2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:18

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

گویا گونگے ، بہرے اور اندھے ہو کر رہ گئے ، وہ کبھی نہیں لوٹ سکتے

بہرے ، گونگے اور اندھے کون ہیں ؟ 39: یہ منافقین کی اس پہلی جماعت کے لوگ ہیں جن کا ذکر اوپر گزرچکا۔ ” صُمٌّۢ “ بہرے ہیں یعنی صدائے حق گویا سنتے ہی نہیں۔ ” بُكْمٌ “ گونگے ہیں یعنی کلمہ حق و ایمان کے ادا کرنے سے ان کی زبانیں گنگ ہیں۔ ” عُمْیٌ “ اندھے ہیں یعنی دید حق کی طرف سے ان کی آنکھیں اندھی ہوچکی ہیں اور یہ سب کچھ ان کی اپنی اختیاری گمراہی کے نتیجہ کے طور پر ہوا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو اس طرح ادا فرمایا ہے کہ : اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا 1ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ 0046 (الحج 22 : 46) ” کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ عبرت حاصل کرتے ؟ ان کے پاس دل ہوتے اور سمجھتے بوجھتے ؟ کان ہوتے تو سنتے اور پاتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی اندھے پن میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر پوشیدہ ہیں۔ “ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صراط مستقیم پر چلنے کے لئے دل کی بینائی یعنی بصیرت بہت ضروری ہے اگر دل نابینا ہوجائے تو انسان روحانی طور پر سمجھ بوجھ سے محروم ہوجاتا ہے فہم و ادراک اور صحیح و غلط میں تمیز کرنے کی فطری صلاحیت جاتی رہتی ہے اب اسے عبرت و نصیحت ہو تو کیسے ہو ؟ اس مضمون کی وضاحت قرآن کریم کی زبان سے : جیسا کہ اوپر معلوم ہوچکا کہ ” صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ “ سے مراد کان کے بہرے ، زبان کے گونگے اور آنکھ کے اندھے نہیں بلکہ وہ سن لینے کے باوجود نہ سننے والے ، بولنے کے باوجود نہ بولنے والے اور دیکھنے کے باوجود نہ دیکھنے والے ہیں قرآن کریم نے جگہ جگہ ایسے لوگوں کا ذکر کیا ہے بلکہ اس کے ساتھ مزید الفاظ بھی ملائے ہیں کہ زندہ ہونے کے باوجود مرجانے والے ، جائز و ناجائز میں تمیز رکھنے کے باو وجود تمیز نہ کرنے والے۔ حق و ناحق کی پہچان رکھنے کے باوجود نہ پہچاننے والے ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے انبیاء (علیہ السلام) کی لائی ہوئی تعلیم کی مخالفت کی لیکن ان کی مخالفت کے باوجود انبیاء (علیہم السلام) ان کو پوری مستعدی کے ساتھ تعلیم حق دیتے رہے پھر جن کو علم الٰہی میں قانون فطرت کے مطابق کان ، زبان اور آنکھیں ملنا تھیں جن کو کفر کی موت سے نکل کر اسلام کی زندگی اختیار کرنا تھی کی ، اور دوسرے اپنے انہیں عادات اور اوصاف میں جہنم رسید ہوگئے۔ لیکن کوتاہ بینوں نے سمجھا کہ انبیاء ظاہری کانوں کے بہروں کو شنوائی ، زبان کے گونگوں کو گویائی اور آنکھوں کے اندھوں کو بینائی عطا فرماتے ہیں اور اس سے بڑھ کر طبعی موت مرجانے والوں کو ” قم باذن اللہ “ کہہ کر دوبارہ زندگی بھی دے دیتے ہیں اور اسی طرح لوگوں کو غیب کی خبریں دینے کے لئے آتے ہیں۔ ان کی عقل پر ایسا پردہ پڑا کہ اتنی صاف بات بھی نہیں سمجھ سکے کہ یہ اللہ رب العالمین کی صفات ہیں جو کسی انسان میں منتقل نہیں ہوسکتیں ، نہ کلی طور پر اور نہ جزوی طور پر اور یہ کہ اللہ کریم جس طرح اپنی الوہیت میں کسی کو شریک نہیں کرتا اسی طرح اپنی مخصوص صفات میں بھی کسی کو شریک نہیں کرتا۔ یہ ساری ہماری سمجھ کی کمزوری ہے۔ ہم چاہتے ہیں قرآن کریم کے ایسے مقامات میں سے چند ایک کی نشاندہی قارئین کرام کو ضرور کرادی جائے تاکہ یہ مضمون اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے ہدایت کی راہ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے جس پر کسی کو بھی اختیار نہیں دیا گیا۔ اب آیات ملاحظہ فرمائیں : وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ 1ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا 1ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا 0057 (الکہف 18 : 57) ” اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جسے اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں اور وہ ان سے گردن موڑ لے اور اپنی بدعملیاں بھول جائے جو پہلے کرچکا ہے ؟ بلاشبہ ہم نے اپنے قانون تکوینی کے مطابق ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ کوئی بات پا نہیں سکتے اور اسی قانون کے مطابق ان کے کانوں میں گرانی کردی کہ صدائے حق سن نہیں سکتے تم انہیں کتنا ہی سیدھی راہ کی طرف بلائو مگر وہ کبھی راہ پانے والے نہیں ! “ وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ0045 وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا 1ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا 0046 نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ ہُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا 0047 اُنْظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا 0048 (بنی اسرائیل 17 : 45 تا 48) ” اے پیغمبر اسلام ! جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تجھ میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اپنے قانون تکوینی کے مطابق ایک پوشیدہ پردہ حائل کردیتے ہیں اور اسی قانون کے مطابق ان کے دلوں پر ایک غلاف ڈال دیتے ہیں کہ سمجھ کام نہیں کرتی اور کانوں میں گرانی کہ کچھ سنائی نہیں دیتا۔ جب تو قرآن میں صرف اپنے اکیلے رب کا ذکر کرتا ہے اور ان کے ٹھہرائے ہوئے ربوں کا نام نہیں لیتا تو یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگتے ہیں اور نفرت سے پُر ہوتے ہیں۔ جب یہ لوگ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جو کچھ ان کا سننا ہوتا ہے اسے ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور جب یہ ظالم باہم سرگوشیاں کرتے ہیں اور ان سرگوشیوں میں کہتے ہیں کہ ” تم جس آدمی کے پیچھے پڑے ہو وہ اس کے سوا کیا ہے کہ جادو سے مارا ہوا ہے ؟ “ تو اس سے بھی ہم بیخبر نہیں ہیں۔ اے پیغمبر اسلام ! غور کرو ، ان لوگوں نے تمہاری نسبت کیسی کیسی باتیں بنائی ہیں جس کے سبب گمراہی میں پڑگئے۔ پس اب یہ لوگ کبھی سیدھی راہ نہیں پاسکتے۔ “ وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ 005 (حم السجدہ 41 : 5) اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے دِل غلاف میں ہیں ، اس بات سے جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور (کہتے ہیں کہ) ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک حجاب ہے پس آپ اپنا کام کیے جایئے ہم اپنا کام کیے جاتے ہیں۔ ‘ ‘ ” وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا کَثِیْرٌ مِّنْهُمْ 1ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ 0071 (المائدہ 5 : 71) ” وہ سمجھے کہ اب کوئی آزمائش نہیں ہوگی اس لئے گمراہی کے جوش میں اندھے بہرے ہوگئے پھر اللہ اپنی خاص رحمت سے ان پر لوٹ آیا یعنی ان کو توبہ کی توفیق دی اور توبہ قبول کرلی لیکن پھر ان میں سے بہ تیرے دوبارہ اندھے بہرے ہوگئے اور اب جیسے کچھ ان کے اعمال یعنی کرتوت ہیں اللہ دیکھ رہا ہے۔ “ (5 : 71) قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ 1ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا کٰرِهُوْنَ 0028 (ھود 11 : 28) ” نوح (علیہ السلام) نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! تم نے کبھی اس بات پر غور کیا ، یہ کہ میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے حضور سے ایک رحمت خاص بھی مجھ پر کی ہے لیکن وہ تمہیں دکھائی نہیں دیتی تو میں کیا کرسکتا ہوں کیا ہم جبراً تمہیں راہ دکھا دیں جب کہ تم اس سے بیزار ہو۔ “ وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى (حم السجدہ 41 : 17) ” اور رہی قوم ثمود تو اسے بھی ہم نے راہ جتلا دی تھی لیکن اس نے ہدایت کی راہ چھوڑ کر اندھے پن کا شیوہ پسند کیا یعنی ہدایت کی جگہ گمراہی پسند کی۔ “ (41 : 17) وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا 1ؕ اِنَّهُمْ کَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ (رح) 0064 (الاعراف 7 : 64) ” اور جنہوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائی تھیں ، انہیں ہم نے غرق کردیا حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی سمجھ بوجھ کھو کر یک قلم اندھے ہوگئے تھے۔ “ (7 : 64) وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْـِٕدَةً فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْـِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ کَانُوْا یَجْحَدُوْنَ 1ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا کَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ (رح) 0026 (االاحقاف 46 : 26) ” اور ہم نے ان کو کان ، آنکھیں اور دل دے رکھے تھے ، مگر نہ تو ان کے کان ان کے کچھ کام آئے اور نہ ہی آنکھیں اور دل ، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اس کے پھیر میں آگئے۔ “ (46 : 26) وَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ 1ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ 1ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 0039 (الانعام 6 : 39) ” اور پھر غور کرو کہ جن لوگوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو گویا وہ ایسے ہوگئے کہ جیسے بہرے ، گونگے تاریکیوں میں گم ہوں ، اللہ جس پر چاہے اپنے قانون مشیت کے مطابق راہ گم کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے قانون کے مطابق سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے۔ “ (6 : 39) وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا 0073 (الفرقان 25 : 73) ” اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو اللہ کی آیات سن کر اندھوں بہروں کی طرح نہیں رہ جاتے بلکہ ان نصیحتوں پر غور و فکر کرتے ہوئے ان پر عمل کرتے ہیں۔ “ (25 : 73) قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ 0045 (الانبیاء 21 : 45) ” اے پیغمبر اسلام تو کہہ دے میری پکار اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کی وحی سے علم پا کر تمہیں متنبہ کر رہا ہوں اور جو بہرے ہیں انہیں کتنا ہی خبردار کیا جائے کبھی سننے والے نہیں۔ “ (21 : 45) اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ 0080 وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ 1ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ 0081 (النمل 27 : 80 ، 81) ” آپ کفر کی موت مرے ہوؤں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں تک آواز پہنچا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں یعنی ماننے کو تیار نہ ہوں اور نہ آپ دل کے اندھوں کو گمراہی سے بچا کر صحیح راہ پر لگا سکتے ہیں آپ انہیں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لانے کو تیار ہوتے ہیں اور فرمانبردار ہوتے ہیں۔ “ (27 : 80 ، 81) فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ 0052 وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ 1ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ (رح) 0053 (الروم 30 : 53) ” اے پیغمبر اسلام ! آپ کفر کی موت مرے ہوؤں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں اور نہ آپ دل کے اندھوں کو گمراہی سے بچا کر صحیح راہ پر لگا سکتے ہیں آپ صرف انہیں لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں اور فرمانبردار ہیں۔ “ (39 : 53) اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ کَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ 0040 (الزخرف 43 : 40) ” اے پیغمبر اسلام ! کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں یا اندھوں کو جو صریح گمراہی میں مبتلا ہیں کیا ان کو راہ راست پر لگا سکتے ہیں ؟ “ (43 : 40) اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ 1ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ 0022 (الفاطر 35 : 22) ” اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق سناتا ہے مگر اے پیغمبراسلام ! آپ لوگوں کو نہیں سنوا سکتے جو قبروں یعنی عالم برزخ میں پہنچ چکے ہیں۔ “ (35 : 22) وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ 1ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا 1ؕ (الانعام 6 : 25) ” اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بظاہر حق بات سننے کے لئے آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اور حالانکہ ہمارے قانون کے مطابق ان کے دلوں پر پردے پڑے ہیں کہ ان تک بات کی سمجھ نئی پہنچتی اور ان کے کان میں بوجھ ہے کہ سن نہیں سکتے یعنی سنی ان سنی کردیتے ہیں۔ “ (6 : 25) وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ 1ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ کَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ 0042 وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ 1ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ کَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ 0043 (یونس 10 : 42 ، 43) ” اور اے پیغمبر اسلام ! ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو تیری باتوں کی طرف کان لگاتے ہیں حالانکہ وہ فی الحقیقت نہیں سنتے ۔ پھر کیا تو ان بہروں کو بات سنائے گا اگرچہ وہ بات نہ سننا چاہیں ؟ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو تیری طرف تکنے کے باوجود نہیں دیکھتے کیا تو اندھوں کو راہ دکھائے گا ؟ اگرچہ ان کو کچھ نہ سوجھتا ہو ؟ “ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ 1ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا 1۫ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ 0016 (محمد 47 : 16) ” اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کان لگا کر آپ کی بات سنتے ہیں پھر جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جو اہل علم ہیں ازراہ مذاق پوچھتے ہیں کی ابھی ابھی انہوں نے کیا کہا تھا یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے مطابق مہر لگا دی ہوئی ہے کہ وہ صرف اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے والے ہیں۔ “ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ 1ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ 00108 (النحل 16 : 108) ” یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے اپنے قانوں کے مطابق ان کے دلوں پر ، کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے اور اسی سبب تو وہ غفلت میں ڈوب گئے ہوئے ہیں جس سے اللہ کے سوا ان کو کوئی نکال نہیں سکتا۔ “ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ 0023 (محمد 47 : 23) ” اور یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور ان کو اپنے قانون کے مطابق اندھا اور بہرا کردیا گیا ہے۔ “ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا 002 (محمد 47 : 44) ” کیا یہ لوگ اپنے دماغ سے قرآن پر غور و فکر نہیں کرتے ؟ کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں ؟ “ قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ 1ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ 1ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا 1ؕ (الانعام 6 : 104) ” یاد رکھو تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس علم و دلیل کی روشنی آچکی ہے۔ پس اب جو کوئی دیکھے اور سمجھے تو خود اس کا فائدہ ہے اور جو کوئی قانون الٰہی کے مطابق اندھا ہوجائے تو اس کا وبال بھی اس کے سر ہے۔ “ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ 1ؕ (الانعام 6 : 46) ” اے پیغمبر اسلام ﷺ ! ان سے کہو کہ کبھی تم نے اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں لے لے اور تمہارے دلوں پر یعنی عقلوں پر مہر لگا دے تو کون ہے جو تم کو واپس دے سکتا ہے ؟ “ اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ ہَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً 1ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ 1ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 0023 (الجاثیہ 45 : 23) ” اے پیغمبر اسلام ﷺ ! کیا آپ نے بھلا اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے خواہش نفس ہی کو اپنا رب بنا لیا ہے اور اللہ نے اپنے علم کی بنا پر اسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی ہے۔ اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے اور پھر اب اللہ کے بعد کون ہے جو اس گم کردہ راہ کو راہ دکھا دے کیا یہ سب کچھ دیکھ کر بھی یہ لوگ نصحیت نہیں پکڑتے۔ “ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا 1ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ 0046 (الحج 22 : 46) ” کیا یہ لوگ زمین میں کبھی چلے پھرے نہیں کہ عبرت حاصل کرتے ؟ کاش ! ان کے پاس سمجھنے بوجھنے والے دل ہوتے ۔ سن کر یقین کرنے والے کان ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی اندھے پن کو اختیار کرلیتا ہے تو آنکھیں آندھی نہیں ہوجاتی بلکہ دل آندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔ “ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَاٞ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَاٞ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا 1ؕ اُولٰٓىِٕكَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ 1ؕ اُولٰٓىِٕكَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ (الاعراف 7 : 179) ” ان کے پاس دل ہیں مگر ان سے کام نہیں لیتے۔ آنکھیں رکھتے ہیں مگر ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے۔ کان ہیں مگر ان سے سننے کا کام نہیں لیتے اس طرح عقل کو کھو کے وہ چارپایوں کی طرح ہوگئے ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں ایسے ہی لوگ ہیں جو یک قلم غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ “ وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ ہُوَ کَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ 1ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ 1ؕ ہَلْ یَسْتَوِیْ ہُوَ 1ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ 1ۙ وَ ہُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (النحل 16 : 76) ” اور دیکھو اللہ ایک اور مثال بیان کرتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک گونگا ہے کسی بات کے کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ، اپنے آقا پر ایک بوجھ ہے ، جہاں کہیں بھیجے کوئی خوبی کی بات اس سے بن نہ آئے دوسرا ایسا ہے کہ لوگوں کو عدل و انصاف کی باتوں کا حکم دیتا ہے اور خود بھی سیدھے راستے پر ہے کیا یہ دونوں آدمی برابر ہو سکتے ہیں ؟ “ مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ کَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ 1ؕ ہَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا (ھود 11 : 24) ” ان دو فریقوں کی مثال ایسے ہے جیسے ایک آندھا ، بہرا ہو اور ایک دیکھنے سننے والا ، پھر بتائو کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے ؟ “ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ 1ۙ۬ اَمْ ہَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ 1ۚ۬ (الرعد 13 : 16) ” ان سے کہو کیا اندھا اور دیکھنے والا دونوں برابر ہیں ؟ کیا یہ صحیح ہے کہ اندھیرا اور اجالا برابر ہے ؟ “ وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ 1ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ 1ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ 0058 (المؤمن 40 : 58) ” اور اندھا اور بینا دونوں برابر نہیں ہوتے اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو بدی پر قائم رہے کیا آپس میں برابر ہوتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ “ وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ0019 وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ0020 وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ0021 وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ (فاطر 35 : 19 ، 21) ” یاد رکھو اندھا اور بینا کبھی برابر نہیں ہو سکتے ، اور نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں اور نہ سایہ اور دھوپ کی تپش دونوں برابر ہیں اور نہ زندے اور مردے دونوں مساوی ہیں ؟ “ وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ 1ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ 1ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا 1ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ 1ؕ کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا (بنی اسرائیل 17 : 97) ” جس شخص کو اللہ سعادت کی راہ پر لگا دے فی الحقیقت وہی راہ پر ہے اور جس کسی پر اس نے اپنے قانون کے مطابق کامیابی کی راہ گم کردی تو تم اللہ کے سوا اس کا کوئی مددگار نہ پائو گے قیامت کے دن ہم ایسے لوگوں کو ان کے منہ کے بل اٹھائیں گے ، اندھے ، گونگے ، بہرے ان کا آخری ٹھکانا دوزخ ہوگا جب کبھی اس کے شعلے بجھنے کو ہوں گے تو اور زیادہ بھڑکا دیا جائیں گے اور یہ سزا ہوگی ان کے غلط اعمال کی۔ “ وَ مَنْ کَانَ فِیْ ہٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا (بنی اسرائیل 17 : 72) ” اور جو کوئی اس دنیا میں عقل و حواس سے کام نہ لے کر اندھا رہا تو یقین جانو آخرت میں بھی وہ اندھا ہی ہوگا اور سیدھے راستے سے یک قلم بھٹکا ہوا ۔ “ وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ کُنْتُ بَصِیْرًاقَالَ کَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا 1ۚ وَ کَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى (طہ 20 : 124 ، 126) ” اور جو شخص میری یاد سے رو گرداں ہوگا تو اس کی زندگی ضیق میں گزرے گی اور قیامت کے دن بھی میں اسے اندھا اٹھائوں گا ۔ وہ کہے گا۔ اے میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کر کے کیونکہ اٹھایا ؟ میں تو اچھا خاصا دیکھنے والا تھا ؟ ارشاد الٰہی ہوگا۔ ہاں اسی طرح ہونا تھا ، ہماری نشانیاں تیرے سامنے آئیں مگر تو نے انہیں بھولا دیا۔ بس ! اس طرح آج تو بھی بھولا دیا گیا ہے۔ “ قارئین ” عروہ “ سے درخواست : پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر قارئین نے ان مقامات کو بغور پڑھنے کی کوشش کی ، اگر سرسری نظر ڈال کر آگے نہ نکل گئے تو ان شاء اللہ ان آیات کا مطالعہ دلوں پر مدت کے پڑے ہوئے پردے اتار کر اس قابل بنادے گا کہ قرآن کی تفسیر خود قرآن ہی میں تلاش کی جائے اور مدت بعد کے مشہور قصوں اور کہانیوں سے اجتناب کیا جائے اور خصوصاً شرک فی الصفات کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے ارتکاب سے بچنے کی پوری کوشش کی جائے اور انبیاء (علیہ السلام) کے قصص کا مطالعہ کرتے وقت ان استعارات و تمثیلات ، محاورات و ضرب الامثال پر اچھی طرح نگاہ ڈالی جائے اور ان پاک نفوس کی تعلیمات کو جس طرح سمجھنے کا حق سے سمجھا جائے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ اللہ اللہ ہے اور بندہ بندہ ہے ۔ رسول سارے کے سارے اللہ کے بندے تھے اور بندہ کبھی اللہ کی صفات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پچھلی امتیں زلت قدم سے منہ کے بل گریں اور ایسی گریں کہ پھر ان کے قدم کبھی نہ جم سکے۔ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ 00
Ayah 2:19

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا پھر جیسے آسمان سے پانی کا برسنا ہے کہ اس کے ساتھ کالی گھٹائیں ، بادلوں کی گرج اور بجلی کی چمک ہوتی ہے ، بادل جب زور سے گرجتے ہیں تو موت کا ڈر انہیں دہلا دیتا ہے ، تو اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے لگتے ہیں اور اللہ کا قانون منکروں کو گھیرے ہوئے ہے

منافقین کی دوسری جماعت کی مثال : 40: یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو اپنی کمزوریٔ طبیعت کی وجہ سے ان مصیبتوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان لوگوں کی مثال ٹھیک اس شخص کی سی ہے جو شب کے وقت کہیں جا رہا ہو اور رعد و برق کے خوف سے اپنی جان بچانے کی فکر میں ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام تو قبول کرلیا مگر اب یہاں مشکلات کا سامنا ہے ، عزیزو اقارب ، وطن و دیار ، مال و جائیداد سے علیحدگی ہے۔ جہاد و قتال فی سبیل اللہ کے لئے سر بکف پھرنا ہے۔ منہیات شرعیہ سے اجتناب ہے۔ یہ قربانیاں ان کو تکلیفوں میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔ چونکہ یہ طبیعت کے کمزور ہیں اس لئے ان کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اب بھی اپنی کانوں اور آنکھوں سے کام نہ لیں گے تو ان پر عالم ممات طاری کردیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مثال سے منافقین کی اصلی حیثیت آنکھوں کے سامنے پھرجاتی ہے ان کی عام طور پر یہی کیفیت ہوتی ہے کہ ” لا الی ھولا ولا الی ھولاء “ کی پوری تفسیر بنے ہوتے ہیں یعنی نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ۔ دل میں کچھ اور زبان پر کچھ : 41: ان کی طبیعت کا رجحان یہ ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں یعنی مسلمان اور منکرین اسلام سے تعلقات قائم رہیں اگر اسلام کے ساتھ دوستی ہے تو اس طرح کہ کفر سے بھی رشتہ اخوت نہ ٹوٹنے پائے۔ حق کی تائید ہے تو باطل بھی قائم و دائم رہے نور سے استفادہ ہو رہا ہے تو ظلمت و تاریکی بھی کوئی بڑی چیز نہیں۔ بلکہ وقت آنے پر بڑے کام کی چیز ہے پھر کیوں اس سے مفت میں بیر مول لیا جائے ان کی حالت کا ذکر بھی قرآن کریم میں جگہ جگہ کیا گیا ہے۔ ایک دو مقام کو دیکھ لینا بصیرت فطرت کے لئے کافی ہوگا ، چناچہ ارشاد الٰہی ہے : وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ 1ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ 1ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ 1ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ0020 طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ 1۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ 1۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ0021 (محمد 27 : 20 ، 21) ” ظاہر میں ایمان لانے والے مسلمان کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں ایسی سورت کیوں نازل نہیں ہوئی جس میں مشرکین سے جنت کا حکم دیا گیا ہو ؟ جب ایسی محکم اور شک و شبہ سے بالاتر سورت نازل کردی گئی جس میں کفار سے لڑائی کا حکم تھا تو آپ دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے دلوں میں مرض نفاق ہے وہ یہ حکم سن کر آپ کی طرف اس طرح حیرت سے دیکھتے ہیں جس طرح موت کی غشی میں مبتلا آدمی دیکھتا ہے حالانکہ ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سچی اتباع اور پیروی کریں۔ “ (47 : 20 ، 21) ایک جگہ یوں ارشاد فرمایا گیا : قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ۠ مِنْكُمْ وَ الْقَآىِٕلِیْنَ۠ لِاِخْوَانِهِمْ ہَلُمَّ اِلَیْنَا 1ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ0018 اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ 1ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ کَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ 1ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ 1ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ 1ؕ وَ کَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا 0019 (الاحزاب 33 : 18 ، 19) ” اللہ تعالیٰ ان منافقین کو خوب جانتا ہے جو راہ حق کے بارے میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں اور انہیں بھی جانتا ہے جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ اس پیغمبر کا ساتھ چھوڑ دو اور ہمارے ساتھ شامل ہوجائو ، یہ لوگ لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو مجبوراً اور بہت تھوڑا سا دکھاوے کے لئے ، اور وہ لوگ تمہارا کسی کام میں دل کھول کر ساتھ نہیں دیتے اور دشمن کی طرف سے اگر کوئی خوف یا خطرہ پیش آجائے تو آپ کی طرف اس طرح دیدے پھیر پھیر کر دیکھتے ہیں جیسے کسی پر نزع کی حالت میں غشی طاری ہورہی ہو اور جب خوف و خطرے کا وقت گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فتح و بصیرت کے بعد قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لے کر آپ کے استقبال کے لئے پیش پیش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی تمہارے ساتھ شریک جنگ تھے ہمارا حصہ ملنا چاہیے۔ یہ ہرگز مؤمن نہیں ہیں اسلئے اللہ تعالیٰ نے انکے سارے اعمال اکارت وضائع کردیئے ہیں اور یہ سب کچھ اللہ کے قانون کے مطابق ہوا ہے اسلئے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں بلکہ بالکل آسان ہے۔ “ (33 : 18 ، 19)
Ayah 2:20

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

پھر جب بجلی زور سے چمکتی ہے تو قریب ہے کہ ان کی بینائی اچک لے ، اس کی چمک سے جب فضا روشن ہوجاتی ہے تو دو چار قدم چل لیتے ہیں اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو پھر رک جاتے ہیں ، اگر اللہ چاہے تو یہ لوگ بالکل بہرے ، اندھے ہو کر رہ جائیں اور اللہ یقینا ہرچیز کیلئے ایک اندازہ مقرر کرنے والا ہے۔

خلاصۃ الکلام : 42: منافقین کا پہلا گروہ تو ایڑی سے چوٹی تک اسلام کا شدید دشمن ہے۔ اس سے کسی خیر و صلاحیت کی توقع رکھنا ہی فضول ہے البتہ دوسری قسم کے لوگ جن کی مثال ” اَوْ کَصَیِّبٍ “ سے دی گئی ہے ایسے ہیں کہ ان کی رکاوٹوں کو دور کیا جائے ، رشد و ہدایت ان کے سامنے ہو تو ممکن ہے ترغیب و ترہیب سے وہ اپنے اندر عبرت و مؤعظت پیدا کریں اور سچے دل سے دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب آنے والی آیات میں ان کی جانب توجہ کی جاتی ہے اور تذکیر بآلاء اللہ کے ذریعہ ان کے لئے تنبیہ اور عبرت کی راہ کھولی جاتی ہے اور یہ بات اس مضمون سے خود بخود نکل آتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ : ” اگر اللہ چاہے تو یہ لوگ بالکل بہرے ، اندھے ہو کر رہ جائیں “ یعنی ابھی قانون الٰہی کے مطابق ان کو موقع دیا جارہا ہے کہ اگر یہ سیدھی راہ چلنا چاہیں تو چل سکتے ہیں۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جو ہرچیز پر قادر ہے : 43: قدیر قدرۃ سے ہے۔ قادر اور قدیر ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی صفت خاص ہے جس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی عجز و کمزوری سے پاک ہے اس کا مفہوم اس طرح بیان کیا گیا ہے : الفاعل لما یشاء علی قدرما تقتضی الحکمۃ لا زائد علیہ ولا ناقصا عنہ ۔ یعنی کرنے والا اس کا جسے وہ چاہے اس اندازے پر جو حکمت کا اقتضا ہے نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم (راغب) یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے ہرچیز کو ایک خاص بندھن میں باندھ دیا ہے ایک خاص انداز اس کے لئے مقرر کردیا ہے ایک خاص قانون اس کے لئے بنادیا ہے۔ اب کوئی چیز اس بندھن ، اس انداز اور اس قانون سے انحراف نہیں کرسکتی۔ اگر اس کے خلاف ہو تو اللہ کی قدرت میں نقص آتا ہے اور اللہ کی ذات ہی وہ ذات ہے جو ہر نقص سے پاک ہے۔ افسوس ! کہ لوگوں نے اللہ کے قادر یا قدیر ہونے کو کیا سمجھا ؟
Ayah 2:21

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور ان سب کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تب ہی تم اس کی نافرمانی سے بچ سکتے ہو

ۡقرآن کریم کا انداز تخاطب : 44: گزشتہ آیات میں تین قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ مسلمان ، کافر اور منافق۔ پھر منافقین کو دو گروہوں میں تقسیم کر کے بتایا گیا اور دونوں گروہوں کو الگ الگ مثال دے کر خوب ذہن نشین کرادیا کہ ان کے یہ یہ اوصاف ہیں تاکہ ہر انسان اپنا تجزیہ کر کے اپنی حیثیت کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کرے اگر کوئی بات ایسی نظر آئے جو کفر و نفاق کی طرف لے جارہی ہو تو فوراً اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ کیونکہ بحیثیت انسان تینوں گروہ ایک ہی اصل سے متعلق ہیں اس لیے اکرام انسانیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کو ” اے نسل انسانی “ کہہ کر مخاطب کیا ” اے کافرو “ یا ” اے منافقو ! “ کہہ کر نہیں بلایا۔ پھر صدا دی تو صدا دے کر خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ ان سب کے سامنے توحید الٰہی کا مضمون رکھا اور یہ بتادیا کہ قرآن کی دعوت پوری نوع انسانی کے لیے ہے لیکن اس سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا ہر انسان کی مرضی اور اختیار کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے فائدہ اٹھانے یا نہ اٹھانے کے لیے قانون یعنی ایک انداز مقرر کردیا ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ 1ۙ ۔ توحید الٰہی کے درس و فکر کا پہلا طریقہ : 45: قرآن کریم کا درس و فکر ہمیں بتاتا ہے کہ مخالفین و معاندین کو راہ حق کی طرف لانے کیلئے تین قسم کی تذکیر و موغطت سے کام لیا جاتا ہے۔ 1۔ تذکیر بآلاء اللہ۔ یعنی اپنی نعمتیں یاد دلا کر عبرت و بصیرت پیدا کرنا جیسے : فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 0069 (اعراف : 7 : 67) ” پس چاہیے کہ تم اللہ کی نعمتوں کی یاد سے غافل نہ ہو تاکہ ہر طرح کامیاب ہو جائو۔ “ 2۔ تذکیر بایام اللہ۔ گزشتہ اقوام و امم کے عروج وزوال کی تاریخ اور اس سے استنباط نتائج وغیرہ جیسے : وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ 1ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ 005 (ابراہیم : 14 : 5) ” اور اللہ کے فیصلہ کن واقعات کا تذکرہ کر کے وعظ و نصیحت کرو کیونکہ ہر اس انسان کے لیے جو صبر و شکر کرنے والا ہے ان تذکروں میں عبرت و موعظت کی بڑی نشانیوں ہیں۔ “ 3۔ تذکیر ما بعد الموت۔ مرنے کے بعد اعمال انسانی کے نتائج بیان کر کے نیکی کا شوق دلانا اور برائی کی پشیمانی سے ڈرانا جیسے : اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ009 وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ0010 (العادیات : 100 : 9 ، 10) ” کیا انسان کو وہ وقت یاد نہیں جب مردے جو قبروں یعنی عالم برزخ میں ہیں اٹھا کھڑے کئے جائیں گے۔ اور جو کچھ لوگوں کے سینوں میں مخفی ہے وہ سب آشکارا کردیا جائے گا۔ “ ان آیات میں پہلی قسم کی تذکیر یعنی تذکیر بالاء اللہ کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ ربوبیت ہی پر ہر زندگی کا انحصار ہے۔ زندگی کے جس قدر مراتب مختلفہ ہیں سب کے سب اللہ وحدہ لا شریک کے قبضہ میں ہیں۔ موت وحیات کا وہی مالک ہے وہی بادلوں سے پانی برساتا ہے اور وہی حیات انسانی کے بقا و قیام کے تمام ضروری سامان پیدا کرتا ہے پھر یہ کس قدر کوتاہ بینی اور جہالت و ضلالت ہے کہ غلامی کرتے وقت ہم کسی اور کو بھی اس کا شریک بنالیں خواہ وہ بشکل اصنام و طواغیت ہوں۔ رسم و رواج ہوں۔ نسلی روایات ہوں یا عقائد مالوفہ ہوں یا سلاطین جابرہ ہوں غرض کہ وہ چیز جس کو ” اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ “ (التوبہ : 31) کا درجہ عملاً یا اعتقاداً دیا جائے اس میں داخل ہیں پھر تخلیق انسانی کے ساتھ تخلیق آسمان و زمین اور کائنات کے ہر شے انعامات الٰہی ہی کی کرشمہ سازی ہے۔ مخاطبین کی پیدائش سے استدلال : 46: ” جس نے تمہیں پیدا کیا “ یعنی تمہاری تخلیق میں کسی دوسرے کا کوئی رد عمل نہیں ہے ۔ یعنی عمل تخلیق خالص الٰہی عمل ہے تخلیق میں ہمسر و مساوی ہونا تو الگ رہا۔ ماتحت و معاون کی حیثیت سے بھی کوئی شریک تخلیق نہیں۔ یعنی تم نیست سے ہست ہوئے۔ عدم سے وجود میں آئے ہو یہ نہیں کہ پہلے سے کوئی مخلوق مادہ موجود تھا اللہ نے اس کی صورت میں کوئی خاص صفت و ترتیب پیدا کردی۔ جہاں اس رنگ کے علاوہ بیان ہوا یعنی کسی نہ کسی مادہ سے تخلیق کرنے کا ذکر فرمایا وہاں اس حقیقت کو اس میں پوشیدہ رکھا کیوں ؟ اس لیے کہ انسان کا امتحان ہوجائے کہ اس نے اپنے خالق حقیقی کو کیا سمجھا ہے ؟ مِنْ قَبْلِكُمْ میں پوشیدہ راز : 47: ” اور تم سے پہلوں کو “ اس سے پچھلی انسانی نسلوں کا مراد ہونا تو ظاہر ہی ہے کہ تم سے پہلے جو انسان ہو گزرے ہیں ان سب کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ہے لیکن اس میں ایک پوشیدہ راز یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ خلقت انسانی سے قبل روئے زمین پر کوئی اور مخلوق بھی آباد رہ چکی ہو۔ یہ دو لفظ لا کر قرآن کریم نے ارشاد ادھر بھی کردیا کہ توحید الٰہی کا درس ماضی و حال ، تاریخ و مشاہدہ دونوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سوچ سمجھ کا واحد مرکز : 48: ” تب ہی تم “ یعنی توحید الٰہی میں وہ نسخہ کیمیا ہے جس سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ متقی اور موحد دونوں مرادف ہیں متقی تو ہی متقی ہے جو موحد ہے اگر موحد نہیں تو متقی نہیں ہوسکتا۔ یاد رہے کہ ” لعل “ کا لفظ اظہار شک اور امید و آرزو کے لیے بولا جاتا ہے لیکن قرآن کریم میں جس جگہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ادا ہوا ہے وہاں آرزو کی بجائے وقوع اور شک و احتمال کی وجائے یقین کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ ان مقامات پر اردو میں اس کا ترجمہ ” تاکہ “ ” تب ہی “ سے کیا جائے تو یہی صحیح ہے کیونکہ اس سے احتمال اور شک ختم ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:22

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

وہ پروردگار عالم جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا اور آسمان کو چھت کی طرح بلند کردیا اور وہی ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے جس سے زمین شاداب ہوتی ہے اور پھل تمہاری غذا کیلئے پیدا کرتا ہے ، ایسا نہ کرو کہ اس کے ساتھ کسی دوسری ہستی کو شریک بناؤ اور تم جانتے بھی ہو

زمین و آسمان کی صدائے وحدت : 49: فراش کے معنی مفروش یعنی پھیلائی ہوئی چیز کے ہیں۔ امام راغب کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ زمین کو ایسا بنایا جس پر انسان قرار پکڑ سکتا ہے اگر انسان کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی عظمت کی دلیل ہے تو زمین و آسمان کی پیدائش اور بناوٹ اس عظمت کا اور بھی بلند تر احساس پیدا کرتی ہے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت یا عمارت کہنے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ فرش بچھانے ، چھت یا عمارت بنانے میں ایک خاص نظم و نسق یا ایک خاص ترتیب موجود ہوتی ہے جس میں اس بات کا واضح اشارہ دیا جارہا ہے کہ وہ ذات جو ان سب کی بنانے والی ہے وہ بہت ہی مدبر بالا رادہ ذات ہے کیونکہ ہر صنعت صانع کا پتہ دیتی ہے ۔ ہر نظام ناظم کی صلاحیت پر دال ہے انسان ہو یا زمین و آسمان بلکہ اس کائنات کا ہر ذرہ ذرہ اس بات کی شہادت ہے کہ ان کا صانع ایک اور صرف ایک ہے اور وہ ایسا قادر و قدیر ہے کہ اسی کے بندھن سے یہ سب کچھ بندھا ہوا ہے۔ یہاں مقصود اصلی زمین و آسمان کی ہیئت بیان کرنا یا ان کی ارضیاتی یا فلکیاتی ماہیت بیان کرنا قطعاً نہیں ہے بلکہ مقصود اصلی یہ ہے کہ زمین ہو یا آسمان کوئی بھی ازخور نہیں بن گیا بلکہ جو کچھ ہے اور جیسا بھی ہے سب اللہ ہی کا بنایا ہوا ہے اور اسی قادر مطلق کے زیر فرمان ہے۔ دوسری تعلیم یہ ہے کہ زمین و آسمان انسان کے لیے خلق ہوئے ہیں۔ انسان زمین و آسمان کے لیے خلق نہیں ہوا۔ یعنی مقصود و مطلوب انسان ہے۔ زمین و آسمان دونوں بلکہ ان کے درمیان اور ان کے اندر جو کچھ ہے سب کا سب باذن الٰہی اسی خلیفۃ اللہ کے خادم ہیں۔ پھر یہ کیسی حماقت و بےوقوفی ہے کہ آقا یعنی انسان اپنے ان الٰہی خادموں کے سامنے جھکنے لگے اور الٹا انہیں کو معبود قرار دے کر ان کی پرستش کرنے لگے۔ آپ ایک بار پھر دیکھیں کہ زمین کو فرش کا نام دے کر یہ بھی بتادیا کہ یہ ایسی ٹھوس اور ہموار چیز ہے جس پر ہم قدم رکھ سکتے ہیں ، بیٹھ سکتے ہیں ، لیٹ سکتے ہیں یہ کوئی ایسی کھردری یا پلپلی چیز نہیں جس بیٹھنا ، چلنا ، قدم رکھنا ناممکن ہو۔ زمین اپنی ہیئت کے لحاظ سے گول ہو یا چپٹی ہر حال میں اس کا تعارف انسان اور انسانیت کے سلسلے میں اس سے بہتر ممکن نہیں کہ وہ انسان کے لیے فرش کا کام دے رہی ہے اور اس کام پر اس کو اللہ ہی نے لگایا ہے۔ اسی طرح ” سماء “ میں اصلی تخیل بلندی کا ہے۔ زمین جس طرح بطور فرش ہمیں نیچے سے سنبھالے ہوئے ہے آسمان بالکل اسی طرح ہم کو اوپر سے ڈھانپے ہوئے ہے۔ ظاہر ہے کہ جو محسوس اور مرئی چیز اس قدر بلند ہے کہ بڑے بڑے سیاروں کی بلندیاں ، اونچے سے اونچے پہاڑوں کی چوٹیاں ، پرندوں اور طیاروں کی بڑی سے بڑی بلند پروازیاں سب اس کے اندر سما جائیں اور سب کی سب اس سے پست ہی رہیں تو اس پر چھت کا اطلاق نہ ہوگا تو اور کس پر ہوگا ؟ پھر یہ بات کہ زمین کی طرح آسمان بھی کوئی ٹھوس یا مادی جسم رکھتا ہے ؟ یا محض خلا منتہائے نظر ہے اس قسم کے مسائل کا تعلق تمام تردنیوی تجربی علوم سے ہے قرآن کو تو آسمان کا صرف یہ وصف بیان کرنا تھا جو سلسلہ الٰہی سے تعلق رکھتا ہے اور یہ بیان اس نے کردیا اور یہ واضح کردیا کہ زمین و آسمان کی کوئی شے پوجا اور پرستش کے لائق نہیں ہے اس کی ہیئت و ماہیت کچھ بھی ہو ؟ بارش برسانے والا ہی معبود حقیقی ہے : 50: اور آسمان سے پانی نازل کرنے والا وہی معبود واحد و برحق ہے نہ کہ کوئی دیوی دیوتا ، پری و بھوت اور انسان و جِنّ زندہ ہو یا مردہ۔ مقصود یہاں بھی وہی تعلیم ہے کہ آسمان و بارش سب الٰہ واحد ہی کی مخلوق و مصنوع ہیں۔ علاوہ ازیں جو کچھ کہا گیا ہے وہ سب مکرانیوں ، مصریوں ، یونانیوں ، ہندیوں اور رومیوں کے گھڑے ہوئے خرافات ہیں۔ آسمان و بارش کی پرستش اب دنیا سے بالکل مفقود نہیں ہوئی بلکہ نہ معلوم کتنی مخلوق اب بھی ہے جو ان کی پرستش کرتی ہے۔ نہ معلوم کتنے گوشوں میں اب بھی یہ شرک دوسرے شرکوں کی طرح جاری وساری ہے ۔ یاد رہے کہ آسمان سے پانی برسنے ، بادل سے پانی کے اترنے ، بخارات کے منجمد ہونے اور پھر گرمی پا کر تحلیل ہونے اور بادل بن کر برس پڑنے اور اسی طرح کے درمیانی واسطوں کے ہرگز منافی نہیں کیونکہ یہ واسطے اسی مسبّب الاسباب کے ہیں جو ہرچیز کا آخری سبب ہے۔ لاضدلہ ولا ندلہ : 51: ” تم اللہ کا ہمسر مت ٹھہرائو “ اس خلیفۃ اللہ یعنی انسان کو سمجھانا یہاں بھی مقصود ہے کہ وہ جب کبھی اپنے مقام و مرتبہ کو بھول کر پستی میں گرا ہے تو اس نے اپنا سر جھکایا اور ماتھا ٹیکا ہے ، درختوں کے آگے ، ان کے پھلوں کے آگے ، بارش کے دیوتا کے آگے ، زمین کے آگے ، آسمان کے آگے بلکہ زمین و آسمان کی ہر شے کے آگے ، قرآن کریم اس کو اسی حماقت پر تنبیہ کر رہا ہے۔ اَنْدَادًا ند کی جمع ہے۔ ند عربی میں کہتے ہیں مثل و مشابہ کو اور مخالف و مد مقابل کو بھی کہا جاتا ہے اور یہاں دونوں مراد ہیں اور اس جامعیت میں نکتہ یہ ہے کہ شرک دنیا میں دونوں قسموں سے مروج رہا ہے اور اب بھی مروج ہے۔ بہت سی قوموں نے اپنے دیوتائوں کو محض ایک رب اصغر یا ماتحت رب تسلیم کیا ہے اور مجوس نے اہرمن کو یزدان کا حریف اور مد مقابل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے شرک کو شرک ہی قرار دیا ہے اور اس میں سوائے الفاظ کے کوئی فرق بھی تسلیم نہیں کیا۔ مفہوم شرک میں دونوں برابر ہیں۔ فطرت ِانسانی اور توحید ربانی : 52: یعنی الہام فطری اور فہم بشری دونوں کا تقاضا ہے کہ سب کا حاکم ، سب کا خالق بس وہی ایک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اتنی بصیرت جو توحید الٰہی تک پہنچادے ہر قلب بشری میں ودیعت کردی گئی ہے۔ ہاں یہ بات صحیح ہے کہ اکثر غلط تعلیم و تربیت اور ناقص ماحول اس فطرت ہی کو مسخ کر ڈالتا ہے اور جس کی فطرت مسخ شدہ ہو وہ انسان ، انسان کیونکرہوا ؟ یعنی ہر مشرک شرک کر کے اپنی انسانیت ہی کو ضائع کردیتا ہے۔ اسی لیے اس کو ” ظلم عظیم “ قرار دیا گیا ہے کہ یہ فطرت کو مسخ کرتا ہے۔ دیکھو حضرت لقمان نے اپنے صاحبزادے کو ان الفاظ میں نصیحت کی ہے کہ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ 1ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ 0013