2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:72

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور پھر جب تم نے ایک جان ہلاک [ کردی تھی اور اس کی نسبت تم آپس میں جھگڑتے اور ایک دوسرے پر الزام لگاتے تھے ، جس حقیقت کو تم چھپاتے تھے اللہ اس کو آشکارا کردینے والا تھا

بقیہ تفسیر پچھلی آیت کی۔ اور میرے نیچے یہ نہریں جاری ہیں کیا تم کو نظر نہیں آتا ؟ بلکہ میں اس سے بہتر ہوں جو حقیر ہے اور وہ صاف طور پر کلام بھی نہیں کرسکتا کیونکہ نہ اس کی طرف سونے کے کنگن ڈالے گئے یا اس کے جلو میں فرشتے جمع ہو کر آئے۔ اور جب ان پر عذاب کی سختی واقع ہوئی تو کہنے لگے اے موسیٰ ! تیرے رب نے تجھ سے جو عہد کیا ہے تو اس کی بنا پر ہمارے لئے دعا کر ، اگر تیری دعا سے عذاب ٹل گیا تو ضرور ہم تیرے معتقد ہوجائیں گے اور بنی اسرائیل کو چھوڑ دیں گے کہ وہ تیرے ساتھ چلے جائیں لیکن پھر جب ایسا ہوا کہ ہم نے ایک خاص وقت تک کیلئے انہیں اس وقت تک پہنچنا تھا عذاب ٹال دیا تو دیکھو انہوں نے کیا کیا ؟ کہ اچانک اپنی بات سے پھرگئے اور ہم نے ان کو عذاب میں گرفتار کرلیا تاکہ وہ باز آجائیں اور ہر بار وہ کہتے ہیں کہ اے جادوگر ! تو اپنے رب کے اس عہد کی بنا پر جو اس نے تم سے کر رکھا ہے ہمارے لئے دعا کر کہ ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا مانگی اے اللہ ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو اس دنیا کی زندگی میں زیب وزینت کی چیزیں اور مال و دولت کی شوکتیں بخشی ہیں تو اے اللہ ! یہ اس لیے ہے کہ تیری راہ سے لوگوں کو بھٹکائیں۔ اے اللہ ! ان کی دولت کو زائل کردے اور ان کے دلوں پر مہر لگادے کہ اس وقت یقین نہ کریں گے جب تک عذاب دردناک اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں اللہ نے فرمایا میں نے تم دونوں کی دعا قبول کی تو اب تم جم کر کھڑے ہوجائو اور ان لوگوں کی پیروی نہ کرو جو میرا طریق کار نہیں جانتے اور موسیٰ نے اپنی قوم کو کہا کہ اللہ سے مدد مانگو اور جمے رہو بلاشبہ زمین اللہ ہی کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق اس کا وارث بنا دیتا ہے اور انجام انہیں کیلئے جو متقی ہوں گے۔ انہوں نے کہا تمہارے آنے سے پہلے بھی تم ستائے گئے اور اب تمہارے آنے کے بعد بھی ستائے جا رہے ہیں موسیٰ نے کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں ملک میں اس کا جانشین بنائے پھر وہ دیکھے کہ اب تمہارے کام کیسے ہوتے ہیں ؟ اور پھر ہم نے موسیٰ پر وحی بھیجی تھی کہ میرے بندوں کو راتوں رات نکال لے جا پھر سمندر میں ان کے گزرنے کیلئے خشکی کی راہ نکال لے نہ تو تعاقب کرنے والوں کا اندیشہ ہوگا اور نہ اور کوئی خطرہ۔ اے موسیٰ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جا تمہارا تعاقب کیا جائے گا اور دریا کو ساکن چھوڑ دو اور نکل بھاگو فرعون اپنے لشکر سمیت ڈوب جائے گا اور اپنا عصہ سمندر پر مار پس وہ پھٹ جائے گا اور ہر ایک ٹکڑا مد کے بعد اس کا بڑے پہاڑ کی مانند ہوگا اور پھر ہم نے سمندر کا پانی اس طرح الگ الگ کردیا کہ تم بچ نکلے مگر فرعون کا گروہ غرق ہوگیا اور تم یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے چناچہ صبح ہوتے ہی وہ لوگ ان کے تعاقب میں چل نکلے پھر جب دونوں جماعتوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ تو میرا رب ہے۔ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ اس کا پیچھا کیا پس پانی کا ریلا جیسا کچھ ان پر چھانے والا تھا چھا گیا اور فرعون نے اپنی قوم پر راہ گم کردی اور انہیں سیدھی راہ نہیں دکھائی تھی اور ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے اور ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور اس طرح دوسرے فریق کو ہم نے اسی جگہ غرق کردیا۔ پھر ہم نے ان سے بدلہ لے لیا اور ہم نے ان کو سمندر میں ڈبو دیا ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور وہ قانون مکافات سے غافل تھے۔ پھر ہم نے فرعون کو پکڑا اور اس کے لشکر کو اور ان کو ہم نے سمندر میں ڈال دیا۔ یہ اس لئے کہ فرعون چاہتا تھا کہ ان کو زمین سے نکال دے پھر ہم نے اس کو ڈبو دیا اور ان سب کو بھی جو اس کے ساتھ تھے اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو کہا کہ رہو اس زمین میں ۔ پھر جب آئے گا آخرت کا وعدہ ، تو ہم تم کو لائیں گے تاکہ ان سے مل لو۔ ہم نے تمہارے سروں پر ابر کا سایہ پھیلا دیا اور من وسلویٰ کی غذا فراہم کردی اللہ نے تمہاری غذا کیلئے جو اچھی چیزیں مقرر کردی ہیں انہیں بافراغت کھاتے رہو کسی طرح کی تنگی محسوس نہ کرو پھر تم نے ہمارا کیا بگاڑا ؟ خود اپنا ہی نقصان کرتے رہے اور ہم نے تم پر من وسلویٰ نازل کیا تاکہ تم پاکیزہ رزق کھاؤ اور زیادتی مت کرو کہ میرا غصہ تم پر نازل ہوگا اور جس پر میرا غصہ نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا اور جدا کردیئے ہم نے بنی اسرائیل کے بارہ گروہ الگ الگ اور ہم نے موسیٰ پر وحی کی جب کہ اس کی قوم نے پانی طلب کیا کہ چل اپنی لاٹھی کے سہارے اس چٹان پر اس سے بہتے ہیں یعنی پھوٹ نکلے ہیں بارہ چشمے اور ان میں ہر ایک گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ پہچان لیا۔ کھاؤ اور پیو اللہ کے دیئے ہوئے رزق سے اور زمین پر مفسد ہو کر نافرمانی مت کرو اور جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ! ہم ایک کھانے پر صبر نہیں کرسکتے پس تو اپنے رب سے مانگ کہ ہمارے لیے وہ چیزیں نکالے جو زمین اگاتی ہے یعنی ترکاری ، ککڑی اور گیہوں ، مسور ، پیاز اور لہسن۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تم بدلنا چاہتے ہو اعلیٰ کو ادنیٰ سے اگر ایسا ہی ہے تو تم کسی شہر میں اترو ، وہاں تم کو وہ سب کچھ ملے گا جو تم کو مطلوب ہے ، اور ہمارے حکم سے بنی اسرائیل سمندر پار اتر گئے وہاں ان کا گزر ایک گروہ پر ہوا کہ وہ اپنے بتوں پر مجاور بنا بیٹھا تھا۔ بنی اسرائیل نے کہا کہ اے موسیٰ ! ہمارے لئے بھی ایسا ہی ایک معبود بنا دے جیسا کہ ان لوگوں کیلئے ہے۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بلاشبہ ایک جاہل گروہ ہو یہ لوگ جس طریقہ پر چل رہے ہیں وہ تو تباہ ہونے والا طریقہ ہے اور جو عمل انہوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ یک قلم باطل ہے ، اور پھر جب ایک شہر کی آبادی تمہارے سامنے تھی ہم نے کہا کہ اس آبادی میں داخل ہوجائو اور کھاؤ پیو ، آرام و چین کی زندگی بسر کرو لیکن جب شہر میں داخل ہونے لگو تو تمہارے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہوں اور تمہاری زبانوں پر کلمہ استغفار جاری ہو اللہ تمہاری خطائیں معاف کردے گا وہ نیک کردار انسانوں کے اعمال میں برکت دیتا ہے اور ان کے اجر میں اضافہ ہوتا ہے اور پھر تم نے جن کی راہ ظلم و شرارت کی راہ تھی ، اللہ کی بتائی ہوئی بات ایک دوسری بات سے بدل ڈالی ، نتیجہ کیا نکلا ؟ کہ ظلم و شرارت کرنے والوں پر ہم نے آسمانوں سے عذاب نازل کیا اور یہ گویا ان کی نافرمانی کی سزا تھی کیونکہ وہ ظالم تھے اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر آیا اور اس کے رب نے اس سے بات کی تو موسیٰ نے کہا کہ اے رب ! مجھے اپنی زیارت کرادے جواب ملا کہ تو مجھے دیکھ نہیں سکے گا ہاں ! تو اس پہاڑ کو دیکھ اگر وہ اپنی جگہ پر قائم رہا تو تو مجھے دیکھ سکے گا لیکن جب اس کے رب نے پہاڑ کی تجلی کی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرا پھر جب اس کو ہوش آیاتو کہنے لگا۔ کہ تو پاک ہے اے اللہ ! میں توبہ کرتا ہوں تیرے سامنے اور میں پہلا ایمان لانے والا ہوں اللہ نے کہا اے موسیٰ ! میں نے تجھ کو باقی لوگوں پر چن لیا اپنی رسالت اور ہمکلامی کے لئے ، پھر جو میں تجھ کو دیتا ہوں اس کو لے کر شکر کرنے والوں میں سے ہوگا۔ اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ! ہم تجھ پر ایمان نہ لائیں گے جب تک تو علانیہ ہم کو اللہ نہ دکھادے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ہمارے پاس حاضر ہونے کیلئے اپنی قوم میں سے ستّر آدمی چھانٹے پھر تم کو بجلی کی کڑک نے پکڑ لیا اور یہ سب کچھ تم دیکھتے تھے پھر ہم نے تمہارے بیہوش ہونے کے بعد اٹھایا کہ ہوش میں آؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو پھر جب ان کو ایک کپکپاہٹ نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا اے رب ! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی ان کو اور مجھ کو بھی مار ڈالتا اور جب ہم نے تم سے ایک عہد لیا جب کہ تم پر پہاڑ کو بلند کیا ہوا تھا کہ اس عہد کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو شاید کہ تم بچ سکو اور جب ہم نے ان پر اس پہاڑ کو بلند کیا گویا وہ سائبان تھا یعنی ان کے سروں پر ، اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ ان پر گرا کہ گرا۔ مضبوطی سے پکڑو جو ہم نے تم کو دیا ہے پھر وہ وقت کہ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ آپ نے اتنی جلدی کیوں کی اپنی قوم سے نکلنے کی ؟ کہا کہ وہ میرے پیچھے ہیں اور میں تیرے پاس جلدی آیا ہوں تاکہ اے اللہ ! تو مجھ سے راضی ہوجائے اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا اور پھر اس کو مزید دس سے پورا کیا اس طرح موسیٰ کے رب کی مقررہ میعاد پوری ہوگئی یعنی چالیس رات کی اور ایسا ہوا کہ موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تو میری قوم میں خلافت کا کام سر انجام دے اور ان کی اصلاح کر اور مفسدین کی پیروی مت کر۔ پھر قوم موسیٰ نے اس کی غیر حاضری میں زیور سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا۔ جس میں سے آواز نکلتی تھی اللہ نے موسیٰ سے کہا کہ ہم نے تیرے بعد تیری قوم کو آزمایا اور وہ فیل ہوگئی اور سامری نے ان کو گمراہ کردیا اس طرح کہ سامری نے ان کیلئے بچھڑے کا پتلا بنایا جس میں سے آواز نکلتی تھی وہ بولے کہ یہ ہمارا رب ہے اور موسیٰ کا بھی ، موسیٰ تو بھول گیا ہے کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ان کی بات کا کوئی جواب نہیں دیتا اور نہ ان کے نفع و نقصان ہی کا مالک ہے اور ہارون نے تو ان کو پہلے ہی سے کہا تھا کہ اے قوم ! تم اس کے سبب فتنہ میں ڈالے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب رحم کرنے والا ہے۔ میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو انہوں نے کہا کہ ہم تو اسی پر بیٹھیں گے جب تک کہ موسیٰ لوٹ کر نہ آئے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) قوم کی طرف لوٹ آیا غصہ میں بھرا ہوا ، افسوس کرتا ہوا۔ پھر موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم نے یہ بچھڑا بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا اب توبہ کرو ، اپنے رب کے سامنے اور گوسالہ پرستی کے بدلے اپنی جانوں کو قتل کرو۔ اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے تمہارے رب کے ہاں۔ بلاشبہ جن لوگوں نے بچھڑا بنایا قریب ہے کہ ان کے رب کا غصہ ان تک پہنچے گا اور اس دنیا کی زندگی میں بھی وہ ذلیل ہوں گے۔ موسیٰ نے کہا اے میری قوم ! کیا تم سے اللہ نے وعدہ نہیں کیا تھا ایک نہایت ہی اچھا وعدہ ، کیا تم پر کوئی لمبا زمانہ گزر گیا تھا ؟ تم نے چاہا کہ تم پر اللہ کا غصہ اور غصب نازل ہو ؟ تم نے میرے وعدہ کے خلاف کیا۔ موسیٰ نے کہا کہ بہت ہی برا کیا تم نے میرے بعد ، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے اور پھینک دیا الواح توریت کو اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ لئے اور کھینچا اپنی طرف۔ اس نے کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے ، ان لوگوں نے مجھے کمزور جانا تھا اور مجھ کو مار ڈالنا چاہتے تھے آپ میرے دشمنوں کو مت خوش کریں اور مجھے ان ظالموں کے ساتھ مت شمار فرما۔ مجھے یہ بھی خوف تھا کہ تو کہے گا کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی اور انتظار نہ کیا میری بات کا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اپنے اختیار سے تیرے وعدہ کے خلاف نہیں کیا بلکہ ہم قوم کے زیور کا بوجھ اٹھا رہے تھے پھر ہم نے اس کو پھینک دیا اور اس طرح سامری نے ایک بچھڑے کی مورت بنائی۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے سامری ! تیرا کیا حال ہے اس نے جواب دیا میں نے وہ بات دیکھ لی جو اوروں نے نہیں دیکھی اس لئے رسول کی پیروی میں یہی کچھ حصہ لیا تھا پھر چھوڑ دیا۔ پس میرے جی نے ایسی ہی بات مجھے سمجھائی۔ موسیٰ نے کہا اگر ایسا ہے تو پھر جا زندگی میں تیرے لئے یہ ہونا ہے کہ کہے میں اچھوت ہوں اور آخرت میں ایک وعدہ ایسا ہے جو کبھی ٹلنے والا نہیں اور دیکھ تیرے بنائے ہوئے معبود کے ساتھ کیا ہوتا ہے جس کی پوجا پر جم کر بیٹھ گیا تھا ہم اسے جلا کر راکھ کردیں گے اور پھر راکھ سمندر میں بہا دی جائے گی۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ تھما تو اس نے الواح کو اٹھا لیا اور اس میں ان کیلئے ہدایت اور رحمت تھی جو ڈرتے ہیں۔ پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جو لوگ نیکی کرنے والے ہیں ان پر نعمت پوری کرنے کو اور ہر ایک چیز کی تفصیل بتانے کو اور ہدایت اور رحمت کرنے کو ، کہ شاید وہ اپنے رب سے ملنے پر ایمان لے آئیں اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا اور ان میں سے بارہ سردار کھڑے کئے اور اللہ نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو گے اور تم ایمان لائو گے میرے رسولوں پر اور تم مدد کرتے رہو گے ان کی اور تم قرض دیتے رہو گے اللہ کو ، قرض اچھا۔ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ ایک گائے کو ذبح کرو۔ تم نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمارے ساتھ مسخری کرتے ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا نعوذ باللہ اگر میں جاہلوں کا ساتھ اختیار کروں۔ یہ سن کر وہ بولے کہ تم اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ کھول کر بیان کردے کس طرح کا جانور ذبح کرنا چاہیے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ کا حکم یہ ہے کہ ایسی گائے ہو کہ نہ تو بالکل بوڑھی ہو اور نہ بالکل بچھیا درمیان عمر کی ہو اور اب چاہیے کہ اس کی تعمیل کرو وہ کہنے لگے کہ اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ بتائے اس کا رنگ کیسا ہے ؟ موسیٰ نے کہا کہ وہ کہتا ہے اس کا رنگ پیلا ہو اور خوب گہرا پیلا ہو ایسا کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہوجائے وہ کہنے لگے کہ ابھی ہمارے لئے جانور کی پہچان مشکل ہے۔ اپنے رب سے کہو کہ وہ بتلائے کہ جانور کیسا ہونا چاہیے ان شاء اللہ ہم ضرور پتا لگالیں گے اس پر موسیٰ نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ ایسی گائے ہو جو نہ تو کبھی ہل میں جوتی گئی ہو اور نہ آبپاشی کے لئے کام میں لائی گئی ہو۔ پوری طرح صحیح سالم اور داغ دھبے سے پاک و صاف ہو۔ اس طرح جب وہ لاجواب ہوگئے تو کہنے لگے ہاں ! اب تم نے ٹھیک ٹھیک بات بتادی اور جانور ذبح کردیا گیا اگرچہ اس پر وہ آمادہ نظر نہیں آتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! مقدس سر زمین میں جسے اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے داخل ہوجاؤ اور الٹے پاؤں پیچھے کی طرف نہ ہٹو کہ نقصان و تباہی میں پڑجاؤ گے۔ لوگوں نے کہا اے موسیٰ ! اس سرزمین میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو بڑے ہی زبردست ہیں جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں ہم اس زمین میں قدم رکھنے والے نہیں۔ ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم داخل ہوجائیں گے۔ اس پر دو آدمیوں نے کہا جو اللہ سے ڈرنے والے تھے کہ اللہ نے ان کو ایمان کی نعمت عطا فرمائی تھی لوگوں سے کہا کہ تم ہمت کر کے ان لوگوں پر جا پڑو اور دروازے میں سے جا داخل ہو اگر تم داخل ہوگئے تو پھر غلبہ تمہارے ہی لئے ہے اگر تم ایمان رکھنے والے ہو تو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کرو۔ وہ بولے اے موسیٰ ! جب تک وہ لوگ موجود ہیں ہم کبھی اس میں داخل ہونے والے نہیں تو خود چلے جاؤ اور تمہارا اللہ بھی تمہارے ساتھ چلا جائے تو ہم یہاں بیٹھے رہیں گے۔ تم دونوں وہاں لڑتے رہنا۔ موسیٰ نے کہا اے میرے اللہ ! میں اپنی جان کے سوا اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا پس تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں فیصلہ فرما دے حکم الٰہی ہوا کہ اب چالیس برس تک وہ سرزمین ان پر حرام کردی گئی۔ یہ اس بیابان میں سرگرداں رہیں گے۔ سو تم اے موسیٰ ! نافرمان لوگوں کی حالت پر غمگین نہ ہو وہ اپنی بد عملیوں سے اس محرومی کے مستحق ہوئے۔ بنی اسرائیل کے ایک واقعہ قتل کا قضیہ : 147: اس واقعہ کا پہلے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گائے کے ذبح کرنے کا واقعہ ختم ہوچکا ، یہ الگ واقعہ ہے جیسے پیچھے سے بنی اسرائیل کے بہت سے واقعات بیان ہوتے چلے آرہے ہیں۔ جس طرح فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کا واقعہ۔ سمندر سے بخیریت پار گزرنے کا واقعہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے کا واقعہ۔ بنی اسرائیل کا پانی طلب کرنے کا واقعہ ، شہر میں داخل ہونے سے انکار کرنے کا واقعہ ، بچھڑے کی پرستش کا واقعہ ، گائے کے ذبح کرنے کا واقعہ اور اسی طرح ایک مقتول کے قاتل معلوم کرنے کا واقعہ۔ بنی اسرائیل میں ایک شخص قتل ہوگیا اور قاتل معلوم نہ تھا۔ مقتول کے ورثاء کا مطالبہ تھا کہ قاتل کا پتہ چلے انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اس واقعہ کا پتہ چلنا چاہیے اور خصوصاً مقتول کے ورثاء نے یہ اپیل کی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات ڈالی کہ سب لوگ موجود ہیں اور ظاہر ہے کہ قاتل بھی انہیں میں ہوگا اگر یہ تدبیر کی جائے تو قاتل ظاہر ہوجائے گا۔ ان کو کہا گیا کہ آپ کے لئے لازم ہے کہ مقتول کے بعض اعضاء بعض سے لگائے جائیں تو قاتل معلوم ہوجائے گا کیونکہ جو لوگ قاتل نہیں ہیں وہ بسبب یقین اپنی بےجرمی کے ایسا کرنے میں کچھ خوف نہ کریں گے مگر اصل قاتل بہ سبب خوف اپنے جرم کے جو ازروئے فطرت انسانی کے دل میں اور وہ بھی بالتخصیص جہالت کے زمانہ میں اس قسم کی باتوں سے ہوتا ہے ، ایسا نہیں کریں گے اور اس وقت دیکھنے والے کو معلوم ہوجائے گا اور اس طرح وہی نشانیاں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رکھی ہوئی ہیں لوگوں کو دکھا دے گا۔ اس قسم کے واقعات سے اس زمانہ میں بھی بہت سے چور معلوم ہوجاتے ہیں بلکہ انٹیلی جینس و انویسٹی گیش کے خفیہ محکموں کے ہاں اس قسم کی بیسیوں مثالیں آج بھی موجود ہیں یہ ایک مکمل علم قرار پا گیا ہے جس کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے اور ایسے ایسے پوشیدہ واقعات روز روشن کی طرح واضح دکھا دیئے جاتے ہیں ، ہوتا یہی ہے کہ وہ بسبب خوف اپنے جرم کے ایسا کام جو دوسرے لوگ بلاخوف بہ تقویت اپنی بےجرمی کے کرتے ہیں نہیں کرسکتے۔ پس یہ ایک تدبیر قاتل کے معلوم کرنے کی تھی اور اس سے زیادہ اور کچھ نہ تھا اس کو کہتے ہیں کہ : ” چور کی داڑھی میں تنکا “۔ لیکن ہمارے مفسرین نے ان آیتوں کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ گائے کے ذبح کرنے اور ایک شخص کے قتل ہوجانے کا ایک ہی قصہ ہے اور پچھلی آیتوں میں جو بیان ہوا ہے وہ باعتبار و قوع کے مقدم ہے اور قصہ یوں قرار دیا ہے کہ بنی اسرائیل نے ایک شخ کو قتل کیا تھا اس کا قاتل معلوم کرنے کے لئے اللہ نے گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا اور یہ کہا کہ اس مذبوح گائے کے اعضا سے مقتول کو مارو۔ ان کے مارنے سے مقتول زندہ ہوگیا اور اس نے اپنے قاتل کو بتادیا۔ آپ غور کریں کہ اس طرح کی تفسیر کرنے کے لئے کیا کچھ اپنے پاس سے ان لوگوں کو بنانا یا لگاناپڑا۔ سب سے پہلے تو ایک قصہ گھڑا جس کا کوئی ذکر نہ قرآن کریم میں تھا اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ نہ ہی توارت میں جو یہودیوں کی پچھلی تمام حرکتوں کو ایک ایک کر کے بیان کرتی آرہی ہے۔ وہ قصہ اس طرح بنایا گیا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص بہت بڑا مالدار تھا اس کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی صرف ایک لڑکی تھی اور ایک بھتیجا تھا۔ بھتیجے نے جب دیکھا کہ بوڑھا مرتا ہی نہیں تو اس نے ورثہ کی دھن میں یہ سوچا کہ اسے کیوں نہ مار ڈالوں ؟ تاکہ اس لڑکی نے نکاح بھی کرلوں اور قتل کی تہمت دوسروں پر رکھ کر دیت بھی وصول کروں اور مقتول کے مال کا مالک بھی بن جاؤں۔ اس خیال پر وہ پختہ ہوگیا اور ایک دن موقع پا کر اپنے چچا کو قتل کر ڈالا۔ بنی اسرائیل کے بھلے لوگ ایسے جھگڑوں بکھیڑوں سے تنگ آ کر ان لوگوں سے بالکل الگ تھلگ ایک شہر میں رہتے تھے شام کو اپنے قلعہ کا پھاٹک بند کردیا کرتے تھے اور صبح کھولتے تھے کسی مجرم کو اپنے ہاں گھسنے بھی نہیں دیتے تھے۔ اس بھتیجے نے اپنے اس چچا کی لاش کو لے جا کر اس قلعہ کے پھاٹک کے سامنے ڈال دیا اور یہاں آ کر اپنے چچا کو ڈھونڈنے لگا۔ پھر ہائی دھائی مچائی کہ میرے چچا کو کسی نے مار ڈالا اور ان قلعہ والوں پر تہمت رکھی ان سے دیت کا روپیہ طلب کرنے لگا۔ انہوں نے اس قتل سے اور اس کے علم سے بالکل انکار کیا۔ لیکن یہ شخص ان کے سر ہوگیا۔ یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں کو لے کر ان سے لڑائی کرنے پر تل گیا یہ لوگ عاجز آکر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور واقعہ عرض کیا کہ اے موسیٰ ! یہ شخص خواہ مخواہ ہم پر ایک قتل کی تہمت لگا رہا ہے حالانکہ ہم بری الذمہ ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اللہ نے وحی کی کہ ایک گائے ذبح کرلو اس کے بعد وہ واقعہ پیش آیا جو پہلے لکھا گیا۔ یہ پوری کہانی اپنے پاس سے بنائی گئی حالانکہ اس کا ذکر تک موجود نہیں قرآن کریم ، حدیث رسول ﷺ اور تورات کے کسی مجموعہ میں ، لیکن چونکہ اس وقت ہر مکتبہ فکر کی تفسیر میں موجود ہے لہٰذا اس گھڑی ہوئی بات کا انکار بھی اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ کسی صحیح واقعہ کا۔ دوسری بات یہ ہوئی کہ پچھلی آیتوں کو مقدم کرنے اور مقدم کو مؤخر کرنے کا اور پھر دونوں الگ الگ واقعات کو ایک کرنے کا تکلف خواہ مخواہ برداشت کیا گیا جس کا اشارہ تک بھی قرآن کریم کے کسی لفظ یا حدیث صحیح میں نہیں تھا۔ تیسری بات یہ کہ : كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى کے معنی جب ہی مربوط ہوتے ہیں کہ اس سے پہلے یہ جملہ مقدر تسلیم کیا جائے۔ کہفَاَحْیَا (فَاَحبَاہُ ) اللّٰهُ کہ اس مقتول کو اللہ نے زندہ کیا اس نے قاتل کا پتہ بتایا۔ یہ عبارت اپنی طرف سے بغیر کسی وجہ کے لگانی پڑی جو بغیر کسی اشارہ صریح کے اس کا مقدر ماننا قرآن کریم پر اضافہ کرنا ہے۔ چوتھی یہ بات کہ : کَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى سے مراد احیاء اموات جو بروز بعث و نشر ہوگا۔ اس جگہ اس بحث کا حال بیان کیا گیا مانا جائے جس کا کوئی یہاں امکان نہیں ہے کیونکہ اس مباحثہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ قیامت کو بعث و نشر ہوگا یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن یہاں اس کا کوئی تعلق ؟ اور بعث و نشر کا موضوع خواہ مخواہ چھیڑنے کا کوئی مطلب ؟ جس کا نہ تو یہاں کوئی انکار ہے اور نہ ہی ان آیات سے پہلے یا بعد کوئی ایسا تذکرہ موجود ہے۔ بالکل سیدھا اور صاف مطلب جو ان آیات کریمات میں بیان کیا گیا ہے جس میں نہ آیتوں کی ترتیب الٹنے کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی جملہ بغیر کسی نقل و سند کے اپنی طرف سے بڑھانے کی کوئی ضرورت و حاجت ہے۔ اور جو بالکل صاف صاف قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اس کو چھوڑ کر وہم پرستی کے شوق میں ادھر ادھر ہاتھ مارنے کی آخر ضرورت کیا ہے ؟
Ayah 2:73

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

پھر ہم نے کہا کہ اس مقتول کو اسی [ کے بعض اعضاء سے مارو ، اسی طرح اللہ زندہ کر دے گا مرے ہوؤں کو اور اللہ اپنی نشایاں تم کو دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو

حکمت الٰہی کی کرشمہ سازی : 148: ہاں : ” اضْرِبُوْهُ “ میں ضمیر مذکر کی ہے اور ” بِبَعْضِهَا 1ؕ “ میں ضمیر مونث کی ، اور دونوں کا مرجع ہم نے مقتول ٹھہرایا ہے یہ کیوں ہے ؟ سو جن لوگوں نے اس سے گائے کا کوئی حصہ مقتول کے کسی حصہ سے مارنے کا لکھا ہے ان کے لئے بھی یہ مشکل ایسی ہی ہے جو اس کا حل ہے وہی حل اس کا بھی ہوگا۔ کیونکہ ” نفس “ بھی مونث ہے اور گائے بھی مونث ہی بیان کی گئی ہے۔ حالانکہ قرآن مجید میں اس کی مثالیں بہت مل جاتی ہیں یہ صرف ایک ذہنی اختراع ہے اس کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور قرآن مجید کے قاری کو ان بحثوں میں جن کا کوئی سر پیر نہ ہو ، الجھنا ہی نہیں چاہئے۔ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ : كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ0014 (17 : 14) السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا 0063 (33 : 63) لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ 0017 (42 : 17) اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ (7 : 56) وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ 004 (66 : 4) وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِیْقًاؕ0069 (4 : 69) اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ۠ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ 0017 (50 : 17) ان سب جگہوں پر اس طرح نہیں کہا گیا اور نہ ہی کوئی اعتراض منقول ہے کہ یہاں حَسِیْبَۃً ، قَرِیْبَۃ ، ظَهْیَرآءَ ، رُفَقَاءَ ، قَعِیْدَانِہونا چاہیے ۔ اسی طرح اس جگہ بھی ” اضْرِبُوْهُ “ کی ضمیر مذکر پر کوئی اعتراض نہیں کہ وہ ” نفس “ کی طرف یعنی جو مقتول ہے اس کی طرف نہیں پھرے گی۔ کیوں نہیں ؟ پھرکَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى سے جو اس جگہ مراد ہے وہ بالکل واضح اور عیاں ہے اس سے خواہ مخواہ روز قیامت کے بعث و نشر سے کیا واسطہ ہے جب ضرورت اس جگہ ایک مقتول کے قاتل کی ہے جو اس وقت باعث نزاع ہے۔ جس کا یہ مفہوم یہاں بالکل صاف ہے کہ ” نامعلوم قاتل معلوم ہوگیا “ یعنی ” اس طرح اللہ نے نامعلوم قاتل کو معلوم کرادیا “ یہ معنی بالکل وہی ہیں جو خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائے ہیں جہاں فرمایا : وَ کُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ 1ۚ یعنی تم معدود ، غیر موجود یا نامعلوم تھے پس تم کو عدم سے وجود عطا کیا ” معلوم کرایا “ ” زندہ کیا “ اور پھر اس کی وضاحت اس طرح بھی ہوگئی کہ ” ہَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْـًٔا مَّذْكُوْرًا 001 “ ہر انسان پر ایک ایسا وقت تھا کہ وہ زمانہ میں کوئی ذکر کی گئی شے نہیں تھا ، کتنی صاف بات ہے کہ ” تمہارا کسی کو معلوم نہیں تھا اور نہ ہی تم خود جانتے تھے “ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے تم کو انسان کی صورت عطا فرما کر اس دنیا میں موجود ہوجانے کا حکم دیا۔ لیکن افسوس ہے کہ ہمارے مفسرین نے اس مذبوح گائے کے بعض حصے کو اس مقتول کے بعض حصے سے مارنے کا واقعہ لکھ دیا ، ایسا کیوں ہوا ؟ زیادہ گہرائی میں اتر کر دیکھنے والوں کی نگاہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس واقعہ کی اصل نوعیت بدل دو لہٰذا انہوں نے اس کی اصل نوعیت بدلوادی اور اس طرح سے اپنا مطلب سیدھا کرلیا لیکن مسلم قوم کے مفسرین نہ سمجھ سکے کہ ہم کیا لکھ رہے ہیں ؟ اس طرح تو گویا اس گائے کی بزرگی روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ دیکھو ہم نے جو گائے کی پرستش کی اور گائے کو ماتا کا خطاب دیا اور اس کو متبرک جانا تو وہ بالکل صحیح نکلا کہ گائے کا ٹکڑا مقتول سے مس ہونا تھا کہ مقتول زندہ ہوگیا جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ گائے فی الواقعہ ایک متبرک جانور ہے جو قابل پرستش ہے تب ہی تو اس کے صرف چھونے سے زندگی واپس لوٹ آئی۔ قوم مسلم کے علمائے کرام کو غور کرنا چاہئے کہ وہ کس سادگی سے یہود کی چالاکی کا شکار ہوگئے۔ فافھم و فتدبر قرآن کریم کی عبارت پر پھر غور کرو قرآن کریم نے کیا فرمایا : وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ0072 اس آیت میں مُخْرِجٌ تھا جس کے مقابلہ میں اللہ نے یُحْیِ اللّٰهُ فرمایا اور اس جگہ تَكْتُمُوْنَۚ0072 تھا جس کے مقابلہ میں اللہ نے الْمَوْتٰىکا لفظ فرمایا۔ جس سے پوری وضاحت ہوگئی کہ یُحْیِ اللّٰهُ سے ظاہر ہونا قاتل کا اور الْمَوْتٰى سے نامعلوم یا غیر ظاہر ہونا قاتل کا مراد ہے نہ کہ مقتول کا زندہ ہونا۔ سبحان اللہ ! کہ اللہ اپنی قدرت اور اپنی حکمت کو انہیں باتوں میں جو انسان روزمرہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں ظاہر کرتا ہے مگر انسان کا خیال اس پر قناعت نہیں کرتا اور دور از کار باتوں کو پسند کرتا ہے ۔ افسوس کہ انسانی زندگی کے لئے کتنی رہنمائیاں تھیں جو صرف ایک واقعہ سے عیاں ہوتی تھیں اور کتنے وہ علوم ہیں جن کی بنیاد صرف اور صرف یہ واقعہ ہو سکتا تھا لیکن دوستوں نے ایسا اعجازی رنگ اس میں بھرا کہ وہ گویا ایک واقعہ تھا جو ہوگیا اور اب ہمارے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ واعظانہ رنگ کی چاشنی پائیں اور سر دھن کر رہ جائیں یا کسی مردہ کو بخشوانے کے لئے اس کی تلاوت کا ثواب جمع کریں۔ اس واقعہ قتل سے کوئی خاص اور اہم قوی قتل بھی مراد ہو سکتا ہے جیسے انبیاء کرام کے قتل کی بیماری بنی اسرائیل میں موجود تھی جس کا ذکر بھی اوپر کی آیات کریمات میں آچکا۔ لہٰذا کوئی مفسر اگر اس کی تحقیق میں کسی نبی کے قتل کی نشادہی کرسکیں تو وہ بھی صحیح ہو سکتی ہے اور اس سے بھی ان سب حقیقتوں کی وضاحت ہو سکتی ہے جو اس واقعہ کا اندر پوشیدہ ہیں۔ اللھم ذرفزر
Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر تمہارے دل سخت پڑگئے ایسے سخت گویا پتھر کی چٹانیں ہیں بلکہ پتھر سے بھی سخت کیونکہ پتھروں میں سے تو بعض پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور پتھروں میں ایسی چٹانیں بھی ہیں جو شق ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہیں اور ان میں سے پانی اپنی راہ نکال لیتا ہے اور پھر انہی میں ایسی چٹانیں بھی ہیں جو خوف الٰہی سے لرز کر گر پڑتی ہیں اور یاد رکھو کہ قانون الٰہی تمہارے کرتوتوں کی طرف سے غافل نہیں ہے

راز افشا کرنے والے کے ساتھ دشمنی مزید بڑھ جاتی ہے : 149: بنی اسرائیل کے بعض لوگ جس چیز کو چھپا بیٹھے تھے وہ کب چاہتے تھے کہ ہمارا چھپا ہوا راز افشاء ہو لیکن وحی الٰہی نے اس کا جب پردہ چاک کردیا اور قاتل تدبیر الٰہی سے ظاہر ہوگیا تو اب قاتل اور قاتل کے تمام ساتھی موسیٰ (علیہ السلام) سے بگڑ گئے اور انہوں نے بجائے اس کے جب حق کھل کر سامنے آگیا تھا۔ اس کو دل سے قبول کر کے قاتل کو سزا دے کر اس قضیہ کے حل ہوجانے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرتے وہ اندر ہی اندر موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں کرنے لگے ان کی اس حالت کا بیان اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا کہ ” تم عجیب لوگ ہو کہ حق واضح ہوجانے کے بعد تمہارے دل مزید سخت ہوگئے ایسے جیسے پتھر گویا تمہارے دل دل نہیں رہے پتھر کے ٹکڑے ہوگئے نہیں بلکہ اس سے بھی سخت۔ اس لئے کہ جو چیز تمہاری نرمی کا باعث ہونا چاہئے تھی وہ تمہاری سختی کا باعث ہوگئی ۔ “ جو چیز اس فتنہ اور فساد کے خاتمہ کے لئے ظاہری کی گئی جو بنی اسرائیل کے درمیان کھڑا ہوگیا تھا لیکن اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ فتنہ دبانا نہیں بلکہ پھیلانا چاہتے تھے۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو قاتل اور اس کی پارٹی کی اصل حقیقت واضح فرما دی اور دوسری طرف موسیٰ (علیہ السلام) کے دل کی ڈھارس بھی بندھا دی کہ یہ لوگ اگر پتھر دل ہوچکے ہیں تو ہوا کریں آپ اپنا فرض تبلیغ جاری رکھیں اس لئے کہ جس طرح پتھروں میں سے بعض پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے چشمے جاری ہوتے ہیں بالکل اسی طرح ان پتھر دلوں ہی میں سے قانون الٰہی کے مطابق آپ کے جانثار بھی پیدا ہو جائی گے اور ” جب تک سانس تب تک آس “ کے محاورہ کے مطابق آپ کو مایوس نہیں ہونا چاہئے کہ انہی ڈاکوؤں ، رہزنوں اور قزاقوں کے اندر ہی رہنما اور ان فتنوں کے دبانے والے اور اس بھڑکتی آگ کو بجھانے والے موجود ہوں گے۔ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اس گمراہی کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ دیکھو تم ایسا نہ کرنا۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے : اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ 1ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ 1ؕ وَ کَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ 0016 (الحدید 57 : 16) ” کیا ایمان والوں کیلئے اسکا وقت نہیں آیا کہ انکے دِل اللہ کو یاد کرنے کے وقت اور جو حق کی طرف سے نازل ہوا ہے اسکے سامنے ڈر جائیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے قبل کتاب ملی تھی پھر ان پر ایک زمانہ گزرتا گیا پھر انکے دِل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ “ جب یہود کی قساوت قلب کا ذکر ہوا تو اس سے بھی پوری قوم مراد نہ تھی بلکہ یہودی قوم میں وہ گروہ مراد تھا جو یہودیت اختیار کر کے من حیث القوم تو یہودی تھے لیکن قساوت قلب کا مرتکب ایک خاص گروہ تھا۔ اس طرح اس حوالہ کی آیت میں بھی جو سورة الحدید کی آیت ہے ، میں مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن اس سے مراد مسلمانوں کا خاص گروہ ہے جو ایمان کا اقرار کر کے رسول اللہ ﷺ کے ماننے والوں میں شامل ہوگیا تھا اور اس کے باوجود اسلام کے درد سے اس کا دل خالی تھا۔ آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ کفر کی تمام طاقتیں اسلام کو مٹانے پر تلی ہوئی ہیں چاروں طرف سے انہوں نے اہل ایمان کی مٹھی بھر جماعت پر نرغہ کر رکھا تھا۔ عرب کی سرزمین میں جگہ جگہ مسلمان تختہ مشق ستم بنائے جا رہے تھے۔ ملک کے گوشے گوشے سے مظلوم مسلمان سخت بےسروسمانی کی حالت میں پناہ لینے کے لئے مدینے کی طرف بھاگے چلے آ رہے تھے ، مخلص مسلمانوں کی کمر ان مظلوموں کی سہارا دیتے دیتے ٹوٹی جا رہی تھی اور دشمنوں کے مقابلے میں بھی یہی مخلص مؤمن سربکف تھے مگر یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ایمان کا دعویٰ کرنے والا یہ گروہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ اس پر ان لوگوں کو شرم دلائی جارہی ہے کہ تم کیسے ایمان والے ہو ؟ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کا ذکر سن کر تمہارے دل پگھلیں او اس کے دین کے لئے تمہارے دلوں میں ایثار قربانی اور سر فروشی کا جذبہ پیدا ہو ؟ کیا ایمان والے ایسے ہی ہوتے ہیں ؟ کہ اللہ کے نام پر انہیں پکارا جائے اور وہ اپنی جگہ سے ہلیں تک نہیں یعنی یہود و نصاریٰ تو اپنے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے سینکڑوں برس بعد اس بےحسی اور روح کی مردنی اور اخلاقی پستی میں مبتلا نظر آرہے ہیں کیا تم اتنے گئے گزرے ہو کہ ابھی رسول تمہارے سامنے موجود ہیں۔ اللہ کی کتاب کا نزول جاری ہے۔ تمہیں ایمان لائے ابھی کچھ زیادہ مدت نہیں گزری تو ابھی سے تمہارا یہ حال ہو رہا ہے۔ تم خود ہی بتاؤ کے یہود و نصاریٰ کی اس دلی کیفیت کا حال زیادہ خطر ناک ہے یا تمہارا۔ اور اگر آج فی زماننا اس کا مطالعہ اس گہری نظر سے کیا جائے تو حالت کیا دکھائی دے گی ؟ پتھر اور خوف ِالٰہی کی مثال : 150: قرآن کریم کا بیان کتنا دلنشین اور اثر انداز ہے کہ قاری ذرا مفہوم سمجھتا ہو تو گویا آج بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم براہ راست آج ہی ان کے سینہ پر اتر رہا ہے جس کی حلاوت دل محسوس کرتا ہے چناچہ بیان الٰہی ہماری زبان میں اس طرح جاری تھا کہ ” تم اہل کتاب کے ان لوگوں کی طرح نا ہونا جن کے دل حق بات کو دیکھ کر ایسے سخت ہوگئے ، گویا وہ پتھر ہوگئے یعنی ان پر حق بات کا کوئی اثر ہی نہ ہوا پھر فرمایا پتھر کیا وہ تو پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے کیونکہ پتھروں میں سے تو ایسے پتھر بھی ہوتے ہیں جن سے مشیت الٰہی کے مطابق نہریں بہنے لگتی ہیں اور بعض پتھر پھٹ بھی جایا کرتے ہیں اور ان سے پانی نکلنا شروع ہوجاتا ہے جس کو تمہاری آنکھیں مشاہدہ کرتی رہتی ہیں۔ ذرا پہاڑی علاقوں کی سیر کر کے تو دیکھو اور بعض پتھر خوف الٰہی سے گر بھی پڑتے ہیں یعنی پتھر کی چٹان اس طرح لڑھک پڑتی ہے گویا وہ خوف کھا کر بھاگ رہی ہے کہ اس کے پیچھے کوئی لگا ہے لیکن تم عجیب انسان ہو کہ تمہارے دلوں پر اللہ کے نبی کے وعظ وبیان کا بھی کوئی اثر نہیں دیکھا گیا کہ وہ پند و نصیحت سن کر نرم نہیں ہوئے بلکہ مزید سخت ہوگئے۔ بس خشیت الٰہی کا ذکر آیا تو ہمارے ہاں بحث شروع ہوگئی کہ پتھر بھی ادراک اور سمجھ رکھتے ہیں اور جو شخص پتھر کو صاحب ارادہ نہ مانے گویا وہ کافر ہوگیا کیونکہ اس نے حقیقت میں قرآن کی نص قطعی کا انکار کردیا۔ پھر اس بحث نے اتنا طول پکڑا کہ اس پر اسلام کے کتنے فرقے بن گئے جنہوں نے ایک دوسرے پر کفر کی مشین کھول دی اور جس کی گرج آج تک ہمارے کان سنتے آ رہے ہیں ۔ اسی طرح قرآن کریم کے اصل بیان مقصود سے ہم کوسوں دور نکل گئے۔ حالانکہ قرآن کریم نے اس مضمون کو مختلف انداز میں بیان فرما کر ہمارے ذہنوں اور فکروں کی صلاحیتوں کو جلا دینے کی کوشش کی لیکن افسوس کہ اس سے دلوں پر زنگ چڑھنے شروع ہوگئے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ : تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ 1ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ 1ؕ اِنَّهٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا 0044 (بنی اسرائیل 17 : 44) ” ساتوں آسمان اور زمین (جو آسمان ہی کی مانند ہیں) اور جو کوئی ان میں ہے سب اس کی پاکیزگی وکبریائی کا زمزمہ بلند کر رہے ہیں یہاں کوئی چیز نہیں جو اس کی حمد و ثنا میں زمزمہ خواں نہ ہو مگر تم ان کی (تسبیحات اور) زمزمہ خوانیاں سمجھتے نہیں ، بلاشبہ وہ بڑا ہی بردبار ہے ، بڑا ہی بخشنے والا۔ “ اسی طرح آپ غور و فکر کریں گے تو معلوم ہوتا جائے گا کہ قرآن نے بیسیوں جگہ اس طرح کے الفاظ بیان فرمائے ہیں جن کے لفظی معنوں پر ہی نہیں بلکہ ان کے اصل مضمون پر نظر رکھنی چاہئے۔ دیکھو موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر والی دیوار کا ذکر فرمایا تو ارشادہوا کہ : یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ کہ وہ دیوار چاہتی تھی کہ میں گروں یعنی اس کی کیفیت اور ظاہر حالت کا عنقریب نتیجہ یہ نکلتا ہوا محسوس ہوتا تھا کہ بس اب یہ گری کہ گری ۔ فَاَقَامَهٗ 1ؕ تو ان دونوں نے مل کر اس کو ایسا مرمت کردیا کہ وہ اپنی جگہ قائم ہوگئی یعنی گرنے سے محفوظ ہوگئی اور ایک مقرہ وقت تک اس کی میعاد مزید بڑھ گئی۔ اسی طرح جب پہاڑوں پر زلزلے آتے ہیں اور پتھر گرتے ہیں تو ان کے گرنے کی حالت ایسی ہوتی ہے جس میں خشیت اللہ کا رنگ نظرآتا ہے اور اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ ایسے اوقات میں انسانوں کے دلوں پر بھی خشیت اللہ غالب آجاتی ہے پس جو حالت پتھروں کے گرنے سے انسانوں کے دلوں پر طاری ہوتی ہے اس کو پتھروں کی طرف منسوب کردیا گیا ، اس لئے کہ ہر زبان کا ادب اس کی بھی اجازت دیتا ہے۔ بہر حال اس میں کوئی ایسی مشکل چیز نہ تھی بلکہ بالکل سادہ اور دلنشین بیان تھا جس کو ثقیل اور مشکل بنا دیا گیا خواہ دلوں کی ٹیڑھ جس کو قرآن کریم کی زبان میں زیغ کے نام سے بیان فرمایا گیا ہے ، سے ایسا ہوا یا بالکل سادگی کا یہ نتیجہ تھا لیکن اس طرح سے جو بحث چھڑی وہ ہر حال میں کوئی مفید نہ تھی اور نہ ہے اس لئے قرآن کریم کو اس کے اصل مفہوم تک ہی رہنے دینا مناسب ہے۔
Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

کیا تم توقع رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہاری بات آسانی سے مان جائیں گے حالانکہ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اللہ کا کلام سنتا ہے اور اس کا مطلب بھی سمجھتا ہے لیکن پھر بھی جان بوجھ کر اس میں تحریف کرلینے کا عادی ہے

جو کتاب اللہ میں تحریف کرنے سے باز نہیں آئے تم ان سے کیا توقع رکھتے ہو ؟ : 151: علماء کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں یعنی یہودیت ، عیسائیت یا اسلام سے ان کا اصل فرض تو یہ ہے کہ جس قدر صحیح تعلیم ان کے پاس ہے بغیر ردو بدل اور کمی و اضافہ لوگوں کے سامنے پیش کردیں ۔ یہود کے علماء اس بات سے واقف تھے کہ سر زمین حجاز میں نبی آخر الزمان کی بعثت ہوگی۔ انہیں اوس و خزرج کے مقابلہ میں جب کبھی شکست ہوتی تو ہمیشہ انہیں ڈراتے کہ وہ وقت بھی قریب ہے جب ہم اس نبی کے ساتھ مل کر تمہیں فنا کردیں گے چناچہ یہی تادیبی کلمات اوس و خزرج کے اسلام کا باعث بنے لیکن جس وقت آپ کی بعثت ہوئی تو چونکہ آپ ﷺ بنی اسرائیل میں نہیں پیدا ہوئے تھے انکار کر بیٹھے اور جس قدر پیش گوئیاں نبی کریم ﷺ کے متعلق ان کی کتابوں میں تھیں ان کو لفظاً و معناً بدلنا شروع کردیا۔ قرآن کریم نے تحریف کا لفظ استعمال کیا اور یہ لفظ و معنی دونوں پر مشتمل ہے۔ کتاب مقدس میں تحریف لفظی اور معنوی کا ہونا اس درجہ مسلّم اور متفق علیہ امر ہے کہ اب اس پر کسی بحث کی ضرورت نہیں رہی۔ خود عیسائی محققین تسلیم کرتے ہیں کہ لفظی اور معنوی دونوں تحریفیں عمل میں آئی ہیں۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے اہل کتاب کی اس خرابی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے : یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ 1ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ 1ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ (المائدہ 5 : 13) ” یہ لوگ اللہ کی کتاب میں باتوں کو ان کی اصل جگہ سے پھیر دیتے تھے یعنی کلام اللہ میں تحریف کرتے تھے۔ جس بات کی انہیں نصیحت کی گئی تھی اس سے کچھ بھی فائدہ اٹھایا ان کے حصے میں نہ آیا اسے بالکل فراموش کر بیٹھے اور تم ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت پر اطلاع پاتے رہو گے۔ “ صرف اسی قدر نہیں کہ قرآن کریم نے ان کی اس حرکت کا ذکر کیا ہے لیکن ان کی نشاندہی نہیں کی۔ نہ ہی ان کی بہت سی ایسی اخلاق سوز حرکات کا واضح الفاظ میں بیان کیا ہے تاکہ کوئی شخص یہ نہ کہے کہ صرف مخالفت کی بنا پر ایسا کہہ دیا۔ چناچہ ایک جگہ نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ : ” ان کو کہا گیا کہ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرو اور یہ تمہارا خرچ کیا ہوا مال تم کو اضعاف مصاعفہ کر کے واپس کیا جائے گا یعنی : یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ (الحدید 57 : 11) انہوں نے اس کو اس طرح بدلا کہ کہنے لگے : قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ 1ۘ (آل عمران 3 : 181 ) ” اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ “ آپ غور کریں کہ کیا خوبی تھی اللہ کے اس کلام میں کہ ” اللہ کو قرض دو “ لیکن انہوں نے اس کو کیا بنادیا کہ کلام کی ساری خوبی ختم ہو کر رہ گئی بلکہ صرف اس کی خوبی ہی نہ جاتی رہی ایک ٹھٹھہ یا مذاق بن گیا۔ ان کی زندگی کی بیسیوں مثالیں قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں جن کا ذکر اپنے اپنے مقام پر آتا رہے گا۔ مختصر یہ کہ اللہ کے غضب اور اس کی لعنت کا اثر یہ ہوا کہ ایک حصہ کتاب کا بالکل ہی چھوڑ دیا اور جس پر عمل کرنے کا ارادہ ہوا اس میں اپنی مطلب پرستی کے لئے بےجا تاویلات شروع کردیں اور اس طرح عملاً گویا تمام کتاب بیکار ہوگئی۔ اس جگہ قرآن کریم کے اعجاز کا ذکر بھی مفید ہوگا وہ اس طرح کہ قرآن کریم تحریف لفظی سے تو محفوظ رہا گویا یہی قرآن کریم کا اعجاز تھا مگر معنوی تحریف سے وہ بھی نہ بچ سکا۔ قرآن کریم پڑھنے کا قاعدہ یہ ہے کہ ایک شخص خالی الذہن ہو کر اس میں درس و فکر کرے اور شارع (علیہ السلام) کے اسوہ حسنہ کو پیش نظر رکھے پھر دیکھے کہ قرآن کریم کن عقائد و یقینیات کی تعلیم دیتا ہے اور کن اخلاق و اعمال پر زیادہ زور دیتا ہے مگر اب حالت یہ ہے کہ آئے دنوں نئے نئے عقائد گھڑے جاتے ہیں پھر ان کی تائید کتاب اللہ سے تلاش کی جاتی ہے اور اس طرح اپنی رکیک تاویلات کا اس کو نشانہ بنایا جاتا ہے اسی کو تحریف معنوی کہتے ہیں جس کا ذکر : یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ میں ہوا ہے۔ ایک حنفی اٹھتا ہے اور قرآن کریم کو فقہ حنفی کے مطابق کر دکھاتا ہے۔ ایک شافعی کا کام یہی ہے کہ قرآن کریم کی ایک ایک آیت مذہب شافعی کی تائید کرتی دکھا دے۔ اسی طرح ہر مکتبہ فکر کے علماء کا کام صرف یہی ہے کہ وہ ثابت کر دکھائیں کہ قرآن کریم ان کی گروہ بندی کی تائید کر ررہا ہے بلکہ اس کے نازل ہونے کے مقصد وحید ہی یہ ہے کہ وہ ہمارے مکتب فکر کی ترجمانی کرے۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ00
Ayah 2:76

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو اپنے آپ کو ایمان والوں سے ظاہر کرتے ہیں اور جب آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں تو کہتے ہیں ” جو کچھ تمہیں اللہ نے علم دیا ہے وہ ان لوگوں پر کیوں ظاہر کرتے ہو ؟ اس لیے کہ وہ تمہارے خلاف تمہارے رب کے ہاں اس سے دلیل پکڑیں ، کیا تم اتنے عقل کے کورے ہو ؟ “

حق چھپانے کے عادی ہوچکے ہیں : 152: نفاق کا مرض ایسا ہے کہ وہ جس گروہ میں بھی ہوگا وہ چکنی چپڑی باتیں کرنے کے عادی ضرور ہوں گے اور ظاہر ہے چکنی چپڑی باتیں وہی ہو سکتی ہیں جو اندر اور باہر سے ایک طرح کی نہ ہوں۔ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ ہی کو چکنی چپڑی کہا جاتا ہے۔ اس وصف کو بیان کرنے کے لئے محاورہ استعمال ہوتا ہے کہ ” ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور “ منافقین یہود کی حالت بھی یہی تھی کہ وہ مسلمانوں پر اپنا اخلاص و ایمان ظاہر کرنے کے لئے کبھی کبھی ان پیش گوئیوں کو بیان کردیا کرتے تھے جن میں نبی ﷺ کا ذکر ہوتا۔ اس طرح کی باتیں کر کے وہ مسلمانوں کو اپنی ہمدردیاں جتلاتے تھے کہ ہم تمہارے خیر خواہ ہیں تاکہ مسلمانوں کی اندرونی حالت سے واقفیت حاصل کرسکیں۔ لیکن ان مجلسوں سے اٹھ کر جب وہ اپنے احبار ، رہبان اور سیاسین کی خدمت میں حاضر ہوتے اور ان مجلسوں میں وہ اپنی چکنی باتوں کا ذکر بھی کرتے تو وہ ان کو تنبیہ کرتے کہ ان امور کی اطلاع مسلمان کو کس لیے دیتے ہو۔ یہی چیزیں تو تمہارے رب کے ہاں ہمارے لئے باعث الزام بن جائیں گی اور ہم اللہ کے روبرو ملزم قرار دیئے جائیں گے لیکن وہ اس بات کو بھول جاتے تھے کہ ان کے چھپانے سے ہوتا کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے وہ یقیناً وحی والہام کے ذریعے پیغمبر اسلام کو ان پیش گوئیوں کی اطلاع دے دے گا چناچہ ابھی آپ مکہ ہی میں تھے کہ ناموس الٰہی نے آپ ﷺ کو مثیل موسیٰ قرار دے دیا۔ ارشاد الٰہی ہوا کہ : ” ہم نے تمہاری جانب ایک رسول بھیجا تمہارے سامنے حق کی شہادت دینے والا جس طرح فرعون کی جانب ہم نے ایک رسول بھیجا تھا۔ “ ان کے حق چھپانے کا طریقہ کیا تھا ؟ 153: ” عِنْدَ رَبِّكُمْ 1ؕ“ تمہارے رب کے ہاں کا مطلب اکثر تو یہی سمجھا گیا ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن یعنی آخرت میں تمہیں دلیل سے قائل کرلیں گے لیکن ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں بلکہ درست معنی یا اس مضمون کے ساتھ زیادہ لگتے ہوئے معنی یہ ہیں کہ اس دنیا میں تم پر حجت قوی قائم کردیں گے اس لئے کہ اللہ کے سامنے حجت قائم کرنے کے لئے کسی ایسے ظاہری سہارے کی ضرورت ہی کیا ہوگی وہاں تو کشف حقائق قانون الٰہی کے مطابق از خود ہو کر رہے گا۔ اس لئے قرین قیاس اور عقل کی بات یہی ہے کہ اس جگہ احتجاج بکتاب اللہ کو عند اللہ سے تعبیر کیا ہے کہ مسلمانوں کو تمہاری باتوں سے رہنمائی حاصل ہوگی اور وہ تمہاری کتاب یعنی تورات کا مطالعہ کر کے اپنے رسول کی پیش گوئیاں جو ہماری تورات کے اندر موجود ہیں نکال کر ہمارے منہ پر بطور شہادت پیش کریں گے۔ کہ رسول کریم ﷺ کی رسالت کا کیسے انکار کرسکتے ہو۔ تمہاری کتاب تورات میں ہمارے رسول کی یہ یہ پیشگوئیاں آج بھی موجود ہیں اور پھر جب وہ ان کو وہاں سے نکال کر تمہارے سامنے پیش کردیں گے تو پھر تم کیا جواب دے سکو گے کہ تمہاری ہی بتائی ہوئی باتوں نے تمہارا منہ بند کردیا۔ گویا یہی ان کی علمیت کا تضاضا تھا کہ حق کو خود بھی چھپائیں اور دوسروں کو بھی حق چھپانے کے دلائل مہیا کریں تاکہ وہ بھی حق کو ظاہر نہ ہونے دیں۔
Ayah 2:77

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتے کہ جو کچھ چھپاتے ہیں اسے بھی اللہ جانتا ہے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں وہ بھی اس کے سامنے ہے

علماء یہود کی مثال : 154: علمائے یہود کی مثال اس پرندہ کی سی ہے جس کو خورات حاصل کرنے کے لالچ نے ایک باریک دانہ تو دکھادیا لیکن وہ اتنے بڑے جال کو نہ دیکھ سکا پھر اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ کہ ایک دانہ کے لالچ میں جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ دیکھو کتنی موٹی سی بات ہے کہ اللہ کے لئے ایسے امور کی اطلاع اپنے رسول کو دے دینا مشکل ہی کیا تھا کور مغز یہود اس امکان ہی کی طرف اپنا ذہن نہیں لے جاتے تھے کہ اس مدعی نبوت یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ واقعی کچھ ہے یہ مرض صرف اس وقت کے یہود میں نہ تھا بلکہ آج بھی موجود ہے کہ غیر مسلم قومیں اس امکان کی طرف ذہن نہیں لے جاتیں کہ قرآن کریم انسانی تصنیف کی بجائے اللہ کی کتاب ہونے کے دعویٰ میں نہایت ہی سچی کتاب ہے اور مسلمان اللہ کی کتاب تو مانتے ہیں لیکن صرف ثواب اور آخرت کے لئے اس کی تلاوت کرتے ہیں لیکن دنیوی زندگی کے لئے ایک قانون الٰہی کی کتاب کے طور پر ، انہوں نے بھی شایددل سے تسلیم نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج من حیث القوم وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہیں۔ اللہ سمجھ کی توفیق عطا فرمادے۔
Ayah 2:78

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور پھر اس قوم میں وہ لوگ بھی ہیں جو نرے ان پڑھ ہیں اور کتاب الٰہی کو اپنی آرزوؤں کے سوا کچھ نہیں جانتے اور محض وہموں میں مگن ہیں

اَن پڑھ اور جاہل ہونا کیا ہے ؟ 155: مسلمانوں کو خیال تھا کہ اگر عالم ہمارا ساتھ نہیں دیتے تو شاید جاہل ہی اس طرف رخ کریں اور تکثیر سواد ہی کا فائدہ حاصل ہو ، ایسے لوگوں سے کسی طرح کی توقع رکھنا عبث و بیکار ہے یہ عوام کالانعام نہ پڑھے نہ لکھے۔ باپ داد کی لکیر کے فقیر۔ اپنے دل کی گھڑی ہوئی آرزوؤں اور خوش کن روایتوں اور سنی سنائی باتوں پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تورات پڑھتے ہیں مگر مفہوم و مطلب سے کوئی غرض نہیں۔ صرف الفاظ پر قناعت کرتے ہیں اور طوطے کی طرح رٹ لیتے ہیں اور باوجود اس کے یقین رکھتے ہیں کہ جنت میں داخل ہوں گے ان کے ذہن و دماغ میں کبھی خیال بھی نہیں آیا کہ معنی سمجھے بغیر کتاب الٰہی کس کام آسکتی ہے۔ ” اَمَانِیَّ “ امنیۃ کی جمع ہے جس کے معنی تو یہ ہیں کہ یہ لوگ محض اپنی آرزوؤں کو پالتے رہتے ہیں جنہیں واقعیت اور حقیقت سے اصلاً تعلق نہیں ہے۔ دوسرے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ یہ لوگ جھوٹی روایتوں ، بےثبوت و بےسند باتوں میں الجھے رہتے ہیں جو کچھ علمائے سو سے سن لیا اس کو تقلیداً اور عقیدۃً تسلیم کرلیا ہے اور پھر جو تسلیم کر بیٹھے اس کے خلاف ہزار دلائل ہوں ان کو خس و خاشاک سے زیادہ اہمیت نہیں دیں گے۔ گویا لکھنا پڑھنا جانتے نہیں مگر خواہشات بڑی بڑی ہیں اپنے علماء سوء سے جو کچھ سن رکھا ہے اس کو مایہ ناز و سرمایہ آخرت تصور کرتے ہیں ان کی آرزو ہائے باطلہ پر دھیان دیں کہ : (ا) جنت میں یہودی اور نصرانی کے سوا دوسرا کوئی شخص داخل نہیں ہوسکتا۔ لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى1ؕ ۔ (2 : 111) (ب) اگر بہ فرض محال ہم میں سے یعنی یہود میں سے کوئی جہنم کی طرف گیا بھی تو صرف چند روز کے لئے۔ وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً 1ؕ (2 : 80) اس طرح کے خیالات فاسدہ ہیں جو ان کو خوش رکھتے ہیں حالانکہ جنت میں جانے کا قاعدہ یہ ہے کہ صرف اور صرف ایک اللہ کی غلامی کی جائے اور قلب سلیم لے کر اس کے حضور میں حاضر ہو اس لئے کہ وہاں مال و دولت اور حسب و نسب کام نہیں آئیں گے۔ یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ0088 اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ0089 (الشعرا 26 : 88 ، 89) اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے : بَلٰى 1ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ ہُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ 1۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ (رح) 00112 (2 : 112) ” ہاں ! نجات کی راہ کھلی ہے مگر وہ خاص کسی گروہ بندی کے لئے نہیں وہ تو ایمان و عمل کی راہ ہے جس کسی نے بھی اپنے رب کے سامنے سر جھکادیا اور وہ نیک عمل بھی ہوا تو وہ اپنے رب سے اپنا اجر ضرور پائے گا نہ اس کے لئے کسی قسم کا کھٹکا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی غمگینی۔ “
Ayah 2:79

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

پس افسوس ان پر کہ وہ خود اپنے ہاتھوں اپنی مرضی سے احکام لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں تاکہ اس کے بدلے میں ایک حقیر سی قیمت دنیوی فائدہ کی حاصل کرلیں ، پس افسوس اس پر جو کچھ ان کے ہاتھ لکھتے ہیں اور افسوس اس پر جو کچھ وہ اس ذریعہ سے کماتے ہیں

ہر تحریف اور ہر تصحیف موجب لعنت ہے : 156: قرآن کریم کے معیار صداقت و دیانت سے ہر تحریف و تصحیف موجب لعنت اور حد سے بڑھی ہوئی جسارت ہے لیکن جو لوگ صرف آرزوؤں اور خواہشوں کی پیروی کرنے والے ہوں وہ اسے کیونکر معیار تسلیم کرلیں گے وہ تو اس معیار ہی سے ناواقف و نا آشنا ہیں۔ بلکہ اکثر اہل کتاب کے ہاں تو بھلائی کے لئے ہر برائی درست ہے اور ” خدا کی سچائی “ اور ” خداوند کے جلال “ کے اظہار کے لئے ہر جھوٹ جائز ہے آج دنیا میں مسیحیت کے نام سے جو ” تثلیثی “ شرک پھیلا ہوا ہے اس کے بانی پولوس صاحب اسرائیلی ہی تھے ان کا یہ مقولہ آج تک انجیل میں لکھا ہوا چلا آرہا ہے کہ ” اگر میرے جھوٹ کے سبب سے خدا کی سچائی ، اس کے جلال کے واسطے زیادہ ظاہر ہوئی تو پھر کیوں گنہگار کی طرح مجھ پر حکم دیا جاتا ہے ؟ اور ہم کیوں برائی نہ کریں تاکہ بھلائی پیدا ہو۔ “ (رومیوں 3 : 7) ان لوگوں کے علماء میں دستور تھا کہ کتاب الٰہی یعنی تورات کی آیات کے ساتھ اپنے تفسیری نوٹ اور حواشی بھی لکھ لیا کرتے تھے اور تحریر اس طرح کرتے کہ آیات اور ان جملوں میں کسی قسم کا فرق و امتیاز نہ رکھتے تھے۔ بعد میں آنے والے ان میں تمیز ہی نہ کرسکے ازیں بعد عوام میں سے کوئی جب کوئی مسئلہ پوچھتا تو یہ ان حواشی کو دیکھ کر جواب دے دیتے اور کہتے کہ یہ خدا ہی کا حکم ہے حالانکہ وہ ان کی اپنی خواہشات اور ابلیسی الہامات کا آئینہ ہوتا تھا۔ یہ شیطنت صرف اس لئے کی جاتی تھی کہ رؤسائے قوم خوش ہوں اور ان کے ہاں ان کو قدر و منزلت نصیب ہو۔ دولت ہاتھ آئے اور ہر جگہ آؤ بھگت ہو۔ ارشاد الٰہی ہوتا ہے : قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ 1ۚ اگر دنیا کے تمام خزائن بھی ہاتھ لگ جائیں اور ایک شخص کے قبضہ میں آجائیں تو بھی اس کی خواہشات کو پورا نہ کرسکیں گے کیونکہ آرزوؤں کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جائے گا۔ ” ویل “ کا لفظ قرآن کریم میں تین معانی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ (ا) اگر گناہوں کی حالت ابتدائی ہے تو ” ویل “ کے معنی افسوس کے ہوں گے اور ایک شریف انسان کے لئے اتنا بھی بہت ہوتا ہے۔ (ب) درمیانی حالت میں اس کا مفہوم تباہی و بربادی ، جس کو قرآن کریم کی دوسری زبان میں لعنت بھی کہا جاتا ہے۔ (ج) اور ” ویل “ کی آخری حالت میں اس سے دوزخ مراد لی جائے گی۔ اور اپنی اپنی جگہ پر یہ تینوں معنی یہاں مراد لئے جائیں گے اور ” مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ 0079 “ سے کیا مراد ہے ؟ یعنی وہ کیا چیز ہے جو اپنی ان حرکتوں سے حاصل کرتے رہے ہیں ؟ دو 2 جوابات ممکن ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے گناہوں کا ذخیرہ مراد ہے یعنی وہ لوگ اپنی ان حرکتوں سے اپنے معاصی کا انبار بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ جو مال و نفع وہ اپنی غرض مندانہ تحریف اور بقول خود ” دروغ مصلحت آمیز “ سے حاصل کرتے تھے وہ یہاں مراد ہے۔ زیر نظر آیت میں یہ حالت تو یہود کی بیان کی جارہی ہے لیکن مسلمانوں کو بھی اپنا تجزیہ تو کر کے دیکھنا چاہیے کہ کیا ہماری حالت بھی دن بدن وہی تو نہیں ہو رہی جو کبھی یہود کی ہوا کرتی تھی ؟ اگر ایسا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ جو چیز ان کے حق میں بری تھی وہ ہمارے حق میں بری نہ ہو۔