان کو بدنام کرنے کے لئے پہنچ جاتا اور ہر شرارت میں پیش پیش رہتا ۔ اور ام جمیل جنگل سے خود کانٹے کاٹ کر لاتی اور حضور ﷺ کے راستے میں بچھادیتی ۔ اس پر ان آیتوں کا نزول ہوا کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں ۔ نہ دنیا اس کی سنورے اور نہ عاقبت ۔ یہ ہلاک ہو اور اس کا مال اور اس کی اولاد اس کو اللہ کے عذاب سے نہ بچاسکیں ۔ شعلہ زن آگ میں جائے اور اس کی بیوی ام جمیل…
Read the full tafseer →(1) ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک و برباد ہوجائے۔ بعض مفسرین نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہوگیا۔
یعنی پہلے جملے میں دعا اور دوسرے میں واقع کی خبر ہے کہ یقین جانو ایسا ہوگیا۔ دونوں ہاتھوں کے ٹوٹنے کا ذکر اس لئے فرمایا کہ دونوں ہاتھوں سے بڑا پتھر اٹھا کر حضور کو مارنے چلا تھا۔
تبالک سائرالیوم اسی کا جملہ جو بددعا میں کہا گیا ہے یا اس نے ایک دفعہ کہا تھا محمد جو کچھ کہتا ہے وہ مرنے کے بعد کی بات ہے اس وقت تو میرے دونوں ہاتھوں میں کچھ بھی نہیں یہ کہہ کر اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو کہا تھا تبالکما اری فیکما شیئا یا اس کی ذات مراد ہے جیسا کہ۔
ذلک بما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 10۔ چناچہ غزوہ بدر کے سات روز بعد اس کے طاعون کا دانہ جس کو حدسہ کہتے ہیں نکلا اور مرض کے لگ جانے کے خوف سے گھر والوں نے اس کو الگ ڈالدیا۔ یہاں اسی حالت میں ہلاک ہوگیا، تین روز تک لاش یونہی پڑی رہی، جب سڑنے لگا تو مزدوروں سے اٹھوا کر شہر سے باہر بھیج دیا، انہوں نے جاکر اس کو گڑھے میں پھینک دیا۔
Read the full tafseer →ابو لھب کے دونوں ہاتھ شل ہوگئے اور وہ تباہ وبرباد ہو کر رہ گیا
1 (تبت) کا اصل مادہ ت ب ت ہے اور اس کے معنوں میں گھاٹا اور تباہی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس مادہ کے چار الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں دو تو اسی سورت میں ( تب) اور ( تبت) اور ایک بار ( تباب) کا لفظ آیا ہے۔ (40 : 31) اور ایک بار لفظ (تتبیب) کا لفظ آیا ہے۔ (11 : 101) اور علاوہ ازیں اس مادہ کا لفظ قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا۔ (تبت یدا) ( دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے) اور یہ محاورہ ہے ہلاکت میں پڑنے سے۔ ( تب) وہ ہلاک ہوا۔ وہ ہمیشہ ٹوٹے یعنی گھاٹے میں رہا۔ وہ ٹوٹ پھوٹ گیا ۔ وہ تباہ و برباد ہوا۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ( لھب) مصدر ہے اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
Name and Nickname of Abu Lahab
Abu Lahab [ Father of Flame ] was the Nickname of ` Abd-ul-` Uzza, one of the sons of ` Abdul-Muttalib. As he was ruddy in complexion, he was nicknamed Abu Lahab [ Father of Flame ]. The Qur'an did not mention his real name, because it smacked of paganism, and the last element 'lahab' [ Flame ] in the nickname has also nexus with the flame of Hell. This person was the inveterate enemy and persecutor of the Holy Prophet ﷺ ، and violently opposed Islam. Whenever the Holy Prophet ﷺ invited the people to Islamic Faith, he would stand up and cry lie to his message. […
Read the full tafseer →1 His real name was 'Abd al-'Uzza, and he was called Abu Lahab on account of his glowing, ruddy complexion. Lahab means the flame of fire, and Abu Lahab the one with a flaming, fiery face. His being mentioned here by his nickname (Kunyat) , instead of his real name, has several reasons. First, that he was better known by his nickname than by his real name; second, that the Qur'an did not approve that he should be mentioned by his polytheistic name `Abd al 'Uzza (slave of 'Uzza) ; third, that his kunyat goes well with the fate that has been described of him in this Surah.
Some commentators…
Read the full tafseer →