غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا وَزَادَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًی أَوْ بِعَرَفَاتٍ
عبدالرحمن بن بشر، شعبہ، اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں اعضاء کٹے ہوئے حبشی کا ذکر نہیں کیا اور اضافہ یہ ہے کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے منیٰ یا عرفات میں سنی۔
Another version of the tradition does not qualify the slave with the epithets" maimed,"" an Abyssinian" but makes the addition:" I have heard the Holy Prophet ﷺ (say this) at Mina or Arafat."
غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَ سَمِعْتُهَا تَقُولُ حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا کَثِيرًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنْ أُمِّرَ عَلَيْکُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ حَسِبْتُهَا قَالَتْ أَسْوَدُ يَقُودُکُمْ بِکِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل بن زید، ابن ابی انیسہ، یحییٰ بن حصین، حضرت ام الحصین ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجہ الوداع میں حج کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے لمبی گفتگو اور نصائح فرمائیں پھر میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اگر تم پر اعضاء کٹے ہوئے (راوی کہتا ہے) میں نے گمان کیا کہ اس نے سیاہ بھی کہا غلام کو حاکم بنادیا جائے جو تمہیں اللہ کی کتاب کے ساتھ حکم دے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔
It has been narrated on the authority of Yahya bin Husain who learnt the tradition from his grandmother. Umm Husain. He said: I heard her say: I performed Hajjat-ul-Wada in the company of the Messenger of Allah ﷺ . He said a lot of things (on this occasion). Then I heard him say: If a maimed slave is appointed a commander over you the narrator says: I think she said:" a black slave" who leads you according to the Book of Allah, then listen to him and obey him.
غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَکَرِهَ إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ
قتیبہ بن سعید، لیث، عبیداللہ بن نافع، ابن عمر، حضرت ابن عمر ؓ کی نبی ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا مسلمان مرد پر حاکم کی بات سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند ہو سوائے اس کے کہ اسے کسی گناہ کا حکم دیا جائے پس اگر اسے معصیت و نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ اس کی بات سننا لازم ہے اور نہ اطاعت۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Holy Prophet ﷺ said: It is obligatory upon a Muslim that he should listen (to the ruler appointed over him) and obey him whether he likes it or not, except that he is ordered to do a sinful thing. If he is ordered to do a sinful act, a Muslim should neither. listen to him nor should he obey his orders.
غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحیی، قطان، ابن نمیر، اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Ubaidullah.
غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا فَأَوْقَدَ نَارًا وَقَالَ ادْخُلُوهَا فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا وَقَالَ الْآخَرُونَ إِنَّا قَدْ فَرَرْنَا مِنْهَا فَذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا وَقَالَ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ زبید، سعد بن عبیدہ، ابوعبدالرحمن، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس پر ایک آدمی کو امیر مقرر فرمایا اس نے آگ جلائی اور لوگوں سے کہا کہ اس میں داخل ہوجاؤ تو بعض لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا اور دوسروں نے کہا ہم اسی سے تو بھاگتے ہیں رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا جنہوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا کہ اگر تم اس میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اسی میں ہی رہتے اور دوسروں کے لئے اچھی بات فرمائی اور فرمایا اللہ کی نافرمانی میں اطاعت نہیں ہے اطاعت تو نیکی میں ہوتی ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu Abdul Rahman from Ali that the Messenger of Allah ﷺ sent a force (on a mission) and appointed over them a man. He kindled a fire and said: Enter it. Some people made up their minds to enter it (the fire), (carrying out the order of their commander), but the others said: We fled from the fire (thats why we have come into the fold of Islam). The matter was reported to the Messenger of Allah ﷺ . He said to those who Contemplated entering (the fire at the order of their commander): If you had entered it, you would have remained there until the Day of Judgment. He commanded the act of the latter group and said: There is no submission in matters involving Gods disobedience or displeasure. Submission is obligatory only in what is good (and reasonable).
غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَتَقَارَبُوا فِي اللَّفْظِ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا فَأَغْضَبُوهُ فِي شَيْئٍ فَقَالَ اجْمَعُوا لِي حَطَبًا فَجَمَعُوا لَهُ ثُمَّ قَالَ أَوْقِدُوا نَارًا فَأَوْقَدُوا ثُمَّ قَالَ أَلَمْ يَأْمُرْکُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَسْمَعُوا لِي وَتُطِيعُوا قَالُوا بَلَی قَالَ فَادْخُلُوهَا قَالَ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ فَقَالُوا إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ النَّارِ فَکَانُوا کَذَلِکَ وَسَکَنَ غَضَبُهُ وَطُفِئَتِ النَّارُ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَکَرُوا ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ
محمد بن عبداللہ، ابن نمیر، زہیر بن حرب، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، سعد بن عبیدہ، ابوعبدالرحمن، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر کو بھیجا اور اس پر ایک انصاری کو امیر مقرر فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس کی بات سنیں اور اطاعت کریں انہوں نے امیر کو کسی بات کی وجہ سے ناراض کردیا تو امیر نے کہا میرے پاس لکڑیاں جمع کرو انہوں نے جمع کردیں پھر کہا آگ جلاؤ تو انہوں نے جلادی پھر کہا کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ نے میرے حکم کو سننے اور اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا انہوں نے کہا کیوں نہیں تو اس نے کہا آگ میں کود پڑو تو انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کہا ہم آگ سے بھاگ کر ہی تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اسی بات پر ڈٹ گئے اس کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور آگ بجھا دی گئی جب وہ واپس ہوئے تو انہوں نے اس بات کا ذکر نبی ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر وہ اس میں داخل ہوجاتے تو اس سے نکل نہ سکتے اطاعت تو نیکی میں ہی ہوتی ہے۔
It has been narrated on the authority of All who said: The Mersenger of Allah ﷺ sent an expeditionand appointed over the Mujahids a man from the Ansar. (While making the appointment), he ordered that his work should be listened to and obeyed. They made him angry in a matter. He said: Collect for me dry wood. They collected it for him. Then he said: Kindle a fire. They kindled (the fire). Then he said: Didnt the Messenger of Allah ﷺ order you to listen to me and obey (my orders)? They said: Yes. He said: Enter the fire. The narrator says: (At this), they began to look at one another and said: We fled from the fire to (find refuge with) the Messenger of Allah ﷺ (and now you order us to enter it). They stood quiet until his anger cooled down and the fire went out. When they returned, they related the incident to the Messenger of Allah ﷺ . He said: If they had entered it, they would not have come out. Obedience (to the commander) is obligatory only in what is good.
غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابومعاویہ، اعمش، اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Amash.
غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَهِ وَعَلَی أَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَی أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَعَلَی أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا کُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ بن عمر، عبادہ بن ولید، حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے تنگی اور آسانی میں پسند و ناپسند میں اور اس بات پر کہ ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے آپ ﷺ کی بات سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکام سے حکومت کے معاملات میں جھگڑا نہ کریں گے اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم جہاں بھی ہوں گے حق بات ہی کہیں گے اللہ کے معاملہ میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ رکھیں گے۔
It has been narrated on the authority of" Ubida who learnt the tradition from his father who, in turn, learnt it from his own father. Ubadahs grandfather said: The Messenger of Allah ﷺ took an oath of allegiance from us on our listening to and obeying the orders of our commander in adversity and prosperity, in pleasure and displeasure (and even) when somebody is given preference over us, on our avoiding to dispute the delegation of powers to a person deemed to be a fit recipient thereof (in the eye of one who delegates it) and on our telling the truth in whatever position we be without fearing in the matter ef Allah the reproach of the reproacher.
غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَيَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابن نمیر، عبداللہ بن ادریس، ابن عجلان، عبیداللہ بن عمرو، یحییٰ بن سعید، عبادہ بن ولید، اس سند کے ساتھ یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ubadah bin Walid with the same chain of transmitters.
غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ
ابن ابی عمر، عبدالعزیز دراوری، یزید ابن ہاد، عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
The same tradition has been handed down through more than one chain of transmitters.
غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي بُکَيْرٌ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا أَصْلَحَکَ اللَّهُ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ فَکَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ بَايَعَنَا عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَکْرَهِنَا وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ قَالَ إِلَّا أَنْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِنْ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ
احمد بن عبدالرحمن، ابن وہب بن مسلم، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر، بسر بن سعید، جنادہ بن ابوامیہ، حضرت جنادہ بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم عبادہ بن صامت کے پاس حاضر ہوئے اور وہ بیمار تھے ہم نے کہا اللہ آپ کو تندرست کرے ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو اور اللہ اس کے ذریعہ نفع عطا فرمائے تو انہوں نے کہا ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بلایا ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی اور جن امور کی آپ ﷺ سے ہم نے بیعت کی وہ یہ تھے ہم نے بات سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی کہ اپنی خوشی اور ناخوشی میں تنگی اور آسانی میں اور ہم پر ترجیح دیئے جانے پر اور اس بات پر کہ ہم حکام سے جھگڑا نہ کریں گے سوائے اس کے کہ ہم واضح دیکھیں اور تمہارے پاس اس کے کفر ہونے پر اللہ کی طرف سے کوئی دلیل موجود ہو۔
It has been narrated on the authority of Junida bin Abu Umayya who said: We called upon Ubadah bin Samit who was ill and said to him: May God give you health I Narrate to us a tradition which God may prove beneficial (to us) and which you have heard from the Messenger of Allah ﷺ . He said: The Messenger of Allah ﷺ called us and we took the oath of allegiance to him. Among the injunctions he made binding upon us was: Listening and obedience (to the Amir) in our pleasure and displeasure, in our adversity and prosperity, even when somebody is given preference over us, and without disputing the delegation of powers to a man duly invested with them (Obedience shall be accorded to him in all circumstances) except when you have clear signs of his disbelief in (or disobedience to) God-signs that could be used as a conscientious justification (for non-compliance with his orders).
امام کے مسلمانوں کے لئے ڈھال ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِی زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَی بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَلَ کَانَ لَهُ بِذَلِکَ أَجْرٌ وَإِنْ يَأْمُرْ بِغَيْرِهِ کَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ
ابرہیم، مسلم، زہیر بن حرب، شبابہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا امام ڈھال ہے اس کے پیچھے سے لڑا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے امان دی جاتی ہے پس اگر اللہ کے تقویٰ کا حکم کرے اور عدل و انصاف کرے اور اس کی وجہ سے اس کے لئے ثواب ہوگا اور اگر وہ اس کے علاوہ (برائی) کا حکم کرے تو یہ اس پر وبال ہوگا۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ of Allah ﷺ said: A commander (of the Muslims) is a shield for them. They fight behind him and they are protected by (him from tyrants and aggressors). If he enjoins fear of God, the Exalted and Glorious, and dispenses justice, there will be a (great) reward for him; and if he enjoins otherwise, it redounds on him.
پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَائُ کُلَّمَا هَلَکَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَتَکُونُ خُلَفَائُ تَکْثُرُ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوحازم، ابوہریرہ، حضرت ابوحازم (رح) سے روایت ہے کہ میں پانچ سال تک حضرت ابوہریرہ ؓ کے ساتھ رہا تو میں نے ان کو نبی ﷺ سے حدیث روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے جب کوئی نبی وفات پا جاتا تو اس کا خلیفہ ونائب نبی ہوتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور عنقریب میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا آپ ﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جس کے ہاتھ پر پہلے بیعت کرلو اسے پورا کرو اور احکام کا حق ان کو ادا کرو بیشک اللہ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرنے والا ہے۔
It has been narrated by Abu Hurairah (RA) that the Holy Prophet ﷺ (may pceace be upon him) said: Banu Israil were ruled over by the Prophets. When one Prophet ﷺ died, another succeeded him; but after me there is no prophet and there will be caliphs and they will be quite large in number. His Companions said: What do you order us to do (in case we come to have more than one Caliph)? He said: The one to whom allegiance is sworn first has a supremacy over the others. Concede to them their due rights (i. e. obey them). God (Himself) will question them about the subjects whom He had entrusted to them.
پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن برادہ اشعری، عبداللہ بن ادریس، حسن بن فرات، اسی حدیث کی دوسری سند ہے۔
The same tradition has been transmitted by a different chain of narrators.
پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَکُونُ بَعْدِي أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْکِرُونَهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ تَأْمُرُ مَنْ أَدْرَکَ مِنَّا ذَلِکَ قَالَ تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْکُمْ وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَکُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، وکیع، ابوسعید اشج، وکیع، ابوکریب، ابن نمیر، ابومعاویہ، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، زید بن وہب، عبداللہ، اسی حدیث کی مزید اسناد ذکر کی ہیں حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب میرے بعد حقوق تلف کئے جائیں گے اور ایسے امور پیش آئیں گے جنہیں تم ناپسند کرتے ہو صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ ہم میں سے انہیں حکم کیا دیتے ہیں جو یہ زمانہ پائے آپ ﷺ نے فرمایا تم پر کسی کا جو حق ہو وہ ادا کردو اور اپنے حقوق تم اللہ سے مانگتے رہنا۔
It has been narrated on the authority of Abdullah who said: The Messenger of Allah ﷺ said: After me there will be favouritism anad many things that you will not like. They (his Companions) said: Messenger of Allah, what do you order that one should do it anyone from us has to live through such a time? He said: You should discharge your own responsibility (by obeying your Amir), and ask God to cuncede your right (by guiding the Amir to the right path or by replacing him by one more just and God-fearing).
پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَةِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْکَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَائَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَی مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَاجْتَمَعْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَکُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا کَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَی خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَکُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَائٌ وَأُمُورٌ تُنْکِرُونَهَا وَتَجِيئُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيئُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِکَتِي ثُمَّ تَنْکَشِفُ وَتَجِيئُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ هَذِهِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنْ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَی النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَی إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنْ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَائَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ أَنْشُدُکَ اللَّهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْوَی إِلَی أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقُلْتُ لَهُ هَذَا ابْنُ عَمِّکَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْکُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللَّهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَيْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَکُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْکُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللَّهَ کَانَ بِکُمْ رَحِيمًا قَالَ فَسَکَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، زہیر، جریر، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ (رح) سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے ارد گرد جمع تھے میں ان کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا تو عبداللہ نے کہا ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ رکے ہم میں سے بعض نے اپنا خیمہ لگانا شروع کردیا اور بعض تیراندازی کرنے لگے اور بعض وہ تھے جو جانوروں میں ٹھہرے رہے اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز دی الصلوہ جامعہ (یعنی نماز کا وقت ہوگیا ہے) تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا میرے سے قبل کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے ذمے اپنے علم کے مطابق اپنی امت کی بھلائی کی طرف راہنمائی لازم نہ ہو اور برائی سے اپنے علم کے مطابق انہیں ڈرانا لازم نہ ہو اور بیشک تمہاری اس امت کی عافیت ابتدائی حصہ میں ہے اور اس کا آخر ایسی مصیبتوں اور امور میں مبتلا ہوگا جسے تم ناپسند کرتے ہو اور ایسا فتنہ آئے گا کہ مومن کہے گا یہ میری ہلاکت ہے پھر وہ ختم ہوجائے گا اور دوسرا ظاہر ہوگا تو مومن کہے گا یہی میری ہلاکت کا ذریعہ ہوگا جس کو یہ بات پسند ہو کہ اسے جہنم سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو چاہیے کہ اس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ اس معاملہ سے پیش آئے جس کے دیئے جانے کو اپنے لئے پسند کرے اور جس نے امام کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر دل کے اخلاص سے بیعت کی تو چاہیے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس کی اطاعت کرے اور اگر دوسرا شخص اس سے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن مار دو راوی کہتا ہے پھر میں عبداللہ کے قریب ہوگیا اور ان سے کہا میں تجھے اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو عبداللہ نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا میرے کانوں نے آپ ﷺ سے سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا تو میں نے ان سے کہا یہ آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی معاویہ ہمیں اپنے اموال کو ناجائز طریقے پر کھانے اور اپنی جانوں کو قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اللہ کا ارشاد ہے اے ایمان والو اپنے اموال کو ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ ایسی تجارت ہو جو باہمی رضا مندی سے کی جائے اور نہ اپنی جانوں کو قتل کرو بیشک اللہ تم پر رحم فرمانے والا ہے راوی نے کہا عبداللہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر کہا اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں ان کی نافرمانی کرو۔
It has been narrated on the authority of Abdul Rahman bin Abd Rabb al-Ka’bah who said: I entered the mosque when Abdullah bin Amr bin al-As was sitting in the shade of the Ka’bah and the people had gathered around him. I betook myself to them and sat near him. (Now)Abdullah said: I accompanied the Messenger of Allah ﷺ on a journey. We halted at a place. Some of us began to set right their tents, others began to compete with one another in shooting, and others began to graze their beasts, when an announcer of the Messenger of Allah ﷺ announced that the people should gather together for prayer, so we gathered around the Messenger of Allah ﷺ . He said: It was the duty of every Prophet ﷺ that has gone before me to guide his followers to what he knew was good for them and warn them against what he knew was bad for them; but this Umma of yours has its days of peace and (security) in the beginning of its career, and in the last phase of its existence it will be afflicted with trials and with things disagreeable to you. (In this phase of the Umma), there will be tremendous trials one after the other, each making the previous one dwindle into insignificance. When they would be afflicted with a trial, the believer would say: This is going to bring about my destruction. When at (the trial) is over, they would be afflicted with another trial, and the believer would say: This surely is going to be my end. Whoever wishes to be delivered from the fire and enter the garden should die with faith in Allah and the Last Day and should treat the people as he wishes to be treated by them. He who swears allegiance to a Caliph should give him the piedge of his hand and the sincerity of his heart (i. e. submit to him both outwardly as well as inwardly). He should obey him to the best of his capacity. It another man comes forward (as a claimant to Caliphate), disputing his authority, they (the Muslims) should behead the latter. The narrator says: I came close to him (Abdullah bin Amr bin al-As) and said to him: Can you say on oath that you heard it from the Messenger of Allah ﷺ ? He pointed with his hands to his ears and his heart and said: My ears heard it and my mind retained it. I said to him: This cousin of yours, Muawiyah, orders us to unjustly consume our wealth among ourselves and to kill one another, while Allah says:" O ye who believe, do not consume your wealth among yourselves unjustly, unless it be trade based on mutual agreement, and do not kill yourselves. Verily, God is Merciful to you" (iv. 29). The narrator says that (hearing this)Abdullah bin Amr bin al-As kept quiet for a while and then said: Obey him in so far as he is obedient to God; and diqobey him in matters involving disobedience to God.
پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوسعید اشج، وکیع، ابوکریب، ابومعاویہ، یہ حدیث ان دو اسناد سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with a different chain of transmitters.
پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَقَ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَةِ الصَّائِدِيِّ قَالَ رَأَيْتُ جَمَاعَةً عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ
محمد بن رافع، ابومنذر، اسماعیل بن عمر، یونس بن ابواسحاق ہمدانی، عبداللہ بن ابی سفر، عامر، حضرت عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ صاعدی (رح) سے روایت ہے کہ میں نے ایک جماعت کو کعبہ کے پاس دیکھا باقی حدیث اسی طرح بیان فرمائی۔
It has been narrated on the authority of Abd Rabb al-Ka’bah as-Saidl who said: I saw a group of people near the Ka’bah.... Then he narrated the tradition as narrated by Amash.
حاکموں کے ظلم پر صبر کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَلَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي کَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا فَقَالَ إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْنِي عَلَی الْحَوْضِ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس بن مالک، اسید بن حضیر، حضرت اسید بن حضیر ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے رسول اللہ ﷺ سے خلوت میں عرض کیا کہ آپ ﷺ مجھے فلاں آدمی کی طرح عامل مقرر نہیں فرما دیتے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم میرے بعد عنقریب اپنے پر ترجیح کو پاؤ تو صبر سے کام لینا یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر ملاقات کرو۔
It has been narrated on the authority of Usaid bin Hudair that a man from the Ansar took the Messenger of Allah ﷺ aside and said to him: Will you not appoint me governor as you have appointed so and so? He (the Messenger of Allah) ﷺ said: You will surely come across preferential treatment after me, so you should be patient until you meet me at the Cistern (Haud-i-Kauthar).
حاکموں کے ظلم پر صبر کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَلَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد ابن حارث، شعبہ بن حجاج، قتادہ، انس، حضرت اسید بن حضیر ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری نے رسول اللہ ﷺ سے خلوت میں عرض کیا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
This tradition has been narrated on the same authority through a different chain of transmitters.