و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّی قَالَ فِي رِوَايَتِهِ وَالْعِفَّةَ
محمد بن مثنی، ابن بشار عبدالرحمن بن سفیان ابواسحاق اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں عفاف کی بجائے عفت کا لفظ ہے معنی ایک ہی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Ishaq with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ لَا أَقُولُ لَکُمْ إِلَّا کَمَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ کَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَکِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَکَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم محمد بن عبداللہ ابن نمیر، اسحاق ابومعاویہ عاصم، عبداللہ بن حارث ابی عثمان نہدی حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ میں تم سے وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ فرمایا کرتے تھے (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا) اے اللہ میں تجھ سے عاجز ہونے اور سستی اور بزدلی اور بخل اور بڑھاپے اور عذاب قبر سے پناہ مانگتا ہوں اے اللہ میرے نفس کو تقوی عطا کر اور اسے پاکیزہ بنا آپ ہی پاکیزہ بنانے والوں میں سے بہتر ہیں اور تو ہی کار ساز اور مولیٰ ہے اے اللہ میں تجھ سے ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع دینے والا نہ ہوں اور ایسے دل سے جو ڈرنے والا نہ ہو اور ایسے نفس سے جو سیر ہونے والا نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول ہونے والی نہ ہو۔
Zaid bin Alqam reported: I am not going to say anything but only that which Allahs Messenger ﷺ used to say. He used to supplicate: "O Allah, I seek refuge in Thee from incapacity, from sloth, from cowardice, from miserliness, decrepitude and from torment of the grave. O Allah, grant to my soul the sense of righteousness and purify it, for Thou art the Best Purifier thereof. Thou art the Protecting Friend thereof, and Guardian thereof. O Allah, I seek refuge in Thee from the knowledge which does not benefit, from the heart that does not entertain the fear (of Allah), from the soul that does not feel contented and the supplication that is not responded."
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَی قَالَ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَی الْمُلْکُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ قَالَ الْحَسَنُ فَحَدَّثَنِي الزُّبَيْدُ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي هَذَا لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ أَسْأَلُکَ خَيْرَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْکَسَلِ وَسُوئِ الْکِبَرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ
قتیبہ بن سعید، عبدالواحد بن زید حسن بن عبیداللہ ابراہیم بن سوید نخعی عبدالرحمن بن یزید حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ شام کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے إِذَا أَمْسَی قَالَ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَی الْمُلْکُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ ہم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے شام کی اور ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حضرت ابراہیم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اس کے لئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اے اللہ میں تجھ سے اس رات کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس رات کے شر سے اور اس کے بعد کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اے اللہ میں تجھ سے سستی اور بڑھاپے کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں اے اللہ میں تجھ سے جہنم میں اور عذاب قبر سے پناہ مانگتا ہوں۔
Abdullah bin Masud reported that when it was evening Allahs Messenger ﷺ used to supplicate: "We entered upon evening and the whole Kingdom of Allah also entered upon evening and praise is due to Allah. There is no god but Allah, the One Who has no partner with Him." Hasan said that Zubaid reported to him that he memorised it from Ibrahim in these very words. "His is the Sovereignty and Praise is due to Him, and He is Potent over everything. O Allah, I beg of Thee the good of this night and I seek refuge in Thee from the evil of this night and the evil which follows it. O Allah, I seek refuge in Thee from sloth, from the evil of vanity. O Allah, I seek refuge in Thee from torment in the Hell-Fire and from torment in the grave."
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَی قَالَ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَی الْمُلْکُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ قَالَ أُرَاهُ قَالَ فِيهِنَّ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ رَبِّ أَسْأَلُکَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا رَبِّ أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْکَسَلِ وَسُوئِ الْکِبَرِ رَبِّ أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِکَ أَيْضًا أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْکُ لِلَّهِ
عثمان بن ابی شیبہ جریر، حسن بن عبیداللہ ابراہیم بن سوید عبدالرحمن بن یزید حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ شام کے وقت یہ دعا مانگا کرتے تھے امسینا وامسی الملک ہم نے شام کی اور اللہ کی بادشاہت نے شام کی اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس کے سوا کوئی مبعود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں راوی کا خیال ہے کہ آپ ﷺ یہ کلمات بھی ادا فرماتے تھے ملک اسی کے لئے ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اے میرے رب میں تجھ سے اس رات کی بھلائی اور اس کے بعد کی بھلائی مانگتا ہوں اور میں تجھ سے اس رات کے شر سے اور اس کے بعد آنے والے شر سے پناہ مانگتا ہوں اے میرے رب میں تجھ سے سستی اور بڑھاپے کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں اے میرے رب میں تجھ سے جہنم میں عذاب سے اور قبر میں عذاب سے پناہ مانگتا ہوں اور جب صبح کرتے تو بھی اسی طرح فرماتے ہم نے صبح کی اور اللہ کی بادشاہت نے صبح کی۔
Abdullah reported that when it was evening Allahs Messenger ﷺ used to supplicate: "We have entered upon evening and so, too, the whole Kingdom of Allah has entered upon evening. Praise is due to Allah. There is no god but Allah, the One having no partner with Him." He (the narrator) said: I think that he also uttered (in this supplication these words): "His is the Sovereignty and to Him is praise due and He is Potent over everything. My Lord, I beg of Thee good that lies in this night and good that follows it and I seek refuge in Thee from the evil that lies in this night and from the evil of that which follows it. My Lord, I seek refuge in Thee from sloth, from the evil of vanity. My Lord, I seek refuge in Thee from torment of the Hell-Fire and from torment of the grave." And when it was morning he said like this: "We entered upon morning and the whole Kingdom of Allah entered upon morning."
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَی قَالَ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَی الْمُلْکُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْکَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوئِ الْکِبَرِ وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَزَادَنِي فِيهِ زُبَيْدٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی زائدہ حسن بن عبیداللہ ابراہیم بن سوید عبدالرحمن بن یزید حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ جب شام کرتے تو یہ دعا فرماتے تھے ہم نے شام کی اور اللہ کی بادشاہت نے شام کی اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اے اللہ میں تجھ سے اس رات کی بھلائی اور جو بھلائی اس رات میں ہے اس کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے اس رات کی برائی اور جو برائی اس میں ہے سے پناہ مانگتا ہوں اے اللہ میں تجھ سے سستی بڑھاپے کی برائی اور دنیا کی آزمائش اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں ایک مرفوع روایت میں یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں بادشاہت اس کے لئے ہے اور اسی کے لئے تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
Abdullah reported that when it was evening Allahs Messenger ﷺ used to supplicate: "We have entered upon evening and so has the Kingdom of Allah entered upon evening; praise is due to Allah, there is no god but Allah the One, and there is no partner with Him. O Allah, I beg of Thee the blessing of this night and the blessing of that which lies in it. I seek refuge in Thee from the evil of it and what lies in it. O Allah, I seek refuge in Thee from sloth, from decrepitude, from the evil of vanity, from trial of the world, and from torment of the grave." Zubaid, through another chain of transmitters, has narrated on the authority of Abdullah directly this addition: "There is no god but Allah, the One, there is no partner with Him, His is the Sovereignty and to Him is praise due and He is Potent over everything."
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ فَلَا شَيْئَ بَعْدَهُ
قتیبہ بن سعید لیث، سعید بن ابوسعید حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کلمات سے یہ دعا فرماتے تھے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے جس نے اپنے لشکر کو غلبہ عطا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا لشکر کو مغلوب کیا اور اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) that Allahs Messenger ﷺ used to supplicate thus: "There is no god but Allah, the One Who conferred upon His armies the honour of victory and helped His servant rout the clans; there is nothing after that."
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ کُلَيْبٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْکُرْ بِالْهُدَی هِدَايَتَکَ الطَّرِيقَ وَالسَّدَادِ سَدَادَ السَّهْمِ
ابوکریب محمد بن علاء ابن ادریس عاصم بن کلیب، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا یہ دعا مانگا کرو اللہم اھدنی وسددنی اے اللہ مجھے ہدایت عطا فرما اور سیدھا رکھ اور ہدایت کے وقت اپنے راستہ کی ہدایت اور سیدھے کرنے کی دعا کے وقت تیر کے سیدھا ہونے کو پیش نظر رکھو۔
Ali reported that Allahs Messenger ﷺ said to him: Say, "O Allah, direct me to the right path and make me adhere to the straight path," and when you make a mention of right guidance, keep in mind the right path and when you consider of the straight (path), keep in mind the straightness of the arrow.
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَيْبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ الْهُدَی وَالسَّدَادَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِهِ
ابن نمیر، عبداللہ ابن ادریس عاصم بن کلیب اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ الْهُدَی وَالسَّدَادَ اے اللہ میں تجھ سے ہدایت اور سیدھے راستے کا سوال کرتا ہوں دعا مانگا کرو باقی حدیث اسی طرح ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Asim bin Kulaib with the same chain of transmitters that Allahs Messenger ﷺ said to me: Say: "O Allah, I beg of Thee righteousness and adhering to the straight path."
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَی آلِ طَلْحَةَ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ جُوَيْرِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُکْرَةً حِينَ صَلَّی الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَی وَهِيَ جَالِسَةٌ فَقَالَ مَا زِلْتِ عَلَی الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُکِ عَلَيْهَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَکِ أَرْبَعَ کَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ کَلِمَاتِهِ
قتیبہ بن سعید، عمرو ناقد ابن ابی عمرو ابن ابی عمر سفیان، محمد بن عبدالرحمن مولیٰ ابن طلحہ کریب ابن عباس ؓ حضرت جویریہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ صبح کے وقت ہی نماز ادا کرنے کے بعد ان کے پاس سے چلے گئے اور وہ اپنی جائے نماز پر ہی بیٹھی ہوئی تھیں پھر دن چڑھے آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو وہ وہیں بیٹھی ہوئی تھیں آپ ﷺ نے فرمایا جس وقت میں تمہارے پاس سے گیا ہوں تم اسی طرح بیٹھی ہوئی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا میں نے تیرے بعد ایسے چار کلمات تین مرتبہ کہے ہیں کہ اگر تیرے آج کے وظیفہ کو ان کے ساتھ وزن کیا جائے تو ان کلمات کا وزن زیادہ ہوگا سُبْحَانَ اللَّهِ وبحمدہ اللہ کی تعریف اور اسی کی پاکی ہے اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر اور اس کی رضا اور اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔
Juwairiya reported that Allahs Messenger ﷺ came out from (her apartment) in the morning as she was busy in observing her dawn prayer in her place of worship. He came back in the forenoon and she was still sitting there. He (the Holy Prophet) said to her: You have been in the same seat since I left you. She said: Yes. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: I recited four words three times after I left you and if these are to be weighed against what you have recited since morning these would outweigh them and (these words) are: "Hallowed be Allah and praise is due to Him according to the number of His creation and according to the pleasure of His Self and according to the weight of His Throne and according to the ink (used in recording) words (for His Praise)."
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي رِشْدِينَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ جُوَيْرِيَةَ قَالَتْ مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّی صَلَاةَ الْغَدَاةِ أَوْ بَعْدَ مَا صَلَّی الْغَدَاةَ فَذَکَرَ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ کَلِمَاتِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اسحاق محمد بن بشر مسعر محمد بن عبدالرحمن ابی رشدین ابن عباس ؓ حضرت جویریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے وقت یا نماز فجر کے بعد اس کے پاس سے گزرے پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث روایت کی لیکن اس میں دعا کے الفاظ اسطرح ہیں سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ کَلِمَاتِهِ اللہ کی پاکی اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر اللہ کی پاکی اس کی رضا کے برابر اللہ کی پاکی اس کے عرش کے وزن کے برابر اللہ کی پاکی اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔
Juwairiya reported that Allahs Messenger ﷺ happened to pass by her as she was observing her dawn prayer; or after she had observed her dawn prayer. The rest of the hadith is the same but with this variation that he said: "Hallowed be Allah according to the number of His creation, hallowed be Allah according to the pleasure of His Self, hallowed be Allah according to the weight of His Throne, hallowed be Allah according to the ink used in recording His words."
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَی حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنَّ فَاطِمَةَ اشْتَکَتْ مَا تَلْقَی مِنْ الرَّحَی فِي يَدِهَا وَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيئِ فَاطِمَةَ إِلَيْهَا فَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مَکَانِکُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّی وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَی صَدْرِي ثُمَّ قَالَ أَلَا أُعَلِّمُکُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَکُمَا أَنْ تُکَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ وَتُسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَهْوَ خَيْرٌ لَکُمَا مِنْ خَادِمٍ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، حکم ابن ابی لیلی علی ؓ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ کو چکی پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں نشانات پڑجانے کی وجہ سے تکلیف ہوئی اور نبی ﷺ کے پاس کچھ قیدی تھے وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں لیکن آپ ﷺ سے ملاقات نہ ہوسکی اور سیدہ عائشہ ؓ سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں خبر دی جب نبی ﷺ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ نے آپ ﷺ کو سیدہ فاطمہ کے آنے کی خبر دی نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ہم اپنے بستروں پر پہنچ چکے تھے ہم نے اٹھنا شروع کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اپنی جگہ پر ہی رہو پھر آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے اپنے آپ میں آپ ﷺ کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی پھر فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے سوال سے بہتر چیز کی تعلیم نہ دوں جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو چونتیس بار اَللَّهُ أَکْبَرُ تینتیس بار سُبْحَانَ اللَّهِ اور تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہہ لیا کرو تو یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔
It is reported on the authority of Ali that Fatima had corns in her hand because of working at the hand-mill. There had fallen to the lot of Allahs Apostle ﷺ some prisoners of war. She (Fatima) came to the Holy Prophet ﷺ but she did not find him (in the house). She met Aisha and informed her (about her hardship). When Allahs Apostle ﷺ came, she ( Aisha) informed him about the visit of Fatima. Allahs Messenger ﷺ came to them (Fatima and her family). They had gone to their beds. Ali further (reported): We tried to stand up (as a mark of respect) but Allahs Messenger ﷺ said: Keep to your beds, and he sat amongst us and I felt coldness of his feet upon my chest. He then said: May I not direct you to something better than what you have asked for? When you go to your bed, you should recite Takbir (Allah-o-Akbar) thirty-four times and Tasbih (Subhdn Allah) thirty-three times and Tahmid (al-Hamdu li-Allah) thirty-three times, and that is better than the servant for you.
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ أَخَذْتُمَا مَضْجَعَکُمَا مِنْ اللَّيْلِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، عبیداللہ بن معاذ ابن مثنی ابن ابی عدی، شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ اس سند میں ہے جب تم دونوں رات کے وقت اپنے بستروں پر جاؤ۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters but. with a slight variation of wording.
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَعُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْحَکَمِ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ عَلِيٌّ مَا تَرَکْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ وَفِي حَدِيثِ عَطَائٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ قُلْتُ لَهُ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، عبیداللہ بن ابی یزید علی بن ابی طالب محمد بن عبداللہ ابن نمیر، عبیداللہ بن یعیش عبدالملک عطاء، بن ابی رباح مجاہد ابن ابی لیلی ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ میں نے جب سے نبی ﷺ سے سنا ہے میں نے ان کلمات کو نہیں چھوڑا آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ نے صفین کی رات میں بھی انہیں نہیں چھوڑا فرمایا صفین کی رات میں بھی نہ چھوڑا ابن ابی لیلی نے کہا میں نے آپ سے کہا صفین کی رات کو بھی نہیں؟
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abi Laili but with this addition: "Ali said: Ever since I heard this (supplication) from Allahs Apostle ﷺ , I never abandoned it. It was said to him, Not even in the night of Siffin (battle of Siffin)? He sad: Yes, not even in the night of Siffin,"
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا وَشَکَتْ الْعَمَلَ فَقَالَ مَا أَلْفَيْتِيهِ عِنْدَنَا قَالَ أَلَا أَدُلُّکِ عَلَی مَا هُوَ خَيْرٌ لَکِ مِنْ خَادِمٍ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُکَبِّرِينَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ حِينَ تَأْخُذِينَ مَضْجَعَکِ
امیہ بن بسطام عیشی یزید بن زریع روح ابن قاسم سہل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ نبی ﷺ کی خدمت میں خادم مانگنے اور کام کی شکایت کرنے کی غرض سے حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں خادم تو ہمارے پاس سے نہیں ملے گا ایک عمل میں تمہیں بتائے دیتا ہوں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے تم جب بستر پر جاؤ تو تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللَّهِ تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اور چونتیس مرتبہ اَللَّهُ أَکْبَرُ کہو۔
Abu Hurairah (RA) reported that Fatima came to Allahs Apostle ﷺ and asked for a servant and told him of the hardship of household work. He said: You would not be able to get a servant from us. May I not direct you to what is better than the servant for you? Recite Subhaana Allah thirty-three times, al- Hamdu li-Allah thirty-three times and Allah-o-Akbar thirty-four times as you go to bed.
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، ابو سعید اشج حفص بن غیاث عاصم، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters.
مرغ کی اذان کے وقت دعا کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَکَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَکًا وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا
قتیبہ بن سعید، لیث، جعفر ابن ربیعہ اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم مرغ کی اذان سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو کیونکہ وہ فرشتہ کو دیکھتا ہے اور جب تم گدھے کی ہینگ سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying. When you listen to the crowing of the cock, ask Allah for His favour as it sees Angels and when you listen to the braying of the donkey, seek refuge in Allah from the Satan for it sees Satan.
مصیبت کے وقت کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْکَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِيمِ
محمد بن مثنی ابن بشر عبیداللہ بن سعدی ابن سعید معاذ بن ہشام ابوقتادہ، ابی عالیہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ مصیبت کے وقت (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِيمِ )، عظمت والے اور بردباری والے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں عرش عظیم کے پروردگار کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں آسمانوں کے رب زمین کے رب اور عزت والے عرش کے رب اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، پڑھتے۔
Ibn Abbas reported that Allahs Apostle ﷺ used to supplicate during the time of trouble (in these words): "There is no god but Allah, the Great, the Tolerant, there is no god but Allah, the Lord of the Magnificent Throne There is no god but Allah, the Lord of the Heaven and the earth, the Lord of the Edifying Throne."
مصیبت کے وقت کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَحَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ أَتَمُّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام معاذ بن ہشام یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
مصیبت کے وقت کی دعا کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيَّ حَدَّثَهُمْ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْعُو بِهِنَّ وَيَقُولُهُنَّ عِنْدَ الْکَرْبِ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَتَادَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
عبد بن حمید محمد بن بشر عبدی سعید بن ابی عروبہ قتادہ، ابوعالیہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مصیبت کے وقت ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے جو اس سے پہلے مذکور ہوئے حضرت قتادہ کی روایت میں آسمانوں اور زمین کے رب مذکور ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ used to supplicate (with these words) and he (uttered these words) at the time of trouble; the rest of the hadith is the same except with this difference that insted of saying: "The Lord of heaven and the earth," he said: "The Lord of the heaven and that of the earth."
مصیبت کے وقت کی دعا کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ وَزَادَ مَعَهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِيمِ
محمد بن حاتم، بہز حماد بن سلمہ یوسف بن عبداللہ بن حارث ابی عالیہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو جب کوئی اہم کام درپیش ہوتا تو انہی کلمات سے دعا مانگا کرتے تھے لیکن اس روایت میں ان کلمات کے ساتھ یہ اضافہ بھی ہے (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِيمِ ) عزت والے عرش کے رب اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
Ibn Abbas reported this hadith through another chain of transmitters with a sliglit variation of wording.