پینے کی چیزوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 38 · 258 hadiths · Page 6 of 13

5227Sahih Muslim

اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَی الْبَهْرَانِيِّ قَالَ ذَکَرُوا النَّبِيذَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ فِي سِقَائٍ قَالَ شُعْبَةُ مِنْ لَيْلَةِ الِاثْنَيْنِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَائِ إِلَی الْعَصْرِ فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْئٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ صَبَّهُ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، یحییٰ بہرانی، ابن عباس، حضرت یحییٰ بن بہرانی ؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت ابن عباس ؓ کے سامنے نبیذ کا ذکر کیا تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے لئے مشکیزے میں نبیذ تیار کیا جاتا تھا شعبہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اس نبیذ کو سوموار کی رات کو پیتے تھے پھر آپ ﷺ اسے سوموار کے دن اور منگل کے دن عصر تک پیتے تھے پھر اگر اس میں سے کچھ بچ جاتا تو خادم کو پلا دیتے تھے یا اسے بہا دیتے۔

Ibn Abbas reported that Nabidh was prepared for Allahs Messenger ﷺ in the waterskin, Shubah said: It was the night of Monday. He drank it on Monday and on Tuesday up to the afternoon, and If anything was left out of it he gave it to his servant or poured it out.

5228Sahih Muslim

اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ وَأَبِي کُرَيْبٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي عُمَرَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَی مَسَائِ الثَّالِثَةِ ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فَيُسْقَی أَوْ يُهَرَاقُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابرہیم، ابوبکر، ابوکریب، اسحاق، ابومعاویہ، اعمش، ابی عمر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے کشمش پانی میں بھگوئی جاتی تھی۔ آپ ﷺ اسے اس دن پیتے پھر اگلے دن اور پھر تیسرے دن شام تک آپ ﷺ اسے پیتے تھے پھر آپ ﷺ اسی پینے کا یا بہانے کا حکم فرماتے۔

Ibn Abbas (RA) reported that raisins were steeped in water for the Messenger of Allah ﷺ and he would drink it on that day and on the next day and on the following day until the evening of the third day. He would then order it to be drunk by (other people) or to be thrown away.

5229Sahih Muslim

اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي عُمَرَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ الزَّبِيبُ فِي السِّقَائِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ فَإِذَا کَانَ مَسَائُ الثَّالِثَةِ شَرِبَهُ وَسَقَاهُ فَإِنْ فَضَلَ شَيْئٌ أَهَرَاقَهُ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، اعمش، یحیی، ابوعمر، ابن عباس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے کشمش مشکیزے میں بھگوئی جاتی تھی۔ آپ ﷺ اس دن اسے پیتے پھر اگلے دن اور پھر اس کے بعد اس سے اگلے دن جب شام ہوتی تو آپ ﷺ اسے پیتے اور پلاتے اور اگر کچھ بچ جاتی تو اسے بہا دیتے۔

Ibn Abbas (RA) reported that Nabidh was prepared from raisins for Allahs Messenger ﷺ in the waterskin and he would drink it on that day and on the next day and the day following and when it was the evening of the third day, and he would drink it and give it to (his Companions) and if something was left over, he threw that away.

5230Sahih Muslim

اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَی أَبِي عُمَرَ النَّخَعِيِّ قَالَ سَأَلَ قَوْمٌ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ وَشِرَائِهَا وَالتِّجَارَةِ فِيهَا فَقَالَ أَمُسْلِمُونَ أَنْتُمْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ بَيْعُهَا وَلَا شِرَاؤُهَا وَلَا التِّجَارَةُ فِيهَا قَالَ فَسَأَلُوهُ عَنْ النَّبِيذِ فَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ثُمَّ رَجَعَ وَقَدْ نَبَذَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي حَنَاتِمَ وَنَقِيرٍ وَدُبَّائٍ فَأَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ ثُمَّ أَمَرَ بِسِقَائٍ فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَائٌ فَجُعِلَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ فَشَرِبَ مِنْهُ يَوْمَهُ ذَلِکَ وَلَيْلَتَهُ الْمُسْتَقْبَلَةَ وَمِنْ الْغَدِ حَتَّی أَمْسَی فَشَرِبَ وَسَقَی فَلَمَّا أَصْبَحَ أَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنْهُ فَأُهْرِيقَ

محمد بن احمد، ابوخلف، زکریا بن عدی، عبیداللہ، زید، ابوعمر، نخعی، حضرت یحییٰ نخعی ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے شراب کی خریدو فروخت اور اس کی تجارت کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا شراب کی نہ خریدوفرخت درست ہے اور نہ ہی اس کی تجارت جائز ہے راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے پھر نبیذ کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں نکلے پھر جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ میں سے کچھ لوگوں نے سبز گھڑوں، لکڑی کے گٹھیلے اور کدو کے تون بے میں نبیذ بنائی ہوئی تھی آپ ﷺ نے اس کے بارے میں حکم فرمایا کہ اسے بہا دیا جائے پھر آپ ﷺ نے ایک مشکیزے میں نبیذ بنانے کے بارے میں فرمایا تو مشکیزے میں کشمش اور پانی ڈالا گیا اور رات بھر اسے بھگوئے رکھا پھر صبح کو آپ ﷺ نے پیا اور پلایا پھر تیسرے دن کی صبح کو اس میں سے جو نبیذ بچ گئی اسے بہا دینے کا حکم فرمایا تو اسے بہا دیا گیا۔

Yahya Abu Umar al-Nakhai reported that some people asked Ibn Abbas (RA) about the sale and purchase of wine and its commerce. He asked (them): Are you Muslims? They said, Yes. Thereupon he said: Its sale and purchase and its trade are not permissible. They then asked him about Nabidh and he said: Allahs Messenger ﷺ went out on a journey and then came back and some persons amongst his Companions prepared Nabidh for him in green pitcher, hollow stump and gourd. He commanded it to be thrown away, and it was done accordingly. He then ordered them (to prepare it) in a waterskin and it was prepared in that by steeping raisins in water, and it was prepared in the night. In the morning he drank out of that and on that day and then the next night, and then on the next day until the evening. He drank and gave others to drink. When it was morning (of the third night) he commanded what was left of that to be thrown away.

5231Sahih Muslim

اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيَّ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيَّ قَالَ لَقِيتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ النَّبِيذِ فَدَعَتْ عَائِشَةُ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً فَقَالَتْ سَلْ هَذِهِ فَإِنَّهَا کَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ الْحَبَشِيَّةُ کُنْتُ أَنْبِذُ لَهُ فِي سِقَائٍ مِنْ اللَّيْلِ وَأُوکِيهِ وَأُعَلِّقُهُ فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ

شیبان بن فروخ، قاسم، ابن فضل حدانی، ثمامہ ابن حزن قشیری، حضرت ثمامہ بن حزن قشیری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے ملاقات کی اور ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھا تو حضرت عائشہ ؓ نے حبشہ کی ایک باندی کو بلوایا اور فرمایا اس باندی سے پوچھو کیونکہ یہ باندی رسول اللہ ﷺ کے لئے نبیذ بنایا کرتی تھی تو وہ حبشی باندی کہنے لگی کہ میں آپ ﷺ کے لئے رات کو مشکیزے میں نبیذ بھگوتی اور اس کا منہ باندھ کر اسے لٹکا دیا کرتی تھی تو جب صبح ہوتی تو آپ ﷺ اس میں سے پی لیتے تھے۔

Thumama (i. e. Ibn Hazn al-Qushairi) reported: I met Aisha and asked her about Nabidh (that was served to the Holy Prophet). Aisha called an Abyssinian maid (servant) and said: Ask her (about it) for it was she, who prepared the Nabidh for the Messenger of Allah ﷺ . The Abyssinian (maid-servant) said: I prepared Nabidh for him in a waterskin in the night and tied its mouth and then suspended it; and when it was morning he (the Holy Prophet) drank from it.

5232Sahih Muslim

اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَائٍ يُوکَی أَعْلَاهُ وَلَهُ عَزْلَائُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَائً وَنَنْبِذُهُ عِشَائً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً

محمد بن مثنی عنزی، عبدالوہاب ثقفی، یونس، حسن، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بناتے تھے اور اس مشکیزے کے اوپر کے حصہ کو باندھ دیتے تھے اور اس مشکیزے میں سوارخ تھے صبح کو ہم نبیذ بھگوتے تو شام کو آپ ﷺ پی لیتے اور شام کو نبیذ بھگوتے تو صبح کو آپ ﷺ پی لیتے تھے۔

Aisha reported: We prepared Nabidh for Allahs Messenger ﷺ in a waterskin, the upper part of which was tied and it (the waterskin) had a hole (in its lower part). We prepared the Nabidh in the morning and he drank it in the evening and we prepared the Nabidh in the night, and he would drink it in the morning.

5233Sahih Muslim

اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ فَکَانَتْ امْرَأَتُهُ يَوْمَئِذٍ خَادِمَهُمْ وَهِيَ الْعَرُوسُ قَالَ سَهْلٌ تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنْ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ فَلَمَّا أَکَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، ابن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابواسید ساعدی ؓ نے اپنی شادی میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی حضرت ابواسید کی بیوی ہی اس دن کام کر رہی تھی اور دلہن بھی وہی تھی حضرت سہل کہنے لگے کہ تم جانتے ہو کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو کیا پلایا تھا رات کو اس نے ایک بڑے پیالہ میں کچھ کھجور ریں بھگو دی تھیں تو جب آپ ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے وہی بھگوئی ہوئی کھجوریں آپ ﷺ کو پلا دیں۔

Sahl bin Sad reported that Abu Usaid al-Saidi invited Allahs Messenger ﷺ to his wedding feast, and his wife had been serving them on that day while yet a bride. Sahl said Do you know what she served as a drink to Allahs Messenger ﷺ ? She steeped the dates in water during the night in a big bowl, and when he (the Holy Prophet) had eaten food she served him this drink.

5234Sahih Muslim

اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلًا يَقُولُا أَتَی أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ فَلَمَّا أَکَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ

قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدلرحمن، ابی حازم، حضرت سہل ؓ فرماتے ہیں کہ ابو اسید ساعدی ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دعوت دی اور پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی لیکن اس میں یہ ذکر نہیں کہ جب آپ ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے آپ ﷺ کو نبیذ پلایا۔

Sahl reported that Abu Usaid al-Saidi came to Allahs Messenger ﷺ ; the rest of the hadith is the same, but he did not mention this: when he had eaten (the food) she gave him this to drink".

5235Sahih Muslim

اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي أَبَا غَسَّانَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ فَسَقَتْهُ تَخُصُّهُ بِذَلِکَ

محمد بن سہل تمیمی، ابن ابی مریم، محمد ابوغسان، ابوحازم، سہل بن سعد، حضرت سہل بن سعد ؓ سے یہی حدیث منقول ہے اور اس میں پتھر کے پیالے کا ذکر ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو حضرت سہل نے بھگوئی ہوئی ان کھجوروں کو خاص طور پر صرف آپ ﷺ کو پلایا۔

Sahl bin Sad reported (this hadith through another chain of transmitters) and he said (these words): "In a big bowl of stone, and when Allahs Messenger ﷺ had taken the food, she drenched the dates and served (this) especially to him."

5236Sahih Muslim

اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ذُکِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ الْعَرَبِ فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی جَائَهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَکِّسَةٌ رَأْسَهَا فَلَمَّا کَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ قَالَ قَدْ أَعَذْتُکِ مِنِّي فَقَالُوا لَهَا أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا فَقَالَتْ لَا فَقَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَکِ لِيَخْطُبَکِ قَالَتْ أَنَا کُنْتُ أَشْقَی مِنْ ذَلِکَ قَالَ سَهْلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّی جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ قَالَ اسْقِنَا لِسَهْلٍ قَالَ فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِکَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا فِيهِ قَالَ ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ بَعْدَ ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَوَهَبَهُ لَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرِ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ اسْقِنَا يَا سَهْلُ

محمد بن سہل تمیمی، ابوبکر بن اسحاق، ابوبکر، ابن ابی مریم، محمد بن مطرف، ابوغسان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے حضرت ابواسید ؓ کو حکم فرمایا کہ اس عورت کی طرف جاؤ۔

Sahl bin Sad reported: An Arab woman was mentioned before Allahs Messenger ﷺ . He commanded Abu Usaid to send a message to her and he (accordingly) sent a message to her. She came and stayed in the fortresses of Banu Saidah. Allahs Messenger ﷺ went out until he came to her while she was (at that time) sitting with her head downcast. When Allahs Messenger ﷺ talked to her, she said: I seek refuge with Allah from you. Thereupon he said: I (have decided to) keep you away from me. They (the people near her) said: Do you know who he is? She said: No. They said: He is the Messenger of Allah ﷺ . He came to you in order to give you the proposal of marriage. She said: Then I am the most unfortunate woman because of this (i. e. my defiance). Sahl said: Allahs Messenger ﷺ then set forth on that day until he sat in the Saqifa of Banu Saidah along with his Companions. He then said to Sahl (RA) : Serve us drink. He (Sahl) said: I brought out for them this bowl (containing drink) and served them this. Abu Hazim said: Sahl brought out this cup for us and we also drank from that. Then Umar bin Abdul Aziz (RA) asked him to give that (cup) as a gift to him and he gave (it to) him as a gift. In the narration of Abu Bakr (RA) bin Ishaq (the words) are: "Sahl, serve us drink."

5237Sahih Muslim

اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ کُلَّهُ الْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ وَالْمَائَ وَاللَّبَنَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، عفان، حماد بن سلمہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے اس پیالے سے رسول اللہ ﷺ کو پینے کی تمام چیزیں یعنی شہد اور نبیذ اور پانی اور دودھ پلایا ہے۔

Anas reported: I served drink to Allahs Messenger ﷺ in this cup of mine: honey, Nabidh, water and milk.

5238Sahih Muslim

دودھ پینے کے جواز میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ لَمَّا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِينَةِ مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَلَبْتُ لَهُ کُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَشَرِبَ حَتَّی رَضِيتُ

عبیداللہ بن معاذ غبری، ابوشعبہ، ابواسحاق، براء، ابوبکر صدیق، حضرت براء ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف نکلے تو ہمارا ایک چرواہے کے پاس سے گزر ہوا اور رسول اللہ ﷺ کو پیاس لگی ہوئی تھی حضرت ابوبکر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے لئے تھوڑا سا دودھ دوہا اور آپ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پیا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا۔

Abu Bakr Siddiq (RA) reported: As we went along with Allahs Messenger ﷺ from Makkah to Madinah, we passed by a shepherd and Allahs Messenger ﷺ was feeling thirsty. He ( Abu Bakr Siddiq (RA) ) said: I milked for him a small quantity of milk (from his goat) and brought it to him (the Holy Prophet), and he drank it and I was very happy.

5239Sahih Muslim

دودھ پینے کے جواز میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ الْهَمْدَانِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولَ لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِينَةِ فَأَتْبَعَهُ سُراقَةُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاخَتْ فَرَسُهُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّکَ قَالَ فَدَعَا اللَّهَ قَالَ فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرُّوا بِرَاعِي غَنَمٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَشَرِبَ حَتَّی رَضِيتُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق ہمدانی، حضرت براء فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو سراقہ بن مالک جعشم آپ ﷺ کا تعاقب کرنے لگا حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے بد دعا فرمائی تو اس کا گھوڑا دھنس گیا سراقہ نے عرض کیا آپ ﷺ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں میں آپ ﷺ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اللہ سے دعا کی راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ کو پیاس لگی اور بکریوں کے ایک چرواہے کے پاس سے گزر ہوا حضرت ابوبکر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں رسول اللہ کے لئے دودھ دوہا اور وہ دودھ لے کے میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے وہ دودھ پیا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا۔

Al-Bara reported: When Allahs Messenger ﷺ went forth from Makkah to Madinah, Suraqa bin Malik bin Jushum pursued him. Allahs Messenger ﷺ invoked curse upon him, and his horse sank (in the desert). He (Suraqa) said: (Allahs Messenger), invoke blessings for me and I will do no harm to you. He (the Holy Prophet) then supplicated Allah. (At that time) he (the Holy Prophet) felt thirsty, and they happened to pass by a shepherd. Abu Bakr Siddiq (RA) said: I took hold of a bowl and milked some milk into it for Allahs Messenger ﷺ and gave it to him. He drank it and I was pleased.

5240Sahih Muslim

دودھ پینے کے جواز میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَائَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا فَأَخَذَ اللَّبَنَ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاکَ لِلْفِطْرَةِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُکَ

محمد بن عباد، زہیر بن حرب، ابن عباد، ابوصفوان، یونس، زہری، ابن مسیب، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات بیت المقدس میں نبی ﷺ کی خدمت میں ایک شراب اور ایک دودھ کا پیالہ لایا گیا آپ ﷺ نے دونوں کی طرف دیکھا اور پھر دودھ کا پیالہ لے لیا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ ﷺ سے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں کہ جس نے آپ ﷺ کو فطرت کی ہدایت عطا فرمائی اگر آپ ﷺ شراب کا پیالہ لے لیتے تو آپ ﷺ کی امت گمراہ ہوجاتی۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ was presented two cups at Bait al-Maqdis on the night of Heavenly Journey, one containing wine and the other containing milk. He looked at both of them, and be took the one containing milk, whereupon Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) said: Praise is due to Allah Who guided you to the true nature; had you taken the one containing wine, your Umma would have gone astray.

5241Sahih Muslim

دودھ پینے کے جواز میں

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ بِإِيلِيَائَ

سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے گئے پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں بیت المقدس کا ذکر نہیں ہے۔

This hadith is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters, but he did not mention Aelia (Capitolina. i. e. Bait al-Maqdis).

5242Sahih Muslim

نبیذ اور برتنوں کو ڈھکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ مِنْ النَّقِيعِ لَيْسَ مُخَمَّرًا فَقَالَ أَلَّا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ إِنَّمَا أُمِرَ بِالْأَسْقِيَةِ أَنْ تُوکَأَ لَيْلًا وَبِالْأَبْوَابِ أَنْ تُغْلَقَ لَيْلًا

زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبد بن حمید، ابوعاصم، ابن مثنی، ضحاک، ابن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ، حضرت ابوحمید ساعدی ؓ فرماتے ہیں میں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں نقیع کے مقام سے ایک (شخص) دودھ کا پیالہ لے کر آیا وہ پیالہ ڈھکا ہوا نہیں تھا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس پیالہ کو ڈھانکا کیوں نہیں اگرچہ لکڑی کی ایک آڑ ہی سے اس کو ڈھک دیتے حضرت ابوحمید فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے رات کو مشکیزوں کے منہ باندھنے کا اور رات کو دروازوں کو بند رکھنے کا حکم فرمایا۔

Abu Humaid Saidi reported: I came to Allahs Messenger ﷺ with a cup of milk from Naqi which had no cover over it, whereupon he said: Why did you not cover it? - even if you had covered it only with a stick. Abu Humaid said that he had been ordered that waterskins be tied during the night, and the doors be closed during the night.

5243Sahih Muslim

نبیذ اور برتنوں کو ڈھکنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَزَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّهُ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ بِمِثْلِهِ قَالَ وَلَمْ يَذْکُرْ زَکَرِيَّائُ قَوْلَ أَبِي حُمَيْدٍ بِاللَّيْلِ

ابراہیم بن دینار، روح بن عبادہ، ابن جریج، زکریا بن اسحاق، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ، حضرت ابوحمید ساعدی ؓ فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ لائے اور پھر اسی طرح حدیث ذکر کی اور اس میں رات کا ذکر نہیں ہے۔

Abu Humaid Saidi reported through another chain of transmitters that he brought to Allahs Messenger ﷺ a cup containing milk, but there is no mention of the word "in the night"

5244Sahih Muslim

نبیذ اور برتنوں کو ڈھکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَی فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْقِيکَ نَبِيذًا فَقَالَ بَلَی قَالَ فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَی فَجَائَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَّا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا قَالَ فَشَرِبَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے آپ ﷺ نے پانی طلب فرمایا تو ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم آپ ﷺ کو نبیذ پلائیں آپ نے فرمایا ہاں تو وہ آدمی دوڑتا ہوا نکلا اور ایک پیالہ لے کر آیا جس میں نبیذ تھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے اسے ڈھانکا کیوں نہیں اگرچہ ایک لکڑی ہی اس پر رکھ دی جاتی راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ نے وہ نبیذ پی لی۔

Jabir b Abdullah reported: We were with Allahs Messenger ﷺ and he asked for water. A person said: Allahs Messenger, may we not give you Nabidh to drink? He (the Holy Prophet) said: Yes (you may). He (the narrator) said: Then that person went out speedily and brought a cup containing Nabidh, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Why did you not cover it? - even if it is with a wood. He said that then he drank it.

5245Sahih Muslim

نبیذ اور برتنوں کو ڈھکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو حُمَيْدٍ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ مِنْ النَّقِيعِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابوسفیان، ابوصالح، جابر بن عبداللہ، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی جسے ابوحمید کہا جاتا ہے وہ نقیع کے مقام سے دودھ کا ایک پیالہ لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ابوحمید سے فرمایا کہ تم نے اسے ڈھکا کیوں نہیں کم ازکم اس کے عرض پر ایک لکڑی ہی رکھ دی جاتی۔

Jabir reported that a person who was known as Abu Humaid brought for him (the Holy Prophet) a cup of milk from al-Naqi. Allahs Messenger ﷺ said to him: Why did you not cover it even with a wood across it?

5246Sahih Muslim

سوتے وقت برتنوں کو ڈھانکنے مشکیزوں کے منہ باندھنے دروازوں کو بند کرنے چراغ بجھانے بچوں اور جانوروں کو مغرب کے بعد باہر نہ نکالنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ غَطُّوا الْإِنَائَ وَأَوْکُوا السِّقَائَ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَائً وَلَا يَفْتَحُ بَابًا وَلَا يَکْشِفُ إِنَائً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُکُمْ إِلَّا أَنْ يَعْرُضَ عَلَی إِنَائِهِ عُودًا وَيَذْکُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَی أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ وَلَمْ يَذْکُرْ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ

قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے برتنوں کو ڈھانک دیا کرو اور مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو اور دروازہ بند کرلیا کرو اور چراغ بھجا دیا کرو کیونکہ شیطان مشکیزوں کو نہیں کھولتا اور دروازے کو بھی نہیں کھولتا اور ڈھکے ہوئے برتن کا ڈھکن بھی نہیں اتارتا اور اگر تم میں سے کسی کو ڈھکنے کے لئے کچھ نہ ملے تو صرف برتن پر اس کے عرض پر ایک لکڑی ہی رکھ دی جائے اور اللہ تعالیٰ کا نام بھی لے لے تو ایسے ہی کرنا چاہئے کیونکہ چوہا لوگوں کے گھر جلا دیتا ہے قتیبہ نے اپنی حدیث میں (وَأَغْلِقُوا الْبَابَ ) یعنی دروزہ بند کرنے کا ذکر نہیں کیا۔

Jabir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Cover vessels, waterskins, close the doors and extinguish the lamps, for the Satan does not loosen the waterskin, does not open the door and does not uncover the vessels. And if one amongst you fails to find (something) to cover it well, he should cover it by placing (a piece of) wood across it. Qutaiba did not mention the closing of the doors in the hadith transmitted by him.