2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:204

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور بعض آدمی ایسے ہیں کہ دنیوی زندگی کے بارے میں ان کی باتیں تمہیں بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں اور وہ اپنے ضمیر کی پاکیزگی پر اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں اور خصومت میں بڑے ہی سخت ہوتے ہیں

دوہری پوزیشن کے لوگوں کا حال بھی عجیب ہوتا ہے : 354: دوہری پوزشن کے لوگ کون ہیں ؟ وہی جن کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ اور۔ شریعت اسلام نے کچھ اعمال ہر مسلم پر لازم کردیئے ہیں تاکہ ان کی پابندی سے اخلاق فاضلہ اور جذبات صادقہ پیدا ہوں۔ لیکن جو لوگ ان اعمال شرعیہ کے مقاصد کو فراموش کردیتے ہیں ان کی محنت رائیگاں جاتی ہے گذشتہ آیات میں بھی دو قسم کے لوگوں کا حال بیان کیا گیا تھا اور اب بھی ان ہی کے خصائص وامتیازات پر اور روشنی ڈالی جارہی ہے تاکہ اہل و نااہل میں تمیز رہ جائے اور وہ حسب ذیل ہیں : وہ لوگ ایسے ہیں کہ دنیاوی امور میں نہایت ہی دور بینی اور حزم و احتیاط کا اظہار کرتے ہیں۔ مصلحت اندیشی اور عاقبت بینی کے پیکر مجسم نظر آتے ہیں۔ جب قومی ، جوش ملی اور ولولہ دین ان کے فقرے فقرے سے ٹپکتا ہے ۔ خدا کا دین اسلام اور سرفروشی ملت ان کا دعویٰ ہوتا ہے۔ عام مجمع میں یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر اپنے مذہبی جوش کا اعلان کرتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ان کے اعمال حیات ہی ان کی پردہ دری کردیتے ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ : چوں بخلوت می روند آں کا ردیگری کنند پھر جب ان کی غداری اور ملت فروشی کا اظہار ہوتا ہے اور لوگ ان سے احتساب کرتے ہیں تو اپنی غلط کاری تسلیم کرنے کے بجائے جھگڑے پر اتر آتے ہیں اور ان کا جھگڑے پر اترنا معمولی نہیں ہوتا اس کو کہتے ہیں کہ چور بھی اور چتر بھی ان کی اسی حالت کو قرآن کریم نے ” الدالخصام “ فرمایا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ ان ہی خصوصیات کا حامل ایک آدمی جس کا تعلق قبیلہ ثقیف سے تھا بڑا خوش منظر وخوش تقریر اخنس بن شریق نامی تھا جب رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں آتا خوب لمبے چوڑے دعوے اپنے ایمان و اسلام کے بیان کرتا۔ بات بات پر اللہ کو گواہ ٹھہراتا لیکن جب مجلس سے اٹھ کر چلا جاتا تو طرح طرح کی عملی شرارتوں میں لگ جاتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس وقت اس طرح کا صرف یہ ایک ہی آدمی تھا یا بعد زمانہ میں کوئی ایسا آدمی نہیں ہوا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر زمانے میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہوتی۔ ہاں ! اس آیت سے البتہ یہ بات ضرور نکلتی ہے کہ منافق کے نفاق کا علم آیت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ورنہ آپ ﷺ تو اس کی ان باتوں سے خوش ہو رہے تھے۔ اگر آپ ﷺ اسے منافق پہچان گئے ہوتے تو ظاہر ہے کہ اسکی گفتگو سے لطف اندور ہی کیوں ہوتے ؟
Ayah 2:205

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

ان کی تمام سرگرمیاں ملک میں اسی لیے ہوتی ہیں تاکہ خرابی پھیلائیں اور انسان کی زراعت اور محنت کے نتیجوں کو اور اس کی نسل کو ہلاک کردیں حالانکہ اللہ یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ ویرانی و خرابی پھیلائی جائے

ان منافقین کو اگر حکومت مل جائے تو کیا ہوتا ہے ؟ 355: فرمایا کہ اس قسم کے بدبخت جب مسلمانوں سے الگ ہوتے ہیں تو ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ ہنگامہ آرائی ان کا کام ہوتا ہے پھر جب ان کو ملکی کاموں میں دسترس بھی حاصل ہوجاتی ہے تو یہ طرح طرح کے گل کھلاتے ہیں۔ ہنگامہ آرائی تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ یہ ایسی چاشنی لگاتے ہیں کہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ اچھا بھلا ماحول تکدرکا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ ایسی چالیں چلتے ہیں کہ قوم مختلف گروہوں میں تقسیم ہوجاتی ہیں۔ یہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس سے ان کو کیا حاصل ہوتا ہے ؟ ایسی حالت پیدا ہوگی تو لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں گے۔ پھر ان کو آگ بھڑکانا آتی ہے تو یہ ٹھندا کرنے کے گر بھی جانتے ہیں۔ جو کچھ ان کو جلانا تھا جلوا لیا اور پھر جو بھی کچھ ان کو اس سے حاصل کرنا تھا کرلیا جب ان کا مطلب مل گیا تو دوبارہ حالات کو بدلنے میں ان کو زیادہ دیر نہیں لگتی۔ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ 1ؕوَلَبِئْسَ الْمِهَادُ 00206 وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ 1ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ 00207
Ayah 2:206

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو ان کا گھمنڈ ان کو مزید گناہ پر اکساتا ہے انہیں تو جہنم ہی کفایت کرے گا اگرچہ وہ برا ٹھکانا ہے

نصیحت ان کو ایسے لگتی ہے جیسے زخم پر نمک : 356: قرآن کریم کہتا ہے کہ درحقیقت یہ لوگ ذبح کرنے کے قابل ہیں ۔ ان کو دنیا و آخرت میں ہرگز ہرگز عزت نصیب نہ ہوگی پھر جب ان کو ان کی غلط کاریوں پر متنبہ کیا جاتا ہے اور ان سے اس بات کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اسلام کے صحیح مقاصد سامنے رکھو ورنہ مسند امامت سے یعنی اقتدار کی کرسی سے الگ ہوجاؤ تو گھبرا کرنا راضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر ہم نے اپنا طریق عمل بدل دیا اور قوم کی متفقہ آواز کے آگے اپنی گردن جھکا دی تو دنیا بھر میں ذلت و رسوائی ہوگی۔ اس لئے عزت اس میں ہے کہ مستبدانہ کارروائی کریں تاکہ کوئی باز پرس نہ کرسکے فرمایا کہ اس قسم کے بدکار دوزخ کا ایندھن بنیں گے اور کبھی ان کا نام روشن نہ ہوگا جس کے لئے انہوں نے یہ ساری کارروائیاں کیں۔ آیت نمبر 204 سے آیت نمبر 206 تک یعنی وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ سے وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ 00206 کے مضمون پر ایک بار پھر بغور نظر ڈالیں قرآن کریم کہتا ہے کہ : ایک شخص کی دینوی زندگی بظاہر کتنی ہی خوشنما ہو اور وہ نیک دلی کا کتنا ہی دعویٰ کرے لیکن ان باتوں سے کچھ نہیں بنتا ۔ اصل کسوٹی یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ طاقت واختیار پا کر اپنے ابنائے جنس کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے ؟ حرث و نسل کی تباہی انسانی طاقت و غرور کا بہت بڑا فساد ہے۔ دنیوی طاقت کے متوالوں سے جب کہا جاتا ہے اللہ سے ڈرو تو ان کا گھمنڈا نہیں اور زیادہ ظلم ومعصیت پر آمادہ کردیتا ہے۔ پس جن لوگوں کا حال ایسا ہو تو وہ کبھی ظلم و فساد سے باز آنے والے نہیں انہیں جہنم ہی کفایت کرے گا۔
Ayah 2:207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی خوشنودی کی طلب میں اپنی جانیں تک بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ بھی اپنے ایسے بندوں کیلئے مہربانی رکھنے والا ہے

طالبان رضائے الٰہی کا حال کیسا ہے ؟ 357: کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا جوئی کے لئے اپنی جان دے دیتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑی ہی شفقت رکھتا ہے حقیقت یہ ہے کہ صحیح معنوں میں قوم کے راہنما یہ لوگ ہیں جو اعمال کی صورت کے ساتھ مقاصد کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔ خدا وندقدوس کی رضا طلبی ان کی غایت الغایات ہوتی ہے۔ اگر آج انہیں مدینہ میں جمع کیا گیا ہے توکل خلیفہ اسلام کے حکم پر فلسطین بھی جاسکتے ہیں اور وہاں سے ان کو اگر چین کا حکم ملتا ہے تو وہ اڑ کر پہنچنے میں کبھی دیر لگانے والے نہیں۔ قربانی کا جذبہ کامل طور سے ان میں پیدا ہوچکا ہے۔ اللہ اپنی رحمت سے ان کی کوششوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے مزید ارشاد فرمایا : فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ 1ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا (النساء 4 : 74) جو لوگ آخرت کے بدلے میں دنیا کی زندگی فروخت کرچکے ہیں انہیں چاہیے کہ اللہ کی راہ میں جنگ کریں (جو لوگ ان سے جنگ کرتے ہیں) اور جو کوئی اللہ کی راہ میں جنگ کرتا ہے تو خواہ قتل ہوجائے ، خواہ غالب آئے ، ہم اسے بڑا اجر عطا فرمائیں گے۔ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ 1ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ 1۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ 1ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ 1ؕ وَ ذٰلِكَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ 0011 (التوبۃ 9 : 111) بلاشبہ اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں بھی خرید لیں اور ان کا مال بھی اور اس قیمت پر خرید لیا کہ ان کے لیے بہشت ہے وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں پس مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں یہ وعدہ اللہ کے ذمہ ہوچکا توراۃ ، انجیل ، قرآن میں اس کا اعلان ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون ہے جو اپنا عہد پورا کرنے والا ہو ؟ پس اپنے اس سودے پر جو تم نے اللہ سے چکایا خوشیاں مناؤ اور یہی ہے جو بڑی سے بڑی فیروزمندی ہے۔ اس آیت کریمہ نے حب ّ ایمانی کی حقیقت کو کیسے لفظوں میں واضح کردیا۔ فرمایا جو لوگ اللہ پر ایمان لائے تو ایمان کا معاملہ یوں سمجھو کہ انہوں نے اپنا سب کچھ اللہ کے ہاتھ بیچ دیا ، جان بھی اور مال بھی۔ اب ان کی کوئی چیز ان کی نہیں رہی اللہ اور اس کی سچائی کی ہوگئی اور پھر اللہ کی طرف سے اس کے معاوضہ میں کیا ہوا ؟ یہ ہوا کہ نعیم ابدی کی کامرانیاں انہیں عطا فرمائیں۔ یہ گویا خریدو فروخت کا ایک معاملہ تھا جو اللہ میں اور عشاق حق میں طے پا گیا۔ اب نہ بیچنے والا اپنی متاع واپس لے سکتا ہے نہ خریدنے والا قیمت لوٹائے گا اور چونکہ مقصود اس تلمیح سے اللہ کا لطف و کرم اظہار تھا اس لئے معاملہ کو اپنی طرف سے شروع کیا نہ کہ بیچنے والے کی طرف سے یعنی یہ نہیں فرمایا کہ مؤمنوں نے بیچ ڈالی بلکہ کہا کہ اللہ نے مؤمنوں سے خرید لی ۔ گویا معاملہ کا طالب وہ تھا ۔ حالانکہ اللہ ہر طرح کی طلب و احتیاج سے منزہ ہے اور جو متاع اس نے قبول کی وہ بھی اسی کی تھی اور جو کچھ معاوضہ میں بخشا وہ بھی اس کے سوا اور کس کا ہو سکتا ہے۔ ؟
Ayah 2:208

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

اے مسلمانو ! (اعتقاد و عمل کی) ساری باتوں میں پوری طرح مسلم ہوجاؤ اور (کسی بات میں بھی اسلام کے خلاف نہ کرو) دیکھو شیطانی وسوسوں کی پیروی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

پورے پورے مسلم بن جاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ 358: جس طرح اخلاص اور حسن نیت کے ساتھ تم نے احکام حج ادا کئے ہیں ایسے ہی تم میں سے ہر شخص جہاد فی سبیل اللہ میں شریک اور آئندہ تمہیں جو حکم دیا جائے اس کو پوری پابندی کے ساتھ ادا کرو۔ اسلام یہی نہیں کہ نماز ، روزہ ادا کردیا اور مطمئن ہوگئے بلکہ تمام احکام کو پورا کرنا اورانَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ00162 ( الانعام 6 : 163) کی حقیقت کو اپنے اوپر طاری کرلینا اسلام ہے۔ اس کے وجود سے دنیا میں ہر نیکی کا قیام اور برائی دور ہو ، عیش پر ستی اور آرام طلبی شیطان کی تعلیم ہے اور تباہی و بربادی کا پیش خیمہ اس کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ تم مسلمان اللہ کی راہ میں قربان ہونے سے پرہیز کرو۔ مگر تمہیں ان باتوں کا خیال نہ کرنا چاہئے تمہاری حیات قومی اور اجتماعی زندگی کے لئے بہترین قانون نوازش کیا گیا ہے۔ جس کا ایک مرتبہ تجربہ بھی ہوچکا ہے کہ تم شتربانی سے جہانبانی تک پہنچ گئے ۔ اس حقیقت صادقہ کے بعد اگر تم نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا یعنی اس کی تعلیم پر عمل نہ کیا تو اللہ اپنے غلبہ و اقتدار سے کام لے کر تمہیں فنا کر دے گا اور یہی اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا۔
Ayah 2:209

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر تمہارے قدم ڈگمگا گئے باوجود اس کے کہ ہدایت کی روشن دلیلیں تمہارے سامنے آ چکی ہیں تو یاد رکھو ، اللہ سب پر غالب اور حکمت والا ہے

اگر تم نے پرواہ کی تو سمجھ لو کہ اللہ تو پہلے ہی بےپرواہ ہے : 359: ” الْبَیِّنٰتُ “ سے مراد کھلے ہوئے احکام ہیں جن میں کسی قسم کا اخفا یا ابہام نہ ہو۔ مثلاً عقیدہ توحید و رسالت۔ حکم نماز اور حکم جہاد اور ہر وہ چیز اس میں داخل ہے جو دین اسلام کی حقانیت یا قانون اسلام کی صداقت پر روشن دلیل کا کام دے سکے۔ یہ بینات ان نومسلم یہود کے پاس بھی پہنچ چکے تھے اور انہیں کوئی وجہ اب قدم پیچھے ہٹانے یالڑکھڑانے کی نہیں رہی تھی۔ زَلَلْتُمْ : زلت کے لفظی معنی پھسل جانے کے ہیں جو بےاختیاری میں ہوتا ہے۔ یہ لفظ استعمال کرکے گویا ڈرایا گیا ہے کہ قصداً اور دانستہ مخالفت تو پھر بڑی چیز ہے غلطی یا بےخیالی سے بہک جانے میں بھی گرفت کا احتمال ہے اور وہ ذات یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ جو کچھ چاہے وہ سزا دے سکتا ہے اگرچہ وہ حکمت والا ہے کہ وقت مناسب ہی پر سزا دیتا ہے ۔ اس لئے تمہارے حق میں بہتر یہی ہے کہ تم بےپرواہ نہ بنو کیونکہ بےپرواہ صرف اور صرف ایک ہی ذات ہے۔
Ayah 2:210

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

پھر یہ لوگ کس بات کی انتظار میں ہیں ؟ کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ ان کے سامنے نمودار ہوجائے ، بادل ان پر سایہ کیے ہوں ، فرشتے ان کے سامنے صف باندھے کھڑے ہوں اور جو کچھ ہونا ہے وہ ہوچکے ؟ اور تمام کاموں کا انجام بالآخر اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے

اعلیٰ ترین قانون تمہارے پاس ہے لیکن عمل کا انحصار تو تم پر ہے : 360: قرآن کریم کا علیٰ ترین قانون تمہارے پاس ہے۔ اس پر عمل کر کے نتائج بھی سامنے آگئے۔ اب کیوں نہیں اس پر عمل کرتے اور کس انتظار میں ہو ؟ کیا یہ چاہتے ہو کہ اللہ خود نزول اجلال کرے۔ ملائیکہ اول اجنحتہ کا لشکر جرار اس کے جلو میں ہو اور بایں شان و شوکت تم سے آکر کہے کہ یہ حکم میرا ہے اسے مانو اور اس پر عمل کرو۔ تمہارے لئے اتنا بس کرتا ہے کہ نبی عربی نے اس قانون کی تبلیغ کردی۔ عمل کرنا تمہارا فرض ہے اور اگر باوجود ان دلائل واضح کے تمہیں یقین نہیں تو انتظار کرو اللہ کا عذاب آکر تمہاری بیخ کنی کر دے گا۔ عذاب کے فرشتے تمہیں نیست ونابود کردیں گے اور دنیا سے تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا ۔ جب تمہیں صاف صاف کہہ دیا کہ تمہاری زندگی کا راز جہاد فی سبیل اللہ میں پوشیدہ ہے اس لئے اس کے بعد کس دلیل وبرہان کی ضرورت ہے۔ ؎ آفتاب آمد دلیل آفتاب ۔ گرد لیلے باید ازوے رخ متاب جہاد سے منہ موڑو گے تو فنا ہوجاؤ گے اور یہ بات ہو کر رہے گی ، کیونکہ زمین و آسمان کے تمام امور کا نظم ونسق خود اللہ ہی کرتا ہے۔
Ayah 2:211

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

بنی اسرائیل سے پوچھو ، ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں دی تھیں ؟ اور جو کوئی اللہ کی نعمت پا کر پھر اسے بدل ڈالے تو یاد رکھو کہ اللہ بھی سزا دینے میں بہت ہی سخت ہے

اللہ کا قانون مکافات بھی سزا دینے میں بہت سخت ہے : 361 : اگر تمہیں کسی قسم کا شک و اشتباہ ہو کہ یہ قانون کس طرح ایک قوم کے لئے زندگی بخش ہو سکتا ہے اور محض جہاد فی سبیل اللہ پر کیسے حیات قومی کا انحصار ہے تو بنی اسرائیل سے پوچھ لو۔ ان کو توراۃ دی گئی کہ اس کے ذریعہ سے دنیا میں ترقی کرسکیں اور جہاد فی سبیل اللہ ان پر فرض کیا گیا۔ جب تک وہ ان دونوں کے پابند رہے خلافت ارضی ان کے پاس تھی اور جہاں انہوں نے ان سے بعد وہجر اختیار کیا ۔ فنا ہوگئے ۔ ان کے تنزل وانحطاط کے اعظم ترین اسباب یہی دو تھے ۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : الف۔ کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ 1ۙۗ کِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ (البقرہ 2 : 101) ” ان اہل کتاب میں سے ایک فریق نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈال دیا گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں۔ “ ب۔ جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ بیٹھے جیسے ارشاد فرمایا : فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ 1ؕ(البقرہ : 2) ” جب ان کو یعنی یہود کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑ گئے۔ “ حقیقت یہ ہے کہ ان سے بڑھ کر بنی اسرائیل کے لئے اور کون سی نعمتیں ہو سکتی تھیں مگر انہوں نے قدرنہ کی۔ ایسے ہی تم مسلمانوں کو دو چیزیں نوازش کی گئی ہیں : ایک قرآن کریم اور دوسرا جہاد فی سبیل اللہ چناچہ قرآن کریم کے بارے میں ارشاد ہوا : لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ 1ؕ(حم السجدہ 41 : 42) ” نہ تو اس کے آگے باطل جم سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے اسے جگہ مل سکتی ہے۔ “ اور جہاد کے متعلق فرمایا : وَ جَاہِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ 1ؕ (الحج 22 : 78) ” اور اللہ کی راہ میں جان لڑادو اس کی راہ میں جان لڑانے کا جو حق ہے پوری طرح ادا کرو۔ “ فرمایا کہ اگر تم بھی ان کو چھوڑ بیٹھے تو تمہیں سخت عذاب دیا جائے گا اور تم پر فنا طاری ہوجائے گی اور فی الواقعہ وہی ہوا جو قرآن کریم نے فرمایا تھا۔
Ayah 2:212

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

منکرین آخرت کی نگاہوں میں تو صرف دنیا کی زندگی ہی سمائی ہوئی ہے وہ ایمان والوں کی ہنسی اڑاتے ہیں حالانکہ جو لوگ پرہیزگار ہیں قیامت کے روز وہی ان منکرین کے مقابلہ میں بلند مرتبہ پر فائز ہوں گے اور پھر یہ منکرین آخرت نہیں جانتے کہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے بےحساب رزق سے مالا مال کردیتا ہے

کفار کی نگاہوں میں دنیا کی زندگی ہی زندگی ہے : 362: جو لوگ مذہب کو نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جب ان کے سامنے صحیح تعلیم پیش کی جاتی ہے تو اس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کے سامنے صرف یہی چند روزہ عیش و نشاط زندگی ہے۔ اگر یہ اس پر قناعت کرتے تو بھی ایک بات تھی مگر وہ ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ تمسخر و استہزاء کرتے ہیں اور ان پر آوازے کستے ہیں حالانکہ قیامت کے روز فرزندان اسلام ہی مدارج عالیہ کے مالک ہوں گے کیونکہ وہ اخلاق فاضلہ کے طالب ہیں دولت کی انہیں پرواہ نہیں۔ مجاہدین فی سبیل اللہ کا اولین فرض یہ ہوگا کہ ان کفار کو اتنا ذلیل و رسوا کریں کہ آئندہ انہیں سر اٹھانے کا موقع نہ ملے اور ہمیشہ کے لئے غلامانہ زندگی بسر کریں اس لئے کہ اگر انہیں کھلے بندوں چھوڑ دیا تو قانون کا حترام جاتا رہے گا۔ کسی شخص کے دل میں اس پر عمل کرنے کا شوق پیدا نہ ہوگا۔ آنے والی نسلوں کے لئے صحیح راہ گم ہوجائے گی اور بہت جلد یہ دستور العمل مٹ جائے گا۔ جب ارباب اخلاق و اعمال قیا مت میں مناسب جلیلہ پر فائز ہوں گے تو ضروری ہے کہ دنیا میں بھی وہ اعلیٰ ترین زندگی بسر کریں تاکہ ارادہ خداوندی پورا ہو کر رہے۔ جس وقت بھی مسلمان فرض جلیل کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے اور بالفرض نہ تو سامان حرب ہوگا اور نہ جنگ کرنے کے لئے سپاہی ، اللہ ضرور ان کی دستگیری کرے گا۔ ان کو کامیاب کر کے تمسخر کرنے والوں کو ذلیل و رسوا کرے گا۔ ضرورت ہے آگے بڑھنے کی جب عزم صمیم ، مستقل ارادہ ، استقلال و ثبات قدم اور توکل و اعتماد علی اللہ ہے تو کامیابی قطعی و یقینی ہے۔
Ayah 2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

لوگ الگ الگ گروہوں میں بٹے ہوئے نہیں تھے بلکہ ایک ہی قوم و جماعت تھے ، پس اللہ نے نبیوں کو مبعوث کیا وہ بشارت دیتے اور متنبہ کرتے نیز ان کے ساتھ کتاب الٰہی نازل کی گئی تاکہ جن باتوں میں لوگ اختلاف کرنے لگے تھے ، ان میں وہ فیصلہ کردینے والی ہو اور یہ جو لوگ باہم دگر مختلف ہوئے تو اس لیے نہیں ہوئے کہ وہ ہدایت سے محروم اور حقیقت سے بیخبر تھے ، نہیں ! وحی الٰہی کے واضح احکام ان کے سامنے تھے مگر پھر بھی محض آپس کی ضد اور مخالفت سے اختلاف کرنے لگے تھے بالآخر اللہ نے ایمان لانے والوں کو وہ حقیقت دکھا دی جس میں لوگ مختلف ہوگئے تھے اور اللہ اپنے قانون کے مطابق جسے چاہتا ہے دین کی سیدھی راہ دکھلا دیتا ہے

ایک وقت تھا کہ سب انسان ایک ہی جماعت تھے اور کوئی گروہ بندی نہ تھی : 363: دین کی اس اصل عظیم کا اعلان کہ ابتداء میں سب انسان ایک ہی قوم و جماعت تھے اور فطری زندگی کی سادگی پر قانع تھے پھر ایسا ہوا کہ نسل انسانی کی کثرت و وسعت سے طرح طرح کے تفرقے پیدا ہوگئے اور تفرقے کا نتیجہ ظلم و فساد کی صورت میں ظاہر ہوا تب وحی الٰہی نمودار ہوئی اور یکے بعد دیگرے اللہ کے رسول مبعوث ہوتے رہے۔ ہر رسول کی دعوت کا مقصد ایک ہی تھا یعنی خدا پرستی اور نیک عملی کی تلقین اور تفرقہ و اختلاف کی جگہ وحدت و اجتماع کا قیام ۔ کتاب اللہ ہمیشہ اس لئے نازل ہوئی تاکہ دین کے تفرقہ و اختلاف میں فیصلہ کرنے والی ہو اور لوگوں اور وحدت دین کی اصل پر متحد کر دے۔ تفرقہ و اختلاف کی علت باہمی کیا ہے ؟ یاد رہے کہ عصیان ہے یعنی آپس کی ضد اور اتباع حق کی جگہ خود پرستی اور سرکشی۔ اس محل میں اس ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ پیروان اسلام کی دعوت استقامت دیتے ہوئے پہلے بنی اسرائیل کے حالات سے استشہاد کیا تھا۔ اب واضح کیا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل ہی پر صرف موقوف نہیں تمام پچھلی جماعتوں کا یہی حال رہا ہے پس قیام حق کے لئے صرف تعلیم حق کی ضرورت نہیں کہ وہ تو اول روزے سے ایک ہی رہی ہے اور ہمیشہ موجود رہی ہے بلکہ حق پر ثابت رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ زیر نظر آیت کا ماحصل تھا جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ اس آیت کے پہلے جملہ میں ارشاد ہوا ہے : کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً 1۫ ، اُمَّةً عربی لغت کے اعتبار سے ایسی جماعت کو کہا جاتا ہے جس میں کسی وجہ سے رابطہ و اتحاد اور وحدت قائم ہو خواہ یہ وحدت نظریات و عقائد کی ہو یا ایک زمانہ میں یا کسی ایک خطہ ملک میں جمع ہونے کی یا دوسرے علاقہ یعنی نسب ، زبان ، رنگ وغیرہ کی ۔ مفہوم اس جملہ کا یہ ہے کہ کسی زمانہ میں تمام انسان باہم متفق و متحد ایک جماعت تھے۔ اس میں دو باتیں قابل غور ہیں۔ اول یہ کے اس جگہ وحدت سے کس قسم کی وحدت مراد ہے دوسرے یہ کہ وحدت کس زمانہ میں تھی۔ امرا دل کا فیصلہ تو اس آیت کے آخری جملہ نے خود کردیا جس میں اس وحدت کے بعد اختلاف واقع ہونے کا اور مختلف راہوں میں حق متعین کرنے کے لئے انبیاء علیم اسلام کے بھیجنے کا ذکر ہے کیونکہ یہ اختلاف جس میں فیصلہ کرنے کے لئے انبیاء علیہم اسلام اور آسمانی کتابیں بھیجی گئیں تھیں ظاہر ہے کہ وہ نسب و زبان یا رنگ یا وطن اور زمانہ کا اختلاف نہ تھا بلکہ نظریات اور عقائد و خیالات کا اختلاف تھا۔ اس کے مقابلہ سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں وحدت سے بھی وحدت فکر و خیال اور وحدت عقیدہ و مسلک مراد ہے۔ تو اب مفہوم آیت اس طرح ہوگیا کہ ایک زمانہ ایسا تھا جب کہ تمام افراد انسانی صرف ایک ہی عقیدہ و خیال اور ایک ہی مذہب و مسلک رکھتے تھے۔ وہ عقیدہ و مسلک کیا تھا ؟ اس پر پھر دو احتمال ہیں ایک یہ کہ سب عقیدہ توحید و ایمان پر متفق تھے دوسرے یہ کہ سب کفر و ضلال پر متحد تھے۔ مفسرین کرام نے دونوں طرح کی تفسیر کی ہے تاہم جمہور مفسرین کے نزدیک رائج یہ ہے کہ مراد عقائد صحیحہ توحید و ایمان پر سب کا متحد ہونا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : وَ مَا کَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا 1ؕ وَ لَوْ لَا کَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ 0019 (یونس 10 : 19) ” اور انسانوں کی ایک ہی امت تھی پھر الگ الگ ہوگئے اور اگر تمہارے پروردگار کی جانب سے پہلے ایک بات نہ ٹھہرا دی گئی ہوتی تو جن باتوں میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ کبھی کا ہوچکا ہوتا۔ “ ایک جگہ فرمایا کہ : اِنَّ ہٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ 0092 (الانبیا 21 : 92) ” یہ تم سب کی امت ایک ہی امت ہے اور میں ہی تم سب کا پروردگار ہوں ، پس چاہیے کہ میری بندگی کرو۔ “ پھر ایک جگہ ارشاد ہوا : وَ اِنَّ ہٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ 0052 (المؤمنون 23 : 52) ” اور دیکھو یہ تمہاری امت در اصل ایک ہی امت ہے اور تم سب کا پروردگار میں ہی ہوں پس مجھ سے ڈرو۔ “ ان تمام آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ وحدت سے عقیدہ و مسلک کی وحدت اور دین حق توحید و ایمان کا متحد ہونا مراد ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ یہ دین حق اسلام و ایمان پر تمام انسانوں کا اتفاق و اتحا دکس زمانہ میں واقعہ ہے اور یہ وحدت کہاں تک قائم رہی ؟ مفسرین صحابہ میں سے حضرت ابی بن کعب اور ابن زید نے فرمایا کہ واقعہ عالم ازل کا ہے جب تمام انسانوں کی ارواح کو پیدا کر کے ان سب سے سوال کیا گیا تھا : اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 1ؕ یعنی کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں اور سب نے بلا استثناء یہ جواب دیا تھا کہ بلاشبہ آپ ہمارے رب اور پروردگار ہیں ! اس وقت تمام افراد انسانی ایک ہی عقیدہ پر قائم تھے جن کا نام ایمان و اسلام ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ وحدت عقیدہ کا واقعہ اس وقت کا ہے جب آدم (علیہ السلام) مع اپنی زوجہ کے دنیا میں تشریف لائے اور ان کے ہاں اولاد ہوتی رہی اور سب اس وحدت عقیدہ پر قائم رہے ۔ بعض نے کہا کہ یہ وحدت عقیدہ حضرت ادریس (علیہ السلام) تک قائم رہی اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ وحدت عقیدہ سیدنا نوح (علیہ السلام) تک رہی اور حقیقت ان سب کی ایک ہی ہے کہ جب تک زندگی فطری سادگی پر قائم رہی یہ زمانہ کتنا عرصہ قائم رہا قرآن کریم نے اس کی مدت مقرر نہیں کی اور اس کی ضرورت بھی نہ تھی کیونکہ مقصود کلام یہ ہے کہ جب تک اختلاف نہ ہو انبیاء کرام کے مبعوث کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی اور جب اختلاف پیدا ہوا اور پھر وہ کافی حد تک بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لئے انسانوں کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ اس اختلاف کو ختم کرائیں جو وحی الٰہی نہ ہونے کے سبب شروع ہوگیا تھا۔ کیونکہ انبیاء کرام اور کتابوں کو بھیجنے کی علت لوگوں کا اختلاف ہے اور جب تک اختلاف نہ تھا نبوت ظاہر نہ ہوئی جب اختلاف شروع ہوا تو انبیاء اور کتابیں بھیجنے کی ضرورت پیش آئی۔ پھر فرمایا کہ انبیاء کرام اور آسمانی کتابوں کے کھلے ہوئے فیصلوں کے بعد بھی یہ دنیا دو ہی گروہوں میں تقسیم رہی کچھ لوگوں نے ان ہدایات واضح کو قبول نہ کیا اور تعجب کی بات یہ ہے کہ قبول نہ کرنے والے اول وہی لوگ ہوئے جن کے لئے انبیاء کرام اور آیات الٰہی بھیجی گئی تھیں پھر اس تعجب پر مزید تعجب یہ ہوا کہ ان آسمانی کتابوں میں کوئی اشتباہ یا التباس کی گنجائش نہ تھی کہ ان لوگوں کی سمجھ میں نہ آئے یا غلط فہمی کا شکار ہوجائیں بلکہ حقیقت یہ تھی کہ جاننے بوجھنے کے باوجود ان لوگوں نے محض ضد اور ہٹ دھرمی سے انکار کیا۔ زیر نظر آیت سے تین باتیں واضح ہوئیں پہلی بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے جو بہت سے انبیاء کرام اور کتابیں دنیا میں بھیجیں یہ سب اس واسطے تھیں کہ یہ لوگ جو دین حق کی ملت واحدہ کو چھوڑ کر مختلف فرقوں میں بٹ گئے ہیں پھر ان کو اسی ملت واحدہ پر قائم کردیں۔ انبیاء کا یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا کہ جب لوگ اس راہ حق سے پھسلے تو ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی بھیجا اور کتاب اتاری کہ اس کے موافق چلیں پھر کبھی بہکے تو دوسرا نبی اللہ نے اسی راہ حق پر قائم کرنے کے لئے بھیج دیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے تندرستی ایک ہے اور بیماریاں بےشمار۔ جب ایک مرض پیدا ہوا تو اس کے موافق دوا اور پرہیز مقرر ہوئی۔ پھر جب دوسرا مرض پیدا ہوا تو دوسری دوا اور پرہیز اس کے موافق بتلا دی اور اب آخر میں ایک ایسا جامع نسخہ تجویز فرمایا جو ساری بیماریوں سے بچانے میں اس وقت تک کے لئے کامیاب ثابت ہو جب تک اس عالم کو باقی رکھنا منظور ہو۔ یہ مکمل اور جامع نسخہ ایک جامع اصول علاج ہے پچھلے نسخوں کے قائم مقام اور آئندہ سے بےنیاز کرنے والا ہو اور وہ نسخہ جامع اسلام ہے جس کے لئے خاتم الانبیاء ﷺ اور قرآن کریم بھیجے گئے اور پچھلی کتابوں میں تحریف ہو کر جو پچھلے انبیاء کی تعلیم ضائع اور گم ہوجانے کا سلسلہ اوپر سے چلا آیا تھا جس کے سبب نئے نبی اور نئی کتاب کی ضرورت پیش آتی تھی اس کا یہ انتظام فرما دیا گیا کہ قرآن کریم کی تحریف سے محفوظ رہنے کا ذمہ خود حق تعالیٰ نے لے لیا اور قرآن کریم کی تعلیمات کو قیامت تک ان کی اصلی صورت میں قائم اور باقی رکھنے کے لئے اللہ جل شانہ نے امت محمدیہ میں تا قیام قیامت ایک ایسی جماعت قائم رکھنے کا وعدہ فرما لیا جو ہمیشہ حق پر قائم رہ کر کتاب و سنت کی صحیح تعلیم مسلمانوں میں شائع کرتی رہے گی اور کسی کی مخالفت اور عداوت ان پر اثر انداز نہ ہوگی ۔ اس لئے اس کے بعد دروازہ نبوت اور وحی کا بند ہوجانا نا گزیر امر تھا آخر ختم نبوت کا اعلان کردیا گیا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مذہب کی بنا پر قومیت کی تقسیم مسلم و غیر مسلم کا دو قومی نظریہ عین منشاء قرآنی کے مطابق ہے اور آیت فمنکم کافرو منکم مؤمن اس پر شاہد ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوگیا کہ اسلام میں اس دو قومی نظریے کی اصل بنیاد در حقیقت صحیح متحدہ قومیت پیدا کرنے پر ہے جو ابتداء آفرنیش میں قائم تھی۔ جس کی بنیاد وطنیت پر تھی بلکہ عقیدہ حق اور دین حق کی پیروی پر تھی۔ ارشاد قرآنی کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً نے بتلایا کہ ابتدائے عالم میں اعتقاد صحیح اور دین حق کی پیروی کے اعتبار سے ایک صحیح اور حقیقی وحدت قومی قائم تھی بعد میں لوگوں نے اختلاف پیدا کئے ۔ انبیاء نے لوگوں کو اس اصلی وحدت کی طرف بلایا جنہوں نے ان کی دعوت کو قبول نہ کیا وہ اس متحد قوت سے ٹکرا گئے اور جداگانہ قوم قرار دیئے گئے۔ تیسری بات اسی آیت سے یہ معلوم ہوئی کہ ازل سے سنت الٰہی یہی جاری ہے کہ برے لوگ ہر نبی کے خلاف اور کتاب الٰہی سے اختلاف کو پسند کرتے رہے اور ان کے مقابلہ و مخالفت میں پورا زور خرچ کرنے کے لئے آمادہ رہے ہیں تو اب اہل ایمان کو ان کی بد سلوکی اور فساد سے تنگ دل نہ ہونا چاہئے۔ جس طرح کفار نے اپنے بڑوں کا طریقہ کفر وعناد اور انبیاء کی مخالفت کا اختیار کیا اسی طرح مؤمنین صالحین کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے بزرگوں کا یعنی انبیاء کرام کا وظیفہ اختیار کریں کہ ان لوگوں کی ایذائوں اور مخالفتوں پر صبر کریں اور حکمت و مؤعظت اور نرمی کے ساتھ ان کو دین حق کی طرف بلاتے رہیں اور شاید اس مناسبت سے اگلی آیت میں مسلمانوں کو مصائب و آفات کے تحمل اور صبر کی تلقین کی گئی ہے۔
Ayah 2:214

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

تعجب ہے کہ تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ محض ایمانی دعویٰ سے تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی تم کو وہ آزمائشیں تو پیش ہی نہیں آئیں جو تم سے پہلے لوگوں کو پیش آ چکی ہیں ، ہر طرح کی سختیاں اور محنتیں انہیں پیش آئیں ، شدتوں اور ہولناکیوں سے ان کے دل دہل گئے یہاں تک کہ اللہ کا رسول اور جو لوگ ایمان لائے تھے پکار اٹھے ، اے نصرت الٰہی تیرا وقت کب آئے گا ؟ گھبراؤ نہیں اللہ کی نصرت تم سے دور نہیں ہے

صرف ایمان دعویٰ سے جنت نہیں ملتی یہاں لوہے کے چنے چبانا ہی پڑتے ہیں : 364: تم دنیا کے اختلاف مٹانے کے لئے آئے ہو اور تمہیں خلافت ارضی کے لئے چن لیا گیا ہے مگر کیا اس بہشت زار ارضی میں بغیر کسی محنت و تکلیف کے داخل ہوجائو گے حالانکہ ابھی ان مشکلات و موانع کی ابتداء نہیں ہوئی جو انبیاء و رسل کو راہ حق و صدق میں پیش آتی ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان ارباب صدق و صفا کو چاروں طرف سے مصیبتوں نے گھیر لیا۔ غنیم کی فوجیں محاصرہ کئے ہوئے تھیں قدم قدم پر دشمن کا خوف دامن گیر تھا۔ جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ سامان خوراک کے تمام ذرائع و وسائل مسدود تھے۔ بھوک اور پیاس کے مارے تڑپ رہے تھے۔ یہ تو بیرونی تکلیفوں کی حکایت تھی۔ ادھر گھر میں اختلاف پیدا ہوگیا ۔ پریشانی و اضطراب کی وجہ سے کم ہمتوں میں بزدلی اور نامرادی کے آثار ظاہر ہونے لگے اور ان میں باہمی منازعت شروع ہوگئی۔ آپس میں لڑنے جھگڑنے کی وجہ سے سب کے سب مبتلائے مصیبت ہوگئے مگر باوجود ان روح فرسا حالات اور الم ناک حوادث کے رسول (علیہ السلام) اور اس کے اعوان و انصار اپنے فرائض کے ادا کرنے میں برابر مصروف رہے۔ وہ مقام جس پر رسالت کا منصب رسول کو عام انسانوں سے جدا کردیتا ہے : 365: جب ان کی تمام سعی و کوشش ختم ہوگئی اور انہوں نے کام کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی ادھر خارجی اعانت کی بھی کوئی توقع نہ رہی تو اس وقت رسول (علیہ السلام) کے اعوان و انصار نہایت ہی الحاح و تضرع کے ساتھ پکار اٹھے کہ خدایا تیری مدد کب آئے گی ؟ اس وقت انبیاء و رسل جو گویا عزم و ایمان کے پہاڑ تھے نے فوراً جواب دیا کہ گھبرائو نہیں اللہ کی نصرت تم سے دور نہیں ۔ بس آئی کہ آئی۔ گویا یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر رسالت کا منصب رسول کو عام انسانوں سے جدا کردیتا ہے۔ یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ 1ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ 00214 کی بابت اعراب القرآن میں ہے کہ : وفی ھذا الکلام و اجمال و نفصیلہ ان اتباع الرسول قالوا متی نصر اللہ فقل الرسول الا ان نصر اللہ قریب اس کلام میں اجمال ہے اور تفصیل اس کی اس طرح کہ رسول کے اعوان و انصار نے کہا ” اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ “ جس کے جواب میں رسول (علیہ السلام) نے کہا : ” خبردار ! اللہ تعالیٰ کی نصرت بالکل قریب ہے۔ “ فکر کی کوئی بات نہیں۔ اور فتح الباری ص 221 پارہ 19 میں ہے کہ : الجملۃ ولٰی وھی متی نصر اللہ ؟ قول الذین امنوا معہ والجملتہ الا خیرۃ وھی الا ان نصر اللہ قریب مقول الرسول وقدم الرسول فی الذکر لشرفہ وھذا اولٰی یعنی متی نصر اللہ ، مسلمانوں یعنی رسول کے اعوان و انصار کا مقولہ ہے جو تنگی کے وقت ان کی زبان پر بحیثیت انسان آیا ہے اور اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ ان کے رسول کا مقولہ ہے کہ کوئی فکر کی بات نہیں اللہ تعالیٰ کی مدد بالکل قریب ہے اور رسالت کی یہی شان ہے۔ اسی طرح کے مقامات قرآن کریم میں اور بھی ہیں جن کا ذکر ان کے مقام پر آئے گا اور بالکل اس طرح کی ایک آیت کریمہ سورة یوسف میں بھی بیان کی گئی ہے حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْـَٔسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ کُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا (یوسف 12 : 110) اس کا مطلب یہی ہے کہ رسول اپنی قوم کی طرف سے مایوس ہوئے یہاں تک کہ ان کو یقین ہوگیا کہ اب یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں اور انہوں نے ہٹ دھرمی سے یہ بھی خیال کیا کہ رسول کا بھی کوئی وعدہ وعید پورا نہ ہوا یعنی نہ ہم ایمان لائے اور نہ ہی رسول کا موعود عذاب آیا۔ بس پھر کیا ہوا فوراً ہمارا وعدہ وعید پورا ہوگیا اور ہماری مدد رسولوں کے پاس پہنچ گئی اور ظالموں کا تہس نہس ہوگیا۔ چنانچہ فتخ الباری ص 221 پارہ 19 میں عبداللہ بن عباس ؓ سے اس کا ترجمہ بھی اسی طرح منقول ہے : ایئس الرسول من ایمان قومھم وظن قومھم ان الرسول کذبوا تفصیل ان شاء اللہ موقع پر آئے گی۔ دوبارہ آیت 214 کی طرف مراجعت آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ نے دو اصول بیان فرمائے ہیں جن کو ذہن نشین کرنا نہایت ضروری ہے۔ پہلا اصول یہ ہے کہ : راہ حق میں تکالیف کا آنا سنت اللہ ہے جو نہایت ضروری ہے بلکہ اس کے بغیر کامیابی نہیں ہو سکتی جس کی تفصیل دوسری جگہ بھی موجود ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ ہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ 002 وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ 003 (العنکبوت 29 : 2 تا 3) ” کیا لوگ اس خیال میں ہیں کہ یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔ اور ہم نے ان کی بھی آزمائش کی ہے جو ان سے قبل گزرے ہیں تو اللہ ان لوگوں کو ظاہر فرما دے گا جو سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔ ؟ “ دوسرا اصول یہ بتایا ہے اور اس کی حقیقت واضح کردی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کس وقت نازل ہوا کرتی ہے ؟ فرمایا کہ جب تک ایک شخص اپنی تمام قوتوں کو اس کی راہ میں وقف نہ کر دے مدد نہ آئے گی۔ چناچہ سورة آل عمران کے آخر میں گناہوں کے کفارہ کی نسبت فرمایا کہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ راہ حق میں ہرچیز قربان کردیتے ہیں چناچہ ارشاد ہوا : فَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ (آل عمران 3 : 195) ” پس جن لوگوں نے راہ حق میں ہجرت کی ، اپنے گھروں سے نکالے گئے ، میری راہ میں ستائے گئے اور پھر راہ حق میں جہاد کیا اور قتل ہوئے تو یقینا ایسا ہوگا کہ میں ان کی خطائیں محو کر دوں ۔ “ پس اب بھی فرزندان اسلام کے لئے ضروری ہے کہ وہ محض دعا کے بھروسہ پر قناعت نہ کر بیٹھیں بلکہ زور بازو سے بھی کام لیں لوگوں کے جھوٹے وعدوں پر نہ جائیں۔ اپنی قوت کا اظہار کریں اس لئے کہ دنیا میں اسی قوم نے دائمی زندگی حاصل کی ہے جس نے اپنے ہاتھ پائوں سے کام لیا ہے اور قدرت بھی اسی کو زندہ رکھتی ہے جو اصلح و امثل ہو۔
Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

تم سے لوگ دریافت کرتے ہیں کہ خیرات کیلئے خرچ کریں تو کیا خرچ کریں ؟ ان سے کہہ دو جو کچھ بھی تم اپنے مال میں سے نکال سکتے ہو نکالو تو اس کے مستحق تمہارے ماں باپ ہیں ، عزیز و اقارب ہیں ، بےباپ بچے ہیں ، مسکین ہیں ، مصیبت کے مارے مسافر ہیں اور یاد رکھو جو کچھ بھی تم بھلائی کے کاموں میں سے کرتے ہو وہ اللہ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا وہ تو سب کچھ جاننے والا ہے

کیا آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ روپیہ کا مصرف کیا ہے ؟ 366: خیرات کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس غلطی کا ازالہ بھی کیا جا رہا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ خیرات صرف غیروں ہی کو دی جاسکتی ہے۔ اپنوں اور عزیزوں کی مدد کرنا خیرات نہیں ہے۔ یہ خیرات کے مصارف بتاتے ہوئے واضح کردیا گیا کہ اس کا اولین مصرف تمہارے عزیز و اقارب ہیں بشرطیکہ وہ محتاج ہوں۔ زیر نظر آیت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا استفتاء یعنی سوال ان الفاظ میں نقل فرمایا گیا ہے یَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ ؟ لوگ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ اور پھر یہی سوال دو آیات چھوڑ کر پھر دہرایا گیا ہے کہ وَیَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ ؟ لیکن اس ایک ہی سوال کا جواب زیر نظر آیت میں کچھ اور دیا گیا ہے اور دو آیتوں کے بعد آنے والے سوال کا جواب کچھ اور آخر کیوں ؟ احادیث میں آتا ہے کہ کچھ مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا تھا کہ منافق من اموالنا واین نضعھا ؟ یعنی ہم اپنے اموال میں سے کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں ؟ اور کہاں خرچ کرنے کا سوال اس وجہ سے تھا کہ لوگوں میں معروف تھا کہ اپنوں اور عزیزوں کی مدد کرنا خیرات کرنا نہیں ہے ۔ گویا سوال ایک ہی تھا جس کے دو جزء تھے کہ کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں۔ دوسری آیت کے متعلق بھی احادیث میں وضاحت موجود ہے کہ جب قرآن کریم میں مسلمانوں کو اس کا حکم دیا گیا کہ اپنے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کریں تو کچھ لوگوں نے اس کی وضاحت چاہی کہ کیا مال اللہ کی راہ میں خرھ کریں ؟ جس کا گویا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ کیا خرچ کریں ؟ اور یہ بات واضح ہے کہ جب ان دونوں سوالوں کی نوعیت مختلف تھی تو جواب بھی مختلف ہونا چاہئے تھا پہلے سوال میں کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کرنے کا سوال تھا اور دوسرے میں صرف کیا خرچ کریں کا سوال تھا پھر صرف یہی نہیں بلکہ جواب میں اس کی وضاحت بھی مل جاتی ہے کہ پہلے سوال میں سوال کرنے والوں کا دراصل مطلب ہی جز دو کے متعلق تھا یعنی یہ کہ وہ کہاں خرچ کریں کیونکہ اس کا جواب پوری وضاحت سے دیا گیا اور پہلے زجر یعنی کیا خرچ کریں کے جواب کو صرف ضمنی طور پر بیان فرمایا اب دونوں اجزاء کے متعلق قرآن کریم کے الفاظ پر غور فرمائیں بات بالکل واضح ہوجائے گی۔ سوال کرنے والوں کے سوال کا جز دوم کہ کہاں خرچ کریں زیادہ اہمیت رکھتا تھا لہٰذا اس کا پہلے جواب ارشاد فرمایا : مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ 1ؕ، یعنی جو کچھ بھی تم کو اللہ کے لئے خرچ کرنا ہے اس کے زیادہ مستحق ماں باپ اور رشتہ دار ، بےباپ کے بچے ، مساکین اور مسافر ہیں۔ اور سوال کا پہلا جز یعنی کیا کرچ کریں اتنا ضروری نہیں تھا لہٰذا اس کا جواب بعد میں بھی دیا اور مختصر بھی کہ وَمَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ ۔ یعنی تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے۔ الغرض پہلی آیت میں سوال کرنے والوں کے پیش نظر اہمیت اس سوال کی تھی کہ جو مال خرچ کریں اس کا مصرف کیا ہو ؟ کہاں خرچ کریں ؟ اس لئے اس کے جواب میں اہمیت کے ساتھ مصارف بیان فرمائے گئے اور کیا کریں کا جواب ضمنی طور پر دے دینا کافی سمجھا گیا اور بعد والی آیت میں سوال صرف اتنا ہی تھا کہ ہم کیا چیز اور کیا مال یا کتنا مال خرچ کریں ۔ اس کا جواب ارشاد فرمایا : قُلِ الْعَفْوَ 1ؕ، یعنی آپ ﷺ جواب دے دیں کہ جو کچھ اپنی ضروریات سے زائد ہو وہ سب کا سب خرچ کیا کریں اور دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں مال خرچ کرنے کے لئے گویا یہ ہدایت مشترک ہے ۔ البتہ اتنا مزید سمجھ لینا ضروری ہے کہ : دو آیتیں زکوٰۃ فرض کے لئے نہیں ہیں کیونکہ زکوٰۃ فرض کے لئے نصاب مال بھی مقرر ہے اور مقدار خرچ بھی متعین ہے ان دونوں آیتوں میں نہ کسی نصاب مال کی قید ہے نہ خرچ کرنے کی مقدار واضح ہے۔ دوسرا یہ کہ صدقات نافلہ کی اہمیت بھی معلوم ہوگئی کہ فرض تو بہر حال فرض ہے اس کی ادائیگی کے بعد بھی مال خرچ کرنے کے حقوق باقی رہتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہ والدین اور رشتہ داروں اور غرباء و مساکین اور بےباپ بچوں پر خرچ کرنا بھی ضروریات اسلام میں سے ہے اور صاحب مال کو صرف زکوٰۃ ادا کردینا فرضیت کے ازالہ کے لئے ہی کافی ہو سکتا ہے ذمہ داریاں اس کے سوا بھی اس پر عائد ہوتی ہیں ۔ یہ بھی معلوم ہوگیا کہ خویش و اقارب پر خرچ کیا ہوا مال جو ان کی جائز ضروریات کے لئے خرچ کیا جائے جب اللہ کا حکم سمجھ کر خرچ کیا جائے تو وہ باعث اجر وثواب ہوجاتا ہے ۔ اس کو کہتے ہیں کہ : ہم خرما و ہم صواب۔ احادیث میں بھی اس کی وضاحت موجود ہے کہ عام لوگوں پر مال خرچ کرنے سے جتنا اجر وثواب ملتا ہے اپنے عزیز و اقارب اور رشتہ داروں میں خرچ کرنے سے اس کا اجر وثواب دوگنا ملتا ہے ایک خرچ کرنے کا دوسرے قرابت داروں کی قرابت کے سبب سے اجر وثواب ہوگا۔ اس سے اس بات کی وضاحت بھی ہوگئی کہ اگر ایک مسلم کی مال و جان کی ضرورت اسلام کو ہو تو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ پورے کا پورا مال مع اپنی جان کے اسلام کی خاطر صرف کردینے کی ہمت کرے اور یقیناً اس کی یہ ہمت رائیگاں نہیں جائے گی بلکہ اس کے تمام غموں اور دکھوں کا مداوا ہوگی اور کس طرح ہوگی ؟ جس طرح اللہ چاہے گا یہ اس کا وہ راز ہے جو انسانی عقل و فکر سے دور ہے اور قانون الٰہی میں جو طے ہے اس کا ہونا لازم و ضروری ہے۔
Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

جہاد کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار گزرتا ہے لیکن بہت ممکن ہے کہ ایک بات تم ناگوار سمجھتے ہو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور ایک بات تمہیں اچھی لگتی ہے اور اس میں تمہارے لیے برائی ہو اللہ جانتا ہے مگر تم نہیں جانتے

جنگ تم پر فرض کی گئی ہے اس کی حقیقت سمجھ میں آئے گی تو نا گواری ختم ہوجائے گی : 367: جنگ ؟ آخر کیوں ؟ اس لئے کہ تم زندہ رہو گے اور تمہاری قوم کو دائمی زندگی نصیب ہوگی اور تمہاری انفرادی و اجتماعی حیات کا راز اسی میں پوشیدہ ہے ۔ جنگ کی حالت کوئی ایسی حالت نہیں ہے جو تمہارے لئے خوشگوار ہو لیکن یاد رکھنے کی بات تو یہ ہے کہ اس دنیا میں کتنی ہی خوشگواریاں ہیں جو ناگواریوں سے پیدا ہوتی ہیں اور کتنی ہی خوشگوار باتیں ہیں جن کا نتیجہ ناگوار ہوتا ہے۔ جنگ ” برائی “ ہے لیکن انسانی طاقت کا ظلم و فساد اس سے بھی بڑھ کر برائی ہے۔ پس جب ایسی حالت پیش آجائے کہ ظلم کا ازالہ اور کسی طرح ممکن نہ ہو تو جنگ کے سوا چارہ نہیں۔ قوموں کی موت اور زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرو ۔ جس قوم کا جسم زندہ ہو لیکن روح مردہ ہو تو وہ قوم کبھی زندہ قوم نہیں کہلاتی قومی زندگی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی روح بھی زندہ ہو۔ دیکھو جب نبی کریم ﷺ اس دنیا میں مبعوث ہوئے تو جس قوم میں مبعوث ہوئے وہ من حیث الجسم زندہ تھی لیکن من حیث الروح مردہ ہوچکی تھی قرآن کریم نے جو دعوت دی اس میں ارشاد فرمایا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ 1ۚ (الانفال 8 : 24 ) ” اے مسلمانو ! اللہ اور اس کے رسول کی پکار کا جواب دو جب وہ پکارے تاکہ تمہیں (رُوحانی موت سے نکال کر) زندہ کر دے۔ “ ٹھہرو ! جلدی نہ گزر جائو ، ان الفاظ پر غور کرو نہیں پھر غور کرو یہ وہی بات ہے جو قرآن کریم کے صفحات میں بار بار نمایاں کی گئی ہے اس کی دعوت سراسر تعقل و تفکر کی دعوت ہے جو انسان اپنے حواس و عقل سے کام نہیں لیتا وہ اس کے نزدیک انسان ہی نہیں بدترین چارپایہ ہے نیز وہ فکر و عمل کی جس حالت کو کفر کی حالت قرار دیتا ہے اس کا سرچشمہ یہی عقل و حواس کا تعطل ہے۔ اب حوالہ کی آیت پر نظر کرو فرمایا جا رہا ہے کہ پیغمبر اسلام کی دعوت اس لئے ہے کہ تمہیں زندہ کر دے یعنی وہ انسانیت اعلیٰ کے انبعاث و قیام کی دعوت ہے غور کرو اس دعوت نے وقت کی تمام مردہ جماعتوں کو کس طرح قبروں سے اٹھا کر زندگی کے میدانوں میں متحرک کردیا تھا ؟ اس سے بڑھ کر مردوں کو جلانا اور کیا ہوگا ؟ عرب کے ساربانوں میں ابوبکر و عمر و عثمان وعلی ، سیدہ عائشہ ، خالد ، ابن وقاص اور ابن العاص رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے لوگ پیدا کر دئے اور پچاس سال کے اندر کرئہ ارض کی سب سے بڑی مہذب و اشرف قوم وہی عرب کے وحشی تھے۔