110. Surah An-Nasr

النصرDivine Support · 3 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 110:1

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader

جب پہنچ چکے مدد اللہ کی اور فیصلہ5

5 بڑی فیصلہ کن چیز یہ تھی کہ مکہ معظمہ (جو زمین پر اللہ کا دارالسلطنت ہے) فتح ہوجائے۔ اسی پر اکثر قبائلِ عرب کی نظریں لگی ہوئی تھی۔ اس سے پہلے ایک ایک دو دو آدمی اسلام میں داخل ہوتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد جوق در جوق داخل ہونے لگے۔ حتیٰ کہ سارا جزیرہ عرب اسلام کا کلمہ پڑھنے لگا۔ اور جو مقصد نبی کریم ﷺ کی بعثت سے تھا پورا ہوا۔
Ayahs 110:2–3

وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader

اور تو دیکھے لوگوں کو داخل ہوتے دین میں غول کے غول

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader

تو پاکی بول اپنے رب کی خوبیاں6 اور گناہ بخشوا اس سے بیشک وہ معاف کرنے والا ہے7

6 یعنی سمجھ لیجئے کہ مقصود بعثت کا اور دنیا میں رہنے کا (جو تکمیل دین و تمہید خلافت کبریٰ ہے) پورا ہوا، اب سفر آخرت قریب ہے۔ لہذا ادھر سے فارغ ہو کر ہمہ تن ادھر ہی لگ جائیے اور پہلے سے بھی زیادہ کثرت سے اللہ کی تسبیح وتحمید اور ان فتوحات اور کامیابیوں پر اس کا شکر ادا کیجئے۔ 7 یعنی اپنے لئے اور امت کے لئے استغفار کیجئے۔ (تنبیہ) نبی کریم ﷺ کا اپنے لئے استغفار کرنا پہلے کئی جگہ بیان ہوچکا ہے۔ وہیں دیکھ لیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی قرآن میں ہر جگہ وعدہ ہے فیصلہ کا، اور کافر شتائی کرتے تھے۔ حضور ﷺ کی آخری عمر میں مکہ فتح ہوچکا، قبائلِ عرب دَل کے دَل مسلمان ہونے لگے۔ وعدہ سچا ہوا۔ اب امت کے گناہ بخشوایا کر کہ درجہ شفاعت کا بھی ملے۔ یہ سورت اتری آخر عمر میں، حضرت نے جانا کہ میرا کام تھا دنیا میں کرچکا اب سفر ہے آخرت کا۔ "