110. Surah An-Nasr

النصرDivine Support · 3 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس سال تک مدینہ منورہ میں صحابہ کرام (رض) نے دین اسلام کی سربلندی اور عظمت کے لئے وہ بےمثال قرابانیاں پیش کی ہیں جن کی مثال پوری تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ ان قربانیوں کا مقصد کسی ملک پر قبضہ یا اقتدار نہ تھا بلکہ وہ اپنے جان و مال سے محض اللہ کو راضی کرنے کے لئے جدوجہد اور کاوشیں کرنا تھا۔ لیکن ایک فطری بات ہے کہ شدید ترین مشکلات اٹھانے کے بعد اگر اس کے بہتر نتیجے کی کوئی خوش خبری سنائی جائے تو انسان کو اس سے بڑی خوش ہوتی ہے ۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں شدید ترین حالات کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب اللہ کی طرف سے فتح اور کامیابی آجائے اور آپ یہ دیکھیں کہ لوگ اسلام میں گروہ کے گروہ جماعتیں کی جماعتیں داخل ہو رہی ہیں تو اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے اس کی حمد وثنا کیجئے اور دعائے استغفار کا سہارا لیجئے۔ کیونکہ اللہ اپنے بندوں بہت مہربان ہے۔ سورة النصر جو کہ سب سے آخری سورت ہے اس کے بعد ایک ایک دودو آیتیں تو نازل ہوئی مگر کوئی سورت نازل نہیں ہوئی اسی لئے علماء کرام نے فرمایا ہے کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے جو سورت نازل ہوئی وہ سورة فاتحہ ہے اور مدنی دور میں بالکل آخر میں جو سورت نازل ہوئی وہ سورة النصر ہے۔ سورة النصر نازل ہونے کے اسی دن (٨٠) بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب اعلیٰ سے جا ملے۔ بہت سی روایت وہ بھی ہیں جن میں خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے اس سورت کے ذریعہ بتادیا گیا ہے کہ آپ بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں چناچہ سورة النصر کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کثرت سے ……… پڑھا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے اطلاع دی ہے کہ آپ بہت جلد اپنی امت میں ایک علامت دیکھیں گے۔ جب وہ علامت نظر آجائے تو کثرت سے استغفار کیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے وہ نشانی دیکھ لی ہے اور اس کے بعد آپ نے سورة النصر کی تلاوت فرمائی۔ (مسلم) ۔ یعنی آپ کو بتا دیا گیا تھا کہ وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے جب ساری دنیا پر مسلمانوں کو غلبہ اور اقتدار عطا کردیا جائے گا اور لوگ بڑی تعداد میں دین اسلام قبول کرلیں گے۔ اور اس طرح آپ کو وہ مشن اور مقصد پورا ہوجائے گا جس کے لئے اللہ نے آپ کو بھیجا تھا۔ یوں تو ایمان لانے والے ایمان لا ہی رہے تھے لیکن ہر جگہ پھیلی ہوئی ایک بہت بڑی تعداد تھی جو کافروں کے ظلم و ستم کی وجہ سے اپنے ایمان کا اظہار نہیں کرسکتی تھی۔ جیسے ہی مکہ فتح ہو اور کفر کی کمر توڑ کر رکھ دی گء تو پھر تمام وہ لوگ جن کے دلوں میں اسلام کی عظمت بیٹھ چکی تھی وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دامن اطاعت و محبت سے وابستہ ہوتے چلے گئے۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ فتح مکہ پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا تھا وہ پورا کردیا اور اس کے بعد آپ نے سورة النصر کی تلاوت فرمائی۔

Ayahs 110:1–3

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader

جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے

وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader

اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے دیکھیں

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کی تسبیح کیجئے۔ مغفرت مانگئے۔ بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔

لغات القرآن۔ جاء ۔ آگیا۔ نصر اللہ۔ اللہ کی مدد۔ یدخلون۔ وہ داخل ہوتے ہیں۔ افواج۔ جماعتیں۔ سبح۔ تسبیح کیجئے۔ استغفر۔ بخش مانگئے۔ تو اب۔ بہت توبہ قبول کرنے والا۔ تشریح : انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں تاکہ وہ جس غلط راستے پر چل رہے ہیں اس سے ہٹ جائیں۔ ان کی زندگیاں سنور جائیں اور ان کی دنیا اور آخرت بہتر سے بہتر ہوجائے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک ہزاروں رسول اور نبی آتے ہیں۔ اللہ نے آخر میں اپنے محبوب نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حجاز کے اس علاتے میں مبعوث فرمایا جہاں کفرو شرک اور انسانیت پر ظلم و ستم کی انتہا ہوچکی تھی اور صدیوں سے کوئی پیغمبر بھی یہاں تشریف نہ لائے تھے جس کی وجہ سے اس علاقے کے لوگوں میں بہت سے وہ جاہلانہ اور مشرکانہ طریقے رائج ہوچکے تھے جنہیں وہ دین و مذہب سمجھ کر کتے اور اس پر فخر کرتے تھے۔ نبی کریم حضرت محمد ﷺ جو ساری دنیا کی اصلاح کے لئے تشریف لائے تھے آپ نے اسی علاقے سے اپنے مشن اور مقصد کا آغاز فرمایا۔ جب آپ نے ان لوگوں کو دین اسلام کی طرف دعوت دے کر بلایا تو سارا عرب آپ کا دشمن بن گیا۔ آپ کو اور آپ کی اس تحریک کو مٹانے کے لئے دن رات کوششیں کرنے لگا۔ آپ کے دوستوں میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ ؓ ، بچوں میں حضرت علی ؓ اور غلاموں میں حضرت زید ؓ نے آپ کا دامن اطاعت و محبت تھام کر دنیا اور آخرت کی عظمتیں حاصل کرلیں۔ لیکن وہ لوگ جو آپ کو صادق و امین کہتے تھے آپ کہ فہم و فراست کے سامنے اپنی گردنیں جھکاتے تھے اور انہیں آپ پر بھرپور اعتماد تھا۔ آپ کے خاندان کے وہ لوگ جو آپ کی راہوں میں پلکیں بچھاتے تھے وہ سب کے سب نہ صرف آپ کے مخالف ہوگئے بلکہ آپ کی دشمنی میں انتہا کردی۔ خاص طور پر آپ کا وہ حقیقی چچا ابو لہب اور چیچی ام جمیل جو آپ کو سب سے زیادہ چاہتے تھے آپ کے اعلان نبوت کے بعد آپ کے جانی دشمن بن گئے تھے۔ آپ جہاں بھی اللہ کا دین پھیلانے تشریف لے جاتے اور ابو لہب کو معلوم ہوتا تو وہ وہاں جا کر لوگوں سے کہتا کہ لوگو ! اس کی بات نہ سنو یہ دیوانہ ہوگیا ہے۔ جو بھی آپ کی بات سن کر ایمان لاتا ابو جہل اور ابو لہب ان پر شدید ظلم اور زیادتی کرتے تھے۔ کفار کا ظلم و ستم بڑھتا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند صحابہ و صحابیات جن کے دلوں میں اسلام کی شمع روشن ہوچکی تھی وہ بیت اللہ کی سرزمین چھوڑ کر ملک حبش کی طرف ہجرت کر گئے۔ کچھ عرصہ بعد نبی کریم ﷺ بھی اللہ کے حکم سے مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما گئے۔ مدینہ منورہ کے رہنے والوں نے آپ کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور دین اسلام کی روشنی ہر طرف پھیلنا شروع ہوگئی۔ جن صحابہ اور صحابیات نے ملک حبش کی طرف ہجرت کرلی تھی وہ بھی مدینہ منورہ پہنچ گئے تھے۔ یہاں انصار مدینہ نے مہاجرین کے ساتھ اخوت و محبت کا وہ بہترین معاملہ کیا جو ساری دنیا کے لئے ایک مثال بن گیا۔ مکہ مکرمہ میں تو صرف کفار و مشرکین ہی تھے لیکن مدینہ منورہ میں مشرکین اور اہل یہودو نصاریٰ کی ایک بہت بڑی قوت موجود تھی جو صدیوں سے اس علاقے میں آباد تھے اور وہ ہر طرف چھائے ہوئے تھے۔ اور اسی طرح کچھ لوگ وہ بھی تھے جنہوں نے اہل ایمان کے جوش، جذبے اور سرفروشی کو دیکھ کر اسی میں عافیت کو محسوس کیا کہ وہ بھی مسلمان ہوجائیں تاکہ مفادات کا ٹکرائو نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ان تمام حالات کے پیش نظر مدینہ منورہ میں آباد یہودیوں، کفار اور مشرکین سے ” میثاق مدینہ “ کے نام سے ایک معاہدہ کرلیا۔ اس معاہدے کے باوجود یہودیں نے مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین کو بھڑکایا کہ وہ کسی طرح مسلمانوں کی قوت و طاقت کو توڑ ڈالیں۔ چناچہ کئی زبردست جنگیں بھی ہوئیں مگر ہر مرتبہ کفار کو زبردست شکست ہوئی اور آخر کار وہ وقت آگیا جب مکہ مکرمہ ہوگیا اور کفار و مشرکین کے علاوہ یہودیوں کی طاقت بھی ختم ہو کر رہ گئی۔ فتح مکہ کے بعد خیبر سے حجاز تک ایک اسلامی ریاست قائم ہوگئی۔ وہ تمام لوگ جو اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوچکے تھے اور کفار کا ظلم و جبر بھی ختم ہو کر رہ گیا تھا تو بغیر کسی مزاحمت اور جنگ کے بڑی تعداد میں لوگوں نے حلقہ اسلام میں داخل ہونا شروع کردیا ۔ قبیلے اور گروہ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے پورے جزیرۃ العرب پر اہل ایمان کو مکمل غلبہ اور طاقت عطا فرما دی۔ نبی کریم ﷺ پر جب سورة النصر نازل کی گئی تو اہل ایمان خوش ہوگئے کیونکہ اللہ کی طرف سے فتح و نصرت کی خوش خبری دیدی گئی تھی لیکن کچھ حضرات نے دیکھا کہ اس خوشی کے موقع پر ایک کونے میں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ زارو قطار رو رہے ہیں۔ اس خوشی کے موقع پر لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے رونے کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ نے اس سورت میں اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! جب آپ دیکھیں گے کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو رہے ہیں تو آپ اپنے رب کی حمدو ثنا کیجئے اور امت کے گناہوں کی معافی کی درخواست کیجئے کیونکہ وہ اللہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ فرمایا کہ اس میں اللہ نے فرمادیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کا مشن اور مقصد پورا ہوگیا ہے۔ اب لوگ دین کی سچائیوں کو قبول کرچکے ہیں اور آئندہ کرتے رہیں گے اب آپ اللہ کے پاس واپسی کی تیاری کیجئے۔ اسی کی حمدو ثنا کیجئے اور اسی سے استغفار کیجئے۔ چنانچہ سورة النصر کے نازل ہونے کے اسی (80) دن کے بعد آپ انے رب اعلیٰ سے جاملے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة النصر کے نازل ہونے کے بعد آپ عباد الٰہی میں پہلے سے بھی زیادہ مشغول ہوگئے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ، ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ ، حضرت عبد اللہ ابن عباس اور حجرت عبد اللہ ابن عمر ؓ سے جو روایات نقل کی گء ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔ سورۃ النصر منیٰ کے مقام پر حجتہ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی۔ پھر آپ نے اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر حج کا وہ تاریخی خطبہ دیا جا قیامت تک ساری انسانیت کے لئے ایک منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس میں آپ نے یہ بھی فرمادیا کہ شاید میں اس سال کے بعد تم سے نہ ملوں۔ روایات میں آتا ہے کہ سورة النصر نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ اللہ کی یاد میں پہلے سے بھی زیادہ منہمک اور مشغول ہوگئے۔ آپ اس طرح اللہ کے سامنے رہتے کہ آپ کے پائے مبارک پر ورم آجاتا۔ کبھی کبھی وہ ورم پھٹ کر رسنے لگتا۔ مگر آپ اللہ کی عبادت و بندگی میں کمی نہ فرماتے تھے۔ سورۃ النصر نازل ہونے کے بعد آپ اکثریہ پڑھا کرتے تھے۔ ………… کبھی آپ پڑھتے………………… آپ ﷺ یہ بھی فرماتے کہ مجھے اسی بات کا اللہ کی طرف سے حکم دیا گیا ہے۔ (بخاری۔ مسلم۔ ترمذی۔ قرطبی) ۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” میں دن میں ایک سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں “۔