Ayah 2:226ایلاء ایک قسم کی قسم بھی ہے اور طلاق کی ایک صورت بھی :
383: قسموں کا بیان جاری ہوا تو انہی قسموں کے سلسلہ میں طلاق کی ایک خاص قسم کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے جو عرب میں ایلاء کے نام سے مشہور تھی۔ اگر مرد و عورت میں اختلاف پیدا ہوجاتا اور وہ یہ بھی نہ چاہتا کہ میری عورت کسی دوسرے کے پاس جائے تو قسم کھا لیتا کہ میں اس کے قریب نہ جائوں گا اور اس طرح اس کو چھوڑ دیتا کہ نہ تو وہ اب خاوند والی ہوتی اور نہ دوسری جگہ نکاح ہی کرسکتی ۔ ایسا کیوں کرتا ؟ تاکہ اس عورت کو تکلیف ہو اور وہ مصیبت میں مبتلا رہے ۔ یہ نہایت ہی بدترین رسم تھی اس لئے ضروری ہوا کہ سب سے پہلے اس غلط کاری کی اصلاح ہو۔
اگر کوئی شخص قسم کھالے کہ وہ اپنی بیوی کے قریب نہ جائے گا یعنی تعلق خاص قائم نہ کرے گا تو اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں :
الف : کوئی مدت معین نہ کرے۔ ب : چار ماہ کی مدت مقرر کر دے۔
ج : چار ماہ سے زائد کی قید لگا دے۔ د : چار ماہ سے کم مدت کا تذکرہ کر دے۔
پہلی تین صورتوں کو شریعت کی اصطلاح میں ایلاء کہتے ہیں۔ ان تینوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر خاوند چار ماہ کے اندر اندر اپنی قسم توڑ ڈالے اور بیوی کے پاس چلا جائے تو اسے اپنی قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ کفارہ کی صورت پہلے گزر چکی ہے۔ اگر چار ماہ گزر گئے اور قسم نہ توڑی تو اس عورت پر طلاق پڑگئی۔ چوتھی صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر قسم توڑ دی تو کفارہ ادا کر دے اور قسم پوری کرلی تو بھی نکاح باقی ہے کیونکہ یہ مدت چار ماہ سے کم تھی۔
اب شریعت مطہرہ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک قاعدہ معین کردیا کہ ایلاء کی مدت زیادہ سے زیادہ چار ماہ ہو سکتی ہے ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ مرد عورتوں کے حقوق بھی ادا نہ کریں ان کو اس طرح سے رکھیں کہ وہ اپنے متعلق کوئی فیصلہ نہ کرسکیں بلکہ خاوند کو چار ماہ غور کے لئے مل سکتے ہیں۔ اگر وہ اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے کے لئے تیار ہے تو بہتر ورنہ علیحدگی اختیار کرنی پڑے گی کیونکہ جب موانست کی کوئی صورت نہیں اور مزید فتنہ و فساد کا اندیشہ ہے تو حکومت مداخلت کر کے خاوند اور بیوی میں تفریق کر دے گی جب کہ حکومت تک یہ شکایت پہنچے گی۔
اسلام سے قبل دنیائے قدیم میں عورت کی کوئی قدر و منزلت نہ تھی۔ عیسائیت کے پرستار جناب پولوس نے فرمایا : ” عورت ہی کے ذریعہ گناہ دنیا میں آیا اور عورت ہی کے طفیل میں ہم کو موت دیکھنی پڑی۔ “ برنارڈ ، انٹونی ، جیروم اور گریگوئے اعظم نے نہایت بلند آہنگی سے عورت کے متعلق ” شیطان کا آلہ “ ، ” شیطان کے ہتھیاروں کی جڑ “ ، ” شیطان کا دروازہ “ ، ” بچھو “ ، ” شاہراہ عصیان “ ، ” زنبور کا زہر “ کے الفاظ استعمال کئے۔ خود یورپ کی اس بات کا فیصلہ کئے ہوئے زیادہ زمانہ نہیں گزرا کہ عورت میں روح موجود ہے۔
یہ مختلف اقوال اس لئے درج کئے گئے ہیں تاکہ آپ اندازہ کرسکیں کہ ازمنہ قدیمہ میں عورت کی نسبت کس قسم کے خیالات تھے وہ کس قدر شکوک و شبہات کی آما جگاہ رہی ہے۔ اس کے حق احترام و حریت کو خود غرض مرد نے ہمیشہ چھیننے کی کوشش کی۔ اس لئے یہ ایک قدرتی بات تھی کہ اس کے تمام حقوق کو یک قلم فراموش کردیا جاتا۔ باوجود اس قدر ادعائے تہذیب و تمدن کے یورپ میں ابھی کل تک یہ حالت تھی کہ عورت کی اپنی کوئی حیثیت نہ تھی ۔ جب تک وہ ناکت خدا تھی باپ کے نام سے مشہور ہوتی تھی اور جب نکاح ہوگیا تو خاوند کے نام میں اس کی شہرت فنا ہوجاتی تھی اور ان کی کل کی حالت ہماری آج کی حالت ہے کہ اب ہمارے ہاں یہ رواج ہوچکا ہے جو گویا ایک نئی تہذیب کا فیشن ہے۔ مختصر یہ کہ یہی وہ وجہ ہے کہ نکاح و طلاق کے مسائل میں ہر قوم افراط وتفریط میں مبتلا رہی ہے۔
عرب طلاق دینے میں بالکل آزاد تھے۔ ان کے نزدیک بھی عورت کی کوئی عزت نہ تھی۔ اپنی لڑکیوں کو زمین میں زندہ دفن کردیا کرتے تھے۔ طلاق کی کوئی حد نہ تھی۔ جب چاہا رجوع کرلیا اور ذرا سی ناراضی پر الگ کردیا ۔ یہود بھی اسی بات میں عرب کے ہم آہنگ تھے ۔ عیسائیت کا مقصد یہ تھا کہ یہودیوں کی اصلاح کرے مگر اس نے طلاق کے متعلق ایسا قانون نافذ کیا کہ آج بھی دنیا اس پر عمل کرنے سے عاجز ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : ” یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو کوئی اپنی بیوی کو چھوڑے ۔ اسے طلاق نامہ لکھ دے لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا اور کسی سبب سے چھوڑ دے وہ اس سے زنا کراتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی بیوی سے نکاح کرے وہ زنا کرتا ہے۔ “ (متی 5 : 31 تا 32)
ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ کے بڑے بڑے لارڈ اور ڈیوک جب اپنی بیویوں سے تنگ آجاتے ہیں اور ان سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہوتی تو ان پر زنا کا الزام لگاتے ہیں جس کے ثبوت میں جھوٹے گواہ پیش کرتے ہیں تب جا کر کہیں چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔
ہندوئوں نے یہ خیال کیا کہ خاوند اور بیوی کے تعلقات ایسے ہی ہیں جیسے خدا کے روابط اپنی مخلوق سے ہیں۔ اس لئے انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ عورت ہمیشہ خاوند کی غلام رہے۔ اس کی پرستش کرے۔ اس کے مرنے پر وہ بھی آگ میں جل جائے ۔ دوسری شادی نہ کرے اور اس طرح کی اور پابندیاں بھی لگائی ہوئی تھیں اگرچہ ان میں سے اب ” ستی “ کی رسم تقریباً مٹ چکی ہے۔
قرآن کریم نے ان تمام بندشوں کو دور کردیا اور فرمایا کہ جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں ایسے ہی مردوں پر بھی عورتوں کے حقوق ہیں قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں : وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ 1۪(البقر 2 : 228) طلاق کے بارے میں جس قدر افراط وتفریط تھی اس کو دور کر کے راہ اعتدال معین کردی۔ قیود و شرائط لگا دیں اور لسان نبوت نے ان مختصر مگر جامع الفاظ میں طلاق کی حقیقت پر روشنی ڈالی کہ : ابغض المبا حات عنداللہ الطلاق ، یعنی تمام حلال اور جائز اشیاء میں سے اللہ کے نزدیک مبغوض ترین چیز طلاق ہے گویا طلاق دینے میں بہت زیادہ دور اندیشی سے کام لینا پڑے گا۔
قرآن کریم نے ان وجوہ و اسباب پر زیادہ وضاحت سے گفتگو نہیں کی۔ بعض مقامات پر صرف اشاروں سے کام لیا ہے اور اس کا قطعی و آخری فیصلہ ہر ملک اور قوم کی اپنی اپنی تہذیب و شائستگی پر چھوڑ دیا ہے۔ البتہ اس نے پابندیوں کا ذکر کیا ہے کہ اسکی آزادی کو محدود کردیا جائے۔
Ayah 2:227اگر طلاق کا پختہ ارادہ کرلیا ہے تو بات کو واضح کردینا چاہئے :
384: طلاق نام ہے میاں بیوی کے باہمی تعلقات کے باضابطہ اور کامل انقطاع کا ۔ اسلام سے قبل دنیا میں طلاق سے متعلق عجب افراط وتفریط قائم تھی۔ افراط یہود کے ہاں تھی اور تفریط مسیحیوں کے ہاں۔ یہود کے ہاں نہ کوئی قید طلاق پر عائد تھی نہ شوہر پر اس باب میں کوئی ذمہ داری تھی۔ اس کا جب جی چاہتا وجہ بلاوجہ بس ایک طلاق نامہ لکھ کر بیوی سے چھٹکارا حاصل کرلیتا اور بیوی بھی اسی وقت دوسرا خاوند کرسکتی تھی۔ توریت کے قانون کے الفاظ یہ ہیں : ” اگر کوئی مرد کوئی عورت لے کر اس سے بیاہ کرے اور بعد اس کے ایسا ہو کہ وہ اس کی نگاہ میں عزیز نہ ہو اس سبب سے کہ اس نے اس میں کوئی پلید بات پائی تو وہ اس کا طلاق نامہ لکھ کے اس کے ہاتھ دے اور اسے اپنے گھر سے باہر کر دے اور جب وہ اس کے گھر سے نکل گئی تو جا کے دوسرے مرد کے ہو وے۔ “ (استثناء 24 : 1 تا 2)
اس آزادی اور بےقیدی کے مقابلہ میں مسیحیوں نے یہ سختی اور تنگی اختیار کی کہ زن و شوہر میں کوئی گنجائش ہی علیحدگی کی نہ رکھی چناچہ انجیل کے الفاظ یہ ہیں : ” جسے خدا نے جوڑا ہے اسے آدمی جدا نہ کرے جو کوئی اپنی بیوی کو چھوڑ دے اور دوسرے سے بیاہ کرے وہ پہلی کے خلاف زنا کرتا ہے اور اگر عورت اپنے شوہر کو چھوڑ دے اور دوسرے سے بیاہ کرے تو زنا کرتی ہے۔ “ (مرقس 10 : 7 تا 12)
” میں نہیں بلکہ خداوند حکم دیتا ہے کہ بیوی شوہر سے علیحدہ نہ ہو ۔ “ (گر نتھیوں 7 : 10) چناچہ مسیحی آبادی کے سواد اعظم یعنی فرقہ کیتھو لک کے ہاں تو طلاق مطلقاً ناجائز ہے اور بجز موت کی کوئی صورت میاں بیوی میں افتراق کی ممکن نہیں اور یہی فرقہ اسلام سے قبل موجود تھا۔ پروٹسٹنٹ فرقہ ظہور اسلام سے صدیوں بعد پیدا ہوا۔ ہاں ! اس کے ہاں البتہ اجازت دی گئی لیکن صرف اس صورت میں کہ پہلے عدالت میں کسی ایک فریق کا ارتکاب زنا و ظلم و جور ثابت ہو۔ اسلام نے فطرتِ انسانی کا بالکل صحیح اندازہ کر کے یہ حکم دیا کہ جب زوجین میں ناموافقت لاعلاج حد تک پہنچ جائے اس کی ابتداء خواہ کسی طرف سے ہوئی ہو اور تمام صورتیں موافقت پیدا کرنے کی ناکام ہوجائیں تو آخری علاج یہ ہے کہ فریقین ہنسی خوشی اور باضابطہ معاہدہ نکاح کو فسخ کر کے ایک دوسرے سے مستقل علیحدگی اختیار کرلیں اور اس کا اصطلاحی نام طلاق ہے اور اس انقطاعی عمل کو بھی مطلق نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس پر متعدد پابندیاں بھی عائد کردی ہیں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 2:228طلاق والیاں تیں میعادوں تک انتظار کریں :
385: اس آیت سے طلاق کے مختلف احکام بیان کئے گئے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے :
! : جس عورت سے خاوند نے صحبت کی ہو یا خلوت صحیحہ ہوچکی ہو ، اس کو حیض بھی آتا ہو اور وہ آزاد بھی ہو۔ اس کو جب طلاق دی جائے تو اس کو تین حیض تک انتظار کرنا پڑے گا ۔ یہ مدت تقریباً تین ماہ ہوتی ہے۔ اس زمانہ انتظار کو شریعت کی اصطلاح میں عدت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس مدت میں دوسرے شخص سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ اس انتظار کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ خاوند اور بیوی میں مصالحت کی کوئی صورت نکل آئے۔
جن عورتوں سے شوہر نے صحبت یا خلوت صحیحہ نہ کی ہو طلاق کی صورت میں ان کے لئے کوئی عدت نہیں۔ جس عورت کو حیض نہ آتا ہو اس کی تین صورتیں ہیں :
(ا) : کسی نابالغ لڑکی سے شادی کرلی پھر اس کی بلوغت سے پہلے ہی طلاق دے دی اس کی عدت تین ماہ ہے اس لئے کہ اس کو ابھی حیض آیا ہی نہیں۔
(ب) : اگر کوئی عورت بہت بوڑھی ہے کہ حیض کا خون بند ہوگیا ہے اس کو بھی تین ماہ انتظار کرنا پڑے گا ۔
(ج) : اگر وہ حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل کے وقت ختم ہوگی وہ اصل عدت کے دنوں سے زیادہ مدت کے بعد وضح ہو یا بہت پہلے۔
" : اگر ان عورتوں کے دلوں میں اللہ کا خوف ہے اور اعمال کی ذمہ داری محسوس کرتی ہیں تو اپنے حمل یا حیض کو مخفی نہ رکھیں کیونکہ اخفا کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عدت کے شمار کرنے میں دقت پیدا ہوجائے گی۔
#: اگر میاں بیوی اصلاح کے آرزومند ہوں تو پھر زیادہ مناسب یہی ہے کہ ان عورتوں کو پہلے خاوندوں ہی کی طرف لوٹا دیا جائے تین ماہ کی مدت میں انسان کافی غور و فکر سے کام لے سکے گا ۔ الگ رہنے کی وجہ سے عارضی رنجش اور ناراضگی دور ہوجائے گی سابقہ الفت و محبت دوبارہ عود کر آئے گی۔ پہلا تعلق قائم ہوجائے گا اور اسی طرح ان تمام جلد بازیوں کا تدارک ہوجائے گا جو طلاق کے متعلق تصور کی جاسکتی ہیں۔
$: مردوں کو توجہ دلائی کہ نکاح کی بنا پر جس طرح تمہارے حقوق عورتوں پر عائد ہوتے ہیں ایسے ہی ان کے حقوق تم پر ہیں۔ ان کا خیال رکھنا تمہارا فرض ہے۔ اس ایک جملہ نے در حقیقت طلاق کے ناجائز استعمال کو روک دیا اور تمام دنیا میں عورت کے قدر و منزلت قائم کردی ، جو اس سے پہلے عورت کو نصیب نہ تھی۔ البتہ میاں بیوی میں اختلاف رائے ہوگا تو فوقیت رکھنے کی وجہ سے میاں کی رائے کو ترجیح ضرور حاصل رہے گی۔
خاوند کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے حقوق کا خیال رکھے اس لئے کہ وہ اس کی نگرانی میں رکھی گئی ہے۔ اگر مرد اپنے فرض میں کوتاہی سے کام لے گا تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ عزیز ہے اپنے غلبہ و اقتدار سے کام لے کر اسے ذلیل کر دے گا۔
” ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ 1ؕ“ کو تین میعادیں کیوں کہا گیا ؟
386: ” اذیت کے دنوں کے تین ماہ “ کہیں یا تین میعادیں ایک ہی بات ہے۔ قرء کے لفظی معنی محض ایک زمانہ معلوم یا مدت متعین کے ہیں اور اسی میعاد یا مدت سے وہ چیز مراد ہے جس کو ” حیض “ کہا جاتا ہے ” عورت کی ناپاکی کے دن “ یہ سب کنایہ ہیں جس سے جو بات سمجھنا مطلوب ہے وہ ہر آدمی مرد ہو یا عورت سمجھتا ہے۔ اختلاف اس میں یہ ہے کہ یہ ” اذیت “ کے دن یا ” ناپاکی “ کے دن تین سے آٹھ دن تک ہوتے ہیں کیا ان دنوں کے شروع ہونے سے مراد ہے یا ختم ہونے سے ؟ کیونکہ اگر شروع ہونے سے مراد لی تو ” نا پاکی “ کے دنوں سے میعاد شروع ہوگی اور اگر ختم ہونے سے مراد لی گئی تو ” پاکیزگی “ کے دنوں سے مدت شروع ہوئی۔ ان دونوں باتوں میں سے درست کون سی بات ہوگی ؟ فقہاء امت اور مفسرین میں یہ اختلاف تھا ، ہے اور رہے گا لیکن اس اختلاف سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ اس سے آغاز بھی مراد ہو سکتا ہے اور اختتام بھی۔ معنی کے لحاظ سے دونوں مفہوم ایک دوسرے کے خلاف ہیں جس طرح ” نا پاکی “ اور ” پاکیزگی “ ایک دوسرے کے متضاد لیکن لغت عرب میں دونوں ہی مستعمل ہیں۔ جن لوگوں نے میعاد سے ” پاکیزگی “ مراد لی ہے ان میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور امام شافعی (رح) ہیں اور جن لوگوں نے ” ناپاکی “ مراد لی ہے ان میں حضرت عمر ؓ اور علی ؓ اور امام ابوحنیفہ (رح) وغیرہ شامل ہیں۔ پہلے فریق نے قرء کا ترجمہ ” طہر “ سے کیا ہے اور دوسرے فریق نے ” حیض “ سے۔ دراصل جو مطلوب ہے وہ دونوں ہی طریقوں سے معلوم ہوجاتا ہے اس لئے یہ بحث لاحاصل ہے۔
حقیقت ، حقیقت ہی ہے اس کو بدلنے کی ضرورت آخر کیوں ؟
387: ” مردوں کو عورتوں پر ایک خاص درجہ دیا گیا ہے۔ “ بس یہ وہ الفاظ ہیں جو نئی نسل کو یا جدید تعلیم یافتہ لوگوں پر بہت شاق گزرتے ہیں اور علماء نے بھی ان کی ترجمانی کر کے یا ان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ” لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ 1ؕ“ کے بہت عجیب و غریب معانی اور مفہوم بیان کئے ہیں حالانکہ اس طرح سے حقیقت کو نہ کوئی بدل سکتا ہے اور نہ ہی وہ بدلی جاسکتی ہے۔ تہذیب جدید کا دعویٰ یہ ہے کہ ” مرد و عورت ہر حیثیت سے اور ہر اعتبار سے ہم درجہ ہیں۔ “ لیکن ایک دعویٰ محض کتنی ہی کثرت سے دہرایا جائے کیا دعویٰ ثابت ہوجاتا ہے ؟ کیا وہ باربار دہرانے سے دلیل بن جائے گا ؟ ہرگز نہیں۔
آپ پیچھے پڑھ آئے ہیں کہ قرآن کریم جاہلیت کے ایک مفروضہ کی پرزور تردید کرچکا ہے اور اس نے بڑی شدومد سے ثابت کیا ہے کہ عورت بےحقی (Without any right نہیں ہے۔ وہ بھی مردوں کی طرح اپنے حقوق رکھتی ہے۔ اب جاہلیت کے اس دعویٰ کی تردید میں بھی بےدھڑک اعلان کر رہا ہے کہ دونوں صنفوں (Genders) میں مساوات مطلق اور مساوات کامل نہیں ہے کیونکہ مردوں کے حقوق کی نوعیت اور عورتوں کے حقوق کی نوعیت میں فرق ہے اور اس نوعیت کے فرق کی وجہ سے مرد کو عورت پر ترجیح و فضیلت حاصل ہے۔ ہاں ! یاد رہے کہ مرد عورت کے مالک نہیں۔ عورت مرد کی کنیز نہیں یا باندی نہیں۔ بلحاظ اپنی اپنی صنف کے حقوق میں دونوں ایک سطح پر ہیں تاہم مرد کو عورت پر فضیلت (Rank Above) ضرور ہے کیونکہ مرد کی ذمہ داریاں قوی ہیں ، بہ نسبت عورت کی ذمہ داریوں کے۔ عورت کی کچھ ذمہ داریاں ایسی بھی ہیں کہ وہ عورت کی مجبوری ہے وہ ان کو خوشی سے سر انجام دے یا ناخوشی سے بہرحال سر انجام اسی کو دینا ہوں گی۔ مرد پر کوئی ایسی ذمہ داری نہیں جو اس کی مجبوری ہو بلکہ وہ آزادی سے اس کو سرانجام دیتا ہے۔ کیا یہ فرق کوئی فرق نہیں ؟ عورت اذیت کے دنوں پر مجبور ہے ، اسی طرح حمل اور وضع حمل پر بھی مجبور ہے اگرچہ وہ اپنی فطرت کی وجہ سے ہے ، تاہم اس کو اس کی فطری کمزوری بھی تو کہا جاسکتا ہے اور قرآن کریم نے اگلی آیت میں فضیلت کی تشریح بھی کردی ہے کہ وہ فضیلت کیا ہے ؟ جو مرد کو حاصل ہے۔
جدید علوم و طبعیات کے ماہرین نے مرد و زن کی جسمانی ساخت و ترکیب و دماغی و ذہنی قویٰ اور طبعی خصوصیات کے مطالعہ و تحقیق میں عمریں بسر کردی ہیں۔ وہ بھی آخر اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مرد و عوت دونوں ایک دوسرے کے لیے متمم و مکمل ہیں تاہم بہ لحاظ قوت و بہ لحاظ عقل مرد ہی کو فضیلت حاصل ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر مرد کو ہر عورت پر فوقیت یا فضیلت حاصل ہے۔ بلکہ ایسا سمجھنا یا ایسا خیال کرنا بذاتہ جہالت یا کم علمی یا کم عقلی ہوگی اور جن ممالک میں عورت نے مردوں کے برابر قانوناً حیثیت حاصل کی ہے ان میں عورت نے اپنی نسائیت کا گویا خون بہایا ہے۔
Ayah 2:229دو طلاق دینے کے بعد بھی مرد رجوع کا حق رکھتا ہے :
388: پچھلی آیت میں فرمایا تھا کہ : ” بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ “ ان کے شوہر یعنی طلاق دینے والے اگر عدت کے اندر اندر اصلاح حال پر آمادہ ہوجائیں تو وہ انہیں اپنی زوجیت میں لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اب اس طلاق کی مزید تفصیل کی جاتی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ طلاق کی ایک قسم رجعی ہے جس کا اس آیت میں تذکرہ ہے۔ جس کی تفصیل کی حسب ذیل ہے :
1 : ایسی طلاق جس کے بعد عورت اپنے پہلے خاوند کی طرف لوٹائی جاسکتی ہے صرف دو ہی مرتبہ ہے بشرطیکہ ادائے حقوق کا خیال ہو۔ اس سے مقصد یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو طلاق کا وقوع نہایت ہی شاذ حالات میں ہو۔
2 : عرب میں دستور تھا کہ صدہا مرتبہ طلاق دینے کے بعد بھی خاوند رجوع کرسکتا تھا جس سے عورتوں کے حقوق مکمل طور پر فنا ہوجاتے تھے ، اسلام نے آتے ہی مرد کی اسی آزادی کو چھین لیا اور فرمایا کہ اگرچہ ایک شخص دو دفعہ طلاق دے کر رجوع کا حق رکھتا ہے مگر تیسری مرتبہ طلاق دینے کے بعد یہ حق سلب ہوجائے گا اور اب میاں بیوی میں مکمل طور پر علیحدگی ہوجائے گی۔ دو طلاق کے بعد اسے اجازت دی گئی کہ :
الف : خاوند عدت کے اندر رجوع کرلے ، اس سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے اور اس کے حقوق و مراعات کا خیال رکھے۔
ب : ورنہ تیسری مرتبہ طلاق دے کر نیکی کے ساتھ رخصت کر دے۔
یاد رہے کہ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک تین طلاقیں نہ دی جائیں اس وقت تک طلاق واقعہ ہی نہیں ہوتی۔ اس غلط فہمی کی بنا پر جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہ تین بار لکھتا ہے کہ طلاق ، طلاق ، طلاق۔ یہ بات بالکل لغو ہے اور جہالت پر مبنی ہے۔
طلاق ایک بار دینے سے بھی واقع ہوجاتی ہے البتہ مرد کو رجوع کا حق رہتا ہے کہ عدت کے اندر اندر اپنے الفاظ واپس لے کر بزبان حال یا بزبان قال عورت کو واپس اپنی زوجیت میں لے لے لیکن اگر وہ واپس نہیں لینا چاہتا تو خاموش رہے۔ جبھی عدت کے دن گزرے عورت عقد ثانی کرنے کے لیے بالکل آزاد ہے جو مدت خاوند کو دی گئی تھی اس نے اس سے فائدہ حاصل نہیں کیا۔ طلاق دینے والے کو کوئی حق نہیں کہ اب بزور اس عورت کو واپس اپنی زوجیت میں لے۔ ہاں ! اگر عدت گزرنے کے بعد یہ دونوں پھر دوبارہ نکاح کرنے پر راضی ہوجائیں تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر عوت نے اس خاوند کے علاوہ کسی دوسری جگہ عقد ثانی کرلیا تو اب ان کے دوبارہ مل بیٹھنے کی کوئی صورت باقی نہ رہی۔ تاوقتیکہ دوسرا خاوند طلاق نہ دے یا وفات نہ پا جائے۔
گویا یہی وہ فضیلت تھی جو مرد کو عورت پر دی گئی کہ ایک طلاق دینے کے بعد اس کو رجوع کا حق دیا گیا لیکن اگر طلاق دینے کے بعد جب مرد نے رجوع کرلیا اور دونوں میاں بیوی کی طرح رہنے سہنے لگے پھر زندگی کے کسی موڑ پر دوبارہ خاوند نے ایک طلاق دیدی تو گویا اب یہ ایک طلاق نہ ہوئی بلکہ دوسری طلاق ہوگئی اور چونکہ دوسری طلاق کے بعد بھی مرد کو رجوع کا حق ہے اس نے عدت کے اندر اندر رجوع کرلیا تو خیر اگر مدت گزر گئی تو اب بھی اس نے رجوع کا حق ضائع کردیا اب بزور اس عورت کو خاوند یعنی طلاق دینے والا اپنی زوجیت میں واپس نہیں لے جاسکتا ۔ ہاں ! عدت گزرنے کے بعد عورت رضا مند ہو تو یہ دونوں دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ گویا عورت اپنے عقد ثانی کرنا چاہے تو جس جگہ چاہے کرسکتی ہے خواہ اس دوسری بار طلاق دینے والے سے یا کسی دوسری جگہ۔ اگر انہوں نے دوبارہ رضا مندی سے نکاح کرلیا تو پھر وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ اس طرح سے اب یہ دونوں میاں بیوی تو ہوگئے لیکن احتیاط کی بہت ضرورت ہے کہ اگر کہیں اب بھی طلاق دے دی تو گویا اب نہ مرد کو رجوع کا حق رہا اور نہ ہی عورت اگر اس سے دوبارہ نکاح کا ارادہ کرنا چاہے تو کرسکے کیونکہ تین طلاقیں مکمل ہوگئیں۔
اب بتائو کہ کیا ایک طلاق دینے سے طلاق ہوئی یا نہیں ؟ کیوں نہیں بالکل طلاق واقع ہوئی لیکن آپ یہ کہہ لیں کہ کچی طلاق ہوئی اس کے پختہ ہونے کی ایک مدت یا میعاد ہے جس کا ذکر پہلے گزر چکا جب یہ مدت گزر گئی تو گویا طلاق پختہ ہوگئی اور عورت اب آزاد ہے جہاں چاہے نکاح کرے۔ کتنی وسعت تھی اس اسلامی نکاح میں جس کی مسلمانوں نے دھجیاں اڑا دیں اور اللہ کے دین کو مذاق بنا کر خود استہزاء مذاق بن گئے۔ سچ ہے کہ کسی کو ذلیل کرنے والا خود ذلیل ہوتا ہے اور جو کسی کے لئے کنواں کھودتا ہے خود ہی اس میں جا گرتا ہے ۔
ایک صورت تو یہ تھی جو اوپر ذکر کی گئی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ خاوند نے طلاق کا پختہ ارادہ کرلیا کہ ہر حال طلاق دینا ہے کیونکہ نباہ کی کوئی صورت اس کے نزدیک نہیں رہی۔ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے رازوں کو جانتے ہیں خاوند جب دیکھے کہ بیوی کے ” ناپاکی “ کے دن گزر گئے اور اب وہ ” پاک “ ہوگئی اور اس کا پختہ ارادہ طلاق کا ہے تو ایک طلاق دے۔ پھر دوسرے مہینے کے ” ناپاکی “ کے دن گزرنے کے بعد گویا ایک مہینے کے بعد دوبارہ طلاق دے بزبان قال یا بزبان تحریر اب دو طلاقیں ہوگئیں لیکن ابھی ایک موقع اس کے پاس مزید باقی ہے ۔ عورت حسب عادت اپنے اذیت کے دنوں سے ” پاک “ ہوئی خاوند نے رجوع نہ کیا بلکہ تیسیری بار طلاق دے دی خواہ بزبان قال یا بزبان تحریر تو اب خاوند نے گویا رجوع کا حق ضائع کردیا اب اگر دوبارہ میاں چاہے یا بیوی چاہے یا دونوں ہی چاہیں کسی صورت بھی یہ عورت اس کی بیوی نہیں رہ سکتی تاوقتیکہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے اور پھر وہ کسی وجہ سے طلاق دے دے یا وہ مر جائے۔ اس طرح سے طلاق گویا تین ” حیض “ تین ” طہر “ تین ” مہینے “ میں مکمل ہوگئی۔
غور کیجئے کہ اللہ ، اللہ کی کتاب اور اللہ کا رسول ﷺ ایک مومن خاوند کی۔ اس کے گھر بار کی کتنی عزت و حرمت ملحوظ رکھتے ہیں اور کس طرح مرد کی فوقیت کو واضح فرماتے ہیں اور اس کی بےعزتی و بےحرمتی ان کو کسی حال میں گوارا نہیں۔ کاش ! کہ آج مسلمان خود بھی اپنی اور اپنے خاندان کی عزت و حرمت کا اتنا خیال کرتا جتنا اس کے اللہ کو ہے تو آج خانگی فضیحتوں کا کوئی وجود بھی باقی نہ رہتا۔
طلاق دینے والا مطلقہ سے کوئی چیز دی ہوئی واپس لینے کا حق نہیں رکھتا :
389: اکثر انسان جب غصہ میں آ کر طلاق دیتا ہے تو یہ بھی کر گزرتا ہے کہ اب تک جو کچھ بیوی کو دیا ہے اس سے واپس چھین لے عرب جاہلیت میں تو یہ دستور اور بھی زیادہ پھیلا ہوا ہے۔ یہاں اس ظالمانہ دستور کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ جب خاوند اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہ مہر وغیرہ سے ایک پائی بھی واپس لینے کا مجاذ نہیں۔ قرآن کے الفاظ پر مزید غور کرو فرمایا ” وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْـًٔا “ ” مردوں کے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ وہ اپنی بیویوں کو دے چکے یا دینے کا عہد کیا تھا طلاق کے وقت اس میں سے کچھ واپس لے لیں۔ “ اور اب تک اگر مہر ادا نہیں کیا تو طلاق کے وقت ایک ایک کوڑی شمار کر کے دینی ہوگی۔ یہ بھی ایک طرح کا طلاق کی آزادی کو روکنا ہے۔ جب تک اتنی مدت تک دونوں کی صحبت و یکجائی رہی اور نکاح کے وقت تو یہی عہد و پیمان ہوا تھا کہ ہمیشہ ساتھ رہیں گے اب اگر بعض اسباب کی بنا پر نا چاقی ہوگئی تو پھر بھی دیا ہوا مہر واپس نہیں لیا جاسکتا۔ پھر جب مہر واپس نہیں لیا جاسکتا جو مرد کی طرف سے دیا گیا تھا تو وہ مال و دولت جو عورت ساتھ لائی تھی اس کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔ اگر حق مہر سے یا جو خاوند نے خوشی سے بیوی کو دیا تھا اس میں سے واپس لینا حلال نہیں اور یہ ایک طرح کا ظلم ہے کہ اس میں سے کچھ واپس لے تو عورت کا ساتھ لایا ہوا سامان روکنا تو ہر حال حرام ہوگا اور صرف وہ مال ہی حرام نہ ٹھہرا بلکہ یہ ظلم عظیم ہوا۔
اس میں شک نہیں کہ عام مفسرین نے تو اس سے صرف حق مہر کی رقم ہی مراد لی ہے لیکن بہت سے مفسرین اور خصوصاً ابن العربی (رح) مالکی نے اس سے ہر وہ مال مراد لیا ہے جو خاوند اپنی بیوی کو دے چکا ہو پھر حسن معاشرت ، حسن معیشت ، حسن سلوک کی تاکید ہر صورت میں ہے کہ بیویوں کو رکھو تو بھی خوش اسلوبی کے ساتھ ، رخصت کرو تو بھی ہنسی خوشی یعنی اللہ کی رضا کے مطابق۔
ہاں عورت خلع کرنا چاہے تو مہر کا کچھ حصہ یا زیادہ سے زیادہ مکمل واپس لیا جاسکتا ہے :
390: فرمایا ہاں ! مہر واپس لینے کی صرف ایک صورت ہے کہ اس وقت جب کہ مرد و عورت میں اختلاف ہو اور پھر وہ اتنا بڑھ جائے یا اس انتہا کو پہنچ جائے کہ مصالحت کو کوئی صورت باقی نہ رہے ۔ جانبین سے بذریعہ حکم فیصلہ کی کوشش کی گئی مگر وہ بھی ناکام رہی ہو۔ مرد طلاق دینے پر راضی نہیں اور عورت اس فکر میں ہے کہ جس قدر ممکن ہو اس سے نجات حاصل کرے۔ ایسی حالت میں اگر عورت خودبخود اپنے خاوند کو کچھ دینے پر راضی ہوجائے تو خاوند اس رقم کے وصول کرنے پر شریعت کے لحاظ سے گنہگار نہ ہوگا۔ اس قسم کی طلاق کو شرعی اصطلاح میں خلع کہا جاتا ہے ان روایات سے اس مسئلہ پر اور زیادہ روشنی پڑتی ہے۔
(حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِیلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ أَتَتْ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَیْهِ فِی خُلُقٍ وَلَا دِینٍ وَلَکِنِّی أَکْرَهُ الْکُفْرَ فِی الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ أَتَرُدِّینَ عَلَیْهِ حَدِیقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اقْبَلْ الْحَدِیقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِیقَةً ) صحیح بخاری ، جلد ثانی ، باب الطلاق حدیث : 260)
” ازہر بن جمیل ، عبدالوہاب ثقفی ، خالد ، عکرمہ ، ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میں ثابت بن قیس سے کسی بری عادت یا دینداری کی وجہ سے ناراض نہیں ہوں ، لیکن میں حالت اسلام میں ناشکری نہیں کرنا چاہتی ہوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس کا باغ اس کو واپس کرنے کو تیار ہے ، اس نے کہا ہاں ! آپ ﷺ نے ثابت بن قیس سے فرمایا کہ اس کا باغ لے لو اور اس کو ایک طلاق دے دو ۔ “
(حَدَّثَنَی إِسْحَاقُ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِکْرِمَةَ أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُبَیٍّ بِهَذَا وَقَالَ تَرُدِّینَ حَدِیقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ فَرَدَّتْهَا وَأَمَرَهُ یُطَلِّقْهَا وَقَالَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَطَلِّقْهَا وَعَنْ أَیُّوبَ بْنِ أَبِی تَمِیمَةَ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنِّی لَا أَعْتِبُ عَلَی ثَابِتٍ فِی دِینٍ وَلَا خُلُقٍ وَلَکِنِّی لَا أُطِیقُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَتَرُدِّینَ عَلَیْهِ حَدِیقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ ) بخاری جلد ثانی ص : 794 باب الخلع و کیف الطلاق فیہ)
” اسحاق واسطی ، خالد ، خالد حذاء ، عکرمہ ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی اوفیٰ کی بہن نے اس کو روایت کیا اور بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس کا باغ واپس کردے گی ؟ اس نے کہا ہاں ! چناچہ اس کو باغ واپس دے دیا اور اس کو ایک طلاق دے دی ، ابراہیم بن طہمان نے بواسطہ خالد ، عکرمہ ، آپ ﷺ سے طَلِّقْهَا (اس کو طلاق دے دی) کا لفظ بیان کیا اور ابن تیمیہ (رح) سے بواسطہ عکرمہ ، ابن عباس ؓ منقول ہے ، انہوں نے کہا کہ ثابت بن قیس کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ثابت سے اس کی دینداری اور اخلاق کی وجہ سے ناراض نہیں ہوں ، لیکن میں اس کے ساتھ رہ نہیں سکتی ، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس کا باغ واپس کردے گی ، اس نے جواب دیا ہاں ! “
(حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِیرَةَ کَانَ عَبْدًا یُقَالُ لَهُ مُغِیثٌ کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَیْهِ یَطُوفُ خَلْفَهَا یَبْکِی وَدُمُوعُهُ تَسِیلُ عَلَی لِحْیَتِهِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لِعبَّاسٍ یَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِیثٍ بَرِیرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِیرَةَ مُغِیثًا فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَاجَعْتِهِ قَالَتْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ تَأْمُرُنِی قَالَ إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ قَالَتْ لَا حَاجَةَ لِی فِیہِ ) بخاری ج 2 ص : 295 باب شفاعۃ النبی۔ فی زوج بریرۃ)
” محمد ، عبدالوہاب ، خالد ، عکرمہ ، ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بریرہ کا شوہر ایک مغیث نامی غلام تھا ، گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے روتا ہوا گھوم رہا ہے ، آنسو اس کی داڑھی پر گر رہے ہیں ، آپ ﷺ نے حضرت عباس ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے عباس ! کیا تمہیں بریرہ سے مغیث کی محبت اور بریرہ کی مغیث سے عداوت پر تعجب نہیں ہوتا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کاش ! تو اسے لوٹا لے ، یعنی رجوع کرلے ، اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ مجھے حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا (نہیں بلکہ) میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں ، بریرہ نے کہا تو پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
مذکورہ آیت جس کا بیان جاری ہے سے معلوم ہوا جس کی وضاحت حدیث نے بھی کردی کہ جس طرح مرد کو طلاق دینے کا حق ہے اس طرح عورت کو بھی اپنے خاوند سے طلاق لینے کا حق ہے۔ یہ قانون اسلامی کے حدود ہیں ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے۔
عورت جب طلاق طلب کریگی تو اسکو مہر کی رقم واپس لوٹانا ہوگی کلی طور پر یا جزوی طور پر یعنی جو صورت فریقین کے نزدیک خوش اسلوبی سے طے ہوجائے لیکن خلع دینے والے خاوند کو حق مہر سے زیادہ مال طلب کرنا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے اگر وہ زیادہ مال طلب کریگا تو یہ حدود اللہ سے تجاوز ہوگا اگر عورت کے پاس وسعت مال ہے وہ اس سے زیادہ بھی دے سکتی ہے اس وقت بھی خاوند کیلئے لینا درست نہ ہوگا۔
میاں بیوی کے درمیان کچھ ایسے راز ہوتے ہیں جن میں زیادہ گہرائی میں جانا مناسب نہیں ہے ایک حدیث میں ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ تو طلاق کیوں طلب کرتی ہے۔ ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ قیس کے دین میں مجھے کوئی نقص معلوم نہیں ہوتا بس میں اس کو پسند نہیں کرتی اور میں نہیں چاہتی کہ اسلام میں رہتے ہوئے کفر رکروں۔ ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ثابت بن قیس ؓ کو بلوایا اور اس سے بھی یہی سوال کیا کہ تیری بیوی آخر طلاق کیوں طلب کرتی ہے ؟ ثابت بن قیس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے اللہ کی قسم آپ کی ذات اقدس کے بعد مجھے اپنی بیوی سب سے زیادہ عزیز اور پیاری ہے ۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ثابت بن قیس کی بی بی کی طرف دیکھا اور اشارہ کیا کہ تو کیا کہتی ہے اور ثابت بن قیس کیا کہتے ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ میں تو آپ ﷺ سے ایک بات کہہ چکی ہوں اب اس کے خلاف نہ کہوں گی بیشک یہ سب سے زیادہ اپنی بیوی پر یعنی مجھ پر مہربان ہیں لیکن میرے دل کو نہیں بھاتے نہ میں ان سے خوش ہوں نہ یہ مجھ سے خوش ہیں۔ یہ روایت بخاری میں ہے۔
آپ مزید غور کریں کہ خاوند قسمیہ کہہ رہا ہے کہ مجھے میری بیوی بہت محبوب ہے لیکن بیوی اس کی تردید نہ کرتے ہوئے پھر کہتی ہے کہ وہ میرے دل کو نہیں بھاتے نہ میں ان سے خوش ہوں اور نہ وہ مجھ سے خوش ہیں۔ بس اس میں راز ہے جس کی کرید اس سے زیادہ جائز نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے بھی اس میں کوئی بحث نہیں فرمائی اور ثابت بن قیس ؓ کو اس کا باغ جو انہوں نے اپنی بیوی کو مہر میں دیا تھا واپس دلوا کر معاہدہ نکاح فسخ کرا دیا۔
قرآن کریم کے معجزانہ الفاظ پر ایک بار پھر غور کریں ارشاد ہوتا ہے : فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ 1ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ 1ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا 1ۚ ” اگر میاں بیوی کو اندیشہ ہو کہ اللہ کے ٹھہرائے ہوئے حقوق ادا نہ کرسکیں گے تو رضامندی سے ایسا ہو سکتا ہے میاں بیوی میں کچھ گناہ نہیں کہ بیوی اپنا پیچھا چھڑانے کیلئے بطور معاوضہ اپنے حق میں سے کچھ دے کر طلاق حاصل کرلے۔ یعنی معاہدہ نکاح فسخ کرا لے “ اس کا شرعی نام خلع ہے۔
” اللہ کے ٹھہرائے ہوئے واجبات و حقوق ادا نہ ہو سکیں گے۔ “ کے الفاظ پر نظر کرو جن کو قرآن کریم کی زبان نے اس طرح بیان فرمایا کہ : اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ 1ؕ، مختصر یہ کہ یہ کوئی ایسا حق نہیں جو کسی ایک کے ادا کرنے سے اد ہوجائے بلکہ یہ کوئی ایسا حق ہے جو دونوں کی رضامندی میں ہی ادا ہو سکتا ہے اس طرح کے خطرہ کو میاں بیوی ہی جان سکتے ہیں۔ ایسی صورت جب بھی اور جہاں بھی واقع ہو تو بہتر یہی ہے کہ خاوند عورت کو اس کی رضامندی کے مطابق فارغ کردینے میں پہل کرے ، یہ طریقہ مستحسن ہے اور زیادہ سے زیادہ وہ بیوی کے عزیزوں کو صورتحال سے آگاہ کر دے مزید بہتر ہوگا۔ لیکن عورت اتنی مجبور ہوجائے کہ اس نہ ظاہر کرنے والی بات کو ظاہر کر دے یعنی وہ خود طلاق کا مطالبہ کر دے تو خاوند کو زیادہ دیر لگائے بغیر معاملہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ ختم کردینا چاہیے تاکہ وہ نہ اپنی ذات پر ظلم کا باعث ہو اور
نہ فریق ثانی یعنی بیوی کے لیے باعث ظلم بنے کیونکہ یہ کوئی ایسا حق نہیں جو اکیلے میاں کے ادا کرنے سے بھی ادا ہوتا رہے گا۔ فقط
Ayah 2:230طلاق مکمل کب ہوتی ہے ؟
391: تین طلاق کے بعد طلاق مکمل ہوگئی یعنی خاوند بیوی میں تفریق ہوگئی۔ اب یہ عورت اس وقت تک کے لیے اس پر حرام ہے جب تک کوئی دوسرا شخص اس سے نکاح نہ کرے۔ پھر یا تو وہ مر جائے یا وہ بھی اس عورت کو طلاق دیدے اور طلاق مکمل ہوجائے ازیں بعد وہ عورت اپنے پہلے خاوند کی طرف رجوع کرنا چاہے تو کرسکتی ہے بشرطیکہ پہلا خاوند اس کو دوبارہ قبول کرے تو نکاح ہو سکتا ہے۔ شریعت کے اعتبار سے تو یہی ایک صورت جوازِ نکاح کی تھی مگر بعض ارباب حیل نے یہاں بھی خدع و فریب سے کام لیا بلکہ اکثر لیتے رہتے ہیں وہ حیلہ کی ایک صورت یہ پیدا کرتے ہیں کہ جب خاوند نے طلاق دیدی پھر اس کو اپنی حرکت پر ندامت ہوئی اور اس نے دوبارہ نکاح کی آرزو کی تو اس کی خاطر ایک شخص نے نکاح کرلیا اور اس کے بعد اسے طلاق دیدی تاکہ اس طرح وہ اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال ہو سکے۔ مگر تمام عالم اسلام کے علمائے حق اس امر پر متفق ہیں کہ یہ نکاح حرام و ناجائز ہے اور رسول اللہ ﷺ نے بھی ایسا کرنے والے پر ” لعنت “ یعنی اللہ کی رحمت سے دوری ارشاد فرمائی ہے۔
حلالہ نکالنے اور نکلوانے والے ملعون ہیں :
392: عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ : (سئل رسول اللہ۔ عن المحلل فقال لا الا النکاح رغبۃ لا نکاح دلسۃ ولا استھزاء ب کتاب اللہ ثم یذوق العسیلۃ) رسول اللہ ﷺ سے محلل کی نسبت سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں نکاح رغبت اور شوق سے ہونا ضروری ہے۔ اس میں فریب اور اللہ کی کتاب کے ساتھ استہزاء و تمسخر نہ ہو۔ نکاح میں ضروری ہے کہ خاوند اور بیوی باہم متمتع ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : ” جب کوئی میرے پاس حلالہ کرنے والا یا وہ جس کے لیے تحلیل کی گئی ، لایا گیا تو میں دونوں کو سنگسار کر دوں گا “ اور اس طرح سلیمان بن یسار کہتے ہیں : ” حضرت عثمان ؓ کے پاس ایک مرد لایا گیا جس نے ایک عورت سے صرف اس لیے شادی کی تھی کہ اس کو پہلے شوہر کے لیے حلال کر دے۔ آپ ؓ نے ان دونوں میں تفریق کرا دی اور فرمایا کہ یہ صرف اس نکاح کے ذریعے اس کی طرف لوٹ سکتی ہے جس میں رغبت ہو ، نہ کہ فریب کاری “ اور اس طرح کے الفاظ حضرت علی ؓ سے بھی منقول ہیں اور حضرت ابن عباس ؓ نے محلل اور محلل لہ کو ملعون فرمایا ہے۔ حسن بصری (رح) کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی : ” میری قوم میں سے ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدیں پھر وہ دونوں اس بات پر نادم ہوئے ، میرا ارادہ ہے کہ اس عورت سے نکاح کرلوں اور اس کا مہر ادا کر دوں اور پھر جس طرح شوہر اپنی بی بی کے پاس جاتا ہے جاؤں اور اس کے بعد اسے طلاق دیدوں تاکہ وہ اپنے شوہر کے لیے حلال ہوجائے۔ “ حسن بصری (رح) نے جواب دیا کہ اے نوجوان ! اللہ سے ڈر اور اس کی حدود کے لیے آگ کا ایندھن نہ بن۔
پھر یہ کسی فردِ واحد کی رائے نہیں کہ نکاح تحلیل حرام و ناجائز ہے بلکہ سعید بن المسیب ، حسن بصری ، ابراہیم نخعی ، عطاء بن ابی رباح ، ابوشعثاء جابر بن یزید ، شعبی ، قتادہ ، بکر بن عبداللہ المزنی ، مالک بن انس اوزاعی ، لیث بن سعد ، سفیان ثوری ، احمد بن حنبل ، اسحٰق بن راہویہ ، سلیمان بن داؤد الہاسمی ، ابو خیثمہ ، زہیر بن حرب ، ابوبکر بن شیبہ اور ابو اسحٰق الجوزجانی جیسے اساطین امت و ائمہ اعلام ؓ اس کے عدم جواز پر متفق ہیں۔
رکاوٹ کیوں ڈالی گئی اور نتیجہ کیا رہا ؟
393: یہ رکاوٹ تو اس لیے پیدا کی گئی تھی کہ تیسری طلاق سوچ سمجھ کردی جائے حلال کی یہ صورت تو بےحیائی ، بےغیرتی اور بداخلاقی کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ ایک شخص اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق دیتا ہے اور وہ دوسرے مرد سے نکاح کرتی ہے مگر مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس سے طلاق لے کر پہلے خاوند کے پاس جائے۔ نکاح کی غرض تو یہ تھی کہ خاوند اور بیوی ہمیشہ مل کر رہیں اور کبھی ان میں افتراق نہ ہو لیکن یہ بدبخت اس مقصد اصلی کو فنا کرچکے ۔ اب صرف قانون کی ظاہری صورت کے پابند بننا چاہتے ہیں بلکہ اگر موجودہ خاوند اور بیوی میں اتحاد ہوگیا تو پہلے خاوند کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان میں لڑائی کرانے کی فکر میں لگ جائے۔ ہاں ! اگر اتفاق سے موافقت نہ ہوسکی طلاق تک نوبت آگئی۔ پھر طلاق ہو ہی گئی اور عدت گزر گئی ادھر پہلے خاوند نے بھی نکاح کا شوق ظاہر کیا تو شریعت کی جانب سے مخالفت نہیں ان حدود ِالٰہی کو توڑنا مناسب نہیں ورنہ بےحیائی کا مرض پیدا ہوجائے گا جس کا کوئی حل باقی نہ رہے گا اور قانون الٰہی کے ساتھ مذاق و استہزاء کی سزا الگ ملے گی۔
Ayah 2:231ایک یا دو طلاق دینے کے بعد رجوع کیا جاسکتا ہے :
394: ظاہر ہے کہ اس طلاق سے طلاق رجعی ہی ہو سکتی جو ایک باردی گئی ہو یا زیاہ سے زیادہ دو بار دی گئی ہو جو ابھی قطعی نہیں ہوئی اور خاوند کو رجوع کا حق ہے اور زمانہ عدت ختم ہونے پر ہو لیکن مکمل طور پر ختم نہ ہوچکا ہو۔ اس بات کی تاکید مزید کہ اگر رجوع کرنا ہو تو بہتر ورنہ دستور کے مطابق شریفانہ طور پر اس بیوی کو الگ کر دو اور یاد رہے کہ بےزبان عورت کو صرف تکلیف و مصیبت میں ڈانے کی غرض سے گھر میں ہر وقت بند نہ رکھنا کیونکہ اس اختلاف کی صورت میں تمہیں بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گھر میں ہر وقت جنگ رہے گی۔ عورت تمہاری عزت کا مطلق خیال نہ رکھے گی۔ تمہیں ہر وقت اس کی غلامی کرنی پڑے گی ۔ وہ اپنی اولاد کو تمہاری نافرمانی کی تعلیم دے گی اور اس کو بداخلاق بنانے کی کوشش کرے گی۔ پس جو شخص اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے وہ حقیقت میں خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے اور ایسا کرنا قانون الٰہی سے تمسخر و استہزاء کرنا ہے ۔ تمہارا فرض یہ ہے کہ اللہ کا قانون اپنے محل اصلی پر استعمال ہو۔ عورت تمہاری نگرانی میں رکھی گئی ہے۔ خانہ داری کے لئے ایک دستور العمل نوازش کیا گیا جس کے اصول اساسی تمہارے ذہن نشین کرادیئے گئے۔ ان اعلیٰ ترین نعمتوں کی قدر یہی ہے کہ ان سے عبرت اندوز ہو کر تذکیرو مؤعظت پیدا کرو۔ اگر تم نے اس قانون کو بےجا طریق پر استعمال کیا اور اس میں ایسی پیچیدگیاں پیدا کردیں کہ حکومت بھی مواخذہ نہ کرسکے تو یاد رہے کہ اللہ ہرچیز سے واقف ہے تمہارا دجل و فریب اس پر مخفی نہیں رہ سکتا۔
Ayah 2:232ایک طلاق یا دو طلاق کے بعد عدت پوری کر کے عورت نکاح ثانی کرسکتی ہے :
395: اگر عورت کو ایک یا دو طلاقیں دیں لیکن عدت کا زمانہ گزر گیا اور خاوند نے رجوع نہیں کیا تو اب وہ اپنا نکاح ثانی کرنے میں بالکل آزاد ہے جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ خواہ پہلے شوہر سے کرے خواہ کسی اور شخص سے دونوں صورتوں میں کوئی شخص اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتا۔ یہ اس لئے فرمایا گیا کہ بعض اوقات خود پہلا خاوند ہی طلاق دینے کے بعد بلکہ اس کی عدت گزرنے کے بعد اس عورت کو کسی دوسری جگہ نکاح کرنے سے روکتا ہے کیونکہ وہ اسے ذلت خیال کرتا ہے اور کبھی اس عورت کے رشتہ دار ہی سد ِراہ بن جاتے ہیں۔ اس آیت میں ان دونوں فریقوں کو روک دیا گیا ہے۔ انہیں تو اپنی عزت بچانے کی فکر ہے اور یہ خیال نہیں آتا کہ اگر وہ نکاح نہ کرسکی تو ممکن ہے اس سے زیادہ خرابیوں کی مرتکب ہو۔ گویا اس آیت سے حسب ذیل مسائل واضح ہوتے ہیں جن کا ذکر کرنا بھی ضروری خیال کرتا ہوں تاکہ بات ذہن نشین ہوجائے :
! : عورت جس سے نکاح کا ارادہ کرے وہ غیر کفونہ ہو۔ مہر مثل سے کم مقرر نہ ہو ۔ ورنہ عورت کے ولی کو روکنے کا حق ہوگا۔ اگر وہ نکاح کرے گی تو عدالت اسی کو فسخ کرسکے گی۔
" : عورت اگر شرعی گواہوں کے بغیر نکاح کرنے لگے۔ نابالغہ بغیر ولی کے نکاح کرے یا ایسے شخص سے ازدواج کی تجویز کی گئی ہو جس سے نکاح حرام ہے تو یہ تمام صورتیں باطل ہوں گی۔
#: شوہر اول سے نکاح کے جواز کی صورت اس وجہ سے نکل آئی کہ اس نے تین طلاق نہ دی تھیں بلکہ طلاق ایک یا دو ہی ہوئی تھی لیکن عورت عدت میں رجوع نہ کرنے کی وجہ سے آزاد ہوگئی کہ چاہے جہاں نکاح کرے کرسکتی ہے۔ اب پہلے خاوند کو روکنے کا حق تو نہ رہا لیکن اگر دونوں خوش ہوں کہ وقت چل سکتا ہے تو دونوں کی رضامندی سے نکاح دو بارہ ہو سکتا ہے۔ گویا جس طرح عورت دوسرے مردوں سے نکاح کرنے کی مجاز ہے کہ جہاں چاہے نکاح کرے ایسے ہی اس سے بھی نکاح کرنے میں کوئی روکاوٹ نہیں۔
$: اگر تین طلاقیں دی جائیں تو اب اس مرد سے نکاح نہیں کرسکتی جب تک کہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے ۔ پھر وہ مرجائے یا اپنی مرضی سے طلاق دے دے تو پھر ان کی رضامندی نکاح کی ہوجائے یہ دوسری بات ہے جس کا ذکر پیچھے گزر چکا۔
اس آیت کا شان نزول ایک ایسا واقعہ ہے جو صحیح بخاری میں ہے کہ : حضرت معقل بن یسار ؓ نے اپنی بہن کی شادی ایک شخص کے ساتھ کردی تھی کچھ مدت کے بعد اس نے طلاق دے دی اور پھر عدت بھی گزر چکی لیکن رجوع نہ کیا۔ اس کے بعد یہ شخص اپنے فعل پر پشیمان ہوا اور چاہا کہ دوبارہ نکاح کرلے۔ اس کی بیوی یعنی معقل بن یسار کی بہن بھی آمادہ ہوگئی لیکن جب اس شخص نے معقل سے اس کا ذکر کیا تو چونکہ ان کو طلاق دینے پر غصہ تھا۔ انہوں نے کہا میں نے تمہارا اعزاز کیا کہ اپنی بہن تمہارے نکاح میں دے دی تم نے اس کی یہ قدر کی کہ اس کو طلاق دے دی۔ اب پھر تم میرے پاس آئے کہ دوبارہ نکاح کردوں ۔ خدا کی قسم اب میں تمہارے نکاح میں نہ لوٹاؤں گا۔
اس طرح ایک واقعہ جابر بن عبد اللہ ؓ کی چچا زاد بہن کا پیش آیا تھا۔ ان واقعات پر آیت مذکورہ نازل ہوئی جس میں معقل اور جابر ؓ کے اس رویہ کو ناپسند و ناجائز قرار دیا گیا۔
صحابہ کرام ؓ نبی کریم ﷺ اور دین اسلام کے سچے شیدائی تھے آیت کریمہ کے سنتے ہی جابر بن عبد اللہ اور معقل بن یسار ؓ کا سارا غصہ فرو ہوگیا اور خود جا کر ان شخصوں سے اپنی اپنی بہنوں کا دوبارہ نکاح کردیا اور اپنی اپنی قسموں کا کفارہ بھی ادا کیا۔
پھر غور کرو کہ آیت کریمہ کا دوسرا جملہ یہ ارشاد فرمایا : ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ 1ؕ، یعنی ان احکام کی پابندی تمہارے لئے پاکیزگی اور صفائی کا ذریعہ ہے۔ اس میں اشارہ فرمایا گیا کہ ان کی خلاف ورزی کا نتیجہ گناہوں کی غلاظت میں آلودگی اور فتنہ و فساد ہے کیونکہ عاقلہ بالغہ جو ان لڑکیوں کو مطلقاً نکاح سے روکا گیا تو ایک طرف ان پر ظلم اور ان کی حق تلفی ہے اور دوسری طرف ان کی عفت و عصمت کو خطرہ میں ڈالنا ہے۔ تیسرے اگر خدانخوستہ وہ کسی گناہ میں مبتلا ہوں تو اس کا وبال ان لوگوں پر بھی پڑے گا جنہوں نے ان کو نکاح سے روکا اور وبال آخرت سے پہلے ان کا عمل دنیا ہی میں وبال بن جائے گا اور اگر مطلقاً تو نکاح سے روکا مگر ان کی پسند کے خلاف دوسرے شخص سے نکاح پر مجبور کیا گیا تو اس کا نتیجہ بھی دائمی مخالفت اور فتنہ و فساد یا طلاق وخلع ہی ہوگا۔ جس کے ناگوار اثرات ظاہر ہیں ۔ اس لئے فرمایا گیا کہ ان کو ان کے تجویز کئے ہوئے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ یہی تمہارے لئے پاکیزگی اور صفائی کا ذریعہ ہے۔
پھر تیسرا جملہ فرمایا کہ : وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 00232 اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اس اشارہ کا منشاء یہ ہے کہ جو لوگ مطلقہ عورتوں کو نکاح سے روکتے ہیں وہ اپنے نزدیک اس میں مصالح اور فوائد سوچتے ہیں مثلاً اپنی عزت و غیرت کا تخیل کہ ان کی شادی کے بدلے کچھ مالی منفعت حاصل کی جائے اس شیطانی تلبیس اور بےجامصلحت اندیشی کے ازالہ کے لئے فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مصلحتوں اور فائدوں سے خوب واقف ہے ان کی رعایت کر کے ہی احکام دیتا ہے اور تم چونکہ حقائق امور اور معاملات کے انجام سے بیخبر ہو اس لئے اپنے ناتمام غوروفکر اور ناقص رائے سے کبھی ایسی چیزوں کو مصلحت اور فائدہ سمجھ لیتے ہو جس میں تمہاری ہلاکت و بربادی ہے تم جس عزت و غیرت کو تھامتے پھرتے ہو اگر مطلقہ عورتیں بےقابو ہوگئیں تو سب عزت خاک میں مل جائے گی اور مالی منافع کے ناجائز تصورات ممکن ہے کہ تمہیں ایسے فتنوں اور جھگڑوں میں مبتلا کردیں جن میں مال کے ساتھ جان کا بھی خطرہ ہوجائے۔
اسلوب ِقرآن اور اس کے مخصوص انداز بیان سے ایک دور رَس اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کو دیکھنے سننے کے بعد انسان اس قانون کی پابندی صرف اس بنا پر نہیں کرتا کہ اگر خلاف کرے گا تو دنیا میں اس کو کوئی سزا مل جائے گی بلکہ دنیا کی سزا سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور آخرت کی سزا کی فکر ہوتی ہے اور اسی فکر کی بناء پر اس کا ظاہر و باطن خفیہ اور اعلانیہ برابر ہوجاتا ہے وہ کسی ایسی جگہ میں بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا جہاں کسی ظاہری یا خفیہ پولیس کی بھی رسائی نہ ہو کیونکہ اس کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ حاضر و ناظر اور ذرّہ ذرّہ سے باخبر ہے یہی سبب ہے کہ قرآنی تعلیم نے جو انسان معاشرہ تیار کیا تھا ہر مسلمان اس کی پابندی کو اپنا مقصد حیات تصور کرتا تھا۔
نظام قرآن کا یہ امتیاز ہے کہ اس میں ایک طرف قانون کی حدود وقیود کا ذکر ہے کہ قانون حدود وقیود اس کیلئے ایک طبعی چیز بن جاتی ہے جس کے سامنے وہ اپنے جذبات اور تمام نفسانی خواہشات کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ دنیا کی حکومتوں اور قوموں کی تاریخ ان میں جرم و سزا کے واقعات پر ذرا گہری نظر ڈالئے تو معلوم ہوگا کہ صرف قانون سے کبھی کسی قوم یا فرد کی اصلاح نہیں ہوئی ، محض پولیس اور فوج سے کبھی جرائم کا انسداد نہیں ہوا جب تک جب تک قانون کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خوف و عظمت کا سکہ اسکے قلب پر نہ بیٹھے ۔ جرائم سے روکنے والی چیز دراصل خوف خد اور خوف حساب آخرت ہے ورنہ تو کوئی شخص کسی سے جرائم کو چھڑا نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر مالک میں بھی جرائم کثرت سے موجود ہیں۔