2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:50

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:50 in the Quran reader

اور وہ ہم ہی تھے کہ سمندر کا پانی تمہارے لیے پایاب کردیا کہ تم بچ نکلے مگر فرعون کا گروہ غرق ہوگیا اور تم اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے !

بنی اسرائیل کی مصر سے ہجرت اور بحر احمر کو عبور کرنا : 107: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون وقت کو پیغام الٰہی پہچانے پر مامور ہوئے تھے اور اس کے پاس یہ مطالبہ بھی لے کر آئے تھے کہ جو مظالم قوم بنی اسرائیل پر کئے جا رہے ہیں ان کو ترک کردے۔ یہ دعوت ایک مدت تک جاری رہی فرعون نے نہ دعوت قبول کی اور نہ ہی بنی اسرائیل کے مظالم میں کوئی کمی کی۔ بلکہ الٹا الزام موسیٰ (علیہ السلام) پر رکھا۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ : ” بلاشبہ ! ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور واضح دلائل دے کر بھیجا۔ فرعون ، ہامان ، اور قارون کی طرف مگر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر اور جھوٹا بتایا۔ غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچا تو ان لوگوں نے کہا جو لوگ موسیٰ کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو ۔ مگر کافروں کی یہ تدبیر اکارت گئی اور فرعون نے بڑے رعب کے ساتھ کہا کہ مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں ، اور وہ اپنے اللہ کو اپنی مدد کے لئے بلائے۔ میں ڈرتا ہوں کہ موسیٰ اگر زندہ رہا تو تمہارے دین بدل دے گا اور زمین میں فساد پھیلائے گا۔ “ (المؤمن 40 : 24 ، 26) مختصر یہ کہ فرعون اور مصری گورنمنٹ کے مظالم سالہا سال تک برداشت کرنے کے بعد بالآخر موسیٰ (علیہ السلام) کی قیادت میں ساری قوم اسرائیل نے مصر کی سکونت ترک کر کے اپنے آبائی و طن شام و فلسطین کو چلا جانا طے کرلیا۔ یہ سفر مصری حکومت سے چھپ چھپ کر رات کے وقت شروع کیا۔ زمانہ وہ تھا کہ آج کل کی باقاعدہ سڑکیں تو تھیں نہیں نہ راستہ میں کوئی روشنی کا انتظام تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم الٰہی کے مطابق ہجرت کی تھی لیکن یہ کوئی تین چار آدمیوں کا قافلہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک بہت بڑی قوم کا خروج تھا جس میں کم و بیش ستّر ہزار آدمی موجود تھے۔ یہ لوگ ملک مصر کے شہر رامیس سے نکلے تھے جو اس وقت مصری حکومت کا صدر مقام تھا اس کے بائیں جانب تھوڑے ہی فاصلہ پر دریائے نیل تھا اور دائیں طرف یعنی جانب شرق تقریباً تین منزل کے فاصلہ پر بحراحمر بڑی شاخ تھی موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر بحر احمر کی طرف نکلے جب یہ لوگ بحراحمر کی بڑی شاخ کے بائیں کنارے سے گزرنے لگے تو فرعون بھی ان کے تعاقب میں نکل آیا۔ لیکن حکم الٰہی کے مطابق قوم کو چیخ و پکار کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم بنی اسرائیل سمیت بحراحمر کی بڑی شاخ کی نوک سے پار اترنے میں کامیاب ہوگئے۔ فرعون نے بھی تعاقب کرتے ہوئے اپنے لائو لشکر کو بنی اسرائیل کے پیچھے بحراحمر کی اسی شاخ میں اتار دیا۔ اتنے میں پانی کا اتنا تیز ریلا آیا کہ بنی اسرائیل کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ قوم فرعون کو خس و خشاک کی طرح بہا کرلے گیا۔ اللہ نے اسی اپنے خاص انعام کا یہاں ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے نجات دی تھی تو گویا وہ بہت بڑا انعام تم پر کیا تھا لیکن تم بھی عجیب لوگ ہو کہ تم نے بھی اللہ کے کسی انعام کو احسان کی نگاہ سے نہیں دیکھا اور ہمیشہ نا شکری ہی کی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزانہ طور پر دریا عبور کرنے کا ذکر قرآن کریم کی زبان میں : دریا سے پار اتر جانے کا واقعہ قرآن کریم میں چار مقامات پر ذکر کیا گیا ہے اول اس جگہ سورة البقرہ میں ، جہاں فرمایا گیا۔ ” وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ “ ، دوم سورة شعراء میں جہاں فرمایا ہے : فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْبَحْرَ 1ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ0063 (الشعراء 26 : 63) تیسرا سورة طہٰ جہاں فرمایا ہے۔ وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى1ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا 1ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى00 فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ0078 (طہٰ 20 : 77 ، 78) اور چوتھی جگہ سورة الدخان میں جہاں فرمایا : فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ00 وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا 1ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ 0024 (الدخان 44 : 23 ، 24) جن کا ترتیب وار مفہوم و ترجمہ یہ ہے کہ ” جب ہم نے تمہارے سبب دریا کو پایاب کردیا تھا۔ “ 2۔ پس وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ چل اپنی لاٹھی کے سہارے سے دریا میں کہ وہ پھٹا ہوا ہے اور پھر ہر ٹکڑا پہاڑ کی مانند ۔ “ 3۔ ” ہم نے موسیٰ پر وحی کی کہ رات کو لے چل میرے بندوں کو ، پس لے چل ان کو دریا کے سوکھے راستہ میں ، مت ڈر پکڑ لئے جانے سے ۔ پس فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ اس کا پیچھا کیا پس پانی کا ریلا جیسا کچھ ان پر چھانے والا تھا ، چھا گیا یعنی جو کچھ ہونا تھا فوراً ہوگیا۔ “ 4۔ ” لے چل میرے بندوں کو اے موسیٰ ! رات کے وقت تم دشمن سے تعاقب کئے جائو گے اور چھوڑ چل دریا کو کہ وہ اس وقت اترا ہوا ہے۔ “ اس سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے نکلنے کا واقعہ وحی الٰہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے طے کردیا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اس جگہ کی نشاندہی کردی گئی تھی کہ اس وقت تم دریا کے فلاں مقام سے پار کرو گے اور ہم اپنے قانون تکوینی کے تحت تمہارے دریا پار کر جانے اور فرعون کے غرق ہونے کا معاملہ طے کرچکے ہیں اور یاد رکھو کہ دریا عبور کرنے کے لئے لاٹھی کے سہارے اللہ کا نام لے کر جوں جوں دریا سے گزرتے جائو گے ۔ وہ تمہارے لیے پایاب ہوتا جائے گا۔ جگہ کا تعین ، وقت کا تعین ، تمہارے خیریت سے نکل جانے کی خبر اور فرعون کے غرق ہونے کی اطلاح اس واقعہ میں یہ چار معجزات ہیں جو آپ کو یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو قبل از وقت دیئے جا رہے ہیں اور اپنے لوگوں میں ان کا اعلان کر دو اور ایسا ہی ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اس خبر کی تشہیر بھی کرا دی تھی۔ تورات میں اس کا ذکر اس طرح ملتا ہے ۔ ” خداوند نے بسبب بڑی پوربی آندھی کے تمام رات دریا کو چلایا اور دریا کو سکھا دیا۔ “ (خروج : 21) ویسے بھی ایسے واقعات کو جو انبیاء (علیہ السلام) کی تائید ایزدی سے پیش آتے رہے کچھ لوگوں نے ان کو عجائبات بنا دیا اور ہر ممکن کوشش کی ، یہ واقعات خرق عادت یا مافوق الفطرت یا معجزات کے نام سے معروف کرائے گئے ، حالانکہ حقیقت میں نہ تو وہ خرق عادت ہی تھے اور نہ مافوق الفطرت اور ان کو معجزات کہنا بالکل صحیح اور فطرت کے عین مطا بق تھا لیکن تعجب یہ ہے کہ معجزات انبیاء کو یہ نام کس نے فراہم کئے ؟ اور کہاں سے آئے ؟ جو آج زبان زد خاص و عام ہیں۔ جس فرق البحر کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اس پر غور کرو کہ اس کا مافوق الفطرت یا خرق عادت کا نام دینا کہاں تک صحیح ہے ؟ جب کہ ہم بارہا دیکھتے ہیں کہ دریائوں کا اتار چڑھائو اور پھر خصوصاً وہ بھی پہاڑی علاقوں میں کتنا آناً فاناً اور کس قدر تیزی کے ساتھ آج بھی ہوتا رہتا ہے اور سمندر کے کنارے بیٹھ کر مد و جزر کا مشاہدہ آج بھی کیا جاسکتا ہے۔ مظاہر قدرت آج بھی زلزلوں کی صورت میں ہماری آنکھوں کے سامنے ایسے کئی واقعات پیش کرچکے ہیں۔ چنانچہ جنوری 1934 ء بمطابق رمضان المبارک 1352 ھ میں جو زلزلہ بہار اور اطراف بہار میں آیا اس موقع پر صوبہ کے صدر مقام شہر پٹنہؔ میں دن دھاڑے تقریباً ڈھائی بجے کے قریب ایک مجمع کثیر نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ گنگا جیسے وسیع و عریض دریا کا پانی چشم زدن میں غائب ہوگیا اور اتنے چوڑے پاٹ میں بجائے دریا کے دھارے کے قریب قریب خشک زمین نکل آئی اور یہ حیرت ناک منظر چار پانچ منٹ تک قائم رہا۔ یہاں تک کہ یک بیک تیز رفتاری کے ساتھ پانی گویا زمین سے ابل کر پھر جاری ہوگیا۔ اس واقعہ کی مفصل روئیداد انگریزی اخبار روزنامہ پانیئر (Pioneer) کی 20 جنوری 1934 ء کی اشاعت میں درج ہے۔ لوگوں نے اس واقعہ کو کئی طریقوں سے بیان کیا ہے کسی نے بہت بڑھا چڑھا کر اور کسی نے اس کے اصل مقام سے بھی بہت نیچے گرا کر۔ لیکن قرآن کریم کا مضمون جو کچھ ہمیں بتا رہا ہے وہ ہمارے لئے بس ہے اور تفصیلات کی ہمیں ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل اس دریا یا سمندر سے صحیح سلامت گزر گئے اور فرعون کا لشکر ان کی آنکھوں کے سامنے غرق کردیا گیا جس سے شان الٰہی کا اظہار بالکل واضح ہے کہ ایک کو مہلک جگہ یا ہلاکت کے سامانوں کے اندر محفوظ رکھے اور دوسرے کو اس کے حفاظت کے سامان رکھتے ہوئے یا ایک محفوظ جگہ میں ہلاک کر دے۔ جہاں قرآن کریم نے اس واقعہ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے فرقان قرار دیا ہے بالکل اسی طرح بدر کے واقعہ کو ہمارے نبی کریم ﷺ کے لئے فرقان قرار دیا ہے۔ ذرا غور کرو کہ بدر کا میدان ہے جس میں کفار نے عمدہ سے عمدہ اور محفوظ سے محفوظ جگہ روک لی ہے پانی پر قبضہ کرلیا ہے۔ جمعیت ان کی مسلمانوں کے مقابلہ میں تگنی سے بھی زیادہ ہے۔ آدمی بھی جنگ آزمودہ اور بڑے بڑے بہادر ہیں۔ ہر طرح کا سامان جنگ بھی بکثرت موجود ہے۔ مقابلہ میں مسلمانوں کو اچھی جگہ نہیں ملی۔ جگہ محفوظ بھی نہیں۔ جمعیت بھی ایک تہائی ﷺ ہے۔ سامان جنگ نہ ہونے کے برابر ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو میدان جنگ میں کامیابی کی خوشخبری پہلے سنا دی ہے۔ بڑے بڑے بہادروں کے مرنے کی جگہ کی نشاندہی فرمادی ہے اور جب نتیجہ نکلتا ہے تو وہ بالکل وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے وحی الٰہی پاکر پہلے بتا دیا ہے ایک تھوڑی سی جماعت کے سامنے ان کے سارے حفاظت کے سامان ہوتے ہوئے ہلاک کر کے اپنی قدرت کا نظارہ دکھا دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں فرعونیوں کے غرق کرنے سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت اور طاقت کا اظہار فرمایا ہے سو ہمارے پاس اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ امر الٰہی ہمیشہ غالب رہا ہے ، غالب ہے اور غالب ہی رہے گا۔ لیکن جو کچھ تھا ، ہے اور ہوگا سب قانون الٰہی کے مطابق تھا ، ہے اور رہے گا۔ اس قِصّہ میں مسلمانوں کے لئے بیشمار اسباق تھے لیکن افسوس کے انہوں نے سب کے سب وراء ظہور پھینک دیئے اور ایسے واقعات کو قانون قدرت کے خلاف کرنے ، بنانے اور ہونے ہی میں سارا زور صرف کیا گیا اور کیا جارہا ہے۔ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ -. عبرت کا مقام ہے : 108: بنی اسرائیل بالکل قریب دوسرے کنارے پر کھڑے اس مسرت انگیز نظارہ کو دیکھ رہے تھے کہ وہ قوم جس نے آج تک ہم کو غلاموں کی طرح رکھا ، آج بےبسی اور بےکسی کی چیخیں مار رہی ہے مگر کوئی نہیں جو اس کی کچھ بھی مدد کرے ان کی حالت اس وقت ایسی ہے کہفَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا کَانُوْا مُنْظَرِیْنَ (رح) 0029 (الدخان 44 : 29) ” پھر نہ تو آسمان ان پر رویا اور نہ ہی زمین نے آنسو بہائے اور نہ ہی انہیں اپنی حالت کی اصلاح کی مہلت دی گئی کیونکہ قانون الٰہی کے مطابق فرعون کے لوگ اپنی حالت کو ایسا ہی بنا چکے تھے۔ “ اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تمام ان رکاوٹوں کو دور کردیا جو ان کی راہ ترقی میں مختلف اسباب کی بنا پر اس وقت پیدا ہوگئی تھیں جب کہ فرعون کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے خود آگے بڑھنا چاہتے تھے۔
Ayah 2:51

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:51 in the Quran reader

جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا عہد لیا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ پر پہنچے ہی تھے کہ تم نے بچھڑے کی پرستش اختیار کرلی اور تم راہ حق [ سے ہٹ گئے

ہجرت کے بعد بنی اسرائیل کی پہلی گمراہی بچھڑے کی پرستش کرنا : 109: بنی اسرائیل فرعون سے نجات پا کر آگے بڑھے تو اب وہ ایک آزاد قوم تھے جن کے لئے قانون اور دستور العمل کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ کوہ طور پر آکر چالیس روز تک رہیں تاکہ ان کو قوم کے لئے وہ قانون اور دستور عمل دیا جائے اور دوسری طرف قوم کی آزمائش بھی ہوسکے۔ اس کی تفصیل کے لئے بائبل کی طرف مراجعت کرنا ہے تو کتاب خروج باب 24 : 31 کو ملاحظہ کریں۔ وعدنا ، وعدہ سے باب مفاعلہ ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے اس کا قبول کرنا ، یہاں چالیس راتوں کا ذکر ہے اور سورة الاعراف میں تیس راتوں کا اور پھر ساتھ ہی ارشاد ہے کہ اس کو ہم نے مزید دس راتوں کے ساتھ پورا کردیا۔ جس سے اس بات کی اللہ تعالیٰ نے خود ہی وضاحت فرمادی کہ وعدہ حقیقی طور پر چالیس ہی راتوں کا تھا جس کا تذکرہ عام انسانی بول چال کے مطابق تیس چالیس راتیں کہا گیا ہے۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنا جانشین بنایا ، یا جو از راہ انتظام ضروری تھا تو وہاں انہوں نے تیس چالیس دن ہی کا ذکر کیا اور یہ ذکر خلاف واقعہ نہیں ہے بلکہ عین محاورئہ زبان کے مطابق ہے۔ آج بھی ہم دوچار ، پانچ سات ، آٹھ دس ، دس پندرہ ، پندرہ بیس اور تیس چالیس کے الفاظ اپنی بول چال میں استعمال کرتے ہیں اور کلام الٰہی کا انسانوں کی زبان ، محاورہ ، استعارہ اور ضرب المثل اور تمثیل میں ہونا روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا زمانہ مفسرین کے بیان کے مطابق پندرہ سو قبل مسیح سمجھا گیا ہے اور سال ولادت 1520 ق م بتایا ہے اور سال وفات 1400 ق م یعنی تقریباً 120 برس عمر تسلیم کی ہے اور مؤرخین کے مطابق فرعون مصر یعنی رعمیسس ثانی کا زمانہ جس کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کا معاملہ پیش آیا تھا ساڑھے تیرہ سو قبل مسیح تسلیم کیا ہے۔ اور تاریخی واقعات میں یہ اختلاف بالکل معمول اور عام سی بات ہے اور قرآن کریم کا انداز بیان ان تاریخی تعینات میں اپنا وقت بالکل ضائع نہیں کرتا کیونکہ وہ کوئی تاریخ کی کتاب ہی نہیں ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی عارضی غیر حاضری کے زمانہ میں جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ پر تشریف لے گئے ادھر ان کی قوم نے گردو پیش کی مشرک قوموں کی دیکھا دیکھی اور مصری زمانہ میں مصر کے لوگ جس طرح گائے کی پرستش کرتے تھے اسی کے اثر سے انہوں نے ایک بچھڑے کی مورتی بنائی اور پھر اس کی پرستش شروع کردی اور یہ کام موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے ایک بااثر آدمی سامری کی شعبدہ بازی سے رواج پایا۔ اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں قوموں کی تاریخ میں آج بھی اس کی شہادتیں موجود ہیں کہ مذہبی پیشوا مذہب ہی کے نام پر اپنے آباء و اجداد کے رواجات کو دوبارہ مشتہر کرتے رہتے ہیں اور قوم کے لوگ بھی اسی اثر کے تحت جو ان کو آباء سے ورثہ میں ملتا ہے اس کو قبول کرنے کے لئے فوراً تیار ہوجاتے ہیں۔ باہر مت جائو اپنے ہاں کا مطالعہ کرو بات بالکل صاف ہوجائے گی۔ ہندوپاک میں آریہ قوم کی بہت سی باتوں کا اثر مسلمانوں پر ہوا ہے۔ جس کی مثالیں آج بھی ہمارے زمانہ میں موجود ہیں۔ ہاں زیادہ سے زیادہ صرف نام کا فرق ، وہ بھی کہیں کہیں مل سکتا ہے یہ پیر پرستی ، قبر پرستی ، عرس اور میلے ، ناچ اور بھنگڑے ، حال ومستی ، منتیں اور چڑھاوے ، تیسرے ، چوتھے ، چالیسویں اور قل کی رسمیں کہاں سے آگئی ہیں۔ ان میں سے ایک ایک کا تجزیہ کرتے جائو تو وہ سب ہندوؤں کی رسومات پر فٹ ہوتی جائیں گی جن کا اسلام کے ساتھ دور کا واسطہ بھی نہیں لیکن آج سمجھدار سے سمجھدار آدمی بھی ان کے بجالانے کے لئے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہے اور علماء ِ سوء ہیں کہ ان سب کو ثواب اور نیکی کے کام ثابت کرنے میں مصروف ہیں اور عوام ہیں کہ ان ہی رسومات کو اسلام سمجھتے ہیں۔ ایک شخص دین اسلام کا ایک کام بھی نہ کرے لیکن ان رسومات کی پابندی کرے تو وہ پکا مسلمان ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا شخص دین اسلام کا ایک ایک کام اللہ کی رضا اور رسول اکرم ﷺ کی ہدایت کے مطابق کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے لیکن ان رسومات کو ادا نہ کرے تو وہ مردود قرار دیا جائے گا۔ پھر بوالعجبی یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم گائے کی پرستش کو برا سمجھنے والے اپنے ہاں کی اس پرستش کے لئے سند جواز پیش کریں گے۔ اسی پر یہ مثل بولی جاتی ہے کہ ” ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے۔ “ ذرا غور کرو کہ بنی اسرائیل آزاد ہوچکے ہیں اب ان پر کسی انسان کی حکومت نہیں۔ ایک اللہ کے غلام ہیں ، آزاد سرزمین ہے اور وہ ہیں کہ غلامی کے اثرات اب تک ان کے دل و دماغ پر حاوی ہیں اور ان کے رگ وپے میں جاری وساری۔ جس وقت انہوں نے اس بچھڑے کو دیکھا اور اس سے ایک بےنطق آواز سنی جو ایک بھا .... ں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ فوراً سجدہ ریز ہوگئے کہ اس کی بندگی ان کا سرمایہ حیات ہے چناچہ ان کی آئندہ قومی زندگی میں اس قسم کے بکثرت واقعات پیش آئے جن سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوگئی کہ ان کا مقصد حیات صرف جمع مال و دولت تھا اور صرف اور صرف وہم پرستی تھی۔ عقل و فکر اور قومی جذبہ کی بو بھی ان میں موجود نہ تھی۔ ان میں علماء تھے لیکن وہم پرست اور جاہ پرست۔ ان میں سیاسی لیڈر تھے لیکن وہ بھی وہم پرست اور جاہ پرست اور عوام تو پہلے ہی عوام ہوتے ہیں ان کی بات ہی کیا ہے ؟ وہم پرستی کیا ہے ؟ اعتدال اور عقل کا فقدان جس کا نتیجہ افراط ہے یا تفریط۔ ہر قوم کی ہلاکت کا باعث دراصل دو ہی چیزیں ہوتی ہیں افراط اور تفریط اور یہ مترادف ہے وہم پرستی کے۔ افراط کیا ہے ؟ روحانیت میں جائز حدود سے تجاوز کرجانا۔ جیسے نصاریٰ نے عبداللہ یعنی مسیح (علیہ السلام) کو اللہ بنا لیا ہے یہ افراط ہے۔ اور تفریط کیا ہے ؟ مادیت میں بہت دور نکلا جانا۔ یعنی روحانیت کو اس کے مقام سے بھی بہت نیچے گرا دینا۔ جیسے یہودیوں نے مسیح (علیہ السلام) کے ساتھ کیا۔ کہ ان کو انسانیت کے مقام سے بھی نیچے گرا دیا العیاذ باللہ ! گویا یہ ان کی مسیح (علیہ السلام) کے متعلق تفریط تھی۔ بنی اسرائیل اس وقت دونوں غلطیوں کے مرتکب ہوگئے۔ انہوں نے بچھڑا پوجنا شروع کیا اور یہ سمجھے کہ وہ خداوند جو وراء الوریٰ ثم وراء الوریٰ ہے اس میں حلول کر گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک طرف انہوں نے افراط سے کام لیا یعنی بچھڑے کے حق میں اور اللہ رب العزت کے حق میں وہ تفریط کر گئے کہ اس کے مقام سے اس کو نیچے گرادیا۔ بھلا وہ کسی شکل و صورت میں کب سما سکتا ہے ؟ بنی اسرائیل کو بالکل یہی صورت اس وقت پیش آئی جب انہوں نے اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً کی صدا بلند کی۔ بت پرست یہی خیال کرتے ہیں اور چاہیے کہ پیر پرست اور قبر پرست اس سے عبرت پکڑیں۔
Ayah 2:52

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:52 in the Quran reader

لیکن تمہاری اس بد اعتدالی کے بعد ہم نے تم سے درگزر کی تاکہ تم اللہ کی وسعت بخشش کی قدر کرو

بنی اسرائیل کی گمراہی کی معافی کا اعلان : 110: ” ہم نے اپنی خاص رحمت سے تم سے درگزر کی ” ثُمَّ عَفَوْنَا “ کا ترجمہ و مفہوم ہے ، عفو کے اصل معنی کسی چیز کے لئے لینے کا قصد کرنا ہے۔ (راغب) اس لئے یہ لفظ دو مختلف معنوں پر بولا جاتا ہے یعنی مٹانا اور بڑھانا کے معنی کی رو سے حدیث میں آتا ہے ہمارے رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : اعفا اللحی ، یعنی داڑھی کے بالوں کو بڑھایا جائے معاف کردیا جائے کاٹنے یا کترنے سے بچایا جائے۔ “ یعنی بنی اسرائیل کا یہ بہت بڑا جرم کہ وہ شرک کے مرتکب ہوئے لیکن ہم نے اپنے قانون کے مطابق کہ کسی مجرم کو جرم کرتے ہی فوراً نہیں پکڑ لیتے ان کا اس گناہ سے درگزر کرنے ، معاف کرنے اور مٹانے کا ارادہ کرلیا گویا معاف کردیا یعنی درگزر کی اور یہ درگزر اس لئے کی تھی کہ تم شکر گزار ہوجائو۔ ادائے شکر کیا ہے ؟ 111: شکر کے معنی ہیں جو نعمت دی جائے اس کو یاد رکھنا اور اس کا ظاہر کرنا۔ (راغب) شکر تین طرح سے ہے : ! شکر قلب : یعنی دل سے شکر کرنا جو محض تصور نعمت ہوا۔ " شکر لسان : زبان سے شکر ادا کرنا یعنی دینے والے کا ثناء بیان کرنا۔ # شکر بالجوراح : یعنی اعضاء سے شکر ادا کرنا۔ یعنی نعمت کا مکافات اس کے استحقاق کے مطابق دینا اور بندہ پر یہ تینوں قسم کا شکر ادا کرنا لازم ہے اور بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ جب شکر ادا کرنا واجب ہو اور پھر شکر ادا نہ کیا جائے تو وہ گویا کفران نعمت ہے جس سے کفر لازم آتا ہے۔ اس طرح مطلب یہ ہوا کہ اگر تم شکر نہ ادا کرو گے تو گویا کفر کرو گے اس موقع پر شکر گزاری توحید وطاعت الٰہی پر ثابت قدمی دکھانا ہے۔
Ayah 2:53

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:53 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) توراۃ کی تختیوں اور حق و باطل میں فرق کرنے والی چیز کے ساتھ اترا تاکہ تم اس کی دی ہوئی ہدایت پر عمل کرو

وحی الٰہی کے نزول کا مقصد ہدایت انسانی ہے : 112: فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) کا پہاڑ پر جانا بغرض کتابت وحی الٰہی کے تھا اور وحی الٰہی کا منشا انسانی ہدایت یعنی قوم اسرائیل کی صحیح راہنمائی کرنا تھا۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو حق و باطل میں فرق کردینے والی کتاب بصورت کتابت شدہ تختیاں دی گئیں۔ جس کی کتابت خود موسیٰ (علیہ السلام) نے ہی کی تھی۔ اس جگہ تورات کو فرقان کہا گیا ہے اور قرآن کریم میں جنگ بدر کو فرقان کہا گیا ہے (الانفال 8 : 41) اور ایک جگہ قرآن کریم کو بھی فرقان کا لقب دیا گیا ہے (الفرقان 25 : 1) مؤمن کو جو ” نور “ حق و باطل میں فرق کرنے کا دیا جاتا ہے اسے بھی فرقان کہا گیا ہے (الانفال 8 : 29) اور ان سب معنوں میں ہی موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی فرقان دینے سے یہ سب معنوں کا لحاظ رکھا گیا ہے کیونکہ یہاں فرقان سے مراد ، بنی اسرائیل کے دشمنوں کی تباہی کی خبر معجزانہ طور پر دینا ہوسکتا ہے۔ فرقان تورات کا نام بھی ہوسکتا ہے۔ اس لحاظ سے کہ وہ حق و باطل میں فرق کرنے والی ہے۔ اور وہ نور بھی ہوسکتا ہے جس سے انبیاء (علیہم السلام) حق و باطل میں فرق کرتے ہیں۔ غلامی کے آثار باقیہ کا اثر : دوسری جگہ بنی اسرائیل کے دریا سے عبور ہونے کے بعد ان کی ایک گمراہی کا ذکر اس طرح بھی کیا گیا ہے کہ جب بنی اسرائیل سمندر سے پار اتر گئے اور آگے چلتے رہے تو وہاں ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ وہ اپنے بزرگوں کے بتوں پر مجاور بنے بیٹھے تھے۔ بنی اسرائیل نے کہا : اے موسیٰ ! ہمارے لئے بھی ایسے ہی معبود بنادے جیسا ان لوگوں کے لئے ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ تم پر بہت افسوس ہے کہ تم تو بالکل ایک جاہل قوم ہو۔ یہ لوگ جس طریقہ پر چل رہے ہیں بلاشبہ وہ تو تباہ ہونے والا طریقہ ہے اور انہوں نے جو یہ عمل اختیار کیا ہے وہ سراسر باطل اور جھوٹ ہے۔ بنی اسرائیل چونکہ مصری بت پرستی سے مالوف ہوچکے تھے اس لئے سینا کے بت خانے دیکھ کر ان کی خواہش بھی جاگ گئی کہ ان کی پرستش کے لئے بھی ایک ایسا ہی مقام ضرور ہونا چاہیے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی خواہشوں کے جواب میں فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لئے تلاش کروں ؟ حالانکہ وہی ہے جس نے تم کو دنیا کی قوموں پر فضیلت عنایت کی ہے۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر جانے لگتے ہیں تو اپنے بھائی ہارون سے کہتے ہیں کہ میں تو کوہ طور پر جا رہا ہوں تم میرے بعد قوم میں میرے جانشین بن کر رہو اور دیکھو سب کام اچھی طرح انجام دینا اور خرابی کی راہ سے بچنا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے مقررہ وقت کی معیاد پوری کرنے کے لئے کوہ طور پر آئے تو ان کو اپنے رب کی طرف سے ایک آواز دی گئی تو موسیٰ (علیہ السلام) آواز سنتے ہی بےاختیار ہو کر پکار اٹھے کہ اے میرے رب ! مجھے اپنا جمال دکھا حکم ہوا تو مجھے کیسے دیکھ سکتا ہے ؟ یعنی کبھی نہیں دیکھ سکتا۔ ہاں ! اس پہاڑ کی طرف نگاہ اٹھا اگر یہ تجلی حق تو دیکھ سکا تو پھر بات کرنا۔ پھر جب اس کے رب کی قدرت نے نمود کی تو وہ پہاڑ ریزہ ریزہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) غش کھا کر گر پڑے۔ جب ہوش آیا تو بولے ! اے میرے اللہ تو پاک ہے میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ پیش کرتا ہوں اور میں ان میں پہلا شخص ہوں جو مشاہدئہ الٰہی کی کبھی اپیل نہ کرنے والوں میں سے ہوں گا۔ تیرا جمال کون کہہ سکتا ہے ؟ تیری ہمکلامی کا شرف ہی میرے لئے کافی ہے۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ الواح لکھوائی گئیں جو وہ قوم کی طرف لے کر گئے۔
Ayah 2:54

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:54 in the Quran reader

اور جب موسیٰ پکار اٹھا کہ اے میری قوم ! تم نے بچھڑے کی پوجا کر کے خود اپنے آپ کو تباہ کرلیا ہے پس چاہیے کہ تم اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ملامت کرو ، اس میں اللہ کے نزدیک تمہارے لیے بہتری ہے ، پھر تمہاری توبہ قبول کرلے گا اور اللہ توبہ قبول کرنے والا درگزر کرنے والا ہے

توبہ گناہ کو کھا جاتی ہے : 113: موسیٰ (علیہ السلام) جب کتاب الٰہی کے ساتھ طور سے واپس آئے اور دیکھا کہ قوم کی اکثریت شرک کی ناپاکی میں لت پت ہے یعنی وہ ایک بچھڑے کی پوجا میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھنا تھا کہ گویا خون کھول گیا اور جلالی طبیعت کے تقاضا میں جلالت نے اپنا رنگ دکھایا۔ اپنے بھائی کو پکڑ کر خوب جھنجھوڑا اور استفسار کیا کہ تم نے میری خلافت کا کیا حق ادا کیا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ تیری قوم کو میں نے اس برائی سے روکنے کی حتی المقدور کوشش کی جس کے نتیجہ میں قریب تھا کہ وہ مجھے قتل ہی کردیتے۔ پھر مجھے قتل ہوجانے کا بھی کوئی خوف نہیں تھا۔ مجھے ڈر تھا تو صرف اس بات کا کہ قوم میں اختلاف کی بیماری پھیل کر دو ٹکڑوں میں تقسیم نہ کردے جو شرک کی بیماری سے بھی زیادہ مہلک ہوتی ہے۔ بھائی کی یہ باتیں سن کر ذرا غصہ تھما تو قوم کے لوگوں کو مخاطب کیا اور کہا کہ تم نے اپنے ہاتھوں اپنی بربادی کیوں کی ؟ اور تم اس گھناؤ نے شرک کے مرتکب کیسے ہوگئے ؟ قوم کے لوگوں نے ان شراریتوں کی مکمل نشاندہی کردی جنہوں نے اپنی شرارت سے یہ سارا تماشا کھڑ کیا تھا جن کا سردار اور لیڈر سامری تھا۔ اس مضمون کو سورة طہٰ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا اور سورة الاعراف میں کچھ حصہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ پھر قوم کے ان لوگوں کو جنہوں نے واقعہ کی پوری تفصیل بتائی اور ان شرارتیوں کی نشاندہی بھی کردیا اور ظاہر ہے کہ وہ شرارتی بھی اسی قوم کے لوگ تھے لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ان شرارتیوں کو قتل کردو کیونکہ وہ جب تک سزا نہ پائیں گے دوبارہ جرم کریں گے اور اگر ایسے وجود قوم میں رہیں گے تو کوئی نیا فتنہ کھڑا کریں گے ابھی ان کو سزا مل گئی تھی دوسروں کے لئے وہ عبرت کا موجب ہوں گے۔ اب وہ قتل ہوئے یا نہیں۔ قرآن کریم نے اس کا ذکر نہیں کیا البتہ تورات میں موجود ہے کہ ایک ہی دن میں تین ہزار آدمی قتل کردیئے گئے لیکن یہ جو کہا گیا ہے کہ اپنے آپ کو قتل کرنے کا حکم تھا کہ خود اپنی جانوں کو قتل کرو گویا خودکشی کرلو یہ کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہوسکتا۔ اپنی جانوں سے مراد قوم کے لوگ ہی ہوسکتے ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ حکم سن کر قوم نے پہلے اس سے کہ اپنے لوگوں کو قتل کرتے اپنی قوم کے لوگوں کو ساتھ لے کر اللہ سے مغفرت طلب کی ہو اور اللہ نے ان کو معاف کردیا ہو۔ جس کا ذکر آخر آیت میں کردیا گیا ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ سامری جو ان سب شرارتیوں کا سردار تھا اس کے لئے ایک خاص طرح کی سزا مقرر کی گئی تھی جس کا ذکر سورة طہٰ میں آئے گا۔ مختصر یہ کہ قتل وہ بھی نہیں کیا گیا تھا۔ اگر وہ فی الواقعہ سب کے سب قتل کردیئے گئے تھے تو مغفرت کے ذکر کی کیا ضرورت تھی ؟ اور یہ بات کہ ایک بار وہ سب قتل ہوگئے یعنی ایک دوسرے کو انہوں نے مار دیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کر کے فرمایا کہ اب تمہاری توبہ قبول ہوگئی سوائے اس کے کہ اس کو قِصّہ گوئی کہا جائے کوئی حیثیت اس کی نہیں کیونکہ قرآن کریم کی آیت میں اس کا اشارہ تک بھی موجود نہیں اور غیر مصدقہ باتوں کی نسبت قرآن کریم جیسی کتاب مبین پر زیادتی کے مترادف ہے۔
Ayahs 2:55–56

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:55 in the Quran reader

اور تم نے کہا تھا ! اے موسیٰ ! (علیہ السلام) ہم کبھی تم پر یقین کرنے والے نہیں جب تک کہ کھلے طور پر اللہ کو نہ دیکھ لیں پھر بجلی کے کڑکے نے تم کو آگھیرا اور تم دیکھ رہے تھے

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:56 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو اس ہلاکت سے بچا کر اٹھا کھڑا کیا تاکہ اپنے آپ کو نعمت الٰہی کا قدر شناس ثابت کرو

قوم بنی اسرائیل کی دوسری گمراہی : 114: اب قوم بنی اسرائیل کی دوسری کھلی گمراہی کا ذکر کیا جاتا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے تورات کی تختیاں لے کر قوم کے پاس آئے اور قوم کی گمراہی دیکھ کر جزبز ہوئے لیکن یہ وقت گزر گیا۔ قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی مل گئی تو انہوں نے ایک نئی گمراہی کا اظہار کردیا وہ یہ کہ کہنے لگے موسیٰ ! ہم تیری لائی ہوئی تعلیمات پر اس وقت ہی عمل کرسکتے ہیں جب کہ ہم ان آنکھوں سے تیرے رب کو دیکھ لیں۔ ہم تیرے ہی کہنے پر یہ کیونکر مان لیں کہ رب تیرے ساتھ ہمکلام ہوتا ہے جب کہ وہ ہمارے ساتھ ہمکلام نہیں ہوتا۔ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ستّر آدمیوں کو چن لیا تاکہ ان کو جمال الٰہی کی جھلک دکھائی جاسکے۔ یہ ستّر آدمی موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کوہ طور پر گئے یقیناً دل میں خیال ہوگا کہ جب میں (موسیٰ ) اللہ کا جمال نہیں دیکھ سکا اور اس کا کمال دیکھ کر مان گیا ، یقیناً یہ لوگ بھی جمال تو نہیں دیکھ سکیں گے لیکن کمال کی جھلک ہی ان کے ایمان کی پختگی کے لئے کافی ہوگی۔ کوہ طور پر جا کر موسیٰ (علیہ السلام) نے خود عرض پیش کی اور کہا اے اللہ ! ایک تجلی ذرا ان پر بھی ہوجائے۔ قانون الٰہی حرکت میں آیا اور سرکشوں کی سرکوبی کے لیے جو کچھ ہوتا ہے وہ ہوگیا۔ وہ ایک چیخ تھی کوئی جھٹکا تھا یا زلزلہ ، کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا سوائے ایک ہولناک آواز کے ، وہ زلزلہ کی آواز تھی یا ان زلزلہ دیئے گئیوں کی چیخ و پکار جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب کے سب بیہوش ہو کر گر پڑے جس سے ان کی قوت حس زائل ہوگئی۔ بےہوش ایسے کہ گویا مرگئے۔ یہ ماجرا اتنا تیزی سے ہوا کہ گویا وہ دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) اس تجلی رب کا ایک نظارہ پہلے کرچکے تھے وہ جلد ہی ہوش میں آگئے جب دیکھا کہ وہ سب کے سب بےحس و حرکت پڑے ہیں تو خیال ہوا کہ شاید وہ مرگئے۔ بارگاہ الٰہی میں دست بدعا ہوگئے۔ الٰہی یہ کیا اجرا ہوا کہ یہ سب کے سب مرگئے تو میری اکھڑ قوم کے لوگ کب ماننے والے ہیں وہ تو مجھ ہی پر ان سب کے مار دینے کا الزم رکھیں گے اور اگر تو ان کو مارنا ہی چاہتا تھا تو وہیں ان کے گھروں میں مار دیتا تاکہ مجھ پر یہ الزام تو نہ آتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ پھر ہم نے تم کو اس غشی کی حالت سے نکال کھڑا کیا اور تمہارے ہوش و حواس درست ہوئے اور چاہئے تھا کہ کم از کم تم کو پہلا احسان یاد نہ رہا تھا تو اس دوسرے احسان ہی کو یاد رکھتے۔ موت وحیات کا ذکر قبل ازیں بھی کیا گیا تھا اس جگہ پھر دوبارہ سمجھ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے : 1: موت کے معنی قوت نامیہ کا نہ ہونا جیسے ارشاد الٰہی ہے : یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا 1ؕ (الحدید 57 : 17) زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ کردیا یعنی جب وہ قابل پیداوار نہ رہی تو بارش برسا کر اس کو قابل کاشت بنادیا۔ 2: قوت حسی کا زائل ہونا یعنی نیم بےہوش ہوجانا ، تکلیف و دکھ میں مبتلا ہونا جیسے : یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا (مریم 19 : 23) یعنی ہائے افسوس کہ ایسا موت وحیات کا وقت اور اتنی غیر محفوظ جگہ ، کاش ! کہ میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی۔ 3: قوت عقلی کا زائل ہونا یعنی جاہل ہونا جیسے ارشاد الٰہی ہے : اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ (الانعام 6 : 122) ” کیا وہ آدمی کہ وہ مردہ تھا اور ہم نے اسے زندہ کردیا “ لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ اور اس کے لئے ایک نور ٹھہرا دیا کہ اس کے اجالے میں لوگوں کے درمیان چلے پھرے : کَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا 1ؕ اس آدمی جیسا ہوسکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور ان سے باہر نکلنے والا نہیں ؟ اور کفر و جمود کی ایک مثال یہ بھی ہے جیسے : اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ 0080 (النمل 27 : 80) بات بالکل صاف ہے کہ ایمان زندگی ہے اور کفر موت اور اوہام و ظہوں و شکوک تاریکی ، پھر کیا وہ آدمی جس کے سامنے روشنی ہو ، اس جیسا ہوسکتا ہے جس کے چاروں طرف تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہو۔ 4: وہ غم واندوہ جو زندگی کو مکدر کردیتا ہے جیسے : وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا ہُوَ بِمَیِّتٍ 1ؕ (ابراہیم 14 : 17) ” ہر طرف سے اس پر موت آئے گی مگر مرے گا نہیں۔ “ 5: موت کو نیند یعنی نوم ثقیل بھاری نیند اور نیند کو موت خفیف کہا جاتا ہے : الحمدللہ الذی احیانا بعدما اماتنا ، ” یعنی سب اچھی تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے ہم کو زندہ کیا اس کے بعد کہ ہم کو مار دیا تھا یعنی ہم کو جگایا اس کے بعد ہم کو گہری نیند سلا دیا تھا۔ “ 6: اور روح کی جسم سے مفارقت پر بولا جانا تو عام ہے جس کو سب جانتے اور سب مانتے ہیں ، جیسے : اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَٞ 0030 (صٓ 39 : 30) زیر نظر آیت میں تیسرے معنی مراد ہیں جس سے عقل ان کی زائل ہوگئی اور بےہوشی اور غشی طاری ہوگئی جس کا اصل سبب ان کی جہالت اور کم عقلی تھی۔ صاحب عقل اللہ کو دیکھ کر ہی ماننے کی ضد کب کرتا ہے ؟ وہ تو پہلے ہی مان چکا ہوتا ہے یعنی قدرت الٰہی کو دیکھ کر الٰہ حقیقی کی پہچان کرلیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرک صرف مشرک ہی نہیں ہوتا بلکہ بیوقوف بھی ہوتا ہے۔ بعثت ، موت اور حیات کے الفاظ بار بار قرآن کریم میں آئے ہیں اس لئے جہاں یہ الفاظ آئیں گے سیاق کلام خود ان کا مفہوم متعین کرے گا۔ قارئین ” عروۃ “ کو ان معنوں کی وسعت ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے۔
Ayah 2:57

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 2:57 in the Quran reader

اور (پھر وہ وقت یاد کرو کہ) ہم نے تمہارے سروں پر آبر کا سایہ پھیلا دیا اور من وسلویٰ کی اچھی چیزیں مہیا کردیں کہ انہیں خوب کھاؤ لیکن تم بدعملی سے باز نہ آئے ، غور کرو کہ تم نے ناشکری کر کے ہمارا کیا بگاڑا ؟ خود اپنا ہی نقصان کر لیا

ریگستان میں بادلوں کے سایہ کا انعام یعنی تیسرا معجزہ : 115: بنی اسرائیل کو ایسے جنگل یا ریگستان میں رہنا پڑا ، جہاں نہ تو پانی تھا اور نہ ہی کوئی درخت۔ ظاہر ہے گرمی کا موسم ، گرمی کی شدت اور مکانات وہاں موجود نہ تھے ایک طرح کی بدویانہ زندگی اختیار کرنا پڑی۔ پس ان حالات کے اندر بادل کا آنا گویا عظیم الشان نعمائے الٰہی میں سے تھا۔ حالات کی ناسازگاری کے اوقات میں حالات کا سازگار ہوجانا اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اور وقت کے نبی و رسول کی اطلاع کے بعد بروقت اس کام کا ہونا معجزہ کہلاتا ہے۔ بادلوں کا سایہ سائے کی ضرورت کے وقت احسان الٰہی ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیشگی اطلاع کے سبب اس کو معجزہ کہنا بالکل صحیح اور درست ہے۔ قرآن کریم کی زبان میں اس کو بادلوں کا سایہ کہا ہے اور یہود اسے تخت خداوندی سے یاد کرتے ہیں۔ من وسلویٰ کا نزول الٰہی : 116: ” من “ کا لفظ بھاری نعمت کے دینے پر بھی بولا جاتا ہے ” من “ اس رزق کو بھی کہتے ہیں جو بلا مشقت جسمانی میسر آجائے اور ” من “ اس چیز کو بھی کہتے ہیں جو شبنم کی طرح ایک درخت پر اترتی ہے اور اس میں ایک قسم کی مٹھاس ہوتی ہے۔ بخاری میں ہے کہ الکماۃ من المن یعنی کھمبی (Mushroom) بھی ” من “ میں سے ہے۔ سلویٰ وہ چیز جو انسان کو تسلی دے اس کے کھانے سے تسلی ہوجائے کہ غذا کھائی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ من وسلویٰ ایک ہی چیز کو کہا گیا ہے۔ بہرحال وہ جو کچھ بھی اور جیسا کچھ بھی تھا۔ بنی اسرائیل کو بغیر مشقت جسمانی میسر آیا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی اطلاع دینے کے بعد ملا تھا۔ اس لئے اس کو بھی معجزانہ طور پر دیا جانا کہا جاسکتا ہے لیکن اس کی جو صورت بھی تھی وہ ایک جیسی تھی ایسا نہیں جیسا لوگوں کے ذہن میں ہے کہ رات کو بنی اسرائیل سوتے تو صبح تک ہر قسم کے کھانے پکا کر ان کے لئے اتار دیئے جاتے تھے۔ یہ صحیح بات کو غلط یا بات کا بتنگڑ بنانے کے مترادف ہے۔ بھوک کے وقت دو کھجوریں اور سخت پیاس کے وقت دو گھونٹ باسی پانی دستیاب ہوجائے تو وہ بھی بہت بڑی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ جنگل و ریگستان کی زندگی میں ان ہزاروں انسانوں کو زندگی کی رمق باقی رکھنے کے لئے جو کچھ بھی میسر آیا وہ احسان الٰہی سے کم نہ تھا۔ اور نزول کے لفظ سے جو خواہ مخواہ کو ” بابا ٹل پکی پکائی گھل “ کے مترادف سمجھا گیا ہے یہ کم علمی اور کوتاہ اندیشی کی بنا پر ہے ورنہ قرآن کریم کی زبان میں کسی چیز کو پیدا کرنے اور بنانے کو نازل کرنے سے ادا کیا جاتا ہے۔ جیسے وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ (الحدید : 25) اور وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآىِٕنُهٗٞ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ 0021 یعنی ہرچیز کے خزانے تو ہمارے پاس ہیں اور ایک معین اندازہ کے مطابق وہ چیزیں ہمیں اس عالم میں پہنچاتے رہتے ہیں۔ جس طرح یہاں نازل کرنے سے کوئی مافوق الفطرت طریقہ مراد نہیں اسی طرح وہاں بھی کوئی خرق عادت یا مافوق الفطرت نازل کرنا مراد نہیں ہے۔ مختصر یہ کہ اس کا نام من رکھا شاید اس لئے بھی کہ وہ بطور احسان ان کو دیا گیا تھا اور سلویٰ کہ اس کے کھانے سے بھوک اتر جاتی تھی اگرچہ ایک ہی طرح کے کھانے سے وہ دل تنگ ہوچکے تھے۔ ہاں ! اتنا ظاہر ہے کہ وہ دال روٹی نہیں تھی کیونکہ دال روٹی ہی ایک ایسی چیز ہے کہ اس سے انسان کا دل تنگ نہیں پڑتا اور اگر وہ حلال و طیب طریقہ سے میسر آئے اور محنت سے کمائی جائے تو دنیا کی کوئی غذا بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ناشکری سے نقصان کس کا ہوا ؟ 117: قرآن کریم کی زبان میں جو معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ طیب کھائیں اس میں سے جو ان کو دیا جا رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جو دیا گیا وہ من وسلویٰ ہی تھا جو بغیر مشقت جسمانی ان کو مل رہا تھا۔ یاد رہے کہ ذخیرہ وہی چیزیں کی جاسکتی ہیں جو بعد میں پکا کر کھائی جاسکیں یا اتنی خشک ہوں کہ ان کو ذخیرہ کیا جاسکے ۔ جو رزق بنی اسرائیل کو مل رہا تھا وہ ذخیرہ کرنے کی چیزیں نہیں تھیں ۔ تورات کے بیان کے مطابق ان کو پہلے کہا بھی گیا تھا کہ ان چیزوں کو ذخیرہ (Store ۔ Accumulate) نہ کرنا لیکن عادت ثانیہ بھی نہ بدلنے و الی شے ہے وہ اس معمولی حکم پر بھی عمل نہ کرسکے اور اس تازہ ملنے والی غذا کو ذخیرہ کرنے لگے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گل سڑ کر خراب ہونے لگی۔ اس لحاظ سے وہ طیب بھی نہ رہی اور ایسی غذا سے کئی بیماریاں بھی پھیلنے لگیں اس طرح انہوں نے اس معمولی حکم کی بھی پروانہ کی تو اس کے نتیجہ میں نقصان بھی انہوں نے خود اپنا ہی کیا۔ بیماریوں میں مبتلا ہوئے تو وہ خود ہوئے۔ اور گلی بسی غذائیں کھانا پڑیں تو وہ انہی لوگوں کو۔ اس سے ایک عام اصول اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو سمجھا دیا کہ اللہ کے احکام کا خلاف کر کے انسان خود اپنا ہی نقصان کرتا ہے اس سے اللہ کا کوئی نقصان نہیں ہوتا اور اسی طرح جو انسان فرمانبرداری کرتا ہے اس کا فائدہ بھی اپنا ہی ہوتا ہے اللہ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نفع و نقصان سے پاک و مبرا ہے نہ اس کا کوئی نقصان کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کو کوئی نفع پہنچا سکتا ہے اگر صرف اتنی بات سمجھ میں آجائے تو انسان آخر احکام الٰہی کے خلاف کرے گا کیوں ؟ وہ جب کرے گا فرمانبرداری ہی کرے گا کل اگر بنی اسرائیل نے احکام الٰہی کی نافرمانی کی تو نقصان اپنا کیا اور آج اگر ہم احکام الٰہی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو نقصان بھی ہمارا ہی ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ تو ہر طرح کے نقصان سے پاک ہے اور رہے گا۔
Ayah 2:58

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:58 in the Quran reader

اور پھر ہم نے حکم دیا تھا کہ اس آبادی میں داخل ہوجاؤ اور کھاؤ پیو اور آرام چین کی زندگی بسر کرو ، لیکن جب شہر کے دروازے میں قدم رکھو تو تمہارے سر اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہوں اور تمہاری زبانوں پر توبہ کا کلمہ جاری ہو اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ تمہاری خطائیں معاف کر دے گا اور نیک کردار انسانوں کے اعمال میں برکت دے گا

شہر میں داخلے کا حکم : 118: اب تک یہ لوگ جنگلوں کی زندگی بسر کرتے تھے ، جہاں ایک طرف تو ضروریات حیات نہایت ہی قلیل اور مختصر تھیں۔ دوسری طرف فواحش و منہیات اور حرام کاری کے سامان بھی نایاب تھے۔ ایک مدت تک جنگل میں رہنے کے بعد ان کے دلوں میں خود بخود شہری زندگی کی آرزو پیدا ہوئی انہیں ایک شہر میں داخلہ کی اجازت تو دی گئی مگر خاص پابندی کے ساتھ ، وہ پابندی یہ تھی کہ ان سے کہہ دیا گیا کہ وہاں نفسی خواہش اور بدکاری کے مواقع تم کو کثرت سے ملیں گے اس لئے ایسی برائیوں اور بدکاریوں سے بچتے رہنا اور قانون کی خلاف ورزی نہ کرنا ، عبادت میں مصروف رہ کر گناہوں سے بچنے کے لئے اللہ سے دعا کرنا کہ وہی ہر قسم کی آلائشوں اور ناپاکیوں سے پناہ میں رکھنے والا ہے۔ اس کی رسّی ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے ۔ شہر میں داخل ہو کر کمال اطاعت و فرمانبرداری کا خیال دل میں اچھی طرح جما لو مگر یہ اتنی جھوٹ قوم تھی کہ شہر میں داخل ہوتے ہی ان سے ضبط نہ ہوسکا ، اور بدکاری و بدکرداری شروع کردی ، شراب نوشی اور زناکاری کے مرتکب ہوگئے حالت ایسی بگڑی کہ انجام کار ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا اور ہزاروں تباہ و برباد ہوئے۔ یہ شہر کونسا شہر تھا ؟ جس میں ان کو داخلہ کا حکم دیا گیا ہے کہ اس کا نام شہر سطیم یا شطیم تھا۔ چناچہ تورات میں ہے کہ ” سو بنی اسرائیل سطیم میں مقیم ہوئے اور ان لوگوں نے مو آبیوں کی بیٹیوں سے حرامکاری شروع کی۔ انہوں نے اپنے معبودوں کی قربانیوں پر لوگوں کی دعوت کی۔ سو لوگوں نے کھایا اور ان کے معبودوں کو سجدہ کیا اور اسرائیلی بعل عفور یا فغور سے ملے تب خداوند کا کہر بنی اسرائیل پر بھڑکا۔ “ (گنتی 25 : 1 ، 2 ، 3) یہ قہر الٰہی بصورت وبا تھا جیسا کہ آگے چل کر تورات میں اس کی وضاحت کی گئ۔ ” تب بنی اسرائیل سے وباء جاتی رہی وہ جو اس وباء میں مرے وہ چو بیس ہزار تھا۔ “ شہر میں فاتحانہ اور فرمانبردارانہ داخل ہونے کی تاکید : 119: معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ شہر خوب وسیع ، آباد اور پر رونق تھا۔ ایک حکم یہ ملا تھا شہر کی فصیل کے دروازے کے راستے سے داخل ہونا ہے اور فاتحانہ انداز میں داخل ہونا ہے اور عاجزی و فروتنی کے ساتھ داخل ہونا ہے۔ اتراتے ہوئے اور طمطراق سے داخل نہیں ہونا۔ یہاں سجدہ سے یہی مراد ہے نہ کہ عرفی سجدہ ۔ ہاں یہ بھی ممکن ہے کہ حکم یہ ملا ہو کر شہر میں داخل ہوتے ہی سجدہ شکر بجا لائو کیونکہ یہ بھی ایک الٰہی فرمانبرداری کا صحیح اور جائز طریقہ ہے چناچہ ہمارے رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ جب آپ ﷺ سفر سے واپس تشریف لاتے تو شہر میں داخل ہونے سے قبل یا گھر میں داخل ہونے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لیا کرتے اگر اس روایت کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ معنی اقراب الی الفہم معلوم ہوتے ہیں لیکن جو معنی اوپر بیان کئے گئے ہیں وہ بھی بالکل صاف ہیں کہ وہ جنگل سے نکل کر شہر میں آرہے ہیں جہاں خواہش نفسانی کے ازالہ کے اسباب کثرت سے ملتے ہیں۔ جنگل میں انہیں خواہشات نفسانی کے پورا کرنے کا کوئی موقع نہ تھا لہٰذا انہیں حکم دیا گیا کہ شہر سے باہر داخل ہونے سے پہلے دو رکعت نماز شکرانہ ادا کرلینا اور شہر میں داخل ہوتے وقت بھی تمہارے دل حکم الٰہی کی طرف جھکے رہیں اور خلاف ورزی کا خیال بھی نہ آنے پائے ورنہ برباد ہو جائو گے۔ دوسرا حکم انہیں استغفار کرنے کا تھا کہ زبان سے حطۃ کہتے ہوئے داخل ہونا ، یہ ایک دعائیہ لفظ ہے۔ کہ اے اللہ ! ہم سے کوئی لغزش نہ ہو اور اگر ہو تو معاف فرما دے گویا یہ ایک طرح سے انسانی کمزوری کا اعتراف ہے کہ انسان اگر گناہ سے بالکل بچ جائے تو بھی یہ نہ سمجھے کہ اس میں میرا کوئی کمال ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تسلیم کرے ، جس طرح ہم مسلمانوں کو نماز جیسی اہم عبادت سے فارغ ہو کر بلند آواز سے تکبیر کہنے اور اس کے بعد کم از کم تین بار استغفر اللہ کا کلمہ ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اے اللہ ! تو بہت بڑا ہے اور میں بالکل چھوٹا ۔ میں اعتراض کرتا ہوں کہ جس طرح نماز ادا کرنا چاہئے تھی نہیں کرسکا۔ جو مجھ سے ہوسکا منظور فرما اور جو کوتاہی ہوئی معاف فرما دے۔
Ayah 2:59

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 2:59 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے جن کی راہ ظلم و شرارت کی تھی اس بتلائی ہوئی بات کو بدل دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ظلم و شرارت کرنے والوں پر ہم نے آسمان سے عذاب نازل کیا اور در اصل یہ ان کی نافرمانی کی سزا تھی

لاتوں کے بھوت باتوں سے کب مانتے ہیں ؟ 120: جاہل اور اجڈ قوم کی یہی نشانی ہے کہ وہ کسی پابندی کو برداشت نہیں کرسکتی ۔ وہ بےلگام گھوڑے کی طرح چھوٹ ہوتی ہے جو منہ میں آیا کہہ دیا۔ جو جی میں آیا کرلیا۔ بالکل یہی حال بنی اسرائیل کا تھا ۔ انہوں نے دونوں احکام کی کوئی پروانہ کی ۔ زنا کے مرتکب ہوئے۔ گناہوں میں مبتلا ہوئے ۔ شرک جیسی نا پاکی و رجس سے وہ اپنے آپ کو نہ بچا سکے ۔ جو ماں کا نہ ہو وہ ماسی کا کیسے ہوگا ؟ کی مثل کے مطابق شریعت کے احکام واوامر کی عزت ان کے دلوں میں کیونکر آسکتی تھی ؟ بلکہ وہ تو ان کو تمسخر اور استہزاء کی نظر سے دیکھتے اور ان پر طرح طرح سے نکتہ چینی کرتے انہوں نے سجدئہ شکر ادا کرنے کی بجائے شہنائیوں اور باجے و ڈھولک سے کام لیا۔ شہر میں داخل ہو کر خوب عیش و عشرت کا جشن منایا۔ ناچنے اور کو دنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور زبان سے حطۃ کی بجائے حنطۃ یا حبۃ فی شعرۃ کے الفاظ کہے یعنی گندم گندم کی نعرہ بازی کی اور بالیوں کے دانوں کا راگ گایا۔ اور اس عارضی زندگی کی خوشحالی کو دیکھ کر آخرت کو بالکل بھول ہی گئے۔ یہ ان کے تمسخر کی انتہا تھی کہ شرعی احکام کی ذرّہ برابر بھی عزت ان کے دلوں میں نہ تھی۔ جب انہوں نے شریعت کے ساتھ استہزاء کیا اور طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا ہوگئے تو اللہ کے غضب نے انہیں آلیا اور اس دنیا میں انہیں دکھا دیا گیا کہ نافرمانی کی سزا اسی طرح دی جاتی ہے اور نافرمانوں کا انجام اسی طرح ہوتا ہے کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ رجز کے معنی عذاب کے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : (إِنَّہ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَکُمْ ) (مسلم : 1280) یعنی رجز وہ ہے جس کے ساتھ بعض قوموں کو عذاب دیا گیا۔ جب انسان ناپاکی اور رجس یعنی کفر و شرک کی راہیں اختیار کرتا ہے تو اسکے موافق اسکو سزا بھی ملتی ہے اور جب حد سے زیادہ ناپاکی بڑھ جاتی ہے تو اسکی سزا اسی دنیا یعنی دارالعمل میں بھی آجاتی ہے ۔ ” مِّنَ السَّمَآءِ “ فر ما کر اشارہ دے دیا کہ وہ عذاب دارصل عذاب الٰہی تھا۔ یعنی وہ آسمانی حاکم کی طرف سے نازل ہوا تھا ۔ جو ان کے گناہوں کی پاداش کے طور پر دیا گیا۔ یہ عذاب تھا کس صورت میں ؟ روایات میں طاعون کا ذکر بار بار آیا ہے جو وبائی امراض میں سے ایک نہایت ہی مہلک مرض ہے۔