110. Surah An-Nasr

النصرDivine Support · 3 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 110:1–2

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader

جب2 پہنچ چکے مدد اللہ کی اور فیصلہ

وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader

اور تو دیکھے لوگوں کو داخل ہوتے دین میں غول کے غول

2:۔ ” اذا جاء “ اذا کی جزا محذوف ہے۔ ای فستری ما تری۔ جب اللہ کی مدد اور فتح کی بشارت آگئی تو تم اس کی برکات دیکھ لوگے۔ ” ورایت الناس “ تم دیکھو گے کہ لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ فتح و نصرت کی برکات میں سے ایک ہے۔
Ayah 110:3

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader

تو3 پاکی بول اپنے رب کی خوبیاں اور گناہ بخشوا اس سے بیشک وہ معاف کرنے والا ہے

3:۔ ” فسبح “ یعنی خود وہ کام کرو جو فتح و نصرت کا موجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کو شریکوں سے پاک سمجھو اور تمام صفات کارسازی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ثابت کرو۔ اور اس سے استغفار کرو، بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ یا رایت، جاء پر معطوف ہے اور فسبح الخ جزاء شرط ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصر آچکی اور تم نے لوگوں کو فوج در فوج اسلام میں داخل ہوتے دیکھ لیا تو اب شکر نعمت کے طور پر اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تنزیہ کرو۔ مدد سے صلح حدبیبہ اور فتح سے فتح مکہ مراد ہے۔ فتح مکہ کے دن لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ ای فنزہہ تعالیٰ بکل ذکر ید علی التنبزیہ حامدا لہ جل و علا زیادۃ فی عبادتہ والثنا علیہ سبحانہ لزیادۃ انعامہ سبحانہ علیک (روح ج 30 ص 257)