حیض کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 4 · 156 hadiths · Page 7 of 8

800Sahih Muslim

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاةِ فَأُتِيَ بِهَدِيَّةٍ خُبْزٍ وَلَحْمٍ فَأَکَلَ ثَلَاثَ لُقَمٍ ثُمَّ صَلَّی بِالنَّاسِ وَمَا مَسَّ مَائً

علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، محمد بن عمرو بن حلحلہ، محمد بن عمرو بن عطاء، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کپڑے پہنے پھر نماز کے لئے تشریف لے جانے لگے تو آپ ﷺ کے پاس روٹی اور گوشت کا ہدیہ لایا گیا آپ ﷺ نے اس سے تین لقمے کھائے پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔

Ibn Abbas (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ dressed himself, and then went out for prayer, when he was presented with bread and meat. He took three morsels out of that, and then offered prayer along with other people and did not touch water.

801Sahih Muslim

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے پر وضو کے بیان میں

حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ قَالَ کُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ حَلْحَلَةَ وَفِيهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ شَهِدَ ذَلِکَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَلَّی وَلَمْ يَقُلْ بِالنَّاسِ

ابوکریب، ابواسامہ، ولید بن کثیر، محمد بن عمرو، ابن عطاء، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں باقی حدیث پہلی حدیث کی طرح ہے۔

This hadith is narrated by Muhammad b. Amr b. Ata with these words: I was with Ibn Abbas, and Ibn Abbas saw the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) doing like this, and it is also said that the words are: He (the Holy Prophet) offered prayer; and the word" people" is not mentioned.

802Sahih Muslim

اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ قَالَ إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَوَضَّأْ قَالَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ قَالَ نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ قَالَ أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ نَعَمْ قَالَ أُصَلِّي فِي مَبَارِکِ الْإِبِلِ قَالَ لَا

ابوکامل، فضیل بن حسین جحدری، ابوعوانہ، عثمان بن عبداللہ بن موہب، جعفر بن ابی ثور، جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا میں بکری کا گوشت کھانے سے وضو کروں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہے تو وضو کر اور اگر نہ چاہے تو نہ کر اس نے کہا کیا میں اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو کروں تو آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو کر پھر اس نے کہا کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کروں فرمایا ہاں اس نے کہا کیا میں اونٹوں کے بیٹھنے کے مقام میں نماز ادا کروں فرمایا نہیں۔

Jabir bin ahadeeth reported: A man asked the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) whether he should perform ablution after (eating) mutton. He (the Messenger of Allah) ﷺ said: Perform ablution if you so desire, and if you do not wish, do not perform it. He (again) asked: Should I perform ablution (after eating) camels flesh? He said: Yes, perform ablution (after eating) camels flesh. He (again) said: May I say prayer in the sheepfolds? He (the Messenger of Allah) ﷺ said: Yes. He (the narrator) again said: May I say prayer where camels lie down? He (the Holy Prophet) said: No.

803Sahih Muslim

اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سِمَاکٍ ح و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ وَأَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ کُلُّهُمْ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي کَامِلٍ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، معاویہ بن عمرو، زائدہ، سماک، قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسی، شیبان عثمان بن عبداللہ بن موہب، اشعث بن ابی شعثاء، جعفر بن ابوثور، جابر بن سمرہ سے یہی حدیث دوسری اسناد سے بھی مروی ہے۔

This hadith is also narrated by another chain of transmitters.

804Sahih Muslim

جس شخص کو وضو کا یقین ہو اور پھر اپنے بے وضو ہوجانے کا شک ہوجائے اور اس کے لئے اپنے اسی وضو سے نماز ادا کرنی جائز ہے کی دلیل کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ شُکِيَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْئَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ لَا يَنْصَرِفُ حَتَّی يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ فِي رِوَايَتِهِمَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ

عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن عیینہ، عمرو، سفیان بن عیینہ، زہری، سعید اور عباد بن تمیم ؓ اپنے چچا حضرت عبداللہ بن زید ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے شکایت کی کہ اس کو نماز میں خیال ہوتا ہے کہ اس کو حدث ہوگیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جب تک آواز نہ سن لے یا بدبو نہ پائے نماز نہ توڑے۔

Abbad bin Tamim reported from his uncle that a person made a complaint to the Apostle ﷺ that he entertained (doubt) as if something had happened to him breaking his ablution. He (the Holy Prophet) said: He should not return (from prayer) unless he hears a sound or perceives a smell (of passing wind). Abu Bakr (RA) and Zuhair bin Harb have pointed out in their narrations that it was Abdullah bin Zaid.

805Sahih Muslim

جس شخص کو وضو کا یقین ہو اور پھر اپنے بے وضو ہوجانے کا شک ہوجائے اور اس کے لئے اپنے اسی وضو سے نماز ادا کرنی جائز ہے کی دلیل کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا فَأَشْکَلَ عَلَيْهِ أَخَرَجَ مِنْهُ شَيْئٌ أَمْ لَا فَلَا يَخْرُجَنَّ مِنْ الْمَسْجِدِ حَتَّی يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا

زہیر بن حرب، جریر، سہیل، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں گڑبڑ معلوم کرے اور اس پر مشکل ہوجائے کہ اس کے پیٹ سے کوئی چیز نکلی ہے یا نہیں تو وہ نہ نکلے مسجد سے یہاں تک کہ آواز سن لے یا بدبو پائے۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: If any one of you has pain in his abdomen, but is doubtful whether or not anything has issued from him, be should not leave the mosque unless he hears a sound or perceives a smell.

806Sahih Muslim

مردار کی کھال رنگ دینے سے پاک ہوجانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُصُدِّقَ عَلَی مَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ بِشَاةٍ فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ فَانْتَفَعْتُمْ بِهِ فَقَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ إِنَّمَا حَرُمَ أَکْلُهَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، یحیی، سفیان بن عیینہ، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو ایک بکری کا صدقہ دیا گیا وہ مرگئی رسول اللہ ﷺ کا اس پر سے گزر ہوا تو فرمایا تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی تم اس کو رنگ کر کے اس سے نفع اٹھاتے انہوں نے کہا یہ تو مردار ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے۔

The freed slave-girl of Maimuna was given a goat in charity but it died. The Messenger of Allah ﷺ happened to pass by that (carcass). Upon this he said: Why did you not take off its skin? You could put it to use, after tanning it. They (the Companions) said: It was dead. Upon, this he (the Messenger of Allah) ﷺ said: Only its eating is prohibited. Abu bakr and Ibn Umar (RA) in their narrations said: It is narrated from Maimuna (may Allah be pleased with her).

807Sahih Muslim

مردار کی کھال رنگ دینے سے پاک ہوجانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنْ الصَّدَقَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا قَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ إِنَّمَا حَرُمَ أَکْلُهَا

ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ عتبہ، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مردہ بکری پائی جو سیدہ میمونہ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقہ میں دی گئی تھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ حاصل کیا انہوں نے عرض کیا کہ یہ مردار ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کا کھانا حرام ہے۔

Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ saw a dead goat, which had been given in charity to the freed slave-girl of Maimuna. The Messenger of Allah ﷺ said: Why dont you make use of its skin? They (the Companions around the Holy Prophet) said: It is dead. Upon this he said: It is the eating (of the dead animal) which is prohibited.

808Sahih Muslim

مردار کی کھال رنگ دینے سے پاک ہوجانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِ رِوَايَةِ يُونُسَ

حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن ابراہیم بن سعد، حضرت ابن شہاب ؓ سے یہی حدیث دوسری سند سے مروی ہے۔

This hadith is narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters as transmitted by Yunus.

809Sahih Muslim

مردار کی کھال رنگ دینے سے پاک ہوجانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَطْرُوحَةٍ أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنْ الصَّدَقَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَّا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ

ابن ابی عمر، عبداللہ بن محمد زہری، سفیان، عمرو، عطاء، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک پھینکی ہوئی بکری پر سے گزرے جو سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقہ میں دی گئی تھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال کیوں نہ لے لی تم اس کو رنگ دے کر اس سے نفع اٹھاتے۔

Ibn Abbas (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ happened to pass by a goat thrown (away) which had been in fact given to the freed slave-girl of Maimuna as charity. Upon this the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) said: Why did they not get its skin? They had better tan it and make use of it.

810Sahih Muslim

مردار کی کھال رنگ دینے سے پاک ہوجانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ مُنْذُ حِينٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ مَيْمُونَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ دَاجِنَةً کَانَتْ لِبَعْضِ نِسَائِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَاتَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ

احمد بن عثمان نوفلی، ابوعاصم، ابن جریج، عمرو بن دینار، عطاء، ابن عباس، سیدہ میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں میں سے کسی کے پاس ایک بکری پلی تھی وہ مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی پھر تم اس سے فائدہ حاصل کرتے۔

IbnAbbas reported on the authority of Maimuna that someone amongst the wives of the Messenger of Allah ﷺ had a domestic animal and it died. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Why did you not take off its skin and make use of that?

811Sahih Muslim

مردار کی کھال رنگ دینے سے پاک ہوجانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ فَقَالَ أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان، عبدالملک بن ابی سلیمان، عطاء، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ باندی کی بکری پر سے گزرے تو فرمایا تم نے اس کی کھال سے نفع کیوں نہ اٹھایا۔

Ibn Abbas reported: The Apostle of Allah ﷺ happened to pass by (the dead body) of the goat which belonged to the freed slave-girl of Maimuna and said: Why did you not make use of its skin?

812Sahih Muslim

مردار کی کھال رنگ دینے سے پاک ہوجانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ وَعْلَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ عَنْ سُفْيَانَ کُلُّهُمْ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ يَعْنِي حَدِيثَ يَحْيَی بْنِ يَحْيَی

یحییٰ بن یحیی، سلیمان بن بلال، زید بن اسلم، عبدالرحمن بن وعلہ، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرماتے ہوئے سنا جب کھال کو رنگ دیا گیا تو وہ پاک ہوگئی۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابن عیینہ، قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، ابن محمد، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، سفیان، زید بن اسلم، عبدالرحمن بن وعلہ، ابن عباس ؓ سے یہی روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

Abdullah bin Abbas (RA) said: I heard the Apostle of Allah ﷺ say: When the skin is tanned it becomes purified. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abbas by another chain of transmitters.

814Sahih Muslim

مردار کی کھال رنگ دینے سے پاک ہوجانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ قَالَ رَأَيْتُ عَلَی ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَإِيِّ فَرْوًا فَمَسِسْتُهُ فَقَالَ مَا لَکَ تَمَسُّهُ قَدْ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ إِنَّا نَکُونُ بِالْمَغْرِبِ وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَی بِالْکَبْشِ قَدْ ذَبَحُوهُ وَنَحْنُ لَا نَأْکُلُ ذَبَائِحَهُمْ وَيَأْتُونَا بِالسِّقَائِ يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَکَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ دِبَاغُهُ طَهُورُهُ

اسحاق بن منصور، ابوبکر بن اسحاق، ابوبکر، ابن منصور، عمرو بن ربیع، یحییٰ بن ایوب، یزید بن ابی حبیب، ابوخیر سے روایت ہے کہ میں نے ابن وعلہ سبائی کو ایک پوستین پہنے ہوئے دیکھا تو میں نے اس کو چھوا انہوں نے کہا آپ کو کیا ہے کہ اس کو چھوتے ہو حالانکہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ ہم مغربی ممالک میں قوم بربر اور آتش پرستوں کے ساتھ سکونت پذیر ہیں وہ اپنی مذبوحہ بکری لاتے ہیں اور ہم ان کا مذبوحہ نہیں کھاتے اور ہمارے پاس مشکوں میں چربی ڈال کر لاتے ہیں تو ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو رنگ دینا اس کو پاک کردیتا ہے۔

Abu al-Khair reported: I saw Ibn Wala al-Sabai wear a fur. I touched it. He said: Why do you touch it? I asked Ibn Abbas saying: We are the inhabitants of the western regions, and there (live) with us Berbers and Magians. They bring with them rams and slaughter them, but we do not eat (the meat of the animals) slaughtered by them, and they come with skins full of fat. Upon this Ibn Abbas said: We asked the Messenger of Allah ﷺ about this and he said: Its tanning makes it pure.

815Sahih Muslim

مردار کی کھال رنگ دینے سے پاک ہوجانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَعْلَةَ السَّبَإِيُّ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ إِنَّا نَکُونُ بِالْمَغْرِبِ فَيَأْتِينَا الْمَجُوسُ بِالْأَسْقِيَةِ فِيهَا الْمَائُ وَالْوَدَکُ فَقَالَ اشْرَبْ فَقُلْتُ أَرَأْيٌ تَرَاهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ دِبَاغُهُ طَهُورُهُ

اسحاق بن منصور، ابوبکر بن اسحاق، عمرو بن ربیع، یحییٰ بن ایوب، جعفر بن ربیعہ، ابوخیر، حضرت ابن واعلہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے سوال کیا کہ ہم مغربی ملک میں رہتے ہیں ہمارے پاس مجوس مشکوں میں پانی لاتے ہیں تو آپ نے فرمایا پی لیا کرو میں نے کہا کیا یہ آپ کی رائے ہے تو ابن عباس ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کھال کو رنگ دینا اس کو پاک کردیتا ہے۔

Ibn Wala al-Sabai reported: I asked Abdullah bin Abbas saying: We are the inhabitants of the western regions. The Magians come to us with skins full of water and fat. He said: Drink. I said to him: Is it your own opinion? Ibn Abbas (RA) said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Tanning purifies it (the skin).

816Sahih Muslim

تیمم کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَيْدَائِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ فَأَتَی النَّاسُ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَقَالُوا أَلَا تَرَی إِلَی مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَی فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ قَالَتْ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَکْرٍ وَقَالَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنْ التَّحَرُّکِ إِلَّا مَکَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَصْبَحَ عَلَی غَيْرِ مَائٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَائِ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ يَا آلَ أَبِي بَکْرٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي کُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ

یحییٰ بن یحیی، مالک بن عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں نکلے جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ گیا تو رسول اللہ ﷺ اس کے تلاش کرنے کے لئے رک گئے اور صحابہ ؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ اسی جگہ ٹھہرگئے جہاں پانی نہ تھا اور نہ ان کے ساتھ پانی تھا تو صحابہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آئے اور کہا کیا تم نہیں دیکھتے کہ عائشہ ؓ نے کیا کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ تمام صحابہ کو روک دیا ہے اور نہ ان کے پاس پانی ہے اور نہ اس جگہ پانی ہے پس ابوبکر ؓ آئے اور رسول اللہ ﷺ میری ران پر اپنے سر مبارک کو رکھے ہوئے تھے اور آپ ﷺ نیند میں محو تھے اور کہا کہ تو نے رسول اللہ ﷺ اور دوسرے لوگوں کو ایسی جگہ روک رکھا ہے جہاں پانی نہیں اور نہ ان کے ساتھ پانی ہے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مجھے ڈانٹنا شروع کیا اور جو اللہ نے چاہا وہ کہا اور میری کوکھ میں اپنے ہاتھ سے کو نچے دینے لگے اور مجھے حرکت کرنے سے رسول اللہ ﷺ کے میری ران پر نیند کرنے نے روک دیا یہاں تک کہ بغیر پانی کے صبح ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم (فَتَیَمَّمُوا) نازل فرمائی تو اسید بن حضیر ؓ نے کہا اے آل ابوبکر ؓ یہ تمہاری پہلی برکت نہیں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہم نے اس کے نیچے ہار پایا۔

Aisha reported: We went with the Apostle of Allah ﷺ on one of his journeys and when we reached the place Baida or Dhat al-jaish, my necklace was broken (and fell somewhere). The Messenger of Allah ﷺ along with other people stayed there searching for it. There was neither any water at that place nor was there any water with them (the Companions of the Holy Prophet). Some persons came to my father Abu Bakr (RA) and said: Do you see what Aisha has done? She has detained the Messenger of Allah ﷺ and persons accompanying him, and there is neither any water here or with them. So Abu Bakr (RA) came there and the Messenger of Allah ﷺ was sleeping with his head on my thigh. He (Abu Bakr) said: You have detained the Messenger of Allah ﷺ and other persons and there is neither water here nor with them. She (Aisha) said: Abu Bakr (RA) scolded me and uttered what Allah wanted him to utter and nudged my hips with his hand. And there was nothing to prevent me from stirring but for the fact that the Messenger of Allah ﷺ was lying upon my thigh. The Messenger of Allah ﷺ slept till it was dawn at a waterless place. So Allah revealed the verses pertaining to tayammum and they (the Holy Prophet ﷺ and his Companions) performed tayammum. Usaid bin al-Hudair who was one of the leaders said: This is not the first of your blessings, O Family to Abu Bakr. Aisha said: We made the camel stand which was my mount and found the necklace under it.

817Sahih Muslim

تیمم کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ بِشْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَائَ قِلَادَةً فَهَلَکَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا فَأَدْرَکَتْهُمْ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوئٍ فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَکَوْا ذَلِکَ إِلَيْهِ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاکِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِکِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَکِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَکَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابوکریب، ابواسامہ، ابن بشر، ہشام، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے اسماء ؓ سے ایک ہار عاریۃ لیا وہ گم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو صحابہ میں سے اس کو تلاش کرنے بھیجا اسی حالت میں نماز کا وقت آگیا اور انہوں نے نماز بغیر وضو ادا کی جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے آپ ﷺ کو اس بات کی شکایت کی تو آیت تیمم نازل ہوئی، اسید بن حضیر ؓ نے فرمایا اللہ آپ کو بہتر بدلہ عطا کرے، اللہ کی قسم آپ پر کوئی ایسی پریشانی نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ پر سے ٹال نہ دیا ہو اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت رکھ دی۔

Aisha reported she had borrowed from Asma (her sister) a necklace and it was lost. The Messenger of Allah ﷺ sent men to search for it. As it was the time for prayer, they offered prayer without ablution (as water was not available there). When they came to the Messenger of Allah ﷺ , they made a complaint about it, and the verses pertaining to tayammum were revealed. Upon this Usaid bin Hadair said (to Aisha): May Allah grant you a good reward! Never has been there an occasion when you were beset with difficulty and Allah did not make you come out of that and made it an occasion of blessing for the Muslims.

818Sahih Muslim

تیمم کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَی فَقَالَ أَبُو مُوسَی يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدْ الْمَائَ شَهْرًا کَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَتَيَمَّمُ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَائَ شَهْرًا فَقَالَ أَبُو مُوسَی فَکَيْفَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَائً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَأَوْشَکَ إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمْ الْمَائُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ فَقَالَ أَبُو مُوسَی لِعَبْدِ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ الْمَائَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ کَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا کَانَ يَکْفِيکَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْکَ هَکَذَا ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَی الْيَمِينِ وَظَاهِرَ کَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَوَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابومعاویہ، ابوبکر، ابومعاویہ، اعمش، شقیق ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ ؓ کے پاس بیٹھنے والا تھا تو حضرت ابوموسیٰ نے عبداللہ ابن مسعود ؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا اگر کوئی آدمی جنبی ہوجائے اور وہ پانی ایک مہینہ تک نہ پا سکے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ تو عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ وہ تیمم نہ کرے اگرچہ ایک مہنیہ تک پانی نہ پائے تو ابوموسی ؓ نے فرمایا کہ جو آیت سورت مائدہ میں ہے (فَلَمْ تَجِدُوْا مَا ءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا) 5۔ المائدہ: 6) اس کا کیا مطلب ہے تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا اگر لوگوں کو اس آیت کی بنا پر اجازت دی گئی تو مجھے اندیشہ ہے کہ جب ان کو سردی لگے تو وہ تو مٹی کے ساتھ تیمم کرنے لگیں گے تو ابوموسی ؓ نے حضرت عبداللہ سے کہا کہ کیا آپ نے حضرت عمار کی یہ حدیث نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے کسی کام کی غرض سے بھیجا میں جنبی ہوگیا اور میں پانی نہیں پاتا تھا تو میں مٹی میں اس طرح لیٹا جس طرح جانور لیٹتا ہے پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بارے میں ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تجھے اس طرح دونوں ہاتھ سے کرنا کافی تھا پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک بار زمین پر مارا اور اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ کا مسح کیا اور پھر ہتھیلیوں کی پشت اور چہرے کا مسح کیا حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت عمار ؓ کے قول پر قناعت نہیں کی تھی۔

Shaqiq reported: I was sitting in the company of Abdullah and Abu Musa when Abu Musa said: 0 Abdul Rahman (kunya of Abdullah bin Masud), what would you like a man to do about the prayer if he experiences a seminal emission or has sexual intercourse but does not find water for a month? Abdullah said: He should not perform tayammum even if he does not find water for a month. Abdullah said: Then what about the verse in Sura Maida: "If you do not find water, betake yourself to clean dust"? Abdullah said: If they were granted concession on the basis of this verse, there is a possibility that they would perform tayammum with dust on finding water very cold for themselves. Abu Musa said to Abdullah (RA) : You have not heard the words of Ammar: The Messenger of Allah ﷺ sent me on an errand and I had a seminal emission, but could find no water, and rolled myself in dust just as a beast rolls itself. I came to the Messenger of Allah ﷺ then and made a mention of that to him and he (the Holy Prophet) said: It would have been enough for you to do thus. Then he struck the ground with his hands once and wiped his right hand with the help of his left hand and the exterior of his palms and his face. Abdullah said: Didnt you see that Umar was not fully satisfied with the words of Ammar only?

819Sahih Muslim

تیمم کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَی لِعَبْدِ اللَّهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا کَانَ يَکْفِيکَ أَنْ تَقُولَ هَکَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَی الْأَرْضِ فَنَفَضَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَکَفَّيْهِ

ابوکا مل جحدری، عبدالواحد، اعمش، شقیق، ابوموسی، عبداللہ، حضرت شقیق ؓ سے یہی روایت دوسری سند سے بھی منقول ہے لیکن اس میں یہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تیرے لئے اس قدر تیمم کافی تھا اور اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا پھر اس سے اپنے چہرے اور اپنے دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔

This hadith is narrated by Shaqiq with the same chain of transmitters but with the alteration of these words: He (the Holy Prophet) struck hands upon the earth, and then shook them and then wiped his face and palm.

820Sahih Muslim

تیمم کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَکَمُ عَنْ ذَرٍّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَی عُمَرَ فَقَالَ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَائً فَقَالَ لَا تُصَلِّ فَقَالَ عَمَّارٌ أَمَا تَذْکُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَائً فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّکْتُ فِي التُّرَابِ وَصَلَّيْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا کَانَ يَکْفِيکَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْکَ الْأَرْضَ ثُمَّ تَنْفُخَ ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَکَ وَکَفَّيْکَ فَقَالَ عُمَرُ اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ قَالَ إِنْ شِئْتَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ قَالَ الْحَکَمُ وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ حَدِيثِ ذَرٍّ قَالَ وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ عَنْ ذَرٍّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ الَّذِي ذَکَرَ الْحَکَمُ فَقَالَ عُمَرُ نُوَلِّيکَ مَا تَوَلَّيْتَ

عبداللہ بن ہاشم عبدی، یحییٰ ابن سعید قطان، شعبہ، حکم، ذر، سعید بن عبدالرحمن ابن ابزی سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر ؓ کے پاس آیا اور کہا کہ میں جنبی ہوگیا اور میں نے پانی نہیں پایا آپ نے فرمایا نماز نہ پڑھ، تو حضرت عمار ؓ نے فرمایا اے امیر المومنین کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ ایک سریہ میں جنبی ہوگئے اور ہمیں پانی نہ ملا اور آپ نے نماز ادا نہ کی بہر حال میں مٹی میں لیٹا اور نماز ادا کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے کافی تھا کہ تو اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارتا پھر پھونک مارتا پھر ان دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرتا حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے عمار اللہ سے ڈر حضرت عمار ؓ نے فرمایا اگر آپ نہ چاہیں تو میں یہ حدیث نہیں بیان کروں گا حکم ؓ سے روایت مذکور ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہم تیری روایت کا بوجھ تجھ ہی پر ڈالتے ہیں۔

Abdul Rabmin bin Abza narrated it on the authority of his father that a man came to Umar and said: I am (at times) affected by seminal emission but find no water. He (Umar) told him not to say prayer. Ammar then said. Do you remember, O Commander of the Faithful, when I and you were in a military detachment and we had had a seminal emission and did not find water (for taking bath) and you did not say prayer, but as for myself I rolled in dust and said prayer, and (when it was mentioned before) the Apostle ﷺ said: It was enough for you to strike the ground with your hands and then blow (the dust) and then wipe your face and palms. Umar said: Ammar, fear Allah. He said: If you so like, I would not narrate it. A hadith like this has been transmitted with the same chain of transmitters but for the words: Umar said: We hold you responsible for what you claim."