110. Surah An-Nasr

النصرDivine Support · 3 ayahsمعارف القرآن

Ayah 110:1

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader

جب پہنچ چکے مدد اللہ کی

خلاصہ تفسیر (اے محمد ﷺ جب خدا کی مدد اور (مکہ کی) فتح (ع اپنے آثار کے) آپہنچے اور) اس فتح پر مرتب ہونے والے آثار یہ ہیں کہ) آپ لوگوں کو اللہ کے دین (اسلام) میں جوق جوق داخل ہوتا دیکھ لیں، تو (اس وقت سمجھئے کہ مقصود دنیا میں رہنے کا اور آپ کی بعثت کا جو تکمیل دین تھا وہ پورا ہوچکا اور اب سفر آخرت قریب ہے اس کے لئے تیاری کیجئے اور) اپنے رب کی تسبیح وتحمید کیجئے اور اس سے مغفرت کی درخواست کیجئے (یعنی ایسے امور جو خلاف اولیٰ واقع ہوگئے ان سے مغفرت مانگئے) وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ معارف و مسائل یہ سورة با جماع مدنی ہے اور اس کا نام سورة التودیع بھی ہے، تو دیع کے معنی کسی کو رخصت کرنے کے ہیں اس سورة میں چونکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات قریب ہونے کی طرف اشارہ ہے اس لئے اس کو سورة التودیع بھی کہا گیا ہے۔ قرآن مجید کی آخری سورة اور آخری آیات۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ سورة نصر قرآن کی آخری سورة ہے (قرطبی) مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد کوئی مکمل سورة نازل نہیں ہوئی بعض آیات کا نزول جو اس کے بعد ہونا بعض روایات میں ہے وہ اس کے منافی نہیں، جیسا کہ سورة فاتحہ کو قرآن کی سب سے پہلی سورة اسی معنی میں کہا جاتا ہے کہ مکمل سورة سب سے پہلے فاتحہ نازل ہوئی ہے۔ سورة اقراء اور مدثر وغیرہ کی چند آیات کا اس سے پہلے نازل ہونا اس کے منافی نہیں۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ یہ سورة حجتہ الوداع میں نازل ہوئی اس کے بعد آیت الیوم اکملت لکم دینکم نازل ہوئی، ان دونوں کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ اس دنیا میں صرف اسی روز رہے (اسی روز کے بعد وفات ہوگئی) ان دونوں کے بعد آیت کلالہ نازل ہوئی جس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی عمر شریف کے کل پچاس دن رہ گئے تھے اس کے بعد آیت لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم الآیہ نازل ہوئی جس کے بعد عمر شریف کے کل پینتیس روز باقی تھے اس کے بعد آیت اتقوایوماً ترجعون فیہ الی اللہ نازل ہوئی جس کے بعد صرف اکیس روز اور مقاتل کی روایت میں صرف سات روز کے بعد وفات ہوگئی۔ (قرطبی) اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح میں فتح سے فتح مکہ مراد ہے اور اس میں اختلاف ہے کہ یہ سورة فتح مکہ سے پہلے نازل ہوئی ہے یا بعد میں لفظ اذا جاء سے بظاہر قبل فتح نازل ہونا معلم ہوتا ہے اور روح المعانی میں بحر محیط سے ایک روایت بھی اس کے موافق نقل کی ہے جس میں اس سورة کا نزول غزوہ خیبر سے لوٹنے کے وقت بیان کیا گیا اور خیبر کی فتح فتح مکہ سے مقدم ہونا معلوم و معروف ہے اور روح المعانی میں بسند عبدابن حمید حضرت قتادہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس سورة کے نزول کے بعد دو سال زندہ رہے اس کا حاصل بھی یہی ہے کہ اس کا نزول فتح مکہ سے پہلے ہوا کیونکہ فتح مکہ سے وفات تک دو سال سے کم مدت ہے۔ فتح مکہ رمضان 8 ہجری میں ہوئی اور وفات ربیع الاول 11 ہجری میں اور جن روایات میں اس کا نزول فتح مکہ یا حجتہ الوداع میں نازل ہونا بیان کیا گیا ہے ان کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے یہ سورة پڑھی ہوگی جس سے لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ یہ ابھی نازل ہوئی ہے۔ مزید تحقیق اس کی بیان القرآن میں مذکورہ ہے۔ متعدد احادیث مرفوعہ اور آثار صحابہ میں ہے کہ اس سورة میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کا وقت قریب آجانے کی طرف اشارہ ہے کہ اب آپ کی بعثت اور دنیا میں قیام کا کام پورا ہوچکا اب تسبیح و استغفار میں لگ جایئے۔ مقاتل کی روایت میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو آپ نے صحابہ کرام کے ممجع کے سامنے اس کی تلاوت فرمائی جن میں حضرت ابوبکر، عمر اور سعد بن ابی وقاص وغیرہ موجود تھے سب اس کو سنکر خوش ہوئے کہ اس میں فتح مکہ کی خوشخبری ہے مگر حضرت عباس رونے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ رونے کا کیا سبب ہے تو حضرت عباس نے عرض کیا کہ اس میں تو آپ کی وفات کی خبر مضمر ہے آنحضرت ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس سے یہی مضمون روایت کیا ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ جب اس کو حضرت عمر نے سنا تو فرمایا کہ اس سورت کے مفہوم سے میں بھی یہی سمجھتا ہوں (رواہ الترمذی وقال حدیث حسن صحیح، قرطبی)
Ayah 110:2

وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader

اور فیصلہ اور تو دیکھے لوگوں کو داخل ہوتے دین میں غول کے غول

ورایت الناس فتح مکہ سے پہلے بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جن کو رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور اسلام کی حقانیت پر تقریباً یقین ہوچکا تھا مگر اسلام میں داخل ہونے سے ابھی تک قریش کی مخالفت کے خوف سے یا کسی تذبذب کی وجہ سے رکے ہوئے تھے۔ فتح مکہ نے وہ رکاوٹ دور کردی تو فوج فوج ہو کر یہ لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ یمن سے سات سو نفر مسلمان ہو کر پہنچے جو راستہ میں اذانیں دیتے اور قرآن پڑھتے ہوئے آئے۔ اسی طرح عام عرب فوج فوج ہو کر داخل اسلام ہوئے۔
Ayah 110:3

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader

تو پاکی بول اپنے رب کی خوبیاں اور گناہ بخشوا اس سے بیشک وہ معاف کرنے والا ہے۔

جب موت قریب محسوس ہو تو تسبیح و استغفار کی کثرت چاہئے۔ فسبح بحمد ربک واستغفرہ حضرت صدیقہ ائشہ فرماتی ہیں کہ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو یہ دعا کرتے تھے سبحانک ربنا وبحمدک الھم اغفرلی (4 واہ البخاری) حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ اس سورت کے نزول کے بعد اٹھتے بیٹھتے اور جاتے آتے ہر وقت میں یہ دعا پڑھتے تھے، سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ اور فرماتے تھے کہ مجھے اس کا حکم کیا گیا اور دلیل میں اذا جاء نصر اللہ کی تلاوت فرماتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس سورت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عبادت میں بڑا مجاہدہ فرمایا یہاں تک کہ آپ کے پاؤں ورم کر گئے۔ (قرطبی) تمت سورة النصر بحمد اللہ تعالیٰ