Explained with ayahs 1–3
گناہوں کی بخشش مانگو اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرو :
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ما فرماتے ہیں کہ بڑی عمر والے مجاہدین کے ساتھ ساتھ حضرت عمر فاروق ؓ مجھے بھی شامل کرلیا کرتے تھے تو شاید کسی کے دل میں اس کی کچھ ناراضگی پیدا ہوگئی اس نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ نہ آیا کریں ان جتنے تو ہمارے بچے ہیں خلیقۃ المسلمین ؓ نے فرمایا کہ تم انہیں خوب جانتے ہو ایک دن سب کو بلایا اور مجھے بھی یاد فرمایا میں سمجھ گیا کہ آج انہیں کچھ بتانا چاہتے ہیں جب ہم سب جا پہنچے تو امیرا لمومنین ؓ نے ہم سے پوچھا کہ سورة اذا جآء کی نسبت تمہیں کیا علم ہے بعض نے کہا اس میں ہمیں اللہ کی حمدو ثناء بیان کرنے اور گناہوں کی بخشش چاہنے…
Read the full tafseer →سورة النصر 1
فتح سے مراد کسی ایک معرکے میں فتح نہیں، بلکہ وہ فیصلہ کن فتح ہے جس کے بعد ملک میں کوئی طاقت اسلام سے ٹکر لینے کے قابل باقی نہ رہے اور یہ امر واضح ہوجائے کہ اب عرب میں اسی دین کو غالب ہو کر رہنا ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد فتح مکہ لی ہے۔ لیکن فتح مکہ 8 ھ میں ہوئی ہے اور اس سورة کا نزول 10 ھ کے آخر میں ہوا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت سراء بنت بنہان کی ان روایات سے معلوم ہوتا ہے جو ہم نے دیباچے میں نقل کی ہیں۔ علاوہ بریں حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول بھی اس تفسیر کے خلاف پڑتا ہے کہ یہ قرآن مجید کی سب سے آخری سورة ہے۔ کیونکہ اگر فتح سے مراد فتح مکہ ہو تو پوری سورة توبہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ جب خدا کی مدد اور (مکہ کی) فتح (ع اپنے آثار کے) آپہنچے اور) اس فتح پر مرتب ہونے والے آثار یہ ہیں کہ) آپ لوگوں کو اللہ کے دین (اسلام) میں جوق جوق داخل ہوتا دیکھ لیں، تو (اس وقت سمجھئے کہ مقصود دنیا میں رہنے کا اور آپ کی بعثت کا جو تکمیل دین تھا وہ پورا ہوچکا اور اب سفر آخرت قریب ہے اس کے لئے تیاری کیجئے اور) اپنے رب کی تسبیح وتحمید کیجئے اور اس سے مغفرت کی درخواست کیجئے (یعنی ایسے امور جو خلاف اولیٰ واقع ہوگئے ان سے مغفرت مانگئے) وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔
معارف و مسائل
یہ سورة با جماع مدنی ہے اور اس کا نام سورة التودیع بھی ہے، تو دیع کے معنی کسی کو رخصت کرنے کے ہیں…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی خاص مدد: یہاں اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح کا جس اہتمام خاص کے ساتھ ذکر ہوا ہے اور اس کے بعد نبی ﷺ کو حمد و تسبیح کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے عام مدد اور عام فتح مراد نہیں ہے بلکہ وہ مدد اور فتح مراد ہے جو سنت الٰہی کے مطابق اللہ کے رسولوں کو ان کے مخالفوں کے مقابل میں اس وقت حاصل ہوئی ہے جب رسولوں نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں اپنی ساری طاقت نچوڑ دی اور قوم رسول کی تکذیب اور اس کی دشمنی پر اس طرح اڑ گئی ہے کہ یہ توقع کرنے کی گنجائش باقی ہی نہیں رہ گئی ہے کہ اس کے رویے میں کوئی تبدیلی واقع ہو سکے گی۔
اس مدد کے ظہور کا وقت: سورۂ یوسف میں اس نصرت الٰہی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2۔ 1 اللہ کی مدد کا مطلب، اسلام اور مسلمانوں کا کفر اور کافروں پر غلبہ ہے، اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے، جو نبی ﷺ کا مولد و مسکن تھا، لیکن کافروں نے آپ ﷺ کو صحابہ کرام کو وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ چناچہ جب 8 ہجری میں یہ مکہ فتح ہوگیا تو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے، جب کہ اس سے قبل ایک ایک دو دو فرد مسلمان ہوتے تھے فتح مکہ سو لوگوں پر یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ آپ ﷺ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اور دین اسلام دین حق ہے، جس کے بغیر اب نجات اخروی ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب ایسا ہو تو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: اس سے مراد مکہ مکرمہ کی فتح ہے، یعنی جب مکہ مکرمہ آپ کے ہاتھوں فتح ہوجائے۔ زیادہ تر مفسرین کے مطابق یہ سورت فتح مکہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی، اور اس میں ایک طرف تو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ مکہ مکرمہ فتح ہوجائے گا اور اس کے بعد عرب کے لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہوں گے، چنانچہ واقعہ بھی یہی ہوا، اور دوسری طرف چونکہ اسلام کے پھیل جانے سے حضور اقدس ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد حاصل ہوجائے گا، اس لیے آپ کو دنیا سے رخصت ہونے کی تیاری کے لیے حمد، تسبیح اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ جب یہ سورت نازل ہوئی تو اس میں دی ہوئی خوشخبری کی وجہ سے بہت سے صحابہ خوش ہوئے، لیکن حضور اقدس ﷺ کے چچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
“۔ اس سورت کی پہلی آیت ہی میں ایک متعین اشارہ ہے ، اور یہ اشارہ کائناتی واقعات کے بارے میں ایک خاص تصویر پیدا کرتا ہے اور اس تصور میں یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان واقعات میں اہل ایمان کا کردار کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کا کردار کیا ہے۔ اور انسانی زندگی اور ان کائناتی واقعات وحادثات میں اہل ایمان اور نبی کے دائرہ کار کی حد کیا ہے۔ یہ اشارہ اس فقرے میں ہے۔
اذا جآء ........................ والفتح (1:110) ” جب اللہ کی مدد پہنچ جائے “ میں ہے۔ تمام دارومدار اللہ کی نصرت پر ہے اور اللہ کا وقت مقرر ہے ، جس شکل میں نصرت آئے گی وہ بھی متعین ہے ، جس مقصد کے لئے یہ نصرت ہوگی وہ بھی مقرر ہے۔ نبی اور اس کے ساتھیوں…
Read the full tafseer →5 بڑی فیصلہ کن چیز یہ تھی کہ مکہ معظمہ (جو زمین پر اللہ کا دارالسلطنت ہے) فتح ہوجائے۔ اسی پر اکثر قبائلِ عرب کی نظریں لگی ہوئی تھی۔ اس سے پہلے ایک ایک دو دو آدمی اسلام میں داخل ہوتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد جوق در جوق داخل ہونے لگے۔ حتیٰ کہ سارا جزیرہ عرب اسلام کا کلمہ پڑھنے لگا۔ اور جو مقصد نبی کریم ﷺ کی بعثت سے تھا پورا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 3{ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ } ”تو پھر آپ ﷺ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے ‘ اور اس سے مغفرت طلب کیجیے۔“
{ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } ”یقیناوہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔“
یعنی ابھی تو آپ ﷺ کو دعوت و تبلیغ اور فریضہ رسالت کے سلسلے میں بہت سی مشقتیں اٹھانی ہیں اور جنگ و قتال کے مراحل سے گزرنا ہے ‘ لیکن جب آپ ﷺ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں یعنی اللہ کا دین غالب ہوجائے تو آپ ﷺ ہمہ وقت ‘ ہمہ تن اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہوجایئے گا۔ نوٹ کیجیے ! سورة الانشراح کی آخری آیات میں بھی اسی اسلوب و انداز میں بالکل ایسا ہی حکم دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →1 فتح مکہ۔ مکہ پر چڑھائی کا سبب اور کیفیت :۔ فتح سے مراد کسی عام معرکہ کی فتح نہیں بلکہ اس سے مراد مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن قریش کا مرکز شہر مکہ ہے۔ تمام قبائل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ آیا مسلمان مکہ کو فتح کرسکیں گے یا نہیں ؟ اگر کرلیں تو اسلام سچا مذہب ہے ورنہ نہیں۔ ان لوگوں نے اپنے اسلام لانے کو بھی فتح مکہ سے مشروط اور فتح مکہ تک موخر کر رکھا تھا۔ گویا فتح مکہ اسلام اور کفر کے درمیان ایک فیصلہ کن فتح تھی۔ اور خالصتاً اللہ کی مدد سے اور معجزانہ انداز سے واقع ہوئی تھی۔ جس میں مسلمانوں کو معمولی سے معرکہ کی بھی ضرورت پیش نہ آئی۔ مکہ پر چڑھائی کا فوری سبب قریش مکہ کی عہد شکنی تھی جو انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ چناچہ عمان، حضر موت، یمن، سب کہیں سے، عرب کے دور دراز مقامات سے وفد پر وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اظہار اطاعت کے لیے چلے آرہے تھے۔ اور قبیلے پر قبیلے اسلام کی طرف سبقت کرنے لگے تھے۔ (آیت) ” جآء نصر اللہ “۔ یعنی اللہ کی نصرت مشاہدہ میں آنے لگے۔ (آیت) ” والفتح۔ الفتح “۔ سے مراد فتح مکہ لی گئی ہے۔ جو رمضان 8 ھ میں حاصل ہوئی تھی، وعن عائشۃ ان المراد بہ فتح مکۃ وروی ذلک عن مجاھد وغیرہ وصححہ الجمھور (روح) شہر مکہ تسخیر ہوجانے کے بعد کہنا چاہیے کہ سارے ہی حجاز پر اسلام کا تسلط ہوگیا تھا۔ باعتبار ان فتح مکۃ کان ام الفتوح (روح) (آیت) ” نصر “۔ فتح کے درمیان فرق یہ ہے کہ (آیت) ” نصر “ تو دشمن پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب اپنے نبی ﷺ کے لئے اس کے دشمنوں پر اللہ کی مدد آجائے اور فتح مکہ نصیب ہوجائے اور تو لوگوں کو دیکھ لے کہ اللہ کے دین اسلام میں جوق در جوق داخل ہو رہے ہیں بعد اس کے کہ دین میں ایک ایک کر کے اخل ہو رہے تیھ اور یہ صورت حال فتح مکہ کے بعد ہوئی کہ عرب بخوشی اطراف و جوانب سے (دنیا میں داخل ہونے کے لئے) آئے، تو اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرنے لگو اور اس سے مغفرت طلب کرو، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے، چناچہ اس سورت کے نزول کے بعد آپ ﷺ سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ بکثرت پڑھا کرتے تھے اور اس سے سمجھ گئے تھے کہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →اذا جاء نصر اللہ . جب اللہ کی مدد آچکی یعنی جب اللہ نے تم کو دشمنوں پر غلبہ عنایت کردیا ‘ اگر اس سورة کا نزول فتح مکہ کے دن فتح کے بعد مانا جائے تو اِذَا (شرطیہ) اِذْ (ظرفیہ) کے معنی میں ہوگا جیسے آیت : اذا جاء امرنا وفار التنور میں اور آیت : حتی اذا بلغ مغرب الشمس میں ( اِذَا بمعنی اِذْ ) ہے۔
والفتح . اور فتح یعنی فتح مکہ۔ طبرانی نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح کے دن فرمایا : یہ وہی ہے جس کا وعدہ میرے رب نے مجھے سے فرمایا تھا ‘ پھر آپ ﷺ نے اذا جاء نصر اللہ والفتح کی تلاوت فرمائی۔
اصحاب اخبار نے فتح کا قصہ اس طرح لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال قریش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) جب دشمنوں کے خلاف اللہ کی مدد آپہنچے اور مکہ فتح ہوجائے اور یمن والے اسلام میں جماعت در جماعت آنے لگیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1) اذا جآء نصر اللہ والفتح …: ابن کثیر نے فرمایا کہ ”الفتح“ سے مراد یہاں فتح مکہ ہے، اس پر اتفاق ہے۔ عرب کے قبائل اسلام قبول کرنے کے لئے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ اپنی قوم پر غالب آگیا تو بلاشبہ وہ نبی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ہاتھوں سے مکہ فتح فرما دیا تو وہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے۔ اس کے بعد دو سال نہیں گزرے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہوگیا اور تمام قبائل میں کوئی ایسا شخص نہ تھا جو اسلام کا اقرار نہ کرتا ہو۔ (الحمد للہ) بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں عمرہ بن سلمہ ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا، جب مکہ فتح ہوا تو ہر قوم نے چاہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس…
Read the full tafseer →اذا جاء نصر اللہ والفتح۔
جب اللہ کی مدد آپہنچے اور فتح (نصیب ہوجائے)
نصر کا معنی مدد ہے یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : قد نصر الغیث الارض، بارش نے نباتات کے اگانے میں زمین کی مدد کی جبکہ وہ قحط کا شکار تھی شاعر نے کہا :
اذا انسلخ الشھر الحرام فودعی۔۔۔ بلاد تمیم وانصری ارض عامر
جب شہر حرام گزر جائے تو تمیم کے علاقوں کو الوداع کہہ دے اور عامر کے علاقہ کی مدد کر۔
اس میں تہدید کا معنی ہے، یہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے لنا اعمالنا ولکم اعما لکم (القصص) اگر تم اپنے دین پر راضی ہو تو ہم اپنے دین سے راضی ہیں۔ یہ قتال کے حکم سے قبل کا حکم ہے اسے آیت سیف سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ ایک قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا جاء نصر اللہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
3۔ ابن جریرے عطا بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ اذا جاء نصر اللہ والفتح ساری کی ساری مدینہ میں نازل ہوئی۔ فتح مکہ اور لوگوں کے دین میں داخل ہونے کے بعد اور اس میں آپ کو اپنے وصال کی خبر دی گئی۔
4۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والبزار وابو یعلی وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ سورة نبی اکرم ﷺ پر ایام تشریق کے درمیان منیٰ میں نازل ہوئی اور اس وقت آپ حجۃ الوداع کی ادائگی میں تھے یعنی…
Read the full tafseer →[اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰهِ : جب آئے اللہ کی مدد ][ وَالْفَتْحُ : اور وہ فتح ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اوپر سورة ٴ نصر کا ترجمہ کیا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ شانہ ٗ نے رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ جب اللہ کی مدد آجائے اور آپ لوگوں کو دیکھیں کہ فوج در فوج، جوق در جوق اسلام میں داخل ہو رہے ہیں تو آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کرنے میں مشغول ہوجائیں اور تسبیح کے ساتھ اللہ کی حمد بھی بیان کریں مثلاً یوں کہیں سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ اور اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کریں اور آخر میں یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔
رسول اللہ ﷺ تو ہمیشہ ہی تسبیح وتحمید و استغفار میں لگے رہتے تھے اس سورت میں جو ان چیزوں میں مشغول رہنے کے لیے خطاب فرمایا ہے اس خطاب کی وجہ سے آپ نے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ذکر بشارت فتح ونصرت و غلبہ دین و ظہور اسلام مع حکم تسبیح و استغفار :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا جآء نصر اللہ والفتح ...... الی ........ انہ کان توابا “۔
(ربط) اس سے قبل سورة کافرون میں اس امر کا حکم تھا کہ مشرکین کی سازشوں سے مسلمانوں کے قدم جادہ استقامت سے کسی درجہ میں متزلزل نہ ہونے چاہئیں ان کو وضح اعلان کی صورت میں کہہ دیا جائے کہ ان کی خواہشات اور کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں گی اور اس امر کی کوئی امکان نہیں کہ حق اور باطل میں کوئی باہمی سمجھوتہ ہو اگر کفار مکہ شرک اور کفر سے باز آنے کو تیار نہیں تو پھر حق پرست اور مسلمان کیونکر ایمان و توحید کے تقاضوس سے دست بردار ہوسکتا ہے اس مرحلہ پر تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” اذا جاء “ اذا کی جزا محذوف ہے۔ ای فستری ما تری۔ جب اللہ کی مدد اور فتح کی بشارت آگئی تو تم اس کی برکات دیکھ لوگے۔ ” ورایت الناس “ تم دیکھو گے کہ لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ فتح و نصرت کی برکات میں سے ایک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النصر ہے۔ اس کا دوسرا نام سورة التودیع بھی ہے 1 ؎ جس کا معنی رخصت کرنے والی ہے ۔ یعنی اس سورة میں حضور ﷺ کے دنیا سے رخصت ہونیکا اشارہ پایا جاتا ہے۔ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ بلکہ مکمل سورة نازل ہونے والی یہ آخری سورة ہے 2 ؎ اس کے بعد کوئی پوری کی پوری سورة نازل نہیں ہوئی۔ البتہ چند آیات ضرور اس ی سورة کے بعد بھی نازل ہوئی ہیں۔ اس سورة کی تین آیات ، انیس الفاظ اور اناسی حروف ہیں۔
الوداعی سورة
احادیث سے معلوم 3 ؎, ہوتا ہے کہ جس مجلس میں یہ سورة حضور نبی کریم ﷺ نے پڑھ کر سنائی۔ اس مجلس میں حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت سعد اور آپ کے چچا…
Read the full tafseer →اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ 1 ۙ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔
اذا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب ¦ اذا منصوبۃ بجاء وقیل یسبح نصر اللہ مصدرمضاف الی الفاعل والمفعول محذوف ای نصرہ ایاک اوالمؤمنین وھذا فاعل جاء ومعناہ حصل وانما عبربہ بالمجیٔ تجوزاً للاشعار بان نصرہ یقینی وقد قرب حصولہ والفتح عطف علی نصر اللہ ورایت عطف علی جاء ورایت ان کان بمعنی العلم فمفعولہ الاول الناس والثانی یدخلون وان کان بمعنی ابصرت فیدخلون حال۔ وعلی التقدیرین افواجا حال فاعل یدخلون ای فوجا بعد فوج فسبح الخ جواب الشرط بحمد ربک فی محل النصب علی الحال ای سبح اللہ حامدالہ او متلبساء بحمدہ ای قل سبحان اللہ بحمدہ واستغفرہ عطف علیٰ سبح انہ کان الخ تعلیل لقولہ استغفرہ ای لان من شانہ قبول التوبۃ۔
تفسیر ¦ یہ سورة جمہور کے…
Read the full tafseer →اِذَا جَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ ۔ (النصر : 1)
(جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہوجائے۔ )
یہ آخری سورة ہے، نصر اور فتح مخصوص مفہوم میں ہے
ہم اس سے پہلے یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ یہ سورة قرآن کریم کی آخری سورة ہے، اس کے بعد کوئی مکمل سورة نازل نہیں ہوئی۔ البتہ بعض آیات کا نازل ہونا ثابت ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) کے قول کے مطابق اس سورة میں آنحضرت ﷺ کی وفات حسرت آیات کی خبر دی گئی ہے۔ اور حضرت عمرفاروق ( رض) جیسے بالغ نظر شخص نے بھی اس بات کی تصدیق فرمائی۔ اور اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت آپہنچے، ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہ مدد نہیں ہے جو زندگی کے بیشتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
ربط سورت : نبی ﷺ کو سورة الکافرون میں حکم ہوا کہ کفار کے سامنے کھلے الفاظ میں اعلان فرما دیں کہ تمہارے لیے تمہارا دین میرے لیے میرا دین ہے۔ لہٰذا جو چاہو کرلو میں کبھی تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کروں گا، سورة النصر میں آپ ﷺ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ یہ دین ہر صورت غالب اور کامیاب ہو کر رہے گا۔ یاد رہے کہ یہ سورت نبی ﷺ کی وفات سے تقریباً تین ماہ پہلے نازل ہوئی جس میں آپ کو کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے۔
نبی معظم ﷺ کی عظیم الشان اور بےمثال جدوجہد کو تاریخی حساب سے دیکھا جائے تو آپ کی جدوجہد کو مجموعی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، ایک نبوت کے آغاز سے لے کر بدر کے معرکہ تک کا…
Read the full tafseer →1 : اِذَاجَآ ئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفتْحُ (جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آپہنچے)
نحو : اذاؔ یہ فسبح کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور یہ مستقبل میں پیش آئندہ واقعہ کی اطلاع وقوع سے قبل دے دی گئی ہے۔ یہ علامات نبوت میں سے ہے۔ روایت میں ہے یہ حجۃ الوداع میں ایام تشریق کے دنوں میں نازل ہوئی۔
علاماتِ نبوت سے فتح کی پیشگوئی :
جَآ ئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفتْحُ النصر اعانت اور دشمنوں کی مغلوبیت۔ الفتح علاقوں کا مفتوح ہونا۔ معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کی عرب کے خلاف مدد فرمائیں گے یا قریش کے خلاف مدد فرمائیں گے۔ اور مکہ فتح ہوجائے گا یا ایمان والوں کی نصرت فرمائیں گے اور مشرکین کے علاقوں پر ان کو فتح دیں…
Read the full tafseer →فتح مکہ کا واقعہ
1 ۔” اذا جاء نصر اللہ والفتح “ اصحاب اخبارنے فتح کا قصہ اس طرح لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال قریش سے دس سال کے لئے صلح کرلی جس کی شرط یہ تھی کہ اس مدت کے اند ر لوگ امن سے رہیں گے اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے حلیف ہونا چاہیں گے وہ آپ ﷺ کے معاہدہ میں ہوں گے اور جو لوگ قریش کے حلیف ہونا چاہیں گے قریش کے معاہدہ میں ہوں گے۔ چناچہ بنی بکر قریش کے معاہدہ میں داخل ہوگئے اور بنی خزاعہ رسول اللہ ﷺ کے حلیف ہوگئے۔ بکر اور خزاعہ میں پرانی جنگ تھی۔ کچھ مدت کے بعد بنی بکر کی ایک شاخ بنی نفاثہ نے بنی خزاعہ پر زیادتی کی اور بنی نفاثہ کے قبیلہ نوفل بن معاویہ دیلمی نے مکہ کے نشیبی حصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ تفسیر قتادہ اور مقاتل میں ہے کہ اس سورة کے نازل ہونے کے دو برس کے بعد آنحضرت ﷺ نے وفات پائی اس سورة کو سورة تودیع اس واسطے کہتے ہیں کہ اس سورة کے نازل ہونے سے صحابہ سمجھ گئے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے دنیا سے وداع اور رخصت ہونے کا زمانہ قریب ہے۔ صحیح 2 ؎ بخاری مسلم ابو داؤود نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورة کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفرلی اس سے معلوم ہوا کہ امت میں جو شخص بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے۔ اس کو یہ دعا کثرت سے پڑھنی چاہئے۔ مسند 1 ؎ امام احمد مستدرک حاکم وغیرہ میں جابر بن عبد اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اس سورة کریمہ میں ایک خوش خبری ہے اس خوش خبری کے حاصل ہوجانے پر رسول اللہ کے لیے ایک حکم ہے نیز اس میں اس خوش خبری پر مترتب ہونے والے احوال کی طرف اشارہ اور اس پر تنبیہ ہے خوش خبری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول کے لیے نصرت فتح مکہ اور لوگوں کے اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہونے کی ہے ان میں سے بہت لوگ آپ کے دشمن تھے اس کے بعد وہی لوگ آپ کے اعوان وانصار ہوں گے اور جس چیز کے بارے میں خوش خبری دی گئی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔ رہافتح ونصرت کے بعد حکم توا للہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اس فتح ونصرت پر اس کا شکر ادا کریں اس کی حمدوثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کریں اور اس سے استغفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فتح کی خوشی میں یاد الٰہی
قول باری ہے (اذا جآء نصر اللہ والفتح ۔ جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہوجائے) روایت ہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے۔ اس سے یہ دلالت حاصل ہوتی ہے کہ مکہ بزور شمشیر فتح ہوا تھا۔ کیونکہ لفظ کا اطلاق اس کا مقتضی ہے۔ فتح کے لفظ کو صلحاً فتح کی طرف صرف اس صورت میں موڑا جائے گا جبکہ اس کے ساتھ کسی قید کا ذکر کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →1 ۔ بشارت فتح کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب آجائے اللہ کی مدد اور حاصل ہوجائے وہ فتح جو کہ عظیم الشان فتح ہے اور جس کے بعد اسلام کا غلبہ ظاہر اور واضح ہوجائے کسی کو اس ملک میں اس دین حق سے ٹکر لینے کی ہمت نہ رہے، اور سب پر یہ حقیقت واضح وعیاں ہوجائے کہ اب دین حق اسلام ہی کو اس ملک عرب میں غالب ہو کر رہنا ہے، عام اور مشہور قول کے مطابق اس سے مراد فتح مکہ ہے اور اس میں شک بھی نہیں کہ فتح مکہ بھی ایک عظیم الشان فتح تھی، اور دشمنان اسلام خاص کر مشرکین مکہ اور ان کے حوالی موالی دوسرے کفار و مشرکین اسی کی انتظار میں تھے، اور ان کا کہنا تھا کہ ان ظھر علی قومہ فھو نبی یعنی اگر یہ صاحب اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تسبیح اور مغفرت کا حکم
تشریح :۔ اس سورت میں شان ربوبیت کی بڑی اچھی تصویر پیش کی گئی ہے۔ کیونکہ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب حضور ﷺ کی پوری زندگی کی عبادت ' ریاضت ' جسمانی و روحانی محبت الٰہی اور جانفشانی و محنت کا نتیجہ دنیا کے سامنے آگیا تھا۔ پہلے تو لوگ اسلام کے نام سے ڈرتے تھے اسلام کے نام لیوا کو بدترین دشمن سمجھتے تھے مگر اب یہ حال تھا کہ دور دراز سے قبیلوں کے قبیلے اسلام میں داخل ہو رہے تھے کیونکہ 9 ھ سے 10 ھ تک پورے کا پورا عرب مسلمان ہوچکا تھا کوئی مشرک باقی نہ رہا تھا۔
تب اللہ کا حکم نازل ہوا کہ اس اتنی بڑی کامیابی پر اللہ کے سامنے شکر بجا لاؤ۔ بیشک یہ کامیابی کوئی معمولی کامیابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة النصر۔
آیات 1 تا 3۔
اسرار ومعارف۔
جب اللہ کی مدد آئی جو ہمیشہ آپ کے ساتھ تھی مگر جب مخالفین کو بھی نظر آنے لگی اور مکہ کی فتح کے آثار ہوئے جو قبل ازیں لوگوں کو ناممکن نظر آتا تھا تو آپ دیکھیں گے لوگ فوج درفوج اسلام میں داخل ہونے لگے کچھ قریش کے خوف سے رکے ہوئے تھے اور کچھ قریش کا انجام دیکھنا چاہتے تھے جب مکہ مکرمہ فتح ہوا نصرت اسلام کے جھنڈے گڑھ گئے اور آپ کو اور دین کو غلبہ حاصل ہوا جہاد اور قربانیاں قبول ہو کر نتیجہ برآمد ہوا تو آپ اپنے پروردگار کی اور تعریف کیجئے اور بخشش طلب فرمالیجئے کہ بندے کو کامیابی بھی دھوکے میں ڈالے بلکہ یہ زیادہ شکر کرنے کا مقام ہے اور اللہ سے بخشش طلب کی…
Read the full tafseer →ف 2 مطلب یہ ہے کہ وہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ گیا جس کے لئے آپ کو دنیا میں بھیجا گیا تھا۔
Read the full tafseer →(110:1) اذا جاء نصر اللہ والفتح : اذا شرطیہ بمعنی اذ ظرفیہ۔ نصر اللّٰہ مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل۔
الفتح : واؤ عاطفہ۔ الفتح کا عطف نصر پر ہے۔ جب اللہ کی مدد اور فتح آچکی۔ نصر مصدر۔ بمعنی مدد۔ النصر مدد کرنا۔ مطلوب کے حاصل کرنے میں مدد۔ اور الفتح مطلوب کا حاصل کرلینا۔
الفتح سے کونسی فتح مراد ہے۔ اس میں متعدد اقوال ہیں :۔
(1) اس سے فتح مکہ مراد ہے۔
(2) اس سے مراد خیبر کی فتح ہے۔
(3) جمیع فتوحات مراد ہیں۔
(4) فتوحات غیبیہ و علوم اسرار ملکوتیہ مراد ہیں۔ (تفسیر حقانی)
(5) فتح مکہ اور فتح بالد شرک مراد ہیں۔ (مدارک)
جمہور کے نزدیک الفتح سے مراد فتح مکہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن۔
جاء ۔ آگیا۔ نصر اللہ۔ اللہ کی مدد۔ یدخلون۔ وہ داخل ہوتے ہیں۔ افواج۔ جماعتیں۔ سبح۔ تسبیح کیجئے۔ استغفر۔ بخش مانگئے۔ تو اب۔ بہت توبہ قبول کرنے والا۔
تشریح : انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں تاکہ وہ جس غلط راستے پر چل رہے ہیں اس سے ہٹ جائیں۔ ان کی زندگیاں سنور جائیں اور ان کی دنیا اور آخرت بہتر سے بہتر ہوجائے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک ہزاروں رسول اور نبی آتے ہیں۔ اللہ نے آخر میں اپنے محبوب نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حجاز کے اس علاتے میں مبعوث فرمایا جہاں کفرو شرک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سب سے آخری سورت کا نازل ہونا اور صدیق اکبر کا عشق رسول ﷺ ۔
(ف 1) اس سورت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ۔ کی بہت کثرت فرمائی، حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ یہ سورة حجۃ الوداع میں بمقام منی نازل ہوئی اس کے بعد الیوم اکملت لکم دینکم نازل ہوئی، اس کے نازل ہونے کے بعد اسی روز حضور نے دنیا میں تشریف رکھی پھر آیت الکلالہ نازل ہوئی اس کے بعد حضور پچاس روز تشریف فرما رہے، پھر آیت واتقویومان ترجعون فیہ الی اللہ۔ نازل ہئوی اس کے بعد حضور اکیس روز یا سات روز تشریف فرما رہے، اس سورت مبارکہ کے نازل ہونے کے بعد صحابہ نے سمجھ لیا کہ دین کام اور تمام ہوگیا، تو اب حضور…
Read the full tafseer →[1] یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے جو نبی اکرم ﷺ کی وفات سے تقریباً تین ماہ پہلے نازل ہوئی۔ اس کے بعد بعض آیات تو نازل ہوئیں مگر کوئی پوری سورت نازل نہیں ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة النصر
یہ سورة فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور اس میں اس فتح کا ذکر ہے کہ وہ وقت بالکل قریب ہے کہ آپ دس ہزار قدمیوں کے ساتھ مکہ میں داخل ہوں گے اور آپ دیکھیں گے کہ کیوں کہ لوگ اس فتح ونصرت سے متاثر ہوکر فوج در فوج اور کارواں در کارواں اللہ کے دین میں داخل ہوتے ہیں ۔ بات یہ تھی کہ وہ سعادت مندروحیں جنہوں نے اسلام کو دلائل کی روشنی میں دیکھا اور اس کی حقانیت میں ان کو بالکل شک وشبہ نہیں رہا ۔ وہ مکہ میں اس وقت حلقہ بگوش اسلام ہوچکی تھیں جب کہ اسلام ظاہری شان و شکوہ کا بالکل حامل نہیں تھا ۔ مگر ایک تعداد کثیر ایسے لوگوں کی تھی ، جن کی انجام کار پر نظر تھی ۔ ان کی رائے تھی کہ…
Read the full tafseer →(1) اے محمد ﷺ جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آپہنچے۔ یعنی مکہ معظمہ کی فتح آجائے اور جب اس فتح پر فتح کے آثار مرتب ہونے لگیں اور وہ آثار یہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 7۔ تو اس وقت سمجھ لیجئے کہ مقصود دنیا میں رہنے کا اور بعثت کا کہ تکمیل دین ہے ختم ہوا۔ اس وجہ سے آخرت کا سفر قریب ہے پس اس کے لئے تیاری کیجئے۔
Read the full tafseer →جب اللہ کی مدد اور کامل غلبہ آجائے گا (تو آپ ﷺ کی ذمہ داری ؟ )
1 زیر نظر ایت میں مکہ فتح ہونے کی خوشخبری سنائی جارہی ہے کہ اب وہ وقت بس آیا کہ آیا گویا مکہ فتح ہوا کہ ہوا۔ پھر جب تکمیل فرض کی سعادت آپ ﷺ کو حاصل ہو تو آپ ﷺ کی ذمہ داری کیا ہے اور وہ کونسا اُسوئہ حسنہ ہے جس کو ایسے موقع کے لیے آپ ﷺ کو چھوڑنا ہے ؟ فرمایا وہ یہ ہے کہ بھولے سے بھی یہ خیال آپ ﷺ کونہ آنئے کہ اس کامیابی میں تمہارا بھی کوئی کمال ہے اور یہ تمہاری کسی قابلیت کا نتیجہ ہے۔ تمہاری ہونہاری ، تمہاری ہوشیاری کا بھی کوئی دخل ہے بلکہ یہ خیال رکھنا کہ یہ میرے بندہ نواز اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی نصرت و تائید اور میری یہ کامیابی…
Read the full tafseer →Name of the Surah and place of its revelation
According to the consensus of scholars, this Surah was revealed in Madinah. Its other name is Surah At-Tawdi`. The word Tawdi` means 'to bid farewell'. As this Surah indicates the approach of the demise of the Holy Prophet ﷺ ، it bids farewell to him and is thus entitled Surah At-Tawdi'.
The Last Surah and the Last Verses of the Noble Qur’ an
It is recorded in Sahih of Muslim on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، that Surah An-Nasr was the last Surah to be revealed. [ Qurtubi ]. This means that this was the last complete Surah that was…
Read the full tafseer →1 Victory here dces not imply victory in any one particular campaign but the decisive victory after which there remained no power in the land to resist and oppose Islam, and it became evident that Islam alone would hold sway in Arabia Some commentators have taken this to imply the Conquest of Makkah. But the conquest of Makkah took place iu A.H. 8, and this Surah was revealed towards the end of A.H.10, as is shown by the traditions related on the authority of Hadrat `Abdullah bin `Umar and Hadrat Sarra' bint Nabhan, which we have cited in the Introduction. Besides, the statement of Hadrat…
Read the full tafseer →