Ayah 2:233دودھ پلانا ماں کی ذمہ داری ہے :
396: دودھ پلانا دیانتاً ماں کے ذمہ لازم وضروری ہے۔ بلاعذر کسی ضد یا ناراضگی کے سبب ماں اگر دودھ نہ پلائے تو گنہگار ہوگی نیز یہ بھی کہ دودھ پلانے پر شوہر سے کوئی اجرت و معاوضہ نہیں لے سکتی۔ اس لئے کہ یہ اس کا اپنا فرض اور ذمہ داری ہے۔
دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے۔ اس زمانہ میں خاوند اپنی حیثیت کے مطابق تمام مصارف برداشت کرے گا۔ دودھ کی مدت پورے دو سال ہے اگر کوئی امر مانع نہ ہو تو بچے کا گویا یہ حق ہے کہ اس کی مدت رضاعت پوری کی جائے۔ لیکن بعض نے دودھ کی مدت ڈھائی سال تک بھی بیان کی ہے کہ اجازت ہے کہ اگر کوئی ماں اپنے بچے یا بچی کو اڑھائی سال تک دودھ پلانا چاہے تو پلا سکتی ہے لیکن جس آیت سے انہوں نے استدلال کیا ہے وہ استدلال صحیح نہیں ہے اگرچہ بچہ کی کمزوری کے باعث مدت اڑھائی سال کرنا ممکن بھی ہو۔ جس آیت سے استدلال کیا گیا وہ یہ ہے فرمایا :
وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 1ؕ (46 : 15) کیونکہ اس میں واضح لفظ حَمْلُهٗ بھی موجود ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ حمل و رضاعت دونوں کی مدت گویا تیس ماہ ہوئی اور خاص خاص حالتوں میں بچہ چھ ماہ کا بھی وضع ہوجاتا ہے اس لئے چھ ماہ تو وہ اس مدت سے نکل گئے اور باقی وہی دو سال رہ گئے۔ اڑھائی تو تب ہوئے جب اس آیت میں ” حَمْلُهٗ “ کا لفظ کم ازکم نہ ہوتا۔
ہاں اس کی بھی وضاحت ہوگئی کہ اگرچہ دودھ پلانا ماں کے ذمہ ہے اور یہ ذمہ داری جس وقت تک بچے کی ماں ، بچے کے باپ کے نکاح میں یا عدت میں ہے اس وقت تک ہے اور طلاق اور عدت پوری ہونے کے بعد نفقہ زوجیت تو ختم ہوجائے گا مگر بچہ کے دودھ پلانے کا معاوضہ دینا باپ کے ذمہ لازم ہوجائے گا اور پوری مدت لازم رہے گا۔
ایک بات یہ بھی معلوم ہوگئی کہ نفقہ باپ کی حیثیت کے مطابق ہوگا وہ اگر غریب ہے توغریبانہ اور امیر ہے تو امیرانہ لیکن اس کا فیصلہ رضامندی سے کرنا ہوگا خواہ خودہی رضامندہو جائیں یا بذریعہ عدالت یا پنجائیت۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ عورت اگر مالدار گھرانے کی ہے تو اس کی حیثیت کے مطابق دیکھا جائے گا بلکہ یہ والد کی حیثیت کے مطابق ہوگا۔
” وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ 1ۚ“ کے الفاظ نے یہ بھی بتادیا کہ اگر بچہ یتیم ہوجائے تو بچے کو دودھ پلانے یا پلوانے کی ذمہ داری اس شخص پر لازم ہے جو بچہ کا جائز وارث ہو۔
ماں باپ مشورہ کر کے اتفاق رائے سے بچے کو دودھ پلانے کی مدت کم کرسکتے ہیں :
397: اگر بچے کے ماں باپ دونوں آپس کی رضا مندی سے چاہیں تو باہمی مشورہ سے شیر خوارگی کی مدت کو دو سال سے کم بھی کرسکتے ہیں خواہ ماں کی معذوری کے سبب یا بچے کی کسی بیماری کے سبب یا بچے کے باپ کی کسی ضرورت کے پیش نظر۔ آپس کے مشورے اور رضامندی کی شرط اس لئے لگائی کہ دودھ چھڑانے میں بچے کی مصلحت پیش نظر ہونی چاہئے اور اگر کوئی دوسری ضرورت لاحق ہو تب بھی بچے کی نگہداشت تو تب ہی ممکن ہے جب دونوں کے مشورہ سے بات طے پائے گی۔ اگر ماں دودھ پلانے کا ارادہ رکھتی ہو تو باپ اس پر سختی نہ کرے اور ماں کے پیش نظر کوئی مصلحت دودھ چھڑانے کی ہو تو باپ بلاوجہ اس کو تنگ نہ کرے۔ آپس میں لڑائی جھگڑا کر کے بچہ کو تختہ مشق نہ بناؤ ۔
ماں کے سوا دوسری عورت کا دودھ پلوانے کے شرعی احکام :
398: اگر تم چاہو اپنے بچے کو ماں کے دودھ کے علاوہ کسی عورت کا دودھ پلواؤ توپلوا سکتے ہو جب ان احکام کی پابندی کی جائے جو اس پر عائد ہوتے ہیں۔ یعنی اگر تم چاہو کہ اپنے بچوں کو کسی مصلحت سے ماں کی بجائے کسی انّا کا دودھ پلواؤ تو اس میں بھی کچھ گناہ نہیں۔ شرط یہ ہے کہ دودھ پلانے والی کی جو اجرت مقرر کی گئی وہ پوری پوری ادا کردیں اور اگر اس کی مقررہ اجرت نہ دی گئی تو گناہ باپ پر ہوگا کیونکہ وہی دوسری جگہ سے دودھ پلوانے کا انتظام کرے گا اور اسی پر لازم ہے۔
معلوم ہوا کہ ماں دودھ پلانے پر راضی ہے لیکن باپ یہ دیکھتا ہے کہ ماں کا دودھ اب بچے کے لئے مضر ہے کیونکہ وہ بات اچھی طرح سمجھ سکتا ہے یا اس کو کوئی نفسانی چیز مجبور کرتی ہے کہ ماں دودھ نہ پلائے تو وہ ماں کو دودھ پلانے سے روک سکتا ہے۔ پھر یہ کہ جس عورت کو اس خدمت کے لئے رکھا جائے اس سے پوری وضاحت معاملہ تنخواہ وغیرہ طے کرلیا جائے تاکہ بعد میں کوئی بات جھگڑے کا باعث نہ ہو کیونکہ اس سے بچہ کی صحت پر بھی اثر پڑے گا اور وقت پر اجرت بہم بھی پہنچائے۔
اس سے یہ بات بھی نکل آتی ہے کہ اگر کسی عورت کا بندوبست نہ کیا جائے گا بلکہ کسی اور دودھ کا بندوبست کرلیا جائے جیسے بکری ، گائے وغیرہ کا جس سے بچے کی صحت بحال رہے اور اس کی پرورش اچھے طریقے سے ہوتی رہے تو جائز اور درست ہے لیکن اس کے مصارف بھی باپ کے ذمہ لازم ہیں اس معاملہ میں جو قدم بھی اٹھایا جائے خوب سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے کیونکہ بار بار دودھ تبدیل کرنے سے بچہ کی صحت متاثر ہونے کا خطرہ ضرور ہے۔
Ayah 2:234خاوند وفات پاجائے تو عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی :
399: پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ طلاق والیوں کی عدت تین قرؤ ، تین حیض یا تین مہینے تھی ۔ اب ان عورتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کے خاوند وفات پاجائیں ان کی عدت چار مہینے دس دن ہے بشرطیکہ وہ حاملہ نہ ہوں۔ اگر حاملہ ہوں خواہ طلاق والیاں یا جن کے خاوند وفات پاجائیں تو پھر ان کی عدت وضع حمل ہوگی خواہ حمل عدت کے اندر وضع ہوجائے یا مدت عدت کے بعد۔ طلاق والیاں عدت کے دن اس گھر میں گزاریں جس میں ان کو طلاق ہوئی لیکن اگر ناچاقی زیادہ ہوجائے تو وہ اور بات ہے جن عورتوں کے خاوندوفات پاجائیں ان کی عدت اپنے خاوند ہی کے گھر میں پورا کرنا ضروری ہے اور خصوصاً رات کو کسی دوسرے گھر میں نہیں رہ سکتی۔ زمانہ عدت میں خوشبو لگانا ، بناؤ سنگھار کرنا ، سرمہ ، تیل ، مہندی بلاضرورت استعمال کرنا منع ہے۔ عدت پوری ہوجانے کے بعد ان کو نکاح ثانی کرنے کی اجازت ہے۔ جو چیزیں عدت کے دنوں میں منع تھیں ان کی ممانعت بھی اب باقی نہ رہی۔
مدت عدت کے اندر بات واضح ہوجائے کہ عورت حاملہ ہے خواہ وہ طلاق والی ہو یا خاوند وفات پا گیا ہو تو عدت کی مدت تین ماہ سے بڑھ کر یا دوسری صورت میں چار مہینے دس دن سے بڑھ کر وضع حمل ہوجائے گی۔ مدت عدت گزرنے کے بعد عورت آزاد ہے اب اس کی مرضی ہے تو نکاح فوراً کرلے یا اگر میکے والے ہیں تو وہ ان کے پاس رہنا چاہے تو رہ سکتی ہے تم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
Ayah 2:235دوران ِعدت عورت کو نکاح کا پیغام دیا جاسکتا ہے :
400: عدت کے زمانہ میں صرف اشارۃً عورت کو نکاح کا پیغام دیا جاسکتا ہے۔ عدت ختم ہونے سے قبل نکاح کرنا حرم ہے پیغام حرام نہیں لیکن اس بات کو دل میں بھی رکھا جاسکتا ہے تاکہ عدت ختم ہوتے ہی واضح پیغام بھجواسکے اور اشارۃً پیغام پہنچانے میں یہ بھلائی رکھی گئی ہے کہ عورت بھی اپنے متعلق عدت کے دنوں ہی میں کوئی فیصلہ کرلے کہ اب اس کو کیا کرنا ہے لیکن عدت کے دوران کسی مرد کا عدت والی عورت سے یا عدت والی عورت کا کسی مرد سے قول وقرار کرنا جائز نہیں۔ اشارۃً پیغام پہنچانا اور قول وقرار کرنے میں جو فرق ہے وہ سب پر واضح ہے اور اللہ تعالیٰ انسان کے دل کے رازوں کو بھی جانتا ہے۔
اس لئے چوری چھپے عدت والی عورت سے وعدہ و عید مناسب نہیں کیونکہ اس میں بہت سے مفاسد کا دروازہ کھل سکتا ہے اللہ تعالیٰ تو اصلاح پسند ہے ، فساد پسند نہیں۔ وعدے کرنا اور بھی چھپ چھپا کر اس میں افساد کا پہلو نمایاں ہے۔
Ayah 2:236نکاح کیا لیکن مہر مقرر نہیں کیا پھر خلوت صحیحہ بھی نہ ہوئی کہ طلاق کی نوبت آگئی ؟
401: نکاح کے وقت مہر مقرر نہ ہوا ہو تو بھی نکاح صحیح ہے لیکن ایسی عورت کو اگر صحبت اور خلوت صحیحہ سے قبل ہی طلاق دے دی تو مہر کیا ہوگا ؟ مہر کچھ بھی ادا نہیں کرنا ہوگا۔ لیکن یہ تو ایک قانونی صورت ہوئی کہ کچھ ادا نہ کرنا پڑا۔ اخلاق بھی تو آخر کوئی چیز ہے ؟ اخلاقی لحاظ سے ضروری ہے کہ مرد جس نے نکاح کیا تھا اپنی حیثیت کے مطابق عورت سے نیک سلوک کرے اور کچھ نہ کچھ اس کو دے دے اور نہیں تو کپڑوں کو جوڑا ہی سہی۔ اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق جو کچھ زیادہ سے زیادہ کرو گے وہ تمہارے حق میں نیکی لکھی جائے گی اور تمہارے کردار کی بلندی معلوم ہوجائے گی کہ تم کتنے بلند کر دار ہو۔
Ayah 2:237نکاح کیا ، مہر بھی مقرر ہوگیا لیکن صحبت میسر نہ آئی کہ طلاق کی نوبت آگئی ؟
402: ایک صورت یہ ہے کہ نکاح کے وقت مہر معین ہوچکا تھا لیکن خاوند نے بغیر صحبت یا بغیر خلوت صحیحہ کے اس کو طلاق دے دی۔ تو اب خاوند کے ذمہ نصف مہر ادا کرنا واجب ہوگا۔ ہاں ! اگر عورت خود ہی مہر لینا پسند نہیں کرتی یعنی نصف مہر جو اس کا شرعی حق تھا قبول نہیں کرتی یا چھوڑ دیتی ہے تو یہ دوسری بات ہے۔ یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ نکاح کرنے والا جس نے بغیر خلوت صحیحہ کے طلاق دی ہے وہ نصف مہر ادا کرنے کی بجائے سارا مہر ادا کردے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں بلکہ یہ صورت اس سے زیادہ بہتر ہے کہ عورت اپنا حق معاف کرے مرد ہی کو معاف کردینا چاہئے اور مکمل مہر ادا کردینا مناسب ہے چناچہ آخر میں ارشاد الٰہی بھی خاوند ہی کو مخاطب کر کے یہ کہہ رہا ہے کہ اگر توعفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے پورا مہر ادا کردے تو یہ طہارت وتقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اس سے وہ فضیلت جو مر دکو عورت پر دی گئی ہے اس کی روح بھی برقرار رہتی ہے اور یہ احسان و مروت اور ایک اچھا طرز عمل ان شاء اللہ اچھے نتائج ہی پیدا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کے اعمال کو بھی دیکھتا ہے اور ان کی نیتوں کو بھی خوب اچھی طرح جانتا ہے۔
” جس کے ہاتھ میں معاہدہ نکاح ہے “ کے الفاظ نے یہ بات واضح کردی کہ معاہدہ نکاح کا مالک خاوند ہے لہٰذا طلاق بھی وہی دے سکتا ہے۔ عورت کو طلاق دینے کا حق نہیں ہاں ! طلاق لینے کا حق یا اختیار ہونا دوسری بات ہے جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔
Ayah 2:238مسائل طلاق جاری تھے کہ اچانک نماز کا ذکر چھیڑدیا کیوں ؟
403: گذشتہ آیات میں نکاح و طلاق کے مسائل بیان کئے گئے ممکن تھا کہ بعض لوگ دنیاوی مسائل خیال کر کے ان کی پابندی نہ کرتے اس غلط فہمی کا دور کرنے کے لئے فوراً نماز کی محافظت کا حکم دیا اور بتا دیا کہ نکاح و طلاق اور نماز کے احکام میں فرق کرنا ٹھیک نہیں بلکہ جس طرح نماز کی محافظت اور اس کے اوقات وارکان کا خیال رکھنا ضروری ہے ایسے ہی ان مسائل کا بھی لحاظ کرنا لازم و ضروری ہے جس طرح وہ دین اسلام کا ایک رکن ہے بالکل اسی طرح یہ احکام بھی دین اسلام کا حصہ ہیں۔ جس طرح ان کی ادائیگی فرائض واجبات اور سنن کی صورت میں ہے اسی طرح ان مسائل میں بھی فرائض وواجبات اور سنن کا درجہ موجود ہے ۔ یاد رہے کہ اس روح اور حقیقت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
نمازِ وسطیٰ کونسی نماز ہے اور اس کی خصوصاً تاکید کیوں ؟
404: اصل میں لفظ ” صلوٰۃ الوسطی “ استعمال ہوا ہے اور ” وسطی “ کے معنی بیچ والی چیز کے بھی ہیں اور ایسی چیز کے بھی جو اعلیٰ اور اشرف ہو۔ اس لئے صلوٰۃ وسطی سے مراد بیچ کی نماز بھی ہوسکتی ہے اور ایسی نماز بھی جو صحیح وقت پر پورے خشوع و خضوع اور توجہ الیٰ اللہ کے ساتھ پڑھی جائے اور جس میں نماز کی تمام خوبیاں موجود ہوں پھر بعد کا فقرہ خود اس کی تشریح کر رہا ہے کہ ” اللہ کے حضور اس طرح کھڑے ہو کہ ادب و نیاز میں ڈوبے ہوئے ہو۔ “ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ 00238 اس نماز سے مراد بعض مفسرین نے صبح کی نماز لی ہے بعض نے ظہر کی ، بعض نے مغرب اور بعض نے عشاء کی اور سب سے زیادہ اقوال نماز عصر کے حق میں ہیں ۔ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس نماز یعنی نماز عصر کو صلوٰۃ وسطیٰ قرار دیا ہے لیکن جس واقعہ سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے وہ صرف ایک استدلال کی حد تک ہی کہا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ کے ارشاد سے یہ استدلال کیا گیا ہے۔ صراحت اس میں موجود نہیں۔
نماز عصر مراد لینے والوں نے ایک یہ استدلال بھی قائم کیا ہے کہ ” بیچ والی نماز “ مراد ہے اور وہ عصرہی ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے ایک طرف دو نمازیں دن کی ہیں یعنی فجر اور ظہر اور دوسری طرف دو نمازیں رات کی ہیں یعنی مغرب اور عشاء۔
پھر یہ بھی استدلال کیا ہے کہ اس کی تاکید دوبارہ اس لئے کی گئی ہے کہ اکثر لوگوں کے لئے یہ وقت کام کاج کی مصروفیت کا ہوتا ہے کیونکہ آگے دن غروب ہورہا ہے اور ہر ایک کو اپنے کام کی تکمیل کے لئے بھاگ دوڑ اور جلدی ہے پھر مشاہدہ بھی ہے کہ یہی نماز ہے جو اکثر لوگ زیادہ ہی لیٹ کر کے پڑھتے ہیں حالانکہ نماز اول وقت پڑھنے کی تاکید احادیث میں روز روشن کی طرح واضح ہے۔
Ayah 2:239دشمن کا خوف دامنگیر ہو تو بھی نماز ادا کرنا ہوگی ہاں ! اس کی صورت کچھ بدل جائے گی :
405: عام طریقہ نما زجو کسی سے بھی پوشیدہ نہیں کے مطابق نماز باجماعت دشمن کے خوف کی وجہ سے ادا نہ کی جاسکے تو اس کی صورت بدل سکتی ہے جیسا کہ نماز خوف کے بیان میں وضاحت موجود ہے گویا اسلام کی یہ روزانہ پنج وقتہ پریڈ یا دربار الٰہی میں حاضری اس درجہ اہمیت رکھتی ہے کہ وہ بالکل معاف تو عین حالت جنگ میں بھی نہیں ہوتی۔ نماز کی محافظت کا حکم بہر حال قطعی اور دائمی ہے۔ ترک ِنماز کی اجازت اس خطرہ کے حال میں بھی نہیں البتہ رعایت ماحول کی پوری گنجائش دوسرے موقعوں کی طرح اس محل میں بھی رکھ دی گئی ہے۔ ہاں ! نماز خوف کے لئے جو رعایت رکھی گئی ہے اس سے فائدہ حالت خوف ہی میں اٹھانا چاہئے۔ جب خوف جاتا رہے اور امن ہوجائے تو اب نمازوں کو قاعدوں کے موافق ادا کرنا ہی ضروری ہے۔ وہ طریقہ نماز جو تم کو سکھایا ، بتایا اور سمجھایا گیا ہے تم کو خود بخود معلوم نہیں تھا ۔ مطلب یہ ہے کہ نماز کو بڑے ادب و احترام اور سکون و اطمینان سے ادا کرو کہ اب تم امن و سکون میں ہوچکے ہو۔
Ayah 2:240بیوہ عورتوں کے لئے عدت کے علاوہ بھی مزید رعایت رکھی گئی ہے :
406: ایام جاہلیت میں دستور تھا کہ جس عورت کا خاوند مر جائے وہ ایک سال تک دوسری شادی نہ کرے گویا اس کی یہ مدت عدت تھی۔ اسلام نے اس دستور کی اصلاح کی اور چار ماہ دس روز عدت کے لئے ضروری قرار دیئے گئے اور باقی کو ختم کردیا گیا۔ ہاں ! خاوند اگر مرتے وقت وصیت کر جائے کہ اس بیچاری کو عدت کے گزرتے ہی گھر سے نکال نہ دینا بلکہ ایک سال تک اس کے قیام و طعام کا بندوبست کردینا یہ تم پر لازم ہے تو یہ اور بات ہے ۔ لیکن اگر وہ خود بخود جانا چاہے اور عدت کے دن پورے کر کے نکاح ثانی کرلے یا کسی دوسری جگہ رہنا چاہے تو آپ بھی اس کو مجبور نہ کریں ۔ کیونکہ یہ وصیت عورت کی خیر خواہی میں ہے۔
عام مفسرین کا خیال ہے کہ ایک سال تک گھر میں عورت کو رکھنے اور سامان دینے کا حکم منسوخ ہوچکا ہے اس لئے کہ اب مدت عدت ایک سال کی بجائے چار مہینے دس دن اللہ نے مقرر کردی ہے۔ جس سے یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ خاوند اپنی بیوی کے لئے ایک سال کے مصارف کی وصیت کرے اور سورة نساء میں بیوی کا حصہ مقرر کردیا گیا ہے اس لئے بھی وصیت کا حق اب منسوخ ہوگیا مگر ہمارے نزدیک یہ بات صحیح نہیں یعنی مفسرین کا یہ بیان قرآن کریم کی صحیح ترجمانی نہیں کرتا۔
! : اس آیت میں وصیت کا حکم ہے اور وصیت کا حکم کسی کے حق میں بھی منسوخ نہیں جیسا کہ وصیت کی آیات کا نظم خود بتا رہا ہے ۔ پھر اس آیت میں یہ حکم بھی موجود ہے کہ اگر وہ ایک سال پورا نہ کریں اور چار ماہ دس دن گزرنے کے بعد نکاح کرلیں تو سال بھر تک ان کو بند رکھنا اور ان کی ضروریات زندگی ادا کرنا ضروری نہیں۔ پس اس حکم وصیت ہی سے یہ بات واضح ہوگئی کہ عدت اور چیز ہے اور سال تک انتظار اور چیز ہے۔
" : خوردونوش کا جس قدر سامان دیا جائے گا اس کا وراثت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام عورتوں کے ساتھ احسان ومروت کا آرزو مند ہے اور وہ سلوک یہی ہوسکتا ہے کہ مہر کے علاوہ ایک سال تک خاوند کی وصیت کے مطابق اپنی طرف سے اس کے کھانے پینے اور رہائش کا انتظام کردیا جائے۔
#: بخاری نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ : (قَالَ جَعَلَ اللّٰهُ لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِینَ لَیْلَةً وَصِیَّةً إِنْ شَاءَتْ سَکَنَتْ فِی وَصِیَّتِهَا وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ ) (بخاری کتاب التفسیر ، حدیث : 1709) اس نے کہا کہ چار ماہ دس روز کے علاوہ
سال کا بقیہ حصہ سات ماہ بیس روز بطور وصیت کے قرار دیئے گئے ہیں اگر عورت چاہے توایام وصیت میں رہے اور اگر اسکی مرضی ہو تو چلی جائے۔
ہاں ! زمانہ عدت میں عورت کو اسی گھر میں رہنا چاہیے جہاں اس کے شوہر نے وفات پائی یا عرف میں اس کے شوہر کا گھر ہے۔ دن کے وقت وہ کسی خاص ضرورت کے لئے باہر جاسکتی ہے۔ اگرچہ اس مسئلہ میں صحابہ کرام ؓ کا اختلاف بھی موجود ہے۔