Explained with ayahs 1–3
گناہوں کی بخشش مانگو اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرو :
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ما فرماتے ہیں کہ بڑی عمر والے مجاہدین کے ساتھ ساتھ حضرت عمر فاروق ؓ مجھے بھی شامل کرلیا کرتے تھے تو شاید کسی کے دل میں اس کی کچھ ناراضگی پیدا ہوگئی اس نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ نہ آیا کریں ان جتنے تو ہمارے بچے ہیں خلیقۃ المسلمین ؓ نے فرمایا کہ تم انہیں خوب جانتے ہو ایک دن سب کو بلایا اور مجھے بھی یاد فرمایا میں سمجھ گیا کہ آج انہیں کچھ بتانا چاہتے ہیں جب ہم سب جا پہنچے تو امیرا لمومنین ؓ نے ہم سے پوچھا کہ سورة اذا جآء کی نسبت تمہیں کیا علم ہے بعض نے کہا اس میں ہمیں اللہ کی حمدو ثناء بیان کرنے اور گناہوں کی بخشش چاہنے…
Read the full tafseer →سورة النصر 2
یعنی وہ زمانہ رخصت ہوجائے جب ایک ایک دو دو کر کے لوگ اسلام میں داخل ہوتے تھے اور وہ وقت آجائے جب پورے پورے قبیلے، اور بڑے بڑے علاقوں کے باشندے کسی جنگ اور کسی مزاحمت کے بغیر از خود مسلمان ہونے لگیں۔ یہ کیفیت 9 ھ کے آغاز سے رونما ہونی شروع ہوئی جس کی وجہ سے اس سال کو سال وفود کہا جاتا ہے۔ عرب کے گوشے گوشے سے وفد پر وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے اور اسلام قبول کر کے آپ کے دست مبارک پر بیعت کرنے لگے۔ یہاں تک کہ 10 ھ میں جب حضور حجۃ الوداع کے لیے تشریف لے گئے اس وقت پورا عرب اسلام کے زیر نگیں ہوچکا تھا اور ملک میں کوئی مشرک باقی نہ رہا تھا۔
Read the full tafseer →ورایت الناس فتح مکہ سے پہلے بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جن کو رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور اسلام کی حقانیت پر تقریباً یقین ہوچکا تھا مگر اسلام میں داخل ہونے سے ابھی تک قریش کی مخالفت کے خوف سے یا کسی تذبذب کی وجہ سے رکے ہوئے تھے۔ فتح مکہ نے وہ رکاوٹ دور کردی تو فوج فوج ہو کر یہ لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ یمن سے سات سو نفر مسلمان ہو کر پہنچے جو راستہ میں اذانیں دیتے اور قرآن پڑھتے ہوئے آئے۔ اسی طرح عام عرب فوج فوج ہو کر داخل اسلام ہوئے۔
Read the full tafseer →اس عظیم بشارت کا سب سے نمایاں پہلو: یہ اس عظیم بشارت کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ آنحضرت ﷺ کا اپنی قوم سے جو جھگڑا تھا وہ دنیا کی کسی غرض کے لیے نہیں تھا، صرف اللہ کے دین کے لیے تھا۔ آپ چاہتے تھے کہ قریش کے لیڈر اس امانت کا حق ادا کریں جو بیت اللہ کی صورت میں ان کی تحویل میں ہے۔ اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو پھر ان کو اس پر قابض رہنے اور اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین سے بجبر و ظلم روکنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس مذہبی جبرکو (جس کو قرآن نے فتنہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے) ختم کرنے کے لیے آپ نے قریش کو مکہ سے بے دخل کیا اور چونکہ دین کی راہ میں جو رکاوٹ تھی وہ صرف لیڈروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2۔ 1 اللہ کی مدد کا مطلب، اسلام اور مسلمانوں کا کفر اور کافروں پر غلبہ ہے، اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے، جو نبی ﷺ کا مولد و مسکن تھا، لیکن کافروں نے آپ ﷺ کو صحابہ کرام کو وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ چناچہ جب 8 ہجری میں یہ مکہ فتح ہوگیا تو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے، جب کہ اس سے قبل ایک ایک دو دو فرد مسلمان ہوتے تھے فتح مکہ سو لوگوں پر یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ آپ ﷺ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اور دین اسلام دین حق ہے، جس کے بغیر اب نجات اخروی ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب ایسا ہو تو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: اس سے مراد مکہ مکرمہ کی فتح ہے، یعنی جب مکہ مکرمہ آپ کے ہاتھوں فتح ہوجائے۔ زیادہ تر مفسرین کے مطابق یہ سورت فتح مکہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی، اور اس میں ایک طرف تو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ مکہ مکرمہ فتح ہوجائے گا اور اس کے بعد عرب کے لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہوں گے، چنانچہ واقعہ بھی یہی ہوا، اور دوسری طرف چونکہ اسلام کے پھیل جانے سے حضور اقدس ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد حاصل ہوجائے گا، اس لیے آپ کو دنیا سے رخصت ہونے کی تیاری کے لیے حمد، تسبیح اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ جب یہ سورت نازل ہوئی تو اس میں دی ہوئی خوشخبری کی وجہ سے بہت سے صحابہ خوش ہوئے، لیکن حضور اقدس ﷺ کے چچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
“۔ اس سورت کی پہلی آیت ہی میں ایک متعین اشارہ ہے ، اور یہ اشارہ کائناتی واقعات کے بارے میں ایک خاص تصویر پیدا کرتا ہے اور اس تصور میں یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان واقعات میں اہل ایمان کا کردار کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کا کردار کیا ہے۔ اور انسانی زندگی اور ان کائناتی واقعات وحادثات میں اہل ایمان اور نبی کے دائرہ کار کی حد کیا ہے۔ یہ اشارہ اس فقرے میں ہے۔
اذا جآء ........................ والفتح (1:110) ” جب اللہ کی مدد پہنچ جائے “ میں ہے۔ تمام دارومدار اللہ کی نصرت پر ہے اور اللہ کا وقت مقرر ہے ، جس شکل میں نصرت آئے گی وہ بھی متعین ہے ، جس مقصد کے لئے یہ نصرت ہوگی وہ بھی مقرر ہے۔ نبی اور اس کے ساتھیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
6 یعنی سمجھ لیجئے کہ مقصود بعثت کا اور دنیا میں رہنے کا (جو تکمیل دین و تمہید خلافت کبریٰ ہے) پورا ہوا، اب سفر آخرت قریب ہے۔ لہذا ادھر سے فارغ ہو کر ہمہ تن ادھر ہی لگ جائیے اور پہلے سے بھی زیادہ کثرت سے اللہ کی تسبیح وتحمید اور ان فتوحات اور کامیابیوں پر اس کا شکر ادا کیجئے۔
7 یعنی اپنے لئے اور امت کے لئے استغفار کیجئے۔ (تنبیہ) نبی کریم ﷺ کا اپنے لئے استغفار کرنا پہلے کئی جگہ بیان ہوچکا ہے۔ وہیں دیکھ لیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی قرآن میں ہر جگہ وعدہ ہے فیصلہ کا، اور کافر شتائی کرتے تھے۔ حضور ﷺ کی آخری عمر میں مکہ فتح ہوچکا، قبائلِ عرب دَل کے دَل مسلمان ہونے لگے۔ وعدہ سچا ہوا۔ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 3{ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ } ”تو پھر آپ ﷺ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے ‘ اور اس سے مغفرت طلب کیجیے۔“
{ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } ”یقیناوہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔“
یعنی ابھی تو آپ ﷺ کو دعوت و تبلیغ اور فریضہ رسالت کے سلسلے میں بہت سی مشقتیں اٹھانی ہیں اور جنگ و قتال کے مراحل سے گزرنا ہے ‘ لیکن جب آپ ﷺ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں یعنی اللہ کا دین غالب ہوجائے تو آپ ﷺ ہمہ وقت ‘ ہمہ تن اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہوجایئے گا۔ نوٹ کیجیے ! سورة الانشراح کی آخری آیات میں بھی اسی اسلوب و انداز میں بالکل ایسا ہی حکم دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →2 فتح مکہ اور مشرک قبائل کا جوق درجوق اسلام میں داخل ہونا :۔ عرب قبائل تو پہلے ہی اس بات کے انتظار میں تھے کہ دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو یہ قبیلے دھڑا دھڑ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔ مکہ رمضان 8 ھ میں فتح ہوا تھا۔ 9 ھ میں اس قدر وفود اسلام لانے کے لیے مدینہ حاضر ہوئے کہ اس سال کا نام ہی عام الوفود پڑگیا۔ ہر قبیلے کے چند معتبر لوگ مدینہ جاتے، اسلام کی تعلیم حاصل کرتے پھر واپس آکر اپنے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔ 9 ھ میں حج کے موقع پر اعلان برات کیا گیا جس کا تفصیلی ذکر سورة توبہ کی ابتدا میں گزر چکا ہے۔ اس اعلان کی رو سے اب مشرکین عرب کے لیے دو ہی راستے رہ گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ چناچہ عمان، حضر موت، یمن، سب کہیں سے، عرب کے دور دراز مقامات سے وفد پر وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اظہار اطاعت کے لیے چلے آرہے تھے۔ اور قبیلے پر قبیلے اسلام کی طرف سبقت کرنے لگے تھے۔ (آیت) ” جآء نصر اللہ “۔ یعنی اللہ کی نصرت مشاہدہ میں آنے لگے۔ (آیت) ” والفتح۔ الفتح “۔ سے مراد فتح مکہ لی گئی ہے۔ جو رمضان 8 ھ میں حاصل ہوئی تھی، وعن عائشۃ ان المراد بہ فتح مکۃ وروی ذلک عن مجاھد وغیرہ وصححہ الجمھور (روح) شہر مکہ تسخیر ہوجانے کے بعد کہنا چاہیے کہ سارے ہی حجاز پر اسلام کا تسلط ہوگیا تھا۔ باعتبار ان فتح مکۃ کان ام الفتوح (روح) (آیت) ” نصر “۔ فتح کے درمیان فرق یہ ہے کہ (آیت) ” نصر “ تو دشمن پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب اپنے نبی ﷺ کے لئے اس کے دشمنوں پر اللہ کی مدد آجائے اور فتح مکہ نصیب ہوجائے اور تو لوگوں کو دیکھ لے کہ اللہ کے دین اسلام میں جوق در جوق داخل ہو رہے ہیں بعد اس کے کہ دین میں ایک ایک کر کے اخل ہو رہے تیھ اور یہ صورت حال فتح مکہ کے بعد ہوئی کہ عرب بخوشی اطراف و جوانب سے (دنیا میں داخل ہونے کے لئے) آئے، تو اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرنے لگو اور اس سے مغفرت طلب کرو، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے، چناچہ اس سورت کے نزول کے بعد آپ ﷺ سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ بکثرت پڑھا کرتے تھے اور اس سے سمجھ گئے تھے کہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا . اگر رَاَیْتَ میں رویت سے مراد رویت چشم ہو تو یَدْخُلُوْنَ
النَّاسَ سے حال ہوگا اور اگر رویت بمعنی علم ہو تو یدخلون رایت کا دوسرا مفعول ہوگا۔ افواجًا۔ یدخلون کی ضمیر سے حال ہے ‘ یعنی تم نے دیکھ لیا کہ لوگ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔
مقاتل اور عکرمہ ؓ نے کہا : النّاس سے مراد اہل ایمن ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اہل یمن تمہارے پاس آئے ہیں ‘ یہ بہت رقیق القلب اور ایمان کے لیے بڑے نرم دل (یعنی ایمان کا جلد اثر قبول کرنے والے) ہیں۔ حکمت تو یمنی ہے ‘ فخر اور غرور اونٹ والوں میں ہے اور سکون و بردباری بکریوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) جب دشمنوں کے خلاف اللہ کی مدد آپہنچے اور مکہ فتح ہوجائے اور یمن والے اسلام میں جماعت در جماعت آنے لگیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1) اذا جآء نصر اللہ والفتح …: ابن کثیر نے فرمایا کہ ”الفتح“ سے مراد یہاں فتح مکہ ہے، اس پر اتفاق ہے۔ عرب کے قبائل اسلام قبول کرنے کے لئے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ اپنی قوم پر غالب آگیا تو بلاشبہ وہ نبی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ہاتھوں سے مکہ فتح فرما دیا تو وہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے۔ اس کے بعد دو سال نہیں گزرے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہوگیا اور تمام قبائل میں کوئی ایسا شخص نہ تھا جو اسلام کا اقرار نہ کرتا ہو۔ (الحمد للہ) بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں عمرہ بن سلمہ ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا، جب مکہ فتح ہوا تو ہر قوم نے چاہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس…
Read the full tafseer →ورایئت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا۔
اور آپ دیکھ لیں لوگوں کو کہ وہ داخل ہورہے ہیں اللہ کے دین میں فوج در فوج۔
میں اس کے ساتھ صبح و شام ٹال مٹول سے کام لیتا ہوں یہاں تک کہ مجھ سے اکتا جاتا ہے وہ مجبور ہو کر نصف قرض لینے پر راضی ہوجاتا ہے۔
وہ کہتا ہے : جب وہ دن کے پہلے پہر میرے پاس آتا ہے تو اس کے ساتھ پچھلے پہر کا وعدہ کرتا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد عشی ہے وہ سورج کے زوال سے لیکر اس کے غروب ہونے کا وقت ہے ؛ یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا نقطہ نظر ہے ؛ اس معنی میں شاعر کا قول ہے :
تروح بنایا عمرو قد قصر العصر۔۔۔ وفی الروحۃ الاولی الغنیمۃ والاجر۔
اے عمرو ہمیں لے چلو وقت تھوڑا رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا جاء نصر اللہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
3۔ ابن جریرے عطا بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ اذا جاء نصر اللہ والفتح ساری کی ساری مدینہ میں نازل ہوئی۔ فتح مکہ اور لوگوں کے دین میں داخل ہونے کے بعد اور اس میں آپ کو اپنے وصال کی خبر دی گئی۔
4۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والبزار وابو یعلی وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ سورة نبی اکرم ﷺ پر ایام تشریق کے درمیان منیٰ میں نازل ہوئی اور اس وقت آپ حجۃ الوداع کی ادائگی میں تھے یعنی…
Read the full tafseer →[وَرَاَيْتَ النَاسَ : اور آپ ﷺ دیکھیں لوگوں کو ][ يَدْخُلُوْنَ : داخل ہوتے ہوئے ][ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا : اللہ کے دین میں گروہ در گروہ ہوتے ہوئے ]ۙ
نوٹ 1: آیت۔ 2 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ زمانہ رخصت ہوجائے جب ایک ایک دو دو کر کے لوگ اسلام میں داخل ہوتے تھے اور وہ وقت آجائے جب پورے پورے قبیلے ازخود مسلمان ہونے لگیں۔ آیت۔ 3 ۔ کا مطلب ہے کہ اپنے رب کی قدرت کا یہ کرشمہ جب تم دیکھ لو تو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ اس میں حمد کا مطلب یہ ہے کہ اس عظیم کامیابی کے متعلق تمہارے دل میں کبھی یہ خیال نہ آئے کہ یہ تمہارے اپنے کمال کا نتیجہ ہے۔ بلکہ اس کو سراسر اللہ کا فضل و کرم سمجھو۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اوپر سورة ٴ نصر کا ترجمہ کیا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ شانہ ٗ نے رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ جب اللہ کی مدد آجائے اور آپ لوگوں کو دیکھیں کہ فوج در فوج، جوق در جوق اسلام میں داخل ہو رہے ہیں تو آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کرنے میں مشغول ہوجائیں اور تسبیح کے ساتھ اللہ کی حمد بھی بیان کریں مثلاً یوں کہیں سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ اور اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کریں اور آخر میں یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔
رسول اللہ ﷺ تو ہمیشہ ہی تسبیح وتحمید و استغفار میں لگے رہتے تھے اس سورت میں جو ان چیزوں میں مشغول رہنے کے لیے خطاب فرمایا ہے اس خطاب کی وجہ سے آپ نے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ذکر بشارت فتح ونصرت و غلبہ دین و ظہور اسلام مع حکم تسبیح و استغفار :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا جآء نصر اللہ والفتح ...... الی ........ انہ کان توابا “۔
(ربط) اس سے قبل سورة کافرون میں اس امر کا حکم تھا کہ مشرکین کی سازشوں سے مسلمانوں کے قدم جادہ استقامت سے کسی درجہ میں متزلزل نہ ہونے چاہئیں ان کو وضح اعلان کی صورت میں کہہ دیا جائے کہ ان کی خواہشات اور کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں گی اور اس امر کی کوئی امکان نہیں کہ حق اور باطل میں کوئی باہمی سمجھوتہ ہو اگر کفار مکہ شرک اور کفر سے باز آنے کو تیار نہیں تو پھر حق پرست اور مسلمان کیونکر ایمان و توحید کے تقاضوس سے دست بردار ہوسکتا ہے اس مرحلہ پر تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” اذا جاء “ اذا کی جزا محذوف ہے۔ ای فستری ما تری۔ جب اللہ کی مدد اور فتح کی بشارت آگئی تو تم اس کی برکات دیکھ لوگے۔ ” ورایت الناس “ تم دیکھو گے کہ لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ فتح و نصرت کی برکات میں سے ایک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النصر ہے۔ اس کا دوسرا نام سورة التودیع بھی ہے 1 ؎ جس کا معنی رخصت کرنے والی ہے ۔ یعنی اس سورة میں حضور ﷺ کے دنیا سے رخصت ہونیکا اشارہ پایا جاتا ہے۔ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ بلکہ مکمل سورة نازل ہونے والی یہ آخری سورة ہے 2 ؎ اس کے بعد کوئی پوری کی پوری سورة نازل نہیں ہوئی۔ البتہ چند آیات ضرور اس ی سورة کے بعد بھی نازل ہوئی ہیں۔ اس سورة کی تین آیات ، انیس الفاظ اور اناسی حروف ہیں۔
الوداعی سورة
احادیث سے معلوم 3 ؎, ہوتا ہے کہ جس مجلس میں یہ سورة حضور نبی کریم ﷺ نے پڑھ کر سنائی۔ اس مجلس میں حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت سعد اور آپ کے چچا…
Read the full tafseer →وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللہِ اَفْوَاجًا 2 ۙ
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ،
( ر ء ی ) رای
الرؤیتہ
کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب ¦ اذا منصوبۃ بجاء وقیل یسبح نصر اللہ مصدرمضاف الی الفاعل والمفعول محذوف ای نصرہ ایاک اوالمؤمنین وھذا فاعل جاء ومعناہ حصل وانما عبربہ بالمجیٔ تجوزاً للاشعار بان نصرہ یقینی وقد قرب حصولہ والفتح عطف علی نصر اللہ ورایت عطف علی جاء ورایت ان کان بمعنی العلم فمفعولہ الاول الناس والثانی یدخلون وان کان بمعنی ابصرت فیدخلون حال۔ وعلی التقدیرین افواجا حال فاعل یدخلون ای فوجا بعد فوج فسبح الخ جواب الشرط بحمد ربک فی محل النصب علی الحال ای سبح اللہ حامدالہ او متلبساء بحمدہ ای قل سبحان اللہ بحمدہ واستغفرہ عطف علیٰ سبح انہ کان الخ تعلیل لقولہ استغفرہ ای لان من شانہ قبول التوبۃ۔
تفسیر ¦ یہ سورة جمہور کے…
Read the full tafseer →وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا۔ (النصر : 2)
(اور آپ دیکھ لیں لوگوں کو کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہورہے ہیں۔ )
فتح کا نمایاں پہلو
اور آپ ایک محدود عرصے کے بعد فتحِ مکہ کے اثرات کے طور پر لوگوں کو دیکھیں کہ اب وہ چھپتے اور ڈرتے ہوئے ایک ایک دو دو کرکے اسلام میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کررہے بلکہ وہ پورے کے پورے قبیلے اور بڑے بڑے علاقوں کے باشندے فوج درج فوج مدینے کا رخ کرنے لگیں اور اسلام کی آغوش میں پناہ لینے کی کوشش کرنے لگیں۔ چناچہ یہ زمانہ فتحِ مکہ کے تقریباً ایک سال کے بعد 9 ہجری میں شروع ہوا کہ دوردراز علاقوں سے وفود کا سیلاب پھوٹ نکلا، اس لیے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
ربط سورت : نبی ﷺ کو سورة الکافرون میں حکم ہوا کہ کفار کے سامنے کھلے الفاظ میں اعلان فرما دیں کہ تمہارے لیے تمہارا دین میرے لیے میرا دین ہے۔ لہٰذا جو چاہو کرلو میں کبھی تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کروں گا، سورة النصر میں آپ ﷺ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ یہ دین ہر صورت غالب اور کامیاب ہو کر رہے گا۔ یاد رہے کہ یہ سورت نبی ﷺ کی وفات سے تقریباً تین ماہ پہلے نازل ہوئی جس میں آپ کو کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے۔
نبی معظم ﷺ کی عظیم الشان اور بےمثال جدوجہد کو تاریخی حساب سے دیکھا جائے تو آپ کی جدوجہد کو مجموعی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، ایک نبوت کے آغاز سے لے کر بدر کے معرکہ تک کا…
Read the full tafseer →2 : وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا ( اور آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین میں جوق درجوق داخل ہوتا دیکھ لیں گے)
نحو : رایت کو ابصرت یاعرفت کے معنی میں مانیں تو یدخلون یہ الناس سے حال ہے۔ نمبر 2۔ علمت کے معنی میں مانیں تو پھر یہ اس کا دوسرا مفعول ہے۔ اَفْوَاجًا یہ یدخلون کے فاعل سے حال ہے۔ اور اذا کا جواب فسبح ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : اذا جاء نصر اللہ ایاک علی من ناواک وفتح البلاد ورأیت اہل الیمن یدخلون فی ملۃ الاسلام جماعات کثیرۃ بعد ماکانوا یدخلون فیہ واحدًا واحدًا واثنین اثنین۔ جب اللہ تعالیٰ کی مدد آئے تو بچا اپنے کو ان لوگوں سے جو دشمنی کرنے والے ہیں اور…
Read the full tafseer →1 ۔” عبداللہ بن ابی سرح، یہ شخص مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوگیا تھا۔ فتح مکہ کے دن حضرت عثمان ؓ نے اس کی سفارش کی تو جان بخشی ہوئی۔ اس کے بعدیہ مسلمان ہوگیا۔
2 ۔ عکرمہ بن ابی جہل یہ (فتح مکہ کے دن) مسلمان ہوگئے اور ان کا اسلام قبول کیا گیا۔ 3 ۔ حویرث بن نقید، یہ ہجرت سے پہلے مسلمانوں کو بہت دکھ پہنچایا کرتا تھا۔ حضرت علی ؓ نے اس کو قتل کردیا۔ 4 ۔ مقیس بن صبابہ، اول مسلمان ہوگیا تھا، ایک انصاری نے ذی قروہ کے غزوہ میں اس کے بھائی ہشام کو دشمن کا آدمی سمجھ کر غلطی سے مار ڈالا تھا اور مقیس نے انصاری سے اس کی دیت لے لی۔ پھر عہد شکنی کرکے انصاری کو قتل کردیا اور مرتد ہوگیا۔ اس کو اسی کی قوم کے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ تفسیر قتادہ اور مقاتل میں ہے کہ اس سورة کے نازل ہونے کے دو برس کے بعد آنحضرت ﷺ نے وفات پائی اس سورة کو سورة تودیع اس واسطے کہتے ہیں کہ اس سورة کے نازل ہونے سے صحابہ سمجھ گئے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے دنیا سے وداع اور رخصت ہونے کا زمانہ قریب ہے۔ صحیح 2 ؎ بخاری مسلم ابو داؤود نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورة کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفرلی اس سے معلوم ہوا کہ امت میں جو شخص بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے۔ اس کو یہ دعا کثرت سے پڑھنی چاہئے۔ مسند 1 ؎ امام احمد مستدرک حاکم وغیرہ میں جابر بن عبد اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اس سورة کریمہ میں ایک خوش خبری ہے اس خوش خبری کے حاصل ہوجانے پر رسول اللہ کے لیے ایک حکم ہے نیز اس میں اس خوش خبری پر مترتب ہونے والے احوال کی طرف اشارہ اور اس پر تنبیہ ہے خوش خبری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول کے لیے نصرت فتح مکہ اور لوگوں کے اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہونے کی ہے ان میں سے بہت لوگ آپ کے دشمن تھے اس کے بعد وہی لوگ آپ کے اعوان وانصار ہوں گے اور جس چیز کے بارے میں خوش خبری دی گئی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔ رہافتح ونصرت کے بعد حکم توا للہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اس فتح ونصرت پر اس کا شکر ادا کریں اس کی حمدوثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کریں اور اس سے استغفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فتح کی خوشی میں یاد الٰہی
قول باری ہے (اذا جآء نصر اللہ والفتح ۔ جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہوجائے) روایت ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ اس سے یہ دلالت حاصل ہوتی ہے کہ مکہ بزور شمشیر فتح ہوا تھا۔ کیونکہ لفظ کا اطلاق اس کا مقتضی ہے۔ فتح کے لفظ کو صلحاً فتح کی طرف صرف اس صورت میں موڑا جائے گا جبکہ اس کے ساتھ کسی قید کا ذکر کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →2 ۔ عظیم الشان فتح کی ایک واضح علامت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اس عظیم الشان فتح کی ایک واضح علامت کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگیں، پس یہ علامت ہوگی اس بات کی کہ وہ دور اب چلا گیا کہ جب اسلام میں داخل ہونا جان جوکھوں کا کام تھا، اور لوگ ڈرتے ڈرتے ایک ایک اور دو دو کر کے چھپتے چھپاتے اس دین حق میں داخل ہوا کرتے تھے، اور دین حق میں فوج در فوج داخل ہونے کے اس پر بہار اور عظیم الشان دور مسعور و مبارک کا آغاز 9 ھ کے وائل میں ہوا جبکہ لوگ چاروں طرف سے قافلہ در قافلہ حضور ﷺ خدمت میں حاضر ہو کر دین حق میں داخل ہورہے تھے، اسی لیے اس سال کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تسبیح اور مغفرت کا حکم
تشریح :۔ اس سورت میں شان ربوبیت کی بڑی اچھی تصویر پیش کی گئی ہے۔ کیونکہ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب حضور ﷺ کی پوری زندگی کی عبادت ' ریاضت ' جسمانی و روحانی محبت الٰہی اور جانفشانی و محنت کا نتیجہ دنیا کے سامنے آگیا تھا۔ پہلے تو لوگ اسلام کے نام سے ڈرتے تھے اسلام کے نام لیوا کو بدترین دشمن سمجھتے تھے مگر اب یہ حال تھا کہ دور دراز سے قبیلوں کے قبیلے اسلام میں داخل ہو رہے تھے کیونکہ 9 ھ سے 10 ھ تک پورے کا پورا عرب مسلمان ہوچکا تھا کوئی مشرک باقی نہ رہا تھا۔
تب اللہ کا حکم نازل ہوا کہ اس اتنی بڑی کامیابی پر اللہ کے سامنے شکر بجا لاؤ۔ بیشک یہ کامیابی کوئی معمولی کامیابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة النصر۔
آیات 1 تا 3۔
اسرار ومعارف۔
جب اللہ کی مدد آئی جو ہمیشہ آپ کے ساتھ تھی مگر جب مخالفین کو بھی نظر آنے لگی اور مکہ کی فتح کے آثار ہوئے جو قبل ازیں لوگوں کو ناممکن نظر آتا تھا تو آپ دیکھیں گے لوگ فوج درفوج اسلام میں داخل ہونے لگے کچھ قریش کے خوف سے رکے ہوئے تھے اور کچھ قریش کا انجام دیکھنا چاہتے تھے جب مکہ مکرمہ فتح ہوا نصرت اسلام کے جھنڈے گڑھ گئے اور آپ کو اور دین کو غلبہ حاصل ہوا جہاد اور قربانیاں قبول ہو کر نتیجہ برآمد ہوا تو آپ اپنے پروردگار کی اور تعریف کیجئے اور بخشش طلب فرمالیجئے کہ بندے کو کامیابی بھی دھوکے میں ڈالے بلکہ یہ زیادہ شکر کرنے کا مقام ہے اور اللہ سے بخشش طلب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 3 یعنی اب اس کی طرف واپسی کی تیاری کیجیے۔ نبی ﷺ کے اپنے لئے بخشش مانگنے کا مطلب کتنی جگہ واضح کیا جا چکا ہے۔
Read the full tafseer →(110:2) ورایت الناس یدخلون فی دین اللّٰہ افواجا۔ واؤ عاطفہ ۔ رایت ماضی واحد مذکر حاضر۔ رؤیۃ (باب فتح) مصدر سے رایت کا عطف جاء پر ہے۔ الناس مفعول فعل رایت کا۔
اگر رؤمۃ بمعنی علم لیا جائے تو الناس اس کا مفعول اول اور یدخلون مفعول ثانی ہوگا۔
اور اگر بمعنی دیکھنا لیا جائے تو یدخلون فی دین اللّٰہ حال ہوگا الناس سے ہر دو صورت میں افواجا فاعل یدخلون سے حال ہے۔ اور آپ نے لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن۔
جاء ۔ آگیا۔ نصر اللہ۔ اللہ کی مدد۔ یدخلون۔ وہ داخل ہوتے ہیں۔ افواج۔ جماعتیں۔ سبح۔ تسبیح کیجئے۔ استغفر۔ بخش مانگئے۔ تو اب۔ بہت توبہ قبول کرنے والا۔
تشریح : انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں تاکہ وہ جس غلط راستے پر چل رہے ہیں اس سے ہٹ جائیں۔ ان کی زندگیاں سنور جائیں اور ان کی دنیا اور آخرت بہتر سے بہتر ہوجائے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک ہزاروں رسول اور نبی آتے ہیں۔ اللہ نے آخر میں اپنے محبوب نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حجاز کے اس علاتے میں مبعوث فرمایا جہاں کفرو شرک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سب سے آخری سورت کا نازل ہونا اور صدیق اکبر کا عشق رسول ﷺ ۔
(ف 1) اس سورت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ۔ کی بہت کثرت فرمائی، حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ یہ سورة حجۃ الوداع میں بمقام منی نازل ہوئی اس کے بعد الیوم اکملت لکم دینکم نازل ہوئی، اس کے نازل ہونے کے بعد اسی روز حضور نے دنیا میں تشریف رکھی پھر آیت الکلالہ نازل ہوئی اس کے بعد حضور پچاس روز تشریف فرما رہے، پھر آیت واتقویومان ترجعون فیہ الی اللہ۔ نازل ہئوی اس کے بعد حضور اکیس روز یا سات روز تشریف فرما رہے، اس سورت مبارکہ کے نازل ہونے کے بعد صحابہ نے سمجھ لیا کہ دین کام اور تمام ہوگیا، تو اب حضور…
Read the full tafseer →[2] بڑی فیصلہ کن چیز یہ تھی کہ مکہ معظمہ فتح ہوجائے۔ اسی پر اکثر قبائل عرب کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے ایک ایک دو دو آدمی اسلام میں داخل ہوتے تھے۔ فتح مکہ (رمضان سنہ 8 ھ) کے بعد جوق درجوق داخل ہونے لگے یہاں تک کہ سارا عرب اسلام کا کلمہ پڑھنے لگا اور جو مقصد آپ ﷺ کی بعثت کا تھا پورا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة النصر
یہ سورة فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور اس میں اس فتح کا ذکر ہے کہ وہ وقت بالکل قریب ہے کہ آپ دس ہزار قدمیوں کے ساتھ مکہ میں داخل ہوں گے اور آپ دیکھیں گے کہ کیوں کہ لوگ اس فتح ونصرت سے متاثر ہوکر فوج در فوج اور کارواں در کارواں اللہ کے دین میں داخل ہوتے ہیں ۔ بات یہ تھی کہ وہ سعادت مندروحیں جنہوں نے اسلام کو دلائل کی روشنی میں دیکھا اور اس کی حقانیت میں ان کو بالکل شک وشبہ نہیں رہا ۔ وہ مکہ میں اس وقت حلقہ بگوش اسلام ہوچکی تھیں جب کہ اسلام ظاہری شان و شکوہ کا بالکل حامل نہیں تھا ۔ مگر ایک تعداد کثیر ایسے لوگوں کی تھی ، جن کی انجام کار پر نظر تھی ۔ ان کی رائے تھی کہ…
Read the full tafseer →(2) اور آپ لوگوں کو جوق درجوق اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ لیں۔ جیسا کہ فتح مکہ کے بعدہوا، چونکہ کافر مکہ فتح ہونے کا انتظار کررہے تھے کہ اگر محمد ﷺ نے مکہ پر قبضہ کرلیا تو پھر ہم سب اسلام قبول کرلیں گے چناچہ اسی تجویز کے ماتحت فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے یہاں تک کہ پورا جزیرہ عرب اسلام کا حلقہ بگوش ہوگیا اور نبی ﷺ نے اپنی حیات میں اسلام کی یہ ترقی ملاحظہ فرمائی اور ملکی ترقی کو خلافت عظمیٰ تک پہنچا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 7۔ تو اس وقت سمجھ لیجئے کہ مقصود دنیا میں رہنے کا اور بعثت کا کہ تکمیل دین ہے ختم ہوا۔ اس وجہ سے آخرت کا سفر قریب ہے پس اس کے لئے تیاری کیجئے۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ دیکھ لیں گے کہ لوگ اسلام میں کس طرح جوق در جوق داخل ہو رہے ہیں
2 پھر یہ وقت بحمد اللہ آپ ﷺ نے دیکھا اور خوب دیکھا کہ لوگ اسلام میں جوق درجوقداخل ہونے لگے جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ آپ ﷺ نے جزیرۃ عرب سے تقریباً ڈھائی سو قبائل کو شرف بیعت بخشا۔ یہ فتح وہ فتح ہے جس نے ملکی حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی کہ لوگ اپنے دین کے انتخاب کے معاملہ میں بالکل آزاد ہوگئے اور سرزمین عرب سے اس فتنہ کا بالکلیہ خاتمہ ہوگیا جس کے بل پر قریش کے لیڈر لوگوں کے دین و ایمان کے مالک بنے بیٹھے تھے۔ اس بشارت میں آپ ﷺ کو بتا دیا گیا کہ اب جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے کہ لوگ قریش کے ظلم و استبداد سے بالکل آزاد ہو کر…
Read the full tafseer →Verse [ 110:2] وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا (And you see people entering Allah's [ approved ] religion in multitudes,) Before the conquest of Makkah there were many people who were almost convinced of the verity of the Holy Prophet Muhammad ﷺ and Islam, but there were several factors that were obstructing them to embrace the religion. Some people were afraid of the Quraishite opposition, or they were hesitant for some other reason. The Conquest of Makkah removed those obstacles, and people entered the fold of Islam in throngs. Seven hundred people from Yemen…
Read the full tafseer →2 "You see ... in crowds": "When the time for the people to enter Islam in one's and two's comes to an end, and when whole tribes and people belonging to large tracts start entering it in crowds, of their own free will, and without offering battle or resistance." This happened from the beginning of A.H. 9, because of which that year has been described as the year of deputations. Deputations from every part of Arabia started coming before the Holy Messenger (upon whom be peace) , entering Islam and taking the oath of allegiance to him, until when he went for the Farewell Pilgrimage to Makkah,…
Read the full tafseer →