پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ
حضرت عروہ ؓ نے فرمایا کہ مجھ سے ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ نبی کی زوجہ مطہرہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس حال میں عصر کی نماز پڑھتے تھے کہ سورج ان کے صحن میں ہوتا تھا سایہ کے ظاہر ہونے سے پہلے۔
Aisha reported: The Apostle of Allah ﷺ said the afternoon prayer as the sun shone in my apartment, and the afternoon shadow did not extend further. Abu Bakr (RA) said: The afternoon shadow did not appear to extend further.
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَفِئْ الْفَيْئُ بَعْدُ و قَالَ أَبُو بَکْرٍ لَمْ يَظْهَرْ الْفَيْئُ بَعْدُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، عمرو، سفیان، زہری، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ میرے حجرہ میں اس حال میں عصر کی نماز پڑھتے تھے کہ سورج نکلا ہوا ہوتا تھا کہ اس کے بعد میں سایہ بلند نہیں ہوتا تھا۔
Aisha, the wife of the Apostle ﷺ , said that the Messenger of Allah ﷺ said the afternoon prayer (at the time) when the sun shone in her apartment and its shadow did not extend beyond her apartment.
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرْ الْفَيْئُ فِي حُجْرَتِهَا
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج (دھوپ) ان کے صحن میں ہوتی تھی اور چڑھتی نہ تھی۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ said the afternoon prayer (at a time) when the (light) of the sun was there in my apartment.
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ وَاقِعَةٌ فِي حُجْرَتِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، وکیع، ہشام، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج (دھوپ) میرے حجرہ میں ہوتی تھی۔
This Arabic text is part of previous Hadeeth No.8675 but not taken with that and not transmitted.
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَلَّيْتُمْ الْفَجْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَی أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الْأَوَّلُ ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتُمْ الظُّهْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَی أَنْ يَحْضُرَ الْعَصْرُ فَإِذَا صَلَّيْتُمْ الْعَصْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَی أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ فَإِذَا صَلَّيْتُمْ الْمَغْرِبَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَی أَنْ يَسْقُطَ الشَّفَقُ فَإِذَا صَلَّيْتُمْ الْعِشَائَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَی نِصْفِ اللَّيْلِ
ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، ابوقتادہ، ابوایوب، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم فجر کی نماز پڑھ چکو تو اس کا وقت باقی ہے جب تک سورج کا اوپر کا کنارہ نہ نکلے پھر جب تم ظہر کی نماز پڑھ چکو تو اس کا وقت سورج کے زرد ہونے تک ہے جب تم مغرب کی نماز پڑھ چکو تو اس کا وقت شفق کے غروب ہونے تک ہوتا ہے پھر جب تم عشاء کی نماز پڑھ چکو تو اس کا وقت آدھی رات تک ہوتا ہے۔
Abdullah bin Amr reported the Apostle ﷺ saying: The time of the noon prayer (lasts) as long as it is not afternoon, and the time of the afternoon prayer (lasts) as long as the sun does not turn pale and the time of the evening prayer (lasts) as long as the spreading appearance of the redness above the horizon after sunset does not sink down, and the, time of the night prayer (lasts) by midnight and the time of the morning prayer (lasts) as long as the sun dots not rise.
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَاسْمَهْ يَحْيَی بْنُ مَالِکٍ الْأَزْدِيُّ وَيُقَالُ الْمَرَاغِيُّ وَالْمَرَاغُ حَيٌّ مِنْ الْأَزْدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقْتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ يَحْضُرْ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ وَوَقْتُ الْعِشَائِ إِلَی نِصْفِ اللَّيْلِ وَوَقْتُ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، قتادہ، ابوایوب، یحییٰ بن مالک ازدی، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ عصر کا وقت نہ آئے اور عصر کا وقت اس وقت تک باقی ہے جب تک سورج زرد نہ ہو اور مغرب کا وقت اس وقت تک باقی ہے جب تک کہ شفق کی تیزی نہ جائے اور عشاء کا وقت آدھی رات تک اور فجر کا وقت اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک کہ سورج نہ نکلے۔
Abdullah b. Amr reported the Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) saying:
The time of the noon prayer (lasts) as long as it is not afternoon, and the time of the afternoon prayer (lasts) as long as the sun does not turn pale and the time of the evening prayer (lasts) as long as the spreading appearance of the redness above the horizon after sunset does not sink down, and the, time of the night prayer (lasts) by midnight and the time of the morning prayer (lasts) as long as the sun dots not rise.
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ قَالَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَ شُعْبَةُ رَفَعَهُ مَرَّةً وَلَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ
زہیر بن حرب، ابوعامر عقدی، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن ابوبکیر، حضرت شعبہ ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
Abu Bakr (RA) b Abu Shaiban and Yahya b Abu Bukair both of them narrated this hadith with the same chain of transmitters.
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ کَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرْ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبْ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَائِ إِلَی نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَأَمْسِکْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ
احمد بن ابراہیم دورقی، عبدالصمد، ہمام، قتادہ، ابوایوب، حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد ہوتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے کہ آدمی کا سایہ اس کی لمبائی کے برابر ہوجائے جب تک عصر کا وقت نہ آئے اور عصر کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جب تک کہ سورج زرد نہ ہو اور مغرب کی نماز کا وقت شفق غائب ہونے تک رہتا ہے اور عشاء کی نماز کا وقت بالکل آدھی رات تک رہتا ہے اور صبح کی نماز کا وقت صبح صادق سے سورج نکلنے تک رہتا ہے پھر جب سورج نکلنے لگے تو کچھ دیر کے لئے نماز سے رک جائے کیونکہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔
Abdullah bin Amr reported: The Messenger of Allah ﷺ said: The time of the noon prayer is when the sun passes the meridian and a mans shadow is the same (length) as his height, (and it lasts) as long as the time for the afternoon prayer has not come; the time for the afternoon prayer is as long as the sun has not become pale; the time of the evening prayer is as long as the twilight has not ended; the time of the night prayer is up to the middle of the average night and the time of the morning prayer is from the appearance of dawn, as long as the sun has not risen; but when the sun rises, refrain from prayer for it rises between the horns of the devil.
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ عَنْ الْحَجَّاجِ وَهُوَ ابْنُ حَجَّاجٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ فَقَالَ وَقْتُ صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ يَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الْأَوَّلُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ مَا لَمْ يَحْضُرْ الْعَصْرُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَيَسْقُطْ قَرْنُهَا الْأَوَّلُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ مَا لَمْ يَسْقُطْ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَائِ إِلَی نِصْفِ اللَّيْلِ
احمد بن یوسف ازدی، عمرو بن عبداللہ بن رزین، ابراہیم، ابن طہمان، حجاج ابن حجاج، قتادہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ فجر کی نماز کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ سورج کا اوپر کا کنارہ نہ نکلے اور ظہر کی نماز کا وقت اس وقت تک ہے کہ جب تک کہ عصر کا وقت نہ آئے اور عصر کی نماز کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ سورج زرد نہ ہوجائے اور اس کے اوپر کا کنارہ غروب نہ ہوجائے اور مغرب کی نماز کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ شفق غائب نہ ہوجائے اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک رہتا ہے۔
Abdullah bin Amr bin al-As reported: The Messenger of Allah ﷺ was asked about the times of prayers. He said: The time for the morning prayer (lasts) as long as the first visible part of the rising sun does not appear and the time of the noon prayer is when the sun declines from the zenith and there is not a time for the afternoon prayer and the time for the afternoon prayer is so long as the sun does not become pale and its first visible part does not set, and the time for the evening prayer is that when the sun disappears and (it lasts) till the twilight is no more and the time for the night prayer is up to the midnight.
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُا لَا يُسْتَطَاعُ الْعِلْمُ بِرَاحَةِ الْجِسْمِ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، عبداللہ بن یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ علم جسم کے آرام کے ساتھ حاصل نہیں ہوسکتا۔
Abdullah narrated it on the authority of his father Yahya: Knowledge cannot be acquired with sloth.
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَزْرَقِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ يَعْنِي الْيَوْمَيْنِ فَلَمَّا زَالَتْ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَائُ نَقِيَّةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَائَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَمَّا أَنْ کَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ بِهَا فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا وَصَلَّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي کَانَ وَصَلَّی الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّی الْعِشَائَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ وَصَلَّی الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَقْتُ صَلَاتِکُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ
زہیر بن حرب، عبیداللہ بن سعید، ازرق، زہیر بن اسحاق بن یوسف ارزق، سفیان، علقمہ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے ایک آدمی نے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھ چناچہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ ﷺ نے حضرت بلال کو حکم فرمایا انہوں نے اذان دی پھر آپ ﷺ نے بلال کو حکم فرمایا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی پھر آپ ﷺ نے حکم فرمایا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی کہ سورج ابھی تک بلند اور سفید تھا پھر آپ ﷺ نے حکم فرمایا تو انہوں نے سورج کے غروب ہونے کے وقت مغرب کی اقامت کہی پھر آپ ﷺ نے حکم فرمایا تو انہوں نے شفق کے غائب ہونے کے وقت میں عشاء کی نماز کی اقامت کہی پھر آپ ﷺ نے حکم فرمایا تو انہوں نے طلوع فجر کے وقت میں فجر کی نماز کی اقامت کہی پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپ ﷺ نے ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کو حکم فرمایا اور خوب ٹھنڈے وقت میں پڑھی اور عصر کی نماز پڑھی کہ سورج ابھی بلند تھا لیکن پہلے دن سے ذرا اوپر سے پڑھی اور مغرب شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی اور عشاء تہائی رات کے بعد پڑھی اور فجر کی نماز اس وقت پڑھی کہ جب خوب روشنی پھیل گئی پھر فرمایا کہ نماز کے وقت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے تو اس نے عرض کیا میں ہوں اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے فرمایا یہ نمازوں کے جو اوقات تم نے دیکھے ہیں ان کے درمیان تمہاری نمازوں کے اوقات ہیں۔
Sulaiman bin Buraida narrated it on the authority of his father that a person asked the Apostle of Allah ﷺ about the time of prayer. Upon this he said: Pray with us these two, meaning two days. When the sun passed the meridian. he gave command to Bilal (RA) who uttered the call to prayer. Then he commanded him and pronounced Iqama for noon prayer. (Then at the time of the afternoon prayer) he again commanded and Iqama for the afternoon prayer was pronounced when the sun was high, white and clear. He then commanded and Iqama for the evening prayer was pronounced, when the sun had set. He then commanded him and when he hears the Iqamah for the night prayer was pronounced When the twilight had disappeared. He then commanded him and when he hears the Iqamah for the morning prayer was pronounced, when the dawn had appeared. When it was the next day, he commanded him to delay the noon prayer till the extreme heat had passed and he did so, and he allowed it to be delayed till the extreme heat had passed. He observed the afternoon prayer when the sun was high, delaying it beyond the time he had previously observed it. He observed the evening prayer before the twilight had vanished; he observed the night prayer when a third of the night had passed; and he observed the dawn prayer when there was clear daylight. He (the Holy Prophet) then said: Where is the man who inquired about the time of prayer? He (the inquirer) said: Messenger of Allah ﷺ I here I am. He (the Holy Prophet) said: The time for your prayer is within the limits of what you have seen.
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ اشْهَدْ مَعَنَا الصَّلَاةَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ فَصَلَّی الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَائِ حِينَ وَقَعَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ الْغَدَ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ بَيْضَائُ نَقِيَّةٌ لَمْ تُخَالِطْهَا صُفْرَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَائِ عِنْدَ ذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ بَعْضِهِ شَکَّ حَرَمِيٌّ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتَ وَقْتٌ
ابراہیم بن محمد بن عرعرہ سامی، حرمی بن عمارہ، شعبہ، علقمہ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھنے لگا آپ نے فرمایا ہمارے ساتھ نمازیں پڑھ کر دیکھ لو پھر آپ ﷺ نے حضرت بلال کو حکم فرمایا انہوں نے اندھیرے میں صبح کی اذان دی پھر طلوع فجر کے وقت صبح کی نماز پڑھی پھر آپ ﷺ نے حضرت بلال کو حکم فرمایا تو انہوں نے ظہر کی اذان دی کہ جس وقت سورج آسمان کے درمیان سے ڈھل گیا پھر آپ ﷺ نے بلال کو عصر کا حکم فرمایا اور سورج ابھی بلند تھا پھر آپ ﷺ نے مغرب کا حکم فرمایا جس وقت کہ سورج غروب ہوگیا پھر آپ ﷺ نے عشا کا حکم فرمایا جس وقت کہ شفق غائب ہوگیا پھر اگلی صبح کو خوب روشنی پھیل جانے پر فجر کی نماز کا حکم فرمایا پھر آپ نے ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کا حکم فرمایا پھر آپ ﷺ نے عصر کا حکم فرمایا اور سورج ابھی سفید تھا اس میں زردی کا اثر نہیں ہوا تھا پھر آپ نے شفق کے غائب ہونے سے پہلے مغرب کا حکم فرمایا پھر آپ ﷺ نے تہائی رات کے گزر جانے پر عشاء کی اذان کا حکم فرمایا حرمی راوی کو اس میں شک ہے پھر جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ جو وقت تو نے دیکھا اس کا درمیانی وقت نمازوں کا ہے۔
Buraida narrated on the authority of his father that a man came to the Prophet ﷺ and asked about the times of prayer. He said: You observe with us the prayer. He commanded Bilal (RA) , and he uttered the call to prayer in the darkness of night preceding daybreak and he said the morning prayer till dawn had appeared. He then commanded him ( Bilal (RA) ) to call for the noon prayer when the sun had declined from the zenith. He then commanded him ( Bilal (RA) ) to call for the afternoon prayer when the sun was high. He then commanded him for the evening prayer when the sun had set. He then commanded him for the night prayer when the twilight had disappeared. Then on the next day he commanded him (to call for prayer) when there was light in the morning. He then commanded him (to call) for the noon prayer when the extreme heat was no more. He then commanded him for the afternoon prayer when the sun was bright and clear and yellowness did not blend with it. He then commanded him to observe the sunset prayer. He then commanded him for the night prayer when a third part of the night bad passed or a bit less than that. Harami (the narrator of this hadith) was in doubt about that part of the mentioned hadith which concerned the portion of the night. When it was dawn, he (the Holy Prophet) said: Where is the inquirer (who inquired about the times of prayer and added): Between (these two extremes) is the time for prayer.
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَاهُ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا قَالَ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لَا يَکَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدْ انْتَصَفَ النَّهَارُ وَهُوَ کَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَائَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنْ الْغَدِ حَتَّی انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ أَوْ کَادَتْ ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّی کَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّی انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدْ احْمَرَّتْ الشَّمْسُ ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّی کَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَائَ حَتَّی کَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ فَقَالَ الْوَقْتُ بَيْنَ هَذَيْنِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، بدر بن عثمان، حضرت ابوبکر بن موسیٰ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھنے والا آیا آپ ﷺ نے اسے اس وقت کوئی جواب نہ دیا اور صبح صادق کے طلوع ہوجانے پر فجر کی نماز پڑھی کہ لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے تھے پھر آپ ﷺ نے حکم فرمایا تو ظہر کی نماز سورج کے ڈھل جانے پر پڑھی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ دوپہر ہوگئی اور آپ ﷺ تو ان سے زیادہ جاننے والے تھے پھر حکم فرمایا اور عصر کی نماز قائم کی اور سورج ابھی بلند تھا پھر آپ نے حکم فرمایا اور سورج کے غروب پر ہی مغرب کی نماز قائم کی پھر آپ ﷺ نے حکم فرمایا اور شفق کے غائب ہونے پر عشاء کی نماز قائم کی اور پھر اگلے دن فجر کی نماز کو مؤخر فرمایا جب اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والے نے کہا کہ سورج نکل گیا یا نکلنے والا ہے اور پھر آپ ﷺ نے ظہر کی نماز کو مؤخر فرمایا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت قریب تھا اور پھر عصر کی نماز میں اتنی تاخیر فرمائی کہ کہنے والے نے کہا کہ سورج زرد ہوگیا ہے اور مغرب کی نماز اتنی دیر سے پڑھی کہ شفق ڈوبنے کو ہوگئی اور عشاء کی نماز اتنی دیر سے پڑھی کہ تہائی رات کا ابتدائی حصہ ہوگیا پھر صبح کے وقت پوچھنے والے کو بلایا اور اس سے فرمایا کہ نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان میں ہے۔
Abu Musa narrated on the authority of his father that a person came to the Messenger of Allah ﷺ for inquiring about the times of prayers. He (the Holy Prophet) gave him no reply (because he wanted to explain to him the times by practically observing these prayers). He then said the morning player when it was daybreak, but the people could hardly recognise one another. He then commanded and when he hears the Iqamah for the noon prayer was pronounced when the tan had passed the meridian and one would say that it was midday but he (the Holy Prophet) knew better than them. He then again commanded and when he hears the Iqamah for the afternoon prayer was pronounced when the sun was high. He then commanded and Iqama for the evening prayer was pronounced when the sun had sunk. He then commanded and Iqama for the night prayer was pronounced when the twilight had disappeared. He then delayed the morning prayer on the next day (so much so) that after returning from it one would say that the sun had risen or it was about to rise. He then delayed the noon prayer till it was near the time of afternoon prayer (as it was observed yesterday). He then delayed the afternoon prayer till one after returning from it would say that the sun had become red. He then delayed the evening prayer till the twilight was about to disappear. He then delayed the night prayer till it was one-third of the night. He then called the inquirer in the morning and said: The time for prayers is between these two extremes).
پانچ نمازوں کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي مُوسَی سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ سَائِلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، بدر بن عثمان، ابی بکر، بن ابی موسی، یہ حدیث بھی اسی سند کے ساتھ اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس حدیث مبارکہ میں ہے کہ آپ ﷺ نے مغرب کی نماز دوسرے دن شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی۔
Abu Musa reported on the authority of his father that an Inquirer came to the Prophet ﷺ and asked him about the times of prayers, and the rest of the hadith is the same (as narrated above) but for these words: "On the second day he (the Holy Prophet) observed the evening prayer before the disappearance of the twilight."
سخت گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
قتیبہ بن سعید، لیث محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب، ابن مسیب، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب سخت گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرو کیونکہ سخت گرمی دوزخ کی بھاپ کی وجہ سے ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) said: When it is very hot, say (the noon prayer) when the extreme heat passes away, for intensity of heat is from the exhalation of Hell.
سخت گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ سَوَائً
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
Another hadith like this has been transmitted by Abu Hurairah (RA) .
سخت گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَسَلْمَانَ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ الْيَوْمُ الْحَارُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذَلِکَ
ہارون بن سعید ایلی، عمرو بن سواد، احمد بن عیسی، عمرو، ابن وہب، عمرو، بکیر، بسر بن سعید سلمان، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب گرمی ہو تو ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرو کیونکہ سخت گرمی دوزخ کی بھاپ کی وجہ سے ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: When it is a hot day, (delay) the prayer till the extreme heat passes away, for the intensity of heat is from the exhalation of Hell.
سخت گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ هَذَا الْحَرَّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ گرمی دوزخ کی بھاپ کی وجہ سے ہے، تو تم نماز ٹھنڈا کر کے پڑھو۔
Abu Hurairah (RA) reported: Refrain from saying (the noon prayer) till the extreme heat passes away, for the Intensity of heat is from the exhalation of Hell.
سخت گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدُوا عَنْ الْحَرِّ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے احادیث کو ذکر فرمایا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گرمی میں نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو کیونکہ سخت گرمی دوزخ کی بھاپ کی وجہ سے ہے۔
Hammam bin Munabbih reported: This is what Abu Hurairah (RA) narrated to us from the Holy Prophet ﷺ and he transmitted some ahadith-one of them was that the Messenger of Allah ﷺ said: Let the heat become less severe before prayer, for the intensity of heat is from the exhalation of Hell.
سخت گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُهَاجِرًا أَبَا الْحَسَنِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظُّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدْ أَبْرِدْ أَوْ قَالَ انْتَظِرْ انْتَظِرْ وَقَالَ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو ذَرٍّ حَتَّی رَأَيْنَا فَيْئَ التُّلُولِ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، مہاجر ابوحسن، زید بن وہب، حضرت ابوذر ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مؤذن نے ظہر کی اذان دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ٹھنڈا ہونے دو ٹھنڈا ہونے دو یا فرمایا انتظار کرو انتظار کرو اور فرمایا کہ سخت گرمی دوزخ کے بھاپ لینے کے وجہ سے ہے تو جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے یہاں تک انتظار کیا کہ ٹیلوں کے سائے تک دیکھ لئے۔
Abu Dharr (RA) reported: The Muadhdhin (the announcer of the hour of prayer) of the Messenger of Allah ﷺ called for the noon prayer. Upon this the Apostle of Allah ﷺ said: Let it cool down, let it cool down, or he said: Wait, wait for the intensity of heat is from the exhalation of Hell. When the heat is intense, delay the prayer till it becomes cooler. Abu Dharr (RA) said: (We waited) till we saw the shadow of the mounds.