2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:217

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

لوگ تم سے پوچھتے ہیں جو مہینہ حرمت کا سمجھا جاتا ہے اس میں لڑائی کرنا کیسا ہے ؟ ان سے کہہ دو اس میں لڑائی لڑنا بہت ہی بری بات ہے مگر کسی انسان کو اللہ کی راہ سے روکنا اور اس کا انکار کرنا اور مسجد حرام میں کسی کو نہ جانے دینا یہاں تک کہ وہاں کے بسنے والوں کو نکال دینا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برائی ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر برائی ہے یاد رکھو یہ لوگ تم سے برابر لڑتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر بن پڑے تو تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کردیں اور پھر تم میں سے جو شخص اپنے دین سے برگشتہ ہوجائے اور اسی حالت برگشتگی میں دنیا سے رخصت ہوجائے تو اس کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جن کے تمام اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت گئے اور ایسے ہی لوگ ہیں جن کا گروہ دوزخی گروہ ہے ، ہمیشہ عذاب میں رہنے والا

کیا وہ حرمت کے مہینوں کے متعلق پوچھنا چاہتے ہیں ؟ 368: جیسا کہ یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ قمری سال کے چار مہینے محرم ، رجب ، ذی قعدہ اور ذی الحجہ عرب جاہلیت میں متبرک خیال کئے جاتے تھے اور پھر اسلام نے بھی ان کا احترام کیا ۔ قتل و غارت تو ان لوگوں کا پیشہ تھا لیکن ان چار مہینوں میں جنگ بند رہتی تھی ۔ اس جگہ حرمت کے مہینے سے مراد دراصل رجب ہے۔ ہوا یہ کہ 2 ھ میں ایک بار سفر میں بعض صحابہ کا مقابلہ مشرکین سے ہوگیا اور ایک مشرک مقاتلہ میں جان سے مارا گیا واقعہ کی تاریخ صحابہ کے خیال میں 30/ جمادی الثانی تھی لیکن بعد کو علم ہوا کہ چاند 29 کا ہوگیا تھا جیسا کہ اکثر قمری مہینوں میں آج بھی ہوجاتا ہے ۔ اور وہ تاریخ یکم رجب کی تھی۔ مشرکین مکہ نے سہو و غلطی کی اس رائی کو پہاڑ بنایا اور طعن و اعتراض کردیا کہ مسلمانوں کو اب محترم مہینوں کی حرمت کا بھی لحاظ نہیں رہا۔ فقہاء مفسرین میں ایک بہت بڑی بحث اس سلسلہ میں موجود ہے کہ آیا حرمت والے مہینوں میں قتال اب بھی جائز ہے یا نہیں ؟ محققین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جب کافر اس زمانہ میں قتال شروع کردیں تو مسلمانوں کی حیات کی حفاظت کے لئے دفاعی و جوابی قتال تو بہر حال جائز ہے۔ گفتگو اس میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے بھی ابتداء جائز ہے یا نہیں ؟ اکثر مفسرین چاروں امام اور جمہور فقہاء اس کے قائل ہیں کہ یہ حرمت قطعی طور پر کالعدم ہوچکی ہے اور اب جہاد ان مہینوں میں بھی جائز ہے لیکن اس کے باوجود اختلاف بھی موجود ہے کیونکہ اکابر ہی کی ایک جماعت اگرچہ وہ قلیل ہی سہی اس بات کو قطعی جانتی ہے کہ ان مہینوں میں جنگ کی ممانعت کا حکم دائمی اور قطعی ہے بلکہ عطا (رح) تابعی تو اس کے مقابلہ میں پہلی رائے کو سخت غلط جانتے تھے۔ مہینوں کی حرمت پر بحث کرنے والوں کو انسانیت سوز کاموں کا بھی خیال چاہئے : 369: تعجب ہے کہ اسلام قبول کرنے والوں کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالنا ان پر ظلم و ستم توڑنا ، اللہ سے کفر اختیار کرنا اللہ کے دین و شریعت کو نہ قبول کرنے اور اللہ کا شریک دوسروں کو ٹھہرانے کا عین کفر ہونا ظاہر ہے اور اس طرح رسول اللہ ﷺ اور دوسرے مؤمنین کو ہر طرح سے تنگ و پریشان کر کے مسجد حرام سے نکال دینا اور وہاں ان کا داخلہ بند کردینا یعنی جو صحیح معنوں میں مسجد الحرام کے اہل ہیں اور اس کے حقوق کو ادا کرنے والے ہیں ۔ انہی کو روک دینا ان کے نزدیک کوئی برائی نہیں۔ گویا کافروں کے جواب میں دو باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں سے وہ گناہ عمداً زمانہ حرمت میں قتل کرنے کا عمل صادر ہی نہیں ہوا دوسری بات یہ کہ بالفرض صادر ہوتا بھی تو تمہارے ایسے شدید اور سنگین جرائم سے اس کا کیا مقابلہ ؟ گویا ان کو دوسرے کی آنکھ کا تنکا محسوس ہوتا ہے لیکن اپنی آنکھ کے شہتیر کا احساس تک نہیں۔ فتنہ پر دازوں کو آخر اپنا فتنہ کیوں نظر نہیں آتا : 370: ” الفتنۃ “ سے مراد جیسا کہ قبل ازیں بیان کیا جا چکا ہے وہ شدید مزاحمتیں اور رکاوٹیں ہیں جو معاندین نے دین حق کی راہ میں پیدا کر رکھی تھیں۔ اس دین کی راہ میں جس کا مقصد ہی دنیا کو راہ امن دکھانا اور تمام زحمتوں اور کلفتوں سے نجات دلانا ہے۔ اکبر کے معنی یہاں اشد کے ہیں من القتل یعنی اس خاص واقعہ قتل سے جو اتفاقی ہوگیا تھا اور یعنی ماہ رجب کی پہلی تاریخ اگرچہ صحابہ اس کو 30/ جمادی الثانی خیال کرتے تھے۔ یہاں مقصد ارشاد یہ ہے کہ دین حق کی راہ میں جو لوگ رکاوٹ پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کو اس طرف آنے سے طرح طرح کی سازشوں ، تدبیروں ، ترکیبوں سے روکتے ہیں وہ حقیقتاً دنیا کے امن و عدل اور عافیت سے محروم کردینا چاہتے ہیں اور اس لئے وہ حقیقت میں نوح و نسل انسانی کے مجرم ہیں۔ اسلامی جہاد کی تو غایت ہی دنیا سے ہر قسم کی خود غرضیوں اور فریب کاریوں ، ظلم و جور اور بدامنی کو دور کرنا ہے۔ جو احمق اس کو اور عام دنیوی حکومتوں کے قتل و قاتل کو یکساں سمجھ رہے ہیں وہ دراصل جراح کے نشتر اور ڈاکو کے خنجر کو ایک سطح پر رکھ رہے ہیں۔ آیت کے اس حصہ میں بتا دیا کہ مخالفین اسلام ہمیشہ بغض و عداوت کا اظہار کرتے رہیں گے اور ان کی برابر یہ کوشش رہے گی کہ تم کو دین حق سے برگشتہ کردیں۔ اس لئے مسلمانوں کو بھی جنگ کے لئے ہمیشہ تیار رہنا پڑے گا ۔ پس معلوم ہوگیا کہ جنگ ہمیشہ رہے گی یعنی کسی وقت بھی چھڑ سکتی ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ” الجھار ماض الی یوم القیمۃ “ قرآن کریم میں دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا ہے کہ جنگ ختم ہونے کا وقت یہ ہے کہ حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا 1ۛ۫ۚ۬ (محمد 47 : 4) ” یہاں تک کہ لڑائی موقوف ہوجائے “ یعنی جب تک جنگ کرنی والی ظالم و حریص قوتیں باقی ہیں عالمگیر صلح و امن کے حصول کی کوئی توقع نہیں اس لئے پہلے ان قوموں کو پامال کر دو ۔ ایک جگہ فرمایا ہے : حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ ” یعنی یہاں تک لڑو کہ جنگ آزما دشمن چور چور ہوجائیں “ قاتلوں کا جب تک خون نہ بہایا جائے گا مقتولوں کا خون بہنا بند نہ ہوگا۔ پس جب تک دنیا جنگ اور بواعث جنگ سے باز نہ آئے گی مسلمانوں کو بھی جنگ کرنی پڑے گی۔ جنگ صرف اسی وقت ختم ہوگی جب تمام دنیا اسلام کی دعوت امن و آخرت کو جاری رہنے دے گی اور اس کی حقانیت کو بزور دبانا چھوڑ دے گی۔ کیا مرتد کی سزا قتل ہے یا کچھ اور ؟ 371: وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ تم میں سے جو شخص اپنے دین سے برگشتہ ہوجائے یعنی پھرجائے اور اسی حالت میں مر جائے تو وہ گویا جہنم و اصل ہوگیا اور دنیا میں ارتداد سے پہلے جو کچھ اس نے اچھے اعمال کئے تھے وہ بھی ضائع ہوئے ان کے اجر سے بھی وہ محروم ہوگیا حبط اعمال کا اثر آخرت میں تو یوں ہی ظاہر ہوگا کہ یہ بدنصیب مرتد اپنے آپ کو ہر ساعت کے اجر اور ہر عبادت کے ثواب سے محروم پائے گا اور دنیا میں اس کا اثر اس طرح ظاہر ہوگا کہ نہ تو مسلمان بیوی سے اس کا نکاح قائم رہا ، نہ مسلمان کی میراث سے اس کا حصہ مل سکا اور یہ دنیوی سزا بھی اس کو زندہ درگور کر دے گی۔ رہی یہ بات کہ مرتد کی سزا قتل ہے ؟ تو حقیقت یہی ہے کہ قرآن کریم میں ایسی کوئی واضح دلیل اس کے قتل کی نہیں ۔ پھر اس کو ارتداد کی سزا کیا ملی ؟ اس کا ذکر اوپر بیان ہوچکا ۔ کیا حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ 1ۚ کی سزا کوئی سزا نہیں ؟ حالانکہ یہ اتنی بڑی سزا ہے کہ اس کے مقابلہ میں سزائے قتل بھی ہیچ ہے۔ انہی مرتدین کا ذکر دوسری جگہ اس طرح فرمایا : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ00137 (النساء 4 : 137) ” جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایمان لائے پھر کفر میں پڑگئے ، پھر ایمان لائے پھر کفر میں پڑگئے اور پھر برابر کفر میں بڑھتے ہی گئے ، اللہ انہیں بخشنے والا نہیں اور ہرگز ایسا نہ ہوگا کہ انہیں کوئی راہ دکھائے گا۔ “ غور کریں کہ کتنی جسارت ان لوگوں نے کی گویا انہوں نے دین کو محض ایک غیر سنجیدہ تفریح سمجھا ہے۔ ایک کھلونا ہے جس سے وہ اپنے تخیلات یا اپنی خواہشات کے مطابق کھیلتے رہتے ہیں ۔ جب فضائے دماغی میں ایک لہراٹھی مسلمان ہوگئے جب دوسری لہراٹھی تو کافر بن گئے یا جب فائدہ مسلمان بن جانے میں نظر آیا تو مسلمان ہوگئے جب منفعت نے دوسری طرف سے جلوہ دکھایا تو اس کی پوجا کرنے کے لئے بےتکلف اس طرف چلے گئے۔ فرمایا ایسے لوگوں کے لئے اللہ کے پاس نہ مغفرت ہے ، نہ ہدایت اور یہ جو فرمایا کہ وہ ” اپنے کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے۔ “ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص محض کافر ہوجانے پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کے بعد دوسرے لوگوں کو بھی اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرے۔ اسلام کے ساتھ خفیہ سازشیں اور علانیہ تدبیریں شروع کر دے اور اپنی ساری قوت اس سعی و جہد میں صرف کرنے لگے کہ کفر کا بول بالا ہو اور اس کے مقابلہ میں اللہ کے دین کا جھنڈا سرنگوں ہوجائے۔ یہ کفر میں مزید ترقی اور ایک جرم پر پے درپے جرائم کا ضافہ ہے جس کا وبال بھی مجرد کفر سے لازماً زیادہ ہونا چاہئے ۔ لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود اسلام نے اس سے زندگی کا حق نہیں چھینا۔ کفر میں بڑھ جانے کی اس کو سزا سنا دی کہ اگر یہ کفر پر قائم رہتے ہوئے مر گئے تو ان کو اللہ نہ معاف فرمائے گا اور ہدایت کا وقت انہوں نے ویسے ہی ضائع کردیا کیونکہ ان کی ہدایت کی امید تو اب باقی ہی نہ رہی۔ دراصل شریعت یہود میں ارتداد ہی نہیں بلکہ ترغیب ارتداد کی بھی سزا قتل و سنگساری ہے چناچہ توریت میں ہے : ” اگر تیرا بھائی جو تیری ماں کا بیٹا ہے یا تیرا ہی بیٹا ہے یا تیری بیٹی یا تیری ہمکنار جو رویا تیرا دوست جو تجھے جان کے برابر عزیز ہے تجھے پوشیدہ میں پھسلا دے اور کہے کہ آج گیر معبودوں کی بندگی کریں جن سے تو اور تیرے باپ دادے واقف نہیں تھے تو تو اس سے موافق نہ ہونا اور اس کی بات نہ سننا ۔ تو اس پر رحم کی نگاہ نہ رکھنا تو اس کی رعایت نہ کرنا۔ تو اسے پوشیدہ نہ رکھنا بلکہ اسے ضرور قتل کرنا۔ اس کے قتل پر پہلے تیرا ہاتھ بڑھے اور بعد اس کے قوم کے ہاتھ۔ اور تو اسے سنگسار کرنا تاکہ وہ مر جائے۔ “ (استثناء 13 : 61 تا 10) اور نصرانیوں کے ہاں بھی ” دانستہ ارتداد ناقابل تلافی گناہ ہے قتل اور زنا کاری کے درجہ کا۔ “ (انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس ج 6 ص 623) چنانچہ انگلستان میں ایک چھوٹے پادری نے جب تیرھویں صدی مسیحی میں ایک یہودن سے شادی کے پھیر میں دین نصرانیت کو ترک کردیا تھا تو اسے آکسفورڈ میں 17/ اپریل کو جلا دیا گیا (حوالہ بالا ص 644) رہا قرآن کریم کا معاملہ تو اس نے زیر نظر آیت میں بھی یہ فرمایا کہ : فَیَمُتْ وَ ہُوَ کَافِرٌ اسی حالت کفر ہی میں اس کی موت آجائے گویا یہ فقرہ بڑھا کر یہ ترغیب دے دی کہ آگر خدانخواستہ کوئی مرتد ہو ہی گیا تو اسے بھی موقع ایذا سے پھر اپنے دین کی طرف واپس آجانے کا باقی ہے۔ اگر مرتد ہوتے ہی قتل کر دیاجائے تو اس کو یہ موقع ہی کب ملے گا ؟ مزید تفصیل کسی دوسرے مقام پر ہوگی ۔ جن مرتدین کو اسلام میں قتل کیا گیا ان کے ذمہ ارتداد کے بعد قتل و بغاوت کے مزید جرم بھی ثابت ہوئے تھے۔
Ayah 2:218

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور جن لوگوں نے وطن سے بےوطن ہونے کی سختیاں برداشت کیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا بلاشبہ ایسے ہی لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کی امیدواری کرنے کے صحیح مستحق ہیں اور جو کوئی اللہ کی رحمت کا امیدوار ہو تو اللہ بھی رحمت سے بخش دینے والا ہے

ایمان لانے کے بعد ایمان پر ثابت قدمی بہت بڑا کمال ہے : 372: فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور پھر راہ ایمان میں ثابت قدم بھی رہے اور انہوں نے وطن سے بےوطن ہونے کی سختیاں برداشت کیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے سرگرم رہے تو ایسے ہی لوگ تو اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ گویا اس آیت میں بشارت و تسلی ہے ان مؤمنین کے لئے جن کے ہاتھ سے ایک مشرک کا قتل یکم رجب کو بغیر صحیح تاریخ سے واقفیت کے ہوگیا تھا۔ جس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔ فرمایا کہ اللہ اپنی صفت غفور کے تقاضا کی وجہ سے ان کے اس سہو و خطا کو معاف کر دے گا ۔ اور وہ رحیم بھی ہے اپنی اس صفت رحیمیت کے تقاضہ سے ان کو اجر بھی مرحمت فرمائے گا۔
Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

تم سے لوگ شراب اور جوئے کے متعلق دریافت کرتے ہیں ، ان سے کہہ دو کہ ان دونوں چیزوں میں نقصان بہت ہے اور انسان کے لیے فائدے بھی ہیں لیکن ان کا نقصان ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے اور تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ ان سے کہہ دو جس قدر فاضل ہو ، دیکھو اللہ اس طرح کے احکام دے کر تم پر اپنی نشانیاں واضح کردیتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو

حرمت شراب اور اس کے متعلقہ احکام : 373: ابتدائے اسلام میں عام رسومات جاہلیت کی طرح شراب خوری بھی عام تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ میں بھی شراب اور قمار یعنی جوا کھیلنے کا رواج عام تھا۔ عام لوگ تو ان دونوں چیزوں کے صرف ظاہری فوائد کو دیکھ کر ان پر فریفتہ تھے۔ ان کے اندر جو بہت سے مفاسد اور خرابیاں ہیں ان کی طرف ان کی نظر ہی نہ تھی۔ لیکن سنت اللہ یہ بھی ہے کہ ہر قوم اور ہر خطہ کے لوگوں میں کچھ عقل و فکر والے بھی ہوتے ہیں جو طبیعت پر عقل کو غالب رکھتے ہیں۔ کوئی طبعی خواہش اگر عقل کے خلاف ہو تو وہ اس خواہش کے پاس نہیں جاتے۔ اس معاملہ میں نبی کریم ﷺ کا مقام تو بہت ہی بلند تھا کہ جو چیز کسی وقت حرام ہونے والی تھی آپ ﷺ کی طبیعت پہلے ہی اس سے نفرت کرتی تھی۔ صحابہ کرام میں بھی کچھ ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے شراب حرام نہ ہونے کے زمانے میں بھی کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا۔ مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد چند صحابہ کرام کو اس کے مفاسد کا زیادہ احساس ہوا حضرت عمر فاروق ، معاذ بن جبل اور چند انصار صحابہ اس احساس کی بناء پر نبی کریم ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ شراب اور قمار انسان کی عقل کو بھی خراب کرتے ہیں اور مال بھی ان سے برباد ہوتا ہے ۔ ان کے متعلق آپ ﷺ کا کیا ارشاد ہے اس سوال کے جواب میں آیت زیر نظر نازل ہوئی۔ یہ پہلی آیت ہے جس میں شراب اور جوئے سے مسلمان کو روکنے کا ابتدائی قدم اٹھایا گیا۔ اس آیت میں بتایا گیا کہ شراب اور جوئے میں اگرچہ لوگوں کے کچھ ظاہری فوائد ضرور ہیں لیکن ان دونوں میں گناہ کی بڑی بڑی باتیں پیدا ہوجاتی ہیں جو ان کے منافع اور فوائد سے بڑھی ہوئی ہیں اور گناہ کی باتوں سے وہ چیزیں مراد ہیں جو کسی گناہ کا سبب بن جاتی ہیں ۔ مثلاً شراب میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ عقل و ہوش زائل ہوجاتا ہے جو تمام کمالات اور شرف انسانی کا اصل الاصول ہے کیونکہ عقل ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو برے کاموں سے روکتی ہے۔ جب وہی درست نہ رہی تو ہر برے کام کے لئے راستہ ہموار ہوگیا۔ زیر نظر آیت میں صاف طور پر شراب کو حرام تو نہیں کہا گیا مگر اس کی خرابیاں اور مفاسد ضرور بیان کردیئے گئے کہ شراب کی وجہ سے انسان بہت سے گناہوں اور خرابیوں میں مبتلا ہو سکتا ہے گویا اس کے ترک کرنے کے لئے ایک قسم کا مشورہ دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بعض صحابہ کرام تو اس مشورہ یا اشارہ ہی کو قبول کر کے اسی وقت شراب کو چھوڑ بیٹھتے تھے اور بعض نے یہ خیال کیا کہ اس آیت نے شراب کو حرام تو نہیں کیا بلکہ مفاسد دین کا سبب بننے کی وجہ سے اس کو سبب گناہ قرار دیا ۔ ہم اس کا اہتمام کریں گے کہ وہ مفاسد واقع نہ ہوں تو پھر شراب میں کوئی حرج نہیں اس لئے وہ پیتے رہے یہاں تک کہ ایک روز یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے صحابہ کرام میں سے چند اپنے دوستوں کی دعوت کی کھانے کے بعد حسب دستور شراب پی گئی ۔ اس حال میں نماز کا وقت آگیا سب نماز کے لئے کھڑے ہوگئے لیکن تلاوت صحیح نہ کی جاسکی ۔ اس پر شراب سے روکنے کے لئے دوسرا قدم اٹھایا گیا اور اس آیت کا نزول ہوا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى ” یعنی اے ایمان والو ! تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جائو ۔ نشہ فرو ہونے کے بعد نماز پڑھو۔ “ اس میں خاص اوقات صلوٰۃ کے اندر شراب کو قطعی طور پر حرام کردیا گیا باقی اوقات میں اتنی سختی روانہ رکھی گئی۔ اگرچہ بہت سے لوگ اس حکم کے آنے کے بعد اس سے نفرت کرنے لگے اور بعض نے مطلقاً اس ام الامراض مرض سے توبہ کرلی لیکن چونکہ واضح حکم حرمت کا نہ تھا اس لئے کبھی کبھار کوئی واقعہ ایسا بھی پیش آجاتا جو نہایت اخلاق سوز ہوتا۔ قانون الٰہی میں یہ ڈھیل کیوں رکھی گئی ؟ اس میں بڑی حکمتیں ہیں اور امت کے لئے بیشمار اسباق موجود ہیں جن کے بیان کا یہ موقع نہیں ۔ ان دونوں آیتوں کے بعد تیسری آیت سورة مائدہ میں نازل ہوئی جس میں شراب کو مطلقاً حرام قرار دے دیا گیا ۔ یہ دو آیتیں ہیں جو درج ذیل ہیں : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 0090 اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ 1ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ 0091 (المائدہ 5 : 90 اتا 91) ” اے مسلمانو ! بلاشبہ شراب ، جوا ، معبودانِ باطل کے نشان اور پانسے شیطانی کاموں کی گندگی ہے تم ان سے اجتناب کرو (اور اس گندگی کے قریب مت جاؤ ) تاکہ تم کامیاب ہو۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور کینہ ڈلوا دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے باز رکھے ، پھر کیا تم باز رہنے والے ہو یا نہیں ؟ “ اس آیت میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کی گئی ہیں ایک شراب دوسرے قماز بازی اور تیسرے وہ مقامات جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے یا اللہ کے سوا کسی اور نام پر قربانی کرنے اور مذر و نیاز چڑھانے کیلئے مخصوص کئے گئے ہوں اور چوتھے ، پانسے موخررالذکر دو چیزوں کی تشریح تو وقت پر آئے گی لیکن شراب اور قمار کا ذکر زیر نظر آیت سے ہے جس کی یہاں تشریح کی جا رہی ہے اس کا مختصر ذکر یہاں کیا جائے گا۔ شراب کی ممانعت کے سلسلہ میں دو حکم پہلے آ چکے تھے۔ اب اس آخری حکم نے نہ صرف ممانعت کی بلکہ شراب کو دوسری چیزوں کے ساتھ مکمل طور پر حرام قرار دے دیا۔ احادیث میں آتا ہے کہ اس آخری حکم کے نازل ہونے سے قبل نبی کریم ﷺ نے ایک خطبہ میں لوگوں کو متنبہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کو شراب سخت ناپسند ہے۔ بعید نہیں کہ اس کا قطعی حکم آجائے لہٰذا جن جن لوگوں کے پاس شراب ہے وہ نہ تو اسے پی سکتا ہے اور نہ ہی بیچ سکتا ہے بلکہ وہ اسے ضائع کر دے۔ چناچہ اس حکم کا ملنا تھا کہ مدینہ کی گلیوں میں شراب بہا دی گئی ہے۔ بعض لوگوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ ہم یہودیوں کو تحفہ میں کیوں نہ دے دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” جس نے اس کو حرام کیا ہے اس نے اس کو بطور تحفہ دینے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ “ بعض نے یہ بھی پوچھا کہ ہم اس کو سر کے میں کیوں نہ تبدیل کرلیں ؟ آپ ﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا اور حکم دیا کہ نہیں بس اسے بہا دو ایک صحابی نے باصرار دریافت کیا کہ دوا کے طور پر تو استعمال کی اجازت ہے ؟ فرمایا نہیں ، وہ دوا نہیں ہے بلکہ بیماری ہے۔ ایک اور صاحب نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم ایسے علاقے کے رہنے والے ہیں جو نہایت سرد ہے اور ہمیں محنت بھی کرنا پڑتی ہے کیا ہم لوگ شراب سے تکان دور کرسکتے ہیں اور سردی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا جو چیز تم پیتے ہو وہ نشہ کرتی ہے ؟ انہوں نے عرض کی ہاں ! فرمایا تو اس سے پرہیز کرو۔ انہوں نے عرض کی مگر ہمارے علاقے کے لوگ تو نہیں مانیں گے فرمایا ان سے جنگ کی جائے گی اگر وہ نہیں مانیں گے۔ عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لعن اللہ الخمر وشاربھا و سا قیھا و با ئعھا و مبتا عھا وعا صرھا و معتصرھا و حاملھا والحمولتہ الیہ۔ اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے شراب پر اور اس کے پینے والے پر ، اٹھا کرلے جانے والے پر اور اس شخص پر جس کے لئے وہ اٹھا کرلے جائی گئی ہو اور اس کے ہبہ کرنے والے پر۔ (نسائی ، جامع ترمذی) ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس دستر خوان پر کھانا کھانے سے منع فرمایا جس پر شراب پی جا رہی ہو۔ ابتداء ً آپ ﷺ نے ان برتنوں تک کے استعمال کو منع فرما دیا تھا جن میں شراب بنائی اور پی جاتی تھی۔ بعد میں جب شراب کی حرمت کا حکم پوری طرح نافذ ہوگیا تب آپ ﷺ نے برتنوں پر سے یہ قید اٹھائی۔ ” خمر “ کا لفظ عرب میں انگوری شراب کے لئے استعمال ہوتا تھا ۔ اور مجازاً گیہوں ، جو ، کشمکش ، کھجور اور شہد کی شرابوں کے لئے بھی استعمال ہونے لگا۔ مگر نبی کریم ﷺ نے حرمت کے اس حکم کو تمام ان چیزوں پر عام کردیا جو نشہ پیدا کرنے والی ہوں۔ چناچہ حدیث میں حضور نبی کریم ﷺ کے یہ واضح ارشادات ہمیں ملتے ہیں کہ کل مسکر خمر و کل مسکر حرام ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور نشہ آور چیز حرام ہے۔ کل شراب اسکر فھو حرام ہر وہ مشروب جو نشہ پیدا کرے حرام ہے۔ وانا انھی عن کل مسکر اور میں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔ سیدنا عمر فاروق ؓ نے جمعہ کے خطبہ میں شراب کی یہ تعریف بیان کی تھی کہ الخمر ما خا مرالعقل خمر سے مراد وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانک لے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ اصول بھی بیان فرمایا کہ : ما اسکر کثیرہ فقلیلتہ حرام جس چیز کو کثیر تعداد نشہ پیدا کرے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے اور ما اسکر الفرق منہ فعل الکف منہ حرام جس چیز کا ایک پورا قرابہ نشہ پیدا کرتا ہو اس کا ایک چلو پینا بھی حرام ہے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں شراب پینے والے کو اس جرم میں جب گرفتار کر کے لایا جاتا تھے۔ لات ، مکہ اور کوڑے وغیرہ مارے جاتے تھے اور اس طرح چالیس ضربیں اس کو دی جاتی تھیں۔ سیدنا عمر فاروق کے زمانہ میں بھی ابتداء ً 40 کوڑوں ہی کی سزا رہی پھر جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ اس جرم سے باز نہیں آتے تو انہوں نے صحابہ کرام کے مشورے سے 80 کوڑے سزا مقرر کی اور بعد کے زمانوں میں ان دونوں سزائوں میں سے ایک کبھی 80 اور کبھی 40 کوڑے دی جاتی رہی۔ جس کا یہ صاف مطلب لگتا ہے کہ یہ سزا ان سزائوں میں سے ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اسلامی حکومت کی ذمہ داری پر چھوڑی ہیں کہ وہ جو سزا وقت کے حالات کے مطابق چاہیں متعین کرلیں ۔ جرم زیادہ ہوگا تو سزا سخت کی جاسکتی ہے تاکہ اس مرض کا قلع قمع ہو سکے ۔ مَیْسَرَیعنی جوا کیا ہے ؟ 374: ” مَیْسَرَ “ مصدر ہے اصل لغت میں اس کے معنی تقسیم کرنے کے ہیں اور ” یاسر “ تقسیم کرنے والے کو کہا جاتا ہے ۔ جاہلیت عرب میں مختلف قسم کے جوئے رائج تھے جن میں سے ایک قسم یہ بھی تھی کہ اونٹ ذبح کر کے اس کے حصے تقسیم کرنے میں جوا کھیلا جاتا تھا بعض کو ایک یا زیادہ حصے ملتے اور بعض بالکل محروم رہ جاتے تھے۔ محروم رہنے والے کو پورے اونٹ کی قیمت ادا کرنی پڑتی تھی اور گوشت سب کا سب فقراء ہی میں تقسیم کردیا جاتا تھا اور وہ لوگ خود استعمال نہ کرتے تھے۔ اس خاص جوئے میں چونکہ فقراء کا فائدہ اور جوا کھیلنے والوں کی سخاوت بھی تھی اس لئے اس کھیل کو باعث فخر سمجھتے تھے ان کے خیال میں یہ ایک قسم کی تفریح بھی ہوگئی اور فقراء کا بھلا بھی ۔ جو شخص اس میں شریک نہ ہوتا اس کو کنجوس اور منحوس خیال کرتے تھے گویا یہ ان کا قومی مشغلہ تھا۔ اس لفظ میں جس چیز کو حرام کیا گیا اس کی تین بڑی قسمیں آج بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں اور آیت کا حکم ان تینوں پر حاوی ہے۔ ! : مشرکانہ فال گیری۔ جس میں کسی دیوی یا دیوتا سے قسمت کا فیصلہ پوچھا جاتا ہے یا غیب کی خبر دریافت کی جاتی ہے یا باہمی نزاعات کا تصفیہ کرایا جاتا ہے۔ مشرکین مکہ نے اس غرض کے لئے کعبہ کے اندر ہبل دیوتا کے بت کو مخصوص کر رکھا تھا۔ اس کے استھان میں سات تیر رکھے تھے جن پر مختلف الفاظ اور فقرے کندہ تھا۔ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہو یا کھوئی ہوئی چیز کا پتہ پوچھنا ہو یا خون کے مقدمہ کا فیصلہ مطلوب ہو غرض کوئی کام بھی ہو اس کے لئے ہبل کے پاس پہنچ جاتے اس کا نذرانہ پیش کرتے اور ہبل سے دعا مانگتے کہ ہمارے اس معاملہ کا فیصلہ کر دے ۔ پھر پانسہ دار ان تیروں سے فال نکالتا تھا اور جو تیر بھی فال میں نکل آتا اس پر لکھے ہوئے لفظ کو ہبل کا فیصلہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح کی فال گیری کی شکلیں آج بھی موجود ہیں صرف الفاظ کا الٹ پھیر کرلیا گیا ہے۔ " : توہم پرستانہ فال گیری جس میں زندگی کے معاملات کا فیصلہ عقل و فکر سے کرنے کی بجائے کسی وہمی و خیالی چیز یا کسی اتفاقی شے کا ذریعہ کیا جاتا ہے۔ یا قسمت کا حال ایسے ذرائع سے معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جن کا وسیلہ علم غیب ہونا کسی علمی طریق سے ثابت نہیں ہے۔ رمل ، نجوم ، جفر ، مختلف قسم کے شگون ، نچھتر اور فال گیری کے لئے بیشمار طریقے اس قسم میں داخل ہیں۔ #: جوئے کی قسم کے وہ سارے کھیل اور کام جن میں اشیاء کی تقسیم کا مدار حقوق اور خدمات اور عقلی فیصلوں پر رکھنے کے بجائے محض کسی اتفاقی امر پر رکھ دیا جائے۔ مثلاً یہ کہ لاٹری میں اتفاقاً فلاں شخص کا نام نکل آیا ہے لہٰذا ہزارہا آدمیوں کی جیب سے نکلا ہوا روپیہ اس ایک شخص کی جیب میں چلا جائے ۔ یا یہ کہ علمی حیثیت سے تو ایک معمہ کے بہت سے حل صحیح ہیں مگر انعام وہ شخص پائے گا جن کا حل کسی معقول کوشش کی بنا پر نہیں بلکہ محض اتفاق سے اس حل کے مطابق نکل آیا ہو یہ جو صاحب معمہ کے صندوق میں بند ہے۔ ان تینوں اقسام کو حرام قرار دینے کے بعد قرعہ اندازی کی صرف وہ سادہ صورت اسلام میں جائز رکھی گئی ہے جس میں دو برابر کے جائز کاموں یا دو برابر کے حقوق کے درمیان فیصلہ کرنا ہو مثلاً ایک چیز پر دو آدمیوں کا حق ہر حیثیت سے بالکل برابر ہے اور فیصلہ کرنے والے کے لئے ان میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے اور خود ان دونوں میں سے بھی کوئی اپنا حق خود چھوڑنے کے لئے تیار نہیں مثلاً ایک گائے کو دو آدمیوں میں برابر تقسیم ہونا ہے ظاہر ہے کہ اب گائے کی قیمت پڑے گی اور ایک کو قیمت اور دوسرے کو گائے ملے گی اب دونوں کا خیال ہے کہ گائے ہم کو ملے پھر کیا ہوگا کہ گائے کی قیمت مقرر کردی گئی اور اس تقسیم کے لئے قرعہ اندازی ہوگئی کہ گائے کون لے گا اور رقم کون قرعہ اندازی میں جس کو قیمت ملے گی وہ قیمت لے لے گا اور دوسرا گائے رکھ لے گا۔ قمار یعنی جوئے میں ایک بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ دفعتاً بہت سے گھر برباد ہوجاتے ہیں۔ لکھ پتی آدمی فقیر ہوجاتا ہے جس سے صرف یہی شخص متاثر نہیں ہوتا جس نے جرم قمار کا ارتکاب کیا ہے بلکہ اس کا پورا گھرانہ اور خاندان مصیبت میں پڑجاتا ہے اور اگر غور کیا جائے تو پوری قوم اس سے متاثر ہوتی ہے کیونکہ جن لوگوں نے اس کی مالی ساکھ کو دیکھ کر اس سے معاہدے اور معاملات کئے ہوئے ہیں یا قرض دئے ہوئے ہیں وہ اب دیوالیہ ہوجائے گا تو ان سب پر اس کی بربادی کا اثر پڑنا لازمی ہے۔ قمار میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ اس سے انسان کی قوت عملی سست ہو کر وہمی منافع پر لگ جاتی ہے اور وہ بجائے اس کے کہ اپنے ہاتھ یا دماغ کی محنت سے دولت بڑھاتا رہے اس کی فکر اس بات میں محصور ہو کر رہ جاتی ہے کہ کسی طرح وہ دوسرے کی کمائی پر اپنا قبضہ جمائے۔ ضروریات سے زائد مال راہ الٰہی میں خرچ کردینا ہی عفو ہے : 375: فرض زکوٰۃ ادا ہوجانے کے بعد باقی مال پاکیزہ ہوجاتا ہے گویا مال کی اسلامی طہارت زکوٰۃ ہی ہے۔ اس کے بعد مال کو انسانی طبیعت کے اپنے تقاضے پر چھوڑ دیا گیا ہے اور ترغیب کے لئے ہی الفاظ استعمال فرما دیئے گئے ہیں کہ جو ضروریات سے زائد ہو وہ راہ خدا میں خرچ کر دو ہر انسان اپنی ضرورت کو خود ہی سمجھ سکتا ہے۔ کسی دوسرے آدمی کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسرے کے جائز معاملات میں مداخلت کرے۔ انسان کی ضروریات اور حاجات کتنی قسم کی ہوتی ہیں اور پھر ہر طبیعت کا اپنا تقاضا ہوتا ہے۔ گویا اس سوال نے یہ وضاحت فرما دی کہ دینے والوں کو اللہ دیتا ہے یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ ارشاد الٰہی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے فرمایا : وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ کَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا 0067 (الفرقان 25 : 67) ” اور یہ وہ لوگ ہیں جو (محتاط رہتے ہیں) جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اسراف کرتے ہیں نہ تنگی کرتے ہیں بلکہ وہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا : وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا 0029 (بنی اسرائیل 17 : 29) ” اور نہ تو اپنا ہاتھ اتنا سکیڑ لو کہ گردن میں بندھ جائے اور نہ بالکل پھیلا دو دونوں کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہر طرف سے ملامت پڑے گی اور درماندہ ہو کر رہ جاؤ گے۔ “ فرمایا مال و دولت خرچ کرنے میں اور ہر بات میں اعتدال کی راہ اختیار کرو۔ کسی ایک طرف جھک نہ پڑو۔ مثلاً خرچ کرنے پر آئے تو سب کچھ اڑا دیا اور پھر بھیک مانگتے پھرے اور جب احتیاط کرنی چاہی تو اتنی کی کہ کنجوسی پر اتر آئے۔ دراصل تمام محاسن و فضائل کی بنیادی حقیقت توسط و اعتدال ہے اور جتنی برائیاں بھی پیدا ہوتی ہیں افراط وتفریط سے پیدا ہوتی ہیں۔ بس ان باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اللہ کی راہ میں جو مال خرچ کیا جائے گا وہ ” العفو “ ہی ہوگا۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

(تمہارا فکر) دنیا اور آخرت دونوں کی مصلحتوں میں ہو اور اے پیغمبر اسلام ! لوگ تم سے بےباپ بچوں کی نسبت پوچھتے ہیں ان سے کہہ دو کہ جس بات میں ان کیلئے اصلاح و درستگی ہو وہی بہتر ہے اور اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو بہرحال وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ کون اصلاح کرنے والا ہے اور کون خرابی کرنے والا ہے ، اگر اللہ چاہتا تو تم پر مشقت ڈال دیتا بلاشبہ وہ غلبہ و طاقت کے ساتھ حکمت رکھنے والا ہے

لوگ آپ ﷺ سے بےباپ بچوں کے متعلق پوچھتے ہیں ان کو بتا دو : 376: لڑائیوں کی کثرت کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ یتیم بہت زیادہ ہوں اس لئے ایک قانون کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مگر اس میں کسی مستقل ضابطہ کا بیان نہیں کیا گیا۔ اس لئے شریعت اسلامی اس سے پہلے مسلمانوں میں صحیح کیریکٹر پیدا کرچکی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ لوگ خود فیصلہ کرلیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے لئے ایک اصل و اساس معین کردی کہ الاثم ما حاک فی نفسک گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے۔ ایسی قوم کو قوانین و ضوابط میں جکڑنا مصلحت کے خلاف ہے پس قرآن کریم نے اتنا بیان کیا کہ وہ تمہارے بھائی ہیں جیسے اپنے بھائیوں کا خیال رکھو گے اور ان کی غور وپرداخت کرو گے ایسے ہی ان بےباپ بچوں کا بھی خیال رکھنا۔ اللہ تعا لیٰ خوب جانتا ہے کہ کس کے پیش نظر اصلاح ہے اور کون اس یتیم کی دولت برباد کرنے کی غرض سے اس کی دولت کو اپنے مال کے ساتھ ملا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو اس کے لئے ایک ضابطہ معین کردیتا مگر اس نے تمہیں تکلیف میں ڈالنا پسند نہ کیا ۔ باوجود اس قدر سہولت اور آسانی کے تم نے اب بھی ان کے مال میں خیانت کی تو کبھی ترقی نہ کرسکو گے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اس سے بہتر کوئی دوسرا قانون نہیں ہو سکتا۔ جب جنگ میں جانے والوں کو اس امر کا یقین ہوگیا کہ اگرچہ ہم لڑائی میں مارے جائیں ہماری اولاد پر برا اثر نہیں پڑے گا کیونکہ دوسرے مسلمان ان کو اپنے بھائیوں کی طرح رکھیں گے اور بیٹوں کی مانند پرورش کریں گے۔ یہ خیال ان میں اور بھی زیادہ جوش و ولولہ پیدا کرے گا اور وہ بالکل بےفکر ہو کر میدان کار زار میں داد شجاعت حاصل کریں گے۔ اس سلسلہ میں جو ہدایات دی گئیں وہ یہ تھیں کہ سب سے پہلی شرط جائیداد یتیم کے مصالح کی رعایت ہے تو اس کو نگاہ میں رکھو اگر آسانی اس میں ہو کہ اپنا اور یتیم کا حساب ایک جگہ رکھا جائے تو یہی کیا جائے ورنہ اس کے برعکس جس میں سہولت ہو۔ سب سے بڑی ضرورت یتیم بچوں کی اصلاح کی ہے اس کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینا پرورش اسی طرح کرنا کہ اس کی اصلاح ہو وہ کسی صورت بھی بگڑ نہ جائے۔ علمائے اسلام نے اس سے یہ نتیجہ بھی نکالا ہے کہ یتیم بچوں کو اگر ڈانٹ ڈپٹ تہدید و تنبیہہ تعلیم و تربیت کی ضرورت سے ہو تو وہ بالکل جائز اور درست ہے۔ اسلام نے یتیم نوازی کا وہ اہتمام کیا کہ اپنے تو اپنے غیروں کو بھی اعتراف کرنا پڑا برطانوی مصنف باسورتھ اسمتھ نے لکھا ” پیمبر کی توجہ خصوصی کے مرکز غلاموں کی طرح یتیم بھی رہے ہیں بلکہ پیغمبرخود بھی بےباپ تھا۔ اس لئے دل سے چاہتے تھے کہ جو حسن سلوک خدا نے ان کے ساتھ کیا وہی وہ دوسروں کے ساتھ رکھیں۔ “ (محمڈ اینڈ محمڈ ازم ص 251) ایک امریکی ماہر اجتماعیات ڈاکٹر رابرٹس لکھتے ہیں کہ : ” قرآن کریم کے مطالعہ سے ایک خوشگوار چیز یہ معلوم ہوتی ہے کہ محمد ﷺ کو بچوں کا کس قدر خیال تھا خصوصاً ان بچوں کا جو والدین کی سرپرستی سے محروم ہوگئے ہوں۔ بار بار تاکید بچوں کے ساتھ حسن سالوک کی ملتی ہے۔ “ (سوشل لاز آف دی قرآن ص 40 تا 41) قرآن کریم کی کتنی پیاری زبان میں ہے کہ فرمایا : وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ 1ؕ اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو بہر حال وہ تمہارے بھائی ہیں۔ جب تم آپس میں بھائی بھائی ٹھہرے تو بھائی بھائی میں تکلف کیسا ؟ ان کی خواراک اور ضروریات زندگی تم اپنے پاس سے پوری کر دو تو بہت بہتر اور بہت ہی اچھا اگر اتنی وسعت نہ ہے تو باقاعدہ حساب کتاب کے ساتھ ان کے مال سے بقدر ان کی ضرورت کے لیا جاسکتا ہے۔ فرمایا : ” اور دیکھو بےباپ بچوں کا مال ان کے حوالے کر دو ایسا نہ کرو کہ ان کی اچھی چیز کو اپنی ناکارا چیز سے بدل ڈالو اور ان کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا جلا کر خورد برد کر دو ، یقینا ایسا کرنا بڑی ہی گناہ کی بات ہے۔ “ (النساء 4 : 2) فرمایا : ” اور دیکھو مال و متاع کو اللہ نے تمہارے لیے قیام کا ذریعہ بنایا ہے ، پس ایسا نہ کرو کہ کم عقل آدمیوں کے حوالے کر دو ، ایسا کرنا چاہیے کہ ان کے مال سے ان کے کھانے اور کپڑے کا انتظام کردیا جائے اور نیکی اور بھلائی کی بات انہیں سمجھا دی جائے “ (النساء 4 : 5) ” اور بےباپ بچوں کی حالت پر نظر رکھ کر انہیں آزماتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں ، پھر اگر ان میں صلاحیت پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو اور فضول خرچی کر کے جلد جلد ان کا مال کھا پی نہ جاؤ ، ان کے سرپرستوں میں سے جو مقدور والا ہو اسے چاہیے کہ پرہیز کرے ، جو حاجت مند ہو اس میں سے لے سکتا ہے مگر ٹھیک طریقہ پر پھر جب ایسا ہو کہ ان کا مال ان کے حوالے کرو تو چاہیے کہ اس پر لوگوں کو گواہ کرلو ، یاد رکھو محاسبہ کرنے کے لیے اللہ کا محاسبہ بس کرتا ہے۔ “ (النساء 4 : 6) فرمایا : ” اور لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جائیں تو انہیں ان کی طرف سے کیا کچھ اندیشہ ہو ؟ پس چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور ایسی بات کہیں جو درست اور مضبوط ہو۔ “ (النساء 4 : 9)
Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

اور مشرک عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ، نکاح نہ کرو ، ایک مشرک عورت تمہیں کتنی ہی پسند آئے لیکن مومن عورت اس سے کہیں بہتر ہے اگرچہ وہ باندی ہو اور اسی طرح مشرک مرد جب تک ایمان نہ لے آئیں مومن عورتیں ان کے نکاح میں نہ دی جائیں یقینا اللہ کا مومن بندہ اگرچہ وہ غلام ہو ایک مشرک مرد سے بہتر ہے اگرچہ بظاہر مشرک مرد تمہیں کتنا ہی پسند کیوں نہ آئے ، یہ لوگ تمہیں دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے تمہیں جنت اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے ، اللہ لوگوں کی ہدایت کے لیے اپنی آیتیں واضح کردیتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت اور مشرک مردوں سے بھی : 377: لڑائیوں کی کثرت کا یہ بھی نتیجہ ہے کہ بہت بڑی تعداد میں یتامی نظر آئیں اور ساتھ ہی رانڈوں کی بھی کثرت ہو۔ اگر مسلمانوں نے مفتوحہ اقوام کی عورتوں سے حسن و جمال اور دولت و ثروت کی وجہ سے نکاح کرنے شروع کر دئے تو اس کا یہ لازمی نتیجہ ہوگا کہ مسلمان عورتیں برباد ہوجائیں گی ۔ نگران کار نہ ہونے کی وجہ سے مجبور ہو کر بد عملی و بدکاری کی مرتکب ہوں گی۔ ادھر جب لڑنے والوں کو یہ معلوم ہوگا کہ ان کی عورتوں کی حفظ و نگہداشت نہیں ہوتی تو وہ ہمت ہار دیں گے۔ اس لئے ہمیشہ کے واسطے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ مشرک عورتوں سے نکاح نہ کریں۔ پھر نکاح کی اصل غرض کیا ہے ؟ یہی کہ عورت اور مرد میں دائمی اتحاد و اشتراک عمل پیدا ہو۔ ان کی والاد کی اسلامی طریق پر نشونما ہو۔ ماں باپ کے اخلاق و عقائد کا اثر اولاد پر ہوتا ہے۔ اگر ماں بےدین ہوگی تو اولاد میں اتحاد و زندقہ کے امراض خبیثہ کا پیدا ہونا ضروری ہے۔ جس سے اسلام کی بنیاد کھوکھلی ہوجائے گی اور خاوند اور بیوی کے باہمی اختلاف کی بنا پر تدبیر منزل کے فرائض میں خلل واقع ہوگا اور امور خانہ داری میں کبھی نظم و نسق قائم نہ رہ سکے گا۔ ان تمام مصالح کی بنا پر مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت کی گئی۔ حدیث میں آتا ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے : تنکح المراۃ ربع لما لھا ولحسبھا ولجما لھا ولدینھا فاظفر بذات الدین تربت یداک ” عورتوں سے نکاح کرنے میں لوگ مال و دولت ، خاندان ، حسن و جمال اور عفت و پاکدامنی کو دیکھتے ہیں تم صرف طہارت و پاکیزگی کو پیش نظر رکھو۔ “ فرمایا اپنی لڑکیوں کو مشرکین و معاندین اسلام کے نکاح میں نہ دینا۔ اس مسئلہ میں تمام دنیائے اسلام کا قطعاً اتفاق ہے کہ ایک کافر و مشرک خواہ کیسا ہی صاحب اثر و نفوذ ، جاہ و حشمت اور دولت و ثروت ہو مگر اس کے ساتھ کسی مسلمان عورت کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ اول تو عورت عام طور پر منفعل اور اثر پذیر ثابت ہوئی ہے اس پر صحبت وہم نشینی کا اثر ہو کر رہے گا ممکن ہے کہ بتدریج اسلام چھوڑ کر کفر و ارتداد قبول کرلے۔ دوسرے اگر وہ اسلام سے منحرف نہ بھی ہوئی تو خاوند بیوی میں جنگ رہے گی اور تمام گھر میدان جنگ بنا رہے گا۔ پھر کتنے صاف الفاظ فرما دیئے کہ ” مؤمن باندی بہتر ہے اس آزاد عورت سے اگرچہ وہ کتنی ہی آپ کو پسند کیوں نہ آئے۔ “ بتا دیا کہ دین کے مقابلے میں ہرچیز ہیچ ہے نہ اس کے حسن و جمال کی کوئی حیثیت ہے نہ مال و دولت کے انباروں کی اور نہ حسب و نسب کی کیونکہ ان ساری چیزوں پر دین کا درجہ بھاری ہے۔ زیر نظڑ آیت میں چندباتیں قابل تفہیم رہ گئی ہیں۔ 1: پہلی قابل غور بات یہ ہے کہ مسلم و کافر کے درمیان ازدواجی تعلقات کو حرام قرار دینے کی جو وجہ قرآن کریم میں بیان فرمائی گئی ہے ان کے ساتھ ایسے تعلقات قریبہ کفر و شرک میں مبتلا ہوجانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ بات تو بظاہر تمام غیر مسلموں میں مساوی ہے پھر اہل کتاب کی عورتوں کو مستثنیٰ کرنے کی کیا وجہ ہے۔ 2: دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ اہل کتاب کا اختلاف ہلکا قرار دے کر ان کی عورتوں سے نکاح مسلمان کا جائز ہوا تو اس کے برعکس مسلمان عورتوں کا نکاح بھی غیر مسلم اہل کتاب سے جائز ہوجانا چاہئے۔ مگر ذرا غور کرنے سے فرق واضح ہوجاتا ہے کہ عورت کچھ فطرتاً ضعیف ہے اور پھر شوہر اس پر مال خرچ کرنے کی وجہ سے فوقیت بھی رکھتا ہے اس کے عقائد و نظریات سے عورت کا متاثر ہوجانا مست بعد نہیں اس لئے اگر مسلمان عورت غیر مسلم کتابی کے نکاح میں رہے تو اس کے عقائد خراب ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے بخلاف اس کے کہ غیر مسلم کتابی عورت مسلمان کے نکاح میں رہے تو اس کے خیالات کا اثر شوہر پر پڑنا اصولاً مشکل ہے کوئی بےاصول اور افراط کا شکار ہوجائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔ 3: تیسری بات قابل غور یہ ہے کہ ازدواجی تعلقات میں جو کچھ اثر ہوتا ہے وہ طرفین پر یکساں ہوتا ہے اس لئے جیسے یہ اندیشہ ہے کہ مسلمان کے عقائد غیر مسلم سے متاثر ہوجائیں اس طرح یہ بھی احتمال ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہو۔ غیر مسلم کے عقائد مسلمانوں سے متاثر ہو کر وہی اسلام قبول کرلیں تو اس کا مقتضا یہ ہے مسلم و غیر مسلم کے ازدواجی تعلقات کو ممنوع نہ کیا جائے۔ لیکن یہاں حکمت کی بات یہ ہے کہ جب کسی چیز میں ایک نفع کی امید بھی ہو اور کسی ضرر کا خطرہ بھی ہو تو عقل سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ ضرر سے بچنے کا اہتمام نفع کی فکر سے زیادہ ضروری ہے ۔ اس لئے اس نفع کی امید کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ شاید وہ غیر مسلم متاثر ہو کر اسلام قبول کرلے اہتمام اس کا کیا گیا کہ مسلمان متاثر ہو کر کفر میں مبتلا نہ ہوجائے۔ 4: چوتھی بات قابل غور یہ ہے کہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ کی عورتوں سے مسلمان مردوں کو نکاح کی اجازت کے بھی معنی یہ ہیں کہ اگر نکاح کرلیا جائے تو نکاح صحیح ہوجائے گا اور اولاد ثابت النسب ہوگی لیکن روایات احادیث اس پر شاہد ہیں کہ یہ نکاح بھی پسندیدہ نہیں ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کو اپنے نکاح کے لئے دین دار صالح عورت تلاش کرنا چاہئے تاکہ خود اس کے لئے دین میں معین و مددگار ثابت ہو اس کی اولاد کو بھی دیندار ہونے کا موقع میسر آئے اور جب غیر متد ّین مسلمان عورت سے نکاح پسند نہیں کیا گیا تو کسی غیر مسلم سے کیسے پسند کیا جاتا۔ دراصل مسلمان مردوں کے لئے یہ رعایت صرف دوردراز علاقوں میں جا کر جہاد کرنے اور مہمات جہاد پر مدت تک رہنے کی وجہ سے دی گئی تھی لیکن لوگوں نے اس کا غلط استعمال شروع کردیا پھر آج کل کے اہل کتاب ویسے بھی مشرک ہیں اگرچہ صدر اول میں ایسا نہیں تھا۔
Ayah 2:222

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

لوگ تم سے عورتوں کے ایام ماہواری [ کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ان سے کہہ دو کہ وہ اذیت کا وقت ہے پس چاہیے کہ ان دنوں میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور جب تک وہ فارغ ہو کر پاک و صاف نہ ہو لیں ان سے تعلق خاص قائم نہ کرو اور جب وہ پاک و صاف ہو لیں تو اللہ نے فطری طور پر جو بات جس طرح ٹھہرا دی ہے اس کے مطابق ان کی طرف ملتفت ہو ، اللہ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو برائی سے دور رہنے والے اور پاکیزگی اور صفائی رکھنے والے ہیں

ایام خاص میں عورتوں یعنی اپنی بیویوں سے علیحدگی کا مسٔلہ : 378: اوپر کی آیت میں نکاح کے متعلق بیان تھا اب نکاح ہی کے سلسلہ میں حیض ، طلاق اور عدت کے ضروری مباحث ہیں اس لئے ان کا ذکر کیا جا رہا ہے ۔ حیض کے متعلق دنیا کے لوگ افراط وتفریط میں مبتلا رہے ہیں۔ یہودیوں اور مجوسیوں کے نزدیک ایام حیض میں عورت کے قریب جانا اور اس سے بات چیت کرنا اس کے پاس بیٹھنا اس کے ساتھ کھانا پینا ممنوع و حرام تھا۔ عرب بھی اس وقت انہی کی دیکھا دیکھی اسی قانون کے پابند تھے۔ مگر نصاریٰ ان سے بخط مستقیم مخالف تھے وہ ان دنوں میں بیوی سے صحبت کرنے سے بھی پرہیز نہ کرتے تھے۔ اسلام نے راہ توسط و اعتدال اختیار کی۔ ایام حیص میں زنا شوئی کے تعلقات مختلف امراض و مفاسد کے باعث تھے اس لئے ان کو تو حرام قرار دیا گیا کہ انسان ضرر اور نقصان سے محفوظ رہے لیکن میل جول اور اختلاط میں کوئی پابندی عائد نہ کی بلکہ اس کی اجازت دی گئی کہ اس میں کوئی بھی برائی کی بات نہیں۔ قرآن کریم انسانی زندگی کا مکمل دستور العمل ہے ۔ وہی زندگی جس میں کھانا پینا ، سونا جاگنا جنسی خواہشات کا پیدا ہونا اور ان کا ازالہ کرنا۔ بچہ کا باپ یا ماں بننا سب کچھ داخل ہے۔ زندگی کا ہر شعبہ جو کچھ بھی تعلق تعمیر سیرت سے رکھتا ہے اس کی بات ہدایت و احکام وہ لازمی طور پر دے گا۔ وہ محض “ بزرگانہ ملفوظات “ کا مجموعہ نہیں معاشیات ، معاشرت ، اخلاقیات ، قانون ، غرض انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر شعبہ کے ضروری ابواب کا ذکر نا گزیر ہے ۔ خدانخواستہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس ہدایت نامہ کی جامعیت و کاملیت پر حرف آجاتا۔ عورتوں کی صحت اور بچوں کی پیدائش کے لئے یہ دن ضروری ہیں طب جدید اور قدیم دونوں کو مسلم ہے کہ یہ ایک خاص قسم کا ناقص خون ہے جو رنگ و بو اور ترکیب میں عام خون سے الگ ہے۔ ان دنوں میں عورتوں سے الگ رہنے کا مطلب تعلق خاص پیدا نہ کرنے سے خاص ہے یعنی ان دنوں میں اپنی بیوی سے تعلق زنا شوئی قائم نہ کرو لیکن دوسرے کاموں یعنی بیوی کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے ، کھانے پینے ادھر ادھر آنے جانے میں کوئی برائی نہیں اور نہ ہی اس کی ممانعت ہے۔ بعض مشرک قوموں میں یہ دستور آج بھی ہے کہ اس زمانہ میں عورت کو میلے کچیلے کپڑے پہنا کر گھر کے ایک گوشہ میں اچھوت بنا کر بیٹھا دیا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ دوسری قوموں نے عام طور پر اس طبعی نا پاکی سے متعلق بہت مبالغہ آمیز تخیل قائم کرلیا ہوا تھا یہاں تک کہ عورت کے ان خاص دنوں میں اس کا پکایا ہوا کھانا بھی ناپاک سمجھا جاتا تھا بلکہ اس کے ساتھ اگر کوئی چیز چھو جاتی تو وہ بھی ناپاک سمجھی جاتی تھی۔ سلسلہ در سلسلہ یہ نا پاکی متعدی ہوتی جاتی تھی۔ چناچہ تحریر ہے کہ : ” جو کوئی اسے چھوئے گا شام تک نجس رہے گا اور جو کوئی اس کے بستر کو چھوئے اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اور شام تک ناپاک رہے اگر مرد اس کے ساتھ سوتا ہے اور اس کی نجاست اس پر ہو تو وہ رات دن تک ناپاک رہے گا اور ہر ایک بستر جس پر وہ مرد سوئے گا ناپاک ہوجائے گا۔ “ (احبار 15 : 19 تا 24) یہ احکامات تو توریت کے ہیں باقی رہے فقہاء یہود وہ اپنے تشددات میں ان حدود سے بھی کہیں آگے بڑھ گئے ہیں اور ایسی ایسی قیدیں بیچاری عورت پر عائد کردی ہیں کہ گویا وہ کوئی عورت نہیں ہے وہ بلا ہے۔ (ملاحظہ ہو جیوش انسائیکلو پیڈیا جلد 11 ص 101 نیز ہسٹینگز کی ڈکشنری آف دی بائبل ج 4 ص 827)
Ayah 2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری بیویاں تمہارے لیے ایسی ہیں جیسے کاشت کی زمین پس جب چاہو اپنی زمین کاشت کرو اور اپنے لیے مستقبل کا سروسامان بھی کرو یاد رکھو کہ اس کے حضور بھی حاضر ہونا ہے اور ان کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں بشارت ہی بشارت ہے

ازدواجی زندگی کی ایک ضرورت افزائش نسل ہے : 379: مرد و عورت کے باہمی تعلقات و روابط میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا حقیقی مقصد نسل انسانی کی زیادتی اور اس کی نشونما ہے اس کے لئے قرآن کریم نے کھیتی کا بہترین لفظ استعمال کیا ہے جس سے ایک طرف تو یہ مقصد تھا کہ خاوند اور بیوی کے نازک تعلقات کو ایسے اشارات و کنایات میں بیان کیا جائے کہ ہر گھر میں مرد ، عورت ، لڑکے اور لڑکیاں ، چھوٹے اور بڑے اس کتاب کو پڑھ سکیں اور کسی کو حجاب نہ پیدا ہو یہ ایک ایسا عظم الشان معجزہ ہے جو دنیا میں قرآن کے سوا اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم یہ بھی چاہتا تھا کہ ان تعلقات کی حقیقی غرض وغایت بھی بیان کر دے۔ حیض کے ایام میں امراض خبیثہ اور مفاسد کا اندیشہ تھا اور ضرر و نقصان کی وجہ سے یہ غرض نہیں حاصل ہو سکتی تھی اس لئے پہلی آیت میں صحبت کی ممانعت کردی کہ گویا ابھی زمین قابل کاشت نہیں اگر بیچ ڈال دیا گیا تو اکارت جائے گا۔ پھر غور کرو کہ کھیت کا لفظ اپنے اندر کیا خوبی رکھتا ہے ۔ کھیت کہتے ہی اس موزوں زمین کو جس میں تخم ریزی ہوتی ہے اور اس میں ہر ضرورت کی چیز غلّہ نباتات کا نشو ونما ہوتا ہے۔ کھیت والے اسے اپنی بہت بڑی دولت سمجھ کر نہایت درجہ عزیز رکھتے ہیں اور اس سے خوب نفع حاصل کرتے ہیں۔ اسلام نے ہم بستری کا اصل مقصد طلب اولاد ہی کو رکھا ہے گو اس کی دوسرے پہلو بھی یعنی لذت نفسی کو بھی نظر انداز نہیں کیا اور اس تلمیح میں یہ اشارہ بھی کردیا کہ کھیت صرف اتنا حصہ ہی ہے جس میں بیچ کاشت ہو سکتا ہے باقی جو کچھ ہوگا وہ غیر فطری طریقہ ہے جس کی ممانعت بدستور باقی ہے۔ وقت اور حالات کے مطابق بیچ ڈالنا ہی فطری طریقہ کاشت ہے : 380: فرمایا پاک ہونے کے بعد جب اور جس طریق پر آرزو ہو اس کے قریب جاسکتے ہو کوئی شخص اپنی کھیتی کو برباد کرنا نہیں چاہتا ؕ۔ اصل غرض پیداوار ہوتی ہے ۔ کسان ایک قانون کے تحت خاص وقت میں بیچ بوتا ہے ہل چلاتا ہے اس کی آبیاری کرتا ہے اور وقت آنے پر فضل کاٹ لیتا ہے ایسے ہی ایک شخص تمام ان لغو و مہمل طریقوں کو یک قلم ترک کر دے جس سے انسانی نطفہ کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو اور شریعت کے قاعدے کے مطابق صحبت کرے تاکہ اولاد پیدا ہو۔ جو ان مقاصد کی تکمیل کرے جن کے لئے باپ کی زندگی وقف تھی۔ خداوند قدوس نے تمہیں ایک قانون نوازش کردیا ہے۔ اس کی پابندی کا خیال رہے یہود و نصاریٰ اور مجوس و مشرکین عرب کا دستور العمل تمہیں معلوم ہے۔ مسلمانوں کو خوش ہونا چاہئے کہ قانون اسلام میں ان تمام تکالیف و شدائد کا سدباب کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ ہرگز تنگی اور مصیبت ڈالنے کا آرزو مند نہیں۔ فرمایا ” اپنے حق میں آئندہ کے لئے کچھ کرتے رہو۔ “ آئندہ کے لئے کچھ بھیجنے کی چیز کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ عمل صالح ہو سکتے ہیں۔ یہ گویا اس کی تاکید ہے کہ عین لذات و التذاذ کے مشغلوں کے وقت بھی اپنی عبدیت اور اپنی ذمہ داری کو بھول نہ جائو تمام تر لذت پرستی ہی میں غرق نہ ہو جائو بلکہ ہو سکے تو اپنی لذت کو بھی عین طاقت و عبادت بنا لو ۔ ہر حال میں یاد رکھو کہ یہ دنیا کی رعنائیاں عارضی ہیں اور دنیا کی ساری لذتیں بھی عارضی ہیں۔ اس بات کو ذہن نشین کرلو گے تو عین موقعہ لذت پر بھی قدم نہیں ڈگمگائیں گے اور جس چیز کی اجازت دی جا رہی ہے اس سے غلط فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔
Ayah 2:224

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور ایسا نہ کرو کہ کسی کے ساتھ بھلائی کرنے یا پرہیزگاری کی راہ اختیار کرنے یا لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرا دینے کے خلاف قسمیں کھا کر اللہ کے نام کو نیکی سے بچ نکلنے کا بہانہ بنا لو ، یاد رکھو اللہ سننے والا جاننے والا ہے

نیک کاموں کے نہ کرنے کی قسم اٹھانا بذاتہ بری چیز ہے : 381: عرب جاہلیت کے جاہلانہ دستوروں میں سے ایک دستور یہ تھا کہ اللہ کی قسم کھا کھا کر یہ کہہ بیٹھتے تھے کہ ہم فلاں اور فلاں کام نیکی کا ، تقویٰ کا اور اصلاح خلق کا نہ کریں گے۔ اور جب کوئی کہتا تو یہی عذر پیش کردیتے کہ ہم تو اس کی قسم کھاچکے ہیں۔ ان اعمال خیر کا ترک یوں بھی ہر صورت میں مذموم تھا چہ جائیکہ حق جل شانہ ، کے اسم بزرگ اور اس کی قسم کو بجائے قرب حق کے اس کو دوری کا ذریعہ بنایا جائے۔ اسلام نے بلا ضرورت اور کثرت سے قسمیں کھاتے رہنے کو بھی ناپسند کیا ہے کہ اس میں اللہ کے نام کی تو قیری ہے چہ جائیکہ کہ قصداً جھوٹی قسمیں کھائی جائیں۔ انسان کو اپنی زندگی کے لئے کوئی ضابطہ حیات بنا لینا کوئی بری بات نہیں بلکہ زندگی کے لئے قانون بنانے کی اجازت دی گئی ہے مگر اس کے اصول اساسی اور مقاصد مہمہ کبھی نظر انداز نہ ہوں اور وہ یہ ہیں۔ الف) : بر و احسان : دوسروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ ب) : تقویٰ و طہارت : اپنے اندر اخلاق فاضلہ پیدا کرنا اور ورع و پاکیزگی سے آراستہ ہونا۔ ج) : اصلاح بین الناس : لوگوں میں اگر منازعات و مناقشات پیدا ہوں تو ان کا رفع و انسداد اور ان کو آپس میں صلح و آشتی سے رہنے کی تاکید کرنا۔ ایک مسلم زندگی کا اعظم ترین مقصد ِزندگی یہی ہیں اس لئے کوئی ایسا قانون یعنی ضابطہ نہ بنے جو ان کے مخالف ہو اور اگر کبھی اتفاقاً ایسا ہوجائے جس کا امکان بہر حال موجود ہے تو اس ضابطہ کو منسوخ کرنا ضروری ہوگا یعنی اگر ان کاموں کے نہ کرنے کی قسم کھالی تو قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا اور اس قسم بےجا کی خاطر قانون صحیح کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ اور قانون صحیح یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے ان کرنے کے کاموں کو زندگی میں کرتے ہی رہنا چاہئے۔
Ayah 2:225

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

تمہاری قسموں میں جو لغو اور بےمعنی قسمیں ہوں ان پر اللہ مواخذہ نہیں کرتا جو کچھ بھی پکڑ ہوگی وہ تو اسی بات پر ہوگی جو سمجھ بوجھ کر کی گئی ہو اور اللہ ہر حال میں بخشنے والا تحمل کرنے والا ہے

لا یعنی قسموں پر کوئی مواخذہ نہیں تاہم ایسی قسمیں کھانا اچھی عادت نہیں : 382: قسمیں کئی طرح کی ہوتی ہیں۔ 1: یمین لغو جو دو طرح کی ہیں۔ الف : کسی گزری ہوئی بات پر جھوٹی قسم بلا ارادہ زبان سے کھائی گئی۔ ب : قسم تو ارادہ سے کھائی گئی مگر گمان یہ تھا کہ جس بات پر قسم کھائی گئی ہے درست ہوگی۔ ان دونوں قسموں پر شریعت کوئی مواخذہ نہ کرے گی اور نہ ہی ان کا اعتبار ہوگا ۔ یہی قسمیں ہیں جن کے متعلق فرمایا ہے ” تمہاری قسموں میں جو لغو اور بےمعنی قسمیں ہوں ان پر اللہ مواخذہ نہیں کرتا۔ “ 2: منعقدہ قسمیں ۔ آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھائی جائے ۔ اگر اس نے قسم پر عمل کرلیا تو بہتر ورنہ ترک کرنے کی صورت میں کفارہ واجب ہوگا اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ : الف : ایک غلام آزاد کرے۔ ب : اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دس مساکین کو پیٹ بھر کر کھانا کھلادے۔ ج : یہ بھی نہ ہو سکے تو برابر تین دن کے روزے رکھے۔ 3: غموسی قسمیں۔ ارادۃً ایک معاملہ کے متعلق جھوٹی قسم کھائی اس کا گناہ اس قدر اشد ہے کہ محض کفارہ کافی نہیں بلکہ نہایت ہی الحاح اور تضرع کے ساتھ توبہ وانابت الی اللہ کرنی ہوگی۔ تب جا کر یہ ظلم عظیم معاف ہوگا۔ یہ قسمیں ہمیشہ ماضی سے تعلق رکھتی ہیں۔