Ayah 2:80یہود کے خوش کن عقائد میں ایک عقیدہ نجات :
157: یہود کے خود تراشیدہ عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ یہودی کہلانے والا خواہ کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو وہ کبھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ ہاں مجرموں کے لئے جو عذاب ہے وہ بھی چند روز کا عذاب ہے پھر چند روز کے متعلق بھی ان کے مختلف اقوال ملتے ہیں۔ بعض سات روز کہتے ہیں اور بعض کا عقیدہ چالیس روز کا ہے اور گیارہ ماہ یا ایک سال سے زیادہ تو کسی کے عقیدہ میں بھی نہیں ہے۔ یہود سے پوچھا جا رہا ہے کہ یہ عقیدہ جو تم نے بنا رکھا ہے کہ ” ہم کو دوزخ کا عذاب نہیں چھوئے گا “ اس کی کوئی دلیل بھی آپ کے پاس ہے یا خالی عقیدہ کے نام سے ایسے ہی تم نے مشہور کر رکھا ہے۔ اس کی سند کا مطالبہ ظاہر ہے کہ تورات ہی سے کیا جاسکتا تھا اور اس کی دلیل طلب کی گئی لیکن کوئی دلیل ہوتی تو وہ پیش کرتے۔ عجب اتفاق ہے کہ آج بھی جب بد عقیدوں سے اس بات کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس کی دلیل کتاب و سنت سے بتادو تو وہ جز بز ہونے لگتے ہیں اور کہتے ہیں تو صرف یہ ، کیا آج تک سارے غلط ہی تھے ؟ آج تک کسی کی سمجھ میں نہیں آیا آج اس کو کیا وحی اتری ہے ؟ حالانکہ یہ سب سوال ہیں جواب نہیں ، ان سے سوال کیا جاتا ہے لیکن بجائے اس کے کہ وہ اس سوال کا جواب دیں سوال پر سوال کئے جاتے ہیں۔ اس طرح گویا ان کے اوسان خطا ہوگئے ہیں۔ اسی طرح کے عقائد مسلمانوں میں بھی راسخ ہوچکے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ جس نے امام حسین ؓ کے عشق میں دو آنسو بہا لئے وہ ایسے گروہ میں داخل ہوگیا جو صرف جنت کا مستحق ہی نہیں بلکہ جنت داخل کرنے والوں کا سرٹیفکیٹ جن کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی کہتا ہے جو شخص شیخ عبدالقادر (رح) کے سلسلہ میں داخل ہوگیا وہ دوزخ میں کبھی نہیں جائے گا۔ دیکھو فلاں دھوبی صرف شیخ عبدالقادر (رح) کے کپڑے دھوتا تھا وہ مرگیا منکر و نکیر اس کے پاس آئے اور پوچھا کہ ” من ربک ؟ “ تیرا رب کون ہے ؟ جواب ملتا ہے ” میں نہیں جانتا “ لیکن اس سے دوسرا سوال کیا جاتا ہے ” ما دینک ؟ “ تیرا دین کیا ہے ؟ جواب ملتا ہے میں نہیں جانتا۔ اس سے پوچھا جاتا ہے کہ ” من نبیک ؟ “ تیرا نبی کون ہے ؟ وہ ایک ہی جواب جانتا ہے کہ ” میں نہیں جانتا “ پھر اس سے اصرار کیا جاتا ہے کہ آخر تو بلا کیا ہے ؟ جواب ملتا ہے کہ میں عبدالقادر (رح) کا دھوبی ہوں۔ انجام کار فرشتے واپس جا کر رب کریم سے پوچھتے ہیں کہ اے اللہ ! یہ کیا ماجرا ہے ؟ اللہ فرماتا ہے۔ دیکھو جان کی امان مل گئی ہے آپ بخیریت واپس آگئے ہیں۔ اگر وہ روحوں والا تھیلا آپ سے چھین لیتا تو مجھے سب کو دوبارہ دنیا میں بھیجنا پڑتا۔ اب دوبارہ اس کے پاس نہ جان۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ00
اس طرح کے خیالات فاسدہ یہودیوں اور عیسائیوں ہی سے اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور مسلمانوں نے ان کو حرز جاں بنا لیا ہے اسلام ایسے نظریات کا ہرگز ہرگز حامل نہیں ہوسکتا۔ قرآن کریم نے تو واضح اعلان فرمادیا ہے کہ : لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى کہ کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا خواہ وہ کوئی ہو۔ بلکہ قرآن مجید نے تو وضاحت فرمادی کہ کسی بزرگ کی اولاد میں سے ہونا یا کسی ولی کی طرف منسوب ہونا نجات کا باعث نہیں ہوسکتا۔ نجات کے لئے عمل صالحہ اور ایمان باللہ کی ضرورت ہے تمہیں معلوم ہے کہ نوح جیسے جلیل القدر نبی نے اپنے بیٹے کی نجات کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو وہاں سے سخت ڈانٹ ملی فرمایا گیا۔ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ 1ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ (11 : 46) تم کو یاد ہوگا کہ نوح اور لوط (علیہما السلام) کی بیویوں کو صرف اس لئے جہنم بھیج دیا گیا کہ انہوں نے عمل صالح کو اپنے پاؤں سے ٹھکرا دیا اور پیغمبروں کی رشتہ داری کے گھمنڈ میں مغرور ہوگئیں تم اس کو بھی نہیں بھولے ہوگے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے کوہ صفا پر قبائل کو جمع کر کے ان کے سامنے دعوت حق پیش کی تھی تو اس خطبہ کے آخری الفاظ کیا تھے ؟ کہ اے فاطمہ محمد کی بیٹی اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچالے اس لئے کہ میں تیرے نفع و ضرر کا ذرہ برابر بھی مالک نہیں ہوں۔ پھر یہ کس درجہ جہل و نادانی ہے کہ بزرگوں کے نام لیوا ہونے کی بنا پر نجات کے دعویدار بنتے ہیں اور دل ہیں کہ ایمان کی دولت سے بالکل خالی ہیں۔
اس آیت سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کوئی بات کہہ دیتا ہے کہ ایسا ہوگا تو گویا یہ اس کا قولی وعدہ ہوگیا اب ایسا نہیں ہوسکتا کہ ویسا نہ ہو جیسا کہ اس نے ہونے کا کہا ہے لہٰذا اس مضمون کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ” اللہ وعدہ خلافی کرتا ہے اور نہ وعدہ خلافی ہونے دیتا ہے “ یعنی اس کے کہے ہوئے پر کوئی دوسرے خواہ وہ کوئی ہو حاوی نہیں ہوسکتا۔ کاش کہ آج مسلمان بھی یہ بات سمجھ جاتے۔
Ayah 2:81برائی کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوتا :
158: اس آیت نے واضح کردیا کہ انسان جب ہمہ تن ہی بدی کے پیچھے لگ جاتا ہے تو چاروں طرف سے بدیاں اس کو گھیر لیتی ہیں پھر اس کے لئے نکلنے کا راستہ نہیں رہتا۔ اس طرح ہدایت و رشد کے تمام راستے اس پر بند ہوجاتے ہیں پھر یہ شخص بد اخلاقی کی آگ سے کبھی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا اور بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کی نجات کا ذمہ نہیں لے سکتی اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو شخص بدی کے مقابلہ میں کوشش کرتا ہے وہ بدیوں میں یوں گھرتا نہیں بلکہ انجام کار ایک روز بدی پر غالب آجاتا ہے۔ بدی کی کشش اگرچہ بہت سخت معلوم ہوتی ہے مگر دراصل وہ ایک کمزور چیز ہے اور اس کے مقابلہ میں نیکی کی قوت بہت ہی زبردست ہے اور فطرت الٰہی بھی نیکی کی معاون و مددگار ہے اس لئے نیکی اور بدی میں جب مقابلہ ہوگا تو یقیناً نیکی غالب آئے گی۔
اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ دنیا میں کوئی دنیوی عمل بغیر نتیجہ کے تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ جہاں عمل ہوا نتیجہ بھی نکلے گا اور جہاں نتیجہ نکلا یقیناً عمل بھی ہوا ہے۔ پھر اسی طرح اچھے عمل کا نتیجہ ہمیشہ اچھا ہی ہوگا اور برے عمل کا نتیجہ بھی برابر ہی ہونا ضروری ہے۔ اگر کہیں اسکے خلاف نظر آئے یعنی برے عمل کا نتیجہ اچھا یا اچھے عمل کا نتیجہ برا ، تو سمجھ لو کہ یہ اس عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس عمل کا نتیجہ ابھی باقی ہے جو اپنے وقت پر ضرور نکلے گا۔
آؤ قرآن کریم کو پڑھو اس طرح کہ اسکی سمجھ بھی آجائے ارشاد الٰہی ہے : فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ007 وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ (رح) 008 (الزلزال 99 : 7 ، 8) ” جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہے وہ اسکو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہے وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔ “
اور فیصلے کا اعلان بھی کردیا گیا کہ : فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ006 فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ007 وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ008 فَاُمُّهٗ ہَاوِیَةٌؕ009 وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاہِیَهْؕ0010 نَارٌ حَامِیَةٌ (رح) 0011 (القارعۃ 101 : 6 ، 11) ” پھر جس کے نیک اعمال کا وزن زیادہ ہوگا وہ دل پسند عیش و راحت میں ہوگا اور جس کے نیک اعمال کا وزن کم نکلے گا تو اس کا ٹھکانہ بھی جہنم ہونا ضروری ہے۔ اور آپ کو ابھی کیا معلوم کہ وہ ہاویہ کیا ہے ؟ وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے ، جو اس کے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔
چلتے چلتے رسول اللہ ﷺ کا پیغام بھی سنتے چلو آپ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّمَا ہِیَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِیہَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّیکُمْ إِیَّاہَا فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدْ اللَّهَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلَا یَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ ) ( مسلم : 2071) ” یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جن کا احتساب تم سے کیا جارہا ہے اگر حسن ثواب ملا تو اللہ کا شکر ادا کرو ورنہ تم خود ہی ملامت کے قابل ہو۔ “
Ayah 2:82اچھائی کا نتیجہ کبھی بھی برا نہیں ہوسکتا :
159: جو چیزیں لازم و ملزوم ہوں۔ وہاں ایک کے وجود کا اقرار دوسرے کے وجود کا خود بخود اقرار ہوتا ہے۔ اسی طرح جہاں ایک کے وجود کا انکار ہوا تو دوسرے کے وجود کا خود بخود انکار ہوجاتا ہے۔ عمل و نتیجہ لازم و ملزوم ہیں اس لئے یہ اصول قرآن کریم نے بھی قائم رکھا ہے۔ اسی طرح ان دونوں آیتوں میں نجات کا پورا قانون بیان فرما دیا گیا کہ یاد رکھو نجات کا نسل و قوم سے کوئی تعلق نہیں جو کوئی اپنے مقصد و اختیار سے بد عقیدگی اور بدکرداری کی راہ پر چلے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جو کوئی اپنے قصد و اختیار سے ایمان و عمل صالح کی روش کا انتخاب کرے گا اس کی منزل جنت ہے۔
ہاں ! اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اگرچہ عمل صالح اپنی جگہ پر نہایت اہم اور ضروری ہے لیکن ایمان اس سے بھی اہم تر ہے اور بغیر ایمان کے عمل صالح وہ نتیجہ نہیں دیتا جو ایمان کے ساتھ دیتا ہے اس کو ایک مثال سے سمجھ لو تاکہ بات جلد ذہن نشین ہوجائے۔ ایمان ایک بیج ہے عمل اس بیج کے لئے بمنزلہ زمین ہے۔ زمین کار آمد یعنی قابل کاشت بھی ہوتی ہے اور ناکارہ یعنی ناقابل کاشت بھی۔ اچھا عمل کارآمد زمین ہے اور برا عمل ناکارہ زمین۔ اب زمین کتنی ہی کار آمد کیوں نہ ہو بیج ڈالنا تو نہایت ضروری ہے اور بغیر بیج ڈالے زمین کی اچھائی اور برائی کس کام کی ؟ زمین اچھی ہو اور اس میں اچھا بیج بھی بو دیا جائے تو سبحان اللہ ! کیا کہنے۔ ایک کے ستّر یا سات سو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ لیکن اگر بیج عمدہ نہ بھی ہو اور زمین کار آمد ہوئی تو ایک کے دس تو ماشاء اللہ ہو ہی جائیں گے لیکن خدا نہ کرے کہ اگر زمین بھی ناکارہ ہوئی اور بیج بھی بیکار ڈال دیا تو کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
Ayah 2:83احکام الٰہی ہی عہد و پیمان ہیں :
160: اب تک اہل کتاب خصوصاً یہود کی غلط کاریاں ذکر کی گئیں اور علماء یہود کے امراض پر اصولی بحث کی ، انکے عقائد باطلہ کی تردید فرمائی۔ اب بتایا جارہا ہے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت رب قدوس سے جو عہد و پیمان کیا تھا اسکا کیا حشر ہوا اور بتایا کہ یہ عہدو پیمان اصل میں کیا ہے ؟ عہد جب اسکا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے تو محاورہ توریت میں حکم کے معنوں میں آتا ہے چناچہ تورات میں ہے کہ ” اور اس نے اپنا عہد تمہارے آگے بیان کیا جس پر عمل کرنے کا حکم بھی اس نے تمہیں دیا یعنی دس احکام۔ “ (استثناء 4 : 13) جس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ عہد لینے کا مطلب حکم دینے کا ہے چونکہ اس آیت میں کچھ احکام دیئے گئے ہیں جن کا ذکر ہے لہٰذا ان ہی کو عہد و پیمان سے بھی تعبیر کیا گیا ہے ۔
اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کا عہد :
161: زیر نظر آیت میں جو احکامات اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دیئے تھے ان میں سے پہلا حکم یا جو عہد بنی اسرائیل سے لئے تھے ان کا پہلا عہد یہ تھا کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کی غلامی نہ کریں۔ اپنی ضروریات زندگی میں اس سے طالب اعانت ہوں اور سب سے باغی بن کر اس ایک کی اطاعت کا جوا اپنی گردن میں ڈال لیں تاکہ سب قوموں کے سامنے سر بلند ہوں۔ گویا پہلا عہد اثبات توحید اور ممانعت شرک ہی کا تھا۔ آج بھی تورات میں یہ حکم اسی طرح موجود ہے یہاں بطور نمونہ ایک دو جگہ کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
” میرے حضور تیرے لئے دوسرا خدا نہ ہو وے۔ تو اپنے لئے کوئی مورت یا کسی چیز کی صورت جو اوپر آسمان پا یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے ہے مت بنا ، تو ان کے آگے ، اپنے تئیں مت جھکا اور نہ ان کی عبادت کر ، کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں۔ “
(خروج 20 : 3 ، 5)
” میرے آگے تیرا کوئی دوسرا خدا نہ ہو وے تو اپنے لئے تراشی ہوئی مورت یا کسی چیز کی صورت جو اوپر آسمان پر یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے مت بنا۔ تو انہیں سجدہ نہ کر ، نہ ان کی بندگی کر۔ “ (استثناء 5 : 7 ، 8)
” سن لے اے اسرائیل خداوند ہمارا خدا اکیلا خداوند ہے۔ “ (استثناء 6 : 4)
” تم اور معبودوں کی قوموں کے معبودوں میں سے جو تمہارے آس پاس ہیں پیروی نہ کرو کیونکہ خداوند تیرا خدا جو تمہارے درمیان ہے غیور خدا ہے ، نہ ہو کہ خداوند تیرے خدا کے قہر کی آگ تجھ پر بھڑکے اور تمہیں روئے زمین سے فنا کردے۔ “ (استثناء 6 : 14 ، 15)
اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کے لئے جتنا زور قرآن کریم کے صفحات میں دیا گیا ہے اتنا دوسری کتب آسمانی میں نہ سہی تاہم کتب آسمانی میں تحریف ہونے کے باوجود ایسے احکام مل جاتے ہیں جن میں توحید کا درس آج بھی پایا جاتا ہے۔
والدین کی فرمانبرداری کا عہد :
162: ذرا غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کے بعد شان ربوبیت میں والدین ہی ہوتے ہیں جو عاصی و نافرمان اولاد پر بھی احسان کرنے سے جی نہیں چراتے اور اپنی اولاد کے لئے ہر کمال کے آرزومند رہتے ہیں اس لئے اللہ نے اپنی عبادت کے ساتھ ہی ماں باپ کے ساتھ بر و احسان کا حکم دیا ہے چناچہ توریت میں بھی ہے کہ ” تو اپنے ماں باپ کو عزت دے تاکہ تیری عمر اس زمین پر جو خداوند تیرا خدا تجھے دیتا ہے ، دراز ہو وے۔ “ (خروج 20 : 12)
” اپنے باپ اور اپنی ماں کو عزت دے جیسا خداوند تیرے خدا نے فرمایا ہے۔ “ (استثناء 5 : 16)
قرآن کریم نے جگہ جگہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک پر بہت زور دیا ہے چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوتا ہے کہ :
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا 1ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ کِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا 0023 وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ0024
(بنی اسرائیل 17 : 23)
” اور تمہارے رب نے یہ بات ٹھہرا دی ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی بندگی نہ کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو ۔ اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہاری زندگی میں بڑھاپے کی عمرتک پہنچ جائیں تو ان کسی بات پر اُف نہ کرو اور نہ جھڑکنے لگو اور ان کے ساتھ بات چیت ادب و عزت کے ساتھ کرو ان کے سامنے محبت اور مہربانی کے ساتھ عاجزی کا سر جھکائے رکھو ان کے حق میں دعا کرو اے پروردگار ! جس طرح انہوں نے مجھے صغر سنی میں پالا پوسا ہے اور بڑا کیا ہے تو اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ “
عزیز رشتہ داروں ، یتیموں اور مسکینوں کی خبر گیری کا عہد :
163: عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا یہ بھی دراصل ماں باپ کی محبت کا ایک جز ہوتا ہے اور وہ صلہ رحمی کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ یتامی اور مساکین کی نصرت و اعانت پر بھی اسلام نے بہت زور دیا ہے اور اس کا عہد بنی اسرائیل سے بھی لیا گیا تھا۔ چناچہ آج بھی تورات کے صفحات میں اس عہد الٰہی کے نشانات موجود ہیں۔
” اور اپنے مفلس بھائی کی طرف سے اپنے ہاتھ مت بند کیجئے بلکہ اس پر اپنا ہاتھ کشادہ رکھیو اور کسی کام میں جو وہ چاہے بہ قدر اس کی احتیاج کے ضرور اس کو قرض دیجیو۔ “ (استثناء 15 : 8 ، 9)
” اور مسافر اور یتیم اور بیوہ جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہیں آئیں اور کھائیں اور سیر ہوجاویں۔ “ (استثناء 14 : 29)
” مسکین زمین پر سے کبھی جاتے نہ رہیں گے اس لئے یہ کہہ کہ میں تجھے حکم کرتا ہوں کہ تو اپنے بھائی کے واسطے اور اپنے مسکین کے لئے اور اپنے محتاج واسطے جو تیری زمین پر ہے اپنے ہاتھ کشادہ رکھیو۔ (استثناء 15 : 11)
اور اسی طرح تمام انسانوں کے ساتھ بھی اچھے سلوک کی ہدایت کی گئی ہے اگرچہ وہ حسب و نسب کے رشتہ میں نہ آئیں تاہم انسانیت کا رشتہ تو ان سے بھی قائم ہے اس لئے حکم دیا جا رہا ہے کہ سب لوگوں سے بھلی بات کہنا بھی ضروری ہے ہر ایک انسان سے بات چیت اور گفتگو میں اچھی طرح پیش آتے رہنا سہل ترین اور ادنیٰ فریضہ انسانیت ہے۔ اس لئے یہ حکم عام ہے یعنی خوش خلقی کے ساتھ ہی سب انسانوں سے پیش آتے رہنا چاہئے ۔ توریت موجودہ میں جتنے بھی حسن سلوک کا احکام ملتے ہیں ان کا دائرہ محدود ہے لیکن قرآن کریم میں ان احکامات کو بھی بار بار اور بڑی اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
عبادت ِالٰہی میں مصروف رہنے کا عہد :
164: صلوٰۃ ، اقامت صلوٰۃ اور زکوۃ سب مخصوص اسلامی اصطلاحیں ہیں یہ نہ سمجھا جائے کہ بنی اسرائیل کو بھی اسی طرح پانچ وقت کی نماز اپنی ساری شرطوں کے ساتھ اور اپنی آمدنی کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں دینے کا حکم تھا۔ بلکہ یہ سب احکام ان کو مخصوص ہئیتوں اور متعین قیود کے ساتھ ملے تھے ہاں ! ان کو جو احکام ملے تھے ، اپنی عبادات کے متعلق اگرچہ ان کی مخصوص زبان ہے اور ان کے حالات و ماحول کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور دعا و عبادت کی تاکید ابھی بھی توریت میں مختلف عنوانات سے موجود ہے جس کی ایک دو شہادتیں قلمبند کردی جاتی ہیں ملاحظہ فرمالیں :
” چاہئے کہ تم خداوند اپنے خدا کی پیروی کرو اور اس سے ڈرو اور اس کے احکام کو حفظ کرو اور اس کی بات مانو ، تم اسی کی بندگی کرو اور اسی سے لپٹے رہو۔ “ (الاستثناء 13 : 4) حکم زکوٰۃ کے لیے (خروج 23 : 10 اور احبار 25 : 1) ملاحظہ کریں۔
بنی اسرائیل نے ان وعدوں کو پورا نہ کیا :
165: بنی اسرائیل نے ان وعدوں میں سے کسی کو پورا نہ کیا یا ان احکامات میں سے کسی ایک حکم کو بھی بجا نہ لاسکے۔ کسی سے آج اعراض کیا تو کسی سے کل منہ پھیر گئے۔ چناچہ اس کی گواہیاں بھی ان کے اپنے گھر کی موجود ہیں۔ ذرا تورات ہی کو ملاحظہ فرمائیں :
” وہ اس راہ سے جو میں نے انہیں فرمائی جلد ہی پھرگئے۔ “ (خروج 32 : 8)
” میں اس قوم کو دیکھتا ہوں کہ یہ ایک گردن کش قوم ہے۔ “ (خروج 32 : 9)
” بنی اسرائیل سے کہہ دو کہ تم گردن کش لوگ ہو۔ “ (خروج 33 : 5)
اسی طرح خونریزی کی ممانعت توریت مروجہ میں بھی متعدد جگہ ملتی ہے مثلاً یہ کہ :
” تو خون مت کر۔ “ (خروج 20 : 13)
” بےگناہ کا لہو تیری زمین پر جسے خداوند تیرا میراث کردیتا ہے۔ بہایا نہ جائے کہ خون تجھ پر ہو۔ “ (استثناء 19 : 10)
یعنی ان احکامات کی اطاعت کا اقرار تم نے صاف صاف لفظوں میں کیا جو آج تک تمہارے نوشتوں میں لکھا چلا آ رہا ہے اور تمہیں اس سے انکار کی مجال نہیں ہے جیسے تورات میں ہے کہ : ” وہ بولے کہ یہ سب کچھ جو خداوند نے فرمایا ہے ہم کریں گے اور تابع رہیں گے۔ “ (خروج 24 : 7)
Ayahs 2:84–85بنی اسرائیل کے عہد و پیمان میں درج ذیل تین باتیں بھی تھیں :
166: علاوہ وہ ان وعدوں کے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے تین باتیں اور بھی ان باتوں میں شامل تھیں اور بنی اسرائیل نے ان تینوں باتوں کا بھی اقرار کیا تھا مگر ان کو بھی حسب سابق پورا نہ کرسکے۔
ان میں سے ایک عہد یہ تھا کہ خانہ جنگی کر کے باہم خونریزی نہ کرنا کہ اس سے تمہاری اجتماعی قوت کو نقصان پہنچے گا ، اور اس سے حیات قومی فنا ہوگی۔ دوسرا عہد یہ تھا کہ اپنے لوگوں کو ترک و طن پر مجبور نہ کرنا کہ ادھر تو تمہاری جماعت روز بروز کم ہوتی جائے گی اور دوسری طرف وہ جلا وطنی کی مصیبتوں اور تکلیفوں سے تنگ آکر تمہارے دشمنوں سے سازش کرلیں گے اور اس طرح غیروں کو تم پر حملہ کرنے اور تمہیں غلام بنانے میں آسانیاں پیدا کردیں گے۔ تیسرا عہد یہ تھا کہ اپنی قوم میں سے کسی کو گرفتار ہوتا دیکھو تو فدیہ دے کر اسے چھڑا لینا۔
ان لوگوں نے پہلے دو احکام کی تو پروا نہ کی مگر تیسرے کے لئے خوب اہتمام کرتے تھے ان کو یہ بات کہی جا رہی ہے کہ تم بھی عجیب لوگ ہو کہ بعض کتاب کو مانتے ہو اور بعض کے ماننے سے انکار کردیتے ہو ، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تمہاری مرضی کی بات ہے جس کو چاہو مانو جس کو چاہو انکار کر دو ۔
واقعہ اس طرح ہے کہ مدینہ میں اوس و خزرج کی دو قومیں بستی تھیں جن کی ہمیشہ آپس میں جنگ رہتی تھی۔ شہر کے اطراف میں یہودیوں کے بھی دو قبیلے آباد تھے بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ ان میں سے اوس اور بنو قریظہ باہم ایک دوسرے کے حلیف تھے۔ ایسے ہی خزرج اور بنو نضیر آپس میں معاہد تھے جب کبھی اوس اور خزرج میں جنگ ہوتی ان قبائل کو بھی بوجہ دوستی اور حلافت کے ان کی مدد کرنا پڑتی پھر جنگ کے نتائج میں جہاں اوس اور خزرج بےخانماں برباد ہوتے۔ بنو قریظہ اور بنو نضیر بھی اس مصیبت سے محفوظ نہ رہ سکتے اور بالکل ظاہر بات ہے کہ بنو نضیر کے اخراج میں بنو قریظہ کا دخل ہوتا تھا اور بنو قریظہ کی جلا وطنی میں بنو نضیر حصہ دار ہوتے تھے ۔ البتہ اتنا ضرور تھا کہ جب ایک جماعت میں سے کوئی امیر ہوجاتا تھا تو ہر جماعت اپنے دوستوں کو مال سے راضی کر کے قیدی کو رہا کرا دیتی۔ اگر کوئی ان کی اس حرکت پر اعتراض کرتا تو کہتے کہ امیر کا رہا کرنا ہمارا مذہبی فرض ہے اور جب لوگ یہ کہتے کہ قتل و اخراج میں تم نے کیوں دشمنوں کی مدد کی تو ان کا جواب یہ ہوتا کہ دوستوں کا سا تھ نہ دینا عار وننگ کی بات ہے۔
اس بیہودہ حرکت پر ان کو کہا گیا کہ مرض بھی برابر پیدا کرتے رہیں اور علاج بھی جاری رکھیں یہ کہاں کی دانشمندی ہے اس طرح سے مرض کبھی نہیں زائل ہوا کرتا پس ایسے لوگوں کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے دنیا میں ذلیل کردیئے جائیں اور کبھی انہیں عزت نصیب نہ ہو ۔ چناچہ بنو نضیر کو رسول اللہ ﷺ نے ملک شام کی طرف جلا وطن کردیا بنو قریظہ کے مردوں کو قتل کیا اور عورتوں ، بچوں کو لونڈی غلام بنایا۔ سچ ہے ایسے لوگوں کی سزا میں نہ تو کسی قسم کی تخفیف ہو سکتی ہے اور نہ کوئی ان کی طرفداری کرسکتا ہے۔ آخرت کا عذاب اس کے سوا ہے جو یقیناً ان کی بد اعتدالیوں کے نتیجے کے طور پر بھگتنا لازم ہے۔
اس جگہ یہود کا قِصّہ بیان کر کے توجہ مسلمانوں کی دلائی جا رہی ہے مگر وقت آنے پر وہ بھی انہی کے نقش قدم پر چلے اور جو نقشہ یہاں کھینچا ہے وہ دراصل پیشگوئی کے رنگ میں مسلمانوں کا نقشہ ہے ایک طرف تو ہمدردی کا اظہار اس قدر ہے کہ جنگوں میں دنیا کے ایک حصہ میں مسلمان زخمی ہوجائیں تو دوسرے حصہ میں دنیا میں چندہ جمع ہوتا ہے ان کی ہمدردی کا علاج کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ایک ملک دوسرے اسلامی ملک کو تباہ کرنے کی فکر میں ہے۔ کبھی دوسروں سے مل کر کبھی خودبخود ۔ ایک طرف خود مسلمان عیسائیوں سے مل کر ، کبھی یہودیوں سے مل کر ایک اسلامی حکومت کو تباہ کرتے ہیں اور دوسری طرف ایک مسلمان حکومت کے قیام کے لئے اپیلیں اور مظاہرے کرتے ہیں۔
یہود کا قِصّہ بیان کر کے مسلمانوں کو سمجھایا ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں۔ مسلمانوں کو مسلمانوں کے ساتھ جنگ کر کے ان کے خون کی ہولی کھیلنا اور ان کا ملک چھیننا جائز نہیں۔ حدیث میں ہے کہ : ( المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ ) مسلم وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان دکھ نہ اٹھائیں ۔ ہاتھ سے دکھ دینا ، ان کو قتل کرنا ، ان کے مال لوٹنا ، ان کے ملک چھیننا اور زبان سے ان کی عزت پر حملہ کرنا ، گالیاں دینا ، کافر کہنے کا شیوہ بنا لینا آج غور کرو کہ کیا مسلمانوں میں یہ سب باتیں پائی جاتی ہیں یا نہیں ؟
پچھلے پچاس برس میں جو حالات دنیا کی تاریخ میں لکھے گئے کیا مسلمان ان دونوں جرموں کے مرتکب نظر نہیں آتے ؟ عیسائی غداروں نے اسلامی ممالک کو تہس نہس کر کے پہلے اپنے قبضہ میں کیا اور پھر ان کو آزادی کے نام سے مختلف ممالک میں تقسیم کردیا اور ان کو آزاد کرنے کے انعام میں ان کے گلے میں یہ دونوں لعنتوں کے طوق ڈال کر جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے آرام کرنے کے لیے ایک کونہ میں بیٹھ گئے۔ اب ان اسلامی حکومتوں کو اس طرح دست و گریبان کردیا ہے کہ یہ خود ہی ایک دوسرے کو مارتے اور مرتے رہیں۔ عیسائی شاطر آرام سے بیٹھ کر ان کی اس کشتی کا تماشا دیکھتے ہیں پھر جس کو چاہتے ہیں کامیاب اور جس کو چاہتے ہیں ناکام قرار دے کر دوبارہ کشتی کے لیے تیار کرتے ہیں۔ مسلمان ہیں کہ ان کی سمجھ میں اب یہود کی طرح کچھ آتا ہی نہیں کہ ہم کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ؟ اب وہ وقت ہے کہ علماء اور مشائخ کو یہ فکر نہیں کہ کافروں کو مسلمان بنائیں یا اسلام پر جو حملے ہو رہے ہیں ان کا جواب دیں ان کا کام اب صرف یہ ہے کہ جہاں تک ان کے بس میں ہے وہ مسلمانوں کو کافر بنائیں اور اس طرح مسلمانوں کو اگر سیاسی امن میسر ہو تو مذہبی گروہ بندی کی لعنت میں ان کو پھنسا کر دن بدن کمزور سے کمزور تر کرتے چلے جائیں۔
اس وقت مسلمانوں کی جتنی مملکتیں ہیں ان میں انتشار ، بدامنی ، لڑائی جھگڑا ، ڈاکہ زنی ، قتل و غارت ، گروہ بندی ، فرقہ پرستی ، فتویٰ بازی اور شور و غوغا ہے۔ ان تمام حکومتوں کی اندورنی حالت ہے تو ازحد خراب ہے اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات ہیں تو ان کا پوری طرح سے ستیاناس ہے ، کسی کو کسی پر اعتماد نہیں۔ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا وَ کُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا 00
آیت 84 اور 85 کا ترجمہ ایک بار پھر پڑھو اور سر پکڑ کر بیٹھ جاؤ ایک ایک لفظ پر غور کرو۔ ایمانداری سے بتاؤ کہ اس کا ایک ایک لفظ ایک ایک فقرہ ایسا نہیں جو ہماری اس وقت کی حالت پر فٹ ہوتا چلا جائے۔ اگر ایسا ہی ہے تو تم ہی بتاؤ کہ یہود کی داستان غم ہے یا ہماری حالت زار کا نقشہ۔ جو قوم اپنی کتاب کو وحی الٰہی کہے اور پھر کتاب کے کسی حصہ پر عمل کرے اور کسی حصہ سے بےنیاز ہوجائے اس کے لیے ذلت و رسوائی کے سوا اس دنیا میں کچھ ہے ؟ اگر نہیں تو اس وقت دنیا میں ہماری حالت کیا ہے ؟ کیا روز بروز یہود مسلمان اور مسلمان یہود تو نہیں ہو رہے ؟ اعمال کے لحاظ سے ؟ کردار کے لحاظ سے ؟ اخلاق کے لحاظ سے ؟ عادات واطوار کے لحاظ سے ؟
Ayah 2:86دُنیا کی خاطر آخرت کو برباد کیا لیکن دنیا بھی ہاتھ نہ آئی :
167: آخرت کا تصور خالصتاً اسلامی تصور ہے اس لیے کہ اسلام نے بار بار اس کا ذکر کیا ہے اور دونوں کے لیے الگ اصول و قواعد بیان کیے ہیں اور مسلمانوں کو ہدایت کی ہے کہ دنیا کے اندر رہ کر دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی سنوارنا ہے اور دنیا کا کوئی ایسا فائدہ جو آخرت کو برباد کر دے اس کو حاصل کرنے سے باز رہنا ہے اور آخرت کا کوئی فائدہ جو دنیا کا نقصان برداشت کرنے سے حاصل ہوتا ہے خوشی سے دنیا کا نقصان برداشت کرنا ہے یہ تصور جس کو اسلام نے نشو ونما دی ، اس کو قوم بنی اسرائیل نے بالکل بھلا دیا تھا۔ گویا ان کی قومی زندگی میں یہ نیست و نابود ہوچکا تھا ، اسلام نے اس کو دوبارہ زندہ کیا۔
زیر نظر آیت میں یہود کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم وہ لوگ ہو جنہوں نے دنیا کی خاطر آخرت کو برباد کیا تھا تم نے آخرت کو فی الواقعہ برباد کرلیا لیکن دنیا کو تم حاصل نہ کرسکے۔ جس کا قدرتی نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ دنیا میں تم خائب و خاسر ہوتے اور یہی ہوا کہ دنیا کی ناکامی بھی تمہارا مقدر بن گئی اور تم ایسے نامراد ہوئے کہ ” پیاز بھی کھا گئے اور جوتے بھی “ اور کسی قوم کی بدبختی اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتی ہے
لیکن ڈھیٹ قوموں کو ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور ظاہر ہے کہ ڈھیٹ کہتے ہی اس کو ہیں جس کی لغت میں شرم نام کی کوئی چیز موجود نہ ہو۔ فرمایا جا رہا ہے اچھا ! دنیا کی ناکامیوں کا منہ دیکھ لیا ہے تو اب آخرت کے عذاب کے لیے تیار ہوجاؤ اور یاد رکھو کہ آخرت میں بھی تمہارا کوئی ممدو معاون نہیں ہوگا ، تمہارے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔
Ayah 2:87بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کی یاددہانی :
168: موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر پیچھے گزر چکا آپ کا حسب و نسب اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) چند واسطوں سے یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ ان کے والد کا نام عمران اور والدہ کا نام یوکابد تھا۔ یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام اسرائیل تھا اور وہ یوسف (علیہ السلام) کے والد ماجد تھے۔ مشیت ایزدی کے مطابق جب حضرت یوسف (علیہ السلام) تخت مصر تک پہنچ گئے تو انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت یعقوب اور اپنے بھائیوں کو مصر ہی کی قریب ایک نئی بستی آباد کر کے اس میں لا بسایا چونکہ یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے لہٰذا اس طرح بنی اسرائیل بارہ قبائل میں تقسیم ہوگئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت بنی اسرائیل فرعون وقت کے زیرعتاب تھے۔ وہ اسرائیلی لڑکوں کے قتل کا فیصلہ دے چکا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ اور تمام اہل خاندان سخت پریشان تھے کہ کس طرح بچہ کو قاتلوں کی نگاہ سے محفوظ رکھیں ؟ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو زندہ رکھنے کی ترکیب والدئہ موسیٰ کے دل میں القاء کی اور اس ترکیب سے موسیٰ (علیہ السلام) کی صرف جان ہی کیا بچی کہ فرعون کے محالت میں پرورش پانے لگے۔
بچپن ہی میں آپ کو معلوم ہوگیا تھا کہ میرا تعلق قوم بنی اسرائیل سے ہے اور فرعون گویا میری قوم کے لوگوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے۔ آپ کی جوانی کے دنوں ہی میں وہ واقعہ قتل ہوا اگرچہ آپ کا ارادہ قتل کا نہ تھا لیکن مشیت ایزادی کا فیصلہ تھا کہ اب موسیٰ کو مصر سے بخیریت نکال لے چلنا ہے ، فرعون کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑ کر جیل ڈالنے کا فیصلہ ہوچکا تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) خود ہی مصر چھوڑ گئے۔
چلے چلاتے مدین پہنچے اور وہاں اللہ نے ٹھہرنے کا مو قع فراہم کردیا۔ اس طرح مشیت ایزادی نے ناز و نعمت سے پرورش کروانے کے بعد جوانی کے عالم میں ایک ریوڑ کا چرواہا بنا دیا اور اس طرح قانون الٰہی نے ایک ریوڑ کے راعی کو انسانوں بلکہ یوں کہیں کہ بنی اسرائیل کے گلہ کا راعی بنانے کے لیے تیار کرنا شروع کردیا۔ نبوت عطا کرنے کا وقت قریب آیا تو اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) عیالدار تھے اور اہل و عیال کو لے کر اپنے وطن مصر کو واپس آ رہے تھے کہ راستہ میں ایک رات آگ دکھا کر اللہ تعالیٰ نے اپنے قریب بلا لیا۔ آگ لینے کی غرض سے آگ کے قریب پہنچے ہی تھے کہ وحی الٰہی نے اپنی طرف متوجہ کرلیا اس طرح نبوت سے فیضیاب ہوئے اور اپنے وطن مصر پہنچ کر فرعون کو مخاطب کیا۔ مصر میں اس وقت فرعون کی اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى ٞۖ0024 کی صدا بلند تھی ، آپ نے فرعون کو بتایا کہ تیری یہ صدا جھوٹ ہے ، رب تو نہیں بلکہ رب تیرا ، میرا اور سب کا ایک ہی ہے اور وہی ہے جس نے مجھے ، تجھے اور سب کو پیدا کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر تو اس صدا کو نہیں روک سکتا تو بنی اسرائیل کو یہاں سے ہجرت کرنے کی اجازت دیدے۔ فرعون نے یہ بات نہ مانی۔ ایک مدت تک موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کو دلائل نبوت سے سمجھاتے رہے لیکن فرعون اور اس کے حواریوں نے بات نہ مانی۔ انجام کار فرعون کی اجازت کے بغیر اللہ کے حکم سے موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ساتھ پروگرام بنا کر رات کے وقت پروگرام کے مطابق مصر کو چھوڑ کر نکل گئے۔ جب فرعون کو معلوم ہوا تو اس نے اعوان و انصار کے ساتھ تعاقب کیا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) حکم الٰہی کے مطابق سمندر پار کر گئے۔ اور فرعون اور اس کے اعوان و انصار سب غرق ہوگئے۔
موسیٰ (علیہ السلام) ایک مدت تک قوم کی تربیت کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا مرتبہ عطا فرمایا قوم کو ہدایت و راہنمائی کے لئے کتاب یعنی تورات نازل فرمائی لیکن قنم ایک مدت تک غلامی میں رہ رہ کر آزاد قوموں کی سی صلاحیت بالکل ضائع کرچکی تھی انہوں نے زبان سے اقرار تو کرلیا تھا لیکن عملاً موسیٰ (علیہ السلام) کو پریشان ہی رکھا۔ ہر بات میں ٹانگ اڑائی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ اولو العزم پیغمبر تھے اس لئے ہر قسم کے ایذا رسانی اور مخالفت کے باوجود صبر کے ساتھ ان کی اصلاح میں مشغول و منہمک رہے کے داعی اجل کو لبیک کہنے کا وقت آگیا۔ تورات اور کتب تاریخ کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) ایک سو بیس سال کی عمر گزارنے کے بعد دار فانی سے رخصت ہوئے۔ لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے درمیان تقریباً اڑھائی سو سے چار سو سال تک عرصہ ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انبیاء کرام (علیہ السلام) کے پہ درپے آنا :
169: موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) کا متواتر اور بکثرت آتے رہنا تاریخ کا ایک مشہور اور مسلم واقعہ ہے۔ حضرت یوشع بن نون ، ، حضرت دائود (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے ہیں۔ ان انبیاء کرام کی تذکار اس بات کے شاہد ہیں کے بنی اسرائیل نے ہر نبی کو ستانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) جنہوں نے بنی اسرائیل کو سینکڑوں سالوں کی غلامی سے نجات دلائی اور فرعون جیسے ظالم و فاسق بادشاہ کے ظلم و فسق سے بچایا اور موقع بہ موقع آیات و بینات دکھائے اس کی داستانیں آپ پڑھ چکے ہیں۔ دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ جو جو زیادتیاں انہوں نے کیں ان کا تذکرہ بھی جابجا قرآن کریم میں موجود ہے اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ دونوں باپ بیٹے کو جس طریقے سے قتل کیا گیا ان کی داستانیں آج بھی صفحہ قرطاس میں محفوظ ہیں جن کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
شاخ یعقوب کے آخری نبی سیدنا عیسیٰ g:
170: سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سلسلہ انبیاء بنی اسرائیل کے خاتم ہیں۔ سنہ عیسوی آپ ہی کے نام سے جاری ہیں۔ آپ کے بعد صرف نبوت محمدی ﷺ ہوئی جس کا تعلق بنی اسماعیل سے ہے۔ ملک شام کے علاقہ ارض گلیل میں ایک قصبہ ناصرہ نامی ہے وہی عیسیٰ (علیہ السلام) کا آبائی وطن تھا۔ ولادت باسعادت بیت المقدس کے علاقہ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ ماجدہ اہل خانہ کے ساتھ بیت المقدس سے نکل کر اپنے اصلی وطن قصبہ ناصرہ کی طرف جارہی تھیں خاندان یوسف بن یعقوب بن ماشان نامی ایک حکیم کا تھا۔ جناب یوسف لکڑی کی صنعت سے خوب واقف تھے اسی لئے یوسف نجار کے نام سے مشہور تھے۔ شام اس وقت رومی مملکت کا ایک نیم خود مختار صوبہ تھا۔ اس وقت والی شام ہیرو دوس تھا۔ مسیحی تقویم میں تین سال کی غلطی شروع ہی سے چلی آرہی ہے اس لئے آپ کا سال ولادت وہ نہیں ہے جس سے مسیحی تقویم شروع ہوتی ہے بلکہ اس سے تین سال بعد کا ہے۔ آپ کی ولادت کا مہینہ بھی دسمبر نہیں جیسے ایک عرصہ سے مشہور چلا آ رہا ہے اور آج بھی عیسائی قوم 25 / دسمبر ہی کو آپ کی لادت کا دن سمجھتی ہے۔ آپ کی ولادت اگست کے مہینہ میں ہوئی جو اس علاقہ میں بھی نہایت گرمی کا مہینہ ہے۔ قرآن کریم اور انجیل مقدس دونوں کی شہادت اس سلسلہ میں موجودہ ہے لیکن کوئی قوم جب من حیث القوم کوئی نظریہ اپنا لیتی ہے تو اس کو چھوڑ نے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوتی۔ ایک نہیں ، ہزرا دلیل موجود ہو تو وہ سب بیکار ہے۔
آپ کی والدہ محترمہ سیدہ مریم اس زمانہ کی تمام عورتوں پر فضلیت رکھتی تھیں۔ آپ نہایت پاکباز اور پاکدا من بی بی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی طرح سیدہ مریم کو الہام و القا کی قوت وہبی سے نوازا تھا۔ وہ اپنے خاندان کے مردوں پر بھی فوقیت رکھتی تھیں ان پر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام تھا۔ مریم منت عمران بن ماشام قوم بنی اسرائیل کے ایک بڑے معزز خاندان سے تھیں۔
مسیح (علیہ السلام) کا سال پیدائش موجود تقویم کے لحاظ سے 3 عیسوی کہنا چاہئے لیکن اس طرح کی قوی غلطیوں کو اگر غلطی تسلیم بھی کرلیا جائے تو اصلاح کبھی نہیں ہوتی اس لئے غلط العام کو صحیح کہہ دیا جاتا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی طرح سیدنا مسیح (علیہ السلام) کو بھی کم عمری میں نبوت عطا کردی گئی لیکن کم عمری سے مراد دودھ پیتا بچہ یا کھیل کود کا زمانہ نہیں بلکہ 25 ، 27 سال کا نوجوان مراد ہے۔ چونکہ دوسرے انبیاء کرام کو نبوت ملنے کا زمانہ چالیس سال گزر جانے کے بعد متصور ہوتا ہے اس نسبت سے کم عمری کہا گیا ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) تیس سے چالیس سال کی عمر کے درمیان دار فانی سے دار لبقاء کی طرف اٹھا لئے گئے تھے۔ ابن مریم کے لفظ میں اشارہ ہے کہ عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) اپنی پیغمبرانہ عظمت کے باوجود محض بشر ہی تھے جو ایک عورت کے بطن سے پیدا ہوئے تھے جیسے دوسری عورتوں کے بطن سے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اللہ ، ابن اللہ یا مثیل اللہ نہیں تھے جیسا کہ عیسائیوں نے سمجھایا بیان کیا ہے۔ اسلام کے نزدیک اللہ وہ ذات ہے کہ لا ضدلہ ولا ندلہ لا مثل لہ ولا مثال لہ۔
وہ سچائی کی روشن نشانیاں کیا تھیں :
171: بَیِّنٰتٍ صفت ہے اور جہاں صرف لفظ بَیِّنٰتٍ ہے وہاں اس کا موصوف جس کی وہ صفت ہے مقدر ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کے کلام پر غور و فکر کو موصوف مقدر کو قرار دینا چاہئے۔ کلام الٰہی میں ہمیشہ بَیِّنٰتٍکا موضوف ” اٰیٰتٍۭ “ کا لفظ آیا ہے جیسا کے اس سورة بقرہ میں نبی کریم ﷺ کی نسبت فرمایا ہے : وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ 1ۚ، اس لئے جو معنی اٰیٰتٍۭ کے ہیں وہی معنی صرف ” بَیِّنٰتٍ “ کے بھی ہیں کیونکہ اٰیٰتٍۭ اس کا موصوف وہاں مقدر ہے اور جو مراد لفظ اٰیٰتٍۭ سے ہے وہی مراد لفظ ” بَیِّنٰتٍ “ سے ہے مع اس صفت کے جس پر لفظ بَیِّنٰتٍولادت کرتا ہے۔
اٰیٰتٍۭ کے معنی لغت میں علامت یعنی نشانی کے ہیں اور علامت ہمیشہ اس پر جس کی وہ نشانی ہے دلالت کرتی ہے پس آیت کے معنی دلالت کرنے والے کے ہوئے جیسا کے امام فخر الدین رازی نے بھی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں لکھا ہے : انا لا یۃ ھی الدلالۃ اور یہ قرآن کریم کے فقرے ، اللہ کی واحدانیت اور انبیاء کی نبوت اور احکام شریعت پر دلالت کرتے ہیں ۔ اسی لئے قرآن کریم کے فقرہ کو بھی آیت کہتے ہیں۔ جیسا کے تفسیر معالم التنزیل میں : وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ 1ۚ، کی تفسیر میں لکھا ہے : واضحات مفصلات بالحلال والحرام والحدود والا حکام ، یعنی حلال و حرام اور حدود احکام کا مفصل بیان ” آیات بینات “ ہے ۔ اور فقرات قرآن کریم پر اس لئے کہ وہ احکام پر دلالت کرتے ہیں ۔ آیات کا اطلاق ہوا تو آیات سے خود احکام الٰہی بھی جو اس شخص کے وجود اور عظمت و جلال اور قدرت و سطوت و اختیار پر دلالت کرتے ہیں۔ جس نے وہ احکام صادر کئے ہیں ، مراد لئے جاسکتے ہیں۔ در حقیقت آیات کے لفظ سے قرآن کریم کی آیتیں یا احکام جو اللہ نے ان آیتوں میں نازل فرمائے ہیں ، مراد لینا ایک ہی بات ہے۔
قرآن کریم میں اس لفظ کا استعمال کبھی تو اللہ کی جانب سے ہوا جیسا کہ اس آیت میں : وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ 1ۚ، اور کبھی بطور قول کفار یا اہل کتاب کے ہوا سے جیسا کے اس آیت میں : وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ 1ؕ ، پس جہاں قرآن کریم میں
اس لفظ یعنی ” آیت “ ، ” آیات “ ، ” بینات “ یا ” آیات بینات “ کا استعمال اللہ کی طرف سے ہوا ہے اس سے ہمیشہ وہ احکام یا نصائح اور مواعظ مراد ہیں جو اللہ نے بذریعہ اپنے کلام یا وحی کے انبیاء پر نازل فرمائے ہیں۔ ان احکام و مواعظ میں سے بعض خفی ہیں جن کی حکمت بہ تامل وتدقیق نظر سمجھ میں آتی ہے اور بعض ایسے ہیں جو نہایت صاف واضح اور بدیہی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے کبھی صرف ” آیات “ سے اور کبھی ” آیات بینات “ سے اور کبھی زیادہ تربد یہی ہونے کے سبب سے صرف ” بینات “ سے ان کو تعبیر کیا ہے۔
قرآن کریم میں رسول کے رسول ہونے کے دلائل و احکام کو ” بینات “ کہا ہے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر میں بھی فرمایا کہ : وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ اور تمہارے پاس موسیٰ (علیہ السلام) بھی روشن دلائل لر کر آئے۔ بلکہ سب رسولوں کو وہ دلائل دے کر بھیجا گیا جیسے ارشاد ہوا کہ : قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ ، ” اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے میرے سے پہلے بھی تمہارے پاس روشن دلائل لے کر رسول آئے۔ “
عیسیٰ (علیہ السلام) جو آیات بینات یعنی روشن دلائل لے کر آئے تھے قرآن کریم میں ان کو کہیں استعارات میں اور کہیں تفصیل سے بیان کیا ہے اور اس سے مراد وہ دلائل وبرہان اور معجزات ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو دوسرے انبیاء کی طرح عطا کئے گئے تھے۔ ان کی تفصیل موقع پر آئے گی۔
روح القدس کی تائید کا مطلب کیا ہے ؟ :
172 : روح القدس اسلامی اصطلاح میں مشہور و ممتاز ومقرب فرشتہ یعنی ملکوتی موت ہے جس کو جبرائیل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور مسیحی اصطلاح میں روح القدس ” تثلیث مقدس “ کے اقنوم ثالث کو کہتے ہیں لیکن اس اصطلاح کا تعلق اسلامی اصطلاح سے کسی قسم کا بھی نہیں۔ اس کا ذکر اس لئے کردیا گیا ہے کہ بعض اوقات اصطلاح کے مشترک ہونے کی وجہ سے بڑے بڑے مغالطے اور غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں یہاں کوئی اس طرح کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ اس سے مفہوم یہ نکلتا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) اپنی بشریت کی بناء پر اعانت خداوندی کے محتاج تھے اس لئے اللہ نے ان کی روح القدس سے اعانت فرمائی جیسا کہ وہ اکثر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی فرماتا رہا ہے اور اب بھی اپنے نیک بندوں کی اعانت فرماتا رہتا ہے ۔ تعجب ہے کہ جو چیز مسیح (علیہ السلام) کی عجز اور کمزوری پر دلالت کرتی ہے اس کو عیسائیوں نے طاقت اور قدرت سمجھ لیا اور انہوں نے یہ ناکام کوشش کی کہ قرآن کریم میں بھی مسیح کی شخصیت کو ماوراء انسانیت سمجھا گیا ہے۔ حالانکہ یہ ان کی سمجھ کا نقص ہے قرآن کریم نے مسیح (علیہ السلام) کی شخصیت کو ایک اللہ کا بندہ اور رسول ہونے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا اور بیان کیا۔
کلام الٰہی کو بھی روح کہا گیا ہے وہ اس لئے کہ قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جو لوگوں کو حیات یعنی زندگی بخشتی ہے بلکہ وہی حقیقی زندگی کا سرچشمہ ہے کیونکہ اس سے کفر کو موت آتی ہے اور اسلام کو زندگی ملتی ہے۔ قرآن کریم میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین کے متعلق فرمایا گیا ہے : وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ 1ؕ ، کہ اللہ نے اپنی روح کے ساتھ ان کی تائید فرمائی۔ یعنی ان کو تقویت دے کر ان کی کمزوری دور کردی۔
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت ؓ کے لئے ایک خاص موقعہ پر روح القدس کے مدد کرنے کی دعا فرمائی ایک دفعہ حضرت حسان نے ابوہریرہ ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے ابوہریرہ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ حسان ! تو مشرکوں کو اشعار کا جواب دے۔ اے اللہ ! تو حسان کی تائید روح القدس سے فرما۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا ہاں ! خدا کی قسم میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حسان ! تم ان مشرکوں کی ہجو کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ قرآن کریم میں اس ” روح القدس “ کو ” روح الامین “ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ حسان ؓ سے آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ : وروح القدس معک اور روح القدس تیرے ساتھ ہے۔ مختصر یہ کہ اس فقرہ سے سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی بشری کمزوری کا اظہار تو ہوتا ہے نہ معلوم مافوق الفطرت انسانی اس کو کس طرح سمجھ لیا گیا ایسے ہی مواقع کے لئے کہا گیا ہے کہ
^چلتی کا نام گاڑی رکھیں اور بنے دودھ کو کھویا
ہوائے نفس کی پیروی سراسر گمراہی ہے :
173: پیغمبر کی اتباع و اطاعت سے عار محسوس کرنا ہر دور میں موجود رہا ہے کیونکہ انسان اپنا قاضی و حاکم اپنے نفس ہی کو بنانا پسند کرتا ہے جو بات اس کی خواہش کے خلاف ہوئی وہ اس کو کبھی پسند نہ آئی جو احکام اسے اپنی خواہشات یا اپنی محدود ناقص اور جذبات زدہ عقل کے منافی نظرآئے جھٹ اس کا انکار کردیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں علم بغاوت بلند کردیتا ہے۔ فرمایا جا رہے کہ اے گروہ یہود ! تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس لئے کہ یہ تکبر کی کارستانی ہے۔ یہ اکڑنا اور اترانا اسی کا فعل ہے تم خود ہی غور کرو کہ کیا تکبر انسان کے لئے کوئی اچھی چیز ہے ؟ غور کرو کہ اس تکبر نے تم سے کیا کچھ کرایا ہے یاد ہے آپ کو ؟ بعض انبیاء کرام کو جھٹلانا اور بعض کو قتل ہی کردینا دونوں چالاکیاں اسی کی ہیں اور ان دونوں جرموں کو تم عملی جامہ پہنا چکے ہو۔ صرف یہی نہیں بلکہ تم اس کی سزا بھی بھگت چکے ہو ذرا تاریخ پر اپنی نظر دوڑا کر تو دیکھو۔ ذرا عربی جملہ پر غور کرو فرمایا : فَفَرِیْقًا کَذَّبْتُمْٞ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ 0087 (2 : 87) ” ایک فرقے کو تم نے جھٹلایا اور ایک فرقے کو قتل کرتے ہو “ یعنی جھٹلانے میں ماضی کا صیغہ استعمال کیا لیکن قتل میں مستقبل کا۔ گویا صاف بتا دیا کہ رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازشیں اب بھی تم کر رہے ہو۔ کیا اعجاز قرآنی ہے ظاہراً کچھ کہا بھی نہیں اور سب کچھ کہہ بھی دیا۔ سبحان اللہ !
Ayah 2:88بنی اسرائیل کی اندھی تقلید :
174: ان لوگوں نے امانت کے ادا کرنے میں ہمیشہ خیانت سے کام لیا ہے ، وہ سر سے لے کرپاؤں تک گندگیوں اور نجاستوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ” غلف “ اغلف کی جمع ہے اس سے مراد وہ چیز لی جاتی ہے جو پردہ کے اندر ہو ، اسی اعتبار سے آیت کے معنی یہ ہوئے کہ وہ لوگ اپنے آپ کو قرآن کریم کی تعلیم سے بےنیاز خیال کرتے ہیں اور غرور وتکبر کی بناء پر اس سے رو گردانی اختیار کرتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیات بینات ان کے قلوب و اذہان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ : غلف بضم الام غلاف کی جمع ہے۔ یہودی کہتے ہیں کہ ہمارے دل خزینہ دار علم و حکمت ہیں ہم آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ نہیں کرسکتے۔ گویا ان کا یہ کہنا علمی خیانت ہے اور جان بوجھ کر ازراہ تکبر علم کو علم کہنے کے لئے تیار نہیں اور جو کچھ ان کے پاس اہوا ہوا و خواہشات ہیں اسی کو علم کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ایک جگہ قرآن کہتا ہے کہ :
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا کَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ 0083 (المؤمن 40 : 83) ” جب ان کے رسول واضح دلائل لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے اپنے علم پر ناز کیا اور اسی عذاب کے پھیر میں آگئے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ “
جن لوگوں کا یہ دعویٰ ہو کہ وہ مذہبی امام و پیشوا ہیں ، ان کے پاس اللہ کی کتاب ہے اور بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ ان کا اولین فرض یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہر وقت حق بات ماننے کو تیار رہیں اور اس کو اسی طرح لبیک کہیں جیسے بھوکا کھانے کو اور پیاسا پانی کو لینے کے لئے لپکتا ہے مگر ان بدبختوں کی حالت یہ ہے ایسی صحیح تعلیم کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں جو دنیا و آخرت کی ترقی کا ذمہ لیتی ہے اور تمسخر و استہزاء کے طور پر کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ان مضامین سے کیا تعلق ، گویا دوسرے الفاظ میں ان کا فیصلہ یہ ہے کہ جس جگہ آج ہیں اس سے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھیں گے۔ پھر جس قوم و گروہ نے خو ود ہی ترقی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہو اور اپنے پاؤں میں اندھی تقلید کی بوجھل زنجیریں ڈال لی ہوں۔ ان سے اب کیا توقع ہوسکتی ہے۔
وہ تنزل و انحطاط کو پسند کرتے ہیں پس اس جمود و تقلید کی بنا پر جس کا سبب و حید وہ کفر و عصیان ہے جس کا انہوں نے پہلے ہی ارتکاب کرلیا ہے۔ ان پر اللہ کی پھٹکار نازل ہوچکی ہے۔ ان کے دل حق باطل قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اور اللہ کی رحمت گویا ان سے روٹھ گئی۔ یہ بات تو یہود کی چلی تھی اور ابھی جاری ہے لیکن اب مسلمانوں کو اپنی حالت پر بھی خیال دوڑانا چائیے کہ ہم بھی اس وقت اس کو رانہ تقلید کا شکار نہیں ہو رہے ؟ کیا ہم نے تحقیق و اجتہاد کا دروازہ بند نہیں کرلیا ؟ کتاب و سنت سے بعد و ہجر اختیار نہیں کیا ؟ کیا فقہ کی چند کتابوں میں مذہب کو مقید کر کے اصلی سرچشمہ حیات سے دور نہیں جا پڑے ؟ اس کو غیر ضروری خیال کرنے لگ گئے اور اس طرح ارشاد الٰہی : فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ کے مرتکب نہیں ہوچکے ؟ کیوں نہیں تو پھر اس الحاد فی العمل کا نتیجہ ہے کہ غیروں کے محکوم بن گئے ہیں اور اس وقت لعنتی زندگی پر قانع ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔