Ayah 2:166وہ وقت یاد کرو جب پیشوا اپنے پیروئوں سے بیزار ہوں گے :
293: فرمایا وہ دن ایسا دن ہے کہ جن جن کو ان لوگوں نے اپنا پیشوا بنا رکھا تھا وہ سب ان سے الگ ہوجائیں گے۔ فرشتے کہیں گے کہ اے اللہ ! ہم ان سے بیزار ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے ۔ اے اللہ تو پاک ذات ہے تو ہی ہمارا ولی ہے یہ لوگ تو جنات کی عبادت کرتے تھے انہی پر ایمان رکھتے تھے۔ اسی طرح جنات بھی ان سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور صاف صاف ان کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت سے انکار کریں گے ایک جگہ فرمایا :
وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ0081 كَلَّا 1ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا (رح) 0082
(مریم 19 : 81 تا 82)
” اور ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بنا لیا ہے (اور ان کو پکارنے لگے ہیں) کہ ان کے مددگار ہوں۔ لیکن ہرگز ایسا ہونے والا نہیں ، وہ ان کی بندگی سے صاف انکار کر جائیں گے ، وہ الٹے ان کے مخالف ہوں گے۔ “
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا فرمان ہے کہ : ” تم نے اللہ کے سوا اپنے بزرگوں کے بنائے ہوئے بتوں کی محبت دل میں بٹھا کر ان کی پوجا شروع کردی ہے قیامت کے دن وہ تمہاری عبادت کا انکار کریں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانا جہنم ہوگا اور تمہارا مددگار کوئی نہ ہوگا۔ “
اور ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں ہے :
” یہ ظالم رب کے سامنے کھڑے ہونگے اور اپنے پیشوائوں سے کہہ رہے ہونگے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان دار بن جاتے وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تم کو اللہ کی عبادت سے روکا ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم خود مجرم تھے وہ کہیں گے تمہاری دن رات کی مکاریاں ، تمہارے کفریہ احکام تمہاری شرک کی تعلیم نے ہمیں پھانس دیا۔ اب سب کو اندرونی ندامت ہوگی اور ان کی گردنوں میں نا کے اعمال کے طوق ہوں گے۔ “
اور ایک جگہ ہے کہ ” اس دن شیطان بھی کہے گا کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا اور میں نے تمہیں جو سبز باغ دکھا رکھا تھا وہ محض دھوکا تھا تم پر میرا کوئی زور نہ تھا مگر میں نے تمہیں کہا تم نے منظور کرلیا اب مجھے ملامت کرنے سے کیا فائدہ ؟ اپنی جانوں کو لعنت ملامت کرو نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری۔ میں تمہارے اگلے شرک کا انکاری ہوں۔ جان لو کہ ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ “
Ayah 2:167مریدین کی حسرت کہ کاش ایک بار ہم کو دوبارہ دنیا میں لوٹا دیا جائے :
294: فرمایا پھر وہ عذاب دیکھ لیں گے اور تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے نہ کوئی بھاگنے کی جگہ رہے گی اور نہ چھٹکارے کی کوئی صورت نظر آئے گی۔ دوستیاں کٹ جائیں گی اور رشتے ٹوٹ جائیں گے۔ بلا دلیل باتیں ماننے والے اور بےوجہ اعتقاد رکھنے والے اور پوجا پاٹ اور اطاعت کرنے والے جب اپنے پیشوائوں کو اس طرح بری الذمہ ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو نہایت حسرت و یاس سے کہیں گے کہ اگر اب ہم دنیا میں پھرجائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہوجائیں جیسے یہ ہم سے ہوئے نہ ان کی طرف التفات کریں گے نہ ان کی بات مانیں گے نہ انہیں شریک خدا سمجھیں گے بلکہ اللہ وحدہ کی خالص عبادت کریں گے۔ فرمایا لوٹایا تو جا نہیں سکتا کیونکہ یہ قانون الٰہی کے خلاف ہے اور اللہ اپنے قانون کے خلاف ہرگز نہیں کرتا۔ لیکن بالفرض ان کو لوٹا بھی دیا جائے تو وہی کریں گے جو اس سے پہلے کرتے رہے : وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ ۔
فرمایا : انہیں اللہ تعالیٰ ان کے کرتوت اس طرح دکھائے گا ان پر حسرت و افسوس ہے یعنی اعمال جو نیک تھے وہ تو ویسے ہی ضائع ہوگئے کیونکہ ان کے اعمال کی مثال راکھ کی طرح ہے جسے تند ہوائیں اڑا دیں۔ ان کے اعمال ریت کی طرح ہیں جو دور سے پانی دکھائی دیتا ہے مگر پاس جائو تو ریت کا تودہ ہوتا ہے اور آخر میں یہ فرما دیا کہ اب یہ لوگ آگ سے نکلنے والے نہیں کیونکہ مشرکین کے لئے دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے اور یہاں سے نجات کی اب کوئی صورت نہیں۔
مختصر یہ کہ دنیا کی زندگی میں بھی بارہا تجربہ ہوتا ہے کہ ایک جھوٹے انسان کی تقلید آنکھیں بند کر کے شروع کی جاتی ہے۔ حکو مت کے آگے اندھا دھند سجدہ کیا جاتا ہے مگر عین وقت پر آ کر ان میں سے کوئی چیز بھی کام نہیں آتی۔ ہر ایک اپنی براءت و پاک دامنی کا اظہار کرتا ہے اور وہ شخص بےیارومددگار رہ جاتا ہے ، یہ تو دنیا کا حال ہے۔ قیامت کی کیفیت اس سے زیادہ دردانگیز ہے جن لوگوں کو آج خدا بنایا جا رہا ہے ان کے سامنے نذرو نیاز پیش کی جاتی ہے مرنے کے بعد ان کی قبروں کے گرد طواف کیا جاتا ہے اور انہیں سجدہ گاہ بنا لیا جاتا ہے وہ اس روز صاف صاف کہہ دیں گے کہ ہم نے ان سے اپنی عبادت کے لئے کبھی نہیں کہا تھا۔ حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی قیامت کے روز سوال ہوگا کہ کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اپنا معبود بنا لو تو وہ جواب دیں گے میرے اللہ ! میں نے تو ان کو وہی کہا جو تو نے مجھے حکم دیا تھا یعنی یہ کہ اللہ کی عبادت کرو وہی میرا اور تمہارا رب ہے یہ مضمون سورة المائدہ کی آیت ایک سو سترہ میں بیان کیا گیا۔
یہ تو ایک پیغمبر معصوم کا حال تھا اب ان معبود انِ باطل کی کیفیت بھی ملاحظہ ہو : ” جس روز اللہ کافروں کو اور ان معبودوں کو جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اپنے حضور میں جمع کرے گا پھر پوچھے گا کہ کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی رستے سے بھٹک گئے تھے ان کے معبود عرض کریں گے کہ تو پاک ہے ہم کو یہ بات کسی طرح زیبا ہی نہ تھی کہ تیرے سوا اپنے لئے دوسرے کار ساز بناتے بلکہ بات یہ تھی کہ تو نے ان کے بڑوں کو آسودگیاں دیں یہاں تک کہ تیری یاد بھلا بیٹھے اور یہ آپ ہی ہلاک ہونے والے لوگ تھے ، ،۔ یہ مضمون سورة الفرقان کی آیت 19` 18 میں بیان کیا گیا۔
جب ان مشرکین کے اسباب شفاعت ناکام ثابت ہوں گے تو غصہ و انتقام کے مارے دنیا میں دوبارہ جانے کی کوشش کریں گے یعنی آرزو کریں گے کہ اے اللہ ! ایک بار دنیا میں لوٹا دے کہ ان معبودان باطل سے ہم بھی اپنی علیحدگی کا اظہار حقیقتاً کرسکیں مگر ان کی یہ آرزو بےسود ہوگی۔
قرآن کریم نے اس مسئلہ کی اتنی وضاحت کی ہے کہ اگر اس کا احصا کیا جائے تو شاید ممکن ہی نہ ہو۔ تاہم معین مقامات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں پڑھتے جائیں اور غور کرتے جائیں۔ ارشاد ہوتا ہے :
وَ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ 1ؕ وَ مَا ہُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ 1ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 0012 وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْٞ وَ لَیُسْـَٔلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (رح) 0013 (العنکبوت 29 : 12 تا 13)
” اور جو لوگ کافر ہیں وہ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہماری پیروی کرو اور ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے حالانکہ وہ ان کے کچھ بھی گناہ نہ اٹھا سکیں گے وہ تو (بالکل) جھوٹے ہیں۔ اور یہ لوگ یقینا اپنے بوجھ اٹھائے ہوں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی ، اور قیامت کے روز ان سے اس بہتان کی ضرور ہی پرسش ہوگی جو وہ (بطور) جھوٹ باندھتے رہے۔ “
ایک جگہ فرمایا گیا :
” اور جب ان لوگوں سے پوچھا جاتا ہے وہ کیا بات ہے جو تمہارے پروردگار نے اتاری ہے ؟ تو کہتے ہیں کچھ نہیں محض اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔ قیامت کے روز یہ لوگ اپنا پورا پورا بوجھ اٹھائیں گے اور ان لوگوں کے بوجھ کا ایک حصہ بھی جنہیں یہ بغیر علم و روشنی کے گمراہ کر رہے ہیں تو دیکھو کیا ہی برا بوجھ ہے جو وہ اپنے اوپر لادے چلے جا رہے ہیں “ (النحل 16 : 24 تا 25)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور اس دن کیا ہوگا جب اللہ ان سب کو جمع کرے گا اے گروہ جِنّ تم نے انسانوں میں سے بڑی تعداد اپنے ساتھ لے لی اور انسانوں میں سے جو لوگ ان کے ساتھی رہے ہیں وہ کہیں گے اے پروردگار ! ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور میعاد کی اس منزل تک پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے ٹھہرا دی تھی اللہ فرمائے گا تمہارا ٹھکانا آتش دوزخ ہے اس میں ہمیشہ رہو گے بجز ان کے جنہیں ہم نجات دینا چاہیں ، بلاشبہ تمہارا پروردگار جاننے والا ہے۔ اور اس طرح ہم بعض ظالموں کو بعض ظالموں پر مسلط کردیتے ہیں ان کی اس کمائی کی وجہ سے جو وہ حاصل کرتے رہتے ہیں۔ “ (لانعام 6 : 128 تا 129)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور (بعض) منکرین ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نہ اس (قرآنِ کریم) کو مانتے ہیں نہ اس سے پہلی (الہامی کتابوں) کو اور آپ ﷺ اگر ان ظالموں کو کبھی اس وقت دیکھیں جب یہ اللہ کے روبرو کھڑے کیے جائیں گے (اور وہ) ایک دوسرے کو مورد الزام بنا رہے ہوں گے جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ متکبرین سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم یقینا صاحب ایمان ہوتے۔ اور (قیامت کے دن جب سب کا آمنا سامنا ہوگا) متکبرین ان کمزوروں کو کہیں گے کیا ہم نے تم کو ہدایت سے روکا جب وہ تمہارے پاس آئی تھی بلکہ تم تو خود ہی گنہگار تھے۔ اور کمزور لوگ متکبرین سے کہیں گے ، بلکہ تمہارے رات دن کے مکرو فریب نے (ہم کو حق سے روکا) جب کہ تم ہم کو حکم کرتے رہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور اس کے ساتھ شریک ٹھہرائیں اور (ان کی یہ رد و کد جاری رہے گی) کہ وہ عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اپنی ندامت کو چھپائیں گے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے ہم ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے اور جیسے کچھ وہ اعمال کرتے تھے ویسا ہی ان کو بدلہ دیا جائے گا۔ “ (سبا 34 : 31 تا 33)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” یہی وہ فیصلے کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ (حکم ہوگا) گھیر لاؤ ان ظالموں کو اور ان کے ہم مشربوں کو اور ان کے معبودوں کو۔ (سب کو) اللہ کے سوا پھر ان سب کو دوزخ کی راہ پر ڈال دو ۔ اور ان کو ذرا ٹھہرائے رکھو ان سے (کچھ) پوچھ گچھ کی جائے گی۔ تم کو کیا ہے کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔ بلکہ اس دن وہ سب (سرجھکائے) فرمانبردار (کھڑے) ہوں گے۔ اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے۔ وہ (اپنے پیروں سے) کہیں گے کہ تم ہی تھے جو ہمارے پاس دا ہنی طرف سے آیا کرتے تھے۔ (پیر) کہیں گے بلکہ تم خود ہی ایمان لانے والے نہ تھے۔ اور (پیر مریدوں سے کہیں گے کہ) ہمارا تم پر کچھ زور تو تھا نہیں در حقیقت تم خود سرکش لوگ تھے۔ پس ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی کہ ہم کو بہرحال مزہ چکھنا ہے۔ پس ہم نے تم کو گمراہ کیا (اور) ہم خود بھی گمراہ تھے۔ غرض وہ (سب) اس روز عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے۔ “ (الصافات 37 : 21 تا 33)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور جس روز (اللہ) ان کو پکارے گا اور فرمائے گا (پوچھے گا) کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں ؟ جن کو تم (میرا شریک) خیال کرتے تھے۔ وہ لوگ کہیں گے جن پر (عذاب کا) فرمان ثابت ہوجائے گا کہ اے ہمارے رب ! یہی وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا ، ہم نے ان کو گمراہ کیا کہ ہم خود گمراہ ہوئے تھے ، ہم تیرے روبرو ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں ، یہ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے (یہ خود اپنی خواہشوں کے پرستار تھے) ۔ اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو ، پس وہ ان کو پکاریں گے تو وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے اور (جب) وہ عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش ! وہ راہ ہدایت پر ہوتے۔ “ (القصص 28 : 62 تا 64)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور وہ دن جب اللہ فرمائے گا جن ہستیوں کو تم سمجھتے تھے کہ وہ میرے ساتھ شریک ہیں اب انہیں بلاؤ ، وہ پکاریں گے مگر کچھ جواب نہیں پائیں گے ، ہم نے ان دونوں کے درمیان آڑ کردی ہے۔ اور مجرم دیکھیں گے کہ آگ بھڑک رہی ہے اور سمجھ جائیں گے اس میں انہیں گرنا ہے ، وہ کوئی گریز کی راہ نہیں پائیں گے۔ اور ہم نے اس قرآن کریم میں لوگوں کی ہدایت کے لیے ہر طرح کی مثالیں لوٹا لوٹا کر بیان کردیں مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ “ (الکہف 18 : 52 تا 54)
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
” جن لوگوں نے ظلم کیا ہے جب وہ عذاب اپنے سامنے دیکھیں گے تو ایسا ہرگز نہ ہوگا کہ ان پر عذاب ہلکا کردیا جائے ، نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔ اور جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے ہیں جب اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے اے پروردگار یہ ہیں ہمارے شریک جنہیں ہم تیرے سوا پکارتے تھے اس پر وہ ان کی طرف اپنا جواب بھیجیں گے نہیں تم سراسر جھوٹے ہو۔ اور اس دن سب اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دیں گے وہ ساری افتراء پردازیاں ان سے کھوئی جائیں گی جو وہ کیا کرتے تھے۔ “
(النحل 16 : 85 : 87)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” پھر قیامت کا دن ہے جب وہ انہیں رسوائی میں ڈالے گا اور پوچھے گا بتلاؤ آج وہ ہستیاں کہاں گئیں جنہیں تم نے میرا شریک بنایا تھا اور جن کے بارے میں تم لڑا کرتے تھے ؟ جنہیں علم دیا گیا تھا پکار اٹھیں گے ، بیشک آج کے دن کی رسوائی اور خرابی سرتاسر کافروں کیلئے ہے۔ ان کافروں کے لیے کہ فرشتوں نے جب ان کی روحیں قبض کی تھیں تو اپنی جانوں پر خود اپنے ہاتھوں ظلم کر رہے تھے ، تب وہ اطاعت کا اظہار کریں گے ہم نے تو کوئی برائی کی بات نہیں کی تھی ، ہاں تم جو کچھ کرتے رہے ہو اللہ اس سے اچھی طرح واقف ہے۔ پس اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ تمہیں ہمیشہ کے لیے اسی میں رہنا ہے تو دیکھو گھمنڈ کرنے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ “ (النحل 16 : 27 تا 29)
ایک جگہ فرمایا گیا :
” اور اللہ کے حضور سب لوگ حاضر ہوگئے پس ناتوانوں نے سرکشوں سے کہا ہم تمہارے پیچھے چلنے والے تھے پھر کیا آج تم ایسا کرسکتے ہو کہ ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا دو ؟ اُنہوں نے کہا اللہ ہم پر بچاؤ کی کوئی راہ کھولتا تو ہم بھی تمہیں کوئی راہ دکھاتے ، اب خواہ جھیل لیں خواہ روئیں پیٹیں ہمارے لیے دونوں حالتیں برابر ہوگئیں ہمارے لیے آج کسی طرح چھٹکارا نہیں۔ اور جب فیصلہ ہوچکا تو شیطان بولا بلاشبہ اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا ، سچا وعدہ اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا مگر اسے پورا نہ کیا مجھے تم پر کسی طرح کا تسلط نہ تھا جو کچھ پیش آیا وہ صرف یہ ہے کہ میں نے تمہیں بلایا اور تم نے میرا بلاوا قبول کرلیا پس اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو ، آج کے دن نہ تو میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکتا ہوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو ، تم نے اب سے پہلے جو مجھے شریک ٹھہرا لیا تھا تو میں اس سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں بلاشبہ ظلم کرنے والوں کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب ہے “ (ابراہیم 14 : 21 تا 22)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اس پر حکم الٰہی ہوگا انسانوں اور جنوں کی ان امتوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں تم بھی آتش دوزخ میں داخل ہوجاؤ جب کبھی ایسا ہوگا کہ ایک امت دوزخ میں داخل ہو تو وہ اپنی طرح کی دوسری امت پر لعنت بھیجے گی پھر جب سب اکٹھی ہوجائیں گی تو پچھلی امت پہلی امت کی نسبت کہے گی اے ہمارے پروردگار ! یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا توُ انہیں آتش دوزخ کا دوگنا عذاب دیجیو ، اللہ فرمائے گا تم میں سے ہر ایک کے لیے دوگنا عذاب ہے لیکن تمہیں معلوم نہیں۔ (ان کی بات سن کر) پہلی امت پچھلی امت سے کہے گی دیکھو تمہیں (عذاب کی کمی میں) ہم پر کوئی بزرگی نہ ہوئی تم جیسی کچھ کمائی کرچکے ہو اس کے عذاب کا مزہ چکھ لو۔ جن لوگوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائیں اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی تو ان کے لیے آسمان کے دروازے کبھی کھلنے والے نہیں ، ان کا جنت میں داخل ہونا ایسا ہے جیسے سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزر جانا اسی طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیتے ہیں۔ “ (الاعراف 7 : 38 تا 40)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” جس دن وہ اوندھے منہ آگ میں ڈالے جائیں گے (اس وقت) وہ کہیں گے کہ کاش ! ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول (a) کی فرمانبرداری کی ہوتی۔ اور وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے سرداروں کا اور اپنے بڑے لوگوں کا کہا مانا تو انہوں نے ہم کو (سیدھی) راہ سے بہکا دیا۔ اے ہمارے رب ! تو (ہمارے ان سرداروں) کو دوگنا عذاب دے اور بڑی پھٹکار ان پر ڈال دے۔ “
(الاحزاب 33 : 66 تا 68)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” جو لوگ (اللہ اور اس کے رسول کے) منکر ہیں ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے وہاں نہ ان کو قضا (یعنی موت) آئے گی کہ وہ مر جائیں اور نہ ہی ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اسی طرح ہم ہر کافر کو سزا دیتے ہیں۔ اور وہ اس میں چیخیں گے چلائیں گے کہ اے ہمارے رب ! (اس عذاب سے نکال اب) ہم نیک کام کریں گے وہ کام نہیں (کریں گے) جو ہم کرتے رہے (ان سے کہا جائے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ اس میں جس کو سوچنا ہوتا سوچ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والے بھی آئے (لیکن تم نے ان کی ایک نہ مانی) اب مزہ چکھو کہ ظالموں کا (اس وقت) کوئی مددگار نہیں۔ “ (فاطر 35 : 36 تا 37)
ایک جگہ ارشاد ہوا :
” پھر کیا یہ لوگ اس بات کے انتظار میں ہیں کہ اس کا مطلب وقوع میں آجائے جس دن اس کا مطلب وقوع میں آئے گا اس دن وہ لوگ کہ اسے پہلے بھولے بیٹھے تھے بول اٹھیں گے بلاشبہ ہمارے پروردگار کے پیغمبر ہمارے پاس سچائی کا پیام لے کر آئے تھے ، کاش ! شفاعت کرنے والوں میں سے کوئی ہو جو آج ہماری شفاعت کرے یا کاش ! ایسا ہو کہ ہم پھر دنیا میں لوٹا دیئے جائیں اور جیسے کچھ کام کرتے رہے ہیں اس کے برخلاف کام انجام دیں ، بلاشبہ ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو تباہی میں ڈالا اور دنیا میں جو کچھ افتراء پردازیاں کیا کرتے تھے وہ سب ان سے کھوئی گئیں۔ “ (الاعراف 7 : 53)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں گئے جن کی تم پرستش کیا کرتے تھے ؟۔ اللہ کے سوا ، کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا بدلہ لے سکتے ہیں۔ پھر اس میں وہ اور گمراہ لوگ اوندھے ڈالے جائیں گے۔ اور شیطان کے سارے لشکر بھی۔ اور جب وہ وہاں باہم جھگڑنے لگیں گے ، کہیں گے۔ اللہ کی قسم ! ہم تو صریح گمراہی میں تھے۔ جب کہ ہم تم کو تمام جہانوں کے رب کے برابر ٹھہراتے تھے۔ اور ہم کو ان مجرموں ہی نے بہکایا۔ پس اب نہ ہمارا کوئی سفارش کرنے والا ہے۔ اور نہ کوئی غم خوار دوست ہے۔ کاش ! ہم کو پھرجانے کا موقع ملتا تو ہم مسلمان ہوجاتے۔ “ (الشعراء 26 : 91 تا 102)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور تُو تعجب کرے اگر انہیں اس حالت میں دیکھے جب یہ آتش دوزخ کے کنارے کھڑے ہوں گے اس وقت کہیں گے اے کاش ! ایسا ہو کہ ہم پھر دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں اور اپنے پروردگار کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور ان میں سے ہوجائیں جو ایمان والے ہیں۔ جو کچھ یہ پہلے چھپایا کرتے تھے اس کا بدلہ ان پر نمودار ہوگیا اگر یہ دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو پھر اس بات میں پڑجائیں جس سے انہیں روکا گیا تھا اور کچھ شک نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہوں گے۔ “ (الانعام 6 : 27 تا 28)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” آگ کے شعلوں کی لپٹ ان کے چہروں کو جھلستی ہوگی وہ ان پر منہ بگاڑے پڑے ہوں گے۔ کیا ایسا نہیں ہوچکا ہے کہ میری آیتیں تمہارے آگے پڑھی جاتی تھیں ؟ اور تم انہیں جھٹلاتے رہتے تھے۔ وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی ہمارا گروہ گمراہوں کا گروہ تھا۔ اب ہمیں اس حالت سے نکال دے اگر ہم پھر ایسی گمراہی میں پڑیں تو بلاشبہ نافرمان ہوئے۔ اللہ فرمائے گا ، جہنم میں جاؤ اور زبان مت کھولو۔ “ (المؤمنون 23 : 105 تا 108)
ایک جگہ فرمایا :
” اور بالآخر تم ہمارے حضور اکیلی جان آگئے جس طرح تم کو پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا گیا تھا اور جو کچھ تمہیں دیا تھا وہ سب اپنے پیچھے چھوڑ آئے ، ہم تمہارے ساتھ ان ہستیوں کو نہیں دیکھتے جنہیں تم نے شفاعت کا وسیلہ سمجھا تھا اور جن کی نسبت تمہارا زعم تھا کہ تمہارے کاموں میں وہ اللہ کے شریک ہیں تمہارے سارے رشتے ٹوٹ گئے جو کچھ تم زعم رکھتے تھے سب کے سب تم سے کھو گئے۔ “ (الانعام 6 : 94)
ایک جگہ فرمایا :
” اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں وہ جن اور انسان دونوں دکھا دے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تاکہ ہم ان دونوں کو ذلیل کرنے کے لیے انہیں اپنے پیروں کے نیچے روند ڈالیں “ (حم السجدہ 41 : 29)
ایک جگہ فرمایا :
” اور اپنے رب کی طرف رجوع ہوجاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے پھر (اس وقت) تمہاری مدد نہ کی جائے گی۔ اور (اے لوگو ! ) اس بہترین (کتاب) کی پیروی کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے قبل اس کے کہ تم پر اچانک آفت آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو کہ یہ آفت کہاں سے آگئی ؟۔ (باخبر کیوں کیا جاتا ہے ؟ اس لیے کہ) کہیں کوئی متنفس یہ (نہ) کہنے لگے کہ افسوس ہے اس کوتاہی پر جو میں اللہ کے بارے میں کرتا رہا اور میں تو صرف ہنسی ہی اڑاتا رہا (اور میں کتنا ناسمجھ نکلا ؟۔ یا کوئی کہنے لگے کہ اگر اللہ مجھ کو راہ (حق) دکھاتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا (اور انعام پاتا) ۔ یا عذاب کو دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ کاش مجھے (دُنیا میں) پھر ایک بار واپس جانا ہو تو میں (بڑے) نیک کام کرنے والوں میں ہوجاؤں۔ ہاں ! (کچھ نہیں تیرے پاس میرے احکام پہنچے تھے پھر تو نے ان کو جھٹلایا اور گھمنڈ کیا اور تو کافر کا کافر ہی رہا (تیرا شیطان تجھ پر غالب آیا) ۔ “ (الزمر 39 : 54 تا 59)
Ayah 2:168مسلمانوں کو حلال و طیب چیزیں کھانے کی ہدایت :
295: مسلمانوں کو خلافت ارضی حاصل کرنا ہے اس لئے انہیں صرف ان چیزوں کا استعمال کرنا چاہئے جن کی طہارت و پاکیزگی کا انہیں یقین ہو جن کو ناجائز ذرائع سے حاصل نہ کیا گیا ہو اور جن اشیاء کی قانون الٰہی نے اجازت دے دی ہو۔ اس مقصد عظیم کے کسب و حصول کے لئے ضرورت ہوگی بہترین دل و دماغ کی اور یہ تر و تازگی نہیں پیدا ہو سکتی جب تک عمدہ سے عمدہ پاکیزہ چیزیں استعمال میں نہ ہوں پس دنیا کی ہر اچھی چیز ایک مسلمان ہی کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ کھائے اور حکومت کے لئے تیار ہو۔ البتہ ان چیزوں سے پرہیز لازم ہے جو روحانی و جسمانی صحت کے لئے مضر ہوں جن سے جذبات خبیثہ اور اخلاق فاسقہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہو جن سے ارادوں میں ضعف و کمزوری آجائے۔ یہ خصوصیت صرف اور صرف نبی کی تعلیم کو حاصل ہے کہ اس سے انسانی ارادہ میں قوت پیدا ہوتی ہے۔ ترجمان القرآن حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے مستجاب الد عوات بنا دے۔ نبی کریم ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ لقمہ حلال کا التزام کرلو خود بخود مستجاب الدعوات ہو جائو گے۔ یہ ہے اسلام میں اکل حلال کی اہمیت۔
اور شیطان ہمیشہ بےحیائی اور بد خلقی کی تعلیم دیتا ہے جس کا انتہائی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نبی کی تعلیم سے نفرت ہوجاتی ہے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ خواہشات نفسانی کو پورا کرنے کے لئے قانون بنایا جاتا ہے اور پھر اس کو اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
Ayah 2:169شیطان سے ہمیشہ شیطنت ہی کا ظہور ہوگا :
296: ” اِنَّمَا “ کلمہ حصر ہے جس کے صاف صاف معنی یہ ہوئے کہ شیطان سے ہمیشہ شیطنت ہی کا ظہور ہوگا کسی نیکی کے صدور کا اس سے امکان ہی کب ہے ؟ شعبی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نذرمانی کہ وہ اپنے لڑکے کو ذبح کرے گا حضرت مسروق کے علم میں جب یہ واقعہ پہنچا تو آپ نے فتویٰ دیا کہ وہ شخص ایک بھیڑ ذبح کر دے یہ نذر خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ 1ؕ سے ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ ایک دن بکری کا کھر پکا ہوا نمک لگا کر کھا رہے تھے ایک شخص جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ ہٹ کر دور جا بیٹھا۔ آپ نے فرمایا کھائو اس نے کہا میں نہیں کھائو گا آپ نے پوچھا کیا روزے سے ہو ؟ کہا نہیں میں تو اسے اپنے اوپر حرام کرچکا ہوں آپ نے فرمایا یہ شیطان کی راہ چلنا ہے اپنی قسم کا کفارہ دو اور کھالو اور اس طرح ہر کفر و بدعت کی بات شیطنت ہی ہوگی اور شیطان کا کام ہے کہ وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال انسانوں سے کراتا ہی رہتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ 1ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ00116 (النحل 16 : 116) ” اور ایسا نہ کرو کہ تمہاری زبانوں پر جو جھوٹی بات آجائے بےدھڑک نکال دیا کرو اور حکم لگا دو ، یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے ، اس طرح حکم لگانا اللہ پر افتراء پردازی کرنا ہے جو لوگ اللہ پر افتراء پردازیاں کرتے ہیں وہ کبھی فلاح پانے والے نہیں۔ “
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآىِٕبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ 1ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ 1ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ 00103 (المائدہ 5 : 103) ” { بحیرۃ ، سائبۃ ، وصیلۃ } اور { حام } میں سے کوئی چیز بھی اللہ نے نہیں ٹھہرائی ہے لیکن جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی وہ اللہ پر افتراء کرتے ہیں اور ان میں زیادہ تر ایسے ہی لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ سے محروم ہیں۔ “
مشرکین عرب بتوں کے نام پر جانور چھوڑ دیتے اور انہیں مقدس سمجھتے اور طرح طرح کے توہم پرستانہ عقائد ان سے وابستہ ہوگئے تھے چناچہ اس جگہ ان جانوروں کا ذکر کیا گیا ہے۔
” بحیرۃ “ اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کے کان علامت کے لئے شق کر دئے گئے ہوں اور بتوں کی نیاز میں چھوڑ دی گئی ہو۔ یہ وہ اونٹنی ہوتی تھی جس سے پانچ بچے پیدا ہوجاتے تھے۔
” سائبہ “ اس اونٹنی کو کہتے تھے جسے دیوتائوں کے نام پر چھوڑ دیا ہو نہ تو کوئی اس پر سوار ہو سکتا تھا۔ نہ اس کے بال کاٹ سکتا تھا۔ نہ اس کا دودھ اپنے کام میں لاسکتا تھا۔
” وصیلہ “ اس بکری کو کہتے تھے جس کے پہلوٹھے کے اوپر تلے دو بچے مادہ ہوتے تھے اور وہ اسے متبرک سمجھتے تھے اس لئے اس کو چھوڑ دیتے تھے۔
” حام “ اس اونٹ کو کہتے تھے جس کی نسل سے دس بچے پیدا ہوگئے ہوں اسے بھی چھوڑ دیتے تھے اور سمجھتے تھے اس ذبح کرنا یا کام میں لانا جائز نہیں۔
فرمایا یہ سب خرافات اور توہم پرستی ہے اللہ نے ان باتوں میں سے کچھ بھی نہیں ٹھہرایا ہے یعنی کسی کو بھی حرام نہیں کیا یہ ان لوگوں نے اپنی طرف سے حلت و حرمت کا مسئلہ نکالا ہے۔
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
وَ قَالُوْا ہٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ 1ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ 1ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ 00138 وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ ہٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا 1ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ 1ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ 1ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ 00139 قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ 1ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا کَانُوْا مُهْتَدِیْنَ (رح) 00140
(الانعام 6 : 138 تا 140)
” اور کہتے ہیں یہ کھیت اور چارپائے ممنوع ہیں انہیں اس آدمی کے سوا کوئی نہیں کھا سکتا جسے ہم اپنے خیال کے مطابق کھلانا چاہیں اور کچھ جانور ہیں کہ ان کی پیٹھ حرام ہے اور کچھ جانور ایسے ہیں کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے کیونکہ اللہ پر افتراء کر کے انہوں نے یہ طریقہ نکال لیا ہے پھر جیسی کچھ افتراء پردازیاں یہ کرتے رہتے ہیں قریب ہے کہ اللہ بھی انہیں اس کی سزا دے۔ اور کہتے ہیں ان چارپایوں کے پیٹ میں سے جو زندہ بچہ نکلے وہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال ہے ہماری عورتوں کیلئے حلال نہیں اور اگر وہ مردہ ہو تو پھر سب اس میں شریک ہیں ، قریب ہے کہ اللہ انہیں ان کی ان تقسیموں کی سزا دے ، بلاشبہ وہ حکمت رکھنے والا اور جاننے والا ہے۔ یقیناً وہ لوگ تباہ و برباد ہوئے جنہوں نے جہالت سے اپنی اولاد مار ڈالی اور جو کچھ اللہ نے ان کیلئے روزی پیدا کی اسے اللہ پر افتراء پردازی کر کے حرام ٹھہرایا ، بلاشبہ وہ گمراہ ہوئے اور بلاشبہ وہ سیدھی راہ پر چلنے والے نہیں تھے۔ “
بے دلیل بات کبھی سچی نہیں ہوتی :
297: علم سے یہاں مراد علم یقینی یا علم ثابت بالوحی ہے مطلب یہ ہوا کہ اپنے پاس سے گھڑی ہوئی باتیں جن کی دلیل کتاب و سنت میں نہ ہو۔ پس اس وعید کے تحت صرف کفر ہی نہیں آتا بلکہ بدعت کے اقوال بھی داخل ہیں اور قرآن کریم نے اس کی بڑی تفصیل کی ہے ۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ :
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ 1ؕ کَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ 1ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ 0035 (النحل 16 : 35)
” اور مشرکوں نے کہا ، اگر اللہ چاہتا تو کبھی ایسا نہ ہوتا کہ ہم یا ہمارے باپ دادا اس کے سوا دوسری ہستیوں کی پوجا کرتے اور نہ ایسا ہوتا کہ بغیر اس کے حکم کے کسی چیز کو (اپنے جی سے) حرام ٹھہرا لیتے ایسی ہی روش ان لوگوں نے بھی اختیار کی تھی جو ان سے پہلے گزر چکے پھر (تم ہی بتاؤ ) پیغمبروں کے ذمے اس کے سوا اور کیا ہے کہ صاف صاف پیغام حق پہنچا دیں ؟ “
ایک جگہ فرمایا :
” جن لوگوں نے شرک کا ڈھنگ اختیار کیا ہے وہ کہیں گے اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا شرک نہ کرتے اور نہ کسی چیز کو حرام ٹھہراتے سو اس طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں یہاں تک کہ ان کو ہمارے عذاب کا مزہ چکھنا پڑا ، تم کہو کیا تمہارے پاس کوئی علم کی روشنی ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکتے ہو ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم پیروی نہیں کر رہے مگر محض وہم اور اٹکل کی اور تم اس کے سوا کچھ نہیں ہو کہ بےسمجھے بوجھے باتیں بنانے والے ہو۔ تم کہہ دو اللہ ہی کے لیے پہنچی ہوئی اور پکی دلیل ہے اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ دکھا دیتا۔ ان سے کہو کہ بلاؤ ان کو جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ نے یہ چیز حرام کردی ہے ، پھر اگر ان کے گواہ اس بات پر گواہی بھی دے دیں جب بھی تم ان کے ساتھ ہو کر اس کا اعتراف نہ کرو تم ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائی ہیں اور جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور دوسری ہستیوں کو اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ “ (الانعام 6 : 148 تا 150)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور وہ اللہ ہی ہے جس نے باغ پیدا کیے چھپروں پر چڑھائے ہوئے اور کھجوروں کے درخت اور کھیتیاں جن کے پھل مختلف قسموں کے ہوتے ہیں نیز زیتون اور انار کے درخت شکل و صورت میں ایک دوسرے سے ملتے ہوئے اور ایک دوسرے سے الگ الگ سو ان کے پھل شوق سے کھاؤ جب وہ پھل تیار ہوجائیں اور چاہیے کہ جس دن فصل کاٹو تو اس کا حق بھی دے دیا کرو اور اسراف نہ کرو اللہ انہیں دوست نہیں رکھتا جو اسراف کرنے والا ہوں۔ اور چارپایوں میں سے کچھ تو بوجھ اٹھانے والے پیدا کردیئے اور کچھ زمین سے لگے ہوئے سو جو کچھ اللہ نے تمہاری روزی کیلئے پیدا کردیا ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو وہ بلاشبہ تمہارا آشکارا دشمن ہے۔ چارپایوں میں آٹھ قسمیں پیدا کیں : بھیڑ میں سے دو قسم اور بکری کی دو قسم ! ان لوگوں سے پوچھو اللہ نے ان میں سے کس جانور کو حرام کیا ہے ؟ دونوں قسموں کے نروں کو یا مادہ کو یا پھر اس کے بچے کو جسے دونوں قسم کی مادہ اپنے پیٹ میں لیے ہوئے ہیں ؟ اگر تم سچے ہو تو مجھے علم کے ساتھ اس کا جواب دو ۔ اور دیکھو اونٹ میں سے دو قسمیں ہیں اور گائے میں سے دو قسمیں (یعنی نر اور مادہ) تم ان سے پوچھو کیا ان میں سے نر کو حرام کیا ہے یا مادہ کو یا اس کو جو ان دونوں کی مادہ اپنے پیٹ میں لیے ہوتی ہیں ؟ پھر بتلاؤ اس آدمی سے زیادہ ظلم کرنے والا کون ہوا جو لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے اللہ پر افتراء پردازیاں کرے اور اس کے پاس کوئی علم نہ ہو ؟ بلاشبہ اللہ ان لوگوں پر راہ نہیں کھولتا جو ظلم کرنے والے ہوں۔ “
(الانعام 6 : 141 تا 144)
Ayah 2:170اللہ کی راہ کے بجائے باپ دادوں کی راہ پر چلنے والے :
298: جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ کرنے کا کام تو یہ ہے کہ تم نبی کریم ﷺ کے قانون کی اتباع کرو تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کی رسم کو کبھی نہ چھوڑیں گے۔ اگر ان کی تقلید نہ کی تو خاندان بھر میں ناک کٹ جائے گی۔ حالانکہ اگر ذرا غور سے کام لیتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ ان رسموں میں نہ تو عقل و دانائی کی کوئی بات ہے اور نہ ان سے کسی شخص کو رشد و ہدایت نصیب ہو سکتی ہے۔ جب وہ خود ہی فہم و تدبر سے محروم تھے تو دوسروں کو انکی تقلید سے کیا نفع مل سکتا ہے جو لوگ تعلیم قرآن کریم سے اعراض کر کے ان روسوم کی پابندی کا دم بھرتے ہیں وہ ان جانوروں کی طرح ہیں جن کو ایک شخص پیچھے سے آواز دے رہا ہو اور یہ سوائے آواز کے اور کچھ نہ سمجھیں ، اُولٰٓىِٕكَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ 1ؕ۔
” نعق “ اس آواز کو کہتے ہیں جس سے چرواہا بکریوں کو بلاتا ہے ۔ یہاں ناعق تو خود نبی کریم ﷺ ہیں اور تمام کفار جانور ہیں جو آپ کی آواز سننے کے باوجود اس میں غور سے کام نہیں لیتے۔ قرآن کریم ان کی صدائوں کا ذکر اس طرح کرتا ہے۔ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا 1ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ 0087 (ھود 11 : 87)
” لوگوں نے کہا اے شعیب ! کیا تیری یہ نمازیں تجھے یہ حکم دیتی ہیں کہ ہمیں آ کر کہے کہ ان معبودوں کو چھوڑ دو جنہیں تمہارے باپ دادا پوجتے رہے ہیں یا یہ کہ تمہیں اختیار نہیں کہ اپنے مال میں جس طرح کا تصرف کرنا چاہو کرو ؟ بس تم ایک ہی نرم دِل اور راست باز آدمی رہ گئے ہو۔ ! “
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” انہوں نے کہا کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہم صرف ایک ہی اللہ کے پجاری ہوجائیں اور ان معبودوں کو چھوڑ دیں جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ؟ اگر تم سچے ہو تو وہ بات لا دکھائو جس کا ہمیں خوف دلا رہے ہو ؟ “ (الاعراف 7 : 7)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس بات کی طرف آؤ جو اللہ نے نازل کی ہے نیز اللہ کے رسول کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں ہمارے لیے تو وہی طریقہ بس کرتا ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو چلتے دیکھا ہے اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ جانتے بوجھتے نہ ہوں اور سیدھے راستے پر بھی نہ ہوں۔ “ (المائدہ 5 : 104)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) اللہ نے اتاری ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ، (بھلا ان سے پوچھو کہ) اگرچہ انہیں شیطان دوزخ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو (تو بھی انہی کی پیروی کرو گے) ۔ “ (لقمان 31 : 21)
جن لوگوں نے اندھی تقلید کی زنجیریں اپنے پائوں میں ڈال رکھی ہیں جو دنیا کو ان پابندیوں سے آزاد کرنے آئے تھے مگر اب خود ان اغلال و سلاسل کو پہنے ہوئے ہیں جن کے نزدیک فقہ کی چند جزئیات وحی والہام سے بڑھ کر ہیں۔ جو صحیح احادیث کے ہوتے ہوئے اماموں کے اقوال کی تقلید میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ جن کے نزدیک بیضاوی و جلالین اور دوسرے مفسرین کے اقوال کو یاد رکھنا ہی سب سے بڑی قرآن دانی اور تفقہ فی الدین ہے۔ جو صرف فقہا و مشائخ کے جزئیات ہی سے استدلال کرنا اپنے لئے مایہ ناز ، سرمایہ افتخار سمجھتے ہیں وہ ان آیات میں غور و فکر کریں اور خالی الذہن ہو کر کریں ان شاء اللہ بہت نفع ہوگا۔
Ayah 2:171کفر کی راہ اختیار کرنے والوں کی مثال قرآن کریم میں :
299: ذکر داعی حق کی دعوت حق کا ہو رہا ہے۔ ایک تشبیہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت دعوت کے رویہ سے متعلق پیش کی جا رہی ہے کہ رسول ہے کہ ان کو پکارتا ہے اور وہ بھی اس کی پکار کو سن رہے ہیں لیکن اس جانور کی طرح جس کے کان میں پکارنے والے کی آواز اور الفاظ تو آرہے ہیں باقی وہ معنی و مفہوم کچھ نہیں سمجھتے۔ بس یہی معاملہ یہ منکرین بھی دعوت حق کے ساتھ کر رہے ہیں کہ داعی کے الفاظ تو سن لیتے ہیں لیکن اس کے معنی اور مفہوم پر غور ہی نہیں کرتے گویا وہ بہرے ہیں لیکن آواز حق کی طرف سے گونگے ہیں کہ اقرار حق کے لئے ان کی زبان بالکل نہیں کھلتی اندھے ہیں کہ اپنے نفع و نقصان کو بھی نہیں دیکھ سکتے۔
اس سے ملتا جلتا ایک فقرہ تورات میں بھی موجود ہے :
” وہ نہیں جانتے اور نہیں سمجھتے کہ ان کی آنکھیں لیپی گئیں سو وہ دیکھتے نہیں اور ان کے دل بھی سو وہ نہیں سمجھتے۔ “ (یسعیاہ 44 : 18)
قرآن کریم نے ان کا بیان بڑی تفصیل سے کیا ہے جو تعریف آیات کی صورت میں قرآن کریم میں جگہ جگہ موجود ہے چناچہ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے :
” کیا یہ لوگ ملکوں میں چلے پھرے نہیں کہ عبرت حاصل کرتے ؟ ان کے پاس دِل ہوتے اور سمجھتے بوجھتے ، کان ہوتے اور سنتے اور پاتے ، حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی اندھے پن میں پڑتا ہے تو آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں دِل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر پوشیدہ ہیں۔ “ (الحج 22 : 46)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور کتنے ہی جن اور انسان ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا ہے ، ان کے پاس عقل ہے مگر اس سے سمجھ بوجھ کا کام نہیں لیتے ، آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے ، کان ہیں مگر ان سے سننے کا کام نہیں لیتے وہ چارپایوں کی طرح ہوگئے بلکہ ان سے بھی زیادہ کھوئے ہوئے ایسے ہی لوگ ہیں جو یک قلم غفلت میں ڈوب گئے ہیں۔ “ (الاعراف 7 : 179)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کو نہ پہنچ سکیں بلکہ ان کو ان کے پکارنے کی خبر تک نہ ہو (سکتی ہو) ۔ اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو یہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت ہی سے منکر ہوجائیں گے۔ “ (الاحقاف 46 : 5 تا 6)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور بادلوں کی گرج اس کی ستائش کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کی دہشت سے سرگرم ستائش رہتے ہیں وہ بجلیاں گراتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان کی زد میں لے آتا ہے لیکن یہ منکر ہیں کہ اس کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں حالانکہ وہ (اپنی قدرت میں) بڑا ہی سخت اور اٹل ہے۔ اسی کا پکارنا ہی سچا پکارنا ہے جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ پکارنے والے کی کچھ نہیں سنتے ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے کہ بس پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس کے منہ تک پہنچنے والا نہیں اور منکرین حق کی پکار اس کے سوا کچھ نہیں کہ ٹیڑھے راستوں میں بھٹکتے پھرنا ہے۔ “ (الرعد 13 : 13 تا 14)
ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا :
” یہ لوگ اللہ کے ساتھ کن ہستیوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ایسی کو جو کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے اور خود کسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ ان میں نہ تو اس کی طاقت ہے کہ ان کی مدد کریں ، نہ اس کی کہ خود اپنی ذات ہی کو مدد پہنچائیں۔ (اور اے پیغمبر اسلام ! ان کی منافقت کا یہ حال ہے کہ) اگر تم سیدھی راہ کی طرف بلاؤ تو تمہارے پیچھے قدم نہ اٹھا سکیں اور تم انہیں پکارو یا چپ رہو دونوں حالتوں کا نتیجہ تمہارے لیے یکساں ہو۔ تم اللہ کے سوا جن جن ہستیوں کو پکارتے ہو وہ تمہاری ہی طرح اللہ کے بندے ہیں اگر تم سچے ہو (ماورائے بشریت ان میں طاقتیں ہیں) تو اپنی احتیاجوں میں پکارو وہ تمہاری پکار کا جواب دیں۔ کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلتے ہیں ؟ ہاتھ ہیں جن سے پکڑتے ہیں ؟ آنکھیں ہیں جن سے دیکھتے ہیں ؟ کان ہیں جن سے سنتے ہیں ؟ (نہیں اور یقینا نہیں بلکہ یہ تو محض بت ، شبیہّیں اور قبریں ہیں پھر) ان لوگوں سے کہو انہیں پکار لو پھر مخفی تدبیریں کر ڈالو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو ۔ میرا کارساز تو بس اللہ ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وہی ہے جو نیک انسانوں کی کارسازی کرتا ہے۔ “ (الاعراف 7 : 191 تا 196)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” (دیکھو کس طرح) اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو (اپنے اپنے) کام پر لگا رکھا ہے ہر ایک وقت معین تک چلتا رہے گا یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے اس کی بادشاہی ہے اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو
کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے۔ اگر تم انکو پکارو بھی تو وہ تمہاری پکار نہ سن سکیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری فریاد کو نہ پہنچ سکیں اور قیامت کے دن تمہارے شریک ٹھہرانے سے انکار کریں گے اور (اس) باخبر کی طرح تم کو (حقائق کی) خبر کوئی نہ دے گا۔ “
(فاطر 35 : 13 تا 14)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” وہ (فرشتے) عرض کریں گے تیری ذات (ہر شرک سے) پاک ہے تو ہی ہمارا آقا ہے نہ کہ یہ لوگ ، بلکہ وہ لوگ تو (ہمارا نام لے کر) جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں اکثر انہیں پر ایمان رکھتے تھے (کہ یہ ایسا ایسا کردیتے ہیں) ۔ پس آج تم میں سے کوئی بھی کسی کو نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا اور ہم ظالموں سے کہہ دیں گے کہ اس آگ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے۔ اور جب ہماری واضح آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس چاہتا ہے کہ جن کی تمہارے باپ دادا پرستش کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (وہ یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) تو بس ایک گھڑا ہوا جھوٹ ہے اور جب کافروں کے پاس پہنچا تو اس کے بارے میں (وہ) کہتے ہیں کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر صریح جادو ہے۔ “ (سباء 34 : 41 تا 43)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” یہ لوگ نہ تو زمین میں (اللہ تعالیٰ کو) عاجز کردینے والے ہیں نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی کارساز ہے انہیں دوگنا عذاب ہوگا (کیونکہ وہ ہٹ دھرم ہیں) کہ وہ نہ تو حق بات سن سکتے ہیں نہ حقیقت پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ یہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانیں تباہی میں ڈالیں اور زندگی میں جو کچھ افتراء پردازی کرتے رہے وہ سب ان سے کھوئی گئی۔ “ (ھود 11 : 20 تا 21)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور جس دن ہم ان سب کو اپنے حضور اکٹھا کریں گے اور پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے تم اور وہ سب جنہیں تم نے شریک ٹھہرایا تھا اپنی جگہ سے نہ ہلو اور پھر ایک دوسرے سے انہیں الگ الگ کردیں گے تب وہ ہستیاں جنہیں اللہ کے ساتھ شریک بنایا گیا ہے کہیں گی ، یہ بات تو نہ تھی کہ تم ہماری پرستش کرتے تھے۔ آج کے دن ہم میں اور تم میں اللہ کی گواہی بس کرتی ہے اور تمہاری پرستاریوں سے ہم یک قلم بیخبر تھے۔ پس اس دن ہر آدمی جان لے گا کہ جو کچھ وہ پہلے کرچکا ہے اس کی حقیقت کیا تھی ، سب اللہ کے حضور کہ ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور حقیقت کے خلاف جس قدر افتراء پردازیاں کرتے رہے ہیں سب ان سے کھوئی جائیں گی۔ “
(یونس 10 : 28 تا 30)
Ayah 2:172مسلمانوں کو حلال و طیب کھانے کی ہدایت :
300: آیت مذکورہ میں جیسے حرام کھانے کی ممانعت کی گئی ہے اسی طرح حلال و طیب چیزوں کے کھانے اور اس پر اللہ کا شکر گزار ہونے کی ترغیب بھی ہے کیونکہ جس طرح حرام کھانے سے اخلاق رذیلہ پیدا ہوتے ہیں۔ عبادت کا ذوق جاتا رہتا ہے۔ دعا قبول نہیں ہوتی۔ اسی طرح حلال کھانے سے ایک نور پیدا ہوتا ہے۔ دلی تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے۔ اخلاق رذیلہ سے نفرت اور اخلاق فاضلہ کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ عبادت میں دل لگتا ہے۔ گناہ سے دل گھبراتا ہے۔ دعا قبول ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے سب رسولوں کو خصوصاً ہدایت فرمائی ہے کہ :
یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا 1ؕ ۔
اے رسولو ! تم پاکیزہ چیزیں کھائو اور نیک عمل کرو اس میں بھی اشارہ ہے کہ نیک عمل کرنے میں رزق حلال کو بڑا دخل ہے۔
ایک مسلمان جس نے اپنی ہرچیز خداوند قدوس کے نام پر قربان کردی ہو۔ لذت طعام و شرب ہی کو اپنی زندگی کا مقصد نہیں بنا سکتا بلکہ وہ بہترین چیزیں کھائے اور اللہ وحد لاشریک لہ کے سوا اور کسی کے آگے اس کی گردن نہ جھکے۔ پاکیزہ چیزیں تو بہت کثرت سے ہیں اس لئے صرف ان اشیاء کو بیان کردیا جاتا ہے جن کا استعمال ممنوع و ناجائز ہے۔ اور فرمایا کہ جن چارپایوں کا گوشت عام طور پر کھایا جاتا ہے وہ سب حلال ہیں مگر چار چیزیں۔