110. Surah An-Nasr

النصرDivine Support · 3 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 110:1

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ Open ayah 110:1 in the Quran reader

جب خدا کی مدد آ پہنچی اور فتح (حاصل ہو گئی)

اذا جاء نصر اللہ . جب اللہ کی مدد آچکی یعنی جب اللہ نے تم کو دشمنوں پر غلبہ عنایت کردیا ‘ اگر اس سورة کا نزول فتح مکہ کے دن فتح کے بعد مانا جائے تو اِذَا (شرطیہ) اِذْ (ظرفیہ) کے معنی میں ہوگا جیسے آیت : اذا جاء امرنا وفار التنور میں اور آیت : حتی اذا بلغ مغرب الشمس میں ( اِذَا بمعنی اِذْ ) ہے۔ والفتح . اور فتح یعنی فتح مکہ۔ طبرانی نے حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح کے دن فرمایا : یہ وہی ہے جس کا وعدہ میرے رب نے مجھے سے فرمایا تھا ‘ پھر آپ ﷺ نے اذا جاء نصر اللہ والفتح کی تلاوت فرمائی۔ اصحاب اخبار نے فتح کا قصہ اس طرح لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال قریش سے دس سال کے لیے صلح کرلی ‘ جس کی شرط یہ تھی کہ اس مدت کے اندر لوگ امن سے رہیں گے اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے حلیف ہونا چاہیں گے ‘ وہ آپ ﷺ کے معاہدہ میں ہونگے اور جو لوگ قریش کے حلیف ہونا چاہیں گے قریش کے معاہدہ میں ہوں گے۔ چناچہ بنی بکر قریش کے معاہدہ میں داخل ہوگئے اور بنی خزاعہ رسول اللہ ﷺ کے حلیف ہوگئے۔ بکر اور خزاعہ میں پرانی جنگ تھی۔ کچھ مدت کے بعد بنی بکر کی ایک شاخ بن نفاثہ نے بنی خزاعہ پر زیادتی کی اور بنی نفاثہ کے قبیلہ نوفل بن معاویہ دیلمی نے مکہ کے نشیبی حصہ میں بمقام وتیر بنی خزاعہ پر شب خون مارا۔ یہاں تک کہ بنی خزاعہ حرم میں داخل ہوگئے ‘ تب بھی قبیلۂ نوفل نے قتال جاری رکھا۔ قریش نے ہتھیاروں سے بنی بکر کی مدد کی بلکہ صفوان بن امیہ ‘ عکرمہ بن ابی جہل ‘ سہیل بن عمرو ‘ شیبہ بن عثمان ‘ حویطب بن عبدالعزیٰ اور کچھ دوسرے لوگ اپنے غلاموں سمیت رات کے وقت چھپ کر بنی بکر کی طرف سے لڑائی میں بھی شریک ہوئے ‘ لڑائی کے بعد قریش کو عہد شکنی پر پشیمانی ہوئی اور ایک نے دوسرے کو ملامت کی۔ ادھر لڑائی کے بعد عمرو بن سالم خزاعی چالیس سو اروں کو ساتھ لے کر بنی خزاعہ پر واقع ہونے والی مصیبت کی اطلاع دینے اور مدد مانگنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن رسول اللہ ﷺ نے عمرو کے پہنچنے سے پہلے ہی بنی نفاثہ اور بنی خزاعہ کی جنگ کی اطلاع دے دی تھی اور فرمایا تھا جو کام خدا کو مقصود ہے ‘ اس کی تکمیل کے لیے قریش عہد شکنی کریں گے۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا : (کیا مسلمانوں کے لیے) خیر ہوگی ؟ فرمایا : خیر ہوگی۔ محمد بن عمرو نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے اور طبرانی نے حضرت امّ سلمہ ؓ کی روایت سے (واقعہ) اسی طرح بیان کیا ہے۔ غرض جب عمرو بن سالم خزاعی نے حاضر ہو کر اطلاع دے دی (اور مدد کا طلبگار ہوا) تو رسول اللہ ﷺ چادر کھینچتے ہوئے اٹھے اور فرمایا : اے عمرو ! اگر میں تیری مدد اس (قوّ ت) کے ساتھ نہ کروں جس (قوّ ت) سے اپنی مدد کرتا ہوں تو (خدا کرے) میری مدد نہ کی جائے۔ یہ واقعہ ماہ شعبان کا ہے جب صلح حدیبیہ کو بائیس ماہ گزرے تھے ‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ کو قریش کے پاس یہ پیام پہنچانے کیلئے بھیجا کہ تین باتوں میں سے ایک بات قریش کو اختیار کرلینا چاہیے یا بنی خزاعہ کے مقتولین کی دیت ادا کریں۔ کُل تیرہ آدمی مقتول ہوئے تھے ‘ یا جن لوگوں نے یعنی بنی نفاثہ نے معاہدۂ صلح کی خلاف ورزی کی ہے ‘ انکو اپنا حلیف ہونے سے خارج کردیں (یعنی بنی نفاثہ سے محالفہ ختم کردیں تاکہ مسلمان ان سے بنی خزاعہ کا انتقام لے لیں) یا حدیبیہ والے معاہدۂ صلح کو یک قلم منسوخ کردیا جائے۔ یہ پیام سن کر قریش کی رائیں باہم مختلف ہوگئیں۔ آخر کار معاہد کو منسوخ کردینے پر سب متفق ہوگئے اور حضرت حمزہ ؓ فسخ معاہدہ کی خبر لے کر واپس آگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت حمزہ ؓ سے مشورہ لیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے صلح اور نرمی کا مشورہ دیا اور عرض کیا : وہ آپ کی قوم والے ہیں ‘ یہاں تک کہ حضرت ابوبکر کا خیال ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے مشورہ پر چلیں گے۔ حضرت عمر ؓ نے جنگ کا مشورہ دیا اور عرض کیا : انہوں نے آپ کو جادوگر ‘ کاہن اور بڑا دروغ گو کہا۔ وہ کفر کے سردار ہیں۔ قریش نے جو جو باتیں رسول اللہ ﷺ کے متعلق گزشتہ زمانہ میں کہی تھیں۔ حضرت عمر ؓ نے وہ سب کچھ کہا۔ کوئی بات بغیر ذکر کیے نہیں چھوڑی اور عرض کیا : جب تک اہل مکہ اطاعت نہیں کریں گے ‘ عرب اطاعت نہیں کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کے مشورہ کو اختیار کیا اور خفیہ تیاری شروع کردی اور عرب کو لڑائی میں شریک ہونے پر آمادہ کیا۔ چناچہ قبائل اسلم ‘ غفار ‘ مزینہ ‘ حرفیہ ‘ اشجع اور سلیم آگئے۔ کچھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ ہی میں پہنچ گئے اور کچھ حضور ﷺ کی روانگی کے بعد راستہ میں آ ملے۔ کُل مسلمان ایک روایت میں دس ہزار اور دوسری روایت میں بارہ ہزار تھے۔ دونوں روایتوں کے اختلاف کو اس طرح دور کیا جاسکتا ہے کہ مدینہ سے روانگی کے وقت دس ہزار ہوں گے اور راستہ میں قبائل کے مل جانے کی وجہ سے بارہ ہزار ہوگئے ہوں گے۔ آخر قریش فسخ معاہدہ پر پشیمان ہوئے اور ابوسفیان کو بھیجا۔ ابو سفیان اپنی بیٹی حضرت امّ حبیبہ ؓ کے پاس پہنچا اور جونہی رسول اللہ ﷺ کے بستر پر بیٹھنے کا ارادہ کیا۔ حضرت امّ حبیبہ ؓ نے بستر کو لپیٹ دیا اور فرمایا : یہ رسول اللہ ﷺ کا بستر ہے۔ ابوسفیان بولا : بیٹی ! خدا کی قسم ! میرے بعد تجھ میں خرابی آگئی ہے۔ امّ المؤمنین نے فرمایا : اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت فرما دی ہے۔ مگر ابّا جان ! آپ قریش کے سردار ہیں اور آپ پتھروں کو پوجتے ہیں ‘ جو نہ سنتے ہیں ‘ نہ دیکھتے ہیں ‘ اسلام میں داخل ہونے کی ضرورت آپ سے کس طرح ساقط ہوسکتی ہے۔ ابو سفیان امّ المؤمنین کے پاس سے اٹھ گیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ گفتگو کی لیکن حضور ﷺ نے کچھ جواب نہیں دیا۔ پھر ابو سفیان حضرت ابوبکر ؓ کی خدمت میں پہنچا اور کچھ گفتگو کی اور درخواست کی کہ آپ ؓ رسول اللہ ﷺ سے میری سفارش کر دیجئے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : میں ایسا نہیں کرسکتا۔ پھر ابوسفیان نے حضرت عمر ؓ سے جا کر کچھ بات کی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : خدا کی قسم ! اگر دُرّہ (کوڑا) ہی میرے پاس ہو (کوئی اور ہتھیار مجھے نصیب نہ ہو) تب بھی میں تم سے درہ لے کر ہی لڑوں گا۔ آخر ابو سفیان حضرت علی کی خدمت میں پہنچا۔ اس وقت حضرت علی ؓ کے پاس حضرت سیّدہ اور حضرت حسن موجود تھے۔ ابو سفیان نے کہا : علی ! تم سے میرا رشتہ سب سے زیادہ قریب کا لگتا ہے ‘ تم میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے سفارش کر دو ۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : اے ابو سفیان ! رسول اللہ ﷺ پختہ ارادہ کرچکے ہیں کوئی بھی حضور ﷺ سے اب (اس سلسلہ میں) بات نہیں کرسکتا۔ ابو سفیان نے حضرت سیّدہ ؓ کی طرف رخ کیا اور عرض کیا : آپ ہی اپنے والد سے کہہ دیجئے کہ وہ لوگوں کے ٹوٹے ہوئے تعلقات کو جوڑ دیں۔ حضرت فاطمہ ؓ نے بھی انکار کردیا۔ آخر ابوسفیان بولا : ابوالحسن ! اب میرے لیے معاملہ سخت ہوگیا ‘ آپ مجھے کوئی اچھا مشورہ دے دیں (کہ اب میں کیا کروں ؟ ) حضرت علی ؓ نے فرمایا : تمہارے لیے کوئی فائدہ رساں بات میری سمجھ میں تو نہیں آتی ‘ البتہ تم بنی کنانہ کے سردار ہو۔ تم لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہو کر کہہ دو کہ میں لوگوں میں امن (ہونے کا اعلان) کرتا ہوں۔ ابو سفیان نے کہا : کیا یہ بات میرے لیے فائدہ مند ہوگی ؟ حضرت علی نے فرمایا : میری سمجھ میں تو اس کے علاوہ کوئی بات نہیں آتی۔ ابو سفیان نے مسجد میں جا کر کہہ دیا ‘ لوگو ! میں نے لوگوں کے لیے امن جاری کردیا یہ کہہ کر اونٹ پر سوار ہو کر چل دیا اور قریش کے پاس پہنچ کر پورا قصہ بیان کردیا۔ قریش نے کہا : خدا کی قسم ! علی ؓ نے تمہارے ساتھ صرف دل لگی کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ابن امّ مکتوم کو یا ابوذر غفاری کو اپنا جانشین بنایا۔ مؤخر الذکر قول صحیح ہے۔ (رواہ الطبرانی) اور بدھ کے دن 10 / رمضان 8 ھ کو مدینہ سے برآمد ہوئے اور دعا کی : الٰہی ! جاسوسوں اور مخبروں سے قریش کو روک دے (ان کو میری رو انگی اور تیاری کی اطلاع نہ ہو) ۔ بخاری نے بیان کیا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : مجھے اور زبیر و مقداد کو رسول اللہ ﷺ نے مامور کیا اور فرمایا : کیا تم (تیزی کے ساتھ آگے) جاؤ اور بستان خاخ پر پہنچو۔ وہاں ایک عورت اونٹ پر سوار ملے گی ‘ اس کے پاس ایک خط ہے۔ وہ خط اس سے حاصل کرلو۔ حسب الحکم ہم گھوڑوں کو تیز دوڑاتے ہوئے چل دیئے اور بستان خاخ پر پہنچے تو وہ عورت مل گئی۔ ہم نے اس سے کہا : خط نکال۔ عورت نے کہا : میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے کہا : یا تو خط نکال ورنہ کپڑے اتار دے۔ مجبوراً اس نے اپنے چونڈے (چٹیایا جوڑا ‘ 12) سے خط نکال کردیا۔ ہم خط لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ خط حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کی جانب سے مشرکین مکہ کے نام تھا ‘ جس میں حاطب نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ کے بعض امور کی اطلاع دی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حاطب یہ کیا ہے ؟ حاطب نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھ پر ناراض ہونے میں عجلت نہ فرمائیے (میری گزارش سن لیجئے ‘ بات یہ ہے کہ) میں قریش میں پر کٹا (اجنبی ‘ مسامن) تھا اور حضور ﷺ کے ساتھ جو دوسرے مہاجر ہیں ‘ ان کے رشتہ دار مکہ میں موجود ہیں جو ان کے مال و عیال کے نگراں ہیں (مگر میرا وہاں کوئی رشتہ دار نہیں ہے) اس لیے میں نے چاہا کہ جب میرا وہاں کوئی رشتہ دار نہیں ہے تو کوئی ایسی بات (قریش کے لیے مفید) کر دو کہ وہ میرے اہل و عیال کی حفاظت کردیں۔ میں نے یہ حرکت اسلام سے مرتد ہو کر اور کفر کو اختیار کر کے نہیں کی۔ رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ ؓ سے) فرمایا : اس نے سچ بات کہہ دی۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے اجازت دیجئے ‘ میں اس منافق کی گردن مار دوں ؟ فرمایا : عمر ؓ ! یہ بدر میں شریک تھا اور تم نہیں جانتے کہ بدریوں کے احوال کو جان کر ہی اللہ اہل بدر کے متعلق فرما چکا ہے کہ جو کچھ چاہو کرو ‘ میں نے تمہاری مغفرت کردی۔ یہ سن کر حضرت عمر کی آنکھیں اشک آلود ہوگئیں اور اللہ نے آیت : یایھا الذین اٰمنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء ..... سواء السبیل تک نازل فرمائی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھا اور صحابہ ؓ نے بھی روزے رکھے لیکن کرید پر پہنچنے کے بعد افطار کردیا اور صحابہ ؓ نے بھی روزے کھول دیئے ‘ پھر ختم ماہ تک حضور ﷺ نے روزہ نہیں رکھا۔ عباس ؓ بن عبدالمطلب مکہ میں حاجیوں کو پانی پلانے کے ذمہ دار تھے اور مکہ میں ہی مقیم تھے لیکن مکہ کو چھوڑ کر پہلے ہی سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بمقام جحفہ حاضر ہوگئے تھے اور عباس ؓ کے چچا کا بیٹا ابو سفیان ؓ بن حارث اور ابو سفیان کا بیٹا جعفر مقام ابواء میں آکر رسول اللہ ﷺ سے آملے اور مسلمان ہوگئے۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ ابو سفیان بن حارث اور عاتکہ کا بیٹا عبداللہ بن امیہ جب ( مقام ابواء میں) رسول اللہ ﷺ سے ملے تو حضور ﷺ نے ان کی طرف سے منہ پھیرلیا اور فرمایا : میری ان سے کوئی غرض نہیں۔ انہوں نے میری عزت برباد کی ہے اور مجھے جو کچھ کہا ہے وہ کہا ہے۔ ان دونوں نے حضرت امّ سلمہ کی طرف رجوع کیا اور حضرت امّ سلمہ ؓ نے ان کی سفارش کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو اجازت دیدی ‘ پھر کدید میں پہنچ کر جھنڈوں پر پرچم باندھے اور قبائل کو جھنڈے تقسیم کردیئے۔ رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا حضرت زبیر ؓ کے پاس رہا۔ پھر عشاء کے وقت مقام مر الظہران میں اترے۔ قریش کو ان واقعات کی اطلاع اس وقت تک بالکل نہیں پہنچی تھی۔ اسی شب میں ابو سفیان بن حرب اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقہ تجسس احوال کے لیے مکہ سے نکلے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو (مختلف مقامات میں) آگ روشن کرنے کا حکم دیا۔ حسب الحکم دس ہزار (جگہ) آگ جلائی گئی (گویا ہر شخص نے اپنی قیام گاہ پر آگ جلائی۔ غالباً اس سے مراد یہ تھی کہ دیکھنے والوں کو لشکر کی کثرت تعداد معلوم ہوجائے) عباس ؓ بن مطلب نے اسی رات کہا تھا : آہ ! قریش کی صبح بری ہوگی۔ خدا کی قسم ! اگر رسول اللہ ﷺ مکہ میں زبردستی داخل ہوگئے تو ہمیشہ کے لیے قریش کی تباہی ہوجائے گی ‘ یہ کہہ کر خچر پر سوار ہو کر نکلے تاکہ کوئی لکڑہارا یا دودھ والا یا کسی اور کام کو مکہ میں جانے والا اگر مل جائے تو رسول اللہ ﷺ کے قیام فرما ہونے کی اطلاع قریش کو بھجوا دیں تاکہ قریش پہلے ہی آکر حضور ﷺ سے امان مانگ لیں۔ اتنے میں ابوسفیان کی آواز کانوں میں آئی جو کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم ! آج رات کی طرح میں نے آگ نہیں دیکھی (یعنی کثیر مقامات پر یکدم فوجیوں کے پڑاؤ پر اتنی کثرت سے آگ نہیں دیکھی) ۔ حضرت عباس ؓ نے کہا : اے ابوسفیان ! یہ رسول اللہ ﷺ اتنی فوج لے کر آگئے ہیں کہ تم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ابو سفیان نے کہا : پھر کیا تدبیر ہو ؟ حضرت عباس ؓ نے کہا : ابو سفیان ! اگر تو پکڑا گیا تو تیری گردن مار دی جائے گی۔ اس لیے (مناسب یہ ہے کہ) میرے خچر کے پیچھے سوار ہوجا۔ میں تجھے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ جاؤں گا۔ وہاں تو امان مانگ لینا۔ چناچہ حضرت عباس (ابوسفیان کو لے کر پڑاؤ کی طرف) لوٹ پڑے اور جس طرف سے گزرتے تھے لوگ ان کو دیکھتے تھے اور کہتے تھے : یہ رسول اللہ ﷺ کے چچا ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے خچر پر سوار ہیں۔ آخر جب حضرت عمر ؓ کی فروگاہ کی طرف سے گزرے اور حضرت عمر ؓ نے ابو سفیان کو دیکھا تو فوراً کھڑے ہوگئے اور بولے : یہ اللہ کا دشمن ابوسفیان ہے۔ شکر ہے خدا کا بغیر معاہدہ اور پیمان کے اللہ نے اس پر قابو دے دیا (یہ کہہ کر مارنے دوڑے) حضرت عباس ؓ تیزی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی طرف کو دوڑے اور ابو سفیان کو لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے (پیچھے سے) حضرت عمر ؓ بھی پہنچ گئے۔ حضرت عباس ؓ نے کہا : تم یہ سلوک صرف اس وجہ سے کر رہے ہو کہ ابو سفیان قبیلۂ عبد مناف کا ہے ‘ اگر بنی کعب سے ہوتا تو تم یہ بات نہ کہتے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : عباس ؓ ! سختی اختیار نہ کیجئے ‘ جس روز آپ مسلمان ہوئے تو آپ کا اسلام مجھے (اپنے باپ) خطاب کے اسلام سے بھی زیادہ پیارا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عباس ! اس کو اپنے پڑاؤ پر لے جاؤ (عباس ؓ لے گئے) ۔ صبح کو پھر ابوسفیان کو لے کر خدمت گرامی میں پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے ابوسفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تجھے لا الہ الاّ کا یقین آجائے۔ ابوسفیان نے کہا : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ! آپ ﷺ بہت ہی حلیم ‘ کریم اور ٹوٹے رشتوں کو جوڑنے والے ہیں۔ خدا کی قسم ! میرا خیال ہے کہ اگر خدا کی موجودگی میں کوئی دوسرا خدا ہوتا تو اب کچھ کرسکتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ارے ابو سفیان ! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تجھے میرے رسول خدا ہونے کا یقین آجائے۔ ابوسفیان نے کہا : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ! آپ کس قدر تحمل والے ‘ کرم کرنے والے اور خاندان سے اچھا سلوک رکھنے والے ہیں لیکن یہ (رسالت) تو اس کے متعلق ابھی میرے دل میں کچھ (تردد) ہے۔ حضرت عباس ؓ نے کہا : ارے مسلمان ہوجا اور قبل اس کے کہ تیری گردن ماری جائے لا الٰہ الاّ اللہ کی شہادت دیدے۔ اس پر ابوسفیان نے کلمۂ توحید پڑھ لیا اور مسلمان ہوگیا۔ حکیم اور بدیل ابو سفیان سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے۔ یہ روایت اسحاق بن راہویہ کی سند صحیح کے ساتھ ہے لیکن طبرانی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : اللہ کے بندو ! ابو سفیان اراک (پیلو) کے درختوں میں ہے ‘ اس کو (وہیں) پکڑ لو۔ ابن ابی شیبہ نے لکھا ہے کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو رسول اللہ ﷺ کے انصاری باڈی گارڈ نے پکڑ لیا تھا اس روز حضرت عمر ؓ (بھی) محافظ (دستہ میں) تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس کو بند کر دو ۔ حسب الحکم لوگوں نے ابوسفیان کو صبح تک بند رکھا۔ ابن ابی شیبہ کی یہ بھی روایت ہے کہ ابوسفیان نے کہا تھا : مجھے عباس کا پتہ بتاؤ۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ ان میں عباس ؓ بھی تھے جو ابوسفیان کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو ابوسفیان کے گھر میں چلا گیا اس کو امان ہے اور جو کعبہ میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے اور جس نے اپنا دروازہ بند کرلیا ‘ اس کو امان ہے۔ اس فرمان کے بعد ابوسفیان نے کعبہ کے اندر چیخ کر کہا : اے گروہ قریش ! یہ محمد ﷺ تم پر اتنی طاقت لے آئے جسکا تم مقابلہ نہیں کرسکتے (پھر) امان کی جو خبر ابوسفیان لائے تھے ‘ اس کو بیان کیا۔ لوگ یہ اعلان سن کر منتشر ہوگئے ‘ کچھ اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے ‘ کچھ کعبہ میں داخل ہوگئے۔ جب حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء مسلمان ہوگئے اور بیعت کرلی تو حضور ﷺ نے ان کو قریش کو دعوت اسلام دینے کے لیے اپنے سامنے بھیج دیا اور زبیر کو جھنڈا دے کر مہاجرین اور انصار کے سوارروں کا امیر بنا کر روانہ کردیا اور حکم دیا کہ بالائی مکہ میں حجون کے مقام پر پہنچ کر جھنڈے کو نصب کریں اور حکم کے بغیر وہاں سے نہ ہٹیں۔ اسی جگہ سے رسول اللہ ﷺ بھی مکہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے لیے خیمہ لگایا گیا۔ خالد بن ولید کو حکم ملا کہ وہ بنی قضاعہ اور بنی سلیم کے مسلمانوں کے ساتھ نشیبی مکہ سے داخل ہوں۔ نشیبی مکہ میں بنی بکر موجود تھے کیونکہ قریش اور حارث بن عبد مناف کی اولاد اور مختلف قبائل کے لوگوں نے بنی بکر کو مکہ سے نکال دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ نشیبی حصہ میں جا کر رہیں۔ خالد ؓ اور زبیر کو بھیجنے کے وقت رسول اللہ ﷺ نے حکم دیدیا تھا کہ جو تم سے نہ لڑے ‘ اس سے نہ لڑنا۔ سعد بن عبادہ کو جھنڈا دے کر حکم دیا گیا تھا کہ کچھ لوگوں کو لے کر کداء سے مکہ میں داخل ہوں۔ سعد ؓ جب مکہ میں داخل ہونے کے لیے چلے تو کہنے لگے : آج جنگ کا دن ہے ‘ آج ممنوع بھی حلال ہے۔ ایک مہاجر نے یہ بات سن لی اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! سنئے تو سعد بن عبادہ کیا کہہ رہے ہیں۔ قریش پر یہ شوکت ان کو کہاں سے حاصل ہوگئی ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا : تم جھنڈا لے لو اور جھنڈا لے کر (کداء کے راستہ سے مکہ میں) داخل ہو۔ حضرت علی ؓ نے جھنڈا لے لیا اور لے جا کر رکن پر نصب کردیا۔ ابویعلی نے حضرت زبیر کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جھنڈا مجھے دیا تھا اور حضور ﷺ مکہ میں دو جھنڈوں کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور حضرت علی ؓ حضرت زبیر ؓ سے پہلے بالائی مکہ میں نہیں پہنچے تھے۔ خالد بن ولید نے جب نشیبی مکہ سے داخل ہونا چاہا تو وہاں قریش وغیرہ جو مشرک موجود تھے انہوں نے مزاحمت کی اور خالد کو ساتھیوں سمیت ہتھیار اٹھا کر چلنے سے روکا اور تیر مارے اور کہنے لگے ‘ ان کو زبردستی داخل نہ ہونے دو ۔ خالد ؓ نے اپنے ساتھیوں کو چیخ کر آواز دی اور مشرکوں سے جنگ کی۔ چوبیس قریشی اور چار بنی ہذیل کے آدمی مارے گئے۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ بارہ یا تیرہ مشرک مارے گئے اور سخت شکست کھائی ‘ ہر طرف بھاگنے لگے۔ یہاں تک کہ سینہ اور حلق کی سوزش کی وجہ سے کچھ مارے گئے اور کچھ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گئے اور مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا۔ مسلمانوں میں سے قبیلۂ جہینہ کا صرف ایک آدمی مارا گیا جس کا نام سلمہ ؓ بن میلاء تھا۔ یہ خالد کے سواروں میں سے تھا اور کرزبن جابر فہری اور حریش بن خالد بن ربیعہ بھی خالد کے سواروں میں سے مارے گئے۔ یہ دونوں خالد کے راستہ سے بچھڑ گئے تھے اور الگ راستہ پر چل دیئے تھے ‘ دونوں مارے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے سرداروں کو حکم دے دیا تھا کہ مکہ میں داخل ہونے کے وقت کسی کو قتل نہ کریں۔ ہاں ! جو مسلمانوں سے جنگ کریں ‘ ان کو قتل کیا جاسکتا ہے۔ اس حکم سے نام بنام چند آدمیوں کو مستثنیٰ کردیا تھا اور حکم دے دیا تھا کہ ان کو ہر حال میں قتل کردیا جائے خواہ وہ کعبہ کے پردوں کے نیچے ہی ہوں۔ 1) عبداللہ بن ابی سرح ‘ یہ شخص مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوگیا تھا۔ فتح مکہ کے دن حضرت عثمان ؓ نے اس کی سفارش کی تو جان بخشی ہوئی ‘ اس کے بعد یہ مسلمان ہوگیا۔ 2) عکرمہ بن ابی جہل یہ (فتح مکہ کے دن) مسلمان ہوگئے اور ان کا اسلام قبول کیا گیا) ۔ 3) حوریث بن نقید ‘ یہ ہجرت سے پہلے مسلمانوں کو بہت دکھ پہنچایا کرتا تھا ‘ حضرت علی ؓ نے اس کو قتل کردیا۔ 4) مقیس بن صبابہ ‘ اوّل مسلمان ہوگیا تھا ایک انصاری نے ذی قروہ کے غزوہ میں اس کے بھائی ہشام کو دشمن کا آدمی سمجھ کر غلطی سے مار ڈالا تھا اور مقیس نے انصاری سے اس کی دیت لے لی۔ پھر عہد شکنی کر کے انصاری کو قتل کردیا اور مرتد ہوگیا ‘ اس کو اسی کی قوم کے ایک شخص غیلہ بن عبداللہ نے قتل کردیا۔ 5) ہبار بن اسود مسلمانوں کو سخت دکھ دیا کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب کو اسقاط اسی کی ضرب سے ہوا اور اسی مرض سے آپ کی وفات ہوئی۔ یہ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوگیا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو معاف کردیا۔ 6) حارث بن طلال خزاعی ‘ یہ حضرت علی ؓ کے ہاتھ سے مارا گیا۔ کذا ذکرہ ابومعشر۔ 7) کعب بن زہیر شاعر ‘ رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرتا تھا لیکن (فتح مکہ کے دن) مسلمان ہوگیا اور رسول اللہ ﷺ کی مدح کی۔ ذکرہ الحاکم۔ 8) وحشی بن حرب ‘ حضرت حمزہ کا قاتل بھاگ کر طائف چلا گیا تھا پھر آکر مسلمان ہوگیا۔ 9) عبداللہ بن حنظل یہ مسلمان ہوگیا تھا اس کا نام عبدالعزیٰ تھا ‘ رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام بدل دیا اور عبداللہ نام رکھ دیا اور محصل صدقات بنا کر بھیجا اور اس کے ساتھ خزاعہ کے ایک شخص کو بھی روانہ کیا۔ خزاعی شخص عبداللہ کی خدمت کرتا اور اس کے لیے کھانا پکاتا تھا۔ دونوں ایک منزل پر جا کر اترے ‘ دوپہر کا وقت تھا۔ عبداللہ نے خزاعی کو حکم دیا کہ کوئی جانور ذبح کر کے کھانا تیار کرے مگر خزاعی نے کھانا نہیں تیار کیا اس پر عبداللہ نے خزاعی کو قتل کردیا اور مرتد ہو کر بھاگ گیا۔ اس کے پاس دو گانے والی لونڈیاں تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں ہجو کے اشعار گاتی تھیں۔ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ اور ان دونوں باندیوں کے قتل کا حکم دے دیا۔ سعید بن حریث مخزومی اور ابو برزہ اسلمی نے مل کر عبداللہ کو قتل کردیا۔ ایک لونڈی بھی ماری گئی ‘ دوسری بھاگ گئی پھر مسلمان ہوگئی۔ 10) عمر بن ہاشم کی آزاد کردہ ایک باندی تھی جس کا نام سارہ تھا ‘ مکہ میں مغنیہ تھی اور نوحہ خوانی کا پیشہ بھی کرتی تھی۔ اسی کے پاس سے حاطب بن ابی بلتعہ کا خط برآمد ہوا تھا۔ فتح کے دن مسلمان ہوگئی۔ 11) ابوسفیان کی بیوی ہندہ بنت عتبہ جس نے رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ کا جگر چبایا تھا ‘ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوگئی اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے درگزر فرمائی۔ 12) صفوان بن امیّہ یہ بھاگ کر جدہ چلا گیا تھا تاکہ وہاں سے جہاز پر سوار ہو کر یمن کو چلا جائے۔ عمیر بن وہب نے اس کے لیے امن کی درخواست کی۔ حضور ﷺ نے امان دے دی۔ صفوان حاضر ہوگیا اور عرض کیا : مجھے اپنے معاملہ پر دو مہینہ تک سوچنے کا اختیار دے دیجئے۔ حضور ﷺ نے چار ماہ کا اختیار دے دیا۔ آخر میں یہ مسلمان ہوگیا۔ مکہ میں داخلہ کے وقت رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک پر عمامہ تھا۔ (رواہ احمد و مسلم) لیکن صحیحین کی دوسری روایت میں آیا ہے کہ داخلہ کے وقت حضور ﷺ خود پوش تھے۔ دونوں روایتوں کے اختلاف کو اس طرح دور کیا جاسکتا ہے کہ اوّل حضور ﷺ کے سر پر خود ہوگا پھر خود اتار کر عمامہ پہن لیا ہوگا۔ داخلہ کے وقت رسول اللہ ﷺ لوٹا ‘ لوٹا کر سورة فتح پڑھ رہے تھے۔ (صحیحین) آخر حجون میں پہنچ کر چمڑے کے خیمہ میں حضور ﷺ : فروکش ہوئے ‘ اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ دو بیبیاں ‘ حضرت امّ سلمہ ؓ اور حضرت میمونہ ؓ بھی تھیں۔ حجون خفیف بنی کنانہ میں واقع تھا ‘ یہ جگہ وہی تھی جہاں جمع ہو کر قریش اور کنانہ نے باہم قسم کھائی تھی کہ بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کے ساتھ نہ نکاح کا رشتہ قائم کریں گے ‘ نہ ان کے ساتھ خریدو فروخت کریں گے جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کی مدد سے دستبردار نہ ہوجائیں گے۔ یہ قسمیں رہیں گی۔ اس جگہ پہنچنے کے بعد کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ اپنے گھاٹی والے مکان میں قیام نہیں فرمائیں گے ؟ فرمایا : عقیل نے ہمارا کوئی مکان چھوڑا ہی کہاں ؟ (کہ ہم وہاں ٹھہر سکیں) عقیل نے رسول اللہ ﷺ اور اپنے بھائی بندوں کے مکہ والے سب مکان فروخت کردیئے تھے۔ مردوں کے بھی اور عورتوں کے بھی (کوئی مکان باقی نہیں چھو ڑا تھا) عرض کیا گیا تو پھر اپنے قدیمی مکانوں کو چھوڑ کر مکہ کے اندر کسی اور مکان میں قیام فرما لیجئے۔ حضور ﷺ نے اس سے انکار کردیا اور فرمایا : میں کسی کے گھر میں داخل نہیں ہوں گا۔ ہر نماز کے لیے حجون سے کعبہ کو تشریف لاتے تھے۔ غرض فروگاہ پر دن کے تھوڑے وقت ٹھہرنے کے بعد آپ ﷺ نے غسل کیا۔ حضرت فاطمہ ؓ نے پردہ پکڑ لیا۔ آپ ﷺ نے غسل کے بعد چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ (رواہ مسلم) بخاری کی روایت میں حضرت امّ ہانی کا قول آیا ہے کہ آپ ﷺ نے میرے گھر غسل کیا تھا اور نماز پڑھی تھی ‘ پھر اونٹنی پر سوار ہو کر تشریف لے گئے اور کعبہ کے پاس پہنچ کر (طواف کیا اور) لکڑی کی نوک سے رکن کا بوسہ لیا (یعنی لکڑی کی نوک سنگ اسود کو لگا دی ‘ نوک لگ دینا بوسہ کے قائم مقام ہوگیا) اور تکبیر کہی۔ مسلمانوں نے بھی نعرۂ تکبیر لگایا کہ مکہ گونج گیا۔ رسول اللہ ﷺ اشارہ سے مسلمانوں کو ٹھہرنے کی تلقین فرما رہے تھے اور مشرک پہاڑیوں کے اوپر سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے سات بار اونٹنی پر سوار ہونے کی حالت میں کعبہ کا طواف کیا اور لکڑی کی نوک سے (ہر بار) سنگ اسود کا بوسہ لیا۔ کعبہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بت تھے جو رانگ سے مرصع تھے۔ ہبل سب سے بڑا تھا۔ یہ کعبہ کے سامنے کعبہ کے دروازہ پر تھا اور اساف و نائلہ قربانی کے مقام پر تھے۔ رسول اللہ ﷺ جب کسی بت کی طرف سے گزرتے تھے تو اس کی طرف اشارہ کرتے اور جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا پڑھتے تھے۔ بت اشارہ کے سات ہی اوندھے منہ یا پشت کے بل پیچھے کو گرجاتے تھے۔ آپ ﷺ ان کو ہاتھ بھی نہیں لگانے پاتے تھے۔ فضالہ بن عمر لیثی نے چاہا کہ طواف کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کو شہید کر دے۔ یہ ارادہ کر کے وہ حضور ﷺ کے قریب آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : فضالہ ! اس نے جواب دیا : جی ! فرمایا : تم دل میں کیا کہہ رہے تھے ؟ فضالہ نے کہا : کچھ بھی نہیں۔ اللہ کی یاد کر رہا تھا۔ حضور ﷺ یہ سن کر مسکرا دیئے اور فرمایا : اللہ سے استغفار کرو۔ یہ فرما کر دست مبارک فضالہ کے سینہ پر رکھ دیا۔ فضالہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دست مبارک میرے سینے سے اٹھایا بھی نہ تھا کہ آپ ﷺ کی ذات میری نظر میں ہر شخص سے زیادہ محبوب ہوگئی۔ طو اف سے فارغ ہونے کے بعد (کھڑی ہوئی) اونٹنی سے لوگوں کے ہاتھوں کے سہارے سے نیچے اترے کیونکہ اونٹوں کے بیٹھنے کا کوئی مقام مسجد کے اندر نہ تھا۔ مسجد سے باہر اونٹ کو بٹھایا۔ پھر مقام ابراہیم (علیہ السلام) پر پہنچے۔ مقام ابراہیم کعبہ میں شامل تھا ‘ اس وقت آپ ﷺ خود اور عمامہ پہنے ہوئے تھے اور دونوں شانوں کے درمیان عمامہ کا شملہ آویختہ تھا۔ اس جگہ آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر زمزم کی طرف رخ کیا اور اس کے اندر جھانک کر دیکھا اور فرمایا : اگر بنی عبدالمطلب کے غلبہ کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں خود اس میں سے ایک ڈول پانی کھینچتا۔ غرض حضرت عباس ؓ یا حارث بن عبدالمطلب نے ایک ڈول کھینچا اور اس میں سے کچھ پیا اور وضو کیا۔ مسلمان آپ ﷺ کے وضو کے پانی کی طرف ایک دوسرے سے پیش دستی کرنے لگے اور مسابقت کر کے (استعمال کردہ) پانی لے کر اپنے چہروں پر ملنے لگے۔ مشرک اس منظر کو دیکھ رہے تھے اور تعجب کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے ہم نے اتنا عالی مرتبہ نہ کسی بادشاہ کو دیکھا ‘ نہ سنا۔ پھر آپ ﷺ نے ہبل کو توڑ دینے کا حکم دیا۔ حسب الحکم ہبل توڑ دیا گیا۔ حضرت علی کا بیان ہے کہ حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا : بیٹھ جاؤ۔ میں کعبہ کے برابر بیٹھ گیا۔ پھر حضور ﷺ : خود اوپر چڑھ گئے اور فرمایا : علی ! آکر میرے کندھوں پر چڑھ جا۔ میں نے حکم کی تعمیل کی۔ حضور ﷺ جب مجھے لے کر اٹھے تو مجھے ایسا لگنے لگا کہ اگر چاہوں تو آسمان کے کنارہ کو چھو لوں گا۔ اس طرح میں کعبہ پر چڑھ گیا۔ فرمایا : ان کے بڑے بت کو توڑ دے۔ یہ بت تانبے کا تھا اور زمین تک اس میں لوہے کی میخیں ٹھونکی ہوئی تھیں۔ فرمایا اس کو پکڑ لے اور خود پڑھنے لگے : جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔ میں نے بت کو نیچے پھینک دیا۔ اسکے بعد رسول اللہ ﷺ نے بلال کو کعبہ کی کنجی لینے کیلئے عثمان بن طلحہ کے پاس بھیجا۔ عثمان نے کہا : کنجی میری ماں کے پاس ہے۔ عثمان نے ماں سے کنجی منگوائی اس نے کہا : لات و عزیٰ کی قسم ! میں تجھے کبھی کنجی نہیں دوں گی۔ عثمان نے کہا : نہ لات رہا نہ عزی۔ اگر تو کنجی نہ دے گی تو میں بھی مارا جاؤنگا اور میرا بھائی بھی۔ عثمان کو گئے ہوئے دیر ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ انتظار کرتے رہے ‘ آخر حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر کو بھیجا۔ عثمان کی ماں نے جب حضرت ابوبکر ؓ و حضرت عمر ؓ کی آواز سنی تو عثمان سے کہا : بیٹے ان دشمنوں کے لینے سے تو یہ بہتر ہے کہ تو لے لے ‘ عثمان نے کنجی لے لی اور لے کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے کنجی لے کر خود دست مبارک سے کعبہ کو کھولا۔ عثمان اور طلحہ کہا کرتے تھے کہ کعبہ کو کھولنے کا ہمیں اختیار ہے ( رسول اللہ ﷺ کے اس عمل سے انکا یہ دعویٰ ساقط ہوگیا) ۔ (اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ کتابی یا آن لائن نسخے سے ملاحضہ فرمائیں۔ طوالت کے باعث اس سے زیادہ نقل نہیں کیا جا رہا)
Ayah 110:2

وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 110:2 in the Quran reader

اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں

ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا . اگر رَاَیْتَ میں رویت سے مراد رویت چشم ہو تو یَدْخُلُوْنَ النَّاسَ سے حال ہوگا اور اگر رویت بمعنی علم ہو تو یدخلون رایت کا دوسرا مفعول ہوگا۔ افواجًا۔ یدخلون کی ضمیر سے حال ہے ‘ یعنی تم نے دیکھ لیا کہ لوگ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ مقاتل اور عکرمہ ؓ نے کہا : النّاس سے مراد اہل ایمن ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اہل یمن تمہارے پاس آئے ہیں ‘ یہ بہت رقیق القلب اور ایمان کے لیے بڑے نرم دل (یعنی ایمان کا جلد اثر قبول کرنے والے) ہیں۔ حکمت تو یمنی ہے ‘ فخر اور غرور اونٹ والوں میں ہے اور سکون و بردباری بکریوں والوں میں (یعنی اونٹوں کو چرانے والے بڑے سخت دل ‘ مغرور اور شیخی باز ہوتے ہیں اور بکریاں چرانے والے بڑے مسکین طبع اور متحمل مزاج ہوتے ہیں) ۔ (متفق علیہ)
Ayah 110:3

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ Open ayah 110:3 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ معاف کرنے والا ہے

فسبح بحمد ربک . یہ شرط مذکور کی جزا ہے۔ بحمد کا تعلق فعل مقدر سے ہے یعنی سبحان اللہ و بحمدہٖ پڑھو۔ اس نعمت پر خدا کی کہ کسی کے خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی تھی کہ تم قوت کے ساتھ مکہ پر تسلط حاصل کرسکو گے۔ مکہ کو تو اللہ نے اصحاب الفیل سے بھی محفوظ رکھا تھا اور تم کو خدا نے یہ نعمت عطا فرما دی۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوگئے تو لوگوں نے آپ کی بڑی اونچی عزت کی۔ یہ دیکھ کر عاجزی کے ساتھ حضور ﷺ نے سر مبارک اونٹ کے کجاوہ کی لکڑی پر رکھ دیا۔ (رواہ الحاکم بسند جید) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ان الفاظ میں ہے کہ حضور ﷺ کا سر وسط کجاوہ سے چھونے لگا اور قریب ہونے لگا ‘ اس تواضع کی وجہ سے کہ خدادا فتح اور مسلمانوں کی کثرت آپ ﷺ نے دیکھ لی۔ پھر کہا : الٰہی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ (رواہ ابو یعلی) واستغفرہ . اور اللہ سے استغفار کرو ‘ یعنی تواضع اور انکسار نفس کے طور پر استغفار کرو اور تم نے جو امت کی رعایت سے فعل حسن (اچھا عمل) اختیار کیا اور احسن فعل (بہت ہی اچھے) کو ترک کیا (تاکہ امت پر فعل احسن فرض نہ ہوجائے) اس کے لیے اللہ سے معافی 1 ؂ مانگو ‘ یا یہ مراد ہے کہ اپنی امت کے لیے استغفار کر۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں رات ‘ دن میں اللہ سے ستّر بار استغفار کرتا ہوں۔ ایک روایت میں ستّر بار سے زیادہ کا لفظ آیا ہے اور ایک روایت میں سو بار آیا ہے۔ (رواہ البخاری والنسائی و ابن ماجہ و الطبرانی و ابو یعلی من حدیث ابی ہریرۃ و انس و شداد بن اوس ؓ آیت میں استغفار سے پہلے حمد کو اور حمد سے پہلے استغفار کو ذکر کیا کیونکہ طریقۂ نزول یہی ہونا چاہیے (اوّل ذات خدا کی تسبیح پھر اس سے نیچے نعمت کا شکر پھر اپنی لغزشوں کے لیے معافی کی درخواست) دعاء کا یہی مسنون طریقہ ہے لیکن امت کے لیے استغفار سے پہلے درود ضروری ہے (تاکہ دعائے مغفرت قبول ہوجائے۔ ) انہ کان توابا . یعنی جب سے اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور احکام کا مکلف بنایا ‘ اسی وقت سے وہ استغفار کرنے والوں کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ ثعلبی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ سورت پڑھی تو حضرت عباس ؓ رو دیئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کس وجہ سے روتے ہو ؟ حضرت عباس ؓ نے کہا : آپ کو آپ ﷺ کی وفات کی خبر دیگئی ہے۔ فرمایا : جیساتم کہہ رہے ہو ‘ ایسا ہی ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات پر اس سورت سے استدلال کی وجہ یہ ہے کہ سورت بتارہی ہے کہ دعوت پوری ہوگئی اور دین کامل ہوگیا۔ جیسے آیت : الیوم اکملت لکم دینکم ..... دین کے کامل ہوجانے کو ظاہر کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ استغفار کا حکم بتارہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کا وقت قریب آگیا ہے۔ بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ مجھے بدری بزرگوں کے ساتھ شامل فرماتے تھے۔ کسی بزرگ نے کہا : حضرت ! آپ اس کو ہمارے ساتھ کیوں شامل کرتے ہیں ‘ اس کی طرح تو ہمارے بیٹے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کو تم جانتے ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ آپ نے ایک دن بدری بزرگوں کو بلوایا اور مجھے بھی ان کے ساتھ بلوایا اور صرف اس لیے بلوایا کہ ان کو میری کیفیت دکھا دیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : سورت اذا جاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس ..... کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں۔ ایک صاحب ؓ نے کہا : اللہ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم اس کی حمد کریں اور اس سے استغفار کریں جبکہ اس نے ہم کو نصرت و فتح عنایت فرما دیا۔ ایک شخص نے کہا : ہم کچھ نہیں جانتے ‘ بعض لوگوں نے کچھ نہیں کہا۔ حضرت عمر ؓ نے مجھ سے فرمایا : تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : یہ حضور ﷺ کی وفات (کی طرف اشارہ) ہے ‘ اللہ نے آپ ﷺ کو اطلاع دی کہ جب اللہ کی نصرت آچکی اور مکہ فتح ہوگیا تو یہ تمہاری وفات کی علامت ہے۔ پس اپنے رب کی پاکی بیان کرو اور اس کی حمد کرو اور اس سے استغفار کرو۔ وہ یقیناً توبہ قبول کرنے والا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : میں بھی وہی جانتا ہوں جو تم جانتے ہو۔ امام احمد نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب اذا جآء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے میری وفات کی اطلاع دی گئی ہے۔ ترمذی نے حضرت انس کی حدیث نقل کی ہے کہ اذا جآء نصر اللہ والفتح (ثواب میں) چوتھائی قرآن (کے برابر) ہے۔ بخاری (رح) نے حضرت عائشہ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع و سجود میں سبحانک اللّٰھم وبحمدک اللّٰھم اغفر بہت پڑھتے تھے۔ مسلم نے حضرت عائشہ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ زیادہ پڑھتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ مجھے میرے رب نے اطلاع دی تھی کہ عنقریب تم اپنی امت کے اندر ایک نشانی دیکھو گے ‘ جب تم وہ علامت دیکھ لو تو سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ بہت پڑھنا۔ (چنانچہ) میں نے وہ نشانی دیکھ لی (وہ نشانی ہے) اذا جا نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجًا فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا۔ حسن بصری (رح) نے کہا : اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دیدی کہ تمہاری وفات قریب آگئی ہے۔ پس اسی بناء پر اللہ نے پاکی بیان کرنے اور توبہ کرنے کا حکم دیا تاکہ زائد اعمال صالحہ پر آپ کا خاتمہ ہو۔ قتادہ اور مقاتل نے کہا : اس سورت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ دو سال تک زندہ رہے۔ الحمد اللہ ! سورت النصر ختم ہوئیبعونہٖ و منہٖ تعالیٰ