لیلة القدر کی فضلیت اور اس کی تلاش کے اوقات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْکِنْدِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ حَدَّثَنِي الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَأَرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَائٍ وَطِينٍ قَالَ فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَائِ وَالطِّينِ عَلَی جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ
سعید بن عمرو بن سہل بن اسحاق بن محمد بن اشعث ابن قیس کندی، علی بن خشرم، ابوضمرہ، ضحاک بن عثمان، ابن خشرم، ضحاک بن عثمان، ابی نضر مولیٰ عمر بن عبیداللہ، بسر ابن سعید، حضرت عبداللہ بن انیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی پھر اسے بھلا دیا گیا اور میں نے اس کی صبح دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں راوی کہتے ہیں کہ تیئسویں رات بارش ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشان تھے حضرت عبیداللہ ابن انیس ؓ تیئسویں رات کو لیلہ القدر فرماتے تھے
Abdullah bin Unais reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I was shown Lailat-ul-Qadr; then I was made to forget it, and saw that I was prostrating in water and clay in the morning of that (night). He (the narrator) said: There was a downpour on the twenty-third night and the Messenger of Allah ﷺ led us in prayer, and as he went back, there was a trace of water and clay on his forehead and on his nose. He (the narrator) said: Abdullah bin Unais used to say that it was the twenty-third (night).
لیلة القدر کی فضلیت اور اس کی تلاش کے اوقات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَوَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْتَمِسُوا وَقَالَ وَکِيعٌ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، وکیع، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لیلہ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو ابن نمیر نے کہا " الْتَمِسُوا " وکیع نے کہا " تَحَرَّوْا "
Aisha (Allah be pleased with her) and Ibn Numair reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Look for (and in the words of Waki, seek) Lailat-ul-Qadr in the last ten nights of Ramadan.
لیلة القدر کی فضلیت اور اس کی تلاش کے اوقات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدَةَ وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ يَقُولُا سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ إِنَّ أَخَاکَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّکِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ فَقُلْتُ بِأَيِّ شَيْئٍ تَقُولُ ذَلِکَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ قَالَ بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا
محمد بن حاتم، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، ابن حاتم سفیان بن عیینہ، عبدہ، عاصم بن ابی النجود، حضرت زر بن حبیش ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے پوچھا اور عرض کیا کہ آپ کے بھائی حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جو آدمی سارا سال قیام کرے گا تو وہ لیلہ القدر کو پالے گا حضرت ابی بن کعب ؓ نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحم فرمائے وہ یہ چاہتے تھے کہ کہیں لوگ ایک ہی رات پر نہ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں ورنہ یقینا وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہے اور وہ بھی رمضان کے آخری عشرے میں ہے اور وہ رات ستائیسویں رات ہے پھر انہوں نے بغیر استثناء انشاء اللہ کے بغیر کے قسم کھائی کہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے میں نے عرض کیا اے ابوالمنذر! آپ یہ بات کس وجہ سے فرما رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اس دلیل اور نشانی کی بنا پر کہ جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دی ہے کہ یہ وہ رات ہے کہ اس رات کے بعد کے دن جو سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعائیں نہیں ہوتیں۔
Zirr bin Habaish reported: I asked Ubayy bin Kab (RA) : Your brother (in faith) Ibn Masud says: He who stands (for the night prayer) throughout the year would find Lailat-ul-Qadr, whereupon he said: May Allah have mercy upon him; (he said these words) with the intention that people might not rely only (on one night), whereas he knew that it (Lailat-ul-Qadr) is in the month of Ramadan and it is the twenty-seventh night. He then took oath (without making any exception, i. e. without saying Innsha Allah) that it was the twenty-seventh night. I said to him: Abu Mundhir, on what ground do you say that? Thereupon he said: By the indication or by the sign which the Messenger of Allah ﷺ gave us, and that is that on that day (the sun) would rise without having any ray in it.
لیلة القدر کی فضلیت اور اس کی تلاش کے اوقات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أُبَيٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا قَالَ شُعْبَةُ وَأَکْبَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَإِنَّمَا شَکَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدہ بن ابی لبابہ، حضرت زر بن حبیش حضرت ابی بن کعب ؓ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حضرت ابی ؓ نے لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم! میں اس رات کو جانتا ہوں شعبہ نے کہا کہ حضرت ابی فرماتے ہیں کہ مجھے سب سے زیادہ اس بات پر یقین ہے کہ یہ وہی رات ہے کہ جس رات میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قیام کا حکم فرمایا اور وہ ستائیسویں رات ہے شعبہ کو حضرت ابی ؓ کے ان الفاظ میں شک ہے کہ یہ وہی رات ہے کہ جس میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا۔
Zirr bin Hubaish reported that Ubayy bin Kab (RA) said about Lailat-ul-Qadr: By Allah, I know well about it. Shubah said: To the best of my knowledge it was the twenty-seventh night for which the Messenger of Allah ﷺ commanded us to stand for prayer. Shubah doubted these words: That it was the night for which the Messenger of Allah ﷺ commanded us to stand for prayer. And (he further) said: This was narrated to me by a friend of mine from him (the Holy Prophet).
لیلة القدر کی فضلیت اور اس کی تلاش کے اوقات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ الْفَزَارِيُّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَذَاکَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّکُمْ يَذْکُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ
محمد بن عباد، ابن ابی عمر، مروان، فزاری، یزید، ابن کیسان، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس لیلۃ القدر کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کس کو یاد ہے کہ جس وقت چاند طلوع ہوا لیلۃ القدر وہ رات ہے کہ جس میں چاند طشت کے ایک ٹکڑے کی طرح طلوع ہوتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: We were talking about Lailat-ul-Qadr in the presence of the Messenger of Allah ﷺ and he said: He who amongst you remembers (the night) when the moon arose and it was like a piece of plate (at the fag end of the month in a state of waning).