110. Surah An-Nasr
النصرDivine Support · 3 ayahsتفسیر انوار البیان
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader
جب آجائے اللہ کی مدد اور فتح
وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader
اور آپ لوگوں کو دیکھیں کہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader
سو آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے جس کے ساتھ حمد بھی ہو اور اس سے مغفرت طلب کیجئے بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔
اوپر سورة ٴ نصر کا ترجمہ کیا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ شانہ ٗ نے رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ جب اللہ کی مدد آجائے اور آپ لوگوں کو دیکھیں کہ فوج در فوج، جوق در جوق اسلام میں داخل ہو رہے ہیں تو آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کرنے میں مشغول ہوجائیں اور تسبیح کے ساتھ اللہ کی حمد بھی بیان کریں مثلاً یوں کہیں سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ اور اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کریں اور آخر میں یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔
رسول اللہ ﷺ تو ہمیشہ ہی تسبیح وتحمید و استغفار میں لگے رہتے تھے اس سورت میں جو ان چیزوں میں مشغول رہنے کے لیے خطاب فرمایا ہے اس خطاب کی وجہ سے آپ نے اور زیادہ تسبیح وتحمید اور استغفار کی کثرت شروع فرما دی، حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ آپ اپنی آخر عمر میں سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ (ذكرہ ابن کثیر و عزاہ الی الامام احمد)
اور حضرت ام سلمہ ؓ نے بیان کیا کہ آپ اپنی زندگی کے آخری ایام میں اٹھتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے سبحان اللہ وبحمدہ پڑھا کرتے تھے میں نے جو اس بارے میں آپ سے سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے، پھر آپ نے ﴿ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ001﴾ کو آخر تک تلاوت فرمایا۔ (ذكرہ ابن کثیر ایضاً وعزاہ الی ابن جریر)
تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہاں الفتح سے فتح مکہ مراد ہے۔ آنحضرت ﷺ کی وفات سے دو سال پہلے یہ سورت نازل ہوئی تھی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ جب ﴿ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ001﴾ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کو بلایا اور فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی گئی ہے کہ میری موت قریب ہے یہ سن کر وہ رونے لگیں پھر آپ نے ان سے فرمایا کہ میرے گھر والوں میں سے تم مجھے سب سے پہلے آ کر ملو گی یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں۔ (ابن کثیر عن البیہقی صفحہ 561 ج 4)
حضرت عمر ؓ حضرت ابن عباس ؓ کو مشائخ بدر کی مجلس میں بٹھایا کرتے تھے۔ بعض حضرات کو ناگوار ہوا کہ ان کو ہمارے ساتھ مجلس میں کیوں بٹھاتے ہیں (حالانکہ نو عمر ہیں) اور ان جیسے ہمارے لڑکے بھی ہیں انہیں ہمارے ساتھ مجلس میں کیوں نہیں بٹھاتے ؟ حضرت عمر ؓ کو پتہ چلا تو ایک دن ان حضرات کی موجودگی میں حضرت ابن عباس ؓ کو بلایا اور ان حضرات سے پوچھا کہ بتاؤ ﴿ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ001﴾ میں کیا بات بتائی گئی ہے ان میں سے بعض نے تو خاموشی اختیار کی اور بعض نے جواب دیا کہ اس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب اللہ کی مدد آجائے اور ممالک فتح ہوجائیں تو اللہ کی حمد کریں اور استغفار میں مشغول رہیں۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا کیا بات اسی طرح ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا نہیں۔ فرمایا تو کیا کہتے ہو ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے عرض کیا کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر دی گئی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں بھی اس سورت کا مطلب یہی سمجھتا ہوں۔ (تفردبہ البخاری)
چونکہ اس سورت میں آپ کی وفات کی خبر دی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ آپ دنیا سے جلدی تشریف لے جانے والے ہیں اور تسبیح اور تحمید اور استغفار میں مشغول ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے آخر عمر میں آپ تینوں چیزوں کی مشغولیت کے ساتھ دیگر امور متعلقہ آخرت میں بھی پہلے کی بنسبت اور زیادہ کوشش فرماتے تھے، حضرت ابن عباس ؓ نے ایک مرتبہ پوری سورت الفتح پڑھی اور آخر میں کہا : فاخذ باشد ما کان قط اجتھادًا فی امر الاخرة (ابن کثیر عن الطبرانی)
رسول اللہ ﷺ کسی وقت بھی اعمال آخرت سے غافل نہیں رہتے تھے اور ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے اور سورة النصر نازل ہونے کے بعد اس طرف اور زیادہ متوجہ ہوگئے، جو دعوت کا کام آپ کے ذمہ تھا یعنی لوگوں کو دین اسلام اور احکام اسلام پہنچانا یہ بھی بہت بڑا کام ہے اور بہت بڑی عبادت ہے لیکن اس کے انجام دینے میں مخلوق کی طرف بھی توجہ دینی پڑتی ہے لہٰذا آپ کو حکم دیا گیا کہ خصوصیت کے ساتھ ایسی عبادت کا بھی اہتمام کریں جس میں بلاواسطہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ ہو اسی کو ﴿فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ007 وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ (رح) 008﴾ میں ارشاد فرمایا ہے اور اس سورت میں فرمایا کہ اب جب کہ اس دنیا سے جانے کا وقت قریب ہے تو اور زیادہ تسبیح وتحمید اور استغفار میں لگے رہیں آپ نے اس پر عمل فرمایا اور آیت کریمہ کے نازل ہونے کے دو سال بعد آپ کی وفات ہوگئی۔
رسول اللہ ﷺ نے دعوت تبلیغ کے کام میں بہت محنت کی، بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں مکہ والوں میں سے چند ہی آدمیوں نے اسلام قبول کیا اور آپ کو ہجرت پر مجبور کیا، پورے جزیرہٴ عرب میں آپ کی بعثت کی خبر پھیل گئی تھی اور آپ کی دعوت حق کا علم ہوگیا تھا لیکن ایمان نہیں لاتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ ابھی انتظار کرو، دیکھتے رہو ان کا اپنی قوم کے ساتھ کیا انجام ہوتا ہے جب آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تب بھی قریش مکہ ایمان نہ لائے اور بدر اور احد میں جنگ کرنے کے لیے چڑھ آئے اور غزوہٴ احزاب میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، پھر جب رمضان المبارک 8 ہجری میں مکہ معظمہ فتح ہوگیا تو مکہ والے بھی مسلمان ہوگئے اور عرب کے دوسرے قبائل نے بھی اسلام قبول کرلیا، یہ لوگ جوق در جوق فوج در فوج مدینہ منورہ میں آتے تھے اور اسلام قبول کر کے واپس جاتے تھے اسی کی ﴿وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ002﴾ میں پیشگی خبر دے دی تھی۔
حضرات مشائخ نے فرمایا کہ جو حضرات کسی بھی طرح سے دین کی خدمت کرتے ہیں جب بڑھاپے کو پہنچ جائیں اور موت قریب معلوم ہونے لگے تو حسب ہدایت قرآنیہ ذکر و تلاوت اور عبادت میں خوب زیادہ مشغول ہوجائیں۔
فضیلت : حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے دریافت فرمایا کیا تم نے نکاح نہیں کیا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، کیسے نکاح کروں ؟ فرمایا کیا سورة ٴ ﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ001﴾ نہیں، عرض کیا، ہاں ہے، فرمایا وہ تہائی قرآن ہے، پھر فرمایا کہ کیا تیرے پاس ﴿قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ001﴾ نہیں ہے، عرض کیا ہاں وہ میرے پاس ہے۔ فرمایا وہ چوتھائی قرآن ہے۔ پھر فرمایا کیا تیرے پاس سورة ٴ ﴿اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ ﴾ نہیں ہے۔ عرض کیا ہاں ہے، فرمایا وہ نصف قرآن ہے۔ تم نکاح کرلو۔ ان سورتوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ تمہارا نکاح کر دے گا۔ (ذكرہ ابن کثیر فی تفسیر سورة زلزال وعزاہ الی سنن الترمذی)