110. Surah An-Nasr

النصرDivine Support · 3 ayahsسراج البیان

Ayahs 110:1–2

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader

جب اللہ کی مدد اور فتح پہنچ چکی

وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader

اور تونے دیکھ لیا کہ آدمی اللہ کے دین میں فوج فوج داخل ہورہے ہیں

سورة النصر یہ سورة فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور اس میں اس فتح کا ذکر ہے کہ وہ وقت بالکل قریب ہے کہ آپ دس ہزار قدمیوں کے ساتھ مکہ میں داخل ہوں گے اور آپ دیکھیں گے کہ کیوں کہ لوگ اس فتح ونصرت سے متاثر ہوکر فوج در فوج اور کارواں در کارواں اللہ کے دین میں داخل ہوتے ہیں ۔ بات یہ تھی کہ وہ سعادت مندروحیں جنہوں نے اسلام کو دلائل کی روشنی میں دیکھا اور اس کی حقانیت میں ان کو بالکل شک وشبہ نہیں رہا ۔ وہ مکہ میں اس وقت حلقہ بگوش اسلام ہوچکی تھیں جب کہ اسلام ظاہری شان و شکوہ کا بالکل حامل نہیں تھا ۔ مگر ایک تعداد کثیر ایسے لوگوں کی تھی ، جن کی انجام کار پر نظر تھی ۔ ان کی رائے تھی کہ دیکھنا چاہیے اسلام کو فتح ونصرت سے بہرہ وافر ملتا ہے یا نہیں ۔ ان کا خیال تھا کہ اگر اسلام کے ساتھ خدا ہے ۔ حق وصداقت اور سچائی ہے تو یہ غالب ہوکر رہے گا اور اگر یہ غلط ہے اور باطل تو مٹ جائے گا ۔ جب ان لوگوں نے دیکھ لیا اور مشاہدہ کرلیا کہ باوجود کفر کی قوت اور ظاہری ٹھاٹ ودبدبے کے اسلام کو فتح نصیب ہوئی اور مسلمان فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے تو ان کو یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کا دین ہے ۔ اس لئے جوق درجوق یہ لوگ آئے اور اسلام کی دولت سے مالا مال ہوگئے ۔
Ayah 110:3

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader

تو اب تُو اپنے رب کی تعریف (ف 1) کے ساتھ اس کی تسبیح کر اور اس سے (امت کے) گناہ بخشوا ۔ بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے

ف 1: فرمایا ۔ چونکہ آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کے دین کی نصرت واعانت مقدرات میں سے ہے ۔ اس لئے آپ ﷺ حمد و ستائش میں مصروف رہیں اور اللہ کے باب میں ہر نوع کے سوہ ظن سے بچیں ۔ یقینا اللہ تو اب اور رحیم ہے ۔