قبر کو برابر کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَلَا أَبْعَثُکَ عَلَی مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابوشیبہ، زہیر بن حرب، یحیی، وکیع، سفیان، حبیب بن ابوثابت ابو وائل، حضرت ابوہیاج اسدی سے روایت ہے۔ مجھے حضرت علی ؓ نے فرمایا کیا میں تجھے اس کام کے لئے نہ بھیجوں جس کام کے لئے مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا کہ تو کسی صورت کو مٹائے بغیر نہ چھوڑ اور نہ کسی بلند قبر کو برابر کئے بغیر۔
Abul-Hayyaj al-Asadi told that Ali (b. Abu Talib) said to him: Should I not send you on the same mission as Allahs Messenger ﷺ sent me? Do not leave an image without obliterating it, or a high grave without leveling It.
قبر کو برابر کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي حَبِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ وَلَا صُورَةً إِلَّا طَمَسْتَهَا
ابوبکر بن خلاد باہلی، یحییٰ قطان، سفیان، حبیب اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے الفاظ کا فرق ہے۔
This hadith has been reported by Habib with the same chain of transmitters and he said: (Do not leave) a picture without obliterating it.
پختہ قبر بنانے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ وَأَنْ يُبْنَی عَلَيْهِ
ابوبکر بن ابوشیبہ، حفص بن عیاث، ابن جریح، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو پختہ بنانے اور ان پر بیٹھنے اور ان پر عمارت بنانے سے منع فرمایا ہے۔
Jabir said: Allahs Messenger ﷺ forbade that the graves should be plastered or they be used as sitting places (for the people), or a building should be built over them.
پختہ قبر بنانے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، اس سند سے بھی حضرت جابر ؓ سے اسی طرح حدیث مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Jabir bin Abdullah.
پختہ قبر بنانے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نُهِيَ عَنْ تَقْصِيصِ الْقُبُورِ
یحییٰ بن یحیی، اسماعیل بن علیہ، ایوب، ابوزبیر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو چونے وغیرہ سے پختہ بنانے سے منع فرمایا۔
Jabir said that he was forbidden to build pucca graves.
قبر پر بیٹھنے اور اس پر نماز پڑھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ نَاجَرِيرٍ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ
زہیر بن حرب، جریر، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے اگر کوئی انگارے پر بیٹھ جائے اس کے کپڑے جل جائیں اور اس کا اثر اس کی کھال تک پہنچے یہ اس کے لئے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is better that one of you should sit on live coats which would burn his clothing and come in contact with his skin than that he should sit on a grave.
قبر پر بیٹھنے اور اس پر نماز پڑھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ح و حَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
قتیبہ بن سعید، عبد العزیز در اور دی، عمرو، ابواحمد زبیری، سفیان، اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
A hadith like this has been narrated by Suhail with the same chain of transmitters.
قبر پر بیٹھنے اور اس پر نماز پڑھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ ابْنِ جَابِرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ وَاثِلَةَ عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَجْلِسُوا عَلَی الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا
علی بن حجرسعدی، ولید بن مسلم، ابن جابر، بسربن عبیداللہ، واثلہ، حضرت ابومرثد غنوی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قبور پر مت بیٹھو اور نہ ان کی طرف نماز پڑھو۔
Abu Marthad al-Ghanawi reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not sit on the graves and do not pray facing towards them.
قبر پر بیٹھنے اور اس پر نماز پڑھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُصَلُّوا إِلَی الْقُبُورِ وَلَا تَجْلِسُوا عَلَيْهَا
حسن بن ربیع بحلی، ابن مبارک، عبدالرحمن بن یزید، بسر بن عبیداللہ، ابوادریس خولانی، واثلہ بن اسقع، حضرت ابومرثد غنوی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قبور کی طرف نماز ادا نہ کرو اور نہ ان پر بیٹھو۔
Abu Marthad al-Ghanawi reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not pray facing towards the graves, and do not sit on them.
نماز جنازہ مسجد میں ادا کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَمَرَتْ أَنْ يَمُرَّ بِجَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْمَسْجِدِ فَتُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَأَنْکَرَ النَّاسُ ذَلِکَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ النَّاسُ مَا صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی سُهَيْلِ بْنِ الْبَيْضَائِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ
علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابرہیم حنظلی، علی، اسحاق، عبدالعزیز بن محمد، عبدالواحد بن حمزہ حضرت عباد ؓ بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ نے حکم دیا کہ سعد بن ابی وقاص ؓ کا جنازہ مسجد میں لایا جائے تاکہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا تو سیدہ ؓ نے فرمایا تم لوگ کتنی جلدی بھول گئے کہ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضاء ؓ کی نماز جنازہ مسجد میں ہی پڑھائی تھی۔
Abbad bin Abdullah bin Zubair reported that Aisha ordered the bier of Sad bin Abu Waqqas to be brought into the mosque so that she should pray for him. The people disapproved this (act) of hers. She said: How soon the people have forgotten that the Messenger of Allah ﷺ offered not the funeral prayer of Suhail b al-Baida but in a mosque.
نماز جنازہ مسجد میں ادا کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمُرُّوا بِجَنَازَتِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّينَ عَلَيْهِ فَفَعَلُوا فَوُقِفَ بِهِ عَلَى حُجَرِهِنَّ يُصَلِّينَ عَلَيْهِ أُخْرِجَ بِهِ مِنْ بَابِ الْجَنَائِزِ الَّذِي كَانَ إِلَى الْمَقَاعِدِ فَبَلَغَهُنَّ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا ذَلِكَ وَقَالُوا مَا كَانَتْ الْجَنَائِزُ يُدْخَلُ بِهَا الْمَسْجِدَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى أَنْ يَعِيبُوا مَا لَا عِلْمَ لَهُمْ بِهِ عَابُوا عَلَيْنَا أَنْ يُمَرَّ بِجَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ
محمد بن حاتم، بہز، وہیب، موسیٰ بن عقبہ، عبدالواحد، عباد بن عبداللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں جب سعد بن ابی وقاص ؓ کا انتقال ہوگیا تو نبی ﷺ کی بیویوں نے پیغام بھجوایا کہ ان کا جنازہ مسجد میں سے لے کر گزرو تاکہ وہ بھی نماز جنازہ ادا کرلیں لوگوں نے ایسا ہی کیا اور ان کے حجروں کے آگے جنازہ روک دیا تاکہ وہ اس پر نماز جنازہ ادا کرلیں پھر ان کو باب الجنائز سے نکالا گیا جو مقاعد کی طرف تھا پھر ازواج مطہرات کو یہ خبر پہنچی کہ لوگوں نے اس کو عیب جانا ہے اور لوگوں نے کہا ہے کہ جنازوں کو مسجد میں داخل نہیں کیا جاتا تھا یہ بات سیدہ عائشہ ؓ کو پہنچی تو انہوں نے کہا لوگ ناواقفیت کی بنا پر اس بات کو معیوب سمجھ رہے ہیں اور ہم پر جنازہ کے مسجد میں گزارنے کی وجہ سے عیب لگا رہے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضاء کا جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھا تھا۔
Abbad bin Abdullah bin Zubair reported on the authority of Aisha that when Sad bin Abu Waqqas died, the wives of the Apostle of Allah ﷺ sent message to bring his bier into the mosque so that they should offer prayer for him. They (the participants of the funeral) did accordingly, and it was placed in front of their apartments and they offered prayer for him. It was brought out of the door (known as) Bab al-Janaiz which was towards the side of Maqaid, and the news reached them (the wives of the Holy Prophet) that the people had criticised this (i. e.offering of funeral prayer in the mosque) saying that it was not desirable to take the bier inside the mosque. This was conveyed to Aisha. She said: How hastily the people criticise that about which they know little. They criticise us for carrying the bier in the mosque. The Messenger of Allah ﷺ offered not the funeral prayer of Suhail bin Baida but in the innermost part of the mosque.
نماز جنازہ مسجد میں ادا کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتْ ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّی أُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَأُنْکِرَ ذَلِکَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی ابْنَيْ بَيْضَائَ فِي الْمَسْجِدِ سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ قَالَ مُسْلِم سُهَيْلُ بْنُ دَعْدٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَيْضَائِ أُمُّهُ بَيْضَائُ
ہارون بن عبداللہ، محمد بن رافع، ابوفدیک، ضحاک بن عثمان، ابونضر، حضرت ابوسلمہ ؓ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص ؓ کا انتقال ہو تو سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا جنازہ مسجد میں لے آؤ تاکہ میں ان پر نماز جنازہ پڑھوں لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی کا جنازہ مسجد میں پڑھا تھا۔
Abu Salama bin Abdul Rahman reported on the authority ot Aisha that when Sad bin Abu Waqqas died she said: Bring it (the bier) into the mosque so that I offer prayer for him. But, this act of hers was disapproved. She said: By Allah, the Messenger of Allah ﷺ offered prayer in the mosque for the two sons of Baida, viz, for Suhail and his brother.
قبور میں داخل ہوتے وقت اہل قبور کے لئے کیا دعا پڑھی جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شَرِيکٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلَّمَا کَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَی الْبَقِيعِ فَيَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاکُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّهُ بِکُمْ لَاحِقُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ وَلَمْ يُقِمْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ وَأَتَاکُمْ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، شریک، ابونمر، عطاء بن عسار، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب میری باری کی رات ہوتی تو رسول اللہ ﷺ رات کے آخیر حصہ میں بقیع قبرستان کی طرف تشریف لے جاتے اور فرماتے السلام علیکم دار قوم مومنین تمہارے اوپر سلام ہو اے مومنوں کے گھر والو تمہارے ساتھ کیا گیا وعدہ آچکا جو کل پاؤ گے یا ایک مدت کے بعد اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو تم سے ملنے والے ہیں اور اللہ بقیع الغرقد والوں کی مغفرت فرما قتیبہ نے أَتَاکُمْ کا لفظ ذکر نہیں کیا۔
Aisha reported (that whenever it was her turn for Allahs Messenger [may peace be upon him] to spend the night with her) he would go out towards the end of the night to al-Baqi and say: Peace be upon you, abode of a people who are believers. What you were promised would come to you tomorrow, you receiving it after some delay; and God willing we shall join you. O Allah, grant forgiveness to the inhabitants of Baqi al-Gharqad. Qutaiba did not mention his words:" would come to you".
قبور میں داخل ہوتے وقت اہل قبور کے لئے کیا دعا پڑھی جائے۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ فَقَالَتْ أَلَا أُحَدِّثُکُمْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِّي قُلْنَا بَلَی ح و حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حَجَّاجًا الْأَعْوَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا أَلَا أُحَدِّثُکُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي قَالَ فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَلَا أُحَدِّثُکُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بَلَی قَالَ قَالَتْ لَمَّا کَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَائَهُ وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَی فِرَاشِهِ فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنْ قَدْ رَقَدْتُ فَأَخَذَ رِدَائَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَی إِثْرِهِ حَتَّی جَائَ الْبَقِيعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ فَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنْ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ مَا لَکِ يَا عَائِشُ حَشْيَا رَابِيَةً قَالَتْ قُلْتُ لَا شَيْئَ قَالَ لَتُخْبِرِينِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي قُلْتُ نَعَمْ فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي ثُمَّ قَالَ أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْکِ وَرَسُولُهُ قَالَتْ مَهْمَا يَکْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِي فَأَخْفَاهُ مِنْکِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْکِ وَلَمْ يَکُنْ يَدْخُلُ عَلَيْکِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَکِ وَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ فَکَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَکِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَقَالَ إِنَّ رَبَّکَ يَأْمُرُکَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ قَالَتْ قُلْتُ کَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُولِي السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّهُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ
ہارون بن سعید ایلی، عبداللہ بن وہب، ابن جریج، عبداللہ بن کثیر بن مطلب، محمد بن قیس، حضرت محمد بن قیس ؓ بن مخرمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن کہا کیا میں آپ ﷺ کو اپنی اور اپنی ماں کے ساتھ بیتی ہوئی بات نہ سناؤں ہم نے گمان کیا کہ وہ ماں سے اپنی جننے والی ماں مراد لے رہے ہیں ہم نے کہا کیوں نہیں فرمایا نبی ﷺ میرے پاس میری باری کی رات میں تھے کہ آپ ﷺ نے کروٹ لی اور اپنی چادر اوڑھ لی اور جوتے اتارے اور ان کو اپنے پاؤں کے پاس رکھ دیا اور اپنی چادر کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے اور آپ ﷺ اتنی ہی دیر ٹھہرے کہ آپ ﷺ نے گمان کرلیا کہ میں سو چکی ہوں آپ ﷺ نے آہستہ سے اپنی چادر لی اور آہستہ سے جوتا پہنا اور آہستہ سے دروازہ کھولا اور باہر نکلے پھر اس کو آہستہ سے بند کردیا میں نے اپنی چادر اپنے سر پر اوڑھی اور اپنا ازار پہنا اور آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلی یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع میں پہنچے اور کھڑے ہوگئے اور کھڑے ہونے کو طویل کیا پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار اٹھایا پھر آپ ﷺ واپس لوٹے اور میں بھی لوٹی آپ ﷺ تیز چلے تو میں بھی تیز چلنے لگی آپ ﷺ دوڑے تو میں بھی دوڑی آپ ﷺ پہنچے تو میں بھی پہنچی میں آپ ﷺ سے سبقت لے گئی اور داخل ہوتے ہی لیٹ گئی آپ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا اے عائشہ تجھے کیا ہوگیا ہے کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے میں نے کہا کچھ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم بتادو رونہ مجھے باریک بین خبردار یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان پھر پورے قصہ کی خبر میں نے آپ ﷺ کو دے دی فرمایا میں اپنے آگے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تو تھی میں نے عرض کیا جی ہاں تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر مارا جس کی مجھے تکلیف ہوئی پھر فرمایا تو نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تیرا حق داب لے گا فرماتی ہیں جب لوگ کوئی چیز چھپاتے ہیں اللہ تو اس کو خوب جانتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل میرے پاس آئے جب تو نے دیکھا تو مجھے پکارا اور تجھ سے چھپایا تو میں نے بھی تم سے چھپانے ہی کو پسند کیا اور وہ تمہارے پاس اس لئے نہیں آئے کہ تو نے اپنے کپڑے اتار دیئے تھے اور میں نے گمان کیا کہ تو سو چکی ہے اور میں نے تجھے بیدار کرنا پسند نہ کیا میں نے یہ خوف کیا کہ تم گھبرا جاؤ گی جبرائیل نے کہا آپ ﷺ کے رب نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ آپ ﷺ بقیع تشریف لے جائیں اور ان کے لئے مغفرت مانگیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں کیسے کہوں آپ ﷺ نے فرمایا (السَّلَامُ عَلَيْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاکُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّهُ بِکُمْ لَاحِقُونَ ) کہو سلام ہے ایماندار گھر والوں پر اور مسلمانوں پر اللہ ہم سے آگے جانے والوں پر رحمت فرمائے اور پیچھے جانے والوں پر ہم انشاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔
Muhammad bin Qais said (to the people): Should I not narrate to you (a hadith of the Holy Prophet) on my authority and on the authority of my mother? We thought that he meant the mother who had given him birth. He (Muhammad bin Qais) then reported that it was Aisha who had narrated this: Should I not narrate to you about myself and about the Messenger of Allah ﷺ ? We said: Yes. She said: When it was my turn for Allahs Messenger ﷺ to spend the night with me, he turned his side, put on his mantle and took off his shoes and placed them near his feet, and spread the corner of his shawl on his bed and then lay down till he thought that I had gone to sleep. He took hold of his mantle slowly and put on the shoes slowly, and opened the door and went out and then closed it lightly. I covered my head, put on my veil and tightened my waist wrapper, and then went out following his steps till he reached Baqi. He stood there and he stood for a long time. He then lifted his hands three times, and then returned and I also returned. He hastened his steps and I also hastened my steps. He ran and I too ran. He came (to the house) and I also came (to the house). I, however, preceded him and I entered (the house), and as I lay down in the bed, he (the Holy Prophet) entered the (house), and said: Why is it, O Aisha, that you are out of breath? I said: There is nothing. He said: Tell me or the Subtle and the Aware would inform me. I said: Messenger of Allah, may my father and mother be ransom for you, and then I told him (the whole story). He said: Was it the darkness (of your shadow) that I saw in front of me? I said: Yes. He struck me on the chest which caused me pain, and then said: Did you think that Allah and His Apostle ﷺ would deal unjustly with you? She said: Whatsoever the people conceal, Allah will know it. He said: Gabriel (علیہ السلام) came to me when you saw me. He called me and he concealed it from you. I responded to his call, but I too concealed it from you (for he did not come to you), as you were not fully dressed. I thought that you had gone to sleep, and I did not like to awaken you, fearing that you may be frightened. He ( Gabriel (علیہ السلام)) said: Your Lord has commanded you to go to the inhabitants of Baqi (to those lying in the graves) and beg pardon for them. I said: Messenger of Allah, how should I pray for them (How should I beg forgiveness for them)? He said: Say, Peace be upon the inhabitants of this city (graveyard) from among the Believers and the Muslims, and may Allah have mercy on those who have gone ahead of us, and those who come later on, and we shall, God willing, join you.
قبور میں داخل ہوتے وقت اہل قبور کے لئے کیا دعا پڑھی جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَی الْمَقَابِرِ فَکَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَکُمْ الْعَافِيَةَ
ابوبکر بن ابوشیبہ، زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ اسدی، سفیان، علقمہ بن مرثد، سلیمان بن بریدہ، حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کو رسول اللہ ﷺ یہ دعا سکھاتے تھے جب صحابہ قبر ستان کی طرف جاتے تھے پس ان میں سے کہنے والے کہتے ابوبکر کی روایت میں ( السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ ) اور زہیر کی روایت میں (أَهْلَ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَکُمْ الْعَافِيَةَ ) تم پر سلامتی ہو اے مومنوں اور مسلمانوں کے گھروں والے اور ہم تم سے إِنْ شَاءَ اللَّهُ ملنے والے ہیں ہم اپنے اور تمہارے لئے عافیت مانگتے ہیں۔
Sulaiman bin Buraida narrated on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ used to teach them when they went out to the graveyard. One of the narrators used to say this in the narration transmitted on the authority of Abu Bakr (RA) :" Peace be upon the inhabitants of the city (i. e. graveyard)." In the hadith transmitted by Zuhair (the words are):" Peace be upon you, the inhabitants of the city, among the believers, and Muslims, and God willing we shall join you. I beg of Allah peace for us and for you."
نبی کریم ﷺ کا اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي
یحییٰ بن ایوب، محمد بن عباد، مروان بن معاویہ، یزید بن کیسان، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے استغفار کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ دی گئی اور میں نے ان کی قبر (پر جانے) کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی گئی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger, ﷺ as saying: I sought permission to beg forgiveness for my mother, but He did not grant it to me. I sought permission from Him to visit her grave, and He granted it (permission) to me.
نبی کریم ﷺ کا اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ زَارَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَکَی وَأَبْکَی مَنْ حَوْلَهُ فَقَالَ اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَکِّرُ الْمَوْتَ
ابوبکر بن ابوشیبہ، زہیر بن حرب، محمد بن عبید، یزید بن کیسان، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو رو پڑے اور آپ ﷺ کے ارد گرد والے بھی رو پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے ان کے لئے مغفرت مانگنے کی اجازت چاہی تو مجھے اجازت نہ دی گئی اور میں نے اللہ سے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت دے دی گئی پس قبور کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تمہیں موت یاد کراتی ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Apostle of Allah ﷺ visited the grave of his mother and he wept, and moved others around him to tears, and said: I sought permission from my Lord to beg forgiveness for her but it was not granted to me, and I sought permission to visit her grave and it was granted to me. So visit the graves, for that makes you mindful of death.
نبی کریم ﷺ کا اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ وَابْنِ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ وَهُوَ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُکُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِکُوا مَا بَدَا لَکُمْ وَنَهَيْتُکُمْ عَنْ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَائٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ کُلِّهَا وَلَا تَشْرَبُوا مُسْکِرًا قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن مثنی، محمد بن فضیل، ابوسنان، ضراربن مرہ، محارب بن دثار، ابن بریدہ، حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں زیارت قبور منع کیا تھا ان کی زیارت کرو اور میں نے تمہیں قربانیوں کا گوشت تین دنوں سے زیادہ روکنے سے منع فرمایا تھا پس جب تک چاہو رکھ سکتے ہو میں نے تم کو مشکیزہ کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا مگر اب تمام برتنوں سے پیو ہاں نشہ لانے والی چیزیں نہ پیا کرو۔
Ibn Buraida reported on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ said: I forbade you to visit graves, but you may now visit them; I forbade you to eat the flesh of sacrificial animals after three days, but you may now keep it as along as you feel inclined; and I forbade younabidh except in a water-skin, you may drink it from all kinds of water-skins, but you must not drink anything intoxicating.
نبی کریم ﷺ کا اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ الشَّکُّ مِنْ أَبِي خَيْثَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّهُمْ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، زبید یامی، محارب بن دثار، ابن بریدہ، ابوخیثمہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters.
خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْکُوفِيُّ أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ
عون بن سلام کوفی، زہیر، سماک، جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایسے آدمی کا جنازہ لایا گیا جس نے اپنے آپ کو چوڑے تیر سے مار ڈالا تھا تو آپ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ نہ پڑھی۔
Jabir bin ahadeeth reported: (The dead body) of a person who had killed himself with a broad-headed arrow was brought before the Apostle of Allah ﷺ , but he did not offer prayers for him.