110. Surah An-Nasr
النصرDivine Support · 3 ayahsتفسیرِ مدنی
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader
جب آجائے مدد اللہ کی اور وہ فتح (عظیم)
1 ۔ بشارت فتح کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب آجائے اللہ کی مدد اور حاصل ہوجائے وہ فتح جو کہ عظیم الشان فتح ہے اور جس کے بعد اسلام کا غلبہ ظاہر اور واضح ہوجائے کسی کو اس ملک میں اس دین حق سے ٹکر لینے کی ہمت نہ رہے، اور سب پر یہ حقیقت واضح وعیاں ہوجائے کہ اب دین حق اسلام ہی کو اس ملک عرب میں غالب ہو کر رہنا ہے، عام اور مشہور قول کے مطابق اس سے مراد فتح مکہ ہے اور اس میں شک بھی نہیں کہ فتح مکہ بھی ایک عظیم الشان فتح تھی، اور دشمنان اسلام خاص کر مشرکین مکہ اور ان کے حوالی موالی دوسرے کفار و مشرکین اسی کی انتظار میں تھے، اور ان کا کہنا تھا کہ ان ظھر علی قومہ فھو نبی یعنی اگر یہ صاحب اپنی قوم یعنی اہل مکہ پر غالب آگئے تو واقعی یہ سچے نبی ہیں ( جامع البیان، ابن کثیر، محاسن وغیرہ) کیونکہ ان کے نزدیک کفار قریش کا بڑا مرتبہ تھا، خاص کر اس اعتبار سے کہ وہ بیت اللہ کے خادم اور اس کے مجاور تھے، اور بیت اللہ کی عظمت ان کے یہاں مسلم تھی، خاص کر اصحاب فیل کے واقعہ کے بعد سے تو اس کی عظمت کا سکہ ان لوگوں کے دلوں پر بھی زیادہ جم گیا تھا، مگر فتح مکہ کو اس کا مصداق قرار دینے میں دو باتوں کی بنا پر مشکل پیش آتی ہے، ایک تو یہ کہ مکہ مکرمہ 8 ھ میں فتح ہوا، جبکہ یہ سورة کریمہ 10 ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پر اور ایام تشریق کے دوران نازل ہوئی اور اسی سے آنحضرت ﷺ نے پہچانا کہ یہ حج آپ کا آخری حج ہے ( فتح الباری وغیرہ) تو پھر اگر اس سے سے مراد فتح مکہ ہی لیا جائے تو اس کا ذکر و صدور " اذا " کے ساتھ کس طرح ہوسکتا ہے، جو کہ استقبال کے لیے آتا ہے، جب کہ مکہ مکرمہ کی فتح اس سے دو سال پہلے ہوچکی تھی اس اشکال سے بچنے کے لیے بعض حضرات اہل علم نے کہا کہ " اذا " یہاں پر " اذ " کے معنی میں ہے جو کہ ماضی کے لیے موضوع ہے، مگر یہ بات خلاف اصل و بلا کسی قرینہ و دلیل کے ہے، اور بعض نے کہا کہ اس سورة کریمہ کا نزول فتح مکہ سے پہلے غزوہ بدر سے لوٹنے کے دوران ہوا تھا، جیسا کہ روح المعانی نے بحر محیط سے اس بارہ ایک روایت بھی نقل کی ہے سو اس صورت میں کلمہ " اذا " کے استعمال سے متعلق مذکورہ بالا اشکال تو اگرچہ رفع ہوجائے گا مگر دوسرا اشکال یہ لازم آئے گا کہ اس صورت میں یہ سورة کریمہ قرآن حکیم کی آخری سورت نہیں رہے گی، حالانکہ جمہور علماء و مفسرین کے نزدیک یہ قرآن حکیم کی آخری سورت ہے، جیسا کہ حضڑت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے کہ یہ قرآن حکیم کی آخری سورة کریمہ ہے، اسی لیے اس کا ایک نام سورة التودیع بھی ہے یعنی ودار کرنے کی سورت۔ کہ اس میں جیسا کہ روایات میں وارد ہے دین حق کی تکمیل اور رسول ﷺ کی رحلت و انتقال کا پیغام موجود ہے، اور دوسرا اشکال اس ضمن میں یہ ہے کہ یہ سورة کریمہ اپنے نزول کے اعتبار سے قرآن حکیم کی سب سے آخری سورت ہے جو کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی، جیسا کہ ابھی اوپر بھی گزرا، اور حجرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے کہ اس کے نزول کے بعد آنحضرت ﷺ کل کوئی اسی دن اس دنیا میں تشریف فرما رہے، اس کے بعد آپ رفیق اعلی سے جا ملے، ﷺ ۔ سو اگر اس میں مذکور فتح سے مراد فتح مکہ لی جائے جیسا کہ مشہور ہے تو اس صورت میں یہ سورة کریمہ قرآن حکیم کی آخری سورت قرار نہیں پاسکتی، کیونکہ مکہ مکرمہ کی فتح کے بعد تو پوری سورة توبہ نازل ہوئی، اس لیے ان دو مشکلوں کا بنا پر اس سورة کریمہ میں فتح سے فتح مکہ مراد لینا مشکل لگتا ہے، لہذا صحیح اور راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة میں وارد فتح سے مراد کسی خاص معرکے اور خاص موقع کی فتح مراد نہ لی جائے، بلکہ اس سے وہ عمومی اور مجموعی فتح مراد لی جائے جس کے بعد اسلام کا غلبہ سب پر آشکار اور عیاں ہوگیا، جس کا آغاز بلا شبہ فتح مکہ سے ہوا کہ وہ واقعتا ایک ایسی عظیم الشان اور فیصلہ کن فتح تھی جس نے کفار و مشرکین کی کمر ہمت توڑ کر رکھ دی تھی، مگر ان میں اب بھی کافی دم خم موجود تھا، چناچہ طائف اور حنین کے معرکے اس کے بعد ہی پیش آئے اور پورے جزیرہ نمائے عرب میں مکمل کنٹرول اور قبضہ کے حصول میں تقریبا دو سال کا عرصہ لگ گیا تھا، ہمارے ترجیں و داہ اس قول و احتمال کو بعض حضرات نے " فیل " کے صیغہ تمریض کے ساتھ ذکر کیا ہے، و قیل المراد جنس نصر اللہ و مطلق الفتح ( روح، فتح القدیر، المراغی، المدارک، خازن وغیرہ) مگر ہمارے نزدیک راجح قول یہی ہے کہ ان وجوہ کی بناء پر جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ والعلم عند اللہ سبحان و تعالیٰ ، وھو اعلم بمراد کلامہ جل وعلا و نحن بما قال و بما اراد، سبحانہ و تعالی۔
وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader
اور آپ دیکھ لیں لوگوں کو (اے پیغمبر ! ) کہ وہ داخل ہو رہے ہیں اللہ کے دین میں فوج در فوج
2 ۔ عظیم الشان فتح کی ایک واضح علامت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اس عظیم الشان فتح کی ایک واضح علامت کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگیں، پس یہ علامت ہوگی اس بات کی کہ وہ دور اب چلا گیا کہ جب اسلام میں داخل ہونا جان جوکھوں کا کام تھا، اور لوگ ڈرتے ڈرتے ایک ایک اور دو دو کر کے چھپتے چھپاتے اس دین حق میں داخل ہوا کرتے تھے، اور دین حق میں فوج در فوج داخل ہونے کے اس پر بہار اور عظیم الشان دور مسعور و مبارک کا آغاز 9 ھ کے وائل میں ہوا جبکہ لوگ چاروں طرف سے قافلہ در قافلہ حضور ﷺ خدمت میں حاضر ہو کر دین حق میں داخل ہورہے تھے، اسی لیے اس سال کو عام الوفود ( وفود کا سال) کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب 10 ھ میں آپ حجۃ الوداع کے موقع پر تشریف لائے تو پورا جزیرہ نمائے عرب اسلام کی زیر نگیں آچکا تھا، اور دین حق کے انوار و برکات سے منور و فیضیاب اور مال مال ہوچکا تھا، فالحمدللہ الذی بیدہ ازمۃ الخیر والتوفیق، اور پیغمبر کی محنت اور جدوجہد میں کسی دنیاوی غرض یا ذاتی مفاد کا کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا وہ جو بھی کچھ کرتے ہیں وہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور اس کے دین کے غلبہ اور اس کی سربلندی کے لیے کرتے ہیں، اس لیے اس مقصد کا حصول اور اس مشن میں کامیابی ان کی زندگی میں سب سے بڑی خوش و شادمانی کا موقع ہوتا ہے، کہ ان کی محنت رنگ لائی اور راہ حق میں کی گئی ان کی جدوجہد کا میابی سے ہمکنار ہوئی، حق کا بول بالا ہوا اور کفر و باطل اور ان کے علمبردار سرنگوں ہوگئے، اور یہی ان قدسی صٖت حضرات کا اصل مشن اور نصب العین ہوتا ہے۔ علیھم وعلی نبینا الصلوۃ والسلام۔
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader
تو آپ اپنے رب کی تسبیح میں لگ جائیں اس کی حمد کے ساتھ اور اس سے بخشش مانگیں بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے
3 ۔ فتح کے مقتضی کا ذکرو بیان : سو فتح کے مقتضی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا پس آپ تسبیح کریں اپنے رب کیی حمد کے ساتھ، کہ یہ سب کچھ اسی کی قدرت بےنہایت اور کرم و رحمت لامتناہی سے ہوا، فسبحان اللہ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم، اور رب کی حمد میں دو پہلو پائے جاتے ہیں، ایک اس کی تعظیم و تمجید کا کہ وہ بڑے ہی کرم و احسان والا ہے اس قدر بڑا اور اس کے کرم و احسان کی کوئی حدو انتہا ہی نہیں، سبحانہ وتعالی۔ اور دوسرا پہلو اس کے شکر کا پہلو کہ ہر قسم کے شکر کا مستحق وہی وحدہ لاشریک ہے کہ وہ ہر خوبی اور ستائش کا مالک و مستحق ہے، پس جو کچھ ہوا وہ اسی کے کرم و احسان سے ہوا اور جو کچھ ہوگا وہ بھی اسی کے کرم و احسان سے ہوگا، سبحانہا وتعالی۔ اور اسی طرح اس کی تسبیح و تنزیہہ میں بھی دو پہلو ہیں، ایک یہ کہ وہ اس سے پاک ہے کہ اپنے دین کی سربلندی یا اپنے کسی بھی کام کے لیے کسی کا محتاج ہو، اور دوسرا یہ کہ وہ پاک اور بالا ہے اس سے کوئی اس کے حق کو پوری طرح ادا کرسکے، سبحانہ وتعالی۔ اور تسبیح و تمجید کا ذکر جب ایک ساتھ آتا ہے جیسا کہ یہاں پر ہے تو اس میں تسبیح سے مراد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے نقص و عیب اور اس کے ہر شائبے سے پاک اور اعلی وبالا ہے، اور تمجید سے مراد یہ ہوتا ہے کہ وہ ان تمام صفات و کمال سے موصوف و متصف ہے جو اس کی شان اقدس و اعلی کے لائق ہیں اور جن سے وہ فی الواقع موصوف و متصف ہے، اور تسبیح تمجید کے ان دونوں پہلوؤں کے صحیح امتزاج ہی سے وہ حقیقی توحید وجود میں آتی ہے جو کہ دین حنیف کی اساس و بنیاد ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل۔
4 ۔ بےمثال انقلاب اور بےمثال شان عبدیت وانابت : سو اس سے امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے لائے ہوئے منفرد و بےمثال انقلاب اور آپ کی منفرد و بےمثال شان عبدیت کا ایک عظیم الشان مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے کہ آپ کے ذریعے اس عظیم الشان اور بےمثال انقلاب پر جشن فتح منانے کا نہیں بلکہ استغفار کا حکم و ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ آپ اپنے رب کے حضور عرض کریں کہ اس عظیم الشان جدوجہد اور جہاد مقدس کے دوران جو کوئی کوتاہی ہم سے ہوگئی ہو، اس سے درگزر فرما کر اسے معاف فرما دے، اے ہمارے رب۔ چناچہ صحیح روایات کے مطابق آنحضرت ﷺ اس کے بعد ہمیشہ اس پر عمل فرماتے تھے، اور اس طرح کی دعائیں پڑھتے رہتے تھے سبحانک اللھم وبحمدک اللھم اغفرلی۔ ( بخاری، مسلم، ابو داود وغیرہ) اور پوچھنے پر فرماتے تھے کہ مجھے اسی کا حکم دیا گیا پس اہل بدعت کے بعض بڑوں نے جو تاویلات یہاں کی ہیں وہ نہ اس مقام کے لائق ہیں اور نہ ہی وہ چل سکتی ہیں، والعیاذ باللہ تعالی۔ یہاں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ کے نبی کا مقام کتنا اونچا اور کس قدر بلند اور ممتاز ہوتا ہے، دنیاوی بادشاہ اور لیڈر لوگ تو ایسے موقع جشن مناتے اور کیا کچھ کرتے ہیں، مگر اللہ کے رسول اس قدر عظیم الشان اور بےمثال انقلاب پر بھی اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے، اور اس کے حضور استغفار کرتے ہیں، اور اس سلسلہ میں ممکنہ کوتاہیوں اور کمزوریوں کی معافی مانگتے اور بخشش کی دعا و درخواست کرتے ہیں۔ حالانکہ جو پاکیزہ و مقدس اور ہمہ گیر انقلاب آپ نے برپا کیا اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال پوری تاریخ انسانیت میں نہیں مل سکتی، نہ اس سے پہلے کبھی مل سکی اور نہ اس کے بعد قیامت تک مل سکے گی، اگر حقیقت کے اعتبار سے اور گہری نظر کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ ایک ہی ایسا حقیقی اور کامل انقلاب تھا جو روئے زمین پر برپا ہوا، اور یہ ایسا عظیم الشان اور بےمثال انقلاب تھا جس کی نظر چشم فلک نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی دیکھنا ممکن ہوسکتا ہے، کہ محمدی انقلاب علی صاحبہ الف الف تحیۃ وسلام سے تو پری دنیا کی دنیا بدل گئی اور اپنے ظاہر و باطن ہر اعتبار سے یکسر بدل گئی اور ایسی بدلی کہ " ظلمات بعضھا فوق بعض " کا مصداق گٹا ٹوپ اندھیروں کا خاتمہ ہوگیا اور ایک ایسا عظیم الشان اور بےمثال اجالا ہوگیا کہ زندگی کا ہر گوشہ روشن ومنور ہوگیا اور اس طور پر گھٹا ٹوپ اندھیروں اور اندھیریوں کی بجائے فضا " نور علی نور " کا مصداق بن گئی، چناچہ اس کے نتیجے میں عقائد و نظریات بدل گئے اور انداز واطوار بدل گئے، شکلیں اور صورتیں بدل گئیں، زاویہ ہائے نگاہ بدل گئے، انداز ہائے فکر و بصیرت بدل گئے، انسان کا ظاہر وباطن بدل گیا، دل و دماغ بدل گئے، اور انسان ایسا اور اس قدر بدلا کہ وہ کچھ کا کچھ ہوگیا، اور کہیں سے کہیں پہنچ گیا، کفر و شرک کی غلاظتوں میں لتھڑا ہوا انسان ایسا پاکیزہ اور پاک دامن بن گیا کہ رشک ملائک ہوگیا جن کو اونٹ چرانا نہیں آتا تھا وہ دنیا جہاں کے فرمانروا و حکمران بن گئے، جو امی محض تھے وہ دنیا بھر کے معلم و پیشوا بن گئے، پھر ہر چیز بدل گئی انداز حکمرانی بدل گیا، معاشرے کے خدوخال بدل گئے، معیشت و معاشرت، اور سیاست و سماج کے اطوار و انداز بدل گئے، لکڑی پتھروں کے بتوں اور بےجان و بےشعور مورتیوں کے پجاری خدائے واحد کی عبادت و بندگی اور اس کی توحید وحدانیت کے ایسے رسیا اور علمبردار بن گئے کہ شرک و بت پرستی کے شجرہ خبیثہ کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا، اور وہ دنیا جہاں کے امام و پیشوا اور راہبر و راہنما بن گئے اور اس کا مزید انقلابی اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ تئیس سال کے قلیل عرصے میں تکمیل پذیر ہوگیا، اور اس طرح کہ اس کی انقلاب آفریں تعلیمات بھی آپ نے دیں اور اس کے مطابق عملی طور پر انقلاب برپا بھی آپ ہی نے خود کیا، جب کہ دنیا والوں کے انقلابات صرف حکومتوں کی تبدیلی اور کرسیوں پر قبضہ جمانے کی حد تک ہوتے ہیں، اور بس کہ ایسے مادہ پرستوں کی معراج مادہ اور معدہ اور ان کی مادی تقاضوں کی تکمیل تک ہی محدود ہوتی ہے، اور وہ بھی زمانہ دراز کی جدوجہد، کشت و خون، مار ماری، ظلم و سفاکی، طرح طرح کی ہڑتالوں ہڑبونگوں کے طویل سلسلوں کے بعد اور وہ بھی اس طور پر کہ آغاز کسی نے کیا، بیڑا کسی نے اٹھایا، اور اس کی تکمیل کسی اور کے ہاتھوں ہوئی، خواہ فرانس کا مشہور جموری انقلاب ہو یا بالشویکوں اور کمیونسٹوں کا سرخ اور خونیں کمیونسٹ انقلاب یا اس طرح کا کوئی اور انقلاب کہ ایسے تمام انقلاب صرف مادی اور ظاہری ہوتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کا تعلق مادہ و معدہ کے تقاضوں اور خواہشات نفس کی تکمیل اور انا کی تسکین ہی کے کسی پہلو سے وابستہ ہوتا ہے، اور بس اور اس کے لیے بھی قدر قدر اور کس طرح کی خونریزیاں کی گئی ہوتی ہیں، عصمتیں لوٹی گئی ہوتی ہیں، عزتیں اور عصمتیں تارا تار کی گئ ہوتی ہیں، اور پھر اس پر اپنی فتح کے جشن منائے جاتے اور فرعونیت کے مظاہرے کیے جاتے ہیں طرح طرح کی رنگ رلیاں کی جاتی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ نبی رحمت کے رحمتوں بھرے کامل و مکمل اور بےمثال انقلاب میں نہ کسی کی نکیر پھوٹی نہ کسی کی عصمت لٹی اور نہ کسی کی عزت کی طرف بلا وجہ کسی کا ہاتھ بڑھا اور نہ کسی کی طرف کوئی بری نگاہ اٹھائی گئی، بلکہ وہاں کی کیفیت اور امتیازی شان کا عالم یہ تھا کہ نبی رحمت کی طرف سے یہ صدائے دلنواز سننے کو ملتی ہے کہ " الیوم یوم المرحمۃ لا یوم الملحمۃ " آج کا دن تو رحمت کا دن ہے، نہ کہ جنگ وجدال اور کشت و خون کا دن " صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی من تبعہ باحسان الی یوم الدین " اور پھر روس کا خونیں اور سرخ انقلاب جو کہ کمیونیزم کے غیر فطری نظام پر مبنی تھا، مادہ اور معدہ کے اسی محور کے گرد گھوم رہا تھا، جو کہ ابناء دنیا اور تمام مادہ پرستوں کا منتہاء مقصود اور مطمح نظر ہے، اور جس کا حاصل و خلاصہ یہ ہے کہ بطن و فرج کے دو غاروں کو بھرنے اور ان کی خواہشات کی تکمیل و تسکین کا سامان کس طرح کیا جائے، اور اس طرح اس مجرم و باغی اور سرکش و طاغی نظام، اور اس کے حواریوں اور پجاریوں نے انسان کو اس کے حقیقی شرف و مقام سے محروم کر کے اس کو، " اسفل السافلین " کے درجات میں پہنچا دیا، اور اس کے مقصد حیات اور اس کے تقاضوں اور ذمہ داریوں سے غافل و بےبہرہ کر رکے خالص حیوان بنادیا، بلکہ ایسا ارذل اور احقر حیوان شرس بنادیا جس کا ٹھکانا جہنم اور ہاویہ ہے، والعیاذ باللہ۔ سو اس سے بڑھ کر خسارہ و نقصان اور ظلم و طغیان اور کیا ہوسکتا ہے ؟ جو درحقیقت طبعی نتیجہ اور ردعمل (Reaction) سے کیپیٹلزم کے دوسرے سرمایہ دارانہ اور مادہ پرست ظالمانہ نظام کا پھر کمیونزم کا یہ ظالمانہ سفاکانہ اور غیر فطری نظام بھی اپنی تمام تر قہرمانیوں، فتنہ سامانیوں، اور جبر و استبداد کے باوجود پون صدی کی عمر بھی پوری نہ کرسکا، اور آج ہماری آنکھوں کے سامنے اور ساری دنیا کے دیکھتے دیکھتے افغانستان کے نہتے مجاہدین کی ایمانی قوت سے ٹکر کہ یہ ایسا اور اس طرح پاش پاش ہوا اور ایسی ذلت کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے ہوا کہ پوری دنیا انگشت بدنداں رہ گئٰ اور چوہتر برس یعنی پون صدی سے بھی ایک برس کم کے عرصے میں یہ سب دنیا کے سامنے " فی النار والسقر " ہوگیا اور پون صدی کے اس عرصے میں دنیا کے ایک بڑے حصے میں دندناتے پھرتے اور کشت و خون کے بازاروں کے بازار گرم کرنے کے باوصف آج اس کو اپنی جنم بھومی ( م اس کو) کی گلیوں میں بھی پناہ ملنا مشکل ہورہی ہے، اور وہاں بھی چیچنیا کے مٹھی بھر مجاہدین اسلام کے خوف سے اس کی نیندیں حرام ہورہی ہیں، جب کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی انقلابی اور انقلاب آفریں وحیات بخش تعلیمات مقدسہ قرآن و سنت کی نصوص قیمہ کی صورت میں آج بھی کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو گرماتی اور ان کو ایک نہایت ہی پاکیزہ و پرکیف زندگی اور حیات طیبہ سے بہرہ ور و سرفراز کر رہی ہیں، اور تاقیامت کرتی رہیں گی، تو کیا اس انقلاب محمدی کی کوئی نظیر و مثال کہیں پائی جاسکتی ہے ؟ یا اس کا کوئی عشر عشیر بھی کہیں دیکھا جاسکتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں، اور کہیں بھی نہیں اور کبھی بھی نہیں مگر اس سب کے باوجود آنحضرت ﷺ کی شان عبدیت اور کمال للہیت کا نمونہ ملاحظہ ہو کہ کسی طرح کے کبر و غرور کا کوئی شائبہ تک نہیں، اظہار فخر و مباہات کا کوئی نشان تک نہیں، کسی طرح کی ریا و نمودار اور ادعا و انانیت کا کوئی کرشمہ تک نہیں، بلکہ اپنے رب کی تسبیح وتحمید اور استغفار و تقدیس ہی کا دور دورہ ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ سو یہ ایک انقلابی اور بےمثال پہلو ہے آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ کا کہ اس قدر کامل و مکمل اور بےمثال انقلاب کے بعد اور اس قدر عظیم الشان اور بےنظیر و بےمثال کامیابی کے باوجود نہ کوئی جشن نہ مظاہرہ بلکہ کامل اخلاص اور بےمثال للہیت، سراپا عجز و انکسار اور قلب مبارک اور زبان اطہر سے اپنے خالق ومالک کے فضل و کرم کے اظہار وبیان، اور اسی کی تسبیح وتحمید اور اسی کے آگے سرنگوں اور اسی کے حضور سر تسلیم خم اور اسی کے ذکر اور اس کی یاددلشاد سے رطب اللسان اور شادکام، صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی وفات سے قبل بکثرت ان کلمات کا ورد فرمایا کرتے تھے، سبحانک اللھم وبحمدک استغفرک اتوب الیک۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے اسی سورة کریمہ اور اس کے اس حکم و ارشاد کا حوالہ دیا ( مسند احمد، صحیح مسلم، اور ابن جریر، وغیرہ) اور اسی طرح آپ ﷺ قیامت تک کی اپنی امت کو یہ عظیم الشان اور پاکیزہ درس دے گئے کہ کوئی کبھی بھی اپنی کسی بھی عبادت و ریاضت اور کسی بھی خدمت دین کو بڑی چیز نہ سمجھے، بلکہ اپنی جان بھی راہ حق میں کھپا دینے کے بعد یہی سمجھے کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہو، ﷺ ۔ سو اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے جو اس کی شان الوہیت کے خلاف ہیں، اور وہ ہر خوبی اور صفت کامل اور حقیقی اور اہل اور مستحق ہے۔ سبحانہ وتعالی۔
5 ۔ رب تعالیٰ کی شان توبیت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے، اتنا بڑا کہ زندگی بھر کے تمام گناہ اور پاپ سچی توبہ پر معاف اور یکسر معاف فرما دیتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ جیسا کہ حدیث قدسی میں اس کی تصریح وارد ہے، سبحان اللہ، کیا کہنے اس کے کرم اور اس کی عطا کے، جل جلالہ وعم نوالہ فاغفرلی یا ربی ذنبی کلہ دقہ وجلہ اولہ واخرہ سرہ وعلانیتہ ما اعلم منہ وما لا اعلم، رب اغفرلی ما قدمت وما اخرت وما اسررت و ما اعلنت وما اسرفت وما انت اعلم بہ منہ انک انت المقدم وانت الموخر ولا الہ غیرک استغفرک واتوب الیک فاغفرلی ولزوجتی واھلی واولادی واخوتی لسائر المسلمین، انک انت السمیع القریب، وعلی کل شیء قدیر، و بالاجابۃ جدیر۔ بہرکیف توبہ و استغفار کی نعمت بندہ مومن کے لیے ایک عظیم الشان نعمت خداوندی ہے جس سے حضرت حق جل مجدہ نے اپنی رحمت بےپایاں سے اس کو نوازا ہے، کیونکہ اسی کے ذریعہ بندہ مومن اپنی خطاؤں اور لغزشوں کو اپنے خالق ومالک سے معاف کرا کر اپنے دامن کو پاک و صاف کراسکتا ہے، اور آخرت کی گرفت و پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔