110. Surah An-Nasr

النصرDivine Support · 3 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 110:1–3

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader

جب آجائے اللہ کی مدد اور فتح

وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader

اور آپ لوگوں کو دیکھیں کہ فوج درد فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader

سو آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کیجیے جس کے ساتھ حمد بھی ہو اور اس سے مغفرت طلب کیجیے بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا جاء نصر اللہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابن جریرے عطا بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ اذا جاء نصر اللہ والفتح ساری کی ساری مدینہ میں نازل ہوئی۔ فتح مکہ اور لوگوں کے دین میں داخل ہونے کے بعد اور اس میں آپ کو اپنے وصال کی خبر دی گئی۔ 4۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والبزار وابو یعلی وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ سورة نبی اکرم ﷺ پر ایام تشریق کے درمیان منیٰ میں نازل ہوئی اور اس وقت آپ حجۃ الوداع کی ادائگی میں تھے یعنی اذا جاء نصر اللہ والفتح تو رسول اللہ ﷺ نے پہچان لیا کہ یہ الوداعی حج ہے۔ 5۔ ابو عبید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت اذا جاء فتح اللہ والنصر۔ 6۔ ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح سے فتح مکہ مراد ہے آیت ورأیت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا اور آپ نے لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق درجوق داخل ہوتے دیکھ لیا تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور اس سے معافی مانگیے۔ بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں عنقریب آپ وفات پاجائیں گے۔ 7۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ افواجا سے مراد ہے لوگوں کے گروہ۔ 8۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح کے بارے میں روایت کیا کہ یہ سورة نبی اکرم ﷺ کے وفات پا جانے کی نشانی ہے۔ 9۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ سورة علم اور حد ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم کے لیے حد مقرر فرمائی ہے اور آپ کے وفات پا جانے کی خبر دی ہے۔ یعنی آپ اس کے بعد ہرگز زندہ نہیں رہیں گے مگر تھوڑا۔ قتادہ (رح) نے فرمایا کہ اس کے بعد آپ زندہ نہیں رہے مگر تھوڑا یعنی دو سال بعد وفات پا گئے۔ 10۔ احمد وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے موت کی خبر دی گئی کہ بیشک میں اس سال میں وفات پانے والا ہوں۔ 11۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے میری موت کی خبر دی گئی ہے اور میری موت قریب ہے۔ 12۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ پر آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو آپ نے جان لیا کہ آپ کو اپنی موت کی خبر دی گئی ہے۔ 13۔ الطیالسی وابن ابی شیبہ واحمد والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابو سعدی خدری ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ سورة اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو آخرتک پڑھا پھر فرمایا میں اور میرے صحابہ ؓ اور اس زمانہ کے لوگ بہتر ہیں فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ 14۔ نسائی وعبد اللہ بن احمد فی زوائد الزہد وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کو اپنی موت کی خبر دی گئی اور جس وقت یہ سورة اتاری گئی تو میں آخرت کے معاملہ میں سخت محنت کرنے لگا۔ موت کی خبر دی گئی ہے 15۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ام حبیبہ ؓ سے روایت کیا کہ جب آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے جب بھی نبی مبعوث فرمایا امت میں اس سے پہلے گزرنے والے نبی کی امت کا نصف بنادیا۔ اور بیشک عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) بنی اسرائیل میں چالیس سال تک رہے۔ اور یہ عمر میرے لیے بیس سال ہے اور اس سال میں وفات پانے والا ہوں۔ یہ سن کر فاطمہ ؓ رونے لگی تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا میرے گھر والوں میں سے تو سب سے پہلے مجھ سے ملنے والی ہے یہ سن کر وہ مسکرانے لگیں۔ 16۔ ابن مردو یہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے غزوہ حنین سے واپس تشریف لائے تو ان پر یہ آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے علی بن ابی طالب ! اے فاطمہ بنت محمد ! اللہ نصر اور فتح آگئی۔ اور میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہورہے ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سو میرے رب کی ذات پاک ہے اور اس کی تعریف ہے۔ اور میں اسی سے مغفرت طلب کرتا ہوں کیونکہ وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ 17۔ خطیب وابن عساکر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو اپنی وفات کی خبر دی جب آپ پر اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل فرمائی اور یہ فتح آٹھویں سال میں تھی رسول اللہ ﷺ کے ہجرت کرنے کے بعد جب آپ نے اپنی ہجرت کے نویں سال میں داخل ہوئے تو لگاتار آپ کے پاس قبائل اور وفود آنے لگے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ کب موت کا پیغام آپہنچے رات میں یا دن میں پس آپ اسی مقدار عمل کرتے رہے اور آپ نے سالوں کو وسیع کردیا اور فرضوں کی پابندی کی۔ اور رخصتوں کو ظاہر فرمایا دیا اور بہت سی احادیث کو منسوخ کردیا اور تبوک کی جنگ میں تشریف لے گئے اور ایسے کام کیے جیسے کوئی دنیا چھوڑنے والا کام کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئیاں 18۔ طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ حنین سے واپس تشریف لائے تو آپ پر آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے علی بن ابی طالب ! اے فاطمہ بنت محمد اللہ کی مدد ونصرت اور فتح آخر حصہ تک آگئی سبحان اللہ وبحمدہ میرا رب ہر عیب سے پاک ہے اور اسی کی تعریف ہے۔ اور میں اسی سے اپنی امت کے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں کیونکہ وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اور اے علی بیشک میرے بعد مومنین میں جہاد ہوگا۔ عرض کیا ہم کیوں مومنین سے جہاد کریں گے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے۔ فرمایا دین میں بدعات داخل کرنے پر جب کہ وہ رائے مطابق عمل کریں گے اور دین میں کوئی رائے نہیں ہے۔ بیشک دین میں امر ونہی رب تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ علی ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ بتائیے۔ اگر ہم پر ایسا معاملہ پیش آجائے۔ اس کے بارے میں قرآن نازل نہیں ہوا۔ اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی سنت قائم ہے تو آپ نے فرمایا تم اسے مومنین میں سے عابدین کی شوری میں رکھو۔ اور صرف رائے کے ساتھ اس کا فیصلہ نہ کرو۔ اگر میں کسی کو خلیفہ بناتا تو کوئی تجھ سے زیادہ حقدار نہ ہوتا اس لیے کہ تم کو اسلام میں قربت حاصل ہے اور تیری قرابت ہے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قرابت داری کا تعلق اور تم داماد رسول ہو اور مومن عورتوں کی سردار تمہارے پاس موجود ہیں۔ اور اس سے پہلے حضرت ابو طالب کی آزمائش اور مشقتیں بھی میرے سبب ہیں۔ اور قرآن نازل ہوا اور میں اس بات پر حریص ہوں کہ میں ان کی اولاد میں اس کے لیے نظر رکھوں۔ 19۔ احمد و طبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ ؓ کو بلایا اور فرمایا بیشک مجھے میری موت کی خبر دی گئی ہے۔ 20۔ سعید بن منصور وابن سعد والبخاری وابن جریر وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی وابو نعیم معاً دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ بدر کے شیوخ میں مجھے بٹھاتے تھے۔ عبدالرحمن بن عورف ؓ نے ان سے فرمایا ہمارے ساتھ اس جوان شامل فرماتے ہیں حالانکہ اس کی مثل ہمارے بیٹے بھی ہیں۔ عمر ؓ نے فرمایا بلاشبہ یہ ان میں سے جو تم بھی جانتے ہو انہوں نے چناچہ آپ نے ایک دن انہیں بلایا اور ان کے ساتھ مجھے بھی بلوایا۔ اور میں یہ نہیں جانتا تھا کہ آپ نے اس دن مجھے اس لیے بلایا تاکہ ان کو میرے بارے میں بتائیں۔ اور کچھ دکھائیں پھر عمر ؓ نے فرمایا تم اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ تو ان کے بعض نے کہا اللہ تعالیٰ نے ہم کو حکم فرمایا کہ ہم اس کی تعریف کریں اور ہم اس سے بخشش طلب کریں جب اللہ کی مدد اور فتح ہم پر آجائے اور اس کے بعض نے کہا ہم نہیں جانتے اور ان کے بعض نے کچھ بھی نہ کہا پھر مجھ سے فرمایا اے ابن عباس ! کیا تم ایسا ہی کہتے ہو میں نے نے کہا نہیں۔ پھر فرمایا تو کیا کہتا ہے ؟ میں نے کہا وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے پیغام اجل ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح ورأیت الناس یدخلون۔ جب اللہ کی مدد وار فتح آچکی اور آپ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ داخل ہورہے ہیں اور فتح سے مراد ہے فتح مکہ اور یہ نشانی ہے آپ کی وفات کی آیت فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور اس سے معافی مانگئے بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ عمر ؓ نے فرمایا اس بارے میں میں بھی اس سے زیادہ نہیں جانتا جو تو جانتا ہے۔ 21۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے ان لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس سے مراد ہے مدائن اور قصور کی فتح۔ پھر عمر ؓ نے فرمایا اے ابن عباس تو کیا کہتا ہے ؟ میں نے کہا یہ مثال بیان کی گئی محمد ﷺ کے لیے کہ جس سے آپ کو اپنی موت کا بتایا گیا۔ 22۔ ابن مردویہ وابو نعیم فی فضائل الصحابہ والخطیب نے فی تالی الت (رح) خیص میں ابن عباص ؓ سے روایت کیا کہ جب آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل تو عباس ؓ علی ؓ کے پاس آئے اور کہا ہمارے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی طرف چلو تاکہ اگر آپ کے بعد یہ امارت ہمارے لیے ہے تو قریش اس بارے میں ہم سے کوئی دشمنی نہ رکھیں اور اگر ہمارے سوا کسی اور کے لیے ہے تم ہم آپ سے اپنے لیے کچھ وصایا سوال کریں۔ علی ؓ نے کہا ہم سوال نہیں کریں گے عباس ؓ نے فرمایا آپ کی خدمت میں آیا اور میں نے اس بات کو آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے ابوبکر ؓ کو اللہ کے دین پر اور اس کی وحی پر میرا خلیفہ بنایا ہے اور انہی سے وصیت طلب کی جاسکتی ہے سو تم اس کی نصیحت کو سنو اور اس کی اطاعت کرو تم ہدایت پاؤ گے اور کامیاب ہوجاؤ گے اور ان کی اقتدا کرو رہنمائی حاصل کرلو گے ابن عباس ؓ نے فرمایا فتنہ و ارتداد عرب میں جب ابوبکر صدیق کے ساتھیوں نے آپ کی مخالفت کی تو سوائے حضرت عباس ؓ نے فرمایا فتنہ و ارتداد عرب میں جب ابوبکر صدیق کے ساتھیوں نے آپ کی مخالفت کی تو سوائے حضرت عباس ؓ کے کسی نے آپ کی رائے کے ساتھ اتفاق نہیں کیا آپ کے معاملہ پر آپ کو مضبوط نہیں کیا۔ اور آپ کے معاملہ پر آپ کی مدد نہیں کی۔ آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ان دنوں کی ائے نہیں بدلی اور ان دونوں کی مستقل مزاجی کو ساری زمین والوں نے دیکھ لیا۔ 23۔۔ الطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت اذا جاء نصر اللہ والتح کے بارے میں روایت کیا کہ اس وقت آپ کو آپ کی وفات کی خبر دی گئی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب آپ لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ اللہ کے دین میں جوق درجوق داخل ہورہے ہیں۔ یعنی جب آپ لوگوں کو اسلام قبول کرتے ہوئے دیکھیں اور فرماتے ہیں کہ یہ اس وقت ہوگا جب آپ کی موت حاضر ہوگی آیت فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا۔ تو اس وقت اپنے رب کی حمد بیان کرتے ہوئے پاکی بیان کیجیے۔ 24۔ ابن مردویہ الخطیب وابن عساکر نے ابوہریرہ ؓ سے آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح کے بارے میں روایت کیا کہ یہ علم اور حد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم کے لیے اس کی حد بیان فرمائی ہے اور آپ کو اپنی وفات کی خبر دی ہے کہ بیشک آپ فتح مکہ کے بعد باقی نہیں رہیں گے مگر تھوڑا سا وقت۔ 25۔ ابن بی شیبہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سارے قرآن مجید میں سب سے آخر میں سورة اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی۔ 26۔ بخاری نے سہل بن سعد الساعدی سے روایت کیا اور انہوں نے ابوبکر ؓ سے روایت کیا سورة اذا جاء نصر اللہ والفتح جب رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تو آپ نے جان لیا کہ آپ کو اپنی وفات کی خبر دے دی گئی ہے۔ 27۔ بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کا ارادہ فرمایا تو آپ رمضان میں مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور دس ہزار مسلمان آپ کے ساتھ تھے۔ اور یہ واقعہ مدینہ منورہ میں ساڑھے آٹھ سال کے بعد واقع ہو اور آپ نے مکہ فتح فرمایا جب رمضان میں تیرہ دن باقی تھے۔ 28۔ ابن ابی شیبہ ومسلم وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کثرت سے آیت سبحان اللہ وبحمدہ واستغفر اللہ واتوب الیہ پڑھا کرتے تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ کثرت سے سبحان اللہ وبحمدہ واستغفر اللہ واتوب الیہ پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے بتایا گیا کہ بیشک میں عنقریب ایک نشانی اپنی امت میں دیکھوں گا جب میں اس کو دیکھوں تو کثرت سے یہ کلمات پڑھوں سبحان اللہ وبحمدہ واستغفر اللہ واتوب الیہ۔ یقینی طور پر میں نے دیکھ لی ہے اور آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح سے مراد فتح مکہ ورأیت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا۔ 29۔ عبدالرزاق واحمد والبخاری ومسلم وابو داوٗد والنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجدوں میں کثرت سے سبحانک اللہم و بحمد اللہم اغفرلی پڑھا کرتے تھے۔ اور آپ قرآن کی یہ تفسیر کرتے تھے۔ یعنی آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح۔ 30۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں سنا جب سے یہ سورة اذا جاء انصر اللہ والفتح آپ پر اتاری گئی۔ مگر آپ اکثر ان دونوں کی مثل کلمات کہتے تھے سبحان اللہم ربنا وبحمدک اللہم اغفرلی۔ 31۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی آخری عمر میں اٹھتے بیٹھتے اور آتے جاتے یہی کلمات کہتے تھے۔ سبحانک اللہم وبحمدک واستغفرک واتوب الیک۔ میں نے ان سے عرض کیا۔ یہ آپ کیوں پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بیشک میں اس کا حکم دیا گیا ہوں پھر آپ نے سورة اذا جاء نصر اللہ والفتح آخر تک پڑھی۔ 32۔ عبدالرزاق ومحمد بن نصر وابن جریر وابن المنذرر وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو نبی مکرم ﷺ اکثر یہ پڑھتے تھے سبحانک اللہم وبحمدک اللہم اغفرلی انک انت التواب الغفور۔ اے اللہ میں آپ کی پاکی بیان کرتا ہوں آپ کی حمد کے ساتھ اے اللہ ! مجھ کو بخش دیجیے۔ بیشک آپ بہت توبہ قبول کرنے والے اور بہت بخشنے والے ہیں 33۔ الحاکم وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ پڑھا کرتے تھے سبحان اللہم ربنا و بحمد جب آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی۔ تو پھر اس طرح پڑھتے تھے سبحانک اللہم ربنا وبحمدک اللہم اغفرلی انک انت التواب الرحیم۔ 34۔ ابن مردویہ نے ابوہرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یمن والے آئے ان کے دل نرم ہیں۔ ایمان یمانی ہے۔ فقہ بھی یمانی ہے اور حکمت بھی یمانی ہے۔ 35۔ الحاکم وصححہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت ورأیت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا کے بارے میں فرمایا کہ یقیناً لوگ گروہ در گروہ دین سے نکلیں گے جیسے اس میں گرو وہ در گروہ داخل ہوئے۔ 36۔ الطبرانی وابن مردویہ نے اور ابو نعیم نے الحلیہ میں فضیل بن عیاض (رح) سے روایت کیا کہ جب آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی سورة کے آخرتک تو محمد ﷺ نے فرمایا اے جبریل ! مجھے میری وفات کی خبر دی گئی ہے جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا آپ کے لیے آخرت بہتر ہے دنیا سے۔ 37۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہے کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوئے ہیں اور عنقریب وہ اس میں سے فوج در فوج نکلیں گے۔ 38۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت اذا جاء نصر اللہ والفتح کے بارے میں فرمایا یمن والے آئے ان کے دل انتہائی نرم ہیں۔ ان کی طبعی خصلتوں اور دلوں کی عظمت نے ان کو بہت خوبصورت بنادیا ہے اور وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہورہے ہیں۔