2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اور اللہ نے جو چیزیں تم پر حرام کردی ہیں وہ یہ ہیں : مردار جانور ، حیوانات کا خون ، سور کا گوشت اور سب چیزیں جو اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کے نام پر پکاری جائیں ، ہاں ! اگر وہ بحالت مجبوری کھالے تو مجبور آدمی کیلئے کوئی گناہ نہیں ہوگا بلاشبہ اللہ بخش دینے والا اور رحمت رکھنے والا ہے

جن چار چیزوں سے روکا گیا ہے وہ کون کون سی ہیں ؟ 301: جن جانوروں کو ذبح کر کے کھانے کی اجازت ہے ان جانوروں میں سے اگر کوئی بغیر ذبح کئے مر گیا تو اس کا گوشت حرام ہوگا اور اس کو اردو زبان میں مردار کہتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ مردار حرام ہے ۔ یہ قید جو لگائی گئی کہ ” جن جانوروں کو ذبح کر کے کھانے کی اجازت ہے “ کا مطلب ہے کہ کچھ جانور ایسے بھی ہیں جو بغیر ذبح کئے کھائے جاسکتے ہیں جیسے مچھلی اور ٹڈی اور انہی اقسام میں سے اور چیزیں بھی ہیں جن کو دوسرے ناموں سے پکارا جاتا ہے جیسے جھینگا وغیرہ اصل اس کی یہ ہے کہ ان کا تعلق ان جانوروں سے ہے جن میں بہنے والا خون موجود نہیں ۔ اسی خون کو جسم سے نکالنا ضروری ہے جس کی شناخت یہ ہے کہ یہ خون بہہ کے نکلتا ہے۔ ابن ابی اوفی کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ یا سات لڑائیاں لڑیں اور ان ایام میں ہم ٹڈی کھاتے رہے۔ مردار کی حرمت پر یہود و نصاریٰ بھی متفق ہیں اگرچہ کھانے کو وہ اب کھا جاتے ہوں چناچہ آج بھی تورات کے اندر موجود ہے۔ ” اور جو کوئی کسی حیوان کو از خود مر گیا ہو یا اسے درندے نے پھاڑا ہو کھائے تو وہ شخص خواہ وہ تمہارے دیس کا ہو خواہ پردیس کا وہ اپنے کپڑے دھولے اور پانی سے غسل کرے اور شام تک ناپاک رہے تب وہ پاک ہوگا۔ “ (احبار 17 : 5) ہر قسم کا خون حرام ہے لیکن شارع (علیہ السلام) نے جگر اور تلی کو مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ویسے قرآن کریم نے جس خون کو حرام قرار دیا ہے اس کی خود ہی دوسری جگہ تشریح فرما دی ہے کہ اس سے وہ کون مراد ہے جو بہنے والا ہے اور تلی اور جگر تو بہنے والے خون ہی نہیں ہیں۔ اس کا ذکر تورات میں بھی موجود ہے : ” اور تم کسی پرندے اور چرندے کا کچھ لہو اپنے سب مکانوں میں نہ کھائیو اور جو انسان کسی کون میں سے کھائے گا وہ اپنی قوم سے کٹ جائے گا۔ “ (احبار 72 : 26 تا 27) تیسری چیز قرآن کریم نے ” لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ “ بتائی ہے۔ اگرچہ صراحت کے ساتھ حرمت ” لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ “ ہی کی آئی ہے لیکن فقہا امت کا اجماع ہے کہ سور کا صرف گوشت ہی نہیں بلکہ اس کی چربی ، ہڈی ، کھال ، بال سب ہی حرام ہیں اور لحم کی تصریح تو اس لئے ہے کہ گوشت ہی ہر جانور کے جسم کا اہم ترین حصہ ہے اور جب گوشت کہہ دیا تو باقی چیزیں اس کی تابیعت میں خود بخود آگئیں۔ اس کے متعلق تورات میں بھی ہے کہ : ” سؤر کا گوشت اور سؤر کا کھر اس کے دو حصہ ہوتا ہے اور اس کا پاؤں چرا ہوا ہے لیکن وہ جگالی نہیں کرتا وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے۔ “ (احبار 11 : 17) اور چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ جانور کبھی حلال نہ ہوگا جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے یا اس کے لئے نامزد کیا گیا ہو اور اس حرمت میں صرف جانور ہی داخل نہیں ہیں بلکہ ہر نذر و نیاز جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کے نام پر کی جائے خواہ وہ کسی کے نام پر کی جائے ، خواہ کوئی کرنے والا ہو یہ سارا مفہوم وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ 1ۚ میں پایا جاتا ہے۔ بطور بھینٹ کوئی جانور ذبح کیا جائے تو اگرچہ ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نام لیا ہو مگر وہ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ 1ۚ میں داخل ہو کر حرام ہوجائے گا درمختار میں ہے کہ ص اجمع العلماء لوان مسلم ذبح ذبیحۃ وقصد مذبحا التقرب الی غیر اللہ صار مرتد اوذبیحۃ ذبحیۃ مرتد۔ جمہور علماء کی رائے ہے کہ اگر ایک مسلمان غیر اللہ کے تقرب کی خاطر جانور ذبح کرے تو وہ مرتد ہوجائے گا۔ مسلم شریف میں ہے : (لعن اللہ مَن ذبح لغیر اللہ ) اس شخص نے اللہ کی لعنت جو غیر اللہ کے لئے ذبح کرے۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) سے دریافت کیا گیا کہ : ” گائو یا بز یا مرغ بنام کدام شہید یا ولی ذبح نماید چہ حکم است ؟۔ “ انہوں نے فرمایا : ” ذبح کہ آں جانور بنام غیر خداوند خواہ پیغمبر باشد خواہ ولی خواہ شہید خواہ غیر انسان حرام است و اگر قصد تقرب بنام اینہا ذبح کردہ باشد ذبیحہ آن جانور حرام و مردار می شود و ذبح کنندہ مرتد می سود ، توبہ ازیں فعل منع لازم است۔ “ یہ تو علماء اسلام کا بیان ہے اگرچہ انہوں نے بھی یہ بات کتاب و سنت سے براہ راست سمجھی ہے۔ اس لئے ہم کو چاہئے قرآن کریم سے پوچھیں کہ وہ اس سلسلہ میں کوئی مزید وضاحت کرتا ہے یا نہیں چناچہ ارشاد الٰہی ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا 1ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ 0087 وَ کُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا 1۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ 0088 (المائدہ 5 : 87 تا 88) ” اے مسلمانوں اللہ نے جو چیزیں تم پر حلال کردی ہیں انہیں اپنے اوپر حرام نہ کرو اور (اس طرح کی روک ٹوک میں) حد سے نہ گزرو اللہ حد سے گزرجانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور جو کچھ اللہ نے تمہیں رزق دے رکھا ہے اس میں سے اچھی اور حلال چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” تم کہہ دو جو وحی مجھ پر بھیجی گئی ہے میں اس میں ایسی کوئی چیز حرام نہیں پاتا کہ کھانے والے پر اس کا کھانا حرام ہو بجز اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو کہ یہ چیزیں بلاشبہ گندگی ہیں یا پھر جو چیز گناہ کا موجب ہو کہ غیر اللہ کا نام اس پر پکارا گیا ہو اور اگر کوئی آدمی مجبور ہوجائے اور مقصود نافرمانی نہ ہو ، نہ حد ضرورت سے گزر جانا تو بلاشبہ تمہارا پروردگار بخشنے والا رحمت والا ہے اور یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور بکری میں سے ان کی چربی بھی حرام کردی تھی مگر وہ چربی نہیں جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا انتڑیوں میں ہو یا ہڈی کے ساتھ ملی ہوئی ہو یہ ہم نے انہیں ان کی سرکشی کی سزا دی تھی ( یہ بات نہ تھی کہ یہ چیزیں فی نفسہٖ حرام ہوں) اور بلاشبہ ہم سچے ہیں۔ “ (الانعام 6 : 145 تا 146) ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے : ” جو { اَلرُّسُوْل } (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی کریں گے کہ وہ نبی امی ہے اور اس کے ظہور کی خبر اپنے یہاں توراۃ و انجیل میں لکھی پائیں گے وہ انہیں نیکی کا حکم دے گا ، برائی سے روکے گا ، پسندیدہ چیزیں حلال کرے گا ، گندی چیزیں حرام ٹھہرائے گا ، اس بوجھ سے نجات دلائے گا جس کے تلے دبے ہوں گے ان پھندوں سے نکالے گا جن میں گرفتار ہوں گے تو جو لوگ اس پر ایمان لائے اس کے مخالفوں کے لیے روک ہوئے (اور راہ حق میں) اس کی مدد کی اور اس روشنی کے پیچھے ہو لیے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے سو وہی ہیں جو کامیابی پانے والے ہیں ۔ “ (الاعراف 7 : 157) ایک جگہ ارشاد ہوا : ” پس چاہیے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اسے شوق سے کھاؤ ، حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں اور چاہیے کہ اللہ کی نعمت کا شکر بھی بجا لاؤ اگر تم صرف اس کی عبادت کرنے والے ہو۔ جو کچھ تم پر حرام کیا گیا ہے وہ تو صرف یہ ہے کہ مردار جانور ، لہو ، سور کا گوشت اور وہ چیز جسے اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کیلئے پکارا جائے ، پھر جو کوئی ناچار ہوجائے اور نہ تو سرتابی کرنے والا ہو ، نہ حد سے گزر جانے والا ، تو اللہ بخشنے والا رحمت والا ہے۔ اور ایسا نہ کرو کہ تمہاری زبانوں پر جو جھوٹی بات آجائے بےدھڑک نکال دیا کرو اور حکم لگا دو ، یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے ، اس طرح حکم لگانا اللہ پر افتراء پردازی کرنا ہے جو لوگ اللہ پر افتراء پردازیاں کرتے ہیں وہ کبھی فلاح پانے والے نہیں۔ بہت تھوڑے فائدے ہیں انہیں عذاب دردناک پیش آنے والا ہے۔ “ (النحل 16 : 114 ، 117) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اے مسلمانو ! تم پر حرام : کردیئے گئے ہیں مردار جانور ، خون ، سور کا گوشت ، وہ جانور جو غیر اللہ کے نام سے پکارا جائے ، گلا گھونٹ کر مارا ہوا ، چوٹ لگا کر مارا ہوا ، وہ جو بلندی سے گر کر مر جائے ، وہ جانور جو کسی کے سینگ مارنے سے مر جائے ، وہ جسے درندہ پھاڑ جائے مگر ہاں ! وہ جسے تم ذبح کرلو ، وہ جانور جو کسی تھان پر چڑھا کر ذبح کیا جائے اور یہ بات بھی کہ تیروں اور پانسوں سے آپس میں تقسیم کرو تو یہ گناہ کی بات ہے ، جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ آج تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے ہیں پس ان سے نہ ڈرو بلکہ صرف مجھ ہی سے ڈرو ، آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی اور تمہارے لیے پسند کرلیا کہ دین { الاسلام } ہو ، پس دیکھو جو کوئی بھوک سے بےتاب ہوجائے یہ بات نہ ہو کہ دانستہ گناہ کرنا چاہے تو اللہ بخشنے والا اور رحمت رکھنے والا ہے۔ “ (المائدہ 5 : 3) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” پس جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اسے بلا تامل کھاؤ اگر تم اللہ کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو۔ اور تمہارے لیے کونسی بات روکنے والی ہے کہ جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اسے نہ کھاؤ ؟ حالانکہ جو کچھ تم پر حرام کیا گیا ہے وہ اللہ نے کھول کر بیان کردیا ہے ، ہاں حالت کی مجبوری تمہیں جو کچھ کھلا دے وہ اس سے مستثنیٰ ہے اور بہت سے لوگ ہیں جو بغیر علم کے محض اپنی نفسانی خواہشوں سے لوگوں کو بہکاتے رہتے ہیں ، تمہارا پروردگار انہیں اچھی طرح جانتا ہے جو زیادتی کرنے والے ہیں۔ اور ظاہری گناہ ہو یا چھپا گناہ ہو ، ہر حال میں گناہ کی باتیں ترک کر دو جو لوگ گناہ کماتے ہیں وہ (انسانوں کی نگاہ سے اگرچہ چھپ جائیں لیکن) جو کچھ کرتے رہتے ہیں ضرور اس کا بدلہ پائیں گے۔ اور جس جانور پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہے اس کا گوشت نہ کھاؤ اس میں سے کھانا البتہ نافرمانی کی بات ہوگی اور دیکھو شیطان تو اپنے ساتھیوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے رہتے ہیں تاکہ تم سے کج بحثی کریں اگر تم نے ان کا کہا مان لیا تو پھر سمجھ لو تم بھی شرک کرنے والے ہوئے۔ “ (الانعام 6 : 118 ، 121) حقیقت یہ ہے کہ انسان بالطبع آزاد پیدا کیا گیا ہے غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا اور نذر دینا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اپنی آزادی دوسرے کی خاطر بیچ رہا ہے۔ حالانکہ یہ حق صرف اللہ کے لئے مخصوص تھا۔ اللہ تعالیٰ غیور ہے وہ کبھی اس بات کو پسند نہیں کرسکتا کہ اس کا بندہ کسی اور سے بھی تعلق بندگی رکھے۔ اسی لئے کوئی مسلمان ایسے جانور کا گوشت نہیں کھا سکتا۔ آج کل پیروں اور بزرگوں کے لئے جس قدر منتیں مانی جاتیں ہیں سب اسی حرمت میں داخل ہیں۔ اضطراری حالت میں ان چیزوں کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے مگر اس میں دو شرطیں لازم کردی گئی ہیں۔ انسان خود اس کی خواہش اور آرزو نہ کرے۔ قانون توڑنا اس کا مقصد نہ ہو اور کھاتے وقت اپنی ضرورت سے تجاوز نہ کرے ایسی صورت میں اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا اور یہ اس کی رحمت ہے کہ گناہ کی چیز سے اضطراری حالت میں گناہ اٹھا لیا اور اللہ سے بڑھ کر کون انسان سے پیار کرنے والا ہے۔
Ayah 2:174

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

جو لوگ ان احکام کو جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کیے ہیں چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے دنیا کے حقیر فائدے خریدتے ہیں تو یقین کرو یہی وہ لوگ ہیں جو آگ کے انگاروں سے اپنا پیٹ بھر رہے ہیں ، قیامت کے روز یہ اللہ کے خطاب سے محروم رہیں گے ، وہ انہیں معاف کر کے گناہوں سے ہرگز پاک نہیں کرے گا ، ان کے لیے دردناک عذاب میں مبتلا ہونا ضروری ہوگیا ہے

اللہ کے نازل کردہ احکامات کو چھپانا اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے : 302: یہود کی طرف اشارہ ہے جو اپنے ہاں کی اصل آسمانی تعلیمات کو چھپاتے تھے اور اس اخفاء و کتمان سے ان کا مقصود کچھ نفع دنیوی حاصل کرنا ہوتا تھا۔ ” ثمناً قلیلا ً “ سے یہ مراد نہیں کہ زیادہ قیمت اور بڑے معاوضہ پر دین فروشی جائز ہے۔ اس سے مراد محض دنیوی معاوضہ ہے کیونکہ دنیوی معاوضہ نفع آخرت کے مقابلہ میں خواہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو ہمیشہ قلیل ہی ہوگا۔ یہود کا جرم اخفائے حق اور کتمان وحی الٰہی ان کی معصیت اکل حرام سے بھی کہیں زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ اس لئے اس جرم کی سزا بھی اس سے سخت ترمذکور ہوئی۔ قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہ کرنا طریق عتاب ہوگا۔ قیامت کے دن اللہ کے اپنے بندوں سے گفتگو ان کی انتہائی خوش قسمتی ہوگی اور اس سے محرومی ان کی انتہائی بدنصیبی علماء کا فرض ہے کہ وہ ان بنیادی اصول و عقائد کو تمام دنیا میں پھیلا دیں تاکہ لوگ خانگی زندگی میں قدم رکھتے ہی صراط مستقیم پر چلنے لگیں اور شرک و بدعت سے پرہیز کریں لیکن فی زمانناً اکثر علماء و مشائخ ان تعلیمات صالحہ کی نشر و اشاعت نہیں کرتے اور مذہبی پیشوا ہو کر ان حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں حالانکہ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ایسا کر کے اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ کبھی بھی اس بد اخلاقی کے نتائج فاسدہ سے محفوظ نہ رہ سکیں گے۔ ایسے علماٰ کو بھی کبھی اللہ سے شرف ہمکلامی نصیب نہ ہوگا اور نہ ہی ان کے نیک کام ان کی غلطیوں کا کفارہ بن سکیں گے۔ عذاب کی یہ سختی صرف اس لئے ہے کہ کتاب توعین ضرورت کے مطابق نازل کی گئی مگر انہوں نے اس کی شرح و تفسیر میں اختلافات پیدا کردیئے اور اب کوئی شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ایسا کرنے میں وہ بھی راہ حق و صراط مستقیم سے بہت دور جا پڑے ہیں۔
Ayah 2:175

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت بیچ کر گمراہی خریدلی اور مغفرت کے بدلے عذاب کا سودا کیا ، اور جہنم کی آگ کیلئے ان کی برداشت کیسی سخت ہے

ہدایت کے بدلے گمراہی اور مغفرت کے بدلے عذاب حاصل کرنے والے یہی لوگ ہیں : 303: ہدایت کے بدلے گمراہی کا تعلق تو اس دنیوی زندگی سے ہے اور ” ما “ کلمہ تعجب ہے کہ اپنی ان حرکتوں کے ہولناک ثمرے اور دہشت ناک نتیجے معلوم ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی یہ شوخ چشمی ! اور عذاب جو مغفرت کے بدلے میں ہوا اس کا تعلق عالم آخرت سے ہے یعنی لازمی نتیجہ عدم ایمان کا یہ ہوگا کہ آخرت میں مغفرت کے بدلے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ دوسری جگہ اس کے متعلق ارشاد فرمایا گیا کہ : سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ (رح) 0021 وہ کہیں گے کہ ہم تو خود ہی عذاب میں پڑے ہوئے ہیں خواہ جھیل لیں خواہ روئیں پیٹیں ہمارے لئے دونوں حالتیں برابر ہوگئیں۔ ہمارے لئے آج کسی طرح کا چھٹکارا نہیں۔
Ayah 2:176

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ اس لیے ہوا کہ اللہ نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل کردی اور کچھ لوگوں نے کتاب الٰہی کے نازل ہوجانے کے بعد بھی الگ الگ راہیں اختیار کی ہیں تو وہ تفرقہ و مخالفت کی دور دراز راہوں میں کھوئے گئے ہیں

کتاب الٰہی کے نزول کے بعد تفرقہ بازی ہدایت نہیں گمراہی ہے : 304: اللہ کا کلام تو سراسر سچائی ہی سچائی ہے نزول کتاب کے بعد بھی سچائی نازل ہوجانے کے بعد پھر اختلاف اور الگ الگ راہوں کا اختیار کرنا خواہ مخواہ اپنے اغراض کے لئے اپنی آسمانی کتاب میں جھگڑے نکال کھڑے کرنا گمراہی ہی گمراہی ہے اس لئے کہ سچ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے پھر سچ میں اختلاف کیوں کر ہوگا۔ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ (رح) 00176 یعنی بھٹک کر حق و صداقت سے بہت ہی دور جا پڑے ہیں۔ یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ غفلت ان میں سے پیدا ہوگئی کہ اللہ کے سچے کلام میں انہوں نے ازراہ نفسانیت خواہ مخواہ اختلاف کیا اور اس لئے اور زیادہ بھٹک گئے۔ آج مسلم قوم کو خود اپنا تجزیہ کرنا چاہئے صرف علماء پر انحصار نہ رکھنا چاہئے۔ وہ کون سی جگہ ہے جہاں سے اختلاف کی آواز نہیں آتی اور وہ کون سا مقام سے جہاں فرقہ بندی اور گروہ بندی کی صدائے باز گشت سنائی نہیں دیتی۔ کہاں سے عقل و فکر کی دعوت کی آوز اٹھتی ہے ؟ اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ جو شخص مال کے لالچ سے حکم شرعی کو بدل دے وہ جو مال بھی وصول کرے گا وہ اگرچہ فی نفسہٖ حلال ہو تاہم وہ حلال مال بھی اس کے لئے حرام ہے ۔ گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھر رہا ہے کیونکہ اس عمل کا انجام یہی ہے اور یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ مال حرام درحقیقت جہنم کی آگ ہی ہے اگرچہ اس آگ ہونا دنیا میں محسوس نہ ہوتا ہو۔ مرنے کے بعد اس کا یہ عمل آگ کی شکل میں اس کے سامنے آجائے گا۔
Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

نیکی اور بھلائی صرف [ یہی نہیں ہے کہ تم نے خاص عبادت میں اپنا منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلیا ، نیکی کی راہ تو ان لوگوں کی ہے جو اللہ پر ، آخرت کے دن پر ، فرشتوں پر ، آسمانی کتابوں پر اور اللہ کے تمام فرستادوں پر ایمان لاتے ہیں ، اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں اور سائلوں کو دیتے ہیں اور غلاموں کو آزاد کرانے کیلئے خرچ کرتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ، اپنی بات کے پکے ہوتے ہیں جب قول وقرار کرلیتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں ، تنگی و مصیبت کی گھڑی ہو یا خوف و ہراس کا وقت ، ہر حال میں صبر کرنے والے اور سیدھی راہ میں ثابت قدم ہوتے ہیں ، بلاشبہ ایسے ہی لوگ ہیں جو نیکی کی راہ میں سچے ہوئے اور یہی ہیں جو صحیح معنوں میں برائیوں سے بچنے والے ہیں

نیکی اور بھلائی کی پہچان کہ وہ کیا ہے ؟ 305: ظہور اسلام سے قبل دنیا کی بیشمار گمراہیوں میں ایک گمراہی یہ تھی کہ سمت پرستی ہوتی تھی یعنی بےجان دیوتائوں ، دیویوں ، مورتیوں ، پتھروں ، درختوں ، پہاڑوں اور دریائوں کے علاوہ خود سمتوں یا جہتوں کی بھی پرستش جاری ہوگئی تھی اور مختلف جاہلی قوموں نے یہ اعتقاد جما لیا تھا کہ فلاں مخصوص سمت مثلاً مشرق مقدس ہے اور فلاں متعین جہت مثلاً مغرب قابل پرستش ہے۔ قرآن کریم یہاں شرک کی اس خاص صورت کی تردید کر رہا ہے اور ارشاد کر رہا ہے کہ کسی جہت میں کیا تقدس رکھا ہوا ہے ؟ اور کوئی سمت بےحیثیت سمت ہرگز قابل تقدیس نہیں ہے اور خصوصاً طاعت (البر) سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اسلام نے ظاہر ہے کہ نماز کے لئے کوئی سمت بےحیثیت سمت ہرگز متعین نہیں کی ہے۔ اس نے تو صرف ایک متعین مکان یعنی خانہ کعبہ کو ایک مرکزی حیثیت دی ہے اسے قبلہ توجہ ٹھہرایا ہے خواہ وہ کسی سمت میں پڑجائے۔ نہ کسی سمت یا طرف کی اس میں خصوصیت ہے اور نہ ہی بیت اللہ کی پرستش کے لئے اس کی طرف منہ کیا جاتا ہے جو شخص قبلہ کی پرستش کے لئے ایسا کرے گا وہ مشرک ہی ہوگا اور اس کے مشرک ہونے میں کیا شبہ رہ جائے گا۔ کوئی مسلمان بھی بیت اللہ کی پرستش کا قائل نہیں ہے قبلہ کو ایک جہت یا طرف مقرر کرنا خالصتاً انتظامی معاملہ ہے جو گویا قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ چنانچہ آپ مشاہدہ کر کے کبھی دیکھیں تو حقیقت آپ پر بالکل واضح ہوجائے گی کی کعبہ مصر ، طرابلس و حبشہ سے مشرق میں پڑتا ہے۔ ہند و پاک ، افغانستان اور چین سے مغرب میں شام و فلسطین اور مدینہ سے جنوب میں یمن اور بحر قلزم کے جنوبی ساحلوں سے شمال میں اس لحاظ سے آپ خود غور کریں کہ کسی سمت کی کیا خصوصیت رہی ؟ علاوہ ازیں جو کچھ ہے اور جہاں کہیں بھی ہے وہ سب جہالت ہی جہالت ہے دین اسلام کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ یہ قطب ستارہ کا احترام ، بغداد کا احترام وغیرہ کہ ان کی طرف ٹانگیں نہ ہوں۔ ان کی طرف قضائے حاجت میں رخ نہ ہو اور اسی طرح کی دوسری باتیں سب جہالت کی رسوم ہیں۔ سورئہ بقرہ کے شروع میں صرف ذکر ، شکر ، صبر اور دعا پر زور دیا گیا تھا کہ افرادی طور پر تہذیب و شائستگی کے لئے یہی صفات حسنہ کافی تھیں۔ جب ترقی کر کے ایک قدم آگے رکھا تو فرائض میں بھی گویا اضافہ ہوگیا اس کو اس طرح سمجھ لو کہ ابتدائی جماعتوں میں کتابیں کم ہوتی ہیں اور طالب علم پر بھی ذمہ داری کچھ زیادہ نہیں ہوتی۔ مگر جب وہ ثانوی تعلیم کے لئے کسی درسگاہ میں داخل ہوگا تو اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جائیں گی۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ فلاں کے لئے تو صرف مشرق و مغرب کی طرف منہ کرلینا یکجہتی کی علامت کے طور پر کافی تھا مگر اب صرف اس پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا بلکہ فرائض میں اضافہ ہوجائے گا لیکن تہذیب اخلاق کے لئے جن امور کو ضروری قرار دیا گیا تھا وہ اب بھی بدستور ثابت و قائم رہیں گے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ تم اپنے اندر خرچ کرنے کی عادت پیدا کرو اور مال و دولت کی محبت پر غالب آئو۔ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا : ” أَیُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ “ اجر وثواب کے اعتبار سے بہترین صدقہ کس قسم کا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” أَجْرًا قَالَ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِیحٌ شَحِیحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَی وَلَا تُمْهِلُ حَتَّی إِذَا بَلَغَتَ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَا وَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ “ (بخاری : 1360) ایسے وقت میں تو صدقہ کرے کہ تندرست و توانا ہو۔ مال کی محبت دل میں اور فقرکا اندیشہ دماغ میں ہو۔ اگر جانکنی کے وقت خیرات کرنی شروع کی تو اس کا کچھ فائدہ نہیں یعنی مرتے وقت یہ کہے کہ یہ فلاں کو دے دینا یہ فلاں کو دے دینا۔ اس لئے کہ اس وقت وہ خود فلاں ہونے والا ہے اور جب یہ فلاں ہوگا تو مال خود بخود تقسیم ہوجائے گا۔ مال کی تقسیم کرنے کی ترغیب کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ ان صدقات و خیرات کے مستحق سب سے پہلے تمہارے عزیز و رشتہ دار ہیں کہ حمیت و عصبیت قومی کی وجہ سے وہ تمہارے دست وبازو بن جائیں گے۔ جہاں تمہارا پسینہ گرے گا وہ اپنا خون بہانے کو تیار ہوجائیں گے۔ قرآن کریم نے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی بہت زیادہ تاکید کی ہے فرمایا ” وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ “ دیکھو جو لوگ تمہارے قرابتدار ہیں ان کا حق ادا کرو (بنی اسرائیل 17 : 26) ” عَلٰى حُبِّهٖ “ فرما کر مزید یہ اطلاع کردی کہ اپنے مال کو خرچ کرتے وقت اصل مدعا اللہ کی رضا ہونی چاہئے جب مال اللہ کی محبت میں خرچ کیا جائے گا تو یہی اس کی رضا ہے۔ گویا بتا دیا کہ صرف مال فی نفسہٖ ہرگز محمود و مطلوب نہیں مطلوب و مقصود صرف اور صرف وہ مال ہے جو اللہ کی راہ میں اللہ تعالیٰ ہی کی رضا کی طلب کے لئے اور اللہ ہی کے دین کے فروغ کے لئے ہو۔ دوسرے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ صرف مال مال کی محبت کے باوجود ہو یعنی ضمیر غائب کا مرجع بجائے اللہ کے لفظ قریب مال قرار دیا گیا ہے۔ اس میں بھی ایک پختہ مؤمن کی تصویر آگئی کہ مال و زر کی محبت اور قدر اس کے دل میں ہے۔ خواہشیں اس کی زندہ ہیں۔ اپنی ذات پر ، اپنے محبوبات پر اور مرغوبات پر وہ خرچ کرنا چاہتا ہے لیکن امر الٰہی کے آگے اپنی گردن جھکا دیتا ہے اپنی ذاتی خواہشات کو دبا دیتا ہے اپنے شوق کو حکم خداوندی پر قربان کردیتا ہے۔ وہ عمل اس پر کرے گا جو حکم ربانی ہے اور خرچ وہیں کرے گا جہاں شریعت حکم دیتی ہے۔ غور کرو کہ مصارف خیر کی اسلام نے یہ کتنی مناسب اور حکیمانہ ترتیب قرار دے دی ہے ۔ آیت کے اس جزو میں امت کا پورا نظام معاشی ایک خلاصہ کی شکل میں آگیا ہے۔ مالی اعانت سب سے پہلے عزیزوں ، غریبوں کی کرنا چاہئے یہ نہ ہو کہ ایک بھائی کی کو ٹھیاں تیار ہو رہی ہیں اور بہن کو جھونپڑی بھی نصیب نہیں۔ چچا کے پاس کاریں اور ہوائی جہاز ہوں اور بھتیجے کو تانگہ کا کرایہ بھی میسر نہ آئے۔ ہر زر دار کو سب سے پہلے خبر گیری اپنے نادار عزیزوں ، کنبہ والوں ، بھائیوں ، بہنوں ، بھتیجوں ، بھانجوں اور دوسرے قریبوں کی کرنا چاہئے اور اس کے بعد نمبر محلّہ ، بستی اور شہر کے یتیم بچوں ، بچیوں کا آتا ہے جن کا کوئی والی وارث یا سرپرست باقی نہیں رہا ہے۔ فرمایا کہ ماں باپ کے بعد قرابت داروں کے حقوق بھی ہیں چناچہ ایک جگہ ارشاد ہوا : فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ 1ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِٞ وَ اُولٰٓىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 0038 (الروم 30 : 38) ” پس (اے مسلم ! ) تو قرابتدار کو اس کا حق دیا کر اور مسکینوں اور مسافروں کو بھی ، یہ بات ان لوگوں کے حق میں بہت بہتر ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی لوگ (صحیح معنوں میں) فلاح پانے والے ہیں۔ “ حدیث شریف میں اس کی وضاحت یوں فرمائی کہ دیکھو مسکین کو خیرات دینا صرف صدقہ ہی ہے مگر ایک رشتہ دار کو خیرات دینے میں دو حیثیتوں سے ثواب ملے گا جو یقیناً دو ہرا ہی ہوگا ایک صدقے کے اعتبار سے اور دوسرا صلہ رحمی کی بنا پر۔ ” یَتٰمٰى “ وہ ہیں جن کا کوئی نگران کار نہیں اگر ان کی تعلیم و تربیت کا خیال نہ کیا گیا تو نا تربیت یافتہ کی کثرت قوم کو برباد کر دے گی اور ان کی تھوڑی سی مدد نہایت ہی مفید نتائج پیدا کرے گی سورة الضحیٰ میں ارشاد فرمایا : فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ009 یعنی یتیم کو مت ڈانٹ ڈپٹ ، مبلغین اور دعوت حق دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنی قوم کے یتامی کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ تھوڑی سی تربیت بےانتہا مفید ثابت ہوگی۔ ادھر لڑائیوں کی وجہ سے جس قدر یتامی ہوں گے قوم کے لئے بار دوش ثابت ہونے کی بجائے بہترین افراد بن جائیں گے۔ ان اسرار و مصالح کی بنا پر حامل نبوت نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والے اس طرح اکٹھے ہوں گے جیسے یہ میری دو انگلیاں آپ اکھٹی دیکھ رہے ہو اور یہ کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں جدا جدا نہیں ہو سکتیں کہ نیچے سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اسی طرح وہ بھی میرے سے الگ نہیں ہوں گی ۔ ان کے علاوہ مساکین ، مسافر اور سائل ہیں۔ مسکین سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی حاجت دوسروں کے پاس نہ لے جاتا ہو اور اس کے ظاہری حالات فقر و تنگ دستی کا اظہار کرتے ہیں جس کو ہماری زبان میں سفید پوش کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے۔ بلکہ دیکھنے والوں کو اس کے دولت مند ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔ چناچہ خود نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ : لیس المسکین الذی تردہ تمرۃ والتمرتان واللقمۃ واللقمتان ولکن المسکین الذی لا یجد غنی یغنیہ ولا یفطن لہ فیصدق علیہ ...... مسکین وہ نہیں ہے جو دربدر بھیک مانگتا پھرتا ہے بلکہ مسکین اس شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس اتنا سامان نہیں کہ اپنی ضروریات پوری کرسکے اور نہ لوگوں کو اس کی خبر ہے کہ صدقات اور خیرات ہی کا مستحق سمجھا جائے۔ مساکین کے بعد درجہ بدرجہ غیر امت کے عام مفلسوں ، محتاجوں اور پھر ان مسافروں ، راہ گیروں کا آنا ہے جو زاد راہ سے محروم ہیں اور اپنے ضرری سفروں سے بھی محروم رہ جاتے ہیں پھر فرمایا کہ گردنوں کے آزاد کرنے میں بھی روپیہ صرف کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ عام مفسرین نے اس کے معنی صرف غلاموں کے آزاد کرنے تک محدود کردیئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا مطلب عام ہے اور اس کی عمومیت میں نہ صرف غلام ہیں بلکہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو قرض لے کر سود در سود میں مبتلا ہیں پھر اس سے بھی بڑھ کر اس کا اعلیٰ ترین مفہوم یہ ہے کہ ایک مسلمان جب شہید علی الناس کی فضیلت کبریٰ کے لئے محصوص کیا گیا ہے تو اس کا فرص ہے کہ دنیا کی ہر غلام و محکوم قوم کو آزاد کر کے اس کو حق آزادی نوازش کرے اور یہ حق صرف مسلمان ہی کو پہنچتا ہے۔ اسی کو سورة بلد میں مشکل ترین گھاٹی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فَكُّ رَقَبَةٍۙ0013 (90 : 13) اور پھر اس سے سیاسی آزادی ہی مراد نہیں بلکہ تمدنی ، اخلاقی ، عمرانی ، اجتماعی اور علمی سب افراد غلامی اس میں شامل ہیں اور سب کو آزاد کرنا فرزندان اسلام کا فرض ہے۔ پھر فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ اوروں کو تیار کرتے کرتے اپنے آپ کو بھول جائو اور روپیہ خرچ کرنے پر قناعت کر بیٹھو بلکہ خود بھی نماز اور زکوٰۃ کے پابند رہو تاکہ جانی و مالی قربانی کی مشق ہوتی رہے۔ اس کے ساتھ پابندی عہد ضروری ہے ورنہ دوسروں کو تمہارے عہد و پیمان پر اعتماد نہ ہوگا۔ قرآن کریم نے ایفائے عہد پر بےانتہا زور دیا ہے ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا : وَ الَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ008 (المؤمنون 23 : 8) وہ لوگ کہ اپنی امانتوں اور عہدوں کو پاس رکھتے ہیں۔ اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا : وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ 1ۚ اِنَّ الْعَهْدَ کَانَ مَسْـُٔوْلًا 0034 (بنی اسرائیل 17 : 34) اور اپنا عہد پورا کیا کرو عہد کے بارے میں تم سے باز پرس کی جائے گی۔ فرمایا مصیبت اور تنگدستی میں کہ اصل تعلق مالی پریشانی سے ہے۔ بیماری کی تکلیفوں میں جن کا تعلق جسمانی آزار ہے اور جنگ کے وقت دشمنان دین کے مقابلہ میں ثبات و صبر کے ظاہر کرنے اور اور ہر سیرت و مرادنگی کی چمک دکھانے کے یہ تین مواقع ایک مومن کے لئے ہوتے ہیں۔ قرآن کریم کی ہر آیت بجائے خود معظم ، محترم اور واجب العمل ہے لیکن اس آیت کے باب میں تو حدیث نبوی ﷺ میں یہاں تک صراحت موجود ہے کہ : من عمل بھذہ الا یۃ فقد استکمل ال ایمان ، یعنی جس نے اس آیت پر عمل کرلیا اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا اور محققین نے کہا ہے کہ یہ آیت اہم ترین آیتوں میں سے ہے اور اس کے اندر دین و شریعت کے سولہ احکامات آگئے ہیں۔ جن کی تفصیل آگے بیان ہوتی رہے گی۔
Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے مسلمانو ! جو لوگ قتل کردیئے جائیں ان کے لیے تمہیں قصاص [ لینے کا حکم دیا جاتا ہے ، اگر آزاد نے قتل کیا ہے تو اس کے بدلہ میں وہی آزاد قتل کیا جائے گا ، اگر غلام قاتل ہے تو وہی غلام قتل کیا جائے گا ، عورت نے قتل کیا ہے تو وہی قتل کی جائے گی اور ہاں ! اگر کسی قاتل کو مقتول کے بھائی سے معافی مل جائے تو مقتول کے وارث کیلئے دستور کے مطابق مطالبہ ہے اور قاتل کیلئے خوش معاملگی کے ساتھ ادا کردینا ہے اور یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے اس کی رحمت ہے ، اب اس کے بعد جو کوئی زیادتی کرے تو وہ اپنے رب کے ہاں دردناک عذاب کا سزاوار ہے

قانونِ فوجداری کی شق اوّل کا ذکر : 306: قصاص کے اصل معنی ہیں : تتبع الدم بالقود ، یعنی خون کا پیچھا کرنا اس طرح پر کہ قاتل کو قتل کیا جائے۔ اور ایک حدیث کے الفاظ یہ بھی کہ : من قتل عمدافھو قود ، یعنی جس شخص نے عمداً قتل کیا اس شخص کو مقتول کے بدلے میں قتل کیا جائے۔ پس قصاص فی القتلی یہ ہے کہ جس شخص نے کسی کو قتل کیا ہے اسے قتل کیا جائے۔ اب قصاص کا مطلب سمجھ میں آجانے کے بعد پوری آیت کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے اور کوئی دقت باقی نہیں رہتی۔ زیر نظر آیت میں مقتول کے بارے میں قصاص کا حکم دیا ہے یعنی قاتل کو قتل کردیا جائے اور اس کا ذکر اس جگہ اس مناسبت سے کیا گیا ہے کہ مسلمانوں میں اپنے دکھ دینے والوں اور قتل کرنے والوں سے بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی آخری کتاب یعنی قرآن کریم میں قاتل کے لئے قتل کی سزا ہی کو ضروری قرار دیا ہے اور یہی سزا فوجداری کی پہلی سزا ہے جس سے قتل و غارت کا دنیا سے صفایا کیا جاسکتا ہے۔ اصل اس کی یوں سمجھنی چاہیے کہ انسان بحیثیت کوئی ہی کیوں نہ ہو وہ قتل و غارت کی ہرچیز سے زیادہ عزیز سمجھتا ہے اور کوئی انسان بھی ایسا نہیں ہو سکتا جو کسی دوسری جان کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھے۔ دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ اس سزا کو دنیا سے اٹھانے کے لئے جتنی کوششیں کی گئیں ہیں سب ناکام ہوئی ہیں کیوں ؟ اسلئے کہ جب قاتل کو یہ علم ہو کہ کسی انسان کو قتل کرنے کے بعد بھی وہ زندہ رہ سکتا ہے تو اس کا دل بڑھ جاتا ہے اور وہ کسی کو قتل کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے اور جب اسکو یقین ہو کہ میں کسی کو قتل کرلینے کے بعد کسی صورت بھی زندہ نہیں بچ سکتا تو وہ کسی طریقہ سے بھی قتل کرنے پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا اگر یہ ناممکن نہیں تو بہر حال بہت ہی مشکل ہے ۔ اس آیت نے یہ بتا دیا کہ قتل میں قصاص تمدن و تہذیب کی ضروریات میں سے ہے۔ اور اس آیت نے یہ بات بھی ثابت کردی کہ اسلام اپنے پیروئوں سے دنیوی سر بلندی ہی کی توقع رکھتا ہے اور اسے بطور ایک مسلمہ کے فرض کئے رہتا ہے کہ امت مسلمہ ہی دراصل دنیوی اقتدار کی بھی مالک ہوگی۔ مسلمانوں کا ایک عرصہ تک مسلسل کافروں کے تسلط اقتدار میں رہنا اسلام کے مفروضات اولیٰ میں گویا داخل نہیں ہے کیونکہ قانون فوجداری اور قانون دیوانی دونوں کی دفعات کا نفاذ نظام حکومت کے اسلامی ہونے پر معلق ہے یعنی امت کو ان قوانین الٰہی کی تنفیذ کی باقاعدہ قدرت بھی تو ہو۔ گویا قصاص قانون فوجداری کے ماتحت سزا کی منظم و مہذب و منضبط ترین شکل کا نام ہے۔ امت کا ایک قانونی اور اجتماعی حق ہے اور اس کے اجراء کی ذمہ داری حکومت پر ہوتی ہے۔ قصاص ہر فرد دوسرے فرد سے ازخود نہیں لے سکتا اس لئے مومنین سے خطاب اجتماعی حیثیت سے ہے انفرادی حیثیت سے نہیں۔ قتل عمد کی سزا دنیا کی ہر مہذب قوم میں موجود ہے۔ زمانہ جاہلیت میں دستور تھا کہ طاقتور قومیں کمزوروں سے حقیقی قصاص لے کر بھی راضی نہ ہوتی تھیں اور نہ ہی قصاص دینے والے شرافت اور دیانت کا خیال رکھتے تھے۔ اگر ایک آزاد اور شریف آدمی کو غلام مار ڈالتا تو وہ اس کی جگہ شریف آدمی کو قتل کرنے کی کوشش کرتے۔ قاتل اگر عورت ہوتی تو پھر بھی عورت کے قتل پر قناعت نہ کرتے بلکہ اس کا سلسلہ دراز تر ہوجاتا ۔ اسلام نے آکر اس قسم کی تفریق کو بالکل مٹا دیا اور فرمایا کہ مساوات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ قرآن کریم کا دستور یہ ہے کہ وہ ایک قانون کلی بیان کردیتا ہے اور عام طور پر جزئیات کو ذکر نہیں کرتا۔ مگر بعض اوقات قانون آسانی سے سمجھ میں نہیں آسکتا اس لئے اس کو اور زیادہ واضح کرنے کے لئے محض ضروری مسائل کا قانون ذکر کردیتا ہے کہ کسی قسم کا اخفاباقی نہ رہے۔ چناچہ اس جگہ بھی مقتولین کے بارے میں مساوات کا قانون ذکر کر کے اس کے بعض اصولی جزئیات کو بیان کردیا کہ قاتل آزاد ہے تو اس سے قصاص لیا جائے ۔ غلام نے قتل کیا تو وہی سزا کا مستحق ہے اور اگر قاتل عورت ہے تو وہی عقوبت کی مستوجب ہوگی۔ عرب تو ایک نا خواندہ اور جاہل قوم تھی لیکن تاریخ دوسرے ملکوں میں بھی ایسی مثالوں سے خالی نہیں اور امریکہ میں تو آج تک ایک گورے کا خون ایک کالے کے خون سے زیادہ قیمت رکھتا ہے اور فرنگی حکومتیں اپنے ایک ایک مقتول کے عوض قاتل قوم کی کئی کئی شخصوں کی جانیں بےتکلف لیتی رہتی ہیں جس کی زندہ شہادت عراقی اور کو یتی صانع میں فرنگیوں نے قائم کر دکھائی تھی۔ اسلام نے ان ظالمانہ دستوروں کو مٹایا اور اعلان کردیا کہ زندگی ہر مؤمن کی امت کے ہر فرد کی یکساں قابل احترام ہے اور مرد ہو ، عورت ہو ، آزاد ہو یا غلام ہو کوئی ہو جس کا جو قاتل ہوگا وہی سزا پائے گا۔ شیطانی حکومتیں ہر دور میں اپنی شیطنت کا مظاہرہ کرتی رہتی ہیں اور اسلام کے اساسی اصولوں کو مٹانے کے لئے ہر ممکن کوشش ان کی جاری رہتی تھی اور اب بھی جاری ہے۔ غورکریں کہ شاہ فیصل شہید جیسا مبارک انسان انہی ریشہ دوانیوں کی نذر ہوگیا ایک شیطانی حکومت نے ایک سازش کے تحت ایک ادنیٰ سے فرد سے اگرچہ وہ شاہی خاندان ہی کا تھا شاہ فیصل کو قتل کروا دیا ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ شخص چونکہ شاہ فیصل شہید کے مقابلہ کا نہیں ہے اس سے قتل کروا کر شاہی خاندان میں بدامنی پھیلا دیں گے اور اسی مقتول کے بدلے میں قاتل جو نہایت ادنیٰ حیثیت رکھتے ہے اس پر اکتفانہ کر کے ایک اسلامی اصول کی بیخ کنی کرا دیں گے۔ اور اس طرح دو باتوں میں ایک تو لازمی ہوگی یا شاہی خاندان میں بدامنی اور جنگ و قتال یا مقتول کے عوض میں صرف قاتل کے قتل کے اصول کی خلاف ورزی لیکن اللہ نے ان شیطانوں کی سازش کو ناکام بنوا دیا اور امت مسلمہ نے ایک بار ان کی اس سازش کو سبو تاژ کردیا جب کہ قاتل کو مقتول شاہ فیصل کے قصاص میں پوری دنیا کو دکھاتے ہوئے قتل کردیا۔ شریعت موسوی کی جو تصریحات اس باب میں درج ہیں وہ قابل ملاحظہ ہیں۔ ” اور وہ جو انسان کو مار ڈالے گا۔ “ (احبار 24 : 17) ” جو انسان کو مار ڈالے جان سے مارا جائے۔ “ (احبار 24 : 21) اور ” توڑنے کے بدلہ توڑنا ، آنکھ کے بدلہ میں آنکھ ، دانت کے بدلہ میں دانت ، جیسا کوئی کسی کا نقصان کرے اس سے ویسا ہی کیا جائے۔ “ (احبار 24 : 20) اگر مقتول کے ورثادیت پر راضی ہوجائیں تو خون بہا ادا کردیا جائے : 307: قانون تو وہی تھا جو اوپر بیان کردیا گیا مگر بعض اوقات مقتول کے وارث اس مقدمہ کو قابل معافی خیال کرتے ہیں یا اس جرم کو اتنا خفیف سمجھتے ہیں کہ بجائے قصاص کے صرف فدیہ پر راضی ہوجاتے ہیں تو اسلام اس وقت نرمی کرنے پر تیار ہے۔ قاتل کو خون بہا ادا کرنا ہوگا مگر اس میں شرط یہ ہے کہ فدیہ وصول کرتے وقت سختی سے کام نہ لیا جائے اور قاتل کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریفانہ طور پر تمام رقم ادا کر دے ، نہ تو مقدار میں کمی کرے اور نہ خواہ مخواہ ٹالتا رہے۔ قرآن کریم کی بلاغت پر نظر کریں کہ ” مِنْ اَخِیْهِ “ یعنی مقتول کے فریق کی طرف سے یا مدعی و مستغیث کی طرف سے یہ لفظ ادا کرنا سیاق کلام میں سردھننے کے قابل ہے کہ شدید ہیجان جذبات انتقام و اشتعال پزیری کا موقع قتل سے بڑھ کر اور کون سا ہوسکتا ہے اس انتہائی حساس موقع پر بھی یہ لفظ بول کر بتا دیا کہ قاتل باوجود سنگین جرم کے اخوت اسلامی سے خارج نہیں ہوجاتا۔ مقتول کا ولی و وارث قاتل کا دینی بھائی اس وقت بھی رہتا ہے۔ دوسرا لفظ ” شَیْءٌ “ بھی قابل غور ہے کہ سزائے واجب کا کچھ حصہ چھوڑ دیا جائے نہ کہ تمام تر معاف کردیا جائے۔ مطلب یہ ہوا کہ مقتول کے عزیز اور وارث اگر قاتل کو سزائے قتل نہ دینا چاہیں بلکہ اسے ہلکی کوئی سزا دے کر یا خون بہا کی پوری رقم میں سے کچھ حصہ اسے معاف کر کے چھوڑ دینے پر آمادہ ہوں۔ مشرک قوموں میں قتل تمام تر ایک جرم قانون فوجداری کا تھا۔ قانون دیوانی سے اسے کوئی علاقہ ہی نہ تھا اور فرنگی قانون بھی چونکہ تمام تر رومن لا پر مبنی ہے اسلئے اس میں بھی قتل محض ایک فوجداری کا جرم ہے۔ شریعت اسلامی کی نظر فطرت بشری کی گہرائیوں اور مصالح اجتماعی کی باریکیوں پر اس سے کہیں زائد ہے اس نے اپنے اصول قانون میں یہ بات رکھی کہ قتل جس طرح فوجداری کا جرم ہے دیوانی کا بھی ہے اس جرم سے محض اسٹیٹ یعنی حکومت اور ہیت اجتماعیہ ہی کے ایک قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی بلکہ یہ فرد پر بھی اس کی شخصی حیثیت میں ایک حملہ ہے گویا یہ جرم ایک پبلک حیثیت رکھتا ہے اور ایک پرائیویٹ اور جب اسکی یہ دو گونہ حیثیت ہے تو مقتول کے وارثوں یا خون کے مدعیوں کو یہ اختیار ہونا چاہئے کہ وہ چاہیں تو مجرم کو پوری سزا حکومت سے دلائیں اور چاہیں تو خود مالی معاوضہ لے کر انتہائی سزا سے دستبردار ہوجائیں۔ اسی مالی معاوضہ کو اصطلاح شریعت میں دیت یا خون بہا کہتے ہیں اور اس میں گھٹ بڑھ برابر ہو سکتی ہے۔ دیت کا لفظ خود قرآن کریم میں آگے آ رہا ہے۔ آج بھی انٹرنیشنل قانون میں یہ بالکل جائز ہے کہ جب ایک حکومت ملک کی رعایا کا خون دوسرے ملک یعنی حکومت کے باشندوں کے ہاتھ سے ہوجائے تو غیر ملک میں فوجداری کا مقدمہ چلانے میں دقتیں اور دشواریاں محسوس ہوں تو بجائے فوجداری استغاثہ اور اس کی پیروی کے صرف ” ہر جانہ “ کی رقم پر کفایت کرلی جائے تو یہ ” ہر جانہ “ اسی خون بہا کیلئے ایک خوش نما اور جدید اصطلاح ہے۔ خون بہا سے فائدہ یہ ہوگا کہ مقتول کے ورثا کو جس قدر نقصان پہنچا ہے اس کی ایک حد تک تلافی ہوجائے گی اور وہ فقر و تنگدستی سے بچ جائیں گے پھر فرمایا کہ اگر اس قدر رعایت کے بعد بھی کسی نے ظلم وعدوان سے کام لیا قتل کا جھوٹا دعویٰ کردیا یا معاف کرنے کے بعد دوبارہ خون کا مطالبہ کیا تو اس سے قانونی مواخذہ ہوگا اور حکومت مداخلت کرے گی۔ دیکھو ایک مسلمان کی ترقی کا راز اسی مساوات میں پوشیدہ ہے جو قوم سپاہیانہ زندگی کی خوگر ہو جسے دنیا کی امامت و پیشوائی کیلئے منتخب کیا گیا ہو جو دنیا اور آخرت میں اعمال و اخلاق کے اعتبار سے فضیلت و برتری کے لتے چن لی گئی ہو۔ وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کے تمام افراد کو برابر کے حقوق نہ دیئے جائیں کہ ہر ادنی ترین مسلمان انتہائی ترقی کے لئے اپنے آپ کو تیار کرسکے دوسرے سے آگے بڑھنے کی غرض سے بہترین اخلاق و اعمال کی عادت ڈال سکے۔ جب تمام افراد ملت میں یہ جوش و ولولہ عمل پیدا ہوجائے گا تو کوئی قوم ان کا مقابلہ نہ کرسکے گی۔
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور اے ارباب عقل و دانش ! اس قصاص کے حکم میں تمہارے لیے زندگی ہے تاکہ تم برائیوں سے بچو

قصاص کیا ہے یہ گویا زندگی ہے لیکن عقل والوں کے لئے : 308: قانون قصاص عین عدل و مساوات کا قانون ہے اور ہیت اجتماعی کے نظم و قیام راستی کا بہترین ضامن و کفیل کہ کوئی کسی پر زیادتی نہ کرنے پائے اور قوی و ضعیف سب کے حقوق کا برابری کے اصول پر تحفظ ہوجائے یہ نہ ہو کہ جو زبردست ہوں وہ زیر دستوں پر ستم ڈھا ڈھا کر رہیں۔ امت کے مختلف طبقوں میں ایک دوسرے کی طرف سے اطمینان و دلجمعی پیدا کرنے والا درحقیقت یہی قانون ہے اور جب اس قانون پر عدل درآمد عرصے تک رہے گا اس قانون کی روح امت میں سرایت کر جائے گی تو ساری قوم کا مزاج صالح ہوجائے گا اور آئین پسندی باہم صلح و سازگاری خدمت و معاونت جزو زندگی بن جائے گا اور امت دیکھتے ہی دیکھتے امت صالحین و ابرار اور امت عادلہ کہلانے کی مصداق بن جائے گی۔ پھر غور کرو کہ اگر دنیا میں قتل کی سزا قتل نہ ہوتی تو کسی قوم کے لئے بھی امن کی زندگی نہ ہوتی۔ جن قوموں نے قتل میں قصاص کو اڑانے کی کوشش کی ہے ان میں قتل کے واقعات اس قدر بڑھے ہیں کہ مجبوراً ان کو اس سزا کی طرف مراجعت کرنا ہی پڑی ہے ، کاش کہ اس ملک یعنی ملک پاکستان میں صحیح اسلامی قانون نافذ ہوجاتا دیت یا خون بہا کا تعین مقدار تو اس کو حکومت اسلامی وقت کی نزاکت کے مطابق کمی بیشی کے ساتھ نافذ کرسکتی ہے اگرچہ صدور اول میں اسکی مقدار سو اونٹ تھی۔
Ayah 2:180

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

یہ بات بھی تم پر فرض کردی گئی ہے کہ جب تم میں سے کوئی آدمی محسوس کرے کہ اس کے مرنے کی گھڑی آگئی اور وہ اپنے بعد مال و متاع میں سے کچھ چھوڑ جانے والا ہو تو چاہیے کہ اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں کیلئے اچھی وصیت کر جائے جو متقی انسان ہیں ان کیلئے تو ایسا کرنا اور بھی ضروری ہے

وصیت کرنے کا حکم منسوخ نہ ہونے کی دلیل : 309: علمائے اسلام نے جن آیتوں کے احکام کو منسوخ بتایا ہے ان آیتوں میں یہ آیت بھی شامل ہے اور تعجب ہے کہ جن پانچ آیتوں کو شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی (رح) نے منسوخ تسلیم فرمایا ہے ان میں سے پہلی آیت بھی یہی ہے۔ ان حضرات کا خیال یہ ہے کہ چونکہ سورة نساء میں وارثوں کے حصے معین کردیئے گئے ہیں اس لئے وصیت کا حکم منسوخ ہوگیا اور آیت یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ 1ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ 1ۚ (النساء 4 : 11) کو ناسخ قرار دیتے ہیں اور حدیث ” لا وصیۃ لوارث “ یعنی وارث کے لئے وصیت نہیں ہے اس نسخ کو اور زیادہ واضح کرتی ہے ۔ لیکن ہماری سمجھ کے مطابق یہ آیت منسوخ نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی دوسری آیت منسوخ ہے۔ بلکہ یہ آیت اب بھی واجب العمل ہے اور اس کے دلائل درج ذیل ہیں۔ ! قرآن کریم نے جس موقع پر وارثوں کے حصے معین کئے ہیں وہاں ” مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ “ کے الفاظ بھی ساتھ ساتھ آتے جاتے ہیں دیکھئے کہ بھائیوں کے ہوتے ہوئے جب ماں کا چھٹا حصہ مقرر کیا تو یہ شرط لگا دی کہ ان حصوں کے مطابق تقسیم اسی وقت ہوگی جب وصیت پر عمل ہوچکا ہوگا اگر مرنے والے نے کوئی وصیت کی ہے تو اور دوسری بات یہ کہ اس کا کوئی قرض ہے تو اس کی ادائیگی کے بعد مثلاً فرمایا : فَاِنْ کَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ 1ؕ(النساء 4 : 11) ” یعنی اگر ماں باپ کے علاوہ میت کے ایک سے زیادہ بھائی یا بہنیں ہوں تو ماں کا حصہ چھٹا ہوگا۔ لیکن یاد رہے کہ میت نے جو کچھ وصیت کردی ہو یا جو کچھ اس پر قرض رہ گیا ہو اس کی تعمیل اور ادائیگی کے بعد یہ حصے تقسیم ہوں گے۔ “ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ : فَاِنْ کَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ 1ؕ(النساء 4 : 12) ” اور اگر ان عورتوں کے لئے کوئی اولاد ہو تو تمہارے لئے یعنی خاوند کے لئے چوتھائی حصہ ہوگا لیکن تقسیم اس کے بعد ہوگی کہ جو کچھ وہ وصیت کرگئی ہوں اور جو کچھ اس پر قرض ہو جب اس کی ادائیگی ہوجائے۔ “ سورة نساء میں جہاں وارثوں کے حصے متعین کئے گئے ہیں وہاں ہی ہر بار یہ بات بھی ساتھ ساتھ دہرائی گئی ہے اور بےتکرار اس کو بیان کیا گیا ہے یعنی ان تمام آیات میں حصص بیان کئے گئے ہیں مگر ہر آیت کے آخر میں ” مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ “ کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ وصیت جائز قرار دی گئی ہے اور اس کو منسوخ نہیں سمجھا گیا۔ " پھر نزول کے اعتبار سے سورة مائدہ سب سورتوں کے آخر میں نازل کی گئی ہے اس میں ارشاد الٰہی ہے کہ : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ (المائدہ 5 : 106) مسلمانو ! جب تم میں کسی کے سامنے موت آکھڑی ہو اور وہ وصیت کرنے لگے تو وصیت کے وقت گواہی کے لئے تم میں سے دو آدمی معتبر گواہ ہونا چاہئیں اگر ایسا ہو کہ تم سفر میں ہو اور تم کو مسلمان گواہ نہ میسر ہو سکیں تو غیر مسلم بھی گواہ بنائے جاسکتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سورة بقرہ کے حکم وصیت کو سورة مائدہ میں بدستور قائم رکھا گیا۔ # بخاری نے کتاب الوصایا میں سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے کہ وہ قیام مکہ کے دوران بیمار ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور رسول اللہ ﷺ اس امر کو ناپسند فرماتے تھے کہ ایک مسلمان مکہ سے ہجرت کرنے کے بعد پھر اسی جگہ یعنی مکہ میں مر جائے ۔ آپ ﷺ نے سعد کے حق میں دعا کی تو سعد نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اپنے پورے مال کی وصیت کر جائوں یعنی اللہ کی راہ میں صرف کر دوں۔ اس طرح سعد بار بار آپ ﷺ سے دریافت کرتے ہیں کے اپنا تمام مال و متاع اللہ کی راہ میں صرف کر دوں مگر آپ ﷺ روکتے ہیں تاآنکہ تہائی مال کی وصیت کی اجازت مل جاتی ہے۔ اس کی وجہ نبی کریم ﷺ یہ فرماتے ہیں کہ وارثوں کو غریب و تنگدست چھوڑنے سے دولت مند رہنے دینا زیادہ بہتر ہے۔ اس حدیث میں چند باتیں قابل غور ہیں : ! مکہ مبارکہ ہجرت کے آٹھویں سال فتح ہوا ہے۔ " سورة بقرہ کی آیت زیر بحث اور نساء کی آیت توریث 8 ہجری سے قبل نازل ہوچکی تھیں۔ # فتح مکہ تک وصیت والی آیت پر مسلمان برابر عمل کرتے تھے۔ کوئی شخص بھی اس کو منسوخ تسلیم نہ کرتا تھا کیونکہ اگر یہ آیت اس وقت منسوخ ہوگئی ہوتی تو سب سے پہلے خود حامل نبوت سعد کو وصیت کرنے سے روکتے کہ جب آیت وصیت منسوخ ہوچکی ہے تو تمہیں وصیت کرنے کا یا حق ہے ؟ مگر آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا بلکہ آپ کا امر یہ ہے کہ ثلث میں وصیت کرو کیونکہ اگر تمام مال فی سبیل اللہ خرچ کردیا تو عزیز رشتہ دار بھوکے رہیں گے یعنی ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا۔ پس ان تمام باتوں سے معلوم ہوگیا کہ زمانہ رسالت میں یہ آیت منسوخ نہ تھی اور تمام صحابہ کرام اس کو قابل عمل خیال کرتے تھے البتہ اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ جب شریعت نے وارثوں کے حصے مقرر کردیئے ہیں تو پھر یہاں والدین اور رشتہ داروں کے ذکر کی کیا ضرورت تھی ؟ سو عرض یہ ہے کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ والدین اور رشتہ داروں کو شریعت کے مطابق حصہ مل گیا مگر وہ ان کے لئے بالکل کافی نہیں ہے بڑھاپے اور ضعف کی وجہ سے کوئی کام بھی نہیں کرسکتے تو اس صورت میں اگر مرنے والا ان میں سے کسی کے لئے وصیت کر جائے تو شریعت اس کو پسند کرتی ہے یا بعض اوقات یہ لوگ وارث نہیں بن سکتے مثلاً وہ کافر ہیں تو ایسی حالت میں بھی ان کے لئے وصیت کر جانا شرعی نظر سے پسندیدہ ہے اور بعض اوقات کسی قریبی کو بالکل دوسرے قریبی محروم کردیتے ہیں اور وصیت اس خلا کو پر کرسکتی جیسے اولاد کی موجودگی میں پوتے پوتیاں وغیرہ چناچہ ابن عباس ، حسن ، مسروق ، طائوس ، ضحاک اور مسلم بن یسار کا یہی بیان ہے۔
Ayah 2:181

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جو شخص ایسا کرے کہ کسی آدمی کی وصیت سننے کے بعد اس میں ردوبدل کر دے تو اس کے گناہ کی ذمہ داری اسی کے سر ہوگی جس نے ردوبدل کیا ہے ، یقین جانو اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے

وصیت میں تغیر و تبدل جائز نہیں بشر طی کہ وصیت شرعی ہو : 310: ارباب ِتقویٰ کے لئے یہی مناسب ہے کہ اپنے والدین اور رشتہ داروں کا خیال رکھیں۔ کوئی شخص وصیت میں تغیر و تبدل کرنے کا مجاز نہیں البتہ اگر وصیت کرنے والے نے کسی کی حق تلفی کی ہو اور جائز وارثوں کو محروم کردیا ہو تو یہ وصیت شرعی نہ ہوئی لہٰذا حاکم وقت اس میں مناسب تبدیلی کرنے کا حق رکھتا ہے اگر بدلنے میں حکومت سے نادانستہ غلطی ہوگئی تو اس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف کر دے گا پس اگر وصیت خلاف مصلحت ہے تو اس میں جائز تبدیلی کی جاسکتی ہے۔
Ayah 2:182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

اور اگر کسی شخص کو وصیت کرنیوالے سے بےجا رعایت کرنے یا کسی معصیت کا اندیشہ ہو اور وہ ان میں مصالحت کرا دے تو ایسا کرنے میں کوئی گناہ نہیں ، بلاشبہ اللہ بخشنے والا رحمت رکھنے والا ہے

وصیت کرنے والا اگر وصیت خلاف اصول کر دے تو اصلاح جائز ہے : 311: ” خاف “ خوف عربی زبان میں ہمیشہ اندیشہ اور ڈر ہی کی معنی میں نہیں آتا بلکہ کبھی علم کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں بھی یہی معنی مراد ہیں یعنی وصیت کا گواہ اس بات کا علم رکھتا ہو اور اس کو معلوم ہوجائے کہ وصیت کرنے والا گناہ کی وصیت کر رہا ہے اور وہ اس وقت اس کی اصلاح کرا لے تو یہ بھی صحیح ہے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور وصیت اگر بےضابطہ ہے یا خلاف قاعدہ شرعی ہے اور کوئی شخص وارثوں کے درمیان وقوع نزاع یا احتمال نزاع ہی دیکھ کر مضمون وصیت میں ایسی ترمیم کر دے جس سے حق تلفیوں کی اصلاح ہوجائے اور وارثوں میں بھی باہم مصالحت ہوجائے تو بھی گناہ کی بات نہیں بلکہ اصلاح کا معاملہ ہے۔
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے مسلمانو ! جس طرح ان لوگوں پر جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں ، روزہ [ فرض کردیا گیا تھا ، اسی طرح تم پر بھی فرض کردیا گیا ہے تاکہ تم میں پرہیزگاری پیدا ہو

روزہ کی فرضیت کا اعلان : 312: ” صیام “ جمع ہے صوم کی ۔ روزہ اصطلاح شریعت میں اسے کہتے ہیں کہ انسان طلوع فجر سے غروب آفتاب تک اپنے کو کھانے پینے اور عمل زوجیت سے روکے رکھے۔ ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں۔ رمضان کے علاوہ روزہ رکھنا نفلی عبادت ہے۔ ایک مہینے میں تین روزے رکھنا بڑی فضیلت رکھتا ہے ۔ انہی روزوں کو ایام بیض کے روزے کہا جاتا ہے یعنی 14 ، 15 ، 16 چاند کی تاریخوں میں روزہ رکھنا۔ بعض احادیث میں سوموار اور بعض میں جمعرات اور جمعہ کے دن کا روزہ بھی بتایا گیا ہے۔ روزہ کی حالت میں غیبت ، فحش کلامی ، فسق و فجور اور بدزبانی وغیرہ جیسے تمام گناہوں سے بچنے کی سخت تاکید آئی ہے۔ جھوت اور غیبت سے تو روزہ کا اجر ضائع ہوجانا ثابت ہے۔ جدید و قدیم سب طبیب اس بات پر متفق ہیں کہ روزہ جسمانی بیماریوں کے دور کرنے کا بہترین علاج ہے اور جسم انسانی کے لئے ایک بہترین مصلح ہے۔ پھر اس سے سپاہیانہ ہمت اور ضبط نفسی کی روح جو ساری امت میں تازہ ہوجاتی ہے اس کے لحاظ سے بھی مہینہ بھر کی یہ سالانہ مشق ایک بہترین نسخہ ہے۔ روزہ کسی نہ کسی صورت میں تو دنیا کی ہر قوم اور مذہب میں پایا جاتا ہے۔ ” مِنْ قَبْلِكُمْ “ سے قرآن کریم کی مراد اہل کتاب ہی ہیں۔ چناچہ روزہ شریعت موسوی کا ایک اہم اور معروف جزو ہے۔ مذاہب عالم سے اتنی گہری واقفیت کے صاف صاف ان میں روزہ کے جزو مذہب ہونے کی خبر دے دی۔ اس ترقی پزیر زمانہ سے صدیوں پہلے عرب جیسے دور افتادہ اور دنیا کے ہر ملک سے بےتعلق جزیرہ نما میں ایک امی کیلئے کسی طرح ممکن نہیں بجزوحی الٰہی کے توسط کے اور یہ بھی ایک بڑی دلیل ہے نبی کریم ﷺ کے نبی ہونے کی اور آج دنیا کی تاریخ اس بات کو حق تسلیم کرتی ہے۔ جیسا کے اوپر ذکر کیا گیا ہے دنیا کی ہر قوم میں روزہ رکھنے کا دستور تھا بلکہ اب بھی ہے۔ عاشورہ کے دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو فرعون کے پنجہ قہر و استبداد سے نجات ملی تو یہودیوں نے اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا۔ عیسائیوں میں روزے رکھنے کا قانون تھا مگر انہوں نے کفارہ کی آڑ پکڑی اور تمام اعمال صالح سے الگ ہوگئے۔ روزوں کے مقدس کتاب میں حسب ذیل آیات ملاحظہ کے قابل ہیں : ” چالیس دن اور چالیس رات فاقہ کر کے آخر کار اسے بھوک لگی۔ “ (متی 4 : 2) اور ایک جگہ اس طرح ہے کہ : ” اور جب تم روزہ رکھو تو ریا کاروں کی طرح اپنی صورت اد اس نہ بنائو کیونکہ وہ اپنا منہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگ انہیں روزہ دار جانیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پا چکے۔ بلکہ جب تو روزہ رکھے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور منہ دھو تاکہ آدمی نہیں بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہے تجھے روزہ دار جانے۔ اس صورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دے گا۔ “ (متی 6 : 17 تا 18) انجیل میں ہے کہ : ” اور انہوں نے اس سے کہا کہ یوحنا کے شاگرد اکثر روزہ رکھتے اور دعائیں مانگا کرتے ہیں اور اس طرح فریسیوں کے بھی مگر تیرے شاگرد کھاتے پیتے ہیں۔ یسوع نے ان سے کہا کیا تم بارایتوں سے جب تک دولہا ان کے ساتھ رہے روزہ رکھوا سکتے ہو ؟ مگر وہ دن آئیں گے اور جب دولہا ان سے جدا کیا جائے گا تب ان دونوں میں وہ روزہ رکھیں گے۔ “ (لوقا 5 : 33 تا 34 تا 35) روزہ تعمیل ارشاد خداوندی میں تزکیہ نفس ، تربیت جسم دونوں کا ایک بہترین دستور العمل ہے۔ اشخاص کے افرادی اور امت کے اجتماعی ہر دو نقطہ نظر سے پھر اسلامی روزے کی اصل غرض بھی قرآن کریم نے واضح فرما دی کہ وہ صرف اور صرف تقویٰ کی عادت ڈالنا ہے اور افراد امت کو متقی بنانا ہے ۔ تقویٰ نفس کی ایک مستقل کیفیت کا نام ہے جس طرح مضر عادتوں سے احتیاط رکھنے سے جسمانی صحت درست ہوجاتی ہے اور مادی لذتوں سے لطف و انبساط کی صلاحیت زیادہ پیدا ہوجاتی ہے۔ بھوک خوب کھل کر لگنے لگتی ہے جسم کی مکمل تضمیر اور تطہیر ہوجاتی ہے۔ خون صالح پیدا ہونے لگتا ہے۔ اس طرح اس عالم میں تقویٰ اختیار کرلینے سے عالم آخرت کی لذتوں اور نعمتوں سے لطف اٹھانے کی صلاحیت و استعداد انسان میں پوری طرح ہو کر رہتی ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی روزہ کی افضلیت تمام دوسری قوموں کے گرے پڑے روزوں میں علانیہ ثابت ہوتی ہے۔ اور پھر مشرک قوموں کے ناقص اور ادھورے اور برائے نام روزوں کا تو ذکر ہی کیا خود مسیحی اور یہودی روزوں کی حقیقت بس اتنی ہے کہ یا تو وہ کسی بلا کو دفع کرنے کے لئے رکھے جاتے ہیں یا کسی فوری اور مخصوص روحانی کیفیت کو حاصل کرنے کے لئے۔ یہود کی قاموس اعظم جیوش انسائیکلوپیڈیا میں ہے ” قدیم زمانہ میں روزہ یا تو بطور علامت ماتم کے رکھا جاتا تھا اور یا جب کوئی خطرہ درپیش ہوتا تھا اور یا پھر جب سالک اپنے میں قبول الہام کی استعداد پیدا کرنا چاہتا تھا۔ “ (ج 5 ص 347)