لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَلِیَ دِیْنِ ۟۠لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ
تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر
— Fateh Muhammad Jalandhari
For you is your religion, and for me is my religion."
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 34 of juzع
لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَلِیَ دِیْنِ ۟۠لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ
تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر
— Fateh Muhammad Jalandhari
For you is your religion, and for me is my religion."
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 34 of juzع
Read the whole surah · Surah Al-Kaafiroon
تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین
تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر
تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے
تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔
تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین
(سو) تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے،
تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔
تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین
تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین !
تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین
تمہیں تمہارا بدلہ ملے گا اور مجھے میرا بدلہ۔
اب تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔
تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین
To you is your religion, and to me, my religion.
For you is your faith, and for me, my faith.
For you is your faith, and for me, my faith.
"To you be your religion, and to me my religion."
Unto you your religion, and unto me my religion.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
For you is your religion, and for me is my religion."
You follow your religion and I follow mine.
You shall have your religion and I shall have my religion.
Yours shall be your requital, and mine shall be my requital.
To you be your Way, and to me mine.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–6
مشرکین الگ اور موحدین الگ : اس سورة مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ہے اور اللہ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ہے گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ہے لیکن دراصل روئے زمین کے تمام کافر مراد ہیں اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان کافروں نے حضور ﷺ سے سے کہا تھا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں تو اگلے سال ہم بھی اللہ کی عبادت کریں گے اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق ﷺ کو حکم دیا کہ ان کے دین سے اپنی پوری بیزاری کا اعلان فرما دیں کہ میں تمہارے ان بتوں کو اور جن جن کو تم اللہ کا شریک مان رہے ہو ہرگز نہ پوجوں گا گو تم بھی میرے معبود برحق اللہ وحدہ لا شریک لہ کو نہ…
Read the full tafseer →سورة الکافرون 5 یعنی میرا دین الگ ہے اور تمہارا دین الگ۔ میں تمہارے معبودوں کا پرستار نہیں اور تم میرے معبود کے پرستار نہیں۔ میں تمہارے معبودوں کی بندگی نہیں کرسکتا اور تم میرے معبود کی بندگی کے لیے تیار نہیں ہو۔ اس لیے میرا اور تمہارا راستہ کبھی ایک نہیں ہوسکتا۔ یہ کفار کو رواداری کا پیغام نہیں ہے، بلکہ جب تک وہ کافر ہیں ان سے ہمیشہ کے لیے براءت، بیزاری اور لا تعلقی کا اعلان ہے، اور اس سے مقصود ان کو اس امر سے قطعی اور آخری طور پر مایوس کردینا ہے کہ دین کے معاملہ میں اللہ کا رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کا گروہ کبھی ان سے کوئی مصالحت کرے گا، یہی اعلان براءت اور اظہار بیزاری اس سورة کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
خلاصہ تفسیر آپ (ان کافروں سے) کہہ دیجئے کہ اے کافرو (میرا تمہارا طریقہ ایک نہیں ہوسکتا اور) نہ (قوفی الحال) میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا ہوں اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرتے ہو اور نہ (آئندہ استقبال میں) میں تمہارے معبودوں کی پرستش کروں گا اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرو گے (مطلب احقر کے نزدیک یہ ہے کہ میں موجد ہو کر شرک نہیں کرسکتا نہ اب نہ آئندہ، اور تم مشرک ہو کر موحد نہیں قرار دیئے جاسکتے نہ اب نہ آئندہ، یعنی توحید و شرک جمع نہیں ہو سکتے۔) تم کو تمہارا بدلہ ملے گا اور مجھ کو میرا بدلہ ملے گا (اس میں ان کے شرک پر وعید بھی سنا دی گئی۔) معارف مسائل سورت کے فضائل اور خواص۔ حضرت صدیقہ…
Read the full tafseer →آشکارا اعلان براء ت: یعنی جب میرے دین اور تمہارے دین میں کوئی اشتراک ماضی میں نہ ہوا، نہ حاضر میں ہے تو آئندہ کس طرح توقع کرتے ہو کہ ہم کسی ایک نقطہ پر مجتمع ہو سکیں گے۔ اس وجہ سے سمجھوتے کی توقع بالکل لاحاصل ہے۔ میرے لیے میرا دین ہے اور تمہارے لیے تمہارا دین۔ میں اپنے طریقہ پر کام کرتا ہوں اور تم اپنے طریقہ پر کام کرو اور دیکھو کہ انجام کار میری بات سچی ثابت ہوتی ہے یا تمہاری۔ یہی بات سورۂ انعام میں یوں ارشاد ہوئی ہے: ’قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ‘ (الانعام ۶: ۱۳۵) (کہہ دو، اے میری قوم کے لوگو، تم اپنی جگہ پر کام کرو، میں اپنی جگہ پر کام کرتا ہوں) سورۂ ہود آیت…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی اگر تم اپنے دین پر راضی ہو اور اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو، تو میں اپنے دین پر راضی ہوں میں اسے کیوں چھوڑوں۔ ؟ (لنا اعمالنا ولکم اعمالکم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1: یہ سورت اس وقت نازل ہوئی تھی جب مکہ مکرمہ کے کچھ سرداروں نے جن میں ولیدبن مغیرہ، عاص بن وائل وغیرہ شامل تھے حضور اقدس ﷺ سے صلح کی یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کرلیا کریں تو دوسرے سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کرلیں گے، کچھ اور لوگوں نے اسی قسم کی کچھ اور تجویز بھی پیش کیں جن کا خلاصہ یہی تھا کہ آنحضرت ﷺ کسی نہ کسی طرح ان کافروں کے طریقے پر عبادت کے لئے آمادہ ہوجائیں تو آپس میں صلح ہوسکتی ہے، اس سورت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح فرمادیا کہ کفر اور ایمان کے درمیان اس قسم کی کوئی مصالحت قابل قبول نہیں ہے جس سے حق اور باطل کا امتیاز ختم ہوجائے اور دین برحق میں کفر کی ملاوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
انکار کے بعد انکار ، تاکید کے بعد تاکید اور قطعیت کے بعد قطعیت۔ نفی ، قطعیت اور تاکید کے تمام صیغے اور اسالیب اس سورت میں جمع کردیئے گئے ہیں۔ قل ” کہہ دو “۔ یہ دو ٹوک خدائی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ نظریہ مامور من اللہ ہے۔ یہ اللہ وحدہ کا حکم ہے اور اس میں حضرت محمد ﷺ کا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس حکم سے سرتابی نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ کوئی ایسا وجود ہے جو اللہ کے حکم کو رد کرسکے۔ قل ............ الکفرون (1:109) ” کہہ دو اے کافرو “۔ اللہ نے ان کو اس لفظ سے پکارا جس کا اطلاق ان پر حقیقی معنوں میں ہوتا ہے۔ ایک ایسی صفت سے ان کو بلایا گیا جو ان کے اندرونی…
Read the full tafseer →4 حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ " یعنی تم نے ضد باندھی اب سمجھانا کیا فائدہ کرے گا جب تک اللہ فیصلہ کریں " اب ہم تم سے بالکل بیزار ہو کر اسی فیصلہ کے منتظر ہیں۔ اور جو دین قویم اللہ نے ہم کو مرحمت فرمایا ہے اس پر نہایت خوش ہیں، تم نے اپنے لئے بدبختی سے جو روش پسند کی وہ تمہیں مبارک رہے۔ ہر ایک فریق کو اس کی راہ و روش کا نتیجہ مل رہے گا۔
Read the full tafseer →آیت 6{ لَـکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ۔ } ”اب تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔“ اب میرا تمہارا تعلق ختم۔ تم لوگ جس راستے پر جا رہے ہو تمہیں وہ راستہ مبارک ہو۔ تم اپنے حال میں مست رہو ‘ میں اپنے دین حق پر ثابت قدم ہوں۔ حق و باطل کا یہ معرکہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر رہے گا اور تم دیکھو گے کہ جلد ہی جزیرئہ عرب پر دین اسلام غالب آکر رہے گا۔
Read the full tafseer →4 شرک سے متعلق کسی قسم کی لچک اور رواداری کی کوئی گنجائش نہیں :۔ یہ ہے وہ دوٹوک فیصلہ جو صرف مکہ کے کافروں کو نہیں، دنیا بھر کے کافروں کو بھی نہیں بلکہ مسلمانوں کو بھی واضح الفاظ میں بتایا گیا کہ مشرکوں کو ان کے معبود مبارک رہیں۔ مگر مسلمان اسے کسی قیمت پر گوارا نہیں کرسکتے۔ شرک کے معاملہ میں اسلام نے کسی قسم کی لچک اور روا داری برداشت نہیں کی۔ خواہ یہ مشرک کافر ہوں یا اپنے آپ کو مسلمان ہی کہلاتے ہوں۔ کیونکہ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود لوگوں کی اکثریت مشرک ہی ہوتی ہے جیسا کہ سورت یوسف کی آیت نمبر 106 میں فرمایا : ( وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ 106۔ ) 12 ۔…
Read the full tafseer →3۔ یعنی توحید پر انعام اور شرک پر عذاب۔ بعض لوگوں نے عجب ” خوش فہمی “ سے کام لے کر اس آیت کو اسلام کی ” رواداری “ اور ” مرنجان مرنج پالیسی “۔ کے ثبوت میں پیش کیا ہے کہ اسلام نے ہر مذہب والے کو اپنی اپنی جگہ قائم اور باقی رہنے کی اجازت دے دی ہے۔ حالانکہ واقعہ اس کے برعکس ہے۔ آیت تو اکبر (فرمانروائے ہند) کے نکالے ہوئے مخلوطی دین اور اسی قبیل کی ساری کوششوں کی لاحاصلی اور ناکامی کا اعلان کررہی ہے۔ (آیت) ” دین “۔ اردو میں بیشک مذہب ہی کا مرادف ہے، لیکن عربی میں اس کے یہ معنی صرف ثانوی اور مجازی ہیں، اصلی اور اولی معنی جزا یا بدلہ ہی کے ہیں۔ الدین ھوالحساب اے لکم حسابکم ولی حسابی (کبیر) جائز ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کہہ دیجیے، اے کافرو ! نہ میں فی الحال ان بتوں کی بندگی کرتا ہوں جن کی تم بندگی کرتے ہو اور نہ فی الحال تم بندگی کرتے ہو اس کی جس کی میں بندگی کرتا ہوں اور وہ اللہ وحدہ ہے، اور نہ میں آئندہ بندگی کرنے والا ہوں جن کی تم بندگی کرتے اور نہ تم آئندہ بندگی کرنے والے ہو اس کی جس کی میں بندگی کرتا ہوں اللہ کو ان کے بارے میں علم تھا کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں، اور ما کا اللہ پر اطلاق بطور مقابلہ ہے، تمہارے لئے تمہارا دین شرک ہے اور میرے لئے میرا دین اسلام ہے اور یہ حکم، جہاد کا حکم دیئے جانے سے پہلے کا ہے، اور قراء سبعۃ نے…
Read the full tafseer →لکم دینکم ولی دین . یہ دونوں جملے خبری ہیں ‘ یعنی جس دن پر تم ہو کبھی اس کو نہیں چھوڑو گے اور جس دین پر میں ہوں انشاء اللہ اس کو نہیں چھوڑونگا۔ اس تفسیر پر اس آیت سے نہ کافروں کو کفر پر رہنے کی اجازت مستفاد ہوتی ہے ‘ نہ مسلمانوں کیلئے جہاد کی ممانعت نکلتی ہے بلکہ مضمون سابق کی تکمیل اور تاکید ہے اور دونوں جملوں میں خبر کو مبتداء سے پہلے ذکر کرنا مفید تاکید ہے ‘ جب اس آیت میں ممانعت جہاد ہی نہیں ہے تو پھر اسکو آیت جہاد سے منسوخ قرار دینا ہی غلط ہے اور جب اجازت کفر اس آیت سے مستفاد نہیں ہے تو پھر یہ کہنا کہ یہ ہر فریق کی طرف سے دوسرے فریق کو اسکے مذہب پر قائم رہنے کی چھوٹ اور باہم سمجھوتہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(1۔ 6) عاص بن وائل اور ولید بن مغیرہ نے حضور سے کہا تھا کہ آپ ہمارے معبودوں کو تسلیم کرلیں تو ہم آپ کے معبود کی عبادت شروع کردیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان استہزاء کرنے والے کافروں سے فرما دیجیے کہ نہ تو فی الحال میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا ہوں اور نہ آئندہ کروں گا تمہیں تمہارا دین یعنی کفر و شرک مبارک ہو اور میرے لیے میرا دین یعنی اسلام ہے ؟ یہ آیت قتال سے منسوخ ہے کیوں کہ حضور نے پھر ان سے قتال فرمایا۔ شان نزول : قل یا ایہا الکفرون الخ طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ قریش نے حضور کو بلایا تاکہ آپ کو بہت سا مال دے دیں کہ جس سے آپ مکہ میں سب سے مال دار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(قل یھا الکفرون…: طبرانی اور تفسیر ابن ایب حاتم وغیرہ میں عبداللہ بن عباس ؓ سے جو معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو ، اس طرح ہم اور تم مل جل کر مکہ میں رہیں، اگر تم ایسا نہیں کرتے تو ایک سال تم ہمارے بتوں کو پوجا کرلیا کرو، دوسرے سال ہم تمہارے الہ کی بندگی کرلیا کریں گے، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ اگرچہ اس شان نزول کی روایت کی سند میں ایک شخص ابوخلف عبداللہ ضعیف ہے، لیکن آیت :(قل افغیر اللہ تامرونی اعبدایھا الجھلون) (الزمر : 63) (کہہ دے ! پھر کیا اللہ کے غیر کے بارے میں تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اس کی عبادت کروں اے جاہلو !) کے مضمون سے اس شان نزول کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ قریش کی…
Read the full tafseer →لکم دینکم ولی دین۔ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔ اس میں تہدید کا معنی ہے، یہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے لنا اعمالنا ولکم اعما لکم (القصص) اگر تم اپنے دین پر راضی ہو تو ہم اپنے دین سے راضی ہیں۔ یہ قتال کے حکم سے قبل کا حکم ہے اسے آیت سیف سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ پوری آیت منسوخ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں سے کوئی چیز بھی منسوخ نہیں کیونکہ یہ خبر ہے اور لم دینکم کا معنی ہے تمہارے لیے دین کی جزا اور میرے لیے میرے دین کی جزا ہے۔ ان کے دین کو دین کا نام دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اسی کا اعتقاد رکھا تھا اور اس سے اپنی وابستگی کی تھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة قل یا ایہا الکفرون مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت قل یا ایہا الکفرون مدینہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعوت دی کہ وہ لوگ آپ کو اتنا مال دیں گے کہ آپ مکہ مالدار لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔ اور عورتوں میں سے جس کے ساتھ آپ پسند کریں گے وہ آپ کی شادی کردیں گے۔ اور کہنے لگے یہ سب کچھ آپ کے لیے ہے اے محمد ﷺ اور آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے رک جائیں اور ہمارے معبودوں کا تذکریں برائی کے ساتھ نہ کریں۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہم آپ پر ایک…
Read the full tafseer →[لَكُمْ دِيْنُكُمْ : تمہارے لیے تمہارا دین ہے ][ وَلِيَ دِيْنِ : اور میرے لیے میرا دین ہے ]
Read the full tafseer →آخر سورة میں ﴿ لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ لِيَ دِيْنِ (رح) 006﴾ فرمایا اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ پہلی بات کی تاکید ہے اور مطلب یہ ہے کہ تمہارا دین شرک ہے جس پر تم جمے ہوئے ہو اور میرا دین توحید ہے جس پر میں پختگی سے جما ہوا ہوں نہ تم میرا دین قبول کرنے والے ہو نہ میں تمہارے دین پر آنے والا ہوں، اور بعض مفسرین نے یہ مطلب بتایا ہے کہ تم میرا دین قبول نہیں کرتے تو تم جانو میں دعوت حق دے چكا، نجات کا راستہ بتا چكا، تم دعوت حق کو قبول نہیں کرتے تو میرا پیچھا چھوڑو، مجھے تو شرک کی دعوت نہ دو ، اور تیسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر شخص کو اپنے عقیدہ اور عمل کی جزا ملے گی تمہیں تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اعلان استقامت بر اسلام وشعائر اسلام وبیزاری از مراعات اھل باطل : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یایھا الکفرون ......... الی ........... لکم دینکم ولی دین “۔ (ربط) سورة کوثر میں خیر کثیر کی بشارت سنائی گئی تھی اور یہ اعلان بھی کردیا گیا تھا کہ خداوند عالم نے یہ طے کردیا تھا کہ اس کے پیغمبر ﷺ کا ہی دین غالب ہوگا۔ اور پیغمبر خدا ہی کامیاب ہوں گے اور جو بھی کوئی بغض اور دشمنی رکھے وہی ناکام ذلیل اور تباہ ہوگا، اب اس سورت میں دنیا کے تمام گمراہوں اور باطل ملت کی پیروی کرنے والوں کو جو باطل کو فروغ دینے کے لئے بڑی ہی محنت اور جدوجہد کررہے ہیں کھلے عام اعلان کیا جارہا ہے، اب حق پرستوں کی طرف سے ایسے…
Read the full tafseer →4:۔ ” لکم دینکم “ یہ سلام متارکہ کا اعلان ہے۔ اگر تم نہیں مانتے ہو تو تم اپنے دین شرک پر چلتے رہو اور میں اپنے دین توحید پر چلتا ہوں، بہت جلد دونوں فریق میں اور تم اپنا اپنا انجام دیکھ لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الکفرون ہے۔ اس کی پہلی آیت میں کافروں کا لفظ آیا ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین 1 ؎ نے اس کا نام سورة المقشقشۃ یعنی شفا بخشنے والی سورة بھی بتلایا ہے کہ یہ کفر و شرک کی بیماری سے شفا بخشنے والی سورة ہے تفسیر روحی 2 ؎ المعانی میں اس کا ذکر آتا ہے۔ تاہم زیادہ مشہور سورة الکفرون ہی ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی چھ آیتیں چھبیس الفاظ اور ننانوے حروف ہیں۔ گزشتہ سورة کا خلاصہ پچھلی سورة مبارک میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی فلاح اور کامیابی کے پاکیزہ اصول 1 ؎ روح المعانی ص 249/ج 30 ، در منشور ص 404/ج 6 ، 2 ؎ روح المعانی ص 249/ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ 3 وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ 4 ۙ لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ 6 ۧ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب ¦ یا ایہا حرف النداء الکافرون النادی لا اعبد الخ نداء والجملۃ مقولۃ قولہ قل وفی تکریر قولہ لا اعبد الخ ولا انا عابد الخ قولان الاول التکریر للتاکید والمقام مقام التاکید لان الکفار یطلبون منہ ﷺ عبادۃ اصنامھم بالاصرار والثانی ان الاول للمستقبل والثانی للحال لان لا لاتدخل الاعلی المضارع بمعنی المستقبل فقولہ لا اعبد الخ معناہ لا اعبد فی المستقبل ماتطلبونہ منی من عبارۃ اصنامکم ولا انتم فاعلون فی المستقبل ما ارید منکم من عبارۃ ربی وقیل علی العکس وفی ما سوال لانھا غیر ذی التقول فکیف یصح قولہ ما اعبد فانہ ﷺ یعبد اللہ تعالیٰ وھواعلم العالمین والجواب منہ علی وجہین الاول ان ما مصدریۃ فی الجملتین…
Read the full tafseer →لَـکُمْ دِیْنُـکُمْ وَلِیَ دِیْنِ ۔ (الکافرون : 6) (تمھارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔ ) حرف انکار کی تکمیل یہ اظہارِ براءت اور حرف انکار کی تکمیل ہے۔ یعنی تم نے اپنی زندگی کے لیے جو ضابطہ بنا رکھا ہے وہ تمہارا دین ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو ضابطہ ٔ حیات دیا ہے وہ ہمارا دین ہے۔ ان دونوں میں کوئی اشتراک نہ کبھی ماضی میں ہوا، نہ حاضر میں ہے اور نہ اس کی آئندہ کوئی توقع کی جاسکتی ہے۔ ایسی مغائرت کی موجودگی میں کسی مفاہمت اور سمجھوتے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے میرے لیے میرا دین اور تمہارے لیے تمہارا دین ہے۔ میں اپنے طریقے پر کام کرتا رہوں گا اور تم اپنے طریقے پر کام کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : نبی ﷺ کو سورة الکوثر میں حوض کوثر اور خیر کثیر کی خوشخبری دی گئی جس کا صاف معنی ہے کہ آپ ﷺ کو کسی قسم کی مداہنت کی ضرورت نہیں اس لیے کفار کو صاف طور پر کہہ دینا چاہیے کہ توحید اور شرک، کفر اور اسلام کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ اہل مکہ نے نبوت کے ابتدائی دور میں نبی معظم ﷺ کی دعوت پر خاص توجہ نہ دی لیکن جوں ہی آپ کی دعوت کے اثرات پھیلنے لگے تو مکہ کے سردار چوکس ہوئے اور انہوں نے پوری کوشش کی کہ آپ کی دعوت آگے نہ بڑھ سکے، اس مقصد کے لیے انہوں نے آپ کے خلاف شدید پراپیگنڈہ کیا اور آپ کے ساتھیوں کو زدّ…
Read the full tafseer →6 : لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ (تم کو تمہارا بدلہ ملے گا اور مجھکو میرا بدلہ ملے گا) تمہارے لئے تمہارا شرک اور میرے لئے میری توحید مبارک ہو۔ قراءت : نافع اور حفص نے وَلِیَ فتحہ یاء سے پڑھا اور ابو عمر و ابن عامر نے وَلِیْ ، سکون یاء سے پڑھا ہے۔ ایک روایت ہے ابن مسعود ؓ مسجد نبوی میں داخل ہوئے جبکہ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا نابذبابن مسعود۔ علیحدگی کا اعلان کر اے ابن مسعود۔ تو ابن مسعود ؓ نے قل یایھا الکافرون پڑھی پھر دوسری رکعت میں فرمایا۔ اخلص تو خالص کر تو عبد اللہ بن مسعود نے قل ھو اللہ احد پڑھی۔ جب سلام پھیرا تو آپ نے فرمایا اے ابن مسعود مانگو۔ تمہاری دعاء قبول کی جائے…
Read the full tafseer →6 ۔” لکم دینکم “ شرک۔”…ولی دین “ اسلام۔ ابن کثیر ، نافع اور حفص نے ” ولی “ یاء کے زبر کے ساتھ اور دیگر حضرات نے اس کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ 6۔ طبرانی 3 ؎ اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ اور چند اور مشرکوں نے ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کہ محمد ﷺ تم ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو اور اس طرح ہم اور تم مل جل کر مکہ میں رہیں کہ ایک سال تم ہمارے بتوں کی پوجا کر یا کرو ‘ ہم دوسرے سال تمہارے خدا کی بندگی کرلیا کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی اگرچہ اس شان نزول کی روایت کی سند میں ایک شخص ابو حنیف عبد اللہ بن عیسیٰ ضعیف ہے لیکن آیت قل افغیر اللہ نامرونی اعبد ایھا الجاھلون کے مضمون سے اس شان نزول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ قریش کی جس فرمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان امتیاز اور تفریق کی ہے فرمایا (لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ ) تم اپنے دین پر اور میں اپنے دین پر۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قل کل یعمل علی شاکلتہ۔ بنی اسرائیل 84) کہہ دیجئے ہر شخص اپنے اپنے طریقے کے مطابق عمل کرتا ہے (انتم بریؤن مما اعمل وانا بری مما تعملون۔ یونس 41) جو کچھ میں کرتا ہوں تم اس سے بری ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو میں اس سے بری ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
الکفرملۃ واحدۃ قول باری ہے (لکم دینکم قرلی دین ۔ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت اگرچہ بعض کافروں کے بارے میں خاص ہے اور بعض دوسرے اس میں شامل نہیں ہیں کیونکہ ان میں سے بہت سے کافر اسلام لے آئے تھے اور ارشاد باری ہے (ولا انتم عابدون مااعبد۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں) تاہم یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ کفر سارے کا سارا ایک ملت ہے کیونکہ جو لوگ مسلمان نہیں ہوئے وہ اپنے مذاہب کے اختلاف کے باوجود آیت میں مراد ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مذاہب کو ایک دین قرار دیا اور مذہب اسلام کو ایک دین۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ…
Read the full tafseer →6 ۔ ابنائے کفر و باطل سے اظہار برات و بیزاری کا درس : سو ابنائے کفر وباطل سے اعلان و اظہار برات و بیزاری کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین " کہ میرے لیے تمہارے معبودان باطلہ کی پرستش ممکن نہیں، اور تم میرے معبود برحق کی خالص عبادت کے لیے تیار نہیں، پس تمہارا راستہ الگ اور میرا الگ، تمہیں اپنے کیے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا اور ہمیں اپنے کیے کرائے کا جواب دینا ہے، البتہ ہمیں اس کے فضل و کرم کی امید ہے کہ ہم اس پر صحیح ایمان رکھتے اور اسی وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کرتے ہیں اور صرف اسی کو معبود مانتے ہیں، سو اس ارشاد ربانی میں معروف رواداری اور کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
دین کے بارے میں اللہ کا محکم فیصلہ تشریح : اس سورة مبارکہ میں حق و باطل اور دین کی مضبوط حدود کا فیصلہ کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے حق و باطل یعنی روشنی اور اندھیرا ' یعنی ایک ہی وقت میں دن بھی ہو اور رات بھی ' یہ تو قانون قدرت کے بالکل خلاف ہے۔ اس لیے یہ تو کسی صورت ممکن ہی نہیں کہ سرداران قریش کی یہ تجویز مان لی جائے کہ کچھ مدت اللہ کے رسول ﷺ ان کے بتوں کی پرستش کریں اور کچھ مدت وہ کفار توحید کا اقرار کر کے اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کریں۔ کفر و اسلام کا تو اکٹھا ہونا ایسے ہی ناممکن ہے جیسے سچ اور جھوٹ ایک ہوجائیں یا روشنی اور اندھیرے کو یکجا کردیا جائے۔ اس ناممکن عمل کو یعنی شرک اور توحید کو یکجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الکافرون۔ آیات 1 تا 6۔ اسرار ومعارف۔ کفار سے فرمادیجئے کہ میں اللہ کا رسول اور موحد ہوں تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کرسکتا کفار مکہ نے اس بات پر سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی تھی آپ بتوں کو برانہ کہیں تو ارشاد ہوا کہ باطل کو باطل نہ کہناگویا اسے قبول کرنا ہے لہذا مومن کفر کو قبول نہیں کرسکتا ، بہرحال غلط کو غلط ہی کہاجائے گا اور تم جب تک کافر ہو اور اپنے عقیدے اور عمل سے تائب نہیں ہوتے میرے معبود کی عبادت نہیں کرسکتے کہ اسلام سمجھوتے کا نام نہیں کہ کچھ کفر قبول کرلیاجائے اور کچھ باتیں اسلام کی ہوں بلکہ کفر کو مٹا کر اسلام نافذ ہوتا ہے لہذا ایسے سمجھوتے کی آئندہ بھی کوئی امید نہ رکھو میرے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 14 یعنی میرا تم سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر میرے سمجھانے سے نہیں سمجھتے تو نہ سمجھو آئندہ چل کر آخرت میں اپنا حشر دیکھ لو گے۔ دیکھیے سورة شوریٰ (آیت 15)
Read the full tafseer →(109:6) لکم دینکم ولی دین : دینکم مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا۔ (مؤخر) لکم خبر (مقدم) واؤ عاطفہ۔ دین اصل میں دینی تھا۔ ی ضمیر واحد متکلم کو حذف کردیا گیا۔ یہ مبتدا مؤخر ہے۔ لی خبر مقدم۔ تمہیں تمہارا بدلہ ملے گا اور مجھے میرا بدلہ ملے گا۔ مولانا دریا بادی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ توحید پر انعام اور شرک پر عذاب۔ بعض لوگوں نے عجب خوش فہمی سے کام لے کر اس آیت کو اسلام کی رواداری اور مرنجاں مرنج پالیسی کے ثبوت میں پیش کیا ہے کہ اسلام ہر مذہب والے کو اپنی اپنی جگہ پر قائم اور باقی رہنے کی اجازت دی ہے حالانکہ واقعہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ آیت تو اکبر (فرمانروائے ہند) کے نکلالے ہوئے مخطوطی دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔ لا اعبد۔ میں عبادت نہ کروں گا۔ تعبدون۔ تم (جن چیزوں کی) عبادت کرتے ہو۔ انتم۔ تم۔ دینکم۔ تمہارا دین۔ لی۔ میرے لئے۔ تشریح : اتحادو اتفاق، رواداری، ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا، صلح اور امن وسلامتی یہ وہ عادتیں اور صفتیں ہیں جنہیں اسلام میں بہت اہمیت دی گئی ہے لیکن بےبنیاد اتحاد و اتفاق کی باتیں، دنیا دکھاوے کے لئے زبانی رواداری کے نعرے، آپس میں مل جل کر رہنے اور ایک ہوجانے کی منافقانہ باتیں کسی طرح پسندیدہ نہیں ہیں۔ تمام مذاہب میں دین اسلام ہی وہ طریقہ زندگی ہے جس نے باہمی محبت، رواداری، حسن سلوک ہر انسان سے بحیثیت ہمدردی، امن و سلامتی اور صلح صفائی کی اعلیٰ ترین تعلیم دی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(ف 1) شان نزول : قریش کی ایک جماعت نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ آپ ہمارے دین کا اتباع کیجئے ہم آپ کے دین کا اتباع کریں گے ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبودوں کی عبادت کریں گے نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی پناہ کہ میں اس کے ساتھ کسی کو شریک کروں، کہنے لگے ، تو آپ ہمارے کسی معبود کو ہاتھ ہی لگادیجئے ہم آپ کی تصدیق کردیں گے اور آپ کے معبود کی عبادت کریں گے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی ﷺ مسجد حرام میں تشریف لے گئے وہاں قریش کی وہ جماعت موجود تھی حضور نے یہ سورت انہیں پڑھ کر سنائی تو وہ مایوس ہوگئے اور حضور کے اور حضور کے اصحاب کے درپے آزاد ہوگئے۔
Read the full tafseer →[5] یعنی جب میرے دین اور تمہارے دین میں کوئی اشتراک نہ ماضی میں ہوا نہ حاضر میں تو آئندہ کس طرح توقع کرتے ہو کہ ہم ایک نقطے پر جمع ہو سکیں گے۔ پس میرے لئے میرا دین ہے اور تمہارے لئے تمہارا دین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الکفرون 1: یعنی میں تمہارے عقائد شرکیہ سے بالکل متنفر ہوں اور کسی شکل اور کسی عنوان بھی تمہارے ساتھ متفق نہیں ہوسکتا ۔ نہ تو یہ ممکن ہے کہ میں ان بتوں کے سامنے جھکوں جن کے سامنے تم جھکتے ہو اور نہ وہ طریق عبادت اختیار کرسکتا ہوں جو تم نے اختیار کررکھا ہے میرا مسلک ہر آئینہ میرے لئے ہے جس میں کوئی تبدیلی اور ترمیم نہیں ہوسکتی اور تمہارا مسلک تم کو مبارک ہو ۔
Read the full tafseer →(6) تمہارے لئے تمہاری راہ ہے اور میرے لئے میری راہ - یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم کو تمہارے عمل کا بدلہ ملے گا اور مجھ کو میرے عمل کا بدلہ ملے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم نے ضد باندھی اب سمجھانا کیا فائدہ ۔ خلاصہ : یہ کہ ایسی ضد میں سمجھانا کیا سود مند ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ کرے۔ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے ہم بیزار ہیں تمہاری بدبختی تمہارے لئے ہے اور ہماری نیک روش اور صراط مستقیم کی پیروی ہمارے لئے ہے۔ تم تفسیر سورة الکفرون
Read the full tafseer →ف 6۔ اس میں ان کے شرک پر وعید بھی سنادی، پس یہ سورت مشتمل ہے اظہار خلاف و وعید پر۔
Read the full tafseer →تمہارا دین تمہارے لیے ہے اور میرا دین میرے لیے ہے 6 بات وہ جو کھری کھری اور صاف صاف ہو اور دو ٹوک ہو اس میں کسی طرح کا ابہام نہ ہو جیسا کہ پاپولر لوگوں کی باتوں میں ہوا کرتا ہے کہ بات کریں تو ذو معنی اور پھر نہ ادھر کے ہوں گے اور نہ ادھر کے اور یہ عادت جس کو پڑجاتی ہے ایسی نامراد ہے کہ وہ کبھی صاف اور دو ٹوک بات کر ہی نہیں سکتا۔ لیکن نبی اعظم و آخر ﷺ کو ہدایت دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ صاف صاف اور دو ٹوک بات ان سے کہہ دیں جس میں کسی طرح کا ابہام نہ ہو کہ حق و باطل میں آمیزش کا میں قائل نہیں ہوں اور مجھے ایسے اتحاد کی بھی قطعاً کوئی ضرورت نہیں جو باطل کے ساتھ مصالحت پر موقوف ہے جیسا کہ آج کل مذہبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
Virtues and Characteristics of the Surah Sayyidah ` A'shah ؓ reports that the Messenger of Allah ﷺ has said that it is better to recite two surahs in the sunnah prayer of fajr, namely, the Surah Al-Kafirun and Surah Al-Ikhlas. [ Transmitted by Ibn Hisham as quoted by Mazhar ]. Ibn Kathir cites several traditions in which a large number of Companions report that they heard the Messenger of Allah ﷺ often recite Surah Al-Kafiru` n and Al-Ikhlas in the sunnah prayer of fajr and maghrib. Some of the Companions requested the Messenger of Allah ﷺ to teach them some supplications to recite at the…
Read the full tafseer →5 That is, "My religion is entirely distinct and separate from your religion. I am not a worshipper of your gods and you are not worshippers of my God. I cannot worship your gods and you are not prepared to worship my God, Therefore, you and I can never follow and walk one and the same path together." This is not a message of tolerance to the disbelievers, but a declaration of immunity, disgust with and dissociation from them as long as they are disbelievers. Its object is to disappoint them absolutely and finally that in the matter of religion the party of Allah's Messenger and his followers…
Read the full tafseer →