Ayah 2:242گزشتہ احکام کی تاکید مزید کا پیارا انداز :
408: فرمایا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ آیات میں معاشرتی زندگی کی اکائی کے متعلق تم کو مختلف احکام دیئے گئے ہیں ، ان احکام میں ذرا غور و فکر اور عقل و تدبر سے کام لو گے تو تمہارے لیے اجتماعی زندگی کے قانون بھی اسی سے استنباط ہو سکیں گے اور پھر ان خاص احکام میں بھی ازدواجی زندگی کے قائم کرنے اور منقطع کرنے کے مختلف طریقے اور صورتیں بیان کی گئی ہیں جن میں کسی قسم کا ابہام نہیں بلکہ ہم نے اپنی آیتیں واضح کردی ہیں ۔ تاہم کوئی بات کتنی ہی واضح کیوں نہ ہو ، پیچیدگیاں پیدا کرنے والے کوئی نہ کوئی حجت نکال ہی لیتے ہیں۔ عقل والوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بات میں آسانی اور نرمی کا خیال کریں اور جس حال میں بھی ہوں عقل کو ہاتھ سے نہ جانے دیں کیونکہ عقل ہی وہ چیز ہے جس سے قرآن کریم کی ہدایات سمجھی جاسکتی ہیں اور پھر جو بات اچھی طرح سمجھ لی جائے اس پر عمل آسان ہوتا ہے۔
Ayah 2:243سلسلہ کلام پھر جہاد کی طرف پھیرا جا رہا ہے :
409: یہاں سے سلسلہ بیان پھر اسی طرف پھرتا ہے جہاں سے نکاح و طلاق کا بیان شروع ہوا تھا یعنی جہاد کے احکام و مصالح کی طرف اور فرمایا جا رہا ہے کہ جو جماعت موت سے ڈرتی ہے وہ کبھی زندگی کی کامرانیاں حاصل نہیں کرسکتی۔ بنی اسرائیل کی ایک عبرت انگیز سرگزشت جس نے باوجود کثرت تعداد کے جہاد سے اعراض کیا تھا۔
” اَلَمْ تَرَ “ عربی میں یہ طرز خطاب ایسے موقع پر آتا ہے جب مخاطب کو کسی بڑے اہم اور معروف واقعہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے۔ رؤیت سے ہمیشہ چشم بصارت ہی سے دیکھنا مراد نہیں ہوتا بلکہ وہم و تخیل اور غور و فکر اور عقل کی راہ سے بھی مطالعہ و مشاہدہ مراد ہوتا ہے اور پھر جب اس فعل کا صلہ ” اِلَى “ کے ساتھ آتا ہے تو مقصود کوئی نتیجہ نکالنا یا عبرت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ (راغب)
پھر یہی لفظ یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ تاریخ بنی اسرائیل کا کوئی بڑا مشہور واقعہ ہے جس کی طرف قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے اور فی الحقیقت ایسا ہی ہے اور اس آیت کا لفظ ” خَرَجُوْا “ ہی اس واقعہ کی تعیین کرنے کے لیے کافی ہے کیونکہ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ میں خروج کا ایک واقعہ ہے جس کو سب لوگ جانتے ہیں یعنی بنی اسرائیل کا خروج مصر سے جس کے ذکر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تورات کے اندر خروج کے نام سے باقاعدہ ایک کتاب موجود ہے۔ قرآن کریم نے وہی لفظ ” خَرَجُوْا “ اختیار کر کے اس مشہور و معروف واقعہ کا صاف صاف پتا دے دیا۔ دوسری تعیین اسی آیت کے لفظ ” اُلُوْفٌ “ سے ہوجاتی ہے ، کیونکہ بنی اسرائیل کے اس خروج میں ہزاروں کیا بلکہ لاکھوں کی تعداد تھی اور پھر یہ بات کہ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہی کے بنی اسرائیل کا ہے اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ دو آیتیں آگے چل کر جو اس مضمون پر مشتمل ہیں صاف صاف ذکر موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کے بنی اسرائیل کا ہے۔
بنی اسرائیل قریباً چار سو سال تک مصر میں رہے ، جس میں زیادہ تر زمانہ وہ غلامانہ زندگی بسر کرتے رہے تاآنکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پنجہ فرعون سے ان کو نجات دلوائی۔ فرعون کی قوم ان کو ہلاک کرنا چاہتی تھی اس کی ساری اسکیمیں اسی طرح کی تھیں ، موسیٰ (علیہ السلام) ان میں زندگی کی روح پھونکنا چاہتے تھے اور ان کا یہ چاہنا اللہ کے حکم سے تھا ، اس کی صورت یہ نکالی گئی کہ ان سب کو مصر سے نکلنے یعنی ہجرت کرنے کا حکم دیا اور حکم الٰہی کے مطابق وہ مصر سے لے کر ان کو نکل پڑے۔ فرعون کے ایک لشکر جرار نے ان کا تعاقب کیا۔ جس وقت یہودیوں نے اس عظیم الشان اجتماع کو دیکھا تو ان کے اوسان خطا ہوگئے اور ان کو اپنی جانوں کا خطرہ لاحق ہوگیا اور قرآن کریم نے ان کی اس حالت کو چار ، پانچ لفظوں میں بیان کردیا جہاں فرمایا : فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ0061 (الشعراء 26 : 61) جو قوم صدیوں تک غلام و محکوم رہ چکی ہو ، اس کے تمام جذبات حق و حریت فنا ہوجاتے ہیں۔ ارادہ میں ضعف و کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ جوش و ولولہ سرد پڑجاتا ہے۔ یہی حال بنی اسرائیل کا تھا اور حقیقت یہی ہے کہ محکومیت اور غلامی سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی بڑی لعنت نہیں ہو سکتی ، اس لیے ایسی قومی زندگی کو زندگی نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ قومی موت ہوتی ہے۔
اس جگہ سے نکال کر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی حمیت قومی میں جوش پیدا کرنے کے لیے فرعون کی ہلاکت کے کچھ عرصہ بعد اس قوم کو مخاطب ہو کر فرمایا تھا کہ : یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ 0021 (المائدۃ 5 : 21) ” اے میری قوم کے لوگو ! مقدس سرزمین میں جسے اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے داخل ہوجاؤ اور الٹے پاؤں پیچھے کی طرف نہ ہٹو کہ نقصان و تباہی میں پڑجاؤ ۔ “
کیا یہ قوم زندہ ہے ؟ جس کو پورے زور کے ساتھ یہ پیغام الٰہی بلکہ وعدئہ الٰہی پہنچایا جا رہا ہے کہ دیکھو ارض مقدس تمہارا آبائی وطن ہے۔ اس وقت غیروں نے اس پر قبضہ کر رکھا ہے اور اپنے وطن کو آزاد کرنے کی کوشش کرو ، یقیناً تم کامیاب ہوگے مگر ان کا جوش وطنیت اس درجہ مردہ ہوگیا تھا کہ انہیں ذرّہ برابر بھی احساس نہ ہوا اور بڑی ڈھٹائی سے یہ جواب دیا کہ : ” لوگوں نے کہا اے موسیٰ ! (علیہ السلام) اس سر زمین میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو بڑے ہی زبردست ہیں ، جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں ہم اس سرزمین پر قدم رکھنے والے نہیں ، ہاں ! اگر وہ لوگ خوبخود وہاں سے نکل گئے تو پھر ہم ضرور داخل ہوجائیں گے “ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کا اصرار بڑھا اور ان کی ہمت افزائی کے لیے بہت کچھ ان سے کہہ چکے تو انہوں نے برملا کہہ دیا کہ :
قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰهُنَا قٰعِدُوْنَ 0024 (المائدۃ 5 : 24)
” وہ بولے اے موسیٰ ! جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں ہم کبھی اس میں داخل ہونے والے نہیں ، تم خود چلے جاؤ اور تمہارا رب بھی تمہارے ساتھ چلا جائے ہم تو یہاں بیٹھے رہیں گے تم دونوں وہاں لڑتے رہنا۔ “
یعنی تم جاؤ اور تمہارا خدا دونوں جا کر لڑو ہم یہاں بیٹھ کر تمہاری جنگ کا تماشا دیکھیں گے۔ پھر ان کو اس بدبختانہ جواب کی سزا یہ ملی کہ چالیس سال تک اس ارض مقدس میں ان کا داخلہ بند کردیا گیا۔ ارشاد الٰہی ہوا :
فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً 1ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ 1ؕ (المائدۃ 5 : 26)
” اللہ کا حکم ہوا کہ اب چالیس برس تک وہ سرزمین ان پر حرام کردی گئی یہ اس بیابان میں (مجبور و لاچار ہو کر) سرگرداں رہیں گے ۔ “ اس عرصہ میں موجودہ لوگ تباہ و ہلاک ہوگئے اور دوسری نسل نے اگر اس علاقہ کو فتح کیا اور اس طرح وہ گویا من حیث القوم زندہ ہوگئی۔
قوموں کی زندگی اور موت ہمیشہ یہی ہوا کرتی ہے کہ اگر وہ خود حاکم و فرمانبردار ہوں تو زندہ ہیں اور اگر دوسروں کے سامنے مقہور و ذلیل ہیں تو انہیں مردہ کہا جائے گا ، بنی اسرائیل نے ارض مقدس کو فتح کرنے سے انکار کیا اور وہ مردہ ہوگئے۔ حالانکہ اس زندگی کیلئے تو انکو مصر سے نکالا گیا تھا۔ ایک مدت کے بعد اللہ نے ان پر اپنا فضل کیا اور آنے والی نسل کے ذریعہ سے آبائی وطن نوازش کر کے ان کو زندگی بخشی۔ قوموں اور ملتوں پر اللہ تعالیٰ اس قسم کا فضل و احسان کیا کرتا ہے مگر وہ توجہ نہیں کرتیں۔ آج مسلمان قوم کو بھی من حیث القوم اپنی موت وحیات پر خیال کرنا چاہیے کہ وہ مردہ ہیں یا زندہ ؟ قومی زندگی کی وضاحت اوپر کردی گئی اس پر قیاس کر کے اپنی موت وحیات کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
انسان جب کام کرنے کے لیے گھر سے باہر قدم نکالتا ہے ، مخالفین و معاندین کی کثرت ہوتی ہے۔ اسے ہر وقت اپنی جان کا خطرہ رہتا ہے اگر یہی خوف ترقی کر جائے تو کبھی کام کرنے کی ہمت نہ پیدا ہوگی اور دشمن سے مقابلہ نہ ہو سکے گا۔ اس لیے کام شروع کرنے سے قبل ہی فرما دیا کہ انفرادی اور اجتماعی حالت میں زندگی اور موت کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں اللہ تعالیٰ ہی انسانوں کو زندگی بخشتا اور مارتا ہے۔ تمہاری حیات و ممات اسی خدائے واحد کے قبضہ میں ہے۔ اگر اس نے تمہیں زندہ رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو کوئی انسانی طاقت تم کو فنا نہیں کرسکتی اور یہ ضروری نہیں کہ تم میدان جنگ میں جا کر مر ہی جاؤ گے بلکہ اس کا تعلق شہنشاہ اعظم اور مالک السماوات والارض سے ہے۔ پس تم موت وحیات کی الجھن میں پھنس کر جہاد فی سبیل اللہ کے فرض سے رک نہ جاؤ ۔ یاد رکھو کہ جہاد موت نہیں بلکہ زندگی ہے۔
مفسرین کرام نے زیر نظر آیت کے تحت بہت کچھ لکھا ہے ہمارے علم میں ہے لیکن ہم نہ اس کی تصدیق کرسکتے ہیں اور نہ ہی تردید کی کوئی ضرورت ہے ، اس لیے کہ جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے اس کی کوئی اصل کتاب و سنت میں موجود نہیں ، تورات میں حزقیل نبی کے مکاشفہ سے اخذ کر کے قرآن کریم کی تفسیر بنا دی گئی ہے جس کے لیے ہم پابند نہیں کہ اس کو قرآن کریم کا بیان سمجھیں۔ اشارہ صرف اس لیے کرنا پڑا کہ اس سے کوئی نئی بحث نہ شروع کردی جائے۔
Ayah 2:244جہاد پیش آجائے تو بےخوف و خطر ہو کر لڑو :
410: اسلام کا نظریہ جہاد ملک گیری کی ہوس میں نہیں ہے بلکہ اشاعت دین الٰہی کی مزاحمت میں ہے ، دوسرے لفظوں میں ظلم و فساد کے مٹانے کی کوشش میں پیش آتا ہے کہ ظالم و فسادی ظلم اور اور فساد سے باز آنے کے لیے تیار نہیں ہوتا جس کے نتیجہ میں تصادم ہوجاتا ہے کیونکہ ظلم و فساد کی راہ اللہ کی راہ نہیں ہوتی۔ اسلام کہتا ہے کہ ایک سچے مسلمان کا جو کچھ ہے وہ صرف اللہ ہی کے لیے ہے اس کی موت وحیات کا بھی وہی مالک ہے۔ پس جب موت وحیات کسی انسان کے قبضہ میں نہیں اور جہاد میں بھی مرنا یقینی نہیں تو اٹھ کھڑے ہوں ، کیوں ؟ اللہ کا قانون بلندو برتر کرنے کے لیے جہاد و قتال کرو کہ اسلام کو غلبہ و اقتدار حاصل ہو اور ظلم و فساد کا پلہ نیچے ہوجائے۔ کرئہ ارض امن کا گہوارہ بن جائے اور چونکہ تم محض اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے جنگ کرو گے تو ضروری ہے کہ وہ تمہاری ہر دعا کو سنے اور اس کو اجابت بخشے اور تمہیں مخالفین کے مقابلہ میں کامیابی نصیب کرے۔ اس آیت کو پچھلی آیت کے ساتھ رکھ کر ذرا غور کرو تو وہ سارے پردے خودبخود چھٹ جائیں گے جو قومی زندگی پر ہمارے مفسرین نے ڈال دیئے ہیں اور یہ بات روز روشن کی طرح و اضح ہوجائے گی کہ ملی و قومی حیات و ممات کیا ہے ؟ اور قومیں باوجود کثرت افراد کے کس طرح مر جاتی ہیں اور جب اللہ زندگی بخشتا ہے تو پھر وہ باوجود قلت افراد کے کس طرح زندہ ہوجاتی ہیں اور پھر اپنی قومی و ملی زندگی پر ذرا دھیان دے کر دیکھیں تو بات مزید روشن ہوجائے گی ، کیا اسلام نے جو زندگی ہم کو دی تھی آج وہ زندگی ہمارے اندر من حیث القوم موجود ہے ؟
Ayah 2:245اللہ کو قرض دینا کیا ہے ؟
411: جان بلاشبہ بہت عزیز چیز ہے لیکن بعض اوقات مال خرچ کرنا جان سے بھی زیادہ مشکل ہوجاتا ہے لیکن جہاد فی سبیل اللہ میں جس طرح جان پیش کرنا پڑتی ہے بالکل اسی طرح مال بھی خرچ کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ سامان حرب خریدنا ، دوسروں کو تیاری میں مدد دینا ، خصوصاً جن کے پاس مال نہیں ان کو مالی کمک پہنچانا بھی ضروریاتِ جہاد میں سے ہے۔ اس آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ خلافت اسلامی کو تمہاری دولت کی ضرورت ہو تو بغیر حیل و حجت روپیہ صرف کرو۔
میدانِ جنگ میں جاتے ہی تمہیں فتح و کامرانی نصیب ہوگی ، اس قدر مال غنیمت ملے گا کہ سمیٹ نہ سکو گے اور جس طرح تم نے اسلام کی بقاء و قیام کے لیے مال صرف کیا تھا اس سے کئی گنا زیادہ تم کو مل جائے گا ، صدہا جگہوں پر ہلالی پرچم بلند ہوگا اور ہزاروں کافر و مشرک دائرئہ اسلام میں داخل ہوں گے۔ تم غربت و افلاس کی پرواہ نہ کرو کہ قبض و بسط اور تنگدستی و کشائش اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ تمہارے پاس لاکھوں ، کروڑوں روپیہ ہو مگر اللہ ایسے سامان پیدا کر دے کہ تمام دولت تمہارے لیے بیکار ثابت ہو اور تم ناداری و تہی دستی کی زندگی بسر کرو اور یہ بھی اسی کے اختیار میں ہے کہ غربت کے ایّام میں تمہیں ایسی فرحت و شادمانی نوازش کرے کہ بڑے بڑے دولتمندوں کو بھی وہ نصیب نہ ہو۔
” قَرْضًا حَسَنًا “ اصطلاح قرآنی میں اس لفظ سے مراد وہ رقم ہے جو دین اسلام کی کسی مد میں خرچ ہو سکے۔ اس جگہ مراد مصارف جہاد ہیں۔ اس ملّی چندہ کو قرض اور پھر قرض حسنہ سے تعبیر کرنا عین محاورئہ عرب کے مطابق ہے کہ اہل عرب ہر اچھے معاوضہ والے عمل کو اچھے قرض اور ہر برے معاوضہ والے عمل کو برے قرض سے تعبیر کرتے تھے۔ عرب ایک مشہور تجارت پیش قوم تھی۔ قرض ، بیع و شراء کے الفاظ اگر ان کی زبان کا جزو بن گئے ہوں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہاں قرض اس کو مجازاً کہہ دیا ورنہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح قرض کا عوض ضروری دیا جاتا ہے اسی طرح تمہارے انفاق فی سبیل اللہ کا عوض بھی ضروری ملے گا اور بڑھانے کا بیان کتاب و سنت میں دوسری جگہوں پر بھی بار بار آیا ہے اور پھر یہ بات بھی صحیح ہے کہ لوگوں کی حاجت برآری کی جائے تو یہ بھی نیک کام ہے ، جس کو قرض سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
چنانچہ صحابہ کرام ؓ نے اس آیت کے نزول کے بعد اللہ کی راہ میں ، خصوصاً جہاد میں بےدریغ روپیہ صرف کیا اور ایسے ایسے ایمان افروز واقعات رونما ہوئے کہ ان کو پڑھ اور سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ کس کمال کے لوگ تھے وہ ؟ ایسا بھی ہوا کہ سب کا سب مال قرض الٰہی میں دینے کو تیار ہوگئے اور قبول کرنے والے یعنی رسول عربی ﷺ کو بار بار کہنا پڑا کہ نہیں ! سارا نہیں آدھا نہیں تیسرا حصہ ۔ مختلف لوگوں سے مختلف حصوں کے ساتھ وصول کیا جبکہ ان کا تقاضا زیادہ خرچ کرنے کا تھا۔
تیاری مکمل ہوچکی ہے اور ہر ایک فرزند اسلام جہاد فی سبیل اللہ کے جوش و ولولہ سے سرفروشی کے لیے تیار ہے مگر جب تک اس عظیم الشان گروہ کے لیے کوئی امیر نہ ہو جو میدان جنگ میں لے جا کر پوری مہارت کے ساتھ ان کو لڑا سکے ، اس انبوئہ کثیر کو حرکت نہیں دی جاسکتی۔ اب آنے والی آیات میں امیر کی ضرورت اس کی خصائص و امتیازات اور وجوہ انتخاب پر گفتگو کی جاتی ہے۔
Ayah 2:246جہاد کے لیے انتخاب امیر کی ضرورت اور بنی اسرائیل کی اپیل :
412: قوم کی تعلیم و تربیت اور ملکی انتظام ، دو جداگانہ فرائض ہیں اگرچہ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ ان دونوں کو ایک ہی وجود میں جمع کردیتا ہے ورنہ عام طور پر الگ الگ ہوتے ہیں۔ سموئیل نبی صرف تعلیمی امور کے منتظم اعلیٰ تھے۔ ان سے بنی اسرائیل نے درخواست کی کہ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے سپہ سالار کی ضرورت ہے جس کی امارت و سرکردگی میں ہم مخالفین سے جنگ کرسکیں۔ سموئیل کو معلوم تھا کہ یہ لوگ ابھی اس کام کے لیے تیار نہیں اس لیے انہوں نے دریافت کیا کہ عین وقت پر بھاگو گے تو نہیں ؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ملک پر غیروں کا قبضہ ہے ، ہماری اولادوں کو ہم سے جدا کردیا گیا ہے۔ قومیت اور وطنیت دونوں فنا ہوچکے ہیں۔ اب بھی ہم لڑنے کو تیار نہ ہوں گے تو پھر اور کونسا وقت ہوگا ؟ مگر انجام کار وہی ہوا جس کا کھٹکا تھا۔
جنگ میں جانے سے قبل اس امر کی ضرورت ہے کہ فوج ہر قسم کے سامان جنگ سے مسلح ہو۔ ضرورت وقت کے مطابق فنونِ حرب کی مشق کرلی ہو اور لڑائی کے وقت جن وسائل اور چالبازیوں کا علم ہو ان کی مہارت فوج کو بہم پہنچا لی ہو۔ یہ لوگ اس کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ ساری باتیں انتظامی ہیں ، جس پر وقت اور مال دونوں خرچ ہوتے ہیں۔ ان میں تو صرف ایک عارضی اور ہنگامی جوش تھا ، جس نے ان کو لڑنے کے لیے آمادہ کردیا تھا۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے اس وقت کے نبی کا نام سموئیل تھا ، جس کے لیے حسب ذیل شہادت کافی ہے :
” تو بھی لوگوں نے سموئیل کی بات سننے سے انکار کیا اور کہا ؕ نہیں ہم تو بادشاہ چاہتے ہیں جو ہمارے اوپر مقرر ہوتا کہ ہم بھی اور سب گروہوں کے طرح ہو ویں اور ہمارا بادشاہ ہماری عدالت کرے اور ہمارے آگے آگے چلے اور ہمارے لیے لڑائی لڑے۔ “ (سموئیل 8 : 19 ، 20)
” الْمَلَاِ “ یعنی اہل حل و عقد یا اہل الرائے گروہ یا جماعت۔ ” مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى1ۘ“ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے کوئی تین صدی بعد کا ہے جبکہ داؤد (علیہ السلام) جوانی کو پہنچ چکے تھے جو اس لشکر میں شامل تھے۔ سنہ مسیحی کے آغاز میں ابھی تقریباً گیارہ سو سال کی مدت باقی تھی کیونکہ سموئیل نبی جس کو تورات میں شموئیل بھی کہا گیا ہے (1100 ق م سے 1020 ق م) نبی ہوئے۔ ملک شام قدیم میں ایک کو ہستانی علاقہ افرائیم کے نام سے تھا ، بس اس علاقہ کے شہر رامہ میں یہ نبی رہتے تھے۔ ” ملک “ ، ” ملکا “ وہی ہے جس کو اردو میں ” رئیس “ یا ” امیر “ یا ” سپہ سالار “ کہا جاتا ہے۔ تورات کی زبان میں اس کو ” بادشاہ “ لکھا گیا۔ بنی اسرائیل میں ایک خاص عہدہ تھا جو فوج کے سردار کو دیا جاتا تھا بلکہ بنی اسرائیل ہر سردار اعلیٰ کو بادشاہ کہتے تھے۔
وہی کچھ ہوا جس کا خدشہ نبی نے ظاہر کیا تھا
سموئیل نبی نے ان کو کہا تھا کہ : ” تمہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو کچھ بعید نہیں کہ تم لڑنے سے انکار کر دو “ لیکن جب ان کو لڑائی کا حکم دیا گیا تو پھر کیا ہوا ؟ وہی جس کا نبی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ : ” ایک تھوڑی سی تعداد کے سوا سب نے جنگ سے پیٹھ دکھلا دی “ چناچہ بنی اسرائیل کی مشہور تاریخ آثار یہود میں تحریر ہے : ” ان پر دہشت طاری ہوگئی۔ وہ پہاڑوں میں چھپ گئے۔ بعض نے زیر زمین غاروں میں پناہ لی اور بہت سے لوگ تو اپنا ملک چھوڑ کر دیائے یردان عبور کر گئے “ (باب : 16 ، فصل : 6 ، فقرہ : 1) فرمایا : انہوں نے ایسا کیوں کیا ؟ اس لیے کہ وہ دراصل نسلی طور پر اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے اس لیے کہ نافرمان ہمیشہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے اور پھر کرتا ہی رہتا ہے۔
Ayah 2:247فوجی سپہ سالار یعنی کمانڈر انچیف کیسا ہونا چاہیے ؟
413: بنی اسرائیل کی درخواست پر ان کے وقت کے نبی سموئیل نے طالوت کو بادشاہ مقرر کردیا اور یہ تقرر اللہ کے ایک نبی سموئیل کا کیا ہوا تھا جو اس نے اللہ کے حکم سے مقرر کیا تھا۔ بنی اسرائیل کے بڑے بڑے سرداروں اور مالداروں کا خیال تھا کہ حکومت و فرمانروائی اور فوجوں کی امارت کے لیے وجہ انتخاب صرف دولت ہی ہو سکتی ہے پھر ان کو اپنی فراخی اور فارغ البالی پر ناز تھا ، وہ طالوت جیسے مفلس و غریب شخص کو اپنا امیر کیسے دیکھ سکتے تھے ، اس لیے اعتراض شروع کردیئے۔ نبی نے کہا کہ امارت کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے :
! : علم تاکہ ملک کا نظم و نسق قائم رکھ سکے۔ بہترین طریقہ سے حکومت کرنے کے قابل ہو اور سیاسی مسائل کی پیچیدگیاں سکھا سکے۔
" : جسم کہ اس کی ظاہری شکل و صورت سے رعب و داب ٹپکتا ہو۔ لو گوں پر اس کی ہیبت طاری ہو۔ فن حرب کا ماہر ہو اور فنونِ جنگ سے اچھی طرح واقف ہو ، فوجوں کو نظم و تربیت کے ساتھ لڑا سکے۔
یہ دونوں کمال و اوصاف طالوت میں اعلیٰ درجہ کے ہیں اور یہی باتیں ہیں جن کی بناء پر ایک شخص امیر یا بادشاہ منتخب کیا جاسکتا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ دیکھو اللہ کا علم بہت وسیع ہے اور اس کی نظر تمام لوگوں پر ہوتی ہے وہ جس میں قابلیت و استعداد دیکھتا ہے اس کو حکومت کے لیے چن لیتا ہے۔
دنیا نے ہمیشہ اپنے خاندانوں اور نسلی امتیازات کی پرستش کی ہے ، نسل و قوم کے بت کے آگے برابر سربسجود رہی ہے۔ اسلام نے آتے ہی ان قومی و نسلی امتیازات کو مٹا کر ہمیشہ کے لیے صرف انسانیت کی بےقید و عام عظمت کو قائم کردیا اور عمل کے قانون الٰہی پرز ور دیا اور اس نے اپنی دعوت کی سب سے پہلی اور کاری ضرب اسی نمرود نسل و قوم کے بت پر لگائی اور اعلان کردیا :
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا 1ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ 1ؕ.... (الحجرات 49 : 13)
” اے لوگو ! ہم نے دنیا میں تمہاری خلقت کا وسیلہ مرد اور عورت کا اتحاد رکھا اور نسلوں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا اس لیے کہ باہم پہچانے جاؤ ورنہ دراصل یہ تفریق و اشعاب کوئی ذریعہ امتیاز نہیں اور امتیاز و شرف اسی کے لیے ہے جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ متقی ہے۔ “
بلاشبہ ہر طرح کی فضیلت و بزرگی کی بنیاد صرف عمل ہے اور کوئی شے نہیں۔ قوموں اور خاندانوں کی تفریق صرف اس لیے ہے کہ باہم دیگر پہچان اور تمیز کا ذریعہ ہو۔ سب سے بڑا انسان وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے لیکن اسلام کی اس کوشش کے باوجود اس زہر کے اثرات بالکل ختم نہ ہوئے ، کیوں ؟ اس لیے کہ منافقین کا گروہ ہر دور میں موجود رہا۔
چنانچہ خود رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں جب سب سے آخری مہم بھیجی تو اس کی سرداری اسامہ بن زید ؓ کو دی اور زید ؓ جو اسامہ ؓ کے والد تھے رسول اللہ ﷺ کے غلام رہے تھے۔ اس وقت بھی بعض ظاہر بینوں پر یہ بات گراں گزری تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
(سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُا بَعَثَ رَسُولُ اللَّٰهِ ۔ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَیْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَیْدٍ فَطَعَنَ النَّاسُ فِی إِمْرَتِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللّٰهِ ۔ فَقَالَ إِنْ تَطْعَنُوا فِی إِمْرَتِهِ فَقَدْ کُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِی إِمْرَةِ أَبِیہِ مِنْ قَبْلُ وَایْمُ اللَّهِ إِنْ کَانَ لَخَلِیقًا لِلْإِمْرَةِ وَإِنْ کَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ وَإِنَّ ہَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ بَعْدَهُ ) (مسلم : 1647)
” تم وہی لوگ ہو کہ زید کی سرداری پر بھی قبل ازیں طعن کرچکے ہو حالانکہ وہ یعنی زید اس کا اہل تھا اور اب اسامہ (رح) سردار بنایا گیا ہے اس لئے کہ وہ بھی اس کا اہل ہے۔ ” اہل “ کے لفظ پر آپ ﷺ نے زیادہ زور دیا یعنی طعن بیکار ہے کیونکہ امارت و سرداری کے معاملہ کی بنیاد صرف اہلیت و قابلیت ہے اور کچھ نہیں۔ “
طالوت کون تھا ؟ بعض نے اس کو پسند کیا کیوں ؟
414: بنی اسرائیل کے ایک خاص قبیلہ کی طرف سے اعتراض کیا گیا تھا اور ان کے انکار کا ذکر تو ریت میں بھی موجود ہے :
” بنی بعال بولے کہ یہ شخص ہم کو کس طرح بچائے گا اور اس کی تحقیر کی اور اس کے لئے نذرانے نہ لائے۔ (سموئیل 10 : 27)
بنی اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بارہ اولادوں کی نسل ہیں۔ چونکہ بنی اسرائیل نسلی بناء پر بارہ فرقوں یا قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ان میں سب سے چھوٹا قبیلہ بنی یامین کا تھا اور تورات میں تصریح ہے کہ طالوت اسی قبیلہ سے تھا۔ (اسموئیل 9 : 21)
ایک وجہ تو ان کے حقیر سمجھے جانے کی یہی ہوئی۔ نسل و خاندان کی اہمیت جب جائز حدود سے بڑھ جاتی ہے تو ہندوؤں کی طرح ذات پات کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔ اسرائیلیوں کا بھی یہ عقیدہ ہوگیا تھا کہ نبوت حق مخصوص ہے قبیلہ بنی لادہ کا اور حکومت حق مخصوص ہے قبیلہ بنی یہودا کا۔
دوسرا اعتراض اسرائیلیوں کا یہ تھا کہ یہ مالی اعتبار سے بھی تو منصب امارت کے لئے لائق نہیں کیونکہ اس کے پاس دنیا کا مال اتنا نہیں جتنا کہ قوم کے دوسرے گھرانوں میں موجود ہے یہی ان کی پسندیدگی کا معیار تھا ان کو بتایا گیا کہ اس منصب کے لئے جو طالوت کو دیا گیا یہ معیار ہی نہیں ہے جس کا ذکر تم نے کیا ہے بلکہ اس منصب کے لئے معیار جسمانی طاقت اور ایمان و عملی قوت ہے اور ان دونوں باتوں میں طالوت پوری قوم بنی اسرائیل میں سے وہ ممتاز حیثیت رکھتا ہے کہ قوی بھی ہے اور امین بھی۔ گویا سموئیل نے ان کو واضح الفاظ میں بتادیا کہ
A پیمبر ہرچہ گوید دیدہ گو ید
چنانچہ تو رات ہے کہ ” اور سموئیل نے جماعت کو کہا کہ تم اسے دیکھتے ہو کہ جسے خداوند نے چن لیا کہ اس کی مانند سارے لوگوں میں ایک بھی نہیں۔ “ (سموئیل 10 : 24)
سموئیل کا دوسرا جواب یہ تھا کہ تم اپنے معیار سے بھی دیکھ لو تمہارے معیار سے سردار فوج میں دو ہی چیزیں ہونی ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ اسے سپہ سالاری و ملک گیری کے فنون سے واقفیت ہونا چاہئے سو وہ طالوت کو حاصل ہے اور دوسرے خود اس کی جسمانی قوت و طاقت ، سو اس میں بھی وہ ممتاز ہے۔ تورات کی دی ہوئی تفصیلات سے ان کے حلیہ کا نقشہ ذہن میں خود کھینچ لیجئے۔
” بہت خوب جوان تھا اور بنی اسرائیل کے درمیان اس سے خوبصورت کوئی شخص نہ تھا یہ ساری قوم میں کاندھے سے لے کر اوپر تک ہر ایک سے اونچا تھا۔ “ ـ (1۔ سموئیل 9 : 10)
” اور وہ جب کہ جماعت کے درمیان کھڑا ہوا تو شانوں سے لے کر اوپر تک سب لوگوں سے زیادہ لمبا تھا۔ “ (1۔ سموئیل 10 : 13)
پھر دراز قامتی اسرئیلیوں کے ہاں کوئی معمولی صفت نہیں بڑی اہم اور ضروری صفت سرداری کے لئے تھی۔ توریت کے بعد ان کے ہاں کا مقدس ترین نوشتہ تالمود ہے اسکی تصریح ملاحظہ ہو : ” خدا وند تبارک و تعالیٰ اپنی سکینت کا نزول صرف اس شخص پر کرتا ہے جو دانشمند ہو ، مضبوط ہو ، متمول ہو اور دراز قامت ہو۔ “ (ص : 128)
قرآنِ کریم کی بلاغت کے قربان جایئے اس نے نام ہی ایسا رکھا جس سے بلند قامتی کی جانب پورا اشارہ ہوجائے چناچہ اہل تحقیق کا ایک گروہ کہتا ہے کہ طالوت دراصل طولوت تھا جو طول سے مشتق ہے اور تورات میں اس کا نام دراصل ” ساؤل “ ہے اور اس کو عربی میں اسی خاص نسبت سے طالوت کہہ دیا گیا جس میں وہ سارا مضمون آگیا جو تورات کے صفحات میں اس کی قدامت کے متعلق بیان ہوا۔ اس طرح قرآن کریم کا اعجاز دیکھیں کہ اس نے کچھ کہا بھی نہیں اور سب کچھ کہہ بھی دیا۔
تابوت کیا ہے ؟ کہاں گیا اور کیسے واپس آیا ؟
Ayah 2:248415: ” التَّابُوْتُ “ کے معنی تو صندوق کے ہیں جو مشہور و معروف ہیں اسے ” توب “ سے مشتق کہا گیا ہے۔ چونکہ چیزیں یعنی کپڑے وغیرہ اس میں لوٹ لوٹ کر یعنی تہہ لگا کر رکھے جاتے ہیں اسی نسبت سے اس کو تابوت کہتے ہیں۔
” تابوت “ کے معنی دل کے بھی ہیں جس کو عربی زبان میں ” قلب “ کہتے ہیں اور مثل مشہور ہے کہ : ” ما اودعت تابوتی شیئا فقدتہ “ میں نے اپنے دل کے سپرد کبھی کوئی شے نہیں کی جسے اس نے گم کردیا ہو۔ لغت کی تمام کتابوں میں تابوت کو دل بتایا گیا ہے جیسے لسان العرب اور مفردات امام راغب وغیرہ۔
اس جگہ ” تابوت “ دل مراد لے کر بھی معنی بیان کئے جاسکتے ہیں اور آیت قرآنی کے سارے الفاظ اس کے موید ہیں لیکن ہم اس جگہ ” صندوق “ ہی مراد لیں گے کیونکہ مفسرین نے یہ معنی مراد لئے ہیں اور تورات بھی ان کی تصدیق کرتی ہے۔
تابوت کیا تھا ؟ گویا ایک صندوق تھا جس میں بنی اسرائیل نے کچھ قومی نشانیاں بند رکھی تھیں اور اس کو متبرک خیال کرتے تھے اگرچہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو کوئی دی گئی چیز نہ تھی لیکن ان کے ہاں ایک ” قومی نشان “ ضرور سمجھا جاتا تھا۔ جس طرح آج پوری دنیا میں ” پرچم “ ایک قومی نشان کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور ہر قوم کا ایک الگ الگ نشان ہے جس سے ملک وقوم کی شناخت ہوجاتی ہے۔
قوموں کی زندگی میں کچھ ایسی علامات ہوتی ہیں جن کا باقی رہنا قومی زندگی کی ایک علامت سمجھی جاتی ہے اگر وہ نہ رہے تو گویا ملی موت واقع ہوجانے کے مترادف خیال کیا جاتا ہے ایسے ہی بنی اسرائیل میں ایک تابوت تھا جو قومی زندگی کی گویا علامت سمجھا جانے لگا۔
کتاب سموئیل سے پایا جاتا ہے کہ تابوت سکینہ بمقام شیلوہ تھا جہاں عیلی بنی اسرائیل پر حاکم تھا اس کے عہد میں بنی اسرائیل اور فلسطینیوں میں بمقام ” ابن عیذر ‘ ‘ جنگ ہوئی اور بنی اسرائیل کو شکست فاش ہوئی۔ تب بنی اسرائیل نے اس ” تابوت سکینہ “ کو شیلوہ سے لشکر گاہ میں منگایا اور دوبارہ لڑے لیکن اس بار بھی شکست عظیم ہوئی اور عیلی حکمران کے دونوں بیٹے مارے گئے اور تابوت سکینہ کو فلسطینی چھین لے گئے۔ عیلی بھی یہ خبر سن کر اپنی کرسی پر سے گر پڑا اور مر گیا اس زمانہ میں سموئیل نبی پیدا ہوچکے تھے لیکن ابھی چھوٹے تھے یا یہ کہ وہ ابھی نبی نہیں ہوئے تھے۔
فلسطینی اس ” تابوت سکینہ “ کو مقام ابن عیذر سے اٹھا لے گئے اور اپنے ہاں کے ایک مقام اشدود لے گئے اور واگون بت کے مندر میں لے جا کر رکھا پھر وہاں سے مقام ” گٹ “ لے گئے اور پھر وہاں سے انہوں نے اس کو مقام عقرون جا رکھا۔ ان مختلف مقامات پر اس تابوت کو کیوں لے جایا گیا ؟ وہ چیز جو بنی اسرائیل کے لئے برکت کا باعث تھی وہ ان کے لئے گویا و بال جان بن گئی۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو یقین تھا جہاں صندوق ہوگا وہاں ہی سب سے پہلے بنی اسرائیل حملہ آور ہونگے وہ اس حکمت عملی کو اپناتے رہے کہ بنی اسرائیل کو اس جگہ کی
نشاندہی نہ ہونے پائے۔ ایک مدت گزر گئی۔ سموئیل بنی اسرائیل کے نبی ہوئے۔ بنی اسرائیل نے ان سے درخواست کی کہ ہمارے لئے کوئی سپہ سالار یا امیر الجیش مقرر کیا جائے تاکہ ان کی کمان میں ہم لڑیں اور اپنا علاقہ اور تبرکات قومی یعنی ” تابوت سکینہ “ کو واپس لائیں ۔ خصوصاً تابوت سکینہ کا دشمنوں کے ہاتھ میں چلا جانا بلاشبہ ان کو بہت رنج دیتا تھا ان کی نہایت آرزو تھی کہ یہ اس کو پھر اپنے دشمنوں سے واپس لیں گے۔
اس شکست کے تقریباً بیس برس بعد وہ اپنی گروہی اور فرقہ وارانہ حیثیت کو چھوڑ کر سموئیل نبی کے ہاں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے تو ان کی وہ قوت جو عیلی کے مرنے کے بعد منتشر ہوگئی تھی دوبارہ منظم ہوئی اور اس طرح بنی اسرائیل کو اب کافی قوت مل گئی۔ اگرچہ اب بھی ان کے بعض لوگوں کو طالوت کے امیر الجیش ہونے پر اعتراص تھا لیکن وہ فی الوقت قومی ضرورت کے مطابق نہ چاہنے کے باوجود اکٹھے ہوئے اس طرح سے انہوں نے خاصی قوت حاصل کرلی اور ادھر فلسطینی بھی دن بدن کمزور ہوتے گئے اس لئے کہ فاتح قوم فتح حاصل کرنے کے بعد ان بداعتدالیوں کا شکار ہو ہی جاتی ہے جن کے عوض اس کو ایک بار پھر شکست سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ بنی اسرائیل کا منظم ہوجانا اور جنگ کی تیاری کرنا ان کے لئے خوف کا باعث ہوا تو انہوں نے یعنی فلسطینیوں نے پہلا قدم یہی اٹھایا کہ بنی اسرائیل کا وہ ” تابوت سکینہ “ خود بخود واپس کردیا کہ شاید اس طرح مصیبت جنگ سے حفاظت ہوجائے۔ انہوں نے جگہ بجگہ منتقل کرنے کے بعد آخر کار ایک بیل گاڑی پر لاد کر مع تحائف کے بیت الشمس کی سرحد میں جو بنی اسرائیل کا ایک شہر تھا اور فلسطین کی سرحد سے ملا ہوا تھا چھوڑ آئے اور یہ وہ وقت تھا جب کہ طالوت کے متعلق سموئیل نبی کا فیصلہ ہوچکا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کا سپہ سالار اعظم ہے۔
تابوت سکینہ کا اس طرح بغیر کسی لڑائی اور بغیر کسی عہد معاہدہ کے حسن اتفاق سے واپس جانا کوئی معمولی واقعہ نہ تھا گویا یہ طالوت امیر الجیش بنائے جانے کی پہلی نیک فال تھی جس سے ظاہر ہے کہ طالوت کے اور سموئیل نبی اور ان کے ہم خیال لوگوں کے لئے مزید تقویت کا باعث ہوئی اور اس طرح طالوت کے عہدہ کی مخالفت کی تحریک مزید دب گئی جو ان حالات کا قدرتی اور منطقی نتیجہ تھا۔ یہی وہ بات ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر اپنا فضل و کرم کرنا چاہتا ہے تو ان کو سوچ مثبت ہوجاتی ہے اور ان کے حالات ساز گار ہوجاتے ہیں اور ایسے ہی حالات کے موقع پر لوگ کہتے ہیں کہ فلاں قوم اگر مٹی پر ہاتھ رکھے تو وہ سونا ہوجاتی ہے۔ پہاڑ ان کا راستہ چھوڑ دیتے ہیں اور دریا ان کے راستوں میں حائل نہیں ہوتے وہ عزم کے اتنے پختہ ہوجاتے ہیں کہ ان کا ایک ایک آدمی سینکڑوں پر بھاری ہوجاتا ہے۔
ظاہر ہے کہ تابوت سکینہ کے اس طرح واپس آنے کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کو اٹھالائے اور اس طرح اس تابوت کے واپس آجانے میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے دلجمعی یعنی تسکین قلب ہے اور اس طرح اس الٰہی مدد کا آنا اس بات کی تصدیق ہے کہ طالوت کا امیر لشکر بنایا جانا اللہ نے پسند فرمایا ہے جس میں پوری قوم کے لئے ایک بہت بڑی نشانی ہے۔
Ayah 2:249طالوت کا لشکر کے ساتھ میدان جنگ کی طرف جانا اور لشکر کی آزمائش کرنا :
416: سب سے پہلے ہم کو غور کرنا چاہئے کہ جہاں طالوت وجالوت میں لڑائی ہوئی تھی وہ کونسا مقام تھا ؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فلسطینی ایک مقام کوہ غریقاہ آفس و میم میں جمع ہوئے تھے اور بنی اسرائیل وادی ایلاہ میں۔ دونوں لشکروں کے درمیان دریائے شورق واقع تھا فلسطینی اس کے بائیں کنارے پر یعنی جانب جنوب تھے اور بنی اسرائیل اس کے دائیں کنارہ پر یعنی جانب شمال تھے اور یہیں سے بنی اسرائیل نے طالوت کی کمان میں دریا کو عبور کر کے فلسطینیوں پر حملہ کیا تھا پس قرآن کریم کے ان لفظوں کی کہ ” اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ “ جغرافیہ اور تایخ سے بخوبی تصدیق ہوتی ہے۔ میدان جنگ میں جانے سے پہلے فوج کا جائزہ جنگی اصولوں میں سے ایک اصول ہے جس سے جھوٹے اور سچے ، کھوٹے اور کھر ّے کمزور اور طاقتور میں تمیز ہوجاتی ہے۔ لڑائی میں صرف سچے ، کھرے اور طاقتور جو ان ہی مفید ہو سکتے ہیں۔ اعلان جنگ کے وقت چونکہ طبیعتوں میں جوش وہیجان پیدا ہوجاتا ہے اس لئے ہر شخص اپنے اندر لڑنے کا شوق رکھتا ہے مگر محض شوق کبھی مفید نہیں ہوتا اس لئے کہ یہ جس طرح اٹھتا ہے بالکل اسی طرح بیٹھ بھی جاتا ہے۔ یہ شوق بھی اسی وقت کام آتا ہے جب فنون حرب سے خوب اچھی طرح واقفیت ہو ورنہ بعض اوقات عین وقت پر ماند پڑجاتا ہے۔ جو انسان تکلیفوں ، مشقتوں اور مصیبتوں کے برداشت کرنے کی عادت رکھتا ہو اور سخت خوف کے وقت بھی جس پر گھبراہٹ طاری نہ ہوتی ہو وہی میدان کا رزار میں کام کرسکتا ہے اس لئے امتحان لینا ضروری تھا یہ گویا اس کی علمی شہادت ہے کہ یہ امیر الجیش اپنے علم کی بناء پر اس عہدہ کا مستحق ہے۔
پھر اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ طالوت کا انتخاب وقت کے نبی نے کیا ہے جنگی علوم سے واقفیت رکھتا ہے کیونکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طالوت سے پہلے ایک سپہ سالار جدعون نامی بھی ہو گزرا ہے اس نے اپنے وقت میں مدیانیوں پر فوج کشی کی تھی تو اس نے حملہ سے پہلے یہ قرار دیا تھا کہ جو شخص اس چشمہ سے جو اس کے لشکر کے پاس تھا پانی پی لے وہ حملہ میں شریک نہ ہو ، اور جو نہ پئے بلکہ صرف ہاتھ بھگو کر زبان کو تر کرلے وہ حملہ میں شریک رہے اس سے مقصود صرف یہ تھا کہ جن لوگوں کو لڑنے اور جان دینے میں تذبذب ہو وہ چھٹ جائیں اور جو لوگ خلوص نیت کے ساتھ لڑنے مرنے پر آمادہ ہوں وہی حملہ میں شریک ہوں۔
بالکل یہی معاملہ گویا طالوت نے کیا جو اس سے پہلے جدعون کرچکا تھا۔ جس سے طالوت کے علوم جنگی سے خوب واقف ہونے کی شہادت ملتی ہے اور پھر یہ بھی کہ ایک طرف تو لشکر کی صفائی ہوگئی اور کھرا کھوٹا الگ الگ ہوگیا دوسری طرف خود امیر لشکر کے حوصلہ و ہمت کی بھی ایک طرح وضاحت ہوگئی اور اس کی جسمانی طاقت کا اندازہ بھی خوب لگ گیا۔ اس لئے کہ جب لشکر کی تعداد خاصی کم ہوجائے تو امیر لشکر کی صلاحیت بھی واضح ہوجاتی ہے چناچہ اس کی بھی وضاحت ہوگئی۔
طالوت نے سیر ہو کر پانی پینے کی ممانعت کی تھی :
417: طلب کے مطابق کھایا پیاجائے تو اس کو سیر ہو کر کھانا کہا جاتا ہے جس سے ممانعت کی گئی تھی۔ طالوت ایک عظیم الشان فوج لے کر روانہ ہوئے اور سارے لشکر میں منادی کرادی کہ راستے میں ایک دریا آرہا ہے جس سے پار گزرنا ہوگا اور ظاہر ہے کہ تم کو پیاس بھی خوب لگی ہوگی یہاں سے گزرنے کا قانون یہ ہے کہ کوئی شخص یہاں سے پانی نہ پئے اور یاد رکھو کہ جس نے اپنی طلب کے مطابق پانی پی لیا گویا اس سے میرا کوئی تعلق نہیں اور جس نے طلب کے مطابق نہ پیا لیکن ایک چلو بھر کر ہونٹ تر کر لئے یا گلے کی خراش دور کرلی اس کی خیر ہے اس قدر اجازت دی جاتی ہے لیکن اس عظیم الشان لشکر میں سے معدودے چند سو آدمی ہوں گے جنہوں نے امیر لشکر کی ہدایت پر عمل کیا باقی سب ڈک ڈک کر پانی پی گئے۔
ان پانی پینے والوں نے پانی کیا پیا تھا کہ امیر لشکر کی مخالفت کر کے کمزور اور سست پڑگئے اب ان میں اتنی طاقت بھی نہ رہی کہ اس سے آگے سفر جاری رکھ سکیں۔ پیٹ پھول گئے اور کلیجے دل کو آنے لگے طاقت جواب دے گئی اور دل ڈوبنے لگے۔ پاؤں چلنے کا یارانہ رہا اور اس طرح کھرا اور کھوٹا ، سچا اور جھوٹا روز روشن کی طرح واضح ہوگیا اور اس طرح مخالفت کرنے والوں کی اگرچہ کثرت تھی لیکن طالوت نے ان کے الگ الگ ہوجانے کی ذرا پرواہ نہ کی اور اپنے معدودے چند ساتھیوں کو لے کر جالوت کے مقابلہ میں ڈٹ گیا۔
قوت ایمانی سب قوتوں پر غالب آجاتی ہے :
418: جب نافرمانوں کا لشکر دھرنا مار کر بیٹھ گیا اور منہ سے پکار پکار کر کہنے لگا کہ ہم میں تو اب اتنی طاقت و ہمت نہیں کہ آج طالوت اور اس کے لشکر جرار کا مقابلہ کرسکیں تو وہ چند معدودے آدمی قوت کا سرچشمہ بن گئے ان کی ایمانی قوت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ان کے دلوں میں اپنے مالک حقیقی کی ملاقات کا شوق بڑھ گیا اور وہ ان کے مقابلہ میں اس طرح کہنے لگے کہ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں ہیں جو بڑی بڑی جماعتوں پر حکم الٰہی سے غالب آتی رہی اور یہ یقینی بات ہے کہ جو اللہ کے ہوجاتے ہیں اللہ ان کا ہوجاتا ہے اور پھر جن کا اللہ ہوجائے وہ ناکام کیسے ہو سکتے ہیں ؟ صبر کا بیڑا ہمیشہ پار ہوتا ہے ناؤ انہی کی ڈوبتی ہے جو بےصبرے ہوتے ہیں اور دل چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ہمت مرداں مدد خدا۔ ہم تو کبھی ہمت نہیں ہاریں گے بلکہ آگے بڑھیں گے اور جالوت کا مقابلہ ڈٹ کر کریں گے جیں گے تو ایک کامیابی ہوگی اور مریں گے تو کامیابیاں ہوں گی۔ نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں مرنے والا مرتا ہی کب ہے ؟
وہ تو پیکر صدق واخلاص تھے جو صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ کی ذات پر اعتماد و توکل رکھتے تھے انہیں یقین تھا کہ ہم صرف اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جہاد کر رہے ہیں۔ جن لوگوں کو احتساب عمل کا یقین ہو وہ صرف اللہ وحدہ کی قاہرانہ قوت سے دب سکتے ہیں ۔ ان کی قوت ارادی اس
درجہ مضبوط و مستحکم ہوجاتی ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کے پائے استقلال میں تزلزل نہیں پیدا کرسکتی۔ ان کی نظر قلت و کثرت پر نہیں ہوتی بلکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ اگر اخلاص ، ولولہ عمل اور ثبات قدم ہے تو چھوٹی سی جماعت عظیم الشان لشکر پر غالب آسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کو کامیابی نوازش کرتا ہے جو اپنے مقصد حیات پر فنا ہونے کو تیار ہوں۔
مشہور جرمن فوجی جنرل برن ہارڈے اس مسئلہ پر اس طرح روشنی ڈالتا ہے کہ : ” چند تقیدات کا لحاظ کر کے جو تعداد سے عائد ہوتی ہیں اگر موجودہ عظیم الشان فوجی نظام کا صحیح طور پر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کامیابی کے ضروری و صحیح عناصر روحانی واخلاقی قوتیں ہیں۔ یقین رکھئے کہ بڑی بڑی فوجیں ایک مختصر ، سرفروش مگر حسن قیادت والی فوج کے مقابلہ میں ہمیشہ عاجز و ناکام رہیں گی۔ “
Ayah 2:250میدان کار رزا میں جب فریقین نبرد آزما ہوئے :
419: میدان کار راز گرم ہوگیا فدائی لشکر طالوت کی معیت میں جالوت کے ساتھ نبرد آزما ہورہا ہے میدان جنگ میں جو کچھ ہوتا ہے سب ہورہا ہے تو طالوت کے ساتھیوں نے استقلال ، صبر و استقامت کی دعا کی اور فرمایا : رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا : اے ہمارے رب ! ہم صبر و ثبات کے پیاسوں پر صبر کے جام انڈیل دے اور ہمارے قدم میدان جنگ میں جمادے۔ ” وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ00250 “ اور منکرین حق کے گروہ پر ہم کو فتح نصیب فرما۔
غور کرو کہ اللہ کے لشکر کے سپاہیوں کو آداب جنگ کی تعلیم ہے کہ برخلاف عام دنیوی سپاہیوں کے ان کا تکیہ قوت و شوکت پر نہیں بلکہ نصرت الٰہی پر ہے کہ سچے مؤمنوں کی نظریں اپنے سارے انتظامات اور ساری سعی و کوشش سے کہیں بڑھ کر تائید الٰہی پر رہتی ہیں۔ وہ کرتے ہیں جو کچھ کہ کرسکتے ہیں لیکن حدود کے اندر رہ کر پھر سب کچھ کر چکنے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہاتھوں سے کام کرتے ہیں اور زبانوں پر ذکر الٰہی جاری ہوتا ہے اور جب آپ غور کر کے دیکھیں گے تو ان کے ہاتھ اور زبان میں کبھی تضاد نہیں ہوتا۔ ہاتھ وہی کر رہے ہوتے ہیں جو زبانیں کہہ رہی ہوتی ہیں ۔ اندازہ کیجئے کہ ان کی دعا کس طرح قبول ہوتی ہے۔
Ayah 2:251لشکر طالوت نے لشکر جالوت کو شکست سے دو چار کردیا :
420: طالوت کے لشکر نے جالوت والوں کو شکست دے دی۔ اللہ نے ان کی دعا کو شرف اجابت بخشا اور داؤد نے کفار کے سپہ سالار جالوت کی گردن اڑا دی چناچہ ساؤل یعنی طالوت کے بعد داؤد کو بنی اسرائیل کی بادشاہت نوازش کی گئی اور سموئیل کے بعد وہ نبوت سے بھی سرفراز کئے گئے۔ اس طرح دونوں طرح کے انتظامات آپ کے ہاتھ میں دیدیئے گئے۔
دنیا میں اگر لڑائی کا سلسلہ بند ہوجاتا تو تمام کرؤ ارضی شرو فساد کا گھر بن جاتا ۔ مگر اللہ کو ابھی اس کا باقی رکھنا منظور ہے اس لئے کفر اور ارباب کفر کی باطل پر ستانہ سعی و کوشش کو فنا کرنے کے لئے سرفروشوں کو کھڑا کردیا جاتا ہے۔ انسانوں کے مقابلہ میں انسان ہی لائے جاتے ہیں تاکہ کفار و معاندین اسلام کتے کی موت نہ مریں بلکہ دل کی بھڑاس نکال کر جہنم میں داخل ہوں۔ یہ اللہ کا محض فضل ہے کہ حق کو باقی رکھنے کے لئے ضرور ایک جماعت پیدا کردی جاتی ہے۔
Ayah 2:252قرآن کریم کی دور رس نظر پکار رہی ہے کہ میں اللہ کا کلام ہوں :
421: اس رکوع کے واقعات پر عیسائیوں نے تاریخی طور پر غلط ہونے یا گڑ بڑ کرنے کا اعتراض کیا ہے۔ گذشتہ صفحات پر آپ پڑھ چکے ہیں کہ دراصل یہ دونوں باتیں انہوں نے خود اپنی کتاب توراۃ میں بھر دیں جن کی کوئی اصل نہ تھی اور پھر جب قرآن کریم کا بیان اس پر فٹ نہ ہوا تو انہوں نے ” اُلٹا چور کو توال کو ڈانٹے “ والاکام کیا اپنی تحریف کو چھپانے کے لئے قرآن کریم پر اعتراض جڑ دیا مگر کیسی حفاظت قرآن کریم کی نظر آتی ہے کہ جہاں اعتراض ہوتا تھا وہیں ان باتوں کا خود ذکر کر کے فرمایا کہ یہ جو کچھ پڑھا گیا ” بِالْحَقِّ 1ؕ“ ہے یعنی یہ واقعات صحیح بھی ہیں اور ایک ضرورت حقہ کے لئے بیان بھی کئے گئے ہیں اور پھر جس قدر ضرورت ان کے بیان کرنے کی تھی اسی قدر بیان بھی کئے گئے ہیں ضرورت سے تجاوز نہیں کیا گیا کیونکہ قرآن کریم قصہ کہانی کی کتاب نہیں ہے۔ ضرورت کیا تھی ؟ یہ کہ مسلمانوں کو جنگ درپیش تھی وہ ہجرت کرکے مدینہ آچکے تھے ۔ وہ تھوڑے تھے ان کو سمجھا دیا گیا کہ بہتوں پر کس طرح غالب آئیں گے۔ ان کو یہ بھی واضح کردیا گیا کہ منافق یا کچے لوگ تم سے عین جنگ کی حالت میں الگ ہوجائیں گے جب ایسا ہو تو خوب یاد رکھو کہ یہ تمہارے لئے کمزوری نہیں بلکہ قوت کا موجب ہوگا اور آخر میں بتا دیا کہ جنگوں کی ضرورت اب فساد دور کرنے کے لئے ہے۔ یقینا ! تم اے پیغمبر اسلام ! مرسلوں میں سے ہو یعنی آپ خود ان باتوں کو نہیں بیان کر رہے بلکہ یہ اللہ کی بتائی ہوئی باتیں ہیں اور پھر جب پہلے بھی رسولوں کو جنگ ناگزیر تھی تو اب آپ ﷺ کی جنگوں پر ان لوگوں کو کیوں اعتراض ہے ؟
” لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ “ لفظ مرسلین کی معنویت قابل غور ہے۔ بتا دیا کہ انبیاء کی حیثیت اسلام میں تمامتر قاصدوں ، سفیروں ، بھیجے ہوؤں کی ہے اور جو مرسل یعنی بھیجا ہوا ہوتا ہے ظاہر ہے کسی کی طرف سے کسی کے پاس ہی بھیجا ہوا ہوتا ہے۔ یہ پیامبر خالق کی طرف سے مخلوق کے پاس سفیر بن کر آتے رہے۔ ان کی عظمت و بزرگی جو کچھ بھی ہے ان کے اس منصب متعارف وپیامبری سے وابستہ تھی۔ یہ خود نہ اوتار ہوتے تھے نہ دیوتا۔ نہ خدائی کے مظہر ، نہ ان میں خدائی حلول کئے ہوتی تھی۔ معبودیت یا نیم معبودیت کی صلاحیت یہ ذرا سی بھی نہیں رکھتے۔ یہ انسان تھے لیکن انسانوں میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے بالکل اس طرح جس طرح خود انسان حیوان سے ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔
قصہ طالوت پر ایک نظر
گذشتہ قصہ پر دوبارہ ایک نظر ڈالئے۔ آپ دیکھیں گے کہ اس سے حسب ذیل باتیں استنباط و استخراج ہوئی ہیں :
! : جنگ شروع کرنے سے قبل امیر لشکر کا انتخاب ضروری ہے جس کے احکام کے مطابق عمل جہاد جاری کیا جائے۔
" : امیر لشکر کے لئے دو چیزوں کی بہت ضرورت ہوتی ہے :
(ا) جہانگیری و جہانداری کے مسائل سے خوب واقف ہو۔
(ب) فنون جنگ میں پوری مہارت رکھتا ہو۔
#: رائے عامہ کا احترام ضروری ہے اگر اس کے خلاف کوئی بات کہی جائے تو عام لوگوں کو اطمینان دلایا جائے ورنہ کام میں رکاوٹ پیدا ہوجائے گی جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوگا۔
$: امارت کے لئے دولت پر نظر نہ ہو اور صدر نشینی کے لئے مال داروں کو تلاش نہ کیا جائے۔
%: جو لوگ اپنی خدمات پیش کریں ان کا امتحان لینا ضروری ہے کہ کھوٹے اور کھرے میں تمیز ہوجائے ورنہ کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے۔
^: صرف مقصد حیات پر مارنے مرنے والوں سے کام لیا جائے کہ یہی لوگ وہ کھرے لوگ ہیں۔
: کامیابی کے لئے امیر لشکر کی نظر صرف قلت و کثرت تعداد پر نہ ہو بلکہ خدمات حقہ اور اخلاق فاضلہ پر ہو۔
: دیانتداری سے کام سر انجام دینے کے بعد نتائج کو اللہ پر چھوڑ دیا جائے اس لئے کہ یہی تو کل ہے۔
( : حق و صداقت کی مدافعت اور کفر و باطل پرستی کے استیصال کے لئے سرفرشوں کا ایک گروہ ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔
) : یہود و نصاریٰ اپنی اپنی حکومتیں قائم کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں مسلمانوں کو اپنی خالص اسلامی حکومت قائم کرنے کی سرتوڑ کوشش کرنا چاہئے اور کوشش اس وقت تک جاری رہے گی جب خالص اسلامی حکومت قائم ہوجائے۔
یہ تمام قصہ اس غرض کے لئے بیان کیا گیا ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل نے اپنی حکومت قائم کی ایسے ہی رسول اللہ ﷺ کے حق میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آپ ﷺ کو بھی مخالفین و معاندیں اسلام سے جنگ کرنی پڑے گی اور انجام کار آپ ﷺ غالب رہیں گے اور یہ کہ آپ ﷺ کو امت مسلمہ کے بقاو قیام کے لئے سلطنت قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوگی اس لئے آپ ﷺ کی آئندہ ضرورت کو پیش نظر رکھ کر یہ قصہ اس وقت بیان کیا جاتا ہے اور اس قصہ میں ان تمام سیاسی امور کی تعلیم دی گئی ہے جو قیام حکومت میں پیش آئیں گے اور آپ آسانی سے ان کی بنا پر تنظیم مملکت کرسکیں گے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) بھی انبیائے مرسلین میں سے تھے انکو جہانگیری و جہانداری کے علوم نوازش کئے گئے آپ ﷺ بھی نبی و مرسل ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ان نوازش ہائے گوناگوں سے آپ ﷺ بھی سرفراز کئے جائیں ۔ گویا یہ ایک پیشگوئی بھی ہے ، انتظام مملکت کی ، تعلیم الٰہی بھی۔