Explained with ayahs 1–6
مشرکین الگ اور موحدین الگ :
اس سورة مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ہے اور اللہ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ہے گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ہے لیکن دراصل روئے زمین کے تمام کافر مراد ہیں اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان کافروں نے حضور ﷺ سے سے کہا تھا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں تو اگلے سال ہم بھی اللہ کی عبادت کریں گے اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق ﷺ کو حکم دیا کہ ان کے دین سے اپنی پوری بیزاری کا اعلان فرما دیں کہ میں تمہارے ان بتوں کو اور جن جن کو تم اللہ کا شریک مان رہے ہو ہرگز نہ پوجوں گا گو تم بھی میرے معبود برحق اللہ وحدہ لا شریک لہ کو نہ…
Read the full tafseer →سورة الکافرون 4
مفسرین میں سے ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ دونوں فقرے پہلے دو فقروں کے مضمون کی تکرار ہیں، اور یہ تکرار اس غرض کے لیے کی گئی ہے کہ اس بات کو زیادہ پر زور بنادیا جائے جو پہلے دو فقروں میں کہی گئی تھی۔ لیکن بہت سے مفسرین اس کو تکرار نہیں مانتے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ان میں ایک اور مضمون بیان کیا گیا ہے جو پہلے فقروں کے مضمون سے مختلف ہے۔ ہمارے نزدیک اس حد تک تو ان کی بات صحیح ہے کہ ان فقروں میں تکرار نہیں ہے، کیونکہ ان میں صرف " اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں " کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اور یہ اعادہ بھی اس معنی میں نہیں ہے جس میں یہ فقرہ پہلے کہا گیا تھا۔ مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
خلاصہ تفسیر
آپ (ان کافروں سے) کہہ دیجئے کہ اے کافرو (میرا تمہارا طریقہ ایک نہیں ہوسکتا اور) نہ (قوفی الحال) میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا ہوں اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرتے ہو اور نہ (آئندہ استقبال میں) میں تمہارے معبودوں کی پرستش کروں گا اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرو گے (مطلب احقر کے نزدیک یہ ہے کہ میں موجد ہو کر شرک نہیں کرسکتا نہ اب نہ آئندہ، اور تم مشرک ہو کر موحد نہیں قرار دیئے جاسکتے نہ اب نہ آئندہ، یعنی توحید و شرک جمع نہیں ہو سکتے۔) تم کو تمہارا بدلہ ملے گا اور مجھ کو میرا بدلہ ملے گا (اس میں ان کے شرک پر وعید بھی سنا دی گئی۔)
معارف مسائل
سورت کے فضائل اور خواص۔ حضرت صدیقہ…
Read the full tafseer →آیت کا تعلق دور ماضی سے ہے: یہ آیت لفظاً تو آیت ۳ کا اعادہ ہے اس وجہ سے تکرار کا شبہ پیدا ہوتا ہے لیکن معناً یہ اس سے مختلف ہے۔ اس کا تعلق آیت ۴ کی طرح دور ماضی سے ہے جب کہ آیت ۳ کا تعلق، جیسا کہ واضح ہوا مستقبل سے ہے۔ یعنی قریش کے لیڈروں کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ تم اگر اس مغالطے میں مبتلا ہو کہ ماضی میں تم بھی اسی معبود کی پوجا کرتے رہے ہو جس کی میں پوجا کرتا رہا ہوں تو یہ محض تمہاری خام خیالی ہے۔ شرک کے ساتھ میرے معبود کی پرستش کا، جیسا کہ اوپر واضح ہوا، کوئی امکان ہی نہیں ہے اور تم شرک سے کبھی پاک نہیں ہوئے اس وجہ سے نہ میں کبھی تمہارا دینی بھائی بنا نہ تم میرے دینی بھائی بنے تو یہ توقع تم…
Read the full tafseer →بعض نے پہلی آیت کو حال کے اور دوسری کو استقبال کے مفہوم میں لیا ہے، لیکن امام شوکانی نے کہا ہے کہ ان تکلفات کی ضرورت نہیں ہے۔ تاکید کے لیے تکرار، عربی زبان کا عام اسلوب ہے، جسے قرآن کریم میں کئی جگہ اختیار کیا گیا ہے۔ جیسے سورة رحمٰن، سورة مرسلات میں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی تاکید کے لیے یہ جملہ دہرایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ کبھی ممکن نہیں کہ میں توحید کا راستہ چھوڑ کر شرک کا راستہ اختیار کرلوں، جیسا کہ تم چاہتے ہو۔ اور اگر اللہ نے تمہاری قسمت میں ہدایت نہیں لکھی ہے، تو تم بھی اس توحید اور عبادت الہی سے محروم ہی رہو گے۔ یہ بات اس وقت فرمائی گئی جب کفار نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال ہم آپ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1: یہ سورت اس وقت نازل ہوئی تھی جب مکہ مکرمہ کے کچھ سرداروں نے جن میں ولیدبن مغیرہ، عاص بن وائل وغیرہ شامل تھے حضور اقدس ﷺ سے صلح کی یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کرلیا کریں تو دوسرے سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کرلیں گے، کچھ اور لوگوں نے اسی قسم کی کچھ اور تجویز بھی پیش کیں جن کا خلاصہ یہی تھا کہ آنحضرت ﷺ کسی نہ کسی طرح ان کافروں کے طریقے پر عبادت کے لئے آمادہ ہوجائیں تو آپس میں صلح ہوسکتی ہے، اس سورت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح فرمادیا کہ کفر اور ایمان کے درمیان اس قسم کی کوئی مصالحت قابل قبول نہیں ہے جس سے حق اور باطل کا امتیاز ختم ہوجائے اور دین برحق میں کفر کی ملاوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
انکار کے بعد انکار ، تاکید کے بعد تاکید اور قطعیت کے بعد قطعیت۔ نفی ، قطعیت اور تاکید کے تمام صیغے اور اسالیب اس سورت میں جمع کردیئے گئے ہیں۔
قل ” کہہ دو “۔ یہ دو ٹوک خدائی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ نظریہ مامور من اللہ ہے۔ یہ اللہ وحدہ کا حکم ہے اور اس میں حضرت محمد ﷺ کا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس حکم سے سرتابی نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ کوئی ایسا وجود ہے جو اللہ کے حکم کو رد کرسکے۔
قل ............ الکفرون (1:109) ” کہہ دو اے کافرو “۔ اللہ نے ان کو اس لفظ سے پکارا جس کا اطلاق ان پر حقیقی معنوں میں ہوتا ہے۔ ایک ایسی صفت سے ان کو بلایا گیا جو ان کے اندرونی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3 یعنی آئندہ بھی میں تمہارے معبودوں کو کبھی پوجنے والا نہیں اور نہ تم میرے معبود واحد کی بلا شرکت غیرے پرستش کرنے والے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ میں موحد ہو کر شرک نہیں کرسکتا نہ اب نہ آئندہ اور تم مشرک رہ کر موحد نہیں قرار دیئے جاسکتے نہ اب نہ آئندہ، اس تقریر کے موافق آیتوں میں تکرار نہیں رہی (تنبیہ) بعض علماء نے یہاں تکرار کو تاکید پر حمل کیا ہے اور بعض نے پہلے دو جملوں میں حال و استقبال کی نفی، اور اخیر کے دو جملوں میں ماضی کی نفی مراد لی ہے۔ کما صرح بہ الزمخشری اور بعض نے پہلے جملوں میں حال کا اور اخیر کے جملوں میں استقبال کا ارادہ کیا ہے۔ کمایظھر من الترجمۃ۔ لیکن بعض محقیقن نے پہلے دو جملوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت 4{ وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ۔ } ”اور نہ ہی میں آئندہ کبھی پوجنے والا ہوں ان کو جن کی تم پرستش کر رہے ہو۔“
ان آیات میں بظاہر تکرار نظر آتی ہے ‘ لیکن درحقیقت اس اسلوب میں ماضی ‘ حال اور مستقبل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یعنی نہ میں نے زمانہ ماضی میں کبھی تمہارے معبودانِ باطل کی پرستش کی اور نہ آئندہ کبھی تم مجھ سے اس کی توقع کرسکتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3 بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت نمبر 4 اور 5 میں آیت 2 اور 3 کے مضمون کا ہی تکرار ہے اور اگر اسے تکرار ہی تسلیم کیا جائے تو بھی یہ تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔ تاہم یہ محض تکرار نہیں بلکہ ان میں دو قسم کا فرق ہے۔ ایک یہ کہ پہلی دو آیات میں ما کو موصولہ اور پچھلی دو آیات میں ما کو مصدریہ قرار دیا جائے۔ اس صورت میں پچھلی آیات کا معنی یہ ہوگا کہ جو طریق عبادت میں نے اختیار کیا ہے۔ اسے تم قبول نہیں کرسکتے اور جو تم نے اختیار کر رکھا ہے اسے میں نہیں کرسکتا۔ آپ ﷺ کا طریق عبادت یہ تھا کہ آپ نماز میں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے تھے اور اس طریق عبادت سے کافروں کو خاصی چڑ تھی اور اس سے منع بھی کرتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2۔ یعنی جب تک تم اپنے دین وآئین پر قائم ہو، تمہارا شماراہل توحید میں نہیں ہوسکتا، اور میں جب تک اپنے مسلک پر مستقیم ہوں، ظاہر ہے کہ میں مشرک نہیں سمجھا جاسکتا۔ کفر واسلام کے درمیان شرک و توحید کے مابین کوئی نقطہ اشتراک ہے ہی نہیں۔ وھذا غایۃ فی التبرؤ (بحر) وفائدۃ ھذا التوکید قطع اطماع الکفار (بحر) قرآن، یہ ہمیشہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ زبان عربی میں اور محاورۂ قریش پر ہے۔ اس کی مصاحت وبلاغت کے سمجھنے کے لئے ہمیشہ عرب ہی کے اسلوب بیان کو پیش نظر رکھنا ہوگا نہ کہ اردو یا فارسی یا انگریزی یا کسی اور زبان کے معیار کو ...... عربی میں تکرار کلام تاکید کے لئے ہوتی ہے، اور عبارت کی عین خوبی وزینت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کہہ دیجیے، اے کافرو ! نہ میں فی الحال ان بتوں کی بندگی کرتا ہوں جن کی تم بندگی کرتے ہو اور نہ فی الحال تم بندگی کرتے ہو اس کی جس کی میں بندگی کرتا ہوں اور وہ اللہ وحدہ ہے، اور نہ میں آئندہ بندگی کرنے والا ہوں جن کی تم بندگی کرتے اور نہ تم آئندہ بندگی کرنے والے ہو اس کی جس کی میں بندگی کرتا ہوں اللہ کو ان کے بارے میں علم تھا کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں، اور ما کا اللہ پر اطلاق بطور مقابلہ ہے، تمہارے لئے تمہارا دین شرک ہے اور میرے لئے میرا دین اسلام ہے اور یہ حکم، جہاد کا حکم دیئے جانے سے پہلے کا ہے، اور قراء سبعۃ نے…
Read the full tafseer →ولا انتم عبدون ما اعبد . اکثر اہل معانی قائل ہیں کہ قرآن عربی
زبان میں نازل ہوا تو اس کی رفتار خطاب بھی وہی ہونی چاہیے ‘ جو عرب کے خطابیات کی ہے اور عرب کسی کلام یا لفظ کی تکرار اً س وقت کرتے ہیں ‘ جب مخاطب کو سمجھانا اور اس کلام یا لفظ کو مؤکد کرنا ہوتا ہے۔ جس طرح کلام میں اختصار اس وقت کرتے ہیں جب تخفیف اور ایجاز پیش نظر ہوتا ہے۔ پس اس جگہ کبھی تکرار کلام تاکید کے لیے ہے۔ قتیبی نے کہا : وقت (اشتراک) کی تکرار کی وجہ سے کلام کی تکرار کی گئی کیونکہ قریش نے کہا تھا کہ اگر تم پسند کرتے ہو کہ ہم ایک سال تمہارے دین میں داخل رہیں تو تم بھی ایک سال ہمارے دین میں داخل ہوجاؤ (گویا ایک سال دونوں فریق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(1۔ 6) عاص بن وائل اور ولید بن مغیرہ نے حضور سے کہا تھا کہ آپ ہمارے معبودوں کو تسلیم کرلیں تو ہم آپ کے معبود کی عبادت شروع کردیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان استہزاء کرنے والے کافروں سے فرما دیجیے کہ نہ تو فی الحال میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا ہوں اور نہ آئندہ کروں گا تمہیں تمہارا دین یعنی کفر و شرک مبارک ہو اور میرے لیے میرا دین یعنی اسلام ہے ؟ یہ آیت قتال سے منسوخ ہے کیوں کہ حضور نے پھر ان سے قتال فرمایا۔
شان نزول : قل یا ایہا الکفرون الخ
طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ قریش نے حضور کو بلایا تاکہ آپ کو بہت سا مال دے دیں کہ جس سے آپ مکہ میں سب سے مال دار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(قل یھا الکفرون…: طبرانی اور تفسیر ابن ایب حاتم وغیرہ میں عبداللہ بن عباس ؓ سے جو معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو ، اس طرح ہم اور تم مل جل کر مکہ میں رہیں، اگر تم ایسا نہیں کرتے تو ایک سال تم ہمارے بتوں کو پوجا کرلیا کرو، دوسرے سال ہم تمہارے الہ کی بندگی کرلیا کریں گے، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ اگرچہ اس شان نزول کی روایت کی سند میں ایک شخص ابوخلف عبداللہ ضعیف ہے، لیکن آیت :(قل افغیر اللہ تامرونی اعبدایھا الجھلون) (الزمر : 63) (کہہ دے ! پھر کیا اللہ کے غیر کے بارے میں تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اس کی عبادت کروں اے جاہلو !) کے مضمون سے اس شان نزول کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ قریش کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
قل یا ایھا الکافرون۔ تا۔ ولا انتم عبدون ما اعبد۔
علماء نے کہا : جو آدمی اپنے دل کا علاج کرنا چاہتا ہے اور ظلم و قہر کی زنجیروں سے آزاد ہو کر اپنے رب کی طاعت کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ لذات کو ختم کرنے والی، جماعتوں کو جدا کرنے والی، بیٹوں اور بیٹیوں کو یتیم کرنے والی کا ذکر کثرت سے کرے جو لوگ موت وحیات کی کشمکش میں ہیں ان کی ملاقات پر مواظبت اختیار کرے اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت میں ہمیشگی اختیار کرے۔ یہ تین امور ہیں جس آدمی کا دل سخت ہو، گناہ اس کی اپنی گرفت میں لے چکا ہو تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف اس سے مدد لے اور شیطان اور اس کے دوستوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة قل یا ایہا الکفرون مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت قل یا ایہا الکفرون مدینہ میں نازل ہوئی۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعوت دی کہ وہ لوگ آپ کو اتنا مال دیں گے کہ آپ مکہ مالدار لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔ اور عورتوں میں سے جس کے ساتھ آپ پسند کریں گے وہ آپ کی شادی کردیں گے۔ اور کہنے لگے یہ سب کچھ آپ کے لیے ہے اے محمد ﷺ اور آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے رک جائیں اور ہمارے معبودوں کا تذکریں برائی کے ساتھ نہ کریں۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہم آپ پر ایک…
Read the full tafseer →[وَلَآ انتم عٰبِدُوْنَ : اور نہ تم لوگ بندگی کرنے والے ہو ][ مَآ اَعْبُدُ : اس کی جس کی میں بندگی کرتا ہوں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سورة ٴ کافرون کا پورا ترجمہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل مکہ مشرک تھے کعبہ معظمہ تک کے اندر بت رکھ چھوڑے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور شرک چھوڑنے کی تبلیغ کی تو ان کو یہ بات بہت کھلی، پہلے تو آپ سے محبت رکھتے تھے اور آپ کو صادق الامین کہتے تھے۔ جب آپ نے بت پرستی چھوڑنے کا حکم فرمایا تو سخت ترین دشمن ہوگئے اور طرح طرح کی باتیں بنانے لگے، ایک دن ایسا ہوا کہ ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل اور اسود بن المطلب اور امیہ بن خلف آپس میں مل کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد آؤ ہم اور تم ساجھا کرلیں اور آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں اور ہم آپ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اعلان استقامت بر اسلام وشعائر اسلام وبیزاری از مراعات اھل باطل :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یایھا الکفرون ......... الی ........... لکم دینکم ولی دین “۔
(ربط) سورة کوثر میں خیر کثیر کی بشارت سنائی گئی تھی اور یہ اعلان بھی کردیا گیا تھا کہ خداوند عالم نے یہ طے کردیا تھا کہ اس کے پیغمبر ﷺ کا ہی دین غالب ہوگا۔ اور پیغمبر خدا ہی کامیاب ہوں گے اور جو بھی کوئی بغض اور دشمنی رکھے وہی ناکام ذلیل اور تباہ ہوگا، اب اس سورت میں دنیا کے تمام گمراہوں اور باطل ملت کی پیروی کرنے والوں کو جو باطل کو فروغ دینے کے لئے بڑی ہی محنت اور جدوجہد کررہے ہیں کھلے عام اعلان کیا جارہا ہے، اب حق پرستوں کی طرف سے ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3:۔ ” ولا انا عابد “ تکرار تاکید کے لیے ہے یا پہلے زمانہ حال و استقبال کا ذکر تھا اور اب زمانہ ماضی کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اب اور آئندہ ہوسکتا ہے کہ میں تمہارے باطل معبودوں کی عبادت کروں اور تم صرف اللہ کی عبادت کرو اور نہ گذشتہ زمانہ میں کبھی ایسا ہوا کہ میں نے تمہارے باطل معبوددوں کی عبادت کی ہو اور تم نے ان معبودوں کی عبادت چھوڑ کر صرف خدائے واحد کی عبادت کی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الکفرون ہے۔ اس کی پہلی آیت میں کافروں کا لفظ آیا ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین 1 ؎ نے اس کا نام سورة المقشقشۃ یعنی شفا بخشنے والی سورة بھی بتلایا ہے کہ یہ کفر و شرک کی بیماری سے شفا بخشنے والی سورة ہے تفسیر روحی 2 ؎ المعانی میں اس کا ذکر آتا ہے۔ تاہم زیادہ مشہور سورة الکفرون ہی ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی چھ آیتیں چھبیس الفاظ اور ننانوے حروف ہیں۔
گزشتہ سورة کا خلاصہ
پچھلی سورة مبارک میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی فلاح اور کامیابی کے پاکیزہ اصول
1 ؎ روح المعانی ص 249/ج 30 ، در منشور ص 404/ج 6 ، 2 ؎ روح المعانی ص 249/ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ 3 وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ 4 ۙ لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ 6 ۧ
دين
والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19]
( د ی ن ) دين
الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب ¦ یا ایہا حرف النداء الکافرون النادی لا اعبد الخ نداء والجملۃ مقولۃ قولہ قل وفی تکریر قولہ لا اعبد الخ ولا انا عابد الخ قولان الاول التکریر للتاکید والمقام مقام التاکید لان الکفار یطلبون منہ ﷺ عبادۃ اصنامھم بالاصرار والثانی ان الاول للمستقبل والثانی للحال لان لا لاتدخل الاعلی المضارع بمعنی المستقبل فقولہ لا اعبد الخ معناہ لا اعبد فی المستقبل ماتطلبونہ منی من عبارۃ اصنامکم ولا انتم فاعلون فی المستقبل ما ارید منکم من عبارۃ ربی وقیل علی العکس وفی ما سوال لانھا غیر ذی التقول فکیف یصح قولہ ما اعبد فانہ ﷺ یعبد اللہ تعالیٰ وھواعلم العالمین والجواب منہ علی وجہین الاول ان ما مصدریۃ فی الجملتین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ ۔ وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَـآ اَعْبُدُ ۔ (الکافرون : 4، 5)
(اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم نے عبادت کی۔ اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو، جس کی عبادت میں کرتا چلا آرہا ہوں۔ )
ماضی کے حوالے سے بھی اس پیشکش کا رد
جہاں تک کفار و مشرکین کی مفاہمت کے سلسلے میں پیشکشوں کا تعلق تھا اس کا جواب تو اوپر کی آیات میں دے دیا گیا۔ وہ اگرچہ مکمل جواب ہے لیکن کفار کے رویئے کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایسا جواب نہ تھا جس سے بتمام و کمال ان کی امیدیں ٹوٹ جاتیں اور وہ آنحضرت ﷺ سے مفاہمت کی ہر کوشش کو ختم کردیتے۔ کیونکہ اس جواب میں اس بات کا امکان موجود تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن
ربط سورت : نبی ﷺ کو سورة الکوثر میں حوض کوثر اور خیر کثیر کی خوشخبری دی گئی جس کا صاف معنی ہے کہ آپ ﷺ کو کسی قسم کی مداہنت کی ضرورت نہیں اس لیے کفار کو صاف طور پر کہہ دینا چاہیے کہ توحید اور شرک، کفر اور اسلام کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
اہل مکہ نے نبوت کے ابتدائی دور میں نبی معظم ﷺ کی دعوت پر خاص توجہ نہ دی لیکن جوں ہی آپ کی دعوت کے اثرات پھیلنے لگے تو مکہ کے سردار چوکس ہوئے اور انہوں نے پوری کوشش کی کہ آپ کی دعوت آگے نہ بڑھ سکے، اس مقصد کے لیے انہوں نے آپ کے خلاف شدید پراپیگنڈہ کیا اور آپ کے ساتھیوں کو زدّ…
Read the full tafseer →5 : وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ (اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرو گے) ولاانتم اور نہ تم مستقبل میں عابدون ما اعبد۔ اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں یہاں ما ؔ کا لفظ ذکر کیا گیا کیونکہ اس سے مراد صفت ہے۔ یعنی میں باطل کی عبادت نہ کرونگا اور نہ تم حق کی عبادت کروگے۔ نمبر 2۔ لفظ ماؔ لائے تاکہ دونوں لفظ متقابل ہوجائیں۔ اور اول میں منؔ درست نہیں دوسرے میں ما کو بمعنی الذی لینا درست ہے۔
Read the full tafseer →5 ۔” ولا انتم عابدون مااعبد “ مستقبل میں اور یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات طے ہوچکی ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔ ” مااعبد “ یعنی من اعبد۔ لیکن اسکو ماتعبدون کے مقابلہ میں ذکر کیا ہے اور تکرار کی وجہ اکثر اہل معانی فرماتے ہیں یہ ہے کہ قرآن عرب کی زبان میں نازل ہوا ہے اور ان کے خطاب کے مجاز پر اور ان کے طریقوں میں سے تاکید اور افہام کے ارادہ کے لئے تکرار کرنا ہے۔ جیسا کہ ان کا طریقہ ہے تخفیف اور اختصار کے ارادہ سے اختصار کرنا اور قتیبی (رح) فرماتے ہیں کلام کا تکرار وقت کے تکرار کی وجہ سے کیونکہ انہوں نے کہا تھا اگر آپ کو یہ بات خوش کرے کہ ہم ایک سال آپ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ 6۔ طبرانی 3 ؎ اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ اور چند اور مشرکوں نے ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کہ محمد ﷺ تم ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو اور اس طرح ہم اور تم مل جل کر مکہ میں رہیں کہ ایک سال تم ہمارے بتوں کی پوجا کر یا کرو ‘ ہم دوسرے سال تمہارے خدا کی بندگی کرلیا کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی اگرچہ اس شان نزول کی روایت کی سند میں ایک شخص ابو حنیف عبد اللہ بن عیسیٰ ضعیف ہے لیکن آیت قل افغیر اللہ نامرونی اعبد ایھا الجاھلون کے مضمون سے اس شان نزول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ قریش کی جس فرمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان امتیاز اور تفریق کی ہے فرمایا (لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ ) تم اپنے دین پر اور میں اپنے دین پر۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قل کل یعمل علی شاکلتہ۔ بنی اسرائیل 84) کہہ دیجئے ہر شخص اپنے اپنے طریقے کے مطابق عمل کرتا ہے (انتم بریؤن مما اعمل وانا بری مما تعملون۔ یونس 41) جو کچھ میں کرتا ہوں تم اس سے بری ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو میں اس سے بری ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
الکفرملۃ واحدۃ
قول باری ہے (لکم دینکم قرلی دین ۔ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت اگرچہ بعض کافروں کے بارے میں خاص ہے اور بعض دوسرے اس میں شامل نہیں ہیں کیونکہ ان میں سے بہت سے کافر اسلام لے آئے تھے اور ارشاد باری ہے (ولا انتم عابدون مااعبد۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں)
تاہم یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ کفر سارے کا سارا ایک ملت ہے کیونکہ جو لوگ مسلمان نہیں ہوئے وہ اپنے مذاہب کے اختلاف کے باوجود آیت میں مراد ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مذاہب کو ایک دین قرار دیا اور مذہب اسلام کو ایک دین۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
4 ۔ کفر و شرک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی تم لوگ اے مشرکو اس معبود برحق کی عبادت و بندگی کرسکتے ہو، جس کی عبادت و بندگی میں کرتا ہوں، یعنی اللہ وحدہ لاشریک کی جو کہ معبود برحق اور ہر قسم کے شرک اور اس کے ہر شائبہ سے پاک اور برتر وبالا ہے، سبحانہ وتعالی، پس ضروری ہے کہ ہر عبادت خالص اسی وحدہ لاشریک کے لیے ہو، چناچہ اس کا صاف وصریح ارشاد ہے، وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ (البینہ 5 پ 30) یعنی ان کو حکم صرف اسی بات کا دیا گیا کہ وہ بندگی صرف اللہ ہی کی کریں عبادت کو اسی کے لیے خاص کرتے ہوئے بالکل یکسو ہوکر، سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
دین کے بارے میں اللہ کا محکم فیصلہ
تشریح : اس سورة مبارکہ میں حق و باطل اور دین کی مضبوط حدود کا فیصلہ کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے حق و باطل یعنی روشنی اور اندھیرا ' یعنی ایک ہی وقت میں دن بھی ہو اور رات بھی ' یہ تو قانون قدرت کے بالکل خلاف ہے۔ اس لیے یہ تو کسی صورت ممکن ہی نہیں کہ سرداران قریش کی یہ تجویز مان لی جائے کہ کچھ مدت اللہ کے رسول ﷺ ان کے بتوں کی پرستش کریں اور کچھ مدت وہ کفار توحید کا اقرار کر کے اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کریں۔ کفر و اسلام کا تو اکٹھا ہونا ایسے ہی ناممکن ہے جیسے سچ اور جھوٹ ایک ہوجائیں یا روشنی اور اندھیرے کو یکجا کردیا جائے۔ اس ناممکن عمل کو یعنی شرک اور توحید کو یکجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الکافرون۔
آیات 1 تا 6۔
اسرار ومعارف۔
کفار سے فرمادیجئے کہ میں اللہ کا رسول اور موحد ہوں تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کرسکتا کفار مکہ نے اس بات پر سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی تھی آپ بتوں کو برانہ کہیں تو ارشاد ہوا کہ باطل کو باطل نہ کہناگویا اسے قبول کرنا ہے لہذا مومن کفر کو قبول نہیں کرسکتا ، بہرحال غلط کو غلط ہی کہاجائے گا اور تم جب تک کافر ہو اور اپنے عقیدے اور عمل سے تائب نہیں ہوتے میرے معبود کی عبادت نہیں کرسکتے کہ اسلام سمجھوتے کا نام نہیں کہ کچھ کفر قبول کرلیاجائے اور کچھ باتیں اسلام کی ہوں بلکہ کفر کو مٹا کر اسلام نافذ ہوتا ہے لہذا ایسے سمجھوتے کی آئندہ بھی کوئی امید نہ رکھو میرے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 14 یعنی میرا تم سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر میرے سمجھانے سے نہیں سمجھتے تو نہ سمجھو آئندہ چل کر آخرت میں اپنا حشر دیکھ لو گے۔ دیکھیے سورة شوریٰ (آیت 15)
Read the full tafseer →(109:5) ولا انتم عبدون ما اعبد اور نہ تم عبادت کرنے والے بنوگے اس (خدائے واحد لاشریک ) کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں
فائدہ : (1) متذکرہ بالا آیات میں تکرار کلام ہے اور عرب کسی کلام میں یا لفظ میں تکرار اس وقت کرتے ہیں جب مخاطب کو سمجھانا اور اس کلام یا لفظ کو مؤکد کرنا ہوتا ہے جس طرح کلام میں اختصار اس وقت کرتے ہیں جب تخفیف اور اعجاز پیش نظر ہوتا ہے پس اس جگہ تکرار کلام تاکید کے لئے ہے۔ کلام عرب میں اس قم کی تاکید نظم و نثر دونوں میں کثیر الاستعمال ہے۔ چناچہ ایک شعر ہے :۔
نعق الغراب ببین لیلی غدوۃ کم کم وکم بفراق لیلی ینعق
(جدائی کا کوا صبح کے وقت لیلی کی جدائی کی خبر دینے کے لئے بولا۔ وہ کب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔
لا اعبد۔ میں عبادت نہ کروں گا۔ تعبدون۔ تم (جن چیزوں کی) عبادت کرتے ہو۔ انتم۔ تم۔ دینکم۔ تمہارا دین۔ لی۔ میرے لئے۔
تشریح :
اتحادو اتفاق، رواداری، ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا، صلح اور امن وسلامتی یہ وہ عادتیں اور صفتیں ہیں جنہیں اسلام میں بہت اہمیت دی گئی ہے لیکن بےبنیاد اتحاد و اتفاق کی باتیں، دنیا دکھاوے کے لئے زبانی رواداری کے نعرے، آپس میں مل جل کر رہنے اور ایک ہوجانے کی منافقانہ باتیں کسی طرح پسندیدہ نہیں ہیں۔ تمام مذاہب میں دین اسلام ہی وہ طریقہ زندگی ہے جس نے باہمی محبت، رواداری، حسن سلوک ہر انسان سے بحیثیت ہمدردی، امن و سلامتی اور صلح صفائی کی اعلیٰ ترین تعلیم دی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(ف 1) شان نزول :
قریش کی ایک جماعت نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ آپ ہمارے دین کا اتباع کیجئے ہم آپ کے دین کا اتباع کریں گے ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبودوں کی عبادت کریں گے نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی پناہ کہ میں اس کے ساتھ کسی کو شریک کروں، کہنے لگے ، تو آپ ہمارے کسی معبود کو ہاتھ ہی لگادیجئے ہم آپ کی تصدیق کردیں گے اور آپ کے معبود کی عبادت کریں گے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی ﷺ مسجد حرام میں تشریف لے گئے وہاں قریش کی وہ جماعت موجود تھی حضور نے یہ سورت انہیں پڑھ کر سنائی تو وہ مایوس ہوگئے اور حضور کے اور حضور کے اصحاب کے درپے آزاد ہوگئے۔
Read the full tafseer →[4] یہ آیت لفظاً تو آیت نمبر 3 کا اعادہ ہے جس کی وجہ سے تکرار کا شبہ پیدا ہوگیا ہے لیکن معناً یہ اس سے مختلف ہے۔ اس کا تعلق آیت نمبر 4 کی طرح دور ماضی سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اس مغالطے میں مبتلا ہو کہ ماضی میں تم بھی اسی معبود کی پوجا کرتے رہے ہو جس کی میں پوجا کرتا رہا ہوں تو یہ محض تمہاری خام خیالی ہے۔ شرک کے ساتھ میرے معبود کی پرستش کا جیسا کہ اوپر واضح ہوا کوئی امکان ہی نہیں ہے اور تم شرک سے کبھی پاک نہیں ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة الکفرون
1: یعنی میں تمہارے عقائد شرکیہ سے بالکل متنفر ہوں اور کسی شکل اور کسی عنوان بھی تمہارے ساتھ متفق نہیں ہوسکتا ۔ نہ تو یہ ممکن ہے کہ میں ان بتوں کے سامنے جھکوں جن کے سامنے تم جھکتے ہو اور نہ وہ طریق عبادت اختیار کرسکتا ہوں جو تم نے اختیار کررکھا ہے میرا مسلک ہر آئینہ میرے لئے ہے جس میں کوئی تبدیلی اور ترمیم نہیں ہوسکتی اور تمہارا مسلک تم کو مبارک ہو ۔
Read the full tafseer →(5) اور نہ تم ہی میرے معبود کی پوجا کرنے والے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ نہ فی الحال اس قسم کی شرکت ہوسکتی ہے نہ آئندہ اس قسم کی شرکت کا امکان ہے کیونکہ میں موحد ہوکر شرک نہیں کرسکتا اور نہ تم جب تک شرک کرتے رہو گے موحد نہیں بن سکتے یعنی میں نہ فی الحال اور نہ آئندہ شرک کا مرتکب ہوسکتا ہوں اور نہ تم جب تک غیر اللہ کی پرستش کرتے رہو گے موحد قرار دیئے جاسکتے ہو۔
مطلب یہ ہوا لا اعبدالباطل والا تعبدون الحق الفاظ کی ترکیب کے اعتبار سے کئی طرح معنی کئے گئے ہیں۔
بعض حضرات نے یوں مطلب بیان کیا ہے میرے تمہارے درمیان معبود ہیں اشتراک ہے نہ طریق عبادت میں تم بتوں کو پوجتے ہو وہ میرے معبود نہیں میں اس معبود برحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ف 5۔ مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ موحد ہو کر بلائے شرک میں گرفتار نہیں ہوسکتا، نہ اب نہ آئندہ، اور تم مشرک رہ کر موحد نہیں قرار دیئے جاسکتے، نہ اب نہ آئندہ، یعنی توحید و شرک جمع نہیں ہوسکتے یعنی جب تک تم اپنے معبودوں کے عابد اور مشرک رہو گے اس وقت تک میرے معبود کے عابد یعنی موحد نہ سمجھے جاوگے، پس اس کو پیشنگوئی پر محمول کرنے کی اور اس پر جو سوال ہوتا ہے کہ بعضے تو مسلمان ہوگئے، اس کے جواب میں الکافرون کو معہود پر محمول کرنے کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →اور نہ تم اس کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں
5 یہ آیت آیت 3 کے طور پر بھی گزر چکی ہے اور اس کو دوبارہ اسی تاکید کیلئے بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طریقہ پر کرنے کیلئے تیار نہیں جس طریقہ پر میں عبادت کرتا ہوں اور طریقہ میں جو فرق ہے وہ کیا ہے ؟ وہ یہی ہے کہ تم اللہ کی عبادت بھی کیے جاتے ہو اور اس کے ساتھ مخلوق کی بھی اور جب خالق کے ساتھ مخلوق کو بھی عبادت میں شریک اور ساجھی کرلیاجائے تو اس سے خالق کی عبادت کی نفی نکل آتی ہے اور صرف مخلوق ہی کی عبادت کرنا باقی رہ جاتا ہے اس لیے کہ اس عبادت کو عبادت نہیں کہا جاسکتا جس میں خالق کے ساتھ مخلوق کو شریک کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
Virtues and Characteristics of the Surah
Sayyidah ` A'shah ؓ reports that the Messenger of Allah ﷺ has said that it is better to recite two surahs in the sunnah prayer of fajr, namely, the Surah Al-Kafirun and Surah Al-Ikhlas. [ Transmitted by Ibn Hisham as quoted by Mazhar ]. Ibn Kathir cites several traditions in which a large number of Companions report that they heard the Messenger of Allah ﷺ often recite Surah Al-Kafiru` n and Al-Ikhlas in the sunnah prayer of fajr and maghrib. Some of the Companions requested the Messenger of Allah ﷺ to teach them some supplications to recite at the…
Read the full tafseer →4 A section of the commentators is of the view that both these sentences are a repetition of the theme of the first two sentences and the repetition is meant to strengthen the statement in the first two sentences. But many commentators do not regard it as a repetition. They say that a new theme has been expressed in these which is different from the theme of the first two sentences. In our opinion they arc correct in so far as there is no repetition in these sentences, for in these only "nor are you worshippers of Him Whom 1 worship" Gas been repeated, and this repetition also is not in the…
Read the full tafseer →