ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُمْ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ فِي الزِّنَی يَهُودِيَّيْنِ رَجُلًا وَامْرَأَةً زَنَيَا فَأَتَتْ الْيَهُودُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ
زہیر بن حرب، اسماعیل یعنی ابن علیہ، ایوب، ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو یہودیوں ایک مرد اور ایک عورت کو زنا میں رجم کیا جنہوں نے زنا کیا تھا اور یہود انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے۔ باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ stoned to death the Jews, both male and female, who had committed adultery. The Jews brought them to Allahs Messenger (may peace he upon him). The rest of the hadith is the same.
ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الْيَهُودَ جَائُوا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ قَدْ زَنَيَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ
احمد بن یونس زہیر، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ یہود اپنے میں سے ایک آدمی اور عورت کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے جنہوں نے زنا کیا تھا۔ باقی حدیث گزر چکی۔
Ibn Umar reported that the Jews brought to Allahs Messenger ﷺ a man and a woman who had committed adultery. The rest of the hadith is the same
ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ مُرَّ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ مُحَمَّمًا مَجْلُودًا فَدَعَاهُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَکَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي کِتَابِکُمْ قَالُوا نَعَمْ فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِهِمْ فَقَالَ أَنْشُدُکَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَی مُوسَی أَهَکَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي کِتَابِکُمْ قَالَ لَا وَلَوْلَا أَنَّکَ نَشَدْتَنِي بِهَذَا لَمْ أُخْبِرْکَ نَجِدُهُ الرَّجْمَ وَلَکِنَّهُ کَثُرَ فِي أَشْرَافِنَا فَکُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِيفَ تَرَکْنَاهُ وَإِذَا أَخَذْنَا الضَّعِيفَ أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ قُلْنَا تَعَالَوْا فَلْنَجْتَمِعْ عَلَی شَيْئٍ نُقِيمُهُ عَلَی الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ فَجَعَلْنَا التَّحْمِيمَ وَالْجَلْدَ مَکَانَ الرَّجْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَکَ إِذْ أَمَاتُوهُ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْکَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْکُفْرِ إِلَی قَوْلِهِ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ يَقُولُ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ أَمَرَکُمْ بِالتَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ فَخُذُوهُ وَإِنْ أَفْتَاکُمْ بِالرَّجْمِ فَاحْذَرُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی وَمَنْ لَمْ يَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِکَ هُمْ الْکَافِرُونَ وَمَنْ لَمْ يَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِکَ هُمْ الظَّالِمُونَ وَمَنْ لَمْ يَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِکَ هُمْ الْفَاسِقُونَ فِي الْکُفَّارِ کُلُّهَا
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابی معاویہ، اعمش، عبداللہ بن مرہ، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے سے ایک یہودی سیاہ کیا ہوا کوڑے کھائے ہوئے گزرا تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو بلوا کر فرمایا کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی سزا اسی طرح پا تے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں! تو آپ ﷺ نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلا کر فرمایا میں تجھے اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی سزا اسی طرح پاتے ہو۔ اس نے کہا نہیں! اور اگر آپ ﷺ مجھے یہ قسم نہ دیتے تو کبھی آپ ﷺ کو خبر نہ دیتا۔ ہم سنگسار کرنا ہی پاتے ہیں لیکن ہمارے معزز لوگوں میں زنا کی کثرت ہوگئی۔ پس جب ہم کسی معزز کو پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ہم کسی کمزور و ضعیف آدمی کو پکڑتے تو اس پر حد قائم کردیتے۔ ہم نے کہا آؤ! ہم ایسی سزا پر جمع ہوجائیں جسے ہم معزز و غیرمعزز پر قائم کریں گے۔ تو ہم نے کوئلے سے منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کو رجم کی جگہ مقرر کردیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! میں وہ پہلا ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جبکہ وہ اسے ختم کرچکے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے سنگسار کیا گیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " اے رسول آپ ﷺ کو وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں بڑھنے والے ہیں جنہوں نے اپنے منہ سے تو کہا کہ ہم ایمان لائے ہیں لیکن ان کے دل ایمان نہ لائے اور جو یہودیوں سے جھوٹ بولنے کے لئے جاسوسی کرتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کے لئے جاسوسی کرتے ہیں جو ابھی تک آپ ﷺ کے پاس نہیں آئے اور وہ اللہ کے کلام کو اپنی جگہ سے تبدیل کردیتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہے اگر تم کو یہ حکم (ہمارا بتایا ہوا) دیا جائے تو اسے لے لو۔ اگر تم کو یہ (حکم) نہ دیا جائے تو بچو۔ خلاصہ یہ کہ یہود کہتے ہیں کہ چلو محمد ﷺ کے پاس اگر وہ تمہیں منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کا حکم دیں تو قبول کرلو اور اگر وہ تمہیں رجم کا فتوی دیں تو اسے چھوڑ دو۔ تو اللہ نے یہ آیات نازل کیں جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ فاسق ہیں۔ یہ آیات کفار کے بارے میں نازل ہوئیں۔
Al-Bara bin Azib (RA) reported: There happened to pass by Allahs Apostle ﷺ a Jew blackened and lashed. Allahs Apostle ﷺ called them (the Jews) and said: Is this the punishment that you find in your Book (Torah) as a prescribed punishment for adultery? They said: Yes. He (the Holy Prophet) called one of the scholars amongst them and said: I ask you in the name of Allah Who sent down the Torah on Moses (علیہ السلام) if that is the prescribed punishment for adultery that you find in your Book. He said: No. Had you not asked me in the name of Allah, I would not have given you this information. We find stoning to death (as punishment prescribed in the Torah). But this (crime) became quite common amongst our aristocratic class. So when we caught hold of any rich person (indulging in this offence) we spared him, but when we caught hold of a helpless person we imposed the prescribed punishment upon him. We then said: Let us agree (on a punishment) which we can inflict both upon the rich and the poor. So We decided to blacken the face with coal and flog as a substitute punishment for stoning. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: O Allah, I am the first to revive Thy command when they had made it dead. He then commanded and he (the offender) was stoned to death. Allah, the Majestic and Glorious, sent down (this verse): "O Messenger, (the behaviour of) those who vie with one another in denying the truth should not grieve you..." up to "is vouchsafed unto you, accept it" (v. 41) 2176 It was said (by the Jews): Go to Muhammad; it he commands you to blacken the face and award flogging (as punishment for adultery), then accept it, but it he gives verdict for stoning, then avoid it. It was (then) that Allah, the Majestic and Great, sent down (these verses): "And they who do not judge in accordance with what Allah has revealed are, indeed, deniers of the truth" (v. 44); "And they who do not judge in accordance with what Allah has revealed-they indeed are the wrongdoers" (v. 45);" And they who do not judge in accordance with what God has revealed-they are the iniquitous (v. 47). (All these verses) were revealed in connection with the non-believers.
ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَی قَوْلِهِ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ نُزُولِ الْآيَةِ
ابن نمیر، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش دوسری سند مذکور ہے لیکن اس میں یہاں تک ہی ہے کہ نبی ﷺ نے رجم کا حکم دیا۔ اسے رجم کیا گیا۔ اس کے بعد مذکور نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash up to the words: "Allahs Apostle ﷺ pronounced judgment and he was stoned (to death)" And he mentioned nothing subsequent to that pertaining to the revelation of verses.
ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ وَامْرَأَتَهُ
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بنی اسلم کے ایک آدمی اور یہود کے ایک آدمی اور ایک عورت کو رجم کیا۔
Jabir bin Abdullah reported that Allahs Apostle ﷺ stoned (to death) a person from Banu Aslam, and a Jew and his wife.
ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَامْرَأَةً
اسحاق بن ابراہیم، روح بن عبادہ، ابن جریج اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been transmitted on the authority of Juraij with a slight variation of words.
ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ بَعْدَ مَا أُنْزِلَتْ سُورَةُ النُّورِ أَمْ قَبْلَهَا قَالَ لَا أَدْرِي
ابوکامل جحدری، عبدالواحد، سلیمان شیبانی، عبداللہ بن ابی اوفی، ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، حضرت ابواسحاق شیبانی (رح) سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ میں نے کہا سورت النور کے نازل کئے جانے سے پہلے یا بعد میں؟ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا۔
Abu Ishaq Shaibani said: I asked Abdullah bin Abu Aufi if Allahs Messenger ﷺ awarded (the punishment) of stoning (to death). He said: Yes. I said: After Sura al-Nur was revealed or before that? He said: I do not know.
ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِکُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ
عیسیٰ بن حماد مصری، لیث، سعید بن ابی سعید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا ظاہر ہوجائے تو اسے حد کے طور پر کوڑے مارے جائیں اور اس کا زنا ظاہر ہوجائے تو چاہیے کہ اسے فروخت کر دے اگرچہ بال کی ایک رسی ہی کے بدلہ میں ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying: When the slave-woman of any of you commits adultery and this (offence of hers) becomes clear, she should be flogged (as the presribed) punishment, but hurl no reproach at her. If she commits adultery again, she should (again be punished) by flogging, but hurl no reproach upon her. If she commits fornication for the third time and it becomes clear, then he should sell her, even if only for a rope of hair.
ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ الْبُرْسَانِيُّ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَقَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَلْدِ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ ثَلَاثًا ثُمَّ لِيَبِعْهَا فِي الرَّابِعَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، عبد بن حمید، محمد بن بکر برسانی، ہشام بن حسان، ایوب ابن موسی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن نمیر، عبیداللہ بن عمر، ہارون ابن سعید ایلی، ابن وہب، اسامہ بن زید، ہناد بن سری، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، عبدہ بن سلیمان، محمد بن اسحاق، سعید مقبری، ابوہریرہ مختلف اسناد سے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے باندی کو کوڑے مارنے کے بارے میں فرمایا جب وہ تین مرتبہ زنا کرچکے پھر چوتھی بار چاہیے کہ اسے فروخت کر دے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) and Zaid bin Khalid al-Juhani, but in this no mention is made of the words of Ibn Shihab that dafir means rope.
ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصِنْ قَالَ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَا أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ وَقَالَ الْقَعْنَبِيُّ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، مالک، یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس باندی کے بارے میں سوال کیا گیا جو غیر شادی شدہ ہو اور زنا کرے آپ ﷺ نے فرمایا اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے مارو۔ اگر پھر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ اگر پھر بھی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو پھر اسے فروخت کردو اگرچہ رسی ہی کے بدلہ میں۔ ابن شہاب نے کہا میں نہیں جانتا تیسری مرتبہ کے بعد یا چوتھی مرتبہ کے بعد اور رسی کو ضفیر کہتے ہیں
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) and Zaid bin Khalid al-Juhani in the same way as transmitted by Malik with this (difference) tnat there is a doubt whether her sale (that of the slave-girl committing adultery) was mentioned after the third or the fourth time.
ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَالِکًا يَقُولُ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْأَمَةِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَ ابْنِ شِهَابٍ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ
ابوطاہر، ابن وہب، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت زید بن خالد الجہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے باندی کے بارے میں پوچھا گیا۔ باقی حدیث اسی طرح ہے لیکن اس میں ابن شہاب کا قول ضفیر رسی کو کہتے ہیں مذکور نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira and Zaid b. Khalid al-Jubani, but in this no merition is made of the words of Ibn Shihab that dafir means rope.
ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ وَالشَّکُّ فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا فِي بَيْعِهَا فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ
عمرو ناقد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ، حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید خالد الجہنی ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے لیکن ان کی حدیث میں تیسری یا چوتھی مرتبہ بیچنے میں شک ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira and Zaid b. Khalid al-Juhani in the same way as transmitted by Malik with this (difference) tnat there is a doubt whether her sale (that of the slave-girl committing adultery) was mentioned after the third or the fourth time.
نفاس والی عورتوں سے حد متاخر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ خَطَبَ عَلِيٌّ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَقِيمُوا عَلَی أَرِقَّائِکُمْ الْحَدَّ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحْسَنْتَ
محمد بن ابی بکر مقدمی، سلیمان، ابوداؤد، زائدہ، سدی، سعد بن عبیدہ، حضرت ابوعبدالرحمن ؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے خطبہ دیا تو فرمایا اے لوگو اپنے غلاموں پر حد قائم کرو خواہ وہ ان میں سے شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ایک باندی نے زنا کیا آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے کوڑے لگاؤں لیکن اس نے ابھی قریب ہی زمانہ میں بچہ جنا تھا۔ مجھے ڈر ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے تو میں اسے مار دوں گا۔ لہذا میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا تو نے اچھا کیا۔
Abdul Rahman reported that Ali, while delivering the address said: O people, impose the prescribed punishment upon your slaves, those who are married and those not married, for a slave-woman belonging to Allahs Messenger ﷺ had committed adultery, and he committed me to flog her. But she had recently given birth to a child and I was afraid that if I flogged her I might kill her. So I mentioned that to Allahs Apostle ﷺ and he said: You have done well.
نفاس والی عورتوں سے حد متاخر کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ السُّدِّيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ اتْرُکْهَا حَتَّی تَمَاثَلَ
اسحاق بن ابراہیم، یحییٰ بن آدم، اسرائیل، سدی، ان اسناد سے بھی یہ حدیث منقول ہے لیکن اس میں جو ان میں پاک دامن ہو اور جو پاک دامن نہ ہو مذکور نہیں اور یہ اضافہ ہے کہ اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ تندرست ہوجائے۔
This hadith has been narrated on the authority of as-Suddi with the same chain of transmitters, but he did not mention: "Those who are married and those who are not married." There is also an addition in it: "I spare her until she is all right."
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ أَرْبَعِينَ قَالَ وَفَعَلَهُ أَبُو بَکْرٍ فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخَفَّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے انگور کی شراب پی تھی۔ آپ ﷺ نے اسے دو چھڑیوں سے چالیس بار مارا۔ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر ؓ نے اسی طرح کیا۔ جب حضرت عمر ؓ کا زمانہ آیا انہوں نے لوگوں سے مشورہ طلب کیا تو عبدالرحمن ؓ نے کہا کم از کم حد اسی کوڑے ہیں۔ تو حضرت عمر ؓ نے اسی کا حکم دیا۔
Anas bin Malik (RA) reported that a person who had drunk wine was brought to Allahs Apostle ﷺ . He gave him forty stripes with two lashes. Abu Bakr (RA) also did that, but when Umar (assumed the responsibilities) of the Caliphate, he consulted people and Abdul Rahman said: The mildest punishment (for drinking) is eighty (stripes) and Umar therefore prescribed this punishment.
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ فَذَکَرَ نَحْوَهُ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد یعنی ابن حارث، شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی کو پیش کیا گیا۔ پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَدَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ ثُمَّ جَلَدَ أَبُو بَکْرٍ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ وَدَنَا النَّاسُ مِنْ الرِّيفِ وَالْقُرَی قَالَ مَا تَرَوْنَ فِي جَلْدِ الْخَمْرِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَرَی أَنْ تَجْعَلَهَا کَأَخَفِّ الْحُدُودِ قَالَ فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے شراب (کی حد) میں درخت کی ٹہنی اور جوتوں سے مارا پھر حضرت ابوبکر ؓ نے چالیس کوڑے لگائے۔ جب حضرت عمر (خلیفہ) ہوئے اور لوگ سبزہ زاروں اور دیہاتوں کے قریب رہنے لگے تو آپ نے کہا تم شراب کی سزا میں کیا خیال کرتے ہو؟ عبدالرحمن بن عوف نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ اس کی کم از کم حد مقرر فرما دیں۔ راوی کہتے ہے تو حضرت عمر ؓ نے اسی 80 کوڑے لگائے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ gave a beating with palm branches and shoes, and that Abu Bakr (RA) gave forty lashes. When Umar (became the Commander of the Faithful) and the people went near to pastures and towns, he said (to the Companions of the Holy Prophet). What is your opinion about lashing for drinking? Thereupon Abdul Rahman bin Auf said: My opinion is that you fix it as the mildest punishment. Then Umar inflicted eighty stripes.
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، ہشام اس سند سے بھی یہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَضْرِبُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ أَرْبَعِينَ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا وَلَمْ يَذْکُرْ الرِّيفَ وَالْقُرَی
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (حد) شراب میں جوتوں اور چھڑیوں کے ساتھ چالیس ضربیں لگائیں تھیں۔ پھر اسی طرح حدیث ذکر کی لیکن سبزہ زاروں اور دیہاتوں کا ذکر نہیں کیا۔
Anas reported that Allahs Apostle ﷺ used to strike forty times with shoes and palm branches (in case of drinking of) wine. The rest of the hadith is the same and there is no mention of pastures and towns.
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَيْرُوزَ مَوْلَی ابْنِ عَامِرٍ الدَّانَاجِ حَدَّثَنَا حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ قَدْ صَلَّی الصُّبْحَ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ أَزِيدُکُمْ فَشَهِدَ عَلَيْهِ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا حُمْرَانُ أَنَّهُ شَرِبَ الْخَمْرَ وَشَهِدَ آخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّأُ فَقَالَ عُثْمَانُ إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْ حَتَّی شَرِبَهَا فَقَالَ يَا عَلِيُّ قُمْ فَاجْلِدْهُ فَقَالَ عَلِيٌّ قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ فَقَالَ الْحَسَنُ وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّی قَارَّهَا فَکَأَنَّهُ وَجَدَ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ قُمْ فَاجْلِدْهُ فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ حَتَّی بَلَغَ أَرْبَعِينَ فَقَالَ أَمْسِکْ ثُمَّ قَالَ جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ وَجَلَدَ أَبُو بَکْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ ثَمَانِينَ وَکُلٌّ سُنَّةٌ وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ زَادَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ إِسْمَعِيلُ وَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثَ الدَّانَاجِ مِنْهُ فَلَمْ أَحْفَظْهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، علی حجر، اسماعیل ابن علیہ، عروبہ، عبداللہ داناج، اسحاق بن ابراہیم، حنظلی، یحییٰ بن حماد، عبدالعزیز بن مختار، عبداللہ بن فیروز مولیٰ ابن عامر داناج، حضرت حصین بن منذر ابوساسان سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمان بن عفان ؓ کے پاس حاضر ہوا۔ ان کے پاس ولید بن عقبہ کو لایا گیا کہ انہوں نے صبح کی نماز دو رکعتیں پڑھائیں پھر کہا میں تمہارے لئے زیادہ کرتا ہوں اور اس کے خلاف دو آدمیوں نے گواہی دی۔ ان میں سے ایک حمران نے گواہی دی کہ اس (ولید) نے شراب پی ہے۔ دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے اسے قے کرتے دیکھا ہے تو حضرت عثمان نے کہا کہ اس نے شراب پیئے بغیر قے نہیں کی۔ اے علی! اٹھو اور اسے کوڑے لگاؤ۔ حضرت علی ؓ نے حسن ؓ سے کہا اٹھو اور کوڑے مارو۔ حضرت حسن نے کہا خلافت کی گرمی بھی اسی کے سپرد کریں جو اس کی ٹھنڈک کا والی ہے۔ علی ؓ نے اس بات کی وجہ سے حسن ؓ سے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا اے عبداللہ بن جعفر اٹھو اور اسے کوڑے مارو۔ پس انہوں نے اسے کوڑے مارے اور حضرت علی ؓ شمار کرنے لگے۔ یہاں تک کہ چالیس تک پہنچے تو فرمایا ٹھہر جاؤ۔ پھر فرمایا نبی کریم ﷺ نے چالیس اور حضرت ابوبکر ؓ نے بھی چالیس اور حضرت عمر ؓ نے اسی کوڑے لگوائے اور سب سنت ہیں اور مجھے یہ (چالیس کوڑے) زیادہ پسندیدہ ہیں۔ علی بن حجر نے اپنی روایت میں زیادتی کی ہے۔ اسماعیل نے کہا کہ میں نے اس سے داناج کی حدیث سنی تھی لیکن میں یاد نہیں رکھ سکا۔
Husain bin al-Mundhir Abu Sasan reported: I saw that Walid was brought to Uthmin bin Affan as he had prayed two rakahs of the dawn prayer, and then he said: I make an increase for you. And two men bore witness against him. One of them was Humran who said that he had drunk wine. The second one gave witness that he had seen him vomiting. Uthman said: He would not have vomited (wine) unless he had drunk it. He said: Ali, stand up and lash him. Ali said: Hasan, stand up and lash him. Thereupon Hasan said: Let him suffer the heat (of Caliphate) who has enjoyed its coolness. (Ali felt annoyed at this remark) and he said: Abdullah bin Jafar, stand up and flog him, and he began to flog him and Ali counted the stripes until these were forty. He (Hadrat Ali) said: Stop now, and then said: Allahs Apostle ﷺ gave forty stripes, and Abu Bakr (RA) also gave forty stripes, and Umar gave eighty stripes, and all these fall under the category of the Sunnah, but this one (forty stripes) is dearer to me.