صبح کی نماز (فجر) کو اس کے اول وقت میں پڑھنے اور اس میں قرأت کی مقدار کے بیان میں۔
حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ کَانَ الْحَجَّاجُ يُؤَخِّرُ الصَّلَوَاتِ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، سعد، حضرت محمد بن عمرو بن حسن بن علی ؓ فرماتے ہیں کہ حجاج نمازوں میں دیر کرتا تھا تو ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے پوچھا باقی حدیث اسی طرح سے ہے۔
Muhammad bin Amr al-Hasan bin Ali reported: Hajjaj used to delay the prayers, and so we asked Jabir bin Abdullah, and the rest of the hadith is the same.
صبح کی نماز (فجر) کو اس کے اول وقت میں پڑھنے اور اس میں قرأت کی مقدار کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ فَقَالَ کَأَنَّمَا أَسْمَعُکَ السَّاعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کَانَ لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا قَالَ يَعْنِي الْعِشَائَ إِلَی نِصْفِ اللَّيْلِ وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَکَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَی أَقْصَی الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ قَالَ وَالْمَغْرِبَ لَا أَدْرِي أَيَّ حِينٍ ذَکَرَ قَالَ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَکَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ إِلَی وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُ فَيَعْرِفُهُ قَالَ وَکَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَی الْمِائَةِ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، شعبہ، حضرت سیار بن سلامہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے ابویسال ابوبرزہ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں سنا راوی نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے اس کو حضرت ابوبرزہ سے سنا ہے تو انہوں نے فرمایا گویا کہ میں اس وقت اس کو سن رہا ہوں (مطلب یہ کہ اتنا یاد ہے) پھر اس نے کہا کہ میں نے اس کو سنا وہ ابوسیال سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھ رہے تھے انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ کوئی پرواہ نہ فرماتے تھے کہ عشاء کی نماز میں اگرچہ آدھی رات تک دیر ہوجاتی اور نماز سے پہلے سونے اور نماز کے بعد باتیں کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے راوی شعبہ نے کہا کہ پھر میں نے ان سے ملاقات کی اور ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا کہ ظہر کی نماز جب سورج ڈھل جاتا تو پڑھتے تھے اور عصر کی نماز جب آدمی مدینہ کے آخر میں چلا جاتا تھا اور سورج ابھی باقی ہوتا تھا اور مغرب کی نماز کے بارے میں میں نہیں جانتا کہ وہ کس وقت پڑھتے تھے شعبہ نے کہا میں نے ان سے پھر ملاقات کی اور پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو دیکھ لیتا جسے جانتا تھا تو اسے پہچان لیتا تھا اور اس میں ساٹھ (آیات سے لے کر) سو (آیات) تک پڑھا کرتے تھے۔
Sayyar bin Salama reported: I heard my father asking Abu Barza (al- Aslami) about the prayer of Allahs Messenger ﷺ I (Shubah, one of the narrators) said: Did you hear it (from Abu Barza)? He said: I feel as if I am bearing you at this very time. He said: I heard my father asking about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ and he (Abu Barza) making this reply: He (the Holy Prophet) did not mind delaying some (prayer) i. e. Isha prayer, even up to the midnight and did not like sleeping before observing it, and talking after it. Shubah said: I met him subsequently and asked him (about the prayers of the Holy Prophet) and he said: He observed the noon prayer when the sun was past the meridian, he would pray the afternoon prayer, after which a person would o to the outskirts of Madinah and the sun was still bright; (I forgot what he said about the evening prayer); I then met him on a subsequent occasion and asked him (about the prayers of the Holy Prophet; and he said: He would observe the morning prayer (at such a time) so that a man would go back and would recognise his neighbour by casting a glance at his face, and he would recite from sixty to one hundred verses in it.
صبح کی نماز (فجر) کو اس کے اول وقت میں پڑھنے اور اس میں قرأت کی مقدار کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِ صَلَاةِ الْعِشَائِ إِلَی نِصْفِ اللَّيْلِ وَکَانَ لَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَی فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، سیار بن سلامہ، حضرت ابوبرزہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز کو آدھی رات تک دیر سے پڑھنے کی کوئی پرواہ نہ فرماتے تھے اور نماز سے پہلے سونے کو اور نماز کے بعد باتیں کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے شعبہ کہتے ہیں کہ پھر میں اس سے ملا تو انہوں نے فرمایا یا تہائی رات تک۔
Sayyar bin Salama reported: I heard Abu Barza saying that the Messenger of Allah ﷺ did not mind some delay in the Isha prayer even up to the midnight and he did not like sleeping before (observing it) and talking after it. Shubah said: I again met him (Sayyar bin Salama) for the second time and he said: Even up to the third (part) of the night.
صبح کی نماز (فجر) کو اس کے اول وقت میں پڑھنے اور اس میں قرأت کی مقدار کے بیان میں۔
حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْکَلْبِيُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَائَ إِلَی ثُلُثِ اللَّيْلِ وَيَکْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَکَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ الْمِائَةِ إِلَی السِّتِّينَ وَکَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَعْرِفُ بَعْضُنَا وَجْهَ بَعْضٍ
ابوکریب، سوید بن عمرو کلبی، حماد بن سلمہ، سیار بن سلامہ، منہال، ابوبرزہ، حضرت ابوبرزہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز کو تہائی رات تک دیر سے پڑھا کرتے تھے اور عشاء کی نماز سے پہلے سونے کو اور عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے اور فجر کی نماز میں سو آیات سے لے کر ساٹھ آیات تک پڑھا کرتے تھے اور نماز سے فارغ ہوتے تو ہم ایک دوسرے کو پہچان لیتے تھے۔
Abu Barza bin Aslami is reported to have said: The Messenger of Allah ﷺ delayed the night prayer till a third of the night had passed and he did not approve of sleeping before it, and talking after it, and he used to recite in the morning prayer from one hundred to sixty verses (and completed the prayer at such hours) when we recognised the faces of one another.
اس بات کے بیان میں کہ مختار وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ کَيْفَ أَنْتَ إِذَا کَانَتْ عَلَيْکَ أُمَرَائُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا أَوْ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا قَالَ قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَکْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَکَ نَافِلَةٌ وَلَمْ يَذْکُرْ خَلَفٌ عَنْ وَقْتِهَا
خلف بن ہشام، حماد بن زید، ابوربیع زہرانی و ابوکامل جحدری، حماد بن زید، ابوعمران جونی، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تم اس وقت کیا کرو گے جب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے دیر کر کے پڑھیں گے یا نماز کو اس کے وقت سے مٹا ڈالیں گے تو میں نے عرض کیا کہ اس وقت میرے لئے کیا حکم ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا لیکن اگر ان کے ساتھ بھی پالو پڑھ لینا کیونکہ وہ تمہارے لئے نفل نماز ہوجائے گی راوی خلف نے لفظ عَنْ وَقْتِهَا کا ذکر نہیں کیا۔
Abu Dharr (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said to me: How would you act when you are under the rulers who would delay the prayer beyond its prescribed time, or they would make prayer a dead thing as far as its proper time is concerned? I said: What do you command? He (the Holy Prophet) said: Observe the prayer at its proper time, and if you can say it along with them do so, for it would be a supererogatory prayer for you. Khalaf (one of the narrators in the above hadith) has not mentioned "beyond their (prescribed) time".
اس بات کے بیان میں کہ مختار وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّهُ سَيَکُونُ بَعْدِي أُمَرَائُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا کَانَتْ لَکَ نَافِلَةً وَإِلَّا کُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَکَ
یحییٰ بن یحیی، جعفر بن سلیمان، ابی عمران جونی، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے ابوذر عنقریب میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نماز کو مٹا ڈالیں گے تو تم نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا تو اگر تو نے نماز کو اپنے وقت پر پڑھ لیا تو وہ نماز (جو حاکم کے ساتھ پڑھی گئی) تیرے لئے نفل ہوگی ورنہ تو نے تو اپنی نماز پوری کر ہی لی۔
Abu Dharr (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said to me: O Abu Dharr, you would soon find after me rulers who would make their prayers dead. You should say prayer at its prescribed time. If you say prayer at its prescribed time that would be a supererogatory prayer for you, otherwise you saved your prayer.
اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ کَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَکْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا کُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَکَ وَإِلَّا کَانَتْ لَکَ نَافِلَةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، شعبہ، ابوعمران، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ﷺ نے وصیت فرمائی ہے میں سنوں اور فرمانبرداری کروں اگرچہ ہاتھ پاؤں کٹا ہوا غلام ہو اور یہ کہ میں نماز کو اپنے وقت پر پڑھوں اگر تو لوگوں کو پائے کہ انہوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تو نے اپنی نماز پہلے ہی پوری کرلی ورنہ وہ نماز تیرے لئے نفل ہوجائے گی۔
Abu Dharr (RA) reported: My friend (the Holy Prophet) bade me to hear and obey (the ruler) even if he is a slave having his feet and arms cut off, and observe prayer at its prescribed time. (And further said): It you find people having observed the prayer, you in fact saved your prayer, otherwise (if you join with them) that would be a Nafl prayer for you.
اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ فَخِذِي کَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا قَالَ قَالَ مَا تَأْمُرُ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِکَ فَإِنْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلِّ
یحییٰ بن حبیب، خالد بن حارث، شعبہ، بدیل، ابوعالیہ، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور میری ران پر ہاتھ مارا کہ تیرا کیا حال ہوگا جب تو ایسے لوگوں میں باقی رہ جائے گا جو نماز کو اپنے وقت سے تاخیر کر کے پڑھیں میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ ایسے وقت کے لئے مجھے کیا حکم فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا پھر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے جانا پھر اگر نماز کی اقامت کہی جائے اس حال میں کہ تم مسجد میں ہو تو نماز پڑھ لینا۔
Abu Dharr (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ struck my thigh and said: How would you act if you survive among the people who would delay prayers beyond their (prescribed) time? He (Abu Dharr) said: What do you command (under this situation)? He (the Holy Prophet) slid: Observe prayer at its prescribed time, then go (to meet) your needs, and if when he hears the Iqamah is pronounced, and you are present in the mosque, then observe prayer (along with the Jamaat).
اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّائِ قَالَ أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ فَجَائَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ فَأَلْقَيْتُ لَهُ کُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَکَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَی شَفَتِهِ وَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ کَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي کَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَکَ وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي کَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَکَ وَقَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَکَتْکَ الصَّلَاةُ مَعَهُمْ فَصَلِّ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، حضرت ابوالعالیہ ؓ فرماتے ہیں کہ ابن زیاد نے نماز میں تاخیر کی تو حضرت عبداللہ بن صامت ؓ میرے پاس آئے اور میں نے ان کے لئے کرسی ڈالی وہ اس کر سی پر بیٹھے تو میں نے ان سے ابن زیاد کے کام کا ذکر کیا تو انہوں نے اپنے ہونٹ دبائے اور میری ران پر مارا اور فرمایا کہ میں نے ابوذر ؓ سے پوچھا تھا جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے اور انہوں نے بھی میری ران پر مارا جس طرح میں نے تیری ران پر مارا اور فرمایا کہ نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا اور اگر تو نے نماز ان کے ساتھ پا لی تو پڑھ لینا یہ مت کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے اس لئے اب میں نماز نہیں پڑھتا۔
Abul-Aliyat al-Bara reported: Ibn Ziyad delayed the prayer. Abdullah bin Samit came to me and I placed a chair for him and he sat in it and I made a mention of what Ibn Ziyad had done. He bit his lips (as a sign of extreme anger and annoyance) and struck at my thigh and said: I asked Abu Dharr (RA) as you have asked me, and he struck my thigh just as I have struck your thigh, and said: I asked the Messenger of Allah ﷺ as you have asked me and he struck my thigh just as I have struck your thigh, and he (the Holy Prophet) said: Observe prayer at its prescribed time, and if you can say prayer along with them. do so, and do not say "I have observed prayer and so I shall not pray."
اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ کَيْفَ أَنْتُمْ أَوْ قَالَ کَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلِّ مَعَهُمْ فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ
عاصم بن نضر تیمی، خالد بن حارث، شعبہ، ابونعامہ، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ تمہارا کیا حال ہوگا یا فرمایا کہ تیرا کیا حال ہوگا کہ جب تو ایسے لوگوں میں باقی رہ جائے گا جو نماز کو اپنے وقت سے دیر کر کے پڑھتے ہیں تو نماز کو اپنے وقت پر پڑھ اگر نماز کھڑی ہوجائے تو تو ان کے ساتھ نماز پڑھ کیونکہ یہ زیادہ بہتر ہے۔
Abu Dharr (RA) reported: (The Messenger of Allah) ﷺ said: How would you, or how would thou, act if you survive to live among people who defer prayer beyond the (prescribed) time? (The narrator said: Allah and His Messenger know best). whereupon he said: Observe prayer at its prescribed time, but if when he hears the Iqamah is pronounced for (congregational) prayer, then observe prayer along with them. for herein is an excess of virtue.
اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَطَرٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّائِ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَلْفَ أُمَرَائَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ قَالَ فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي وَقَالَ سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ عَنْ ذَلِکَ فَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلُوا صَلَاتَکُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً قَالَ و قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذُکِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ
ابوغسان مسمعی، معاذ، ابن ہشام، مطر، حضرت ابوالعالیہ براء ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن صامت ؓ سے کہا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں وہ نماز میں تاخیر کرتے ہیں راوی ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓ نے میری ران پر ایک ہاتھ مارا تو مجھے درد ہونے لگا اور فرمایا کہ میں نے بھی اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نماز کو اپنے وقت پر پڑھو اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل کردیا کرو راوی نے کہا کہ حضرت عبداللہ نے مجھ سے ذکر کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ کی ران پر بھی ہاتھ مارا تھا۔
Abul-Aliyat al-Bara reported: I said to Abdullah bin Samit: We say our Jumua prayer behind those rulers who defer the prayer. He (Abdullah bin Samit), struck. my thigh that I felt pain and said: I asked Abu Dharr (RA) about it, he struck my thigh and said: I asked the Messenger of Allah ﷺ about it. Upon this he said: Observe prayer at its prescribed time, and treat prayer along with them (along with those Imams who deter prayer) as Nafl. Abdullah said: It was narrated to me that the Messenger of Allah ﷺ struck the thigh of Abu Dharr.
نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِکُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْئًا
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا پچیس گنا اس نماز سے افضل ہے جو تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Prayer said in a congregation is twenty-five degrees more excellent than prayer said by a single person.
نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَفْضُلُ صَلَاةٌ فِي الْجَمِيعِ عَلَی صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً قَالَ وَتَجْتَمِعُ مَلَائِکَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِکَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْهُودًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، معمر، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس گنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے رات اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو (قرآن کی یہ آیت) پڑھو! إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْهُودًا)۔ 17۔ الاسراء: 78)
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Prayer said in a congregation is twenty-five degrees more excellent than prayer said by a single person. He ( Abu Hurairah (RA) further) said: The angels of the night and the angels of the day meet together. Abu Hurairah (RA) said: Recite it you like:" Surely the recital of the Quran at dawn is witnessed" (al-Quran, xvii. 78).
نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْئًا
ابوبکر بن اسحاق، ابویمان، شعیب، زہری، سعید، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
A hadith like this has been narrated by Abu Hurairah (RA) with another chain of transmitters with a very slight change of words.
نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ
عبداللہ بن مسلمہ، قعنب، افلح، ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم، سلیمان اغر، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے والے کی پچیس نمازوں کے برابر ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Prayer said in a congregation is equivalent to twenty-five (prayers) as compared with the prayer said by a single person.
نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَائِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ إِذْ مَرَّ بِهِمْ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ خَتَنُ زَيْدِ بْنِ زَبَّانٍ مَوْلَی الْجُهَنِيِّينَ فَدَعَاهُ نَافِعٌ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ مَعَ الْإِمَامِ أَفْضَلُ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً يُصَلِّيهَا وَحْدَهُ
ہارون بن عبداللہ، محمد بن حاتم، حجاج بن محمد، ابن جریج، حضرت عمر بن عطاء بن ابی خوار فرماتے ہیں کہ ہم حضرت نافع بن جبیر بن مطعم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوعبداللہ وہاں سے گزرے حضرت نافع نے انہیں بلایا انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ امام کے ساتھ ایک نماز پڑھنا اکیلے پچیس نمازیں پڑھنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Prayer along with the Imam is twenty-five times more excellent than prayer said by a single person.
نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے والے سے ستائیس گنا فضیلت رکھتا ہے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ assaying: Prayer said in a congregation is twenty-seven degrees more excellent than prayer said by a single person.
نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَی صَلَاتِهِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحییٰ بن عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گنا فضیلت رکھتا ہے۔
Ibn Umar reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The prayer of a person in congregation is twenty-seven times in excess to the prayer said alone.
نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ و قَالَ أَبُو بَکْرٍ فِي رِوَايَتِهِ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن نمیر، عبیداللہ ابن نمیر، اس سند میں ابن نمیر نے بیس اور کچھ زیادہ اور ابوبکر کی روایت میں ستائیس درجہ ہے۔
Ibn Numair reported it on the authority of his father (a preference of) more than twenty (degrees) and Abu Bakr (RA) in his narration (has narrated it) twenty-seven degrees.
نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه ابْنُ رَافِعٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِضْعًا وَعِشْرِينَ
ابن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کچھ زیادہ اور بیس۔
Ibn Umar reported from the Apostle of Allah ﷺ as some and twenty (degrees).