Ayah 2:266فطرتِ انسانی سے استشہاد کی ایک مثال :
463: احسان جتانے ، دکھ دینے اور ریاکاری کرنے سے صدقات و خیرات پر کس طرح تباہی آتی ہے اس کی یہ تیسری مثال بیان کی جا رہی ہے کہ خلاف شرائط صدقہ کرنے کی مثال ایسی ہی ہے کہ بظاہر وہ صدقہ کر کے آخرت کے لیے بہت سا ذخیرہ جمع کر رہا ہے لیکن اللہ کے نزدیک یہ ذخیرہ کچھ بھی کام نہیں آتا۔ اور اس مثال میں جو چند قیدیں بڑھائی گئی ہیں کہ اس کو بڑھاپا آگیا ، اس کے اولاد بھی ہے اور اولاد بھی چھوٹے بچے جو ضعیف و کمزور ہیں۔ ان قیدوں کا مقصد یہ ہے کہ جوانی کی حالت میں کسی کا باغ یا کھیتی جل جائے تو اسے یہ امید ہو سکتی ہے کہ پھر باغ لگا لوں گا اور جس شخص کے اولاد نہ ہو اس کو دوبارہ باغ لگانے کی امید بھی نہ ہو تو باغ جل جانے کے بعد اس کو کوئی خاص فکر معاش نہیں ہوتی کیونکہ اکیلا آدمی جس طرح بن پڑے تنگی ترشی سے گزارہ کرسکتا ہے اور اگر اولاد بھی ہو مگر جوان و صالح ہو جن سے یہ توقع کی جائے کہ وہ باپ کا ہاتھ بٹائیں گے اور مدد کریں گے ، ایسی صورت میں بھی باغ کے جل جانے یا لٹ جانے پر کچھ زیادہ صدمہ نہیں ہوتا کیونکہ اولاد کی فکر سے تو فارغ ہے بلکہ اب اولاد اس کا بھی بوجھ اٹھا سکتی ہے۔ غرض یہ تینوں قیدیں شدت احتیاج کا بیان کرنے کے لیے لائی گئیں کہ ایسا شخص جس نے اپنا مال اور محنت خرچ کر کے ایک باغ لگایا اور وہ باغ تیار ہو کر پھل بھی دینے لگا اور اس حالت میں اس کا بڑھاپا اور کمزوری کا زمانہ بھی آگیا اور یہ شخص صاحب عیال بھی ہے اور عیال بھی چھوٹے اور کمزور بچے ہیں تو ان حالات میں اگر اس کا لگایا ہوا باغ جل جائے تو صدمہ شدید ہوگا اور اتنی ہی تکلیف بھی زیادہ ہوگی۔
بڑھاپے کی مثال موت کے ساتھ کیوں ؟
464: اس طرح جس شخص نے ریاکاری سے صدقہ و خیرات کیا یہ گویا اس نے باغ لگایا پھر موت کے بعد اس کی حالت اس بوڑھے جیسی ہوگئی جو کمانے اور دوبارہ باغ لگانے کی قدرت نہیں رکھتا کیونکہ موت کے بعد انسان کوئی عمل ہی نہیں کرسکتا اور جس طرح عیالدار بوڑھا اس کا بہت محتاج ہوتا ہے کہ پچھلی کمائی محفوظ ہو تاکہ ضعیفی میں کام آئے اور اگر اس حالت میں اس کا باغ اور مال و متاع جل جائے تو اس کے دکھ اور درد کی انتہاء ہی نہ رہے گی۔ اس طرح یہ صدقہ و خیرات جو ریا و نمود کے لیے کیا گیا تھا عین ایسے وقت ہاتھ سے جاتا رہے گا جبکہ وہ اس کا بہت حاجت مند ہوگا اور بڑھاپے کی مثال موت کے ساتھ اس لیے دی گئی کہ قانون الٰہی میں جس طرح بڑھاپے کے بعد جوانی ممکن نہیں اسی طرح موت کے بعد دوبارہ دنیاوی زندگی بھی ممکن نہیں۔
مختصر یہ کہ اس پوری آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ صدقہ و خیرات قبول ہونے کی اللہ کے نزدیک ایک بہت بڑی شرط اخلاص ہے کہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے خرچ کیا جائے ، کسی نام و نمود کا اس میں دخل نہ ہو۔ زیر نظر مثال کی موید امثال قرآنی پر ایک نظر ڈال لو۔
ارشا دالٰہی ہے :
مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ ہٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ 1ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ 00117 (آل عمران 3 : 117)
” دُنیا کی زندگی میں یہ لوگ جو کچھ بھی (محض دنیا کی خاطر) خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس ہوا کا چلنا جس کے ساتھ سردی کی لہر شامل ہو پھر ایک گروہ نے جو محنت و مشقت برداشت کر کے ایک کھیت تیار کیا لیکن اس سردی کی لہر سے سارا کھیت برباد ہو کر رہ جائے ، ہاں ! یہ جو کچھ انہیں پیش آیا تو اس لیے نہیں کہ اللہ نے ان پر ظلم کیا ہو بلکہ یہ خود اپنے ہاتھوں اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں۔ “
ایک جگہ ارشاد ہے ، جس کا ترجمہ اس طرح ہے :
” دنیا کی زندگی کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے یہ معاملہ کہ آسمان سے ہم نے پانی برسایا اور زمین کی نباتات جو انسانوں اور چارپایوں کے لیے غذا کا کام دیتی ہے اس سے شاداب ہو کر پھلیں پھولیں اور باہم دگر مل گئیں پھر جب وہ وقت آیا کہ زمین نے اپنے سارے زیور پہن لیے اور خوشنما ہوگئی اور زمین کے مالک سمجھے کہ اب فصل ہمارے قابو میں آگئی ہے تو اچانک ہمارا حکم دن کے وقت یا رات کے وقت نمودار ہوگیا اور ہم نے زمین کی ساری فصل اس طرح بیخ و بن سے کاٹ کر رکھ دی گویا ایک دن پہلے تک اس کا نام و نشان ہی نہ تھا اس طرح ہم دلیلیں کھول کھول کر بیان کردیتے ہیں تو ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں “ (یونس 10 : 24)
ایک اور جگہ ارشاد الٰہی ہے :
” اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں کو ایک مثال سنا دو ، دو آدمی تھے ان میں سے ایک کے لیے ہم نے انگور کے دو باغ مہیا کردیئے ، گرداگرد کھجور کے درختوں کا احاطہ تھا ، بیچ کی زمین میں کھیتی تھی۔ پس دونوں باغ پھلوں سے لد گئے ، پیداوار میں کسی طرح کی بھی کمی نہ ہوئی ہم نے ان کے درمیان ایک نہر جاری کردی تھی۔ تب وہ ایک دن اپنے دوست سے باتیں کرتے کرتے بول اٹھا دیکھو میں تم سے زیادہ مالدار ہوں اور میرا جتھا بھی بڑا طاقتور جتھا ہے۔ پھر وہ اپنے باغ میں گیا اور وہ اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر رہا تھا اس نے کہا میں نہیں سمجھتا کہ ایسا شاداب باغ کبھی ویران ہو سکتا ہے۔ مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی بپا ہو اور اگر ایسا ہوا بھی کہ میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا گیا تو مجھے ضرور اس سے بہتر ٹھکانا ملے گا۔ یہ سُن کر اس کے دوست نے کہا اور باہم گفتگو کا سلسلہ جاری تھا ، کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے تمہیں پہلے مٹی سے اور پھر نطفہ سے پیدا کیا اور پھر آدمی بناکر نمودار کردیا ؟ لیکن میں تو یقین رکھتا ہوں کہ وہی اللہ میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ اور پھر جب تو اپنے باغ میں آیا تو کیوں تو نے یہ نہ کہا کہ وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے اس کی مدد کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا ؟ اور یہ جو تمہیں دکھائی دے رہا ہے کہ میں تم سے مال و اولاد میں کم تر ہوں۔ تو کیا عجب ہے میرا پروردگار تمہارے اس باغ سے بہتر مجھے دے دے اور تمہارے باغ پر آسمان سے کوئی ایسی اندازہ کی ہوئی بات اتار دے کہ وہ چٹیل میدان ہو کر رہ جائے۔ یا پھر اس کا پانی بالکل نیچے اتر جائے اور تم کسی طرح بھی اس تک نہ پہنچ سکو۔ اور پھر اس کے پھل گھیرے میں آگئے وہ ہاتھ مل مل کر افسوس کرنے لگا کہ ان باغوں کی درستگی پر میں نے کیا کچھ خرچ کیا تھا اور باغوں کا یہ حال ہوا کہ وہ اوندھے گر کر زمین کے برابر ہوگئے ، اب وہ کہتا ہے ، اے کاش ! میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ! اور کوئی جتھا نہ ہوا کہ اللہ کے سوا اس کی مدد کرتا اور نہ خود اس نے یہ طاقت پائی کہ بدلہ لینے والا ہو۔ یہاں سے معلوم ہوگیا کہ سارا اختیار اللہ ہی کے لیے ہے ، وہی ہے جو بہتر ثواب دینے والا ہے اور اسی کے ہاتھ بہتر انجام ہے۔ “
(الکہف 18 : 32۔ 44)
ایک اور جگہ ارشاد الٰہی ہے :
” ہم نے ان کی اس طرح آزمائش کی ہے جیسے ان باغ والوں کی آزمائش کی تھی جنہوں نے قسم کھائی کہ وہ صبح ہوتے ہی اس کے پھل توڑ لیں گے۔ اور انہوں نے اس میں (کچھ بھی) استثناء نہ کی (ان شاء اللہ نہ کہا) ۔ پھر اس (باغ) پر تیرے رب کی طرف سے ایک بار پھرجانے والی (آفت) پھر گئی اس حال میں کہ وہ سوئے ہوئے تھے۔ پھر صبح تک وہ (باغ) ایسا ہوگیا جیسے کٹا ہوا تھا۔ پھر صبح ہوتے ہی وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے۔ کہ اگر تم کو (اس کے پھل) توڑنا ہیں تو اپنے کھیت یعنی باغ میں سویرے ہی سویرے پہنچ جاؤ ۔ پس وہ چلے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے۔ کہ (دیکھو) آج تمہارے پاس کوئی محتاج نہ آنے پائے۔ اور صبح آنے سے پہلے ہی وہ بخل کا فیصلہ کرچکے تھے۔ پھر جب انہوں نے اس کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم تو راستہ بھول گئے ہیں۔ (نہیں) بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی ہے۔ ان میں سے جو اچھا تھا وہ بولا کہ میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ اس (اللہ) کی پاکیزگی کیوں بیان نہیں کرتے۔ وہ بولے پاک ہے ہمارا پروردگار بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔ پس یہ لوگ (بھی) ایک دوسرے پر الزام رکھنے لگے۔ کہنے لگے ہماری شامت (اعمال) کہ ہم ہی حد سے بڑھنے والے تھے۔ شاید ہمارا رب اس سے بہتر (باغ) ہم کو بدلے میں دے دے ہم اپنے رب کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ اس طرح عذاب اترا کرتا ہے اور اگر وہ جانیں تو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بہت بڑا ہے۔ “ (القلم 68 : 17 ۔ 33)
تماثیل سے کون لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟
465: مختلف باتیں سمجھانے کے لیے مختلف مثالیں دے کر بات کو واضح کیا جاتا ہے اور یہ وضاحت اس لیے کی جاتی ہے تاکہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرا دی جائے لیکن ان سے فائدہ تو وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جو آثار کائنات کو جانوروں کی طرح نہ دیکھیں بلکہ ان پر غور و فکر بھی کریں اور خصوصاً جو چیزیں مشاہدہ میں آتی ہیں ان کو مشاہدہ کر کے فائدہ اٹھائیں۔ قرآن کریم کی تلاوت کے لیے جب بھی آپ بیٹھیں تو ترجمہ پر ضرور نظر رکھیں ، آپ دیکھیں گے کہ جب کوئی تمثیل دی گئی ، کوئی مثل بیان کی گئی تو آیت کے آخر میں ضرور توجہ دلا دی گئی کہ یہ بات بیان کی گئی ہے لیکن اس سے فائدہ وہی حاصل کرسکتے ہیں جو عقل و فکر سے کام لینے والے ہیں۔ جو غور و غوض کرنے والے ہیں۔ جو لب لباب تک پہنچنے والے ہیں۔ جو آسمان و زمین کی ساخت میں غور کرتے ہیں ۔ وہ بےاختیار بول اٹھتے ہیں کہ اے پروردگار ! تو نے یہ سب کچھ فضول اور بےمقصد نہیں بنایا ، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے۔ چناچہ اس آیت کے آخر میں بھی فرمایا کہ : ” اللہ ایسی ہی مثالوں کے انداز میں تم پر حقیقت کی نشانیاں واضح کردیتا ہے تاکہ تم غور و فکر سے کام لو۔ “
ان آیات میں تین باتوں سے روکا گیا اور بار بار روکا گیا : (1) احسان جتانے سے ، (2) دکھ دینے سے ، (3) اور ریا و نمود سے۔ پھر ان تینوں باتوں کی وضاحت تین مثالوں سے کردی پھر بھی جس کی سمجھ میں نہ آئے ، قصور اس کی سمجھ کا ہوگا یا بتانے والے کا ؟
بات ہو رہی ہے عقل و فکر کی تو ذرا اس رکوع کی آیات 261 سے 266 تک غور کرلیں تو ان چھ آیات میں انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ و خیرات کے اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کی چھ شرائط معلوم ہوں گی۔ بس ان کو یاد رکھ لو :
! اس مال کا حلال و طیب ہونا جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے اور یاد رکھو کہ ہر طیب مال حلال ہوتا ہے لیکن ہر حلال مال طیب نہیں ہوتا۔
" اس مال کا رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق خرچ کرنا صرف اپنی خواہش ہی پر خرچ نہ کرنا۔
# مال کے خرچ کرنے کا مصرف صحیح اور درست ہونا یعنی شریعت کی رو سے جائز و مستحسن ہو۔
$ مال صدقہ و خیرات میں دے کر پھر بالکل نہ جتانا ، نہ فعل سے اور نہ قول سے۔
% مال خرچ کردینے کے بعد اس شخص کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ نہ کرنا جس سے اس کی تحقیر ہو جس کو مال دیا گیا ہے۔
^ جو مال خرچ کیا جائے اخلاص نیت کے ساتھ خرچ کیا جائے اور صرف رضائے الٰہی مطلوب ہو نام و نمود کے لیے نہ ہو۔
Ayah 2:267جائز طریقوں سے کمائے ہوئے حلال مال میں سے وہ خرچ کرو جو بڑھیا ہو :
466: ” كَسَبْتُمْ “ کسب وہ ہے جس میں انسان اپنے آپ کو لگاتا ہے ، جس سے نفع اٹھانے اور فائدہ حاصل کرنے کی غرض ہو۔ ” طَیِّبٰتِ “ کا اطلاق صرف پاک کمائی ہی پر ہو سکتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ زکوٰۃ اسی مال پر ہے جو اپنا کمایا ہوا ہو گویا لفظ ” کسب “ کے اندر بہت کچھ آگیا اور ” طیب “ کی قید نے مزید وضاحت کردی مثلاً باسی روٹی یا سالن پڑا ہے لیکن سڑ نہیں گیا ، اس میں بُو نہیں آتی ، کھانا چاہے تو کھایا جاسکتا ہے ، حلال ہے لیکن جب تازہ روٹی اور تازہ سالن بھی موجود ہوگا تو اس کی موجودگی میں وہ باسی روٹی گویا طیب نہ رہی۔ وہ مال خرچ کرو جو جائز طریقہ سے کمایا گیا ہو اور اس میں سے بہتر اور اچھا چھانٹ کر دو یا کم از کم ایسا نہ کرو کہ اچھا چھانٹ کر خود رکھ لو اور باقی میں سے پھر جو ناکارہ نکلے اس کو صدقہ و خیرات کر دو ۔ محنت و مزدوری اور تجارت وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ سب ” کسب “ میں آجاتا ہے۔
زمین کی پیداوار میں سے بھی جو غلّہ پیدا ہوتا ہے اس کا مخصوص حصہ نکالو :
467: ” مِّنَ الْاَرْضِ 1۪“ یعنی زمین کی پیداوار میں سے جیسے پھل ، ترکاریاں ، غلّہ جات اور معدنیات۔ یہ سب چیزیں زمین میں پیدا ہوتی ہیں ، ان میں سے ایک خاص قاعدہ کے مطابق خرچ کرنا لازم و ضروری ہے۔ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ عشری زمینوں میں سے ہر قلیل یا کثیر مقدار پر عشر لازم ہے اور اس کو شریعت کے حکم کے مطابق باقاعدہ حصہ نکال کر حکومت وقت کو دیدے یعنی جس طرح مال زکوٰۃ خرچ کرتے ہو اس کو بھی خرچ کرو۔
” الْخَبِیْثَ “ ناپاک اور ردّی چیزوں پر یہ لفظ استعمال ہوتا ہے یعنی حرام طریقوں سے کمائے ہوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ، خبیث مال کا خرچ کرنا ہے اور ردّی اور گھٹیا مال چھانٹ کر خرچ کرنا یہ خبیث مال کا خرچ کرنا ہے اور ان دونوں ہی باتوں سے منع کیا گیا ہے کہ اللہ کو ناکارہ اور ردّی چیزوں کی ضرورت نہیں۔ لیکن افسوس ! کہ اکثر کیا وہی جاتا ہے جس سے اسلام منع کرتا ہے۔ پہلے تو خرچ کرنے کو جی مانتا ہی نہیں لیکن جن لوگوں کو کچھ تھوڑی بہت خرچ کرنے کی عادت ہے وہ بھی وہی خرچ کرتے ہیں جو ناکارہ اور ردّی ہوجائے۔ گھر کے پرانے اور ردّی کپڑے ، باسی کھانے ، پھلوں ، ترکاریوں اور غلوں میں سے بھی وہی جو ادنیٰ قسم کا ہوتا ہے ، فقیروں اور غریبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ لینے والا تو بہرحال مجبور ہے اور اس کا وقت بھی چل جائے گا لیکن دینے والے کو اتنا خیال رکھنا چاہیے کہ یہی چیزیں آپ کو دی جاتیں تو آپ کیا کرتے ؟ خوشی سے قبول کرلیتے۔
ہمارا اسلام بھی بڑا عجیب ہے کہ کچھ دینا پڑا تو ناکارہ اور ردّی کی کوشش کی ، چلو باہر پھینکنے کی بجائے فقیر ہی کو دیدو تو بہتر ہے۔ سارا دن کام کر کے تھک گئے تو چلو مسجد میں کچھ عبادت بھی ہوگئی ، ریسٹ بھی ہوگیا ، ذرا سستا بھی لیں گے۔ وقت کی کوئی پرواہ نہیں ، نماز ہے تو فارغ ہونے کے بعد آخری اور بالکل جاتے وقت میں چار ٹکریں مار لیں گے۔ اولاد جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی بہترین کمائی ہے اس میں اگر کوئی ناکارہ ہے ، آنکھیں نہ رہیں ، ٹانگ نہ رہی ، دماغی حالت درست نہ ہوئی۔ بلید الذہن عقل و فکر کا کمزور ہوا تو اسلامی درس میں داخل کرا دیا اور تعلیم اسلامی کے لیے وقف کردیا۔ کوئی پھٹا پرانا قرآن گھر میں ہوا تو مسجد میں رکھ دیا۔ کام کاج کے نہ رہے تو مسجد میں ڈیرا لگا لیا۔ یہ سب امراض ہیں جو مسلم قوم کو مستقل طور پر لگ چکے ہیں اور ان کا کوئی علاج کسی کے پاس بھی نہیں۔ کیا دین اتنی نکمّی چیز ہے ؟
وہی کچھ خرچ کرو جو کل تم کو لوٹایا جائے یا لینا پڑے تو خوشی سے قبول کرسکو :
468: ایسا نہ کرو کہ جو چیز نکمّی اور بیکار ہو اسے خیرات کے نام سے محتاجوں کو دیدو اور سمجھو کہ اس طرح تم نے ثواب کما لیا۔ ذرا غور کرو کہ اگر تم کو کوئی ایسی چیز دیدے تو تم اسے لینا پسند کرو گے ؟ پھر اگر اپنے نفس کے لیے نکمّی چیز لینا تم کو گوارا نہیں تو اپنے محتاج بھائیوں کے لیے کیوں پسند کرتے ہو ؟ دوسروں کے ساتھ وہی کرو اور وہی پسند کرو جو تم چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ ہو ، یعنی تم کو وہ پسند ہو۔
” غَنِیٌّ حَمِیْدٌ “ آیت کے خاتمہ پر اللہ تعالیٰ کی دو صفتیں بیان کی جا رہی ہیں کہ یاد رکھو اللہ بےنیاز اور بہترین صفات سے متصف ہے ، تم کو جو صدقہ و خیرات کی تاکید کی جا رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تمہارے مال کا محتاج ہے تم نہیں دو گے تو وہ بھوکوں مرے گا۔ اس نے تو تم کو دیا ہے اور یہ اس کا خاص فضل ہے کہ وہ چاہتا ہے تم اس کے اس دیئے ہوئے مال سے اپنے لیے اچھا بدلہ بھی حاصل کرلو۔ اگر تم کو اس کی ضرورت نہیں تو یاد رکھو اللہ کو بھی تمہارے ان ٹکڑوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو آج دے رہے ہو کل وصول کرنا ہوگا اور اس طرح کا لیتے وقت جو منہ بسورو گے تو اس کا فائدہ ؟ تم ہی بتاؤ کہ اچھا مال خرچ کرنے سے فائدہ کس کا ہے ؟
یہ بات کتنی صاف اور سیدھی ہے کہ جو خود اعلیٰ درجہ کی صفات رکھتا ہے وہ برے اوصاف رکھنے والوں کو کیسے پسند کرسکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ تو خود فیاض ہے اور اپنی تمام مخلوق پر ہر آن بخشش و عطا کے دریا بہا رہا ہے ، کس طرح ممکن ہے کہ وہ تنگ نظر ، کم حوصلہ اور پست اخلاق لوگوں سے محبت کرے۔ پھر سن لو کہ جو کرو اور جتناکرو خوشدلی سے کرو ورنہ اچھا بول دو ، وہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا۔
Ayah 2:268شیطان کی دعوت کبھی نیکی کی دعوت نہیں ہو سکتی :
469: کسی فعل کا نتیجہ اور رزلٹ گویا اس فعل کا وعدہ ہے۔ فعل اچھا ہے تو اللہ کی مدد سے اور اس کے قانون مکافات سے اس کا نتیجہ بھی اچھا ہوگا اور یہ گویا اللہ کا وعدہ ہے ، فعل برا ہے تو سمجھ لو کہ اللہ کی مدد اس میں شامل نہیں بلکہ یہ تمہارے نفس کی خرابی ہے اور شیطان کا وعدہ ہے جو اس نے ہر طرف سے ورغلانے کے متعلق کیا ہوا ہے۔ جب ایک شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرنے لگتا ہے تو اگر اسے خیال پیدا ہوتا ہے کہ میں غریب و مفلس بن جاؤں گا۔ اپنی ضرورت کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ ابھی کتنی ضرورتیں ہیں جو منہ کھولے بیٹھی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ تمام وساوس شیطانی ہیں۔ ایک مسلم کا فرض ہے کہ ان کی پرواہ نہ کرے بلکہ خوب دل کھول کر خلافت اسلامی کی مدد کرے۔ غرباء و یتماء کی دیکھ بھال کرے۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ اس کی بعض غلطیوں کا کفارہ ہوجائے گا ، دوسرے اللہ تعالیٰ اس کو مال دے گا اور وہی ہے جو بغیر حساب دینے والا ہے یعنی جہاں سے وہم و گمان بھی نہیں ہوتا ، وہاں سے مل جائے گا۔
یہ تو آپ کو معلوم ہو ہی چکا ہے کہ یہ شیطان کہاں ہے ؟ جو اس طرح کے خطرات اور وساوس پیدا کرتا ہے۔ ہاں ! وہی جو تمہارے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ وہی جو تمہاری ملکوتی طاقت کو دبا کر اس پر سوار ہوجاتا ہے۔ وہی جس کے متعلق تم کو ہدایت دی گئی تھی کہ اس کو اپنے قابو میں رکھو ، وہی جو تمہارا توام ہے ، یعنی تمہارے ساتھ پیدا ہونے والا۔ تمہاری کتنی عزت کی گئی کہ تم کو کچھ نہیں کہا اس شیطان کا نام لیا
گیا فرمایا جو خیالات اللہ کی راہ میں مال و جان خرچ کرنے سے مانع ہوتے ہیں۔ وہ حقیقت میں شیطانی خیالات ووساوس ہیں کہ ہم اللہ کی راہ میں خرچ کر کے خود غریب ہوجائیں گے۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” تین باتوں پر قسم کھاتا ہوں ، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں مال دینے سے مال کم نہیں ہوتا “ اور دنیا گواہ ہے کہ آج تک اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کبھی کوئی شخص فقر و فاقہ میں مبتلا نہیں ہوا ، گو وہ ضرورت کے مطابق پورا مال بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دے۔ البتہ رسم و رواج کی پابندیوں سے بہ تیرے تباہ ہوگئے۔
اللہ ہی وہ ذات ہے جو وسعت رکھنے والا ہے۔ ایسے وصف والے کے ہاں انعام و اکرام کی کیا کمی ؟ اور اللہ ہی ہے جو سب کچھ جاننے والا ہے ، ایسے کامل علم والے پر نیتوں کا حال رتی رتی روشن ہے ، اس لیے ثمرہ بھی نیتوں کے مطابق ہی ملے گا۔
Ayah 2:269حکمت کیا ہے ؟ خیر کثیر ہے :
470: حکمت کی تشریح میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور فی الحقیقت بہت کچھ ہی لکھا جاسکتا ہے ، جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ جو حکمت دیا گیا اس کو خیر کثیر دے دی گئی تو گویا اب حکمت کیا ہوئی ؟ خیر کثیر ۔ تو پھر وہ کیا چیز ہے جو باقی رہ گئی کیونکہ خیر کثیر میں تو سب کچھ آگیا۔ امام راغب اصفہانی (رح) نے مفردات القرآن میں فرمایا ہے کہ لفظ حکمت جب اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال کیا جائے تو معنی تمام اشیاء کی پوری معرفت اور مستحکم ایجاد کے ہوتے ہیں اور جب غیر اللہ کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہے تو موجودات کی صحیح معرفت اور اس کے مطابق عمل مراد ہوتا ہے۔
پھر اس مفہوم کی تعبیریں مختلف کی گئی ہیں کہ کس جگہ اس سے مراد قرآن کریم ہے ، کس جگہ حدیث ، کس جگہ علم صحیح ، کس جگہ عمل صالح ، کس جگہ قول صادق ، کس جگہ فقہ فی الدین ، کس جگہ اصابت رائے اور کس جگہ خشیت اللہ اور ایک حدیث بھی ہے : (راس الحکمۃ خشیۃ اللہ) یعنی اصل حکمت اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہے اور حقیقت وہی ہے جو اوپر بیان کردی گئی کہ ” حکمت “ میں سب چیزیں آجاتی ہیں کیونکہ وہ خیر کثیر ہے۔ (بحر محیط ص : 320 ، ج 2)
جب یہ بتا دیا کہ انفاق فی سبیل اللہ سے تنگدستی کا پیدا ہونا محض شیطانی ڈراوا ہے تو اب اس جگہ بتا دیا کہ صرف مال ہی خیر نہیں بلکہ اصول حقہ کو سمجھ لینا تو خیر کثیر ہے اور یہ اصول حقہ یا اصول دین کی سمجھ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، گویا اس اصول کو سمجھ لینا کہ اللہ کی راہ میں دینے سے انسان تنگدست نہیں ہوتا ، اصول دین میں سے ایک اصل ہے اور اس کو سمجھ کر انسان خیر کثیر کا مالک ہوجاتا ہے۔ اس حکمت کو صحابہ کرام ؓ نے سمجھا اور باوجودیکہ وہ غریب تھے اپنے مالوں کو انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا میں بھی خیر کثیر کے مالک ہوگئے کیونکہ وہ ایک زندہ اور کامیاب قوم بن گئے۔ آج مسلمان ان سے بہت زیادہ مالدار ، تعداد میں ہزارہا گنا زیادہ ہیں ، مگر اس حکمت کی بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ان کا مال ان کے ہاتھوں سے نکل کر دوسروں کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے اور اس حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے وہ پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ جو قومیں کبھی ان کی مرہون منت زندہ تھیں آج وہ ان کے مرہون منت زندہ ہیں۔
آیت کے آخر میں ” اُولُوا الْاَلْبَابِ “ کے الفاظ ارشاد فرمائے اور الباب ” لب “ کی جمع ہے اور ” لب “ کسی چیز کے خلاصہ یا مغز کو کہتے ہیں اور انسان میں ” لب “ اس عقل خالص کو کہتے ہیں جو ہر قسم کے شائبوں سے پاک ہو یعنی نہایت ہی خالص عقل۔ پس ہر لب عقل ہے اور ہر عقل لب نہیں۔ فرمایا : ” نصیحت حاصل نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو خالص عقل و بصیرت رکھنے والے ہیں۔ “
Ayah 2:270صدقہ و خیرات اور نذر کا فرق اور یہ کہ نذر کیا ہے ؟
471: ” نَذَرٌ “ نذر کیا ہے ؟ نذر وہ چیز ہے جسے عوامی اردو میں منت ماننا کہتے ہیں ، اس کی تعریف اس طرح بھی کی گئی ہے کہ وہ کسی مراد کے پورے ہونے پر اپنے اوپر کوئی ایسی چیز لازم کرلینا ہے جو عام حالت میں واجب نہ تھی۔ یہ نذر عبادت بدنی کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے مثلاً نماز نفل یا روزہ اور عبادت مالی کی صورت میں بھی۔ ” یَعْلَمُهٗ 1ؕ “ یعنی اللہ تعالیٰ اس کا علم رکھتا ہے کہ وہ کس نیت سے اور کس کی راہ میں مانی گئی ہے اور اس علم کامل کے مطابق جزا و سزا بھی ہوگی۔
مال و دولت کے صرف کرنے اور علم و حکمت کی نشر و اشاعت کے لیے تمام شرطوں کو وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔ ان کو پیش نظر رکھ کر اب تمہیں اختیار ہے خواہ جب چاہو اللہ کے نام پر دو یعنی بغیر کچھ معین کیے اور چاہے ایک رقم نذر کے طور پر معین کرلو اور دونوں صورتوں میں تم کو عام اجازت ہے ، جبکہ نذر بھی صرف اللہ ہی کے نام پر ہو۔ ہاں ! نذر مان لینے کے بعد اگر تم نے اس کو پورا نہ کیا بشرطیکہ اس کے پورا کرنے میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو تو اس کا بہت بڑا اثر تمہارے اخلاق پر پڑے گا اور باقی فرائض ملت کے ادا کرنے میں بھی کاہلی اور سستی سے کام لو گے۔ اس قدر تعلیم دی جانے کے بعد بھی جو لوگ برمحل صرف نہ کریں اور بہانے بناتے پھریں ، اللہ انہیں خوب جانتا ہے ، ان کی کبھی وہ مدد نہیں کرے گا۔
Ayah 2:271ؕصدقہ و خیرات ظاہر طور پر دو یا چھپا کر ، دونوں طرح جائز ہے :
472: صدقہ و خیرات لوگوں کے سامنے علیٰ الاعلان دینا اور خاموشی کے ساتھ چھپا کردینا دونوں طریقوں سے جائز اور درست ہے۔ اگر رفاہ عامہ کیلئے دینا ہے ، مذہبی و ملکی ضرورتوں میں صرف کرنا ہے تو اعلاناً دینا ہی مفید ہوگا تاکہ دوسروں کی ترغیب و تشویق کا باعث ہو اور اگر فقراء و مساکین کو دینا ہو تو چھپا کردینا مفید ہوگا۔ اصل چیز تو حسن نیت ہے اور اخلاص ہے۔ جب یہ ہے تو چھوٹے سے چھوٹا کام بھی مفید و نافع ہوگا۔
صدقہ و خیرات کے مخفی ادا کرنے کی حقیقت تو ظاہر ہی ہے لیکن زندگی میں ایسے مواقع بھی برابر پیش آتے رہتے ہیں جہاں نیکی کا اعلان و اظہار بھی ضروری ہوجاتا ہے۔ ایک شخص بھوک و پیاس سے نڈھال یا کسی بیماری میں مبتلا سڑک پر پڑا تڑپ رہا ہے ، ہم قریب سے گزر رہے ہیں اور بالکل ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اسے کھلا کر یا دوا دے کر گویا ازسرنو زندہ اٹھا کھڑا کریں لیکن اس اندیشہ سے کہ کہیں ہماری اس خدمت کا شمار ریا اور نمائش نہ ہوجائے اس کے پاس سے کتراتے اور خاموش گزر جاتے ہیں تو یہ تقویٰ نہیں بلکہ عین معصیت ہے اور انتہائی قسم کی وہم پرستی جو شریعت اسلامی کے بالکل خلاف ہے۔ یہاں ضرورت ہے فی الفور مدد رسانی کی خواہ اس کے لیے اعلان ببانگ دہل ہی کرنا پڑے نہ یہ کہ شبہ ، رِیا اور شائبہ نمائشی سے بچنے کے لیے تلاش پہلے گوشہ تنہائی کے شروع ہوجائے تو یہ پرلے درجے کی بیوقوفی یا جہالت ہوگی۔ یہ خواہ مخواہ کا ایک تکلف ہے اور تکلف بجائے خود عمل خیر سے مانع ہوجائے تو پھر وہ کیا ہوا ؟ اخلاص کا تعلق تو براہ راست انسان کے دل سے ہے ، اپنی طرف سے کوئی بات دکھاوے اور نمائش کی نہیں کرنی چاہیے لوگوں کے سامنے کسی عمل خیر کے کرنے کی تو ہرگز ممانعت نہیں ہے۔
نیکی برائی کو مٹا دینے کا کام بھی کرتی ہے :
473: نیکی ہی وہ شے ہے جس پر یہ محاورہ صادق آتا ہے کہ ’ ایک پنتھ دو کاج “ نیکی جب رضائے الٰہی کے لیے کی جائے اور اس کا تعلق صرف حسن نیت سے ہے تو وہ دو کام کرتی ہے ، ایک تو نیکی کا اجر و نتیجہ ہے جس کا ملنا ضروری ہے اور دو سرا کام وہ یہ کرتی ہے کہ برائی کو بالکل محو کردیتی ہے ، یعنی مٹا دیتی ہے۔
قرآنِ کریم نے ازالہ سیئات کی جہاں دوسری صورتیں رکھی ہیں ، وہاں ایک صورت یہ بھی ہے کہ نیکیاں بدیوں کا کفارہ خودبخود ہوتی رہتی ہیں اور حسنات سیئات کو ساتھ ساتھ مٹاتی رہتی ہیں۔ پھر یہ چیز محض عقیدہ ہی کی نہیں مشاہدہ و تجربہ کی بھی ہے۔ خلق کی نظر سے چھپا کر طاعت اور نیکیوں کی عادت اگر ڈال لی جائے تو ایک عرصہ کی مشق کے بعد ایک بڑی حد تک نفس کی اصلاح خودبخود ہونا شروع ہوجاتی ہے اور جو کچھ خرابیاں پھر بھی باقی رہ جائیں ان سے درگزر کے لیے خدائے رحمٰن و رحیم کا لطف و کرم کافی ہے ، جو خوبیوں کو خرابیوں کا اور بھلائیوں کو برائیوں کا عوض بناتا رہتا ہے۔
Ayah 2:272ہدایت کا قبول کروانا پیغمبر کی ذمہ داری نہیں :
474: رسول اللہ ﷺ کا یہی فرض تھا کہ لوگوں کے سامنے قانون صحیح پیش کردیں۔ شکوک و شبہات کو دور کردیں اور دولت کو کمانے اور صرف کرنے کے طریقے بتا دیں۔ علم کے سیکھنے سکھانے کے اصول سمجھا دیں۔ جہا دفی سبیل اللہ کا شوق و ذوق پیدا کردیں۔ اسلام کے اصولوں کے مطابق زندی گزارنے کی افادیت ذہن نشین کرا دیں لیکن یہ آپ ﷺ کا فرض نہیں کہ لوگوں میں جذباتِ صادقہ بھی پیدا کریں یا ان کو ہدایت بھی دیدیں ، چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہوا :
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا 1ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ 1ؕ(الشوریٰ 42 : 48)
” پھر (اے پیغمبر اسلام ! ) اگر وہ روگردانی کریں تو ہم نے آپ ا کو ان پر کوئی ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا آپ ﷺ کا کام تو بس پہنچا دینا ہے “۔
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوا :
وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ007 (عبس 80 : 7) ” اگر وہ نہ سدھرے تو آپ ﷺ پر اے پیغمبر اسلام ! اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ “
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوا :
فَذَكِّرْ 1ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ0021 لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ0022 (الغاشیۃ 88 : 21 ، 22)
” پس نصیحت کیجئے کہ آپ ﷺ تو نصیحت کرنے والے ہیں۔ آپ ان پر داروغہ نہیں لگائے گئے۔ “
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ 1ۚ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ 0056 (القصص 28 : 56)
” (اے پیغمبراسلام ! ) بلاشبہ آپ ﷺ جس کو چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے (کیوں ؟ اس لیے کہ آپ (a) تو سب ہی کی ہدایت کے خواہاں ہیں) لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے (اپنے قانون کے مطابق) ہدایت دیتا ہے اور وہ راہ پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔ “
پھر جب ہادیٔ برحق نبی کریم ﷺ کے ذمہ کی ایک بات نہ رہی تو امت کے کسی فرد کے ذمہ یہ بات کیونکر ہو سکتی ہے ؟ مسلمانوں کو خود یہ ضرورت محسوس کرنی چاہیے کہ ان کی حیات ملی کا دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ پر ہے۔ رہی ہدایت و راہنمائی تو وہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ اسلام کی تعلیم کا تمام تر مقصد یہی ہوا کہ اپنی ساری دولت اللہ کی راہ میں لٹا دی جائے تو وہ ذرا غور کر کے دیکھیں کہ وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کا نفع خود انہی کی طرف لوٹتا ہے یا نہیں ؟ وہ عزیز و اقارب کی ہدایت کا باعث ہوتے ہیں ، ان میں عزت کا مقام حاصل ہوتا ہے ، ان کے اس انفاق سے اسلام کا بول بالا ہوتا ہے۔ خلافت اسلامی محکم و استوار ہوتی ہے۔ مالِ غنیمت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ وہ الٰہی بنک کے کھاتہ دار بن جاتے ہیں بلکہ جب ان کی قوم ظلم و جور کا تختہ مشق بنی ہوئی ہو تو اس کی آزادی کا باعث بنتے ہیں اور یہ سارے اعزازوں سے بڑا اعزاز ہے۔
تمہارا خرچ کرنا صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو :
475: مطلب بالکل صاف ہے کہ مقصود جب اپنے لیے نفع اخروی یا حصول اجر ہے تو وہ تو ہر حاجت مند کی امداد سے ہو سکتا ہے۔ صدقہ مسلمانوں ہی پر مخصوص کرنے کی قید کیوں ؟ ہاں ! حاجتمند کی حاجت کا لحاظ تو کیا جاسکتا ہے کہ کس کی حاجت اہم اور ضروری ہے۔ ” وَجْهِ اللّٰهِ 1ؕ “ کے عام طور پر معنی ذات الٰہی کے کیے گئے ہیں لیکن اس کے دوسرے معنی رضائے الٰہی کے بھی ہو سکتے ہیں۔ پھر جب مقصود رضائے الٰہی ہو تو وہ یقیناً جہاں بھی اور جب بھی اور جس پر بھی صدقہ و خیرات کرو گے یقیناً حاصل ہوگی۔ دوسری یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ ثواب اور اجر کے مقصد کو اخلاص کے منافی سمجھنا بھی سراسر جہالت ہے کیونکہ اجر وثواب کی ترغیب و تلاش قرآن کریم کی آیات سے صراحتاً ثابت ہے ، جیسا کہ آیت زیر نظر میں بھی موجود ہے کہ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ 00272 ” سب کچھ تم کو پورا پورا لوٹا دیا جائے گا ، یعنی پورا پورا اجر وثواب ملے گا اور تم پر ذرا بھی زیادتی نہ کی جائے گی “۔
ابتداء میں مسلمان اپنے غیر مسلم رشتہ داروں اور عام غیر مسلم حاجتمندوں کی مدد کرنے میں تامل کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ صرف مسلمان حاجتمندوں ہی کی مدد کرنا انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ آیت زیر نظر نے یہ غلط فہمی دور کردی اور ارشاد الٰہی کا مطلب واضح کردیا کہ ان لوگوں کے دلوں میں ہدایت کا اتار دینا تمہاری ذمہ داری نہیں۔ تم حق پہنچا کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوچکے اب یہ اللہ کے اختیار میں ہے کہ ان کو اپنے قانون کے مطابق بصیرت کا نور عطا کرے یا وہ اس کے قانون کے مطابق گمراہ ہی رہیں۔ رہا دنیوی مال و متاع سے ان کی ضرورت و حاجت کو پورا کرنا تو اس میں تم محض اس وجہ سے تامل نہ کرو کہ انہوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ اللہ کی رضا کے لیے جس حاجتمند انسان کی بھی مدد کرو گے اس کا اجر اللہ تمہیں ضرور دے گا ، چناچہ ایک حدیث میں بھی اس مضمون کی وضاحت ملتی ہے ، حدیث میں ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر الصدیق ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! میری والدہ مکہ سے آئی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ مجھے کچھ مال کی ضرورت ہے تُو مجھے دے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئی ہیں۔ آپ ﷺ کا کیا ارشاد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ! تم اپنی والدہ کو مال دو ، اس صدقہ و خیرات کا دوہرا اجر تم کو نصیب ہوگا ، ایک اجر غریب کی اعانت کرنے کا اور دوسرا اجر والدہ کی مدد کرنے کا۔ جس سے اس بات کی وضاحت ہوگئی کہ خویش و اقارب میں جو لوگ مستحق ہوں اگرچہ وہ مسلمان نہ بھی ہوئے ہوں تو ان کو دینے کا نہ صرف اجر ہی ملتا ہے بلکہ دوہرا اجر ملتا ہے۔ ہمارے علمائے گرامی قدر کو اس آیت اور ایسی ہی دوسری آیات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کیا کہتے ہیں اور قرآن کریم کی ہدایات کیا ہیں ؟ اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان کیا ہے ؟ ہاں ! اللہ تعالیٰ نے جو معیار مقرر فرمایا ہے اس کو ذہن میں رکھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے کیونکہ انسان کے مقابلہ میں علم الٰہی ہی کامل اور مکمل علم ہے۔
Ayah 2:273خاص طور پر مدد کے مستحق یہ تنگدست ہیں ، جن کا ذکر اس آیت میں ہے :
476: جو لوگ دین ہی کے کسی کام میں گھر گئے ہیں اور آزادی سے کسب معاش نہیں کرسکتے۔۔ (1) وہ مجاہدین جو جہاد میں مصروف کردیئے گئے ہوں اور اس وجہ سے جب تک وہ مصروف جہاد ہیں گویا وہ گھر گئے ہیں۔ (2) جو لوگ جہاد میں شریک ہوئے تھے لیکن وہیں سے وہ دشمنوں کے قبضہ میں آگئے اور اب وہ ان ہی کی قید میں ہیں اور ظاہر ہے کہ قیدی آدمی کسب معاش نہیں کرسکتا۔ (3) جہاد میں شریک ہوئے تھے لیکن ایسے زخمی ہوئے کہ اب ان کی زندگی برائے نام زندگی ہے لیکن کسب معاش کے قابل نہیں رہے اور اندھے ہوگئے ، لنگڑے ہوگئے۔ ان کے ہاتھ پاؤں مثلہ کردیئے گئے کہ اب وہ کسب معاش کے قابل نہیں رہے۔ اس طرح کے سارے لوگ خلافت اسلامی کے ذمہ ہیں کہ ان کی ساری ضروریات زندگی کا بندوبست کرنا ہے ، لہٰذا خلافت اسلامی کا حق ہے کہ ان صداقات و خیرات کے مالوں کو باقاعدہ وصول کر کے ان لوگوں پر خرچ کرے۔ ہاں ! اگر خلافت اسلامی کسی وجہ سے نہ ہو تو معاشرہ کے سرکردہ لوگوں کے ذمہ یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ خیال رکھیں۔
ہاں ! الفاظ کی وسعت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جن لوگوں کی زندگیاں اسلام میں وقف کردی گئی ہوں اور اس طرح بھی وہ اپنی معاش پیدا کرنے کے قابل نہ رہے ہوں جس طرح رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس قسم کے رضاکروں کا ایک گروہ موجود تھا جو تاریخ اسلامی میں اصحاب صفہ کے نام سے مشہور و معروف ہیں یہ کوئی تین چار سو آدمی تھے اگرچہ پہلے ان کی تعداد کم تھی لیکن بعد میں وہ زیادہ ہوگئے جو اپنے اپنے گھر بار چھوڑ کر مدینہ منورہ میں آگئے تھے اور ہمہ وقت نبی کریم ﷺ کے حکم کے منتظر رہتے تھے۔ ہر خدمت کے لیے ہر وقت حاضر تھے۔ نبی کریم ﷺ جس مہم پر چاہتے ان کو بھیج دیتے اور جب مدینہ سے باہر کوئی کام نہ ہوتا تو یہ لوگ مسجد نبوی ﷺ میں رہ کر دین کا علم حاصل کرتے اور دوسروں کو دین الٰہی سکھاتے تھے۔ چونکہ یہ لوگ پورا وقت اسلام کی راہ میں دے چکے تھے یا اسلام نے ان کا پورا وقت لے لیا تھا اور اب ان کی ضروریات زندگی بھی اسلام کے ذمہ لازم تھی اور ابھی کوئی مستقل نظام قائم نہ ہوا تھا اندریں صورت ان پر روپیہ خرچ کرنا ضروری قرار دیا گیا۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کی پہچان مسلمان کو خود کرنا ہوگی :
477: یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی غیرت و خودداری گوارا ہی نہیں کرتی کہ وہ لوگوں کو اپنی حالت بتائیں اور اپنی طرف متوجہ کرسکیں کیونکہ دست سوال بڑھانا ان کے بس کا معاملہ نہیں ہے۔ ناواقفوں کو ان کی حالت دیکھ کر کبھی گمان نہیں ہو سکتا کہ ان کو بھی کسی قسم کی حاجت ہو سکتی ہے بلکہ ان کو دیکھ کر ناواقف تو یہی گمان کرتا ہے کہ یہ خوشحال لوگ ہیں ، مستحق امداد نہیں۔ کیوں ؟ ان کے سوال نہ کرنے کے باعث ناواقف انہیں غنی ہی خیال کرے گا۔ گویا اسلام کی نگاہ میں اسلامی معاشرہ کے لیے لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے کی زندگی کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے رہیں اور ایک دوسرے کے حالات سے واقف ہوں۔ یعنی قریب قریب رہنے والے لوگ جن کا ایک دوسرے سے آمنا سامنا رہتا ہے ، ایک محلہ میں رہنے کی وجہ سے ، ایک مسجد میں اکٹھا ہونے کی وجہ سے ، ہمسائیگی کے لحاظ سے۔
پھر فرمایا : ” اِلْحَافًا 1ؕ “ یعنی اگر ان کی ظاہری حالت کچھ بتاتی ہو جیسے جوتا ، کپڑے ، ظاہری ساخت اور ڈیل ڈول سے محسوس بھی ہوتا ہے لیکن وہ لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے اس وجہ سے ان کی پہچان نہیں ہو سکتی جبکہ معاشرہ میں سوال کرنے والے بھی موجود ہیں حالانکہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ سوال کرنے یا مانگنے کے مستحق نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود مانگتے پھرتے ہیں اور پھر ہر ایک سے مانگتے ہیں اور سب کچھ مانگتے ہیں اور ہر وقت مانگتے رہتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسے مستحق بھی ہوتے ہیں کہ اگر وہ سوال کرنا چاہیں کرسکتے ہیں ، تاہم وہ سوال نہیں کرتے۔ کیوں نہیں مانگتے ؟ اس لیے کہ مانگنا اور پھر خصوصاً پیچھے ہی پڑجانا نہایت بری عادت ہے اور وہ بھی اس کو برا جانتے اور سمجھتے ہیں لہٰذا وہ تقاضا نہیں کرتے۔
مال لینے والوں اور دینے والوں سب کو اللہ جانتا ہے :
478: فرمایا جا رہا ہے کہ مال خرچ کرنے والوں یعنی صدقہ و خیرات دینے والوں اور صدقہ و خیرات لینے والوں سب کو اللہ جانتا ہے۔ علم الٰہی سے کوئی بھی پوشیدہ نہیں۔ زیر نظر آیت پر ان پیشہ ور واعظوں اور پیروں کو خصوصاً غور کرنا چاہیے اور اپنے استحقاق پر بھی کہ وہ قوم کو کس طرح اور کس انداز سے لوٹ رہے ہیں۔ کیا یہ ان کا حق ہے ؟ کیا ان کے اس کام سے اللہ ناواقف ہے ؟ کیا وہ اللہ کے ہاں جوابدہ نہیں ؟ کیا ان کو کبھی خیال نہیں آیا کہ قرآن کریم ان کے متعلق کیا کہتا ہے ؟ چناچہ قرآن کریم میں ہے :
” اے مسلمانو ! یاد رکھو کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے علماء اور مشائخ میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو لوگوں کا مال ناحق ناروا کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے انہیں روکتے ہیں اور جو لوگ چاندی سونا اپنے ذخیروں میں ڈھیر کرتے رہتے ہیں اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو عذاب دردناک کی خوشخبری سنا دو ۔ وہ دن جب کہ سونے چاندی کے ڈھیروں کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا اور ان سے ان کے ماتھے ، ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی اور کہا جائے گا کہ یہ ہے جو تم نے اپنے لیے ذخیرہ کیا تھا سو جو کچھ ذخیرہ کر کے جمع کرتے رہے اس کا مزہ آج چکھ لو۔ “ (التوبہ 9 : 34۔ 35)
Ayah 2:274اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا اجر محفوظ ہے :
479: ان لوگوں کے اجر عظیم اور فضیلت کا بیان ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے عادی ہیں۔ حالات کچھ بھی ہوں جب رضائے الٰہی میں خرچ کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ تیار ہوتے ہیں اور دنیا کی کوئی چیز ان کو مانع نہیں ہوتی۔ رات ہو یا دن ، خفیہ ہو یا اعلانیہ ہر طرح وہ فی سبیل اللہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ اس کے ضمن میں یہ بھی بتا دیا کہ صدقہ و خیرات کے لیے کوئی وقت متعین نہیں ہے جبکہ وہ صدقہ فرائض میں سے نہ ہو جیسے زکوٰۃ ، نہ رات اور دن کی کوئی تعین ہے اور نہ خفیہ و اعلانیہ کی کوئی قید۔ اس خرچ کرنے میں صرف اپنے مال کو دیکھنا ہے کہ صحیح کمائی کا مال ہے اور جہاں خرچ کرنا ہے اس کو دیکھنا ہے کہ یہ جگہ خرچ کرنے کی صحیح جگہ ہے اور پھر طریقہ کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے کہ یہ طریقہ جس طریقہ سے مال خرچ کیا جا رہا ہے صحیح ہے یا نہیں ؟ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھ کر جو مال خرچ کیا جاتا ہے اور خرچ کرنے سے نام و نمود کا مسئلہ بھی نہیں بلکہ رضائے الٰہی کے لیے خرچ کیا جا رہا ہے تو اس کا اجر ان شاء اللہ یقیناً محفوظ ہے جو کبھی ضائع ہونے والا نہیں۔ یہی وہ زندہ وجاوید صدقہ ہے جو قیامت تک برابر بڑھتا بھی رہے گا اور اس کا اجر اتنا ہوگا کہ صدقہ کرنے والا خود حیران ہوگا کہ میرے پاس اتنا مال ہی کہاں تھا جو میں نے خرچ کیا لیکن اس کو کہا جائے گا کہ یہ تیرے ہی خرچ کیے ہوئے مال کا نتیجہ ہے ، جو تو نے اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیا تھا چونکہ یہ زندہ صدقہ تھا ، برابر بڑھتا رہا اور آج تجھے اس قدر نظر آ رہا ہے ، اس کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق بغیر حساب کے دے دیتا ہے۔ یعنی اتنا دیتا ہے کہ خود خرچ کرنے والے کو مال اتنا بڑھ جانے کی امید نہیں ہوتی اور مال اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔
اسی کے متعلق ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ0029 لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ 1ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ 0030 (فاطر 35 : 29 ۔ 30)
” جو لوگ کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے رات دن خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کی امید لگائے ہوئے ہیں جس کو کبھی خسارہ نہیں ہوگا۔ تاکہ اللہ ان کے اجر پورے کے پورے ان کو دے اور اپنے فضل سے ان کو مزید عطا فرمائے ، بیشک وہ بڑا بخشنے والا ، قدردان ہے۔ “
راہِ الٰہی میں خرچ کرنے والے کبھی رنجیدہ خاطر نہیں ہوں گے :
480: فطرت انسانی ہے کہ انسان ہمیشہ خسارہ سے ناخوش اور نفع پر خوش ہوتا ہے۔ جب سودا نفع کا رہا تو آخر وہ ناخوش ہوں گے ہی کیوں ؟ نفع بھی اتنا کہ سو کا سات سو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ یہ تو خوشی ہی خوشی ہے۔ پھر جب اس دنیائے فانی کے نفع پر آدمی خوش ہوتا ہے حالانکہ نفع بھی فی الحقیقت کوئی نفع نہیں بلکہ اکثر اوقات آخرت کے نقصان ہی کا باعث ہوتا ہے۔ پھر جہاں نہ انسان کو فنا ہے اور نہ انسان کے نفع کو کبھی فنا ہے ، دونوں کی زندگی ہی زندگی ہے تو ایسے نفع پر انسان جتنا خوش ہو لے اس کا فطری حق ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ 0030 (حم السجدۃ 41 : 30)
” بلاشبہ جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر (اس پر) قائم رہے ، ان پر فرشتے اترتے ہیں (جو ان سے کہتے ہیں) کہ تم مت ڈرو اور غم نہ کھاؤ (تم اللہ سے ڈرتے رہے اللہ تم سے راضی ہوا) اور تم جنت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ “
ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے :
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا 1ۚ وَ ہُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ 0089 (النمل 27 : 89)
” جو کوئی نیکی لے کر حاضر ہوگا اس کو اس سے بہتر اجر ملے گا اور ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے بھی امن ہوگا۔ “
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ 1ؕ ہٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ 00103 (الانبیاء 21 : 103)
” انہیں (قیامت کے روز) بڑی ہولناکی بھی ہراساں نہ کرے گی فرشتے آگے بڑھ کر ان کی ملاقات کریں گے (اور کہیں گے) یہ ہے وہ تمہارا دن جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ “
پہلی بات اس جگہ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمائی گئی کہ : ” ان کے رب کے ہاں ان کا اجر محفوظ ہے ، نہ تو ان کے لیے عذاب کا ڈر ہوگا اور نہ ہی وہ رنجیدہ خاطر ہوں گے۔ “