حج کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 17 · 608 hadiths · Page 23 of 31

3230Sahih Muslim

حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْکَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ ثُمَّ مَکَثَ فِيهَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَعَلَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَائَهُ وَکَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَی سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّی

یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ اللہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت اسامہ ؓ اور حضرت بلال ؓ اور حضرت عثمان بن طلحہ ؓ بھی تھے اور کعبہ کا دروازہ آپ ﷺ پر بند ہوگیا پھر آپ ﷺ دیر تک اندر رہے حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت بلال ؓ جس وقت باہر نکلے تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اندر کیا کیا؟ حضرت بلال ؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے دو ستونوں کو اپنے بائیں طرف اور ایک ستون کو اپنے دائیں طرف اور تین ستونوں کو اپنے پیچھے کیا اور بیت اللہ کے اس وقت چھ ستون تھے پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی۔

Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ entered the Ka’bah. Usama, Bilal (RA) and Uthman bin Talha, the keeper (of the Ka’bah), were along with him. He closed the door and stayed in it for some time. Ibn Umar (RA) said: I asked Bilal (RA) as he came out what Allahs Messenger ﷺ had done there. He said: He prayed there in (such a position) that two pillars were on his left side, one pillar on his right, and three pillars were behind him, and the House at that time was resting on six pillars.

3231Sahih Muslim

حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَنَزَلَ بِفِنَائِ الْکَعْبَةِ وَأَرْسَلَ إِلَی عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ فَجَائَ بِالْمِفْتَحِ فَفَتَحَ الْبَابَ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَأَمَرَ بِالْبَابِ فَأُغْلِقَ فَلَبِثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَتَلَقَّيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا وَبِلَالٌ عَلَی إِثْرِهِ فَقُلْتُ لِبِلَالٍ هَلْ صَلَّی فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ أَيْنَ قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ تِلْقَائَ وَجْهِهِ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ کَمْ صَلَّی

ابوربیع، قتیبہ بن سعید، ابوکامل، حماد، بن زید، حماد، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن تشریف لائے اور کعبہ کے صحن میں اترے آپ ﷺ نے حضرت عثمان بن طلحہ ؓ کو بلایا تو وہ چابی لے کر آئے اور دروازہ کھولا پھر نبی ﷺ اور حضرت بلال اور اسامہ ؓ اور عثمان ؓ کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور دروازہ بند کرنے کا حکم دیا گیا پھر آپ ﷺ کعبہ میں کچھ دیر ٹھہرے رہے پھر دروازہ کھلا حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں جلدی میں سب لوگوں سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے ملا جب آپ ﷺ باہر نکلے اور حضرت بلال آپ ﷺ کے پیچھے تھے تو میں نے حضرت بلال سے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ حضرت بلال ؓ نے کہا کہ ہاں میں نے کہا کہاں؟ حضرت بلال ؓ نے کہا کہ اپنے سامنے کے دو ستونوں کے درمیان حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں یہ بھول گیا کہ میں ان سے پوچھتا کہ کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔

Ibn Umar (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ came on the Day of Victory, and got down in the courtyard of the Ka’bah and he sent (a message) for Uthman bin Talha (RA) . He came with the key and opened the door. Allahs Apostle ﷺ then entered therein and Bilal (RA) , Usama bin Zaid, and Uthman bin Talha (along with him), and then commanded the door to be closed. They stayed there for a considerable time, and then the door was opened, andAbdullah said: I was the first to meet Allahs Messenger ﷺ outside (the Ka’bah), and Bilal (RA) was close behind him. I said to Bilal (RA) : Did Allahs Messenger ﷺ observe prayer therein? He said: Yes. I said: Where? He said: Between the two pillars in front of his face. He said: I forgot to ask him as to the number of rakahs he prayed.

3232Sahih Muslim

حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ عَلَی نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّی أَنَاخَ بِفِنَائِ الْکَعْبَةِ ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَقَالَ ائْتِنِي بِالْمِفْتَاحِ فَذَهَبَ إِلَی أُمِّهِ فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَتُعْطِينِهِ أَوْ لَيَخْرُجَنَّ هَذَا السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي قَالَ فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ فَجَائَ بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ فَفَتَحَ الْبَابَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ

ابن ابی عمر، سفیان، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال حضرت اسامہ بن زید ؓ کی اونٹنی پر سوار تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اونٹنی کو کعبہ کے صحن میں بٹھایا پھر حضرت عثمان بن طلحہ کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ مجھے چابی لا کردو وہ اپنی والدہ کی طرف چابی لینے کے لئے گئے تو انہوں نے انکار کیا تو حضرت عثمان ؓ کہنے لگے کہ مجھے چابی دے دو ورنہ میں اپنی تلوار میان سے نکال لوں گا حضرت عثمان کی والدہ نے ان کو چابی دے دی تو وہ اسے لے کر نبی ﷺ کی طرف آئے آپ ﷺ نے دروازہ کھولا پھر حماد بن زید کی حدیث کی طرح ذکر فرمایا۔

Ibn Umar (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ came during the year of Victory on the she-camel of Usama bin Zaid until he made her kneel down in the courtyard of the Ka’bah (and got down). He then sent for Uthman bin Talha and said: Bring me the key. He went to his mother and she refused to give that to him. He said: By Allah, give that to him or this sword would be thrust into my side. So she gave that to him, and he came with that to Allahs Apostle ﷺ and gave that to him, and he opened the door. The rest of the hadith is the same as the above one.

3233Sahih Muslim

حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمْ الْبَابَ طَوِيلًا ثُمَّ فُتِحَ فَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ فَلَقِيتُ بِلَالًا فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ کَمْ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

زہیر بن حرب، یحییٰ قطان، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن نمیر، عبدہ، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت اسامہ حضرت بلال اور حضرت عثمان ؓ بھی تھے پھر ان پر دروازہ بند ہوگیا پھر کافی دیر بعد دروازہ کھلا تو سب سے پہلے میں داخل ہوا تو میری ملاقات حضرت بلال سے ہوئی تو میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کہاں نماز پڑھی انہوں نے کہا کہ اپنے سامنے والے دو ستونوں کے درمیان تو میں حضرت بلال ؓ سے یہ پوچھنا بھول گیا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟

Ibn Umar (RA) reported: Allahs Messenger, ﷺ entered the House, and Usama, Bilal (RA) and Uthman bin Talha were with him, and they kept the door closed for a considerable time. Then it was opened and I was the first to enter the House and meet Bilal (RA) , and I said: Where did Allahs Messenger ﷺ observe prayer? He said: Between these two front pillars. I, however, forgot to ask him the number of rakahs that he observed.

3234Sahih Muslim

حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ انْتَهَی إِلَی الْکَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ وَأُسَامَةُ وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَابَ قَالَ فَمَکَثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فُتِحَ الْبَابُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَقِيتُ الدَّرَجَةَ فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا هَا هُنَا قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ کَمْ صَلَّی

حمید بن مسعدہ، خالد ابن حارث، عبداللہ بن عون، نافع، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں کعبہ کی طرف پہنچا تو نبی ﷺ اور حضرت بلال اور اسامہ ؓ کعبہ میں داخل ہوگئے تھے اور ان پر حضرت عثمان ؓ نے دروازہ بند کردیا تھا آپ ﷺ کعبہ میں کچھ دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھولا گیا تو نبی ﷺ باہر نکلے اور میں سیٹرھی سے اندر گیا اور بیت اللہ میں داخل ہوا اور میں نے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ہے انہوں نے فرمایا کہ یہاں حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں یہ بھول گیا کہ میں ان سے پوچھتا کہ آپ ﷺ نے کتنی رکعت پڑھی ہیں؟

Abdullah bin Umar (RA) reported that he reached the Ka’bah and Allahs Apostle ﷺ had entered therein, and Bilal (RA) and Usama too. Uthman bin Talha closed the door for them, and they stayed there for a considerable time, and then the door was opened and Allahs Apostle ﷺ came out, and I went upstairs and entered the House and said: Where did Allahs Apostle ﷺ observe prayer? They said: At this very place. I, however, forgot to ask them about the (number of) rakahs that he observed.

3235Sahih Muslim

حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا فَتَحُوا کُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ وَلَجَ فَلَقِيتُ بِلَالًا فَسَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّی فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ صَلَّی بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ

قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، ابن شہاب، حضرت سالم ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور حضرت اسامہ اور حضرت بلال اور حضرت عثمان ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے اور دروازہ ان پر بند ہوگیا تو جب دروازہ کھولا گیا تو سب سے پہلے میں داخل ہوا اور میں حضرت بلال ؓ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں آپ ﷺ نے درمیانی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔

Salim narrated on the authority of his father (RA) that Allahs Messenger ﷺ entered the House along with Usama bin Zaid, Bilal (RA) and Uthman bin Talha. They closed the door from within, and, as they opened it, I was the first to get into it and meet Bilal (RA) , and I asked him: Did Allahs Messenger ﷺ observe prayer in it? He said: Yes, he observed prayer between these two Yemenite pillars (pillars situated towards the side of Yemen).

3236Sahih Muslim

حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْکَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَلَمْ يَدْخُلْهَا مَعَهُمْ أَحَدٌ ثُمَّ أُغْلِقَتْ عَلَيْهِمْ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَأَخْبَرَنِي بِلَالٌ أَوْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی فِي جَوْفِ الْکَعْبَةِ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت سالم بن عبداللہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے اور حضرت اسامہ اور حضرت بلال ؓ اور حضرت عثمان ؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ وہ اندر داخل نہیں ہوسکے پھر ان پر دروازہ بند کردیا گیا حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت بلال ؓ یا عثمان بن طلحہ ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کے وسط میں دو یمانی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔

Salim binAbdullah reported his father (RA) saying: I saw Allahs Messenger ﷺ entering the Ka’bah, and Usama bin Zaid, Bilal (RA) and Uthman bin Talha were along with him, but none (else) entered therein along with them. Then the door was closed for them from within. Abdullah bin Umar (RA) said: Bilal (RA) and Uthman bin Talha informed me that Allahs Messenger ﷺ observed prayer in the interior of the Ka’bah between the two Yemenite pillars.

3237Sahih Muslim

حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ بَکْرٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ قَالَ لَمْ يَکُنْ يَنْهَی عَنْ دُخُولِهِ وَلَکِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ کُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّی خَرَجَ فَلَمَّا خَرَجَ رَکَعَ فِي قُبُلِ الْبَيْتِ رَکْعَتَيْنِ وَقَالَ هَذِهِ الْقِبْلَةُ قُلْتُ لَهُ مَا نَوَاحِيهَا أَفِي زَوَايَاهَا قَالَ بَلْ فِي کُلِّ قِبْلَةٍ مِنْ الْبَيْتِ

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، ابن بکر، عبد، محمد بن بکر، ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کہ کیا آپ نے حضرت ابن عباس کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ تم کو کعبہ میں طواف کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے اندر داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا عطاء کہتے ہیں کہ وہ کعبہ کے اندر داخل ہونے سے نہیں روکتے لیکن میں نے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت اسامہ ؓ بن زید نے خبر دی ہے کہ نبی ﷺ جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے اس کے تمام کونوں میں دعا مانگی اور اس میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ ﷺ باہر تشریف لے آئے تو جب آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے بیت اللہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں اور آپ نے فرمایا یہ قبلہ ہے میں نے عرض کیا کہ اس کے کناروں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیت اللہ کا ہر کنارہ قبلہ ہے۔

Ibn Juraij reported: I said to Ata: Have you heard Ibn Abbas saying: You have been commanded to observe circumambulation, and not commanded to enter it (the Ka’bah)? He (Ata) said: He ( Ibn Abbas (RA) ) (at the same time) did not forbid entrance into it. I, however, heard him saying: Usama bin Zaid informed me that when Allahs Apostle ﷺ entered the House, he supplicated in all sides of it; and he did not observe prayer therein till he came out, and as he came out he observed two rakahs in front of the House, and said: This is your Qibla. I said to him: What is meant by its sides? Does that mean its corners? He said: (In all sides and nooks of the House) there is Qibla.

3238Sahih Muslim

حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَائٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْکَعْبَةَ وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ فَقَامَ عِنْدَ سَارِيَةٍ فَدَعَا وَلَمْ يُصَلِّ

شیبان بن فروخ، ہمام، عطاء، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اس میں چھ ستون تھے آپ ﷺ نے ہر ستون کے پاس کھڑے ہو کر دعا مانگی اور نماز نہیں پڑھی۔

Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ entered the Ka’bah, and in it there were six pillars, and he stood near a pillar and made supplication, bnt did not observe the prayer.

3239Sahih Muslim

حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فِي عُمْرَتِهِ قَالَ لَا

سریج بن یونس، ہشیم، اسماعیل بن ابی خالد، عبداللہ بن ابی اوفی، حضرت اسماعیل بن خالد ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول اللہ ﷺ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ اپنی عمر مبارک میں بیت اللہ میں داخل ہوئے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔

Ismail bin Abu Khalid reported: I askedAbdullah bin Abu Aufa (RA) , a Companion of Allahs Messenger ﷺ , whether Allahs Apostle ﷺ had entered the House, while performing Umrah, He said: No.

3240Sahih Muslim

کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَضْتُ الْکَعْبَةَ وَلَجَعَلْتُهَا عَلَی أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ فَإِنَّ قُرَيْشًا حِينَ بَنَتْ الْبَيْتَ اسْتَقْصَرَتْ وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا

یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کے لوگوں نے نیا نیا کفر چھوڑ کر اسلام قبول نہ کیا ہوتا تو میں بیت اللہ کو توڑتا اور اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر بناتا کیونکہ قریش نے جس وقت بیت اللہ کو بنایا تو اسے کم (چھوٹا) کردیا اور میں اس کے پیچھے بھی دروازہ بناتا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger may peace be upon him) said to me: Had your people not been unbelievers in the recent past (had they not quite recently accepted Islam), I would have demolished the Ka’bah and would have rebuilt it on the foundation (laid) by Ibrahim; for when the Quraish had built the Ka’bah, they reduced its (area), and I would also have built (a door) in the rear.

3241Sahih Muslim

کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، حضرت ہشام ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.

3242Sahih Muslim

کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَکِ حِينَ بَنَوْا الْکَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَی قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَفَعَلْتُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَئِنْ کَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَکَ اسْتِلَامَ الرُّکْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَی قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، عبداللہ بن محمد بن ابی بکر صدیق ؓ، عبداللہ بن عمر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جس وقت کعبہ بنایا تو اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں سے چھوٹا کردیا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ اسے دوبارہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر کیوں نہیں بنا دیتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم نے کفر کو نیا نیا چھوڑا نہ ہوتا تو میں کرتا، حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ ؓ نے یہ بات ضرور رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوگی کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ جو دو کونے حجر (یعنی حطیم) سے ملے ہوئے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اس کا استلام چھوڑ دیا ہے اس لئے کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر پورا نہیں بنا ہوا۔

Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported Allahs Messenger ﷺ as having said this: Didnt you see that when your people built the Ka’bah, they reduced its area with the result that it no longer remains on the foundations (laid) by Ibrahim. I said: Messenger of Allah, why dont you rebuild it on the foundations (laid by) Ibrahim? Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Had your people not been new converts to Islam, I would have done that. Abdullah bin Umar (RA) said: If Aisha (Allah be pleased with her) had heard it from Allahs Messenger ﷺ , I would not have seen Allahs Messenger ﷺ abandoning the touching of the two corners situated near al-Hijr, but (for the fact) that it was not completed on the foundations (laid) by Ibrahim.

3243Sahih Muslim

کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مَخْرَمَةَ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُکَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ أَوْ قَالَ بِکُفْرٍ لَأَنْفَقْتُ کَنْزَ الْکَعْبَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَجَعَلْتُ بَابَهَا بِالْأَرْضِ وَلَأَدْخَلْتُ فِيهَا مِنْ الْحِجْرِ

ابوطاہر، عبداللہ بن وہب مخرمہ، ہارون، بن سعید، ابن وہب، مخرمہ بن بکیر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تیری قوم نے جاہلیت کو یا فرمایا کہ کفر کو نیا نیا چھوڑا نہ ہوتا تو میں کعبہ کا خزانہ اللہ کے راستے میں خرچ کردیتا اور میں اس کا دروازہ زمین کے ساتھ بناتا اور حطیم کو کعبہ میں ملا دیتا۔

Aisha (Allah be pleased with her), wife of Allahs Apostle ﷺ , heard Allahs Messenger ﷺ as saying: If your people, had not been recent converts to Islam, I would have spent the treasure of the Ka’bah in the way of Allah and would have constructed its door just on the level of the ground and would have encompassed in it the space of Hijr.

3244Sahih Muslim

کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنِي ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ مِينَائَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي يَعْنِي عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِشِرْکٍ لَهَدَمْتُ الْکَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنْ الْحِجْرِ فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حَيْثُ بَنَتْ الْکَعْبَةَ

محمد بن حاتم، ابن مہدی، سلیم بن حبان، سعید، ابن میناء، حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے میری خالہ حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! اگر تیری قوم کے لوگوں نے شرک نیا نیا چھوڑا نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا کر اسے زمین سے ملا دیتا اور اس کے دو دروازے بناتا ایک دروازہ مشرق کی طرف اور ایک دروازہ مغرب کی طرف اور حطیم کی طرف سے چھ ہاتھ جگہ کعبہ میں اور زیادہ کردیتا کیونکہ قریش نے جب کعبہ دوبارہ بنایا تھا تو اسے چھوٹا کردیا تھا۔

Abdullah bin Zubair (RA) reported on the authority of his mothers sister (Aisha) saying that Allahs Messenger ﷺ said: Aisha, if your people had not been recently polytheists (and new converts to Islam), I would have demolished the Ka’bah, and would have brought it to the level of the ground and would have constructed two doors, one facing the east and the other one to the west, and would have added to it six cubits of area from Hijr, for the Quraish had reduced it when they rebuilt it.

3245Sahih Muslim

کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ قَالَ لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ فَکَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا کَانَ تَرَکَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّی قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ أَوْ يُحَرِّبَهُمْ عَلَی أَهْلِ الشَّامِ فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي الْکَعْبَةِ أَنْقُضُهَا ثُمَّ أَبْنِي بِنَائَهَا أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَی مِنْهَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنِّي قَدْ فُرِقَ لِي رَأْيٌ فِيهَا أَرَی أَنْ تُصْلِحَ مَا وَهَی مِنْهَا وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهَا وَبُعِثَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لَوْ کَانَ أَحَدُکُمْ احْتَرَقَ بَيْتُهُ مَا رَضِيَ حَتَّی يُجِدَّهُ فَکَيْفَ بَيْتُ رَبِّکُمْ إِنِّي مُسْتَخِيرٌ رَبِّي ثَلَاثًا ثُمَّ عَازِمٌ عَلَی أَمْرِي فَلَمَّا مَضَی الثَّلَاثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَی أَنْ يَنْقُضَهَا فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنْ السَّمَائِ حَتَّی صَعِدَهُ رَجُلٌ فَأَلْقَی مِنْهُ حِجَارَةً فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَيْئٌ تَتَابَعُوا فَنَقَضُوهُ حَتَّی بَلَغُوا بِهِ الْأَرْضَ فَجَعَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً فَسَتَّرَ عَلَيْهَا السُّتُورَ حَتَّی ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِکُفْرٍ وَلَيْسَ عِنْدِي مِنْ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّي عَلَی بِنَائِهِ لَکُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنْ الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ قَالَ فَأَنَا الْيَوْمَ أَجِدُ مَا أُنْفِقُ وَلَسْتُ أَخَافُ النَّاسَ قَالَ فَزَادَ فِيهِ خَمْسَ أَذْرُعٍ مِنْ الْحِجْرِ حَتَّی أَبْدَی أُسًّا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَبَنَی عَلَيْهِ الْبِنَائَ وَکَانَ طُولُ الْکَعْبَةِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ ذِرَاعًا فَلَمَّا زَادَ فِيهِ اسْتَقْصَرَهُ فَزَادَ فِي طُولِهِ عَشْرَ أَذْرُعٍ وَجَعَلَ لَهُ بَابَيْنِ أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ مِنْهُ وَالْآخَرُ يُخْرَجُ مِنْهُ فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ کَتَبَ الْحَجَّاجُ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ يُخْبِرُهُ بِذَلِکَ وَيُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ وَضَعَ الْبِنَائَ عَلَی أُسٍّ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِکِ إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيخِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي شَيْئٍ أَمَّا مَا زَادَ فِي طُولِهِ فَأَقِرَّهُ وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنْ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَی بِنَائِهِ وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِي فَتَحَهُ فَنَقَضَهُ وَأَعَادَهُ إِلَی بِنَائِهِ

ہناد بن سری، ابن ابی زائدہ، ابن ابی سلیمان، حضرت عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یزید بن معاویہ ؓ کے زمانہ میں جس وقت کہ شام والوں نے مکہ والوں سے جنگ کی اور بیت اللہ جل گیا اور اس کے نتیجے میں جو ہونا تھا وہ ہوگیا تو حضرت ابن زبیر ؓ نے بیت اللہ کو اسی حال میں چھوڑ دیا تاکہ حج کے موسم میں لوگ آئیں حضرت ابن زبیر ؓ چاہتے تھے کہ وہ ان لوگوں کو شام والوں کے خلاف ابھاریں اور انہیں برانگیختہ کریں جب وہ لوگ واپس ہونے لگے تو حضرت زبیر نے فرمایا اے لوگو! مجھے کعبۃ اللہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے توڑ کر دوبارہ بناوں یا اس کی مرمت وغیرہ کروا دوں حضرت ابن عباس ؓ فرمانے لگے کہ میری یہ رائے ہے کہ اس کا جو حصہ خراب ہوگیا اس کو درست کروا لیا جائے باقی بیت اللہ کو اسی طرح رہنے دیا جائے جس طرح کہ لوگوں کے زمانہ میں تھا اور انہی پتھروں کو باقی رہنے دو کہ جن پر لوگ اسلام لائے اور جن پر نبی ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو حضرت ابن زبیر ؓ فرمانے لگے کہ اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جائے تو وہ خوش نہیں ہوگا جب تک کہ اسے نیا نہ بنالے تو اپنے رب کے گھر کو کیوں نہ بنایا جائے؟ میں تین مرتبہ استخارہ کروں گا پھر اس کام پر پختہ عزم کروں گا جب انہوں نے تین مرتبہ استخارہ کرلیا تو انہوں نے اسے توڑنے کا ارادہ کیا تو لوگوں کو خطرہ پیدا ہوا کہ جو آدمی سب سے پہلے بیت اللہ کو توڑنے کے لئے اس پر چڑھے گا تو اس پر آسمان سے کوئی چیز بلا نازل نہ ہوجائے تو ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس نے اس میں سے ایک پتھر گرایا تو جب لوگوں نے اس پر دیکھا کہ کوئی تکلیف نہیں پہنچی تو سب لوگوں نے اسے مل کو توڑ ڈالا یہاں تک کہ اسے زمین کے برابر کردیا حضرت ابن زبیر ؓ نے چند ستون کھڑے کر کے اس پر پردے ڈال دئیے یہاں تک کہ اس کی دیواریں بلند ہوگئیں اور حضرت ابن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگوں نے کفر کو نیا نیا چھوڑا نہ ہوتا اور میرے پاس اس کی تعمیر کا خرچہ بھی نہیں ہے اگر میں دوبارہ بناتا تو حطیم میں سے پانچ ہاتھ جگہ بیت اللہ میں داخل کردیتا اور اس میں ایک دروازہ ایسا بناتا کہ جس سے لوگ باہر نکلیں حضرت ابن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ آج میرے پاس اس کا خرچہ بھی موجود ہے اور مجھے لوگوں کا ڈر بھی نہیں ہے راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے حطیم میں سے پانچ ہاتھ جگہ بیت اللہ میں زیادہ کردی یہاں تک کہ اس جگہ سے اس کی بنیاد ظاہر ہوئی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) والی بنیاد جسے لوگوں نے دیکھا حضرت ابن زبیرنے اس بنیاد پر دیوار کی تعمیر شروع کرادی اس طرح بیت اللہ لمبائی میں اٹھارہ ہاتھ ہوگیا جب اس میں زیادتی کی تو اس کا طول کم معلوم ہونے لگا پھر اس کے طول میں دس ہاتھ زیادتی کی اور اس کے دو دروازے بنائے کہ ایک دروازہ سے داخل ہوں اور دوسرے دروازے سے باہر نکلا جائے تو جب حضرت زبیر ؓ شہید کر دئیے گئے تو حجاج نے جواباً عبدالملک بن مروان کو اس کی خبر دی اور لکھا کہ حضرت ابن زبیر ؓ نے کعبۃ اللہ کی جو تعمیر کی ہے وہ ان بنیادوں کے مطابق ہے جنہیں مکہ کے ب اعتماد لوگوں نے دیکھا ہے تو عبدالملک نے جوابًا حجاج کو لکھا کہ ہمیں حضرت ابن زبیر ؓ کے رد وبدل سے کوئی غرض نہیں انہوں نے طول میں جو اضافہ کیا ہے اور حطیم سے جو زائد جگہ بیت اللہ میں داخل کی ہے اسے واپس نکال دو اور اسے پہلی طرح دوبارہ بنادو اور جو دروازہ انہوں نے کھولا ہے اسے بھی بند کردو پھر حجاج نے بیت اللہ کو گرا کر دوبارہ پہلے کی طرح اسے بنادیا۔

Ata reported: The House was burnt during the time of Yazid bin Muawiya when the people of Syria had fought (in Makkah). And it happened with it (the Ka’bah) what was (in store for it). Ibn Zubair (RA) felt it (in the same state) until the people came in the season (of Hajj). (The idea behind was) that he wanted to exhort them or incite them (to war) against the people of Syria. When the people had arrived he said to them: O people, advise me about the Ka’bah. Should I demolish it and then build it from its very foundation, or should I repair whatever has been damaged of it? Ibn Abbas said: An idea has occurred to me according to which I think that you should only repair (the portion which has been) damaged, and leave the House (in that very state in which) people embraced Islam (and leave those very stones in the same state) when people embraced Islam, and over which Allahs Apostle ﷺ had raised it. Thereupon Ibn Zubair said: If the house of any one of you is burnt, he would not be contented until he had reconstructed it, then what about the House of your Lord (which is far more important than your house)? I would seek good advice from my Lord thrice and then I would make up (my mind) about this affair. After seeking good advice thrice, he made up his mind to demolish it. The people apprehended that calamity might fall from heaven on those persons who would be first to climb (over the building for the purpose of demolishing it), till one (took up courage, and ascended the roof), and threw down one of its stones. When the people saw no calamity befalling him, they followed him, demolished it until it was razed to the ground. Then Ibn Zubair erected pillars and hung curtains on them (in order to provide facilities to the people for observing the time of its construction). And the walls were raised; and Ibn Zubair said: I heard Aisha (Allah be pleased with her) say that Allahs Apostle ﷺ had observed: If the people had not recently (abandoned) unbelief, and I had means enough to reconstruct it, which I had not, I would have definitely excompassed in it five cubits of area from Hijr. And I would also have constructed a door for the people to enter, and a door for their exit. I today have (the means to spend) and I entertain no fear from the side of people (that they would protest against this change). So he added five cubits of area from the side of Hatim to it that there appeared (the old) foundation (upon which Hadrat Ibrahim had built the Ka’bah). And the people saw that and it was upon this foundation that the wall was raised. The length of the Ka’bah was eighteen cubits. when addition was made to it (which was in its breadth), then naturally the length appears to be) small (as compared with its breadth). Then addition of ten cubits (of area) was made in its length (also). Two doors were also constructed, one of which (was meant) for entrance and the other one for exit. When Ibn Zubair (RA) was killed, Hajjaj wrote to Abdul Malik (b. Marwan) informing him about it, and telling him that Ibn Zubair (RA) had built (the Ka’bah) on those very foundations (which were laid by Ibrahim) and which reliable persons among the Makkahns had seen. Abdul Malik wrote to him: We are not concerned with the censuring of Ibn Zubair in anything. Keep intact the addition made by him in the side of length, and whatever he has added from the side of Hijr revert to (its previous) foundation, and wall up the door which he had opened. Thus Hajjaj at the command of Abdul Malik demolished it (that portion) and rebuilt it on (its previous) foundations.

3246Sahih Muslim

کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَائٍ يُحَدِّثَانِ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا کَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا قَالَ الْحَارِثُ بَلَی أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا قَالَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا قَالَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ قَوْمَکِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ وَلَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْکِ أَعَدْتُ مَا تَرَکُوا مِنْهُ فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِکِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي لِأُرِيَکِ مَا تَرَکُوا مِنْهُ فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَائٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الْأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ کَانَ قَوْمُکِ رَفَعُوا بَابَهَا قَالَتْ قُلْتُ لَا قَالَ تَعَزُّزًا أَنْ لَا يَدْخُلَهَا إِلَّا مَنْ أَرَادُوا فَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَدَعُونَهُ يَرْتَقِي حَتَّی إِذَا کَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ لِلْحَارِثِ أَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَنَکَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ ثُمَّ قَالَ وَدِدْتُ أَنِّي تَرَکْتُهُ وَمَا تَحَمَّلَ

محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، عبداللہ بن عبیداللہ بن عمیر ولید، بن عطاء حارث، ابن عبداللہ بن ابی ربیعہ، عبداللہ بن عبیداللہ، ؓ فرماتے ہیں کہ حارث بن عبداللہ عبدالملک بن مروان کے دور خلافت میں ان کے پاس وفد لے کر گئے تو عبدالملک کہنے لگے کہ میرا خیال ہے کہ ابوخبیب یعنی ابن زبیر ؓ حضرت عائشہ ؓ سے سنے بغیر روایت کرتے ہیں حارث کہنے لگے کہ نہیں بلکہ میں نے خود حضرت عائشہ ؓ سے یہ حدیث سنی ہے عبدالملک کہنے لگا کہ تم نے جو سنا ہے اسے بیان کرو وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تیری قوم کے لوگوں نے بیت اللہ کی بنیادوں کو کم کو دیا ہے اور اگر تیری قوم کے لوگوں نے شرک کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا تو جتنا انہوں نے اس میں سے چھوڑ دیا ہے میں اسے دوبارہ بنا دیتا تو اگر میرے بعد تیری قوم اسے دوبارہ بنانے کا ارادہ کرے تو آو میں تمہیں دکھاؤں کہ انہوں نے اس کی تعمیر میں سے کیا چھوڑا ہے پھر آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو وہ جگہ دکھائی جو کہ تقربیا سات ہاتھ تھی یہ عبداللہ بن عبید کی حدیث ہے اور اس پر ولید بن عطاء نے یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں بیت اللہ میں دو دروازے زمین کے ساتھ بنا دیتا ایک مشرق کی طرف اور ایک مغرب کی طرف اور کیا تم جانتی ہو کہ تمہاری قوم کے لوگوں نے اس کے دروازے کو بلند کیوں کردیا تھا؟ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تکبر اور غرور کی وجہ سے کہ بیت اللہ میں کوئی داخل نہ ہو سوائے ان لوگوں کے کہ جن کے لئے یہ چاہیں تو جب کوئی آدمی بیت اللہ میں داخل ہونے کو ارادہ کرتا تو وہ اسے بلاتے اور جب وہ داخل ہونے کے قرین ہوتا تو وہ اسے دھکا دیتے اور وہ گرپڑتا عبدالملک نے حارث سے کہا کیا تم نے یہ حدیث حضرت عائشہ ؓ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! راوی کہتے ہیں کہ عبدالملک کچھ دیر اپنی لاٹھی سے زمین کریدتا رہا اور کہنے لگا کہ کاش کہ میں نے اس کی تعمیر کو اسی حال پر چھوڑ دیا ہوتا۔

Abdullah bin Ubaid reported that Harith bin Abdullah led a deputation to Abdul Malik bin Marwan during his caliphate. Abdul Malik said: I do not think that Abu Khubaib (i. e. Ibn Zabair) had heard from Aisha (Allah be pleased with her) (about the intended wish of the Holy Prophet ﷺ [may peace be upon him) in regard to the alteration of the Ka’bah). Harith said: Yes, I myself did hear from her. He (Abdul Malik) said: Well, tell me what you heard from her. He stated that she (Hadrat Aisha) had said that Allahs Messenger ﷺ remarked: Verily your people have reduced (the area) of the House from its (original foundations, and if they had not recently abandoned polytheism (and embraced Islam) I would have reversed it to (those foundations) which they had left out of it. And if your people would take initiative after me in rebuilding it, then come along with me so that I should show you what they have left out of it. He showed her about fifteen cubits of area from the side of Hatim (that they had separated). This is the narration transmitted by Abdullah bin Ubaid. Walid bin Ata has, however, made this addition to it: "Allahs Apostle ﷺ said: I would have made two doors on the level of the ground (facing) the east and the west. Do you know why your people raised the level of its door (i. e. the door of the Ka’bah)? She said: No. He said: (They did it) out of vanity so that (they might be in a position) to grant admittance to him only whom they wished. When a person intended to get into it, they let him climb (the stairs), and as he was about to enter, they pushed him and he fell down." Abdul Malik said to Harith; Did you yourself hear her saying this? He said: Yes. He (Harith) said that he (Abdul Malik) scratched the ground with his staff for some time and then said: I wish I had left his (Ibn Zubairs) work there.

3247Sahih Muslim

کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ بَکْرٍ

محمد بن عمرو بن حبلہ، ابوعاصم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ ابن بکر کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Juraij with the same chain of transmitters.

3248Sahih Muslim

کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَکْذِبُ عَلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ سَمِعْتُهَا تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّی أَزِيدَ فِيهِ مِنْ الْحِجْرِ فَإِنَّ قَوْمَکِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَائِ فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا قَالَ لَوْ کُنْتُ سَمِعْتُهُ قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَکْتُهُ عَلَی مَا بَنَی ابْنُ الزُّبَيْرِ

محمد بن حاتم، عبداللہ بن بکر، حاتم بن ابی صغیرہ، ابوقزعہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کے طواف کے دوران کہہ رہا تھا کہ اللہ ابن زبیر ؓ کو ہلاک کر دے وہ ام المومنین پر جھوٹ کہتا تھا اور کہتا ہے کہ میں نے ان سے سنا وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! اگر تیری قوم کے لوگوں نے نیانیا کفر چھوڑا نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو توڑ کر حطیم والے حصہ کو اس میں شامل کردیتا کیونکہ تیری قوم کے لوگوں نے بیت اللہ کی تعمیر کو کم کردیا ہے حارث بن عبداللہ کہتے ہیں اے امیرالمومنین! آپ ایسے نہ کہیں کیونکہ میں نے ام المومنین ؓ سے یہ حدیث خود سنی ہے عبدالملک نے کہا کہ اگر میں یہ بات بیت اللہ کو گرانے سے پہلے سن لیتا تو میں حضرت ابن زبیر والی تعمیر کو قائم رہنے دیتا۔

Abu Qazaah reported that while Abdul Malik bin Marwan was circumambulating the Ka’bah he said: May Allah ruin Ibn Zubair that he lies in attributing to the Mother of the Faithful, as he says: I heard her stating that Allahs Messenger ﷺ had said: Aisha, if your people had not been new converts to Islam, I would have demolished the House and would have added (in it area) from the Hijr for your people have reduced the area from its foundations. Harith bin Abdullah bin Abu Rabia (RA) said: Commander of the Faithful, dont say that, for I heard the Mother of the Faithful saying this, whereupon he said: If I had heard this before demolishing it, I would have left it in the state in which Ibn Zabair had built it.

3249Sahih Muslim

کعبہ کی دیوار اور اس کے دروازے کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَائِ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَدْرِ أَمِنْ الْبَيْتِ هُوَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَلِمَ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ قَالَ إِنَّ قَوْمَکِ قَصَّرَتْ بِهِمْ النَّفَقَةُ قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قَالَ فَعَلَ ذَلِکِ قَوْمُکِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَائُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَائُوا وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ تُنْکِرَ قُلُوبُهُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ

سعید بن منصور، ابواحوص، اشعث بن ابی شعثاء، اسود بن یزید، سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حطیم کی دیوار کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ بیت اللہ میں شامل ہے یا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں نے عرض کیا کہ پھر اسے بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے لوگوں کے پاس اس کا خرچہ کم ہوگیا تھا میں نے عرض کیا کہ اس کا دروازہ بلند کیوں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے لوگوں نے اس طرح کیا ہے تاکہ جسے چاہیں داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں اور اگر تمہاری قوم کے لوگوں نے نیا نیا کفر نہ چھوڑا ہوتا اور مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ انہیں ناگوار لگے گا تو میں حطیم کی دیواروں کو بیت اللہ میں داخل کردیتا اور اس کے دروازے کو زمین کے ساتھ ملا دیتا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: I asked Allahs Messenger ﷺ about the wall, circumpassing the House (i. e. whether the wall on the side of Hijr was included in the Ka’bah). He said, Yes. I said: Then why did they not include it in the House? He said: Your people ran short of the means (to do so). I said: Why is it that the level of its door is raised high? He said: Your people did it so that they should admit one whom they liked, and forbid him whom they disliked, and if your people were not new converts to faith, and I did not apprehend that their hearts would feel agitated at this, I would have definitely included (the area of) this wall-in the House and would have brought the door to the level of the ground.