Explained with ayahs 1–3
گناہوں کی بخشش مانگو اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرو :
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ما فرماتے ہیں کہ بڑی عمر والے مجاہدین کے ساتھ ساتھ حضرت عمر فاروق ؓ مجھے بھی شامل کرلیا کرتے تھے تو شاید کسی کے دل میں اس کی کچھ ناراضگی پیدا ہوگئی اس نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ نہ آیا کریں ان جتنے تو ہمارے بچے ہیں خلیقۃ المسلمین ؓ نے فرمایا کہ تم انہیں خوب جانتے ہو ایک دن سب کو بلایا اور مجھے بھی یاد فرمایا میں سمجھ گیا کہ آج انہیں کچھ بتانا چاہتے ہیں جب ہم سب جا پہنچے تو امیرا لمومنین ؓ نے ہم سے پوچھا کہ سورة اذا جآء کی نسبت تمہیں کیا علم ہے بعض نے کہا اس میں ہمیں اللہ کی حمدو ثناء بیان کرنے اور گناہوں کی بخشش چاہنے…
Read the full tafseer →سورة النصر 3
حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی تعریف و ثنا کرنا بھی ہے اور اس کا شکر ادا کرنا بھی۔ اور تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کو ہر لحاظ سے پاک اور منزہ قرار دینا ہے۔ اس موقع پر یہ ارشاد کہ اپنے رب کی قدرت کا یہ کرشمہ جب تم دیکھ لو تو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس میں حمد کا مطلب یہ ہے کہ اس عظیم کامیابی کے متعلق تمہارے دل میں کبھی اس خیال کا کوئی شائبہ تک نہ آئے کہ یہ تمہارے اپنے کمال کا نتیجہ ہے، بلکہ اس کو سراسر اللہ کا فضل و کرم سمجھو، اس پر اس کا شکر ادا کرو، اور قلب و زبان سے اس امر کا اعتراف کرو کہ اس کامیابی کی ساری تعریف اللہ ہی کو پہنچتی ہے۔ اور تسبیح کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو اس…
Read the full tafseer →جب موت قریب محسوس ہو تو تسبیح و استغفار کی کثرت چاہئے۔ فسبح بحمد ربک واستغفرہ حضرت صدیقہ ائشہ فرماتی ہیں کہ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو یہ دعا کرتے تھے سبحانک ربنا وبحمدک الھم اغفرلی (4 واہ البخاری)
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ اس سورت کے نزول کے بعد اٹھتے بیٹھتے اور جاتے آتے ہر وقت میں یہ دعا پڑھتے تھے، سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ اور فرماتے تھے کہ مجھے اس کا حکم کیا گیا اور دلیل میں اذا جاء نصر اللہ کی تلاوت فرماتے تھے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس سورت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عبادت میں بڑا مجاہدہ فرمایا یہاں تک کہ آپ کے پاؤں ورم کر…
Read the full tafseer →اس آیت کے دو خاص پہلو: یہ آیت اپنے اندر یوں تو کئی پہلو رکھتی ہے لیکن دو پہلو خاص اہمیت والے ہیں۔
اول یہ اس فرض کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو اس فتح و نصرت کے حاصل ہونے کے بعد نبی ﷺ اور آپ کی امت پر عائد ہوا۔ یعنی یہ کہ اس پر اترانے اور فخر کرنے کے بجائے لوگ اپنے رب کی حمد و تسبیح کریں، اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگیں اور یہ توقع رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی مہربان و کریم ہے۔ اس کے جو بندے اپنی کوتاہیوں کی معافی کے لیے اس سے رجوع کرتے ہیں وہ ان کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ سورۂ کوثر میں جس طرح فرمایا ہے:
’اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ‘ (الکوثر ۱۰۸: ۱-۲)
(ہم نے تم…
Read the full tafseer →3۔ 1 یعنی یہ سمجھ لے کہ تبلیغ رسالت اور احقاق حق کا فرض، جو تیرے ذمہ تھا، پورا ہوگیا اور اب تیرا دنیا سے کوچ کرنے کا مرحلہ قریب آگیا ہے، اس لئے حمد و تسبیح الٰہی اور استفغار کا خوب اہتمام کر۔ اس سے معلوم ہوا کہ زندگی کے آخری ایام میں ان چیزوں کا اہتمام کثرت سے کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →2: اگرچہ آنحضرت ﷺ ہر طرح کے گناہوں سے بالکل پاک اور معصوم تھے اور اگر آپ کی شان کے لحاظ سے کوئی بھول چوک ہوئی بھی تو سورة فتح میں اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی معاف کرنے کا اعلان فرما دیا تھا، اس کے باوجود آپ ﷺ کو استغفار کی تلقین امت کو یہ بتانے کے لئے کی جارہی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ سے استغفار کرنے کے لئے کہا جارہا ہے تو دوسرے مسلمانوں کو تو اور زیادہ اہتمام کے ساتھ استغفار کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
“۔ اس سورت کی پہلی آیت ہی میں ایک متعین اشارہ ہے ، اور یہ اشارہ کائناتی واقعات کے بارے میں ایک خاص تصویر پیدا کرتا ہے اور اس تصور میں یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان واقعات میں اہل ایمان کا کردار کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کا کردار کیا ہے۔ اور انسانی زندگی اور ان کائناتی واقعات وحادثات میں اہل ایمان اور نبی کے دائرہ کار کی حد کیا ہے۔ یہ اشارہ اس فقرے میں ہے۔
اذا جآء ........................ والفتح (1:110) ” جب اللہ کی مدد پہنچ جائے “ میں ہے۔ تمام دارومدار اللہ کی نصرت پر ہے اور اللہ کا وقت مقرر ہے ، جس شکل میں نصرت آئے گی وہ بھی متعین ہے ، جس مقصد کے لئے یہ نصرت ہوگی وہ بھی مقرر ہے۔ نبی اور اس کے ساتھیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
6 یعنی سمجھ لیجئے کہ مقصود بعثت کا اور دنیا میں رہنے کا (جو تکمیل دین و تمہید خلافت کبریٰ ہے) پورا ہوا، اب سفر آخرت قریب ہے۔ لہذا ادھر سے فارغ ہو کر ہمہ تن ادھر ہی لگ جائیے اور پہلے سے بھی زیادہ کثرت سے اللہ کی تسبیح وتحمید اور ان فتوحات اور کامیابیوں پر اس کا شکر ادا کیجئے۔
7 یعنی اپنے لئے اور امت کے لئے استغفار کیجئے۔ (تنبیہ) نبی کریم ﷺ کا اپنے لئے استغفار کرنا پہلے کئی جگہ بیان ہوچکا ہے۔ وہیں دیکھ لیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی قرآن میں ہر جگہ وعدہ ہے فیصلہ کا، اور کافر شتائی کرتے تھے۔ حضور ﷺ کی آخری عمر میں مکہ فتح ہوچکا، قبائلِ عرب دَل کے دَل مسلمان ہونے لگے۔ وعدہ سچا ہوا۔ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 3{ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ } ”تو پھر آپ ﷺ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے ‘ اور اس سے مغفرت طلب کیجیے۔“
{ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } ”یقیناوہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔“
یعنی ابھی تو آپ ﷺ کو دعوت و تبلیغ اور فریضہ رسالت کے سلسلے میں بہت سی مشقتیں اٹھانی ہیں اور جنگ و قتال کے مراحل سے گزرنا ہے ‘ لیکن جب آپ ﷺ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں یعنی اللہ کا دین غالب ہوجائے تو آپ ﷺ ہمہ وقت ‘ ہمہ تن اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہوجایئے گا۔ نوٹ کیجیے ! سورة الانشراح کی آخری آیات میں بھی اسی اسلوب و انداز میں بالکل ایسا ہی حکم دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →3 آپ کی وفات کی طرف اشارہ :۔ یہ سورت سب سے آخری نازل ہونے والی مکمل سورت ہے۔ (مسلم، کتاب التفسیر) اور یہ 10 ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں نازل ہوئی۔ اس کے بعد چند متفرق آیات نازل ہوئیں جیسے (الْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ۔۔ ) (3: 5) وغیرہ مگر مکمل کوئی سورت نازل نہیں ہوئی اور یہ آیت بھی اسی موقع پر نازل ہوئی تھی۔ اس سورت سے آپ ﷺ نے سمجھ لیا کہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد پورا ہوچکا ہے اور آپ ﷺ عنقریب اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں۔ چناچہ اسی سال حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے جو عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا اس میں یہ کہہ کر کہ : شاید آئندہ سال تم میں موجود نہ ہوں گا اس بات کی طرف واضح…
Read the full tafseer →2۔ انتہائی فتح مندیوں، کامیابیوں، کامرانیوں کے وقت ارشاد یہ نہیں ہوتا کہ جشن دھوم دھام سے منانا، جلوس نکالنا، نقارے بجانا، چراغاں کرنا، زندہ باد کے نعرے لگانا (دنیا تو فتح مندیوں کے انہیں جشنوں، جلوسوں سے واقف ہے) بلکہ حکم یہ ملتا ہے کہ اللہ کی یاد کی منزلیں طے کرنے کے بعد حمد وتسبیح و استغفار میں اور زیادہ لگ جائیے ! اکابر صحابہ آیت کے نزول ہی سے سمجھ گئے تھے کہ جو رسول ﷺ کا مقصد بعثت تھا وہ پورا ہوچکا اور اب وقت وفات نبوی ﷺ قریب ہے، بلاضرورت اس دنیا میں کسی کو بھی نہیں رکھا جاتا ہے، چہ جائیکہ رسول کو، ان کا مشن ختم ہوچکا، اور اب انہیں اپنی اصلی منزل جنت کی طرف واپس ہونا ہے۔ استغفار، جب رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب اپنے نبی ﷺ کے لئے اس کے دشمنوں پر اللہ کی مدد آجائے اور فتح مکہ نصیب ہوجائے اور تو لوگوں کو دیکھ لے کہ اللہ کے دین اسلام میں جوق در جوق داخل ہو رہے ہیں بعد اس کے کہ دین میں ایک ایک کر کے اخل ہو رہے تیھ اور یہ صورت حال فتح مکہ کے بعد ہوئی کہ عرب بخوشی اطراف و جوانب سے (دنیا میں داخل ہونے کے لئے) آئے، تو اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرنے لگو اور اس سے مغفرت طلب کرو، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے، چناچہ اس سورت کے نزول کے بعد آپ ﷺ سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ بکثرت پڑھا کرتے تھے اور اس سے سمجھ گئے تھے کہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →فسبح بحمد ربک . یہ شرط مذکور کی جزا ہے۔ بحمد کا تعلق فعل مقدر سے ہے یعنی سبحان اللہ و بحمدہٖ پڑھو۔ اس نعمت
پر خدا کی کہ کسی کے خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی تھی کہ تم قوت کے ساتھ مکہ پر تسلط حاصل کرسکو گے۔ مکہ کو تو اللہ نے اصحاب الفیل سے بھی محفوظ رکھا تھا اور تم کو خدا نے یہ نعمت عطا فرما دی۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوگئے تو لوگوں نے آپ کی بڑی اونچی عزت کی۔ یہ دیکھ کر عاجزی کے ساتھ حضور ﷺ نے سر مبارک اونٹ کے کجاوہ کی لکڑی پر رکھ دیا۔ (رواہ الحاکم بسند جید) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ان الفاظ میں ہے کہ حضور ﷺ کا سر وسط کجاوہ سے چھونے لگا اور قریب ہونے لگا ‘ اس تواضع…
Read the full tafseer →تو اس شکریہ میں آپ اپنے پروردگار کی خوب عبادت کیجیے چناچہ اس صورت میں حضور ﷺ کو عالم آخرت کے سفر سے مطلع کردیا گیا کہ اب وقت قریب آگیا۔
شان نزول : اذا جاء نصر اللہ والفتح الخ
عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں بواسطہ معمر زہری سے روایت کیا ہے کہ جب فتح مکہ کے سال حضور ﷺ نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا تو حضرت خالد بن ولید کو ایک دستے کے ساتھ مکہ کے نشیبی حصہ سے بھیجا چناچہ انہوں نے قریش کی صفیں کاٹ ڈالیں پھر ان کو ہتھیار کاٹ ڈالیں پھر ان کو ہتھیار اٹھانے کا حکم دیا چناچہ انہوں نے کافروں پر ہتھیار اٹھائے تو وہ سب میں گھس گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1) اذا جآء نصر اللہ والفتح …: ابن کثیر نے فرمایا کہ ”الفتح“ سے مراد یہاں فتح مکہ ہے، اس پر اتفاق ہے۔ عرب کے قبائل اسلام قبول کرنے کے لئے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ اپنی قوم پر غالب آگیا تو بلاشبہ وہ نبی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ہاتھوں سے مکہ فتح فرما دیا تو وہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے۔ اس کے بعد دو سال نہیں گزرے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہوگیا اور تمام قبائل میں کوئی ایسا شخص نہ تھا جو اسلام کا اقرار نہ کرتا ہو۔ (الحمد للہ) بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں عمرہ بن سلمہ ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا، جب مکہ فتح ہوا تو ہر قوم نے چاہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس…
Read the full tafseer →فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا۔
تو (اس وقت) اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کیجیے اور (اپنی امت کے لیے) اس سے مغفرت طلب کیجیے، بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
نحاس نے اس قول کو پسند کیا ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومنھم من یلمزک فی الصدقات۔ (التوبہ) ان میں سے کچھ وہ ہیں جو صدقات کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں۔ مقاتل نے اس کلام کے مخالف گفتگو کی ہے کہ ھمزۃ اسے کہتے ہیں جو عدم موجود گی میں غیبت کرتا ہے اور لمزۃ اسے کہتے ہیں جو سامنے عیب جوئی کرتا ہے۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : ھمزہ اسے کہتے ہیں جو لوگوں کے اخلاف کے بارے میں طعن کرتا ہے۔ اور لمزۃ اسے کہتے ہیں جو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا جاء نصر اللہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
3۔ ابن جریرے عطا بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ اذا جاء نصر اللہ والفتح ساری کی ساری مدینہ میں نازل ہوئی۔ فتح مکہ اور لوگوں کے دین میں داخل ہونے کے بعد اور اس میں آپ کو اپنے وصال کی خبر دی گئی۔
4۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والبزار وابو یعلی وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ سورة نبی اکرم ﷺ پر ایام تشریق کے درمیان منیٰ میں نازل ہوئی اور اس وقت آپ حجۃ الوداع کی ادائگی میں تھے یعنی…
Read the full tafseer →[فَسَبِحْ : تو آپ ﷺ تسبیح کریں ][ بِحَمْدِ رَبِكَ : اپنے رب کی حمد کے ساتھ ][ وَاسْتَغْفِرْهُ : اور آپ ﷺ مغفرت مانگیں اس سے ][ انهٗ كَان تَوَّابًا : بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اوپر سورة ٴ نصر کا ترجمہ کیا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ شانہ ٗ نے رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ جب اللہ کی مدد آجائے اور آپ لوگوں کو دیکھیں کہ فوج در فوج، جوق در جوق اسلام میں داخل ہو رہے ہیں تو آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کرنے میں مشغول ہوجائیں اور تسبیح کے ساتھ اللہ کی حمد بھی بیان کریں مثلاً یوں کہیں سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ اور اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کریں اور آخر میں یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔
رسول اللہ ﷺ تو ہمیشہ ہی تسبیح وتحمید و استغفار میں لگے رہتے تھے اس سورت میں جو ان چیزوں میں مشغول رہنے کے لیے خطاب فرمایا ہے اس خطاب کی وجہ سے آپ نے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ذکر بشارت فتح ونصرت و غلبہ دین و ظہور اسلام مع حکم تسبیح و استغفار :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا جآء نصر اللہ والفتح ...... الی ........ انہ کان توابا “۔
(ربط) اس سے قبل سورة کافرون میں اس امر کا حکم تھا کہ مشرکین کی سازشوں سے مسلمانوں کے قدم جادہ استقامت سے کسی درجہ میں متزلزل نہ ہونے چاہئیں ان کو وضح اعلان کی صورت میں کہہ دیا جائے کہ ان کی خواہشات اور کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں گی اور اس امر کی کوئی امکان نہیں کہ حق اور باطل میں کوئی باہمی سمجھوتہ ہو اگر کفار مکہ شرک اور کفر سے باز آنے کو تیار نہیں تو پھر حق پرست اور مسلمان کیونکر ایمان و توحید کے تقاضوس سے دست بردار ہوسکتا ہے اس مرحلہ پر تو…
Read the full tafseer →3:۔ ” فسبح “ یعنی خود وہ کام کرو جو فتح و نصرت کا موجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کو شریکوں سے پاک سمجھو اور تمام صفات کارسازی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ثابت کرو۔ اور اس سے استغفار کرو، بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ یا رایت، جاء پر معطوف ہے اور فسبح الخ جزاء شرط ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصر آچکی اور تم نے لوگوں کو فوج در فوج اسلام میں داخل ہوتے دیکھ لیا تو اب شکر نعمت کے طور پر اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تنزیہ کرو۔ مدد سے صلح حدبیبہ اور فتح سے فتح مکہ مراد ہے۔ فتح مکہ کے دن لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ ای فنزہہ تعالیٰ بکل ذکر ید علی التنبزیہ حامدا لہ جل و علا زیادۃ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النصر ہے۔ اس کا دوسرا نام سورة التودیع بھی ہے 1 ؎ جس کا معنی رخصت کرنے والی ہے ۔ یعنی اس سورة میں حضور ﷺ کے دنیا سے رخصت ہونیکا اشارہ پایا جاتا ہے۔ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ بلکہ مکمل سورة نازل ہونے والی یہ آخری سورة ہے 2 ؎ اس کے بعد کوئی پوری کی پوری سورة نازل نہیں ہوئی۔ البتہ چند آیات ضرور اس ی سورة کے بعد بھی نازل ہوئی ہیں۔ اس سورة کی تین آیات ، انیس الفاظ اور اناسی حروف ہیں۔
الوداعی سورة
احادیث سے معلوم 3 ؎, ہوتا ہے کہ جس مجلس میں یہ سورة حضور نبی کریم ﷺ نے پڑھ کر سنائی۔ اس مجلس میں حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت سعد اور آپ کے چچا…
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْہُ 0 ۭ ؔ اِنَّہٗ كَانَ تَوَّابًا 3 ۧ
سبح
السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب ¦ اذا منصوبۃ بجاء وقیل یسبح نصر اللہ مصدرمضاف الی الفاعل والمفعول محذوف ای نصرہ ایاک اوالمؤمنین وھذا فاعل جاء ومعناہ حصل وانما عبربہ بالمجیٔ تجوزاً للاشعار بان نصرہ یقینی وقد قرب حصولہ والفتح عطف علی نصر اللہ ورایت عطف علی جاء ورایت ان کان بمعنی العلم فمفعولہ الاول الناس والثانی یدخلون وان کان بمعنی ابصرت فیدخلون حال۔ وعلی التقدیرین افواجا حال فاعل یدخلون ای فوجا بعد فوج فسبح الخ جواب الشرط بحمد ربک فی محل النصب علی الحال ای سبح اللہ حامدالہ او متلبساء بحمدہ ای قل سبحان اللہ بحمدہ واستغفرہ عطف علیٰ سبح انہ کان الخ تعلیل لقولہ استغفرہ ای لان من شانہ قبول التوبۃ۔
تفسیر ¦ یہ سورة جمہور کے…
Read the full tafseer →فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ ط اِنَّـہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ (النصر : 3)
(تو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے اور اس سے مغفرت کی دعا مانگئے، بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ )
ادائے شکر کے لیے آنحضرت ﷺ کو تسبیح و حمد اور استغفار کی ہدایت
حمد اللہ تعالیٰ کی تعریف کو بھی کہتے ہیں اور اس کا شکر ادا کرنے کو بھی۔ اور تسبیح کا معنی اللہ تعالیٰ کو ہر لحاظ سے پاک اور منزہ قرار دینا ہے۔ اس آیت کریمہ میں پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو تین باتوں کا حکم دیا ہے۔ پہلی بات یہ کہ آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں۔ تسبیح تنزیہ کا ہم معنی ہے۔ یعنی آپ کے اور اصحاب ِ ایمان کے دلوں میں کبھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
ربط سورت : نبی ﷺ کو سورة الکافرون میں حکم ہوا کہ کفار کے سامنے کھلے الفاظ میں اعلان فرما دیں کہ تمہارے لیے تمہارا دین میرے لیے میرا دین ہے۔ لہٰذا جو چاہو کرلو میں کبھی تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کروں گا، سورة النصر میں آپ ﷺ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ یہ دین ہر صورت غالب اور کامیاب ہو کر رہے گا۔ یاد رہے کہ یہ سورت نبی ﷺ کی وفات سے تقریباً تین ماہ پہلے نازل ہوئی جس میں آپ کو کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے۔
نبی معظم ﷺ کی عظیم الشان اور بےمثال جدوجہد کو تاریخی حساب سے دیکھا جائے تو آپ کی جدوجہد کو مجموعی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، ایک نبوت کے آغاز سے لے کر بدر کے معرکہ تک کا…
Read the full tafseer →3 : فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ (تو اپنے رب کی تسبیح وتحمید کیجئے) فسبحؔ یعنی سبحان اللہ حامداً لہ کہیں یا اللہ تعالیٰ کیلئے نماز پڑھیں۔ وَاسْتَغْفِرْہُ (اور اس سے مغفرت کی درخواست کیجئے) تواضع اور نفس کو مٹانے کیلئے یا ہمیشہ استغفار کرتے رہیں۔ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا (وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ ) انہ کان بیشک وہ ہمیشہ سے ہے توبہ قبول کرنے والا۔
روایت میں ہے حضرت عمرؓ اس کو سن کر رو دیئے اور کہا کہ کمال زوال کی دلیل ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ اس کے بعد دو سال تک زندہ رہے۔ (حج کے بعد آپ ﷺ صرف 87‘ 88 روز دنیا میں رہے)
Read the full tafseer →3 ۔” فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں اس کے بارے میں نہیں جانتا مگر جو آپ جانتے ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ اکثر اپنے رکوع و سجود میں کہا کرتے تھے ” سبحانک اللھم وبحمدک اللھم اغفرلی “ قرآن کی تاویل کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ اکثر ” سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ “ کہا کرتے تھے تو میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! ( ﷺ ) میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ ﷺ اکثر ” سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ “ کہتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے خبر دی ہے کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا۔ پھر جب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ تفسیر قتادہ اور مقاتل میں ہے کہ اس سورة کے نازل ہونے کے دو برس کے بعد آنحضرت ﷺ نے وفات پائی اس سورة کو سورة تودیع اس واسطے کہتے ہیں کہ اس سورة کے نازل ہونے سے صحابہ سمجھ گئے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے دنیا سے وداع اور رخصت ہونے کا زمانہ قریب ہے۔ صحیح 2 ؎ بخاری مسلم ابو داؤود نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورة کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفرلی اس سے معلوم ہوا کہ امت میں جو شخص بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے۔ اس کو یہ دعا کثرت سے پڑھنی چاہئے۔ مسند 1 ؎ امام احمد مستدرک حاکم وغیرہ میں جابر بن عبد اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اس سورة کریمہ میں ایک خوش خبری ہے اس خوش خبری کے حاصل ہوجانے پر رسول اللہ کے لیے ایک حکم ہے نیز اس میں اس خوش خبری پر مترتب ہونے والے احوال کی طرف اشارہ اور اس پر تنبیہ ہے خوش خبری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول کے لیے نصرت فتح مکہ اور لوگوں کے اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہونے کی ہے ان میں سے بہت لوگ آپ کے دشمن تھے اس کے بعد وہی لوگ آپ کے اعوان وانصار ہوں گے اور جس چیز کے بارے میں خوش خبری دی گئی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔ رہافتح ونصرت کے بعد حکم توا للہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اس فتح ونصرت پر اس کا شکر ادا کریں اس کی حمدوثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کریں اور اس سے استغفار…
Read the full tafseer →قول باری ہے (فسبح بحمد ربک واستغفرہ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت کی دعا مانگو) ابوالضحیٰ نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ رکوع اور سجود میں کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ ” سبحانک اللھم وبحمدک اللھم اغفرلی “ آپ یہ کہہ کر قرآن کے درج بالا حکم پر حمل کرتے تھے۔
اعمش نے مسلم سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ اپنی وفات سے پہلے کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ ” سبحانک اللھم وبحمدک استفرک واتوب الیک۔ “
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ ” اللہ کے رسول ﷺ ! یہ نئے کلمات کیسے ہیں جو آپ ﷺ نے اختیار کرلیے…
Read the full tafseer →3 ۔ فتح کے مقتضی کا ذکرو بیان : سو فتح کے مقتضی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا پس آپ تسبیح کریں اپنے رب کیی حمد کے ساتھ، کہ یہ سب کچھ اسی کی قدرت بےنہایت اور کرم و رحمت لامتناہی سے ہوا، فسبحان اللہ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم، اور رب کی حمد میں دو پہلو پائے جاتے ہیں، ایک اس کی تعظیم و تمجید کا کہ وہ بڑے ہی کرم و احسان والا ہے اس قدر بڑا اور اس کے کرم و احسان کی کوئی حدو انتہا ہی نہیں، سبحانہ وتعالی۔ اور دوسرا پہلو اس کے شکر کا پہلو کہ ہر قسم کے شکر کا مستحق وہی وحدہ لاشریک ہے کہ وہ ہر خوبی اور ستائش کا مالک و مستحق ہے، پس جو کچھ ہوا وہ اسی کے کرم و احسان سے ہوا اور جو کچھ ہوگا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تسبیح اور مغفرت کا حکم
تشریح :۔ اس سورت میں شان ربوبیت کی بڑی اچھی تصویر پیش کی گئی ہے۔ کیونکہ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب حضور ﷺ کی پوری زندگی کی عبادت ' ریاضت ' جسمانی و روحانی محبت الٰہی اور جانفشانی و محنت کا نتیجہ دنیا کے سامنے آگیا تھا۔ پہلے تو لوگ اسلام کے نام سے ڈرتے تھے اسلام کے نام لیوا کو بدترین دشمن سمجھتے تھے مگر اب یہ حال تھا کہ دور دراز سے قبیلوں کے قبیلے اسلام میں داخل ہو رہے تھے کیونکہ 9 ھ سے 10 ھ تک پورے کا پورا عرب مسلمان ہوچکا تھا کوئی مشرک باقی نہ رہا تھا۔
تب اللہ کا حکم نازل ہوا کہ اس اتنی بڑی کامیابی پر اللہ کے سامنے شکر بجا لاؤ۔ بیشک یہ کامیابی کوئی معمولی کامیابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة النصر۔
آیات 1 تا 3۔
اسرار ومعارف۔
جب اللہ کی مدد آئی جو ہمیشہ آپ کے ساتھ تھی مگر جب مخالفین کو بھی نظر آنے لگی اور مکہ کی فتح کے آثار ہوئے جو قبل ازیں لوگوں کو ناممکن نظر آتا تھا تو آپ دیکھیں گے لوگ فوج درفوج اسلام میں داخل ہونے لگے کچھ قریش کے خوف سے رکے ہوئے تھے اور کچھ قریش کا انجام دیکھنا چاہتے تھے جب مکہ مکرمہ فتح ہوا نصرت اسلام کے جھنڈے گڑھ گئے اور آپ کو اور دین کو غلبہ حاصل ہوا جہاد اور قربانیاں قبول ہو کر نتیجہ برآمد ہوا تو آپ اپنے پروردگار کی اور تعریف کیجئے اور بخشش طلب فرمالیجئے کہ بندے کو کامیابی بھی دھوکے میں ڈالے بلکہ یہ زیادہ شکر کرنے کا مقام ہے اور اللہ سے بخشش طلب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 3 یعنی اب اس کی طرف واپسی کی تیاری کیجیے۔ نبی ﷺ کے اپنے لئے بخشش مانگنے کا مطلب کتنی جگہ واضح کیا جا چکا ہے۔
Read the full tafseer →(110:3) فسبح بحمد ربک واستغفرہ : جملہ جواب شرط ہےجواب شرط کے لئے ہے۔
سبح فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تسبح (تفعیل) مصدر سے۔ تو تسبیح کر۔ تو پاکی بیان کر۔ تو عبادت کر۔
بحمد ربک محل نصب میں ہے اور حال ہے ای سبح اللّٰہ حامدالہ اللہ کی پاکی بیان کر اس کی حمد و ستائش کرتے ہوئے۔
واستغفرہ واؤ عاطفہ، استغفر فعل امر واحد مذکر حاضر استغفار (استفعال) مصدر سے بمعنی بخشش مانگنا۔ معافی مانگنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع ربک ہے۔ اور اس سے معافی مانگ۔
انہ کان توابا۔ یہ جملہ جملہ استغفرہ کی تعلیل ہے۔ کیونکہ توبہ قبول کرنا اس کی شان ہے۔
کان فعل ناقص۔ انہ اسم کان۔ توابا اس کی خبر۔ توابا۔ توبۃ (باب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن۔
جاء ۔ آگیا۔ نصر اللہ۔ اللہ کی مدد۔ یدخلون۔ وہ داخل ہوتے ہیں۔ افواج۔ جماعتیں۔ سبح۔ تسبیح کیجئے۔ استغفر۔ بخش مانگئے۔ تو اب۔ بہت توبہ قبول کرنے والا۔
تشریح : انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں تاکہ وہ جس غلط راستے پر چل رہے ہیں اس سے ہٹ جائیں۔ ان کی زندگیاں سنور جائیں اور ان کی دنیا اور آخرت بہتر سے بہتر ہوجائے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک ہزاروں رسول اور نبی آتے ہیں۔ اللہ نے آخر میں اپنے محبوب نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حجاز کے اس علاتے میں مبعوث فرمایا جہاں کفرو شرک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سب سے آخری سورت کا نازل ہونا اور صدیق اکبر کا عشق رسول ﷺ ۔
(ف 1) اس سورت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ۔ کی بہت کثرت فرمائی، حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ یہ سورة حجۃ الوداع میں بمقام منی نازل ہوئی اس کے بعد الیوم اکملت لکم دینکم نازل ہوئی، اس کے نازل ہونے کے بعد اسی روز حضور نے دنیا میں تشریف رکھی پھر آیت الکلالہ نازل ہوئی اس کے بعد حضور پچاس روز تشریف فرما رہے، پھر آیت واتقویومان ترجعون فیہ الی اللہ۔ نازل ہئوی اس کے بعد حضور اکیس روز یا سات روز تشریف فرما رہے، اس سورت مبارکہ کے نازل ہونے کے بعد صحابہ نے سمجھ لیا کہ دین کام اور تمام ہوگیا، تو اب حضور…
Read the full tafseer →[3] یعنی سمجھ لو کہ مقصود بعثت کا اور دنیا میں رہنے کا ( جو تکمیل دین تھا) پورا ہوچکا۔ اب سفر آخرت قریب ہے لہذا کثرت سے اپنے رب کی حمدوثنا اور تسبیح و تقدیس میں لگ جاؤ اور فتوحات اور کامیابیوں پر اس کا شکر ادا کرو۔
[4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة محمد حاشیہ 11 صفحہ 9221۔
Read the full tafseer →ف 1: فرمایا ۔ چونکہ آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کے دین کی نصرت واعانت مقدرات میں سے ہے ۔ اس لئے آپ ﷺ حمد و ستائش میں مصروف رہیں اور اللہ کے باب میں ہر نوع کے سوہ ظن سے بچیں ۔ یقینا اللہ تو اب اور رحیم ہے ۔
Read the full tafseer →(3) تو پھر آپ اپنے پروردگار حمدوثنا کے ساتھ تسبیح اور پاکی بیان کیجئے اور اس سے گناہوں کی مغفرت طلب کیجئے۔ بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا اور بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے - یعنی جو وعدہ آپ سے کیا گیا تھا وہ پورا کردیا گیا اسلام چارہ وانگ عالم میں پھیل گیا اب آپ بکثرت تسبیح وتحمید کیا کیجئے اور اپنی امت کے لئے بخشش اور گناہوں کی معافی طلب کیا کیجئے۔ بیشک وہ بڑی مہربانی کے ساتھ توجہ کرنے والا ہے اس کا توبہ کو قبول کرنے کا مطلب یہی ہے کہ وہ بندے پر رحمت اور مغفرت کے ساتھ توجہ فرمائے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس سورت کی نازل ہونے کے بعد میں ہر نماز کے بعد حضور ﷺ سے یہ الفاظ سنا کرتی تھی۔ سبحانک اللھم…
Read the full tafseer →ف 8۔ احادیث کثیرہ میں اس سورت کی یہی تفسیر آئی ہے کہ اس میں قرب وفات کی خبر ہے اور فتح سے فتح مکہ مراد ہے، اور یدخلون فی دین اللہ افواجا کو آثار۔ فتح مکہ سے اس لئے کہا گیا کہ عام لوگ فتح مکہ کے منتظر تھے اب تک ایک ایک دو دو آمی مسلمان ہوتا تھا فتح مکہ کے بعد قبائل کے قبائل اسلام میں داخل ہونے لگے۔
Read the full tafseer →اپنے رب کی ستائش میں مشغول ہوجائو اور اس سے بخشش طلب کرو
3 فرمایا اے میرے رسول ﷺ اب وہ دن آیا ہے کہ تمام ملک عرب نور اسلام سے چمک اٹھا ہے اور ایک وحشی اور جاہل مطلق قوم جو طرح طرح کے شرک اور اوہام کی غلام تھی اور ہر طرح کی جہالت اور گندگی میں مبتلا تھی وہ ایک مہذب اور بااخلاق بلکہ با خدا قوم بن گئی ہے یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ؟ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ایسا ہوگیا اور جو آپ ﷺ کی زندگی کا مقصد تھا وہ بحمد اللہ پورا ہوگیا کہ کامیابی کا سہرا آپ ﷺ کے سر بندھ گیا اور لوگ فوج درفوج اس دین میں داخل ہونا شروع ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کو زیادہ کردو اور اللہ تعالیٰ سے حفاظت طلب کرو۔ اس…
Read the full tafseer →When the approach of death is sensed, one needs to exert oneself immensely in Tasbih and Istighfar
Verse [ 110:3] فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ (then pronounce the purity and praise of your Lord, and seek forgiveness from Him...) Sayyidah ` A'ishah Siddiqah ؓ says that after the revelation of this Surah, whenever the Messenger of Allah ﷺ performed a prayer, he would recite the following supplication: سُبحَانَکَ رَبَّنَا و بِحَمدِکَ اللَّھُمَّ اَغفِرلِی (I pronounce Your purity, 0 Allah, our Lord, and praise be to You, 0 Allah, forgive me.) [ Bukhari ].
Sayyidah 'Umm Salamah ؓ…
Read the full tafseer →3 Hamd implies praising and hallowing Allah Almighty as well as thanking and paying obeisance to Him; tasbih means to regard Allah as pure and free from every blemish and weakness. The Holy Prophet was enjoined to do hamd and tasbih of Allah when he witnessed this manifestation of His power. Here, hamd means that in respect of his great success he should never entertain even a tinge of the idea that it was the result of any excellence of his own, but he should attribute it to Allah's favour and mercy, thank Him alone for it, and acknowledge with the heart and tongue that praise and gratitude…
Read the full tafseer →