110. Surah An-Nasr
النصرDivine Support · 3 ayahsتفسیرِ بغوی
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader
جب اللہ کی مدد آپہنچی اور فتح (حاصل ہوگئی)
فتح مکہ کا واقعہ
1 ۔” اذا جاء نصر اللہ والفتح “ اصحاب اخبارنے فتح کا قصہ اس طرح لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال قریش سے دس سال کے لئے صلح کرلی جس کی شرط یہ تھی کہ اس مدت کے اند ر لوگ امن سے رہیں گے اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے حلیف ہونا چاہیں گے وہ آپ ﷺ کے معاہدہ میں ہوں گے اور جو لوگ قریش کے حلیف ہونا چاہیں گے قریش کے معاہدہ میں ہوں گے۔ چناچہ بنی بکر قریش کے معاہدہ میں داخل ہوگئے اور بنی خزاعہ رسول اللہ ﷺ کے حلیف ہوگئے۔ بکر اور خزاعہ میں پرانی جنگ تھی۔ کچھ مدت کے بعد بنی بکر کی ایک شاخ بنی نفاثہ نے بنی خزاعہ پر زیادتی کی اور بنی نفاثہ کے قبیلہ نوفل بن معاویہ دیلمی نے مکہ کے نشیبی حصہ میں بمقام وتیر بنی خزاعہ پر شب خون مارا۔ یہاں تک کہ بنی خزاعہ حرم میں داخل ہوگئے، تب بھی قبیلہ نوفل نے قتال جاری رکھا۔ قریش نے ہتھیاروں سے بنی بکر کی مدد کی بلکہ صفوان بن امیہ، عکرمہ بن ابی جہل، سہیل بن عمرو ، شیبہ بن عثمان، حویطب بن عبدالعزیٰ اور کچھ دوسرے لوگ اپنے غلاموں سمیت رات کے وقت چھپ کر بنی بکر کی طرف سے لڑائی میں بھی شریک ہوئے، لڑائی کے بعد قریش کو عہد شکنی پر پشیمانی ہوئی اور ایک نے دوسرے کو ملامت کی۔ ادھر لڑائی کے بعد عمرو بن سالم خزاعی چالیس سواروں کو ساتھ لے کر بنی خزاعہ پر واقع ہونے والی مصیبت کی اطلاع دینے اور مدد مانگنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن رسول اللہ ﷺ نے عمرو کو پہنچنے سے پہلے ہی بنی نفاثہ اور بنی خزاعہ کی جنگ کی اطلاع دے دی تھی اور فرمایا تھا جو کام خدا کو مقصود ہے، اس کی تکمیل کے لئے قریش عہد شکنی کریں گے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عرض کیا : (کیا مسلمانوں کے لئے) خیر ہوگی ؟ فرمایا خیر ہوگی۔
محمد بن عمرو نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت سے اور طبرانی نے حرضت ام سلمہ ؓ کی روایت سے (واقعہ) اسی طرح بیان کیا ہے۔ غرض جب عمرو بن سالم خزاعی نے حاضر ہوکر اطلاع دے دی (اور مددکا طلبگار ہوا) تو رسول اللہ ﷺ چادر کھینچتے ہوئے اٹھے اور فرمایا : اے عمرو ! اگر میں تیری مدد اس (قوت) کے ساتھ نہ کروں جس (قوت) سے اپنی مدد کرتا ہوں تو (خدا کرے) میری مدد نہ کی جائے۔
یہ واقعہ ماہ شعبان کا ہے جب صلح حدیبیہ کو بائیس ماہ گزرے تھے، پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ کو قریش کے پاس یہ پیام پہنچانے کے لئے بھیجا کہ تین باتوں میں سے ایک بات قریش کو اختیار کرلینا چاہیے یا بنی خزاعہ کے مقتولین کی دیت ادا کریں۔ کل تیرہ آدمی مقتول ہوئے تھے یا جن لوگوں نے یعنی بنی نفاثہ نے معاہدہ صلح کی خلاف ورزی کی ہے، ان کو اپنا حلیف ہونے سے خارج کردیں (یعنی بنی نفاثہ سے محالفہ ختم کردیں تاکہ مسلمان ان سے بنی خزاعہ کا انتقام لے لیں) یا حدیبیہ والے معاہدہ صلح کو ایک قلم منسوخ کردیا جائے۔ یہ پیام سن کر قریش کی رائے باہم مختلف ہوگئیں۔ آخر کار معاہدہ کو منسوخ کردینے پر سب متفق ہوگئے اور حضرت حمزہ ؓ فسخ معاہدہ کی خبرلے کر واپس آگئے۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر اور حضرت حمزہ ؓ سے مشورہ لیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے صلح اور نرمی کا مشورہ دیا اور عرض کیا : وہ آپ کی قوم والے ہیں، یہاں تک کہ حضرت ابوبکر کا خیال ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے مشورہ پر چلیں گے۔ حضرت عمر ؓ نے جنگ کا مشورہ دیا اور عرض کیا انہوں نے آپ کو جادو گر، کاہن اور بڑا دروغ گو کہا ۔ وہکفر کے سردار ہیں، قریش نے جو جو باتیں رسول اللہ ﷺ کے متعلق گزشتہ زمانہ میں کہی تھیں۔ حضرت عمر ؓ نے وہ سب کچھ کہا، کوئی بات بغیر ذکر کیے نہیں چھوڑی اور عرض کیا، جب تک اہل مکہ اطاعت نہیں کریں گے، عرب اطاعت نہیں کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کے مشورہ کو اختیار کیا اور خفیہ تیاری شروع کردی اور عبر کو لڑائی میں شریک ہونے پر آمادہ کیا۔ چناچہ قبائل اسلم، غفار، مزینہ، حرفہ، اشجع اور سلیم آگئے۔ کچھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ ہی میں پہنچ گئے اور کچھ حضور ﷺ کی روانگی کے بعدراستہ میں آملے۔ کل مسلمان ایک روایت میں دس ہزار اور دوسری روایت میں بارہ ہزار تھے۔ دونوں روایتوں کے اختلاف کو اس طرح دور کیا جاسکتا ہے کہ مدینہ سے روانگی کے وقت دس ہزار ہوں گے اور راستہ میں قبائل کے مل جانے کی وجہ سے بارہ ہزار ہوگئے ہوں گے۔
آخر قریش فسخ معاہدہ پر پشیمان ہوئے اور ابو سفیان کو بھیجا۔ ابو سفیان اپنی بیٹی حضرت ام حبیبہ ؓ کے پاس پہنچا اور جونہی رسول اللہ ﷺ کے بستر پر بیٹھنے کا ارادہ کیا۔ حضرت ام حبیبہ ؓ نے بستر کو لپیٹ دیا اور فرمایا یہ رسول اللہ ﷺ کا بستر ہے۔ ابوسفیان بولا، بیٹی ! خدا کی قسم ! میرے بعد تجھ میں خرابی آگئی ہے۔ ام المومنین نے فرمایا : اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت فرمادی ہے مگر ابا جان ! آپ قریش کے سردار ہیں اور آپ پتھروں کو پوجتے ہیں، جو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔ ابوسفیان ام المومنین کے پاس اٹھ گیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر کچھ گفتگو کی لیکن حضور ﷺ نے کچھ جواب نہیں دیا۔ پھر ابو سفیان حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی خدمت میں پہنچا اور کچھ گفتگو کی اور درخواست کی کہ آپ ؓ رسول اللہ ﷺ سے میری سفارش کردیجئے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : خدا کی قسم ! اگر درہ (کوڑا) ہی میرے پاس ہو (کوئی اور ہتھیار مجھے نصیب نہ ہو) تب بھی میں تم سے درہ لے کر ہی لڑوں گا۔ آخر ابو سفیان حضرت علی ؓ کی خدمت میں پہنچا۔ اس وقت حضرت علی ؓ کے پاس حضرت سیدہ اور حضرت حسن ؓ موجود تھے۔ ابوسفیان نے کہا : علی ! ؓ تم سے میرا رشتہ سب سے زیادہ قریب کا لگتا ہے، تم میرے لئے رسول اللہ ﷺ سے سفارش کردو۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : اے ابوسفیان ! رسول اللہ ﷺ پختہ ارادہ کرچکے ہیں کوئی بھی حضور ﷺ سے اب (اس سلسلہ میں) بات نہیں کرسکتا۔ ابوسفیان نے حضرت سیدہ ؓ کی طرف رخ کیا اور عرض کیا، آپ ہی اپنے والد سے کہہ دیجئے کہ وہ لوگوں کے ٹوٹے ہوئے تعلقات جوڑدیں۔
حضرت فاطمہ ؓ نے بھی انکار کردیا۔ آخر ابو سفیان بولا : ابوالحسن ! اب میرے لئے معاملہ سخت ہوگیا، آپ مجھے کوئی اچھا مشورہ دے دیں (کہ اب میں کیا کروں ؟ ) حضرت علی ؓ نے فرمایا : تمہارے لئے کوئی فائدہ رساں بات میری سمجھ میں تو نہیں آتی، البتہ تم بنی کنانہ کے سردار ہو۔ تم لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہو کر کہہ دو کہ میں لوگوں میں امن (ہونے کا اعلان) کرتا ہوں۔ ابو سفیان نے کہا : کیا یہ بات میرے لئے فائدہ مند ہوگی ؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا : میری سمجھ میں تو اس کے علاوہ کوئی بات نہیں آتی۔ ابو سفیان نے مسجد میں جاکر کہہ دیا، لوگو ! میں نے لوگوں کے لئے امن جاری کردیا۔ یہ کہہ کر اونٹ پر سوار ہوکر چل دیا اور قریش کے پاس پہنچ کر پورا قصہ بیان کردیا۔ قریش نے کہا، خدا کی قسم ! علی ؓ نے تمہارے ساتھ صرف دل لگی کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ابن ام مکتوم کو یا ابوذر غفاری کو اپنا جانشین بنایا۔ موخرالذکر قول صحیح ہے ۔ (رواہ الطبرانی) اور بدھ کے دن 10 رمضان 8 ہجری کو مدینہ سے برآمد ہوئے اور دعا کی : الٰہی ! جاسوسوں اور مخبروں سے قریش کو روک دے (ان کو میری روانگی اور تیاری کی اطلاع نہ ہو) ۔
بخاری نے بیان کیا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : مجھے اور زبیر و مقدار کو رسول اللہ ﷺ نے مامور کیا اور فرمایا : (تیزی کے ساتھ آگے) جائو اور بستان خاخ پر پہنچو۔ وہاں ایک عورت اونٹ پر سوار ملے گی، اس کے پاس ایک خط ہے ۔ وہ خط اس سے حاصل کرلو۔ حسب الحکم ہم گھوڑوں کو تیز دوڑاتے ہوئے چل دیئے اور بستان خاخ پر پہنچے تو وہ عورت مل گئی۔ ہم نے اس سے کہا : خط نکال۔ عورت نے کہا : میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے کہا : یا تو خط نکال ورنہ کپڑے اتاردے۔ مجبوراً اس نے اپن چونڈے (چٹیایا جوڑا 12) سے خط نکال کردیا۔ ہم خط لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ خط حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کی جانب سے مشرکین مکہ کے نام تھا جس میں حاطب نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ کے بعض امور کی اطلاع دی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حاطب یہ کیا ہے ؟ حاطب نے عرض کیا : یارسول اللہ ! (ﷺ ) مجھ پر ناراض ہونے میں عجلت نہ فرمائیے (میری گزارش سن لیجئے، بات یہ ہے کہ ) میں قریش میں پرکٹا (اجنبی، مسامن) تھا اور حضور ﷺ کے ساتھ جو دوسرے مہاجر ہیں، ان کے رشتہ دار مکہ میں موجود ہیں جوان کے مال و عیال کے نگراں ہیں (مگر میرا وہاں کوئی رشتہ دار نہیں ہے) اس لئے میں نے چاہا کہ جب میرا وہاں کوئی رشتہ دار نہیں ہے تو کوئی ایسی بات (قریش کے لئے مفید) کردو کہ وہ میرے اہل و عیال کی حفاظت کردیں۔ میں نے یہ حرکت اسلام سے مرتد ہوکر اور کفر کو اختیار کرکے نہیں کی۔ رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام ؓ سے) فرمایا : اس نے سچ بات کہہ دی۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! (ﷺ ) مجھے اجازت دیجئے، میں اس منافق کی گردن ماردوں ؟ فرمایا : عمر ! یہ بدر میں شریک تھا اور تم نہیں جانتے کہ بدریوں کے احوال کو جان کر ہی اللہ اہل بدر کے متعلق فرما چکا ہے کہ جو کچھ چاہو کرو، میں نے تمہاری مغفرت کردی۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ کی آنکھیں اشک آلود ہوگئیں اور اللہ نے آیت : ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء …سواء السبیل “ تک نازل فرمائی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھا اور صحابہ ؓ نے بھی روزے رکھے لیکن کدید پر پہنچنے کے بعد افطار کردیا اور صحابہ ؓ نے بھی روزے کھول دیئے، پھر ختم ماہ تک حضور ﷺ نے روزہ نہیں رکھا۔
عباس بن عبدالمطلب مکہ میں حاجیوں کو پانی پلانے کے ذمہ دار تھے اور مکہ میں ہی مقیم تھے لیکن مکہ کو چھوڑ کر پہلے ہی سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بمقام جحفہ حاضر ہوگئے تھے اور عباس ؓ کے چچا کا بیٹا ابوسفیان بن حارث اور ابوسفیان کا بیٹا جعفر مقامابواء میں آکر رسول اللہ ﷺ سے آملے اور مسلمان ہوگئے۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ ابو سفیان بن حارث اور عاتکہ کا بیٹا عبداللہ بن امیہ جب (مقام ابواء میں) رسول اللہ ﷺ سے ملے تو حضور ﷺ نے ان کی طرف سے منہ پھیرلیا اور فرمایا : میری ان سے کوئی غرض نہیں۔ انہوں نے میری عزت برباد کی ہے اور مجھے جو کچھ کہا ہے وہ کہا ہے۔ ان دونوں نے حضرت ام سلمہ کی طرف رجوع کیا اور حضرت ام سلمہ ؓ نے ان کی سفارش کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو اجازت دے دی، پھر کدید میں پہنچ کر جھنڈوں پر پرچم باندھے اور قبائل کو جھنڈے تقسیم کردیئے۔ رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا حضرت زبیر ؓ کے پاس رہا۔
پھر عشاء کے وقت مقام مرالظہران میں اترے۔ قریش کو ان واقعات کی اطلاع اس وقت تک بالکل نہیں پہنچی تھی۔ اسی شب میں ابوسفیان بن حرب اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقہ تجسس احوال کے لئے مکہ سے نکلے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو (مختلف مقامات میں) آگ روشن کرنے کا حکم دیا۔ حسب الحکم دس ہزار (جگہ) آگ جلائی گئی (گویا ہر شخص نے اپنی قیام گاہ پر آگ جلائی۔ غالباً اس سے مراد یہ تھی کو دیکھنے والوں کو لشکر کی کثرت تعداد معلوم ہوجائے) ۔ عباس بن مطلب ؓ نے اسی رات کہا تھا : آہ ! قریش کی صبح بری ہوگی۔ خدا کی قسم ! اگر رسول اللہ ﷺ مکہ میں زبردستی داخل ہوگئے تو ہمیشہ کے لئے قریش کی تباہی ہوجائے گی، یہ کہہ کر خچر پر سوار ہوکر نکلے تو کوئی لکڑہارا یا دودھ والا یا کسی اور کام کو مکہ میں جانے والا اگر مل جائے تو رسول اللہ ﷺ کے قیام فرما ہونے کی اطلاع قریش کو بھجوادیں تاکہ قریش پہلے ہی آکر حضور ﷺ سے امان مانگ لیں۔ اتنے میں ابوسفیان کی آواز کانوں میں آئی جو کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم ! آج رات کی طرح میں نے آگ نہیں دیکھی (یعنی کثیر مقامات پر یکدم فوجیوں کے پڑائو پر اتنی کثرت سے آگ نہیں دیکھی) ۔
حضرت عباس ؓ نے کہا : اے ابوسفیان ! یہ رسول اللہ ﷺ اتنی فوج لے کر آگئے ہیں کہ تم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ابوسفیان نے کہا : پھر کیا تدبیر ہو ؟ حضرت عباس ؓ نے کہا : ابوسفیان ! اگر تو پکڑا گیا تو تیری گردن مار دی جائے گی۔ اس لئے (مناسب یہ ہے کہ) میرے خچر کے پیچھے سوار ہوجا۔ میں تجھے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ جائوں گا، وہاں تو امان مانگ لینا۔ چناچہ حضرت عباس (ابوسفیان کو لے کر پڑائو کی طرف) لوٹ پڑے اور جس طرف سے گزرتے تھے لوگ ان کو دیکھتے تھے اور کہتے تھے : یہ رسول اللہ ﷺ کے چچا ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے خچرپر سوار ہیں۔ آخر جب حضرت عمر ؓ کی فرودگاہ کی طرف سے گزرے اور حضرت عمر ؓ نے ابوسفیان کو دیکھا تو فوراً کھڑے ہوگئے اور بولے : یہ اللہ کا دشمن ابوسفیان ہے۔ شکر ہے خدا کا بغیر معاہدہ اور پیمان کے اللہ نے اس پر قابو دے دیا (یہ کہہ کر مارنے دوڑے) حضرت عباس ؓ تیزی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی طرف کو دوڑے اور ابوسفیان کو لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے (پیچھے سے) حضرت عمر ؓ بھی پہنچ گئے۔ حضرت عباس ؓ نے کہا : تم یہ سلوک صرف اس وجہ سے کررہے ہو کہ ابوسفیان قبیلہ عبدمناف کا ہے، اگر بنی کعب سے ہوتا تو تم یہ بات نہ کہتے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : عباس ! سختی اختیار نہ کیجئے جس روز آپ مسلمان ہوئے تو آپ کا اسلام مجھے (اپنے باپ) خطاب کے اسلام سے بھی زیادہ پیارا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عباس ! اس کو اپنے پڑائو پر لے جائو (عباس ؓ لے گئے) ۔
صبح کو پھر ابوسفیان کو لے کر خدمت گرامی میں پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمای : اے ابوسفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تجھے لا الہ الا اللہ کا یقین آجائے۔ ابوسفیان نے کہا : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ! آپ (علیہ السلام) بہت ہی حلیم، کریم اور ٹوٹے رشتوں کو جوڑنے والے ہیں۔ خدا کی قسم ! میرا خیال ہے کہ اگر خدا کی موجودگی میں کوئی دوسرا خدا ہوتا تو اب کچھ کرسکتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ارے ابوسفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تجھے میرے رسول خدا ہونے کا یقین آجائے۔
ابوسفیان نے کہا : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ! آپ کس قدر تحمل والے، کرم کرنے والے اور خاندان سے اچھا سلوک رکھنے والے ہیں لیکن یہ (رسالت) تو اس کے متعلق ابھی میرے دل میں کچھ (تردد) ہے۔ حضرت عباس ؓ نے کہا : ارے مسلمان ہوجا اور قبل اس کے کہ تیری گردن ماری جائے لا الہ الا الہ کی شہادت دے دے۔ اس پر ابوسفیان نے کلمہ توحید پڑھ لیا اور مسلمان ہوگیا۔ حکیم اور بدیل ابوسفیان سے پہلے ہی اسلام لاچکے تھے۔
یہ روایت اسحق بن راہویہ کی سند صحیح کے ساتھ ہے لیکن طبرانی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : اللہ کے بندو ! ابوسفیان اراک (پیلو) کے درختوں میں ہے، اس کو (وہیں) پکڑلو۔ ابن ابی شیبہ نے لکھا ہے کہ ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کو رسول اللہ ﷺ کے انصاری باڈی گارڈ نے پکڑ لیا تھا۔ اس روز حضرت عمر ؓ (بھی) محافظ (دستہ میں) تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، اس کو بند کردو۔ حسب الحکم لوگوں نے ابوسفیان کو صبح تک بندرکھا۔
ابن ابی شیبہ کی یہ بھی روایت ہے کہ ابو سفیان نے کہا تھا : مجھے عباس کا پتا بتائو۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ ان میں عباس ؓ بھی تھے جو ابو سفیان کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو ابوسفیان کے گھر میں چلا گیا اس کو امان ہے اور جو کعبہ میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے اور جس نے اپنا دروازہ بند کرلیا، اس کو امان ہے۔ اس فرمان کے بعد ابوسفیان نے کعبہ کے اندر چیخ کر کہا : اے گروہ قریش ! یہ محمد (ﷺ ) تم پر اتنی طاقت لے آئے جس کا تم مقابلہ نہیں کرسکتے (پھر) امان کی جو خبر ابوسفیان لائے تھے، اس کو بیان کیا۔ لوگ یہ اعلان سن کر منتشر ہوگئے، کچھ اپنے گھروں میں چلے گئے، کچھ کعبہ میں داخل ہوگئے۔
جب حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء مسلمان ہوگئے اور بیعت کرلی تو حضور ﷺ نے ان کو قریش کو دعوت اسلام دینے کے لئے اپنے سامنے بھید دیا اور زبیر کو جھنڈا دے کر مہاجرین اور انصار کے سواروں کا امیر بنا کر روانہ کردیا اور حکم دیا کہ بالائی مکہ میں حجون کے مقام پر پہنچ کر جھنڈے کو نصب کریں اور حکم کے بغیر وہاں سے نہ ہٹیں۔ اسی جگہ سے رسول اللہ ﷺ بھی مکہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے لبے خیمہ لگایا گیا۔ خالد بن ولید کو حکم ملا کہ وہ بنی قضاعہ اور بنی سلیم کے مسلمانوں کے ساتھ نشیبی مکہ سے داخل ہوں۔ نشیبی مکہ میں بنی بکر موجود تھے کیونکہ قریش اور حارث بن عبدمناف کی اولاد اور مختلف قبائل کے لوگوں نے بنی بکر کو مکہ سے نکال دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ نشیبی حصہ میں جاکر رہیں۔ خالد اور زبیر ؓ کو بھیجنے کے وقت رسو ل اللہ ﷺ نے حکم دے دیا تھا کہ جو تم سے نہ لڑے، اس سے نہ لڑنا۔
سعد بن عبادہ کو جھنڈا دے کر حکم دیا گیا تھا کہ کچھ لوگوں کو لے کر کداء سے مکہ میں داخل ہوں۔ سعد ؓ جب مکہ میں داخل ہونے کے لئے چلے تو کہنے لگے : آج جنگ کا دن ہے، آج ممنوع بھی حلال ہے۔ ایک مہاجر نے یہ بات سن لی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! سنئے تو سعد بن عبادہ کیا کہہ رہے ہیں۔ قریش پر یہ شوکت ان کو کہاں سے حاصل ہوگئی ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا : تم جھنڈا لے لو اور جھنڈا لے کر (کداء کے راستہ سے مکہ میں) داخل ہو۔ حضرت علی ؓ نے جھنڈا لے لیا اور لے جاکر رکن پر نصب کردیا۔
ابویعلی نے حضرت زبیر ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جھنڈا مجھے دیا تھا اور حضور ﷺ مکہ میں دو جھنڈوں کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور حضرت علی ؓ ، حضرت زبیر ؓ سے پہلے بالائی مکہ میں نہیں پہنچے تھے۔ خالد بن ولید نے جب نشیبی مکہ سے داخل ہونا چاہا تو وہاں قریش وغیرہ جو مشرک موجود تھے انہوں نے مزاحمت کی اور خالد کو ساتھیوں سمیت ہتھیار اٹھا کر چلنے سے روکا اور تیر مارے اور کہنے لگے ان کو زبردستی داخل نہ ہونے دو ۔ خالد ؓ نے اپنے ساتھیوں کو چیخ کر آواز دی اور مشرکوں سے جنگ کی۔ چوبیس قریشی اور چار بنی ہذیل کے آدمی مارے گئے۔ ابن اسحق نے لکھا ہے کہ بارہ یا تیرہ مشرک مارے گئے اور سخت شکست کھائی، ہر طرف بھاگنے لگے ۔ یہاں تک کہ سینہ اور حلق کی سوزش کی وجہ سے کچھ مارے گئے اور کچھ پاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گئے اور مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا۔ مسلمانوں میں سے قبیلہ جہینہ کا صرف ایک آدمی مارا گیا جس کا نام سلمہ بن میلاء تھا۔ یہ خالد کے سواروں میں سے تھا اور کرزبن جابر فہری اور حریش بن خالد بن ربیعہ بھی خالد کے سواروں سے مارے گئے۔ یہ دونوں خالد کے راستہ سے بچھڑ گئے تھے اور الگ راستہ پر چل دیئے تھے، دونوں مارے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے سرداروں کو حکم دے دیا تھا کہ مکہ میں داخل ہونے کے وقت کسی کو قتل نہ کریں۔ ہاں ! جو مسلمانوں جنگ کریں، ان کو قتل کیا جاسکتا ہے ۔ اس حکم سے نام بنام چند آدمیوں کو مستثنیٰ کردیا تھا اور حکم دے دیا تھا کہ ان کو ہر حال میں قتل کردیا جائے، خواہ وہ کعبہ کے پردوں کے نیچے ہی ہوں۔
وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader
اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں
1 ۔” عبداللہ بن ابی سرح، یہ شخص مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوگیا تھا۔ فتح مکہ کے دن حضرت عثمان ؓ نے اس کی سفارش کی تو جان بخشی ہوئی۔ اس کے بعدیہ مسلمان ہوگیا۔
2 ۔ عکرمہ بن ابی جہل یہ (فتح مکہ کے دن) مسلمان ہوگئے اور ان کا اسلام قبول کیا گیا۔ 3 ۔ حویرث بن نقید، یہ ہجرت سے پہلے مسلمانوں کو بہت دکھ پہنچایا کرتا تھا۔ حضرت علی ؓ نے اس کو قتل کردیا۔ 4 ۔ مقیس بن صبابہ، اول مسلمان ہوگیا تھا، ایک انصاری نے ذی قروہ کے غزوہ میں اس کے بھائی ہشام کو دشمن کا آدمی سمجھ کر غلطی سے مار ڈالا تھا اور مقیس نے انصاری سے اس کی دیت لے لی۔ پھر عہد شکنی کرکے انصاری کو قتل کردیا اور مرتد ہوگیا۔ اس کو اسی کی قوم کے ایک شخص غیلہ بن عبداللہ نے قتل کردیا۔ 5 ۔ ہبار بن اسود مسلمانوں کو سخت دکھ دیا کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کو اسقاط اسی کی ضرب سے ہوا اور اسی مرض سے آپ کی وفات ہوئی۔ یہ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوگیا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو معاف کردیا۔ 6 ۔ حارث بن طلال خزاعی ، یہ حضرت علی ؓ کے ہاتھ سے مارا گیا۔ ” کذاذکرہ ابو معشر “ 7 ۔ کعب بن زہیرشاعر ، رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرتا تھا لیکن (فتح مکہ کے دن) مسلمان ہوگیا اور رسول اللہ ﷺ کی مدح کی۔ (ذکرہ الحاکم)…8 وحشی بن حرب، حضرت حمزہ کا قاتل بھاگ کر طائف چلا گیا تھا، پھر آکر مسلمان ہوگیا۔ 9 ۔ عبداللہ بن حنظل یہ مسلمان ہوگیا تھا، اس کا نام عبدالعزیٰ تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام بدل دیا اور عبداللہ نام رکھ دیا اور محصل صدقات بنا کر بھیجا اور اس کے ساتھ خزاعہ کے ایک شخص کو بھی روانہ کیا۔ خزاعی شخص عبداللہ کی خدمت کرتا اور اس کے لئے کھانا پکاتا تھا۔ دونوں ایک منزل پر جاکر اترے، دوپہر کا وقت تھا۔ عبداللہ بن خزاعی کو حکم دیا کہ کوئی جانور ذبح کرکے کھانا تیار کرے مگر خزاعی نے کھانا نہیں تیار کیا، اس پر عبداللہ نے خزاعی کو قتل کردیا اور مرتد ہوکر بھاگ گیا۔
اس کے پاس دوگانے والی لونڈیاں تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں ہجو کے اشعار گاتی تھیں۔ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ اور ان دونوں باندیوں کے قتل کا حکم دے دیا۔ سعید بن حریث مخزومی اور ابوبرزہ اسلمی نے مل کر عبداللہ کو قتل کردیا۔ ایک لونڈی بھی ماری گئی۔ دوسری بھاگ گئی، پھر مسلمان ہوگئی۔ 10 عمر بن ہشام کی آزاد کردہ ایک باندی تھی جس کا نام سارہ تھا، مکہ میں مغنیہ تھی اور نوحہ خوانی کا پیشہ بھی کرتی تھی۔ اسی کے پاس سے حاطب بن ابی بلتعہ کا خط برآمد ہوا تھا۔ فتح کے دن مسلمان ہوگئی۔ 11 ۔ ابوسفیان کی بیوی ہندہ بنت عتبہ جس نے رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ کا جگر چبایا تھا، فتح مکہ کے دن مسلمان ہوگئی اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے درگزر فرمائی۔ 12 ۔ صفوان بن امیہ یہ بھاگ کر جدہ چلا گیا تھا تاکہ وہاں سے جہاز پر سوار ہوکر یمن کو چلا جائے۔ عمیر بن وہب نے اس کے لئے امن کی درخواست کی۔ حضور ﷺ نے امان دے دی۔ صفوان حاضر ہوگیا اور عرض کیا، مجھے اپنے معاملہ پر دو مہینہ تک سوچنے کا اختیار دے دیجئے۔ حضور ﷺ نے چار ماہ کا اختیار دے دیا۔ آخر میں یہ مسلمان ہوگیا۔
مکہ میں داخلہ کے وقت رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک پر عمامہ تھا۔ (رواہ احمد ومسلم)
لیکن صحیحین کی دوسری روایت میں آیا ہے کہ داخلہ کے وقت حضور ﷺ خود پوش تھے۔ دونوں روایتوں کے اختلاف کو اس طرح دور کیا جاسکتا ہے کہ اول حضور ﷺ کے پر سر خود ہوگا پھر خود اتار کر عمامہ پہن لیا ہوگا۔ داخلہ کے وقت رسول اللہ ﷺ لوٹا لوٹا کر سورة فتح پڑھ رہے تھے۔ (صحیحین)
آخر حجون میں پہنچ کر چمڑے کے خیمہ میں حضور ﷺ فروکش ہوئے ۔ اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ دو بیبیاں، حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ ؓ بھی تھیں۔ حجون خفیف بن کنانہ میں وقاع تھا، یہ جگہ وہی تھی جہاں جمع ہوکر قریش اور کنانہ نے باہم قسم کھائی تھی کہ بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کے ساتھ نہ نکاح کا رشتہ قائم کریں گے، نہ ان کے ساتھ خریدوفروخت کریں گے جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کی مدد سے دستبردار نہ ہوجائیں گے، یہ قسمیں رہیں گی۔ اس جگہ پہنچنے کے بعد کسی نے عرض کیا، یارسول اللہ ! ﷺ کیا آپ اپنے گھاٹی والے مکان میں قیام نہیں فرمائیں گے ؟ فرمایا : عقیل نے ہمارا کوئی مکان چھوڑا ہی کہا ؟ (کہ ہم وہاں ٹھہر سکیں) عقیل نے رسول اللہ ﷺ اور اپنے بھائی بندوں کے مکہ والے سب مکان فروخت کردیئے تھے۔ مردوں کے بھی اور عورتوں کے بھی (کوئی مکان باقی نہیں چھوڑا تھا) عرض کیا گیا تو اپنے قدیمی مکانوں کو چھوڑ کر مکہ کے اندر کسی اور مکان میں قیام فرمالیجئے۔ حضور ﷺ نے اس سے انکار کردیا اور فرمایا : میں کسی کے گھر میں داخل نہیں ہوں گا۔ ہر نماز کے لئے حجون سے کعبہ کو تشریف لاتے تھے۔ غرض فرودگاہ پر دن کے تھوڑے وقت ٹھہرنے کے بعد آپ ﷺ نے غسل کیا۔ حضرت فاطمہ ؓ نے پردہ پکڑلیا، آپ ﷺ نے غسل کے بعد چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھیں ۔ (رواہ مسلم)
بخاری کی روایت میں حضرت ام ہانی کا قول آیا ہے کہ آپ ﷺ نے میرے گھر غسل کیا تھا اور نماز پڑھی تھی، پھر اونٹنی پر سوار ہوکر تشریف لے گئے اور کعبہ کے پاس پہنچ کر (طواف کیا اور) لکڑی کی نوک سے رکن کا بوسہ لیا (یعنی لکڑی کی نوک سنگ اسود کو لگادی، نوک لگا دینا بوسہ کے قائم مقام ہوگیا) اور تکبیر کہی۔ مسلمانوں نے بھی نعرہ تکبیر لگیا کہ مکہ گونج گیا۔ رسول اللہ ﷺ اشارہ سے مسلمانوں کو ٹھہرنے کی تلقین فرما رہے تھے اور مشرک پہاڑیوں کے اوپر سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے سات بار اونٹنی پر سوار ہونے کی حالت میں کعبہ کا طواف کیا اور لکڑی کی نوک سے (ہربار) سنگ اسود کا بوسہ لیا۔ کعبہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بت تھے جو رانگ سے مرصع تھے، ہبل سب سے بڑا تھا۔ یہ کعبہ کے سامنے کعبہ کے دوازہ پر تھا اور اساف ونائلہ قربانی کے مقام پر تھے۔ رسول اللہ ﷺ جب کسی بت کی طرف سے گزرتے تھے تو اس کی طرف اشارہ کرتے اور ” جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا “ پڑھتے تھے ۔ بت اشارہ کے ساتھ ہی اوندھے منہ یاپشت کے بل پیچھے گرجاتے تھے۔ آپ ﷺ ان کو ہاتھ بھی نہیں لگانے پاتے تھے۔ فضالہ بن عمر لیثی نے چاہا کہ طواف کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کو شہیدکردے۔ یہ ارادہ کرکے وہ حضور ﷺ کے قریب آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : فضالہ ! اس نے جواب دیا : جی ! فرمایا : تم دل میں کیا کہہ رہے تھے ؟ فضالہ نے کہا کچھ بھی نہیں۔ اللہ کی یاد کررہا تھا۔ حضور ﷺ یہ سن کر مسکرادیئے اور فرمایا : اللہ سے استغفار کرو۔ یہ یرما کر دست مبارک فضالہ کے سینہ پر رکھ دیا۔ فضالہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دست مبار میرے سینے سے اٹھایا بھی نہ تھا کہ آپ ﷺ کی ذات میری نظر میں ہر شخص سے زیادہ محبوب ہوگئی۔ طواف سے فارغ ہونے کے بعد (کھڑی ہوئی) اونٹنی سے لوگوں کے ہاتھوں کے سہارے سے نیچے اترے کیونکہ اونٹوں کے بیٹھنے کا کوئی مقام مسجد کے اندر نہ تھا۔ مسجد سے باہر اونٹ کو بٹھایا، پھر مقام ابراہیم پر پہنچے۔ مقام ابراہیم (علیہ السلام) کعبہ میں شامل تھا، اس وقت آپ ﷺ خود اور عمامہ پہنے ہوئے تھے اور دونوں شانوں کے درمیان عمامہ کا شملہ آویختہ تھا۔ اس جگہ آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی۔
پھر زمزم کی طرف رخ کیا اور اس کے اندر جھانک کر دیکھا اور فرمایا : اگر بنی عبدالمطلب کے غلبہ کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں خود اس میں سے ایک ڈول پانی کھینچتا۔ غرض حضرت عباس ؓ یاحارث بن عبدالمطلب نے ایک ڈول کھینچا اور اس میں سے کچھ پیا اور ضو کیا۔ مسلمان آپ ﷺ کے وضو کے پانی کی طرف ایک دوسرے سے پیش دستی کرنے لگے اور مسابقت کرکے (استعمال کردہ) پانی لے کر اپنے چہروں پر ملنے لگے۔ مشرک اس منظر کو دیکھ رہے تھے اور تعجب کررہے تھے اور کہہ رہے تھے ہم نے اتنا عالی مرتبہ نہ کسی بادشاہ کو دیکھا، نہ سنا۔ پھر آپ ﷺ نے ہبل کو توڑ دینے کا حکم دیا۔ حسب الحکم ہبل توڑ دیا گیا۔ حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا : بیٹھ جائو۔ میں کعبہ کے برابر بیٹھ گیا۔ پھر حضور ﷺ خود اوپر چڑھ گئے اور فرمایا : علی ! آکر میرے کندھوں پر چڑھ جا۔ میں نے حکم کی تعمیل کی۔ حضور ﷺ جب مجھے لے کر اٹھے تو مجھے ایسا لگنے لگا کہ اگر چاہوں تو آسمان کے کنارہ کو چھولوں گا۔ اس طرح میں کعبہ پرچڑھ گیا۔ فرمایا : ان کے بڑے بت کو توڑ دے ، یہ بت تانبے کا تھا اور زمین تک اس میں لوہے کی میخیں ٹھونکی ہوئی تھیں۔ فرمایا اس کو پکڑ لے اور خود پڑھنے لگے : ” جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا “ میں نے بت کو نیچے پھینک دیا۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے بلال کو کعبہ کی کنجی لینے کے لئے عثمان بن طلحہ کے پاس بھیجا ۔ عثمان نے کہا : کنجی میری ماں کے پاس ہے۔ عثمان نے ماں سے کنجی منگوائی اس نے کہا : لات وعزیٰ کی قسم ! میں تجھے کبھی کنجی نہیں دوں گی۔ عثمان نے کہا : نہ لات رہا نہ عزیٰ ۔ اگر تو کنجی نہ دے گی تو میں بھی مارا جائوں گا اور میرا بھائی بھی۔ عثمان کو گئے ہوئے دیر ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ انتظار کرتے رہے، آخر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کو بھیجا۔ عثمان کی ماں نے جب حضرت ابوبکر، حضرت عمر کی آواز سنی تو عثمان سے کہا : بیٹے ان دشمنوں کے لینے سے تو یہ بہتر ہے کہ تو لے لے، عثمان نے کنجی لے لی اور لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے کنجی لے کر خود دست مبارک سے کعبہ کو کھولا۔ عثمان اور طلحہ کہا کرتے تھے کہ کعبہ کو کھولنے کا ہمیں اختیار ہے (رسول اللہ ﷺ کے اس عمل سے ان کا یہ دعویٰ ساقط ہوگیا) ۔
حضور ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو حکم دیا کہ میرے اندر جانے سے پہلے کعبہ کے اندر سے تمام مورتیں اور تصاویر دور کردو۔ مسلمانوں نے کپڑے اتاردیئے، صرف تہبند باندھ رہے اور ڈول لے کر رجز پڑھتے ہوئے زمزم پر آئے اور کعبہ کو اندر، باہر سے دھونے لگے۔ اہل شرک کا کوئی نشان باقی نہ چھوڑا، سب مٹا دیئے اور دھودیئے ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اور اسامہ بن زید اور طلحہ اندرداخل ہوئے اور دروازہ بند کرلیا۔ اندر پہنچ کر رسول اللہ ﷺ نے ایک ستون دائیں طرف، دوستون بائیں طرف، تین ستون اپنے پیچھے دوازہ کی طرف چھوڑے اور قبلہ والی دیوار سے دو یا تین ذراع کا فاصلہ چھوڑ کر بیچ میں کھڑے ہوکر قبلہ کی طرف منہ کرکے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا : یہ قبلہ ہے پھر دروازہ پر کھڑے ہوکر فرمایا، ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کردکھایا، اپنے بندے کو کامیاب بنادیا اور تمام جماعتوں کو خود تنہا شکست دے دی۔ خوب سن لو (جاہلیت کے زمانہ کا) ہر استحقاق اور خون یا مال کا دعویٰ میرے ان دونوں قدموں کے نیچے (پامال ہوگیا) سب سے اول میں خود ربیعہ بن حارث کا خون ساقط کرتا ہوں۔ ہاں ! کعبہ کی دربانی اور حاجیوں کو پانی پلانے کا استحقاق اس سے مستثنیٰ ہے۔
سنو ! لاٹھی اور کوڑے سے اگر قتل ہوجائے تو قتل خطاء جو قتل عمد کے مشابہ ہو تو اس کی دیت مغلظ یعنی سو اونٹنیاں ہیں جن میں چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں۔ واری کے لئے وصیت نہیں۔ بچہ بستر (والے) کا ہے اور زانی کے لئے پتھر۔ کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے کسی کو کچھ دے دے۔ تمام غیر مسلموں کے مقابلہ میں مسلمانوں کو ایک ہاتھ (کی طرح) ہوجانا لازم ہے، کسی مسلمان کو یا ذمی کو بحالت ذمیت کافر کے عوض نہ قتل کیا جائے۔ دو مذہب والوں میں باہم میراث نہیں ہوگی۔ مسلمانوں کی زکوٰۃ ان کے گھروں اور احاطوں میں پہنچ کرلی جائے۔ محصل زکوٰۃ نہ زکوٰ ادا کرنے کے لئے ان کو اپنے پڑائو پر بلوائے، نہ زکوٰ ۃ دینے والے محصل کو پریشان کرنے کے لئے اموال زکوٰۃ دینے کا اڈہ کسی دوسری جگہ بنائیں۔ کسی عورت کی ماں یا خالہ پر اس عورت سے نکاح نہ کیا جائے (یعنی ماں یا خالہ سے نکاح کرلیا ہو تو پھر اس کی بیٹی یابھانجی سے نکاح نہ کیا جائے) ۔
دعوے کے گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہے اور (گواہ نہ ہونے کی صورت میں) قسم منکر پر عائد ہوگی۔ کوئی عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے۔ نماز عصر اور نماز صبح کے بعد کوئی نماز (جائز) نہیں۔ میں تم کو دو دن روزہ رکھنے سے ممانعت کرتا ہوں۔ ایک عیدالفطر کے دن دوسرا عبدالاضحی کے دن۔ میں تم کو دو صورتوں سے لباس پہننے کی بھی ممانعت کرتا ہوں۔ 1 ۔ صرف ایک کپڑے میں گوٹ مارے نے (اس کی شکل اس طرح ہوتی ہے کہ صرف کرتہ یا صرف تہبند پہن کر کوئی سرینوں کی نوک پر بیٹھ جائے اور پائوں سمیٹ کر کھڑے کرلے کر ایڑیاں سرینوں کے قریب آجائیں اور رانیں پیٹ کے قریب پہنچ جائیں) ۔ اس شکل پر بیٹھنے سے آگے سے پر ہنگی کا خطرہ ہے اور برہنگی کی حفاظت بھی کرلی جائے تب بھی اعضاء مستورہ غلیظہ کے بندھے نظر کے سامنے آجائیں گے جو خلاف تہذیب ہے۔ 2 ۔ چادر یا کمبل وغیرہ کو اس طرح لپیٹ لیا جائے کہ ہاتھ بھی اندر بندرہ جائیں اور باہر نہ نکل سکیں۔
اے گروہ قریش ! اللہ نے تم سے جاہلیت کو اور عہد جاہلیت کے غرور خاندانی کو دور کردیا، سب لوگ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم (علیہ السلام) کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ” یایھا الناس انا خلقنکم من ذکرو انثیٰ “ اے اہل مکہ ! میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں، تمہارا کیا خیال ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : آپ اچھے کریم بھائی اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں (اس لئے آپ ہم پر کرم ہی کریں گے) فرمایا : آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تم کو معاف کرے، وہ ارحم الراحمین ہے۔ جائو تم سب آزاد ہو، اس حکم کے بعد جب لوگ مجلس سے نکلے تو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے قبروں سے دوبارہ زندہ ہو کر اٹھے ہیں۔
بخاری نے بروایت ابوہریرہ ؓ لکھا ہے کہ کہ بنی لیث نے جاہلیت کے زمانہ میں بنی خزاعہ کا ایک آدمی مار ڈالا تھا۔ بنی خزاعہ نے فتح مکہ کے سال اپنے مقتول کے عوض بنی لیث کا ایک آدمی مارڈالا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک دیا مگر اپنے رسول اور مومنوں کو مکہ پر غلبہ عطا فرمایا۔ خوب سن لو، مکہ (پربزور تسلط) مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا، نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا اور میرے لئے بھی دن کی صرف ایک ساعت میں حلال ہوا تھا اور ہ ساعت یہی ساعت تھی۔ اب یہ (ہمیشہ کے لئے) حرم ہے، اس کی گھاس نہ کاٹی جائے ، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے (یعنی گری پڑی چیز کو پانے والا اس کو اپنی ملک میں نہ لے) ہاں ! جس کی چیز گرگئی ہو اور وہ ڈھونڈ رہاہو تو اس کو اٹھالینا جائز ہے۔ اگ رکسی کا کوئی آدمی قتل کردیا جائے تو دو باتوں میں سے ایک بات کو اختیار کرنے کا اس کو حق ہے یادیت لے لے یا قصاص۔ یہ سن کر ایک یمنی شخص نے جس کا نام ابوشاہ تھا عرض کیا : یارسول اللہ ! ( ﷺ ) میرے لئے یہ لکھوا دیجئے۔ فرمایا : اس کو لکھ کر دے دو ۔ ایک قریشی نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یارسول اللہ ! (گھاس کاٹنے کی ممانعت سے) اذخر کو مستثنیٰ کردیجئے۔ فرمایا : اذخر مستثنیٰ ہے۔ (اذخر مرچیا گند کو کہتے ہیں۔ یہ ایک قسم کی گھاس ہوتی تھی جو مکہ میں بکثرت پیدا ہوتی تھی اور اونٹوں کی خوراک کے کام آتی تھی) ۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یارسول اللہ ! ( ﷺ ) میں نے جاہلیت کے زمانہ میں عقد معاہرہ کیا تھا (یعنی ایک عورت کو داشتہ بنا کر بغیر نکاح کے رکھا تھا، اس سے بچے ہوئے، ان بچوں کا کیا حکم ہے) حضور ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی آزاد عورت سے یا کسی غیر کی باندی سے معاہرہ کیا۔ پھر اس بچے نے اس زانی سے اپنا نسب ملایا تو یہ جائز نہیں، نہ یہ اس کا وارث ہوگا، نہ وہ اس کا وارث ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ تم لوگ سمجھ گئے ہوگے۔ میں اپنی یہ بات کہہ رہا ہوں (یعنی کہہ چکا) اور اپنے اور تمہارے لئے اللہ سے معافی چاہتا ہوں۔
رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مکہ میں منادی نے ندا کردی کو جو شخص اللہ اور روز آخرت کو مانتا ہے وہ اپنے گھر کے اندر کوئی مورتی بغیر توڑے نہ چھوڑے۔ ظہر کا وقت ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کے اوپر ظہر کی اذان دینے کے لئے بلال کو حکم دیا۔ اس سے مقصود مشرکوں کو جلانا تھا۔ قریش پہاڑیوں کی چوٹیوں پر تھے اور چھپے ہوئے تھے مگر چہ رہے سامنے تھے (یعنی اس منظر کو دیکھ رہے تھے) ابوسفیان اور خالد بن اسید اور حارث بن ہشام کعبہ کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔ خالد بولا : اللہ نے (میرے باپ) اسید کی لاج رکھ لی کہ اس نے اس (آواز) کو نہیں سنا۔ حارث نے کہا : خدا کی قسم ! اگر میں اس کو حق پر جانتا تو اس کے پیچھے ہولیتا۔ بنی سعید بن عاص کا ایک شخص کہنے لگا : اللہ نے سعید کی لاج رکھ لی کہ کعبہ کی چھت پر اس حبشی کو چڑھا دیکھنے سے پہلے ہی وہ مرگیا۔ ابوسفیان بولا میں کچھ نہیں کہوں گا۔ اگر کچھ بھی بولا تو یہ پتھریاں بھی میری مخبری کردیں گی۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے آکر ان لوگوں کی باتوں کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو دے دی۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کی کہی ہوئی باتیں ان کو بتائیں تو وہ کہنے لگے : ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
اس کے بعد مکہ والے مسلمان ہوئے۔ کسی مسلمان نے ابوقحافہ کے سر پر پتھر ماردیا، اس کا سر زخمی ہوگیا اور اسماء ؓ کا ہار کسی نے لے لیا۔ حضرت ابوبکرصدیق ؓ ان کو لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا : میں خود ان کے پاس پہنچ جاتا۔ تم نے بڑے میاں کو وہیں کیوں نہ رہنے دیا۔ پھر حضور ﷺ نے ان کو سینہ پر ہاتھ پھیرا اور وہ مسلمان ہوگئے۔ ابوقحافہ ؓ کی داڑھی اور شرثغامہ (ایک درخت کا سفید پھول) کی طرح سفید تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس (رنگ) کو بدل دو مگر سیاہی سے الگ رکھو۔ (یعنی سیاہ نہ رنگنا)
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ایک چٹان پر بیٹھ گئے۔ حضرت عمر ؓ نیچے کی جانب بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ کو ماننے کی اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ وعبدہ کی شہادت لینے لگے۔ چھوٹے بڑے، عورت مرد سب آنے لگے اور بیعت کرنے لگے۔ مردوں کی بیعت سے فارغ ہوکر عورتوں کی بیعت لی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بیان ہے کسی عورت نے رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ نہیں چھوا بلکہ آپ ﷺ ان کی بیعت صرف زبانی لیتے تھے۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ طواف سے فارغ ہوکر رسول اللہ ﷺ کوہ صفا پر گئے اور اوپر جاکر اس جگہ کھڑے ہوئے جہاں سے کعبہ دکھائی دیتا تھا اور وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد، ذکر اور دعا کرنے لگے، انصار نیچے تھے۔ انہوں نے آپس میں کہا : ان کو اپنے شہر کی طرف رغبت اور اپنے قبیلہ کی طرف میلان ہوگیا ہے۔ حضور ﷺ کے پاس وحی آگئی اور آپ ﷺ نے انصار سے فرمایا : اے گروہ انصار ! انصار نے جواب دیا : لبیک یارسول اللہ ( ﷺ ) ! فرمایا : کیا تم نے ایسی، ایسی بات کہی تھی ؟ انصار نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : حاشاوکلا ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ اللہ کے واسطے وطن چھوڑ کر تمہاری طرف گیا تھا ۔ میری زندگی، تمہاری زندگی اور میری موت تمہاری موت (کے ساتھ) ہے۔ انصار حضور ﷺ کے سامنے رونے لگے اور عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم نے جو کچھ کہا تھا بخدا اس لئے کہا تھا کہ ہم کو اللہ اور اللہ کے رسول ( ﷺ ) سے انتہائی محبت تھی (ہم کو گوارانہ تھا کہ اللہ کا رسول ہم کو چھوڑ کر پھر مکہ میں آکر مقیم ہوجائے) حضور ﷺ نے فرمایا : تمہاری سچائی کی وجہ سے اللہ اور اللہ کا رسول ( ﷺ ) تمہارا عذر قبول کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے (فتح مکہ کے بعد) قریش کے تین آدمیوں سے روپیہ قرض لیا۔ صفوان بن امیہ سے پچاس ہزار درہم ، عبداللہ بن ربیعہ سے چالیس ہزار درہم اور حویطب بن عبدالعزیٰ سے چالیس ہزار درہم اور یہ روپیہ کمزور صحابہ کو بانٹ دیا۔ پھر ہوازن کی فتح کے بعد یہ قرض ادا کردیا اور فرمایا : قرض کا بدلہ (قرض دینے والے کا) شکریہ اور (قرض کی) ادائیگی ہے۔ یہ بھی حضور ﷺ نے فرمایا : آج کے بعد مکہ پر چڑھائی نہ کی جائے اور فتح مکہ کے بعد ہجرت (کی ضرورت) نہیں۔ ابو یعلی اور ابو نعیم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے مکہ کی فتح کے بعد ابلیس آواز سے رونے لگا۔ اس کی ذریت اس کے پاس جمع ہوگئی (اور رونے کا سبب پوچھا) ابلیس نے کہا : اب اس سے ناامید ہوجائو کہ امت محمدیہ شرک کی طرف لوٹ کر آئے گی۔ ابن ابی شیبہ نے مکحول کا قول نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کہ مکہ میں داخل ہوئے تو سامنے آکر شیطان حضور ﷺ کی طرف بڑے بڑے شعلے پھینکنے لگے، فوراً جبرئیل (علیہ السلام) نے آکر کہا : محمد ﷺ ! ان الفاظ کے ساتھ پناہ مانگو (یعنی یہ الفاظ پڑھو):” اعوذ بکلمات الل التامۃ التی لا یجاوزھن برولا فاجر من شر مانزل من السماء وما یعرج فیھا ومن شرما بث فی الارض وما یخرج منھا ومن شراللیل والنھار ومن شر کل طارق یطرق الاطارق یطرق بخیر یا رحمن “
بیہقی کی روایت میں لکھا ہے کہ جب مکہ کی فتح ہوگئی تو ایک حبشی بڑھیا، کھچڑی بالوں والی، منہ کھرونچتی اور واویلا کرتی ہوئی آئی۔ عرض کیا گیا : یارسول اللہ ! ہم نے ایک حبشن بڑھیا، کھچڑی بالوں والی دیکھی جو منہ نوچتی اور واویلا کرتی ہوئی آرہی تھی۔ فرمایا وہ کہہ رہی تھی میری آس ٹوٹ گئی کہ تمہارے شہر میں اس کے بعد میری پوجا نہ کی جائے گی۔
فتح مکہ کے دن یہ آیت نازل ہوئی ” ان اللہ یامرکم ان تودوا الامنت الی اھلھا “ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن طلحہ کو بلوا کر کعبہ کی کنجی ان کو عطا فرمادی اور فرمایا : یہ ہمیشہ نسل در نسل کے لئے لے لو۔ اس کو سوائے ظالم کے تم سے کوئی نہیں چھینے گا۔ اللہ نے تم کو اپنے گھر کا امین قرار دیا ہے۔ پس اس گھر سے تم کو جو کچھ حاصل ہوا اس کو جائز طریقہ سے کھائو۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آکر کہا : جب تک اس گھر کی اولیت قائم ہے ، کنجی اور کعبہ کی دربانی عثمان کی نسل میں رہے گی۔ چناچہ کنجی عثمان کے پاس رہی اور مرتے وقت انہوں نے اپنے بھائی شیبہ کو کنجی دے دی اور یہ کنجی اور دربانی شیبہ کی اولاد کے پاس قیامت تک رہے گی۔
رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں انیس شب قیام کیا اور اس کی مدت میں قصر کرتے رہے۔ (رواہ البخاری) ابودائود کی روایت میں سترہ رات اور بخاری کی دوسری روایت میں جو ترمذی نے بھی بیان کی ہے اٹھارہ رات کی صراحت ہے۔ تعارض اس طرح دفع کیا جاسکتا ہے کہ اگر داخل ہونے اور واپسی کے دن کو شمار نہ کیا جائے تو سترہ اور دونوں کو شامل کیا جائے تو انیس ہوجائیں گے اور گھنٹوں کا شمار کیا جائے تو اٹھارہ ہوں گ۔ پندرہ کی روایت کو نووی نے خلاصہ میں ضعیف قرار دیا ہے۔
فتح مکہ کے بعد عرب باہم کہنے لگے کہ اے عرب کے باشندو ! جب محمد ( ﷺ ) فتح یاب ہوگئے حالانکہ اصحاب فیل کے حملہ سے اللہ نے ہم کو محفوظ رکھا تھا (اور اصحاب فیل کو شکست دے دی تھی) تو اب محمد ﷺ کے اتباع کے بغیر تمہارے لئے کوئی چارہ نہیں۔ یہ مشورہ طے کرکے جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے ۔ اس سے پہلے ایک ایک دو دو مسلمان ہوتے تھے (مگر اب گروہ کے گروہ ایک وقت میں مسلمان ہونے لگے) اسی کا بیان آیت ذیل میں ہے۔ ” ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا “ مقاتل اور عکرمہ رحمہما اللہ نے کہا ” الناس “ سے مراد اہل یمن ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اہل یمن تمہارے پاس آئے ہیں، یہ بہت رقیق القلب اور ایمان کے لئے بڑے نرم دل (یعنی ایمان کا جلد اثر قبول کرنے والے) ہیں۔ حکمت تو یمنی ہے، فخر اور غرور اونٹ والوں میں ہے اور سکون و بربادی بکریوں والوں میں (یعنی اونٹوں کو چرانے والے بڑے سخت دل، مغرور اور شیخی باز ہوتے ہیں اور بکریاں چرانے والے بڑے مسکین طبع اور متحمل مزاج ہوتے ہیں) ۔ (متفق علیہ)
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader
تو اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرو اور اس سے مغفرت مانگو بیشک وہ معاف کرنے والا ہے
3 ۔” فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں اس کے بارے میں نہیں جانتا مگر جو آپ جانتے ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ اکثر اپنے رکوع و سجود میں کہا کرتے تھے ” سبحانک اللھم وبحمدک اللھم اغفرلی “ قرآن کی تاویل کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ اکثر ” سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ “ کہا کرتے تھے تو میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! ( ﷺ ) میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ ﷺ اکثر ” سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ “ کہتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے خبر دی ہے کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا۔ پھر جب میں اس کو دیکھ لوں تو ” سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ “ کثرت سے کہوں۔ تحقیق میں نے اس کو دیکھ لیا ہے۔ ” اذا جاء نصر اللہ والفتح “ پس فتح مکہ ہے۔ ” ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا “۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جب یہ سورت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے جان لیا کہ آپ کی وفات کی خبر دی گئی ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں آپ ﷺ کو بتادیا کہ آپ کی موت کا وقت قریب آگیا ہے تو تسبیح اور توبہ کا حکم کیا۔ تاکہ آپ (علیہ السلام) کا خاتمہ عمل صالح میں زیادتی پر ہو۔ قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد ستر دن زندہ رہے۔