Ayah 2:24قرآن کریم کا تیسرا معجزہ :
55: کلام الٰہی یعنی قرآن کریم تو پہلے ہی معجزہ تھا جس کی مثل لانے سے لوگ قاصر تھے ، ہیں اور رہیں گے۔ لیکن معجزہ کو بطور پیشگوئی بیان کر کے ایک دوسرا معجزہ بنادیا۔ فرمایا ” اس کتاب کی مثال تم کبھی نہیں لا سکو گے “ لَنْ تَفْعَلُوْا ، اور آج اس کی صداقت آفتاب عالم تاب سے زیادہ روشن ہے۔
اللہ اکبر ! کس زور کا اعلان ہے اور وہ بھی ایک امی کی زبان اقدس سے ! اپنی عقل و حکمت ، اپنے علوم و فنون پر ناز رکھنے والوں کو کیسا کیسا جوش اس وقت بھی آیا ہوگا اور آج بھی آرہا ہے لیکن اصل بات الٰہی جہاں تھی وہیں رہی۔ کتنے نئے نئے مسلک روز پیدا ہوئے کیسی کیسی از میں ہر روز اٹھ رہی ہیں اور دنیا کو راہ نجات دکھانے میں سب کی سب بیکار ہی ثابت ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں یہ سب گویا قرآن کے اس سوال کے جوابات ہیں لیکن ہر جواب ناکام اور شرمناک حد تک ناکام ہورہا ہے۔ کاش کہ مسلمان بھی سمجھیں۔
اس بات پر ایک بار پھر غور و فکر کرو کہ جو قوم اسلام اور قرآن کی مخالفت اور اس کے گرانے اور مٹانے کے لئے اپنی جان و مال ، عزت و آبرو اور اولاد سب کچھ قربان کرنے پر تلی ہوئی تھی اس کو یہ آسان موقع دیا جاتا ہے کہ قرآن کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کی مثال بنالائو تم اپنے مطلب میں کامیاب ہوسکتے ہو اور یہ کہہ کر ان کی غیرت کو مزید جوش دلایا جاتا ہے کہ تم ہرگز یہ کام نہ کرسکو گے۔ مگر پوری قوم میں کوئی بھی اس کام کے لئے آگے نہ بڑھا۔ اس سے بڑھ کر کونسا اعتراف اپنے عجز کا اور قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کا ہوسکتا ہے جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ قرآن کریم نبی ﷺ کا ایسا کھلا ہوا معجزہ ہے جس نے تمام سرکشوں کی گردنیں جھکا دیں۔
عذاب جہنم کیوں ؟
56: قرآن کریم کہتا ہے کہ جب میری پیش کی ہوئی دلیل کے جواب سے عاجز آچکے ہو اور اپنے انکار پر بھی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اس کے باوجود تم انکار کئے ہی جاتے ہو تو بتاؤ یہ بجز عناد اور خبث نفس کے اور کس چیز کا نتیجہ ہے ؟ سو یاد رکھو کہ جہنم کا عذاب آتشیں اسی ہٹ دھرمی اور معاندانہ انکار حق کا لازمی اور قدرتی نتیجہ ہے اس لئے کہا جاتا ہے کہ اہل معصیت کے حق میں دوزخ ایک شفاخانہ کی حیثیت رکھتی ہے کہ انجام کار وہ جنت میں داخل ہوں گے۔
وہ انسان جو دوزخ کا ایندھن ہوں گے :
57: اس جگہ دوزخ کی آگ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے۔ گویا یہ آگ شرک یا بت پرستی سے ہی پیدا ہوئی ہے اور سارے گناہ دراصل شرک ہی کے فروع ہیں۔ جس طرح ساری نیکیوں کی جڑ یا اصل توحید ہے۔ ” الحجارہ “ یعنی پتھروں سے مراد اس جگہ معبودان باطل کے وہ بت ہیں جن کی یہ لوگ یعنی مشرک پرستش کیا کرتے تھے اور ” الناس “ یعنی لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حق کو قبول کرنے میں ایسے سخت دل ہوتے ہیں جیسے پتھر ، اور عربی زبان میں بڑے ہیبت ناک آدمی کو بھی حجر کہا جاتا ہے جس پر دوسرے کی بات کا کوئی اثر نہ ہو۔ یعنی وہ قسی القلب لوگ جن پر وحی الٰہی یعنی قرآن کریم جیسی لاریب تعلیمات کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ وہ الٹے مخالفت میں پیش پیش ہوگئے اور لوگوں کا دوزخ کا ایندھن ہونا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ دوزخ انسانوں ہی کے برے اعمال کا نتیجہ ہے حتیٰ کہ اس کا ایندھن یعنی جس سے یہ آگ جلتی ہے خود انسان ہی ہیں کچھ اور نہیں۔
مختصراً یوں سمجھو کہ جہنم کی اصل غذا تو خود اہل شرک و کفر ہوں گے۔ سزا انہیں کو ملے گی لیکن اس سزا میں مزید اضافہ کے لئے ایک صورت یہ بھی ہوگی کہ ان کے ٹھاکروں کو بھی ان کے پہلو میں رکھ دیا جائے گا اور گویا ان سے کہا جائے گا کہ لو اب اپنے انہی معبودوں سے کام لو جنہیں دنیا میں پوجتے رہے تھے۔ شرک اور مورتی پوجا میں تعلق بہت قدیم ، بہت وسیع اور بہت گہرا ہے دنیا کی تقریباً ہر مشرک قوم نے بت پرستی بھی ضرور کی ہے ظاہر ہے کہ اس سے ان کی آگ دوزخ مزید بھڑکے گی۔ قابل تفہیم بات یہ ہے کہ غیر اللہ کی پرستش کرنے والے بت پرست ہوں یا قبر پرست دراصل پرستش صاحب بت اور صاحب قبر ہی کی کرتے ہیں مجسمے یا تصویریں ، یا مزارات یا قبریں صرف ظاہر نشان کے طور پر استعمال ہوتی ہیں تاکہ صاحب قبر ، صاحب بت یا صاحب تصویر کا تصور آنکھوں کے سامنے رہے۔ فی نفسہ بت ، قبر یا تصویر کی کبھی کسی نے پرستش نہیں کی۔ فافھم فتدبر۔
اور اس آخرت کے نظارہ کا ایک رنگ دنیا میں بھی دکھا دیا جہاں ” نار “ جنگ کے قائم مقام ہے فرمایا : كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ 1ۙ ، انہیں جنگوں میں مخالفت کرنے والے بھی بھسم ہوگئے اور وہ معبودانِ باطل جن کے بھروسہ پر رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی جاتی تھی وہ بھی اس آگ کا ایندھن بن گئے۔
Ayah 2:25جنت اور وراثت جنت کا ذکر :
58: گزشتہ آیت میں منکرین اور ان کے انکار کا نتیجہ بیان کیا گیا تھا۔ ضروری تھا کہ اس کے بعد مؤمنین اور ان کے ایمان کے نتیجہ کو بھی بیان کیا جاتا چناچہ اس پوری آیت میں یہ بتایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اور اس قانون کو اپنی زندگی کا دستور العمل بنا لیا وہ جنت میں داخل ہوں گے اور اس طرح کہ گویا جنت ان کی وراثت تھی یعنی ان کا حق تھا سب سے پہلے ان کے اعمال صالحہ کی جزا اسی دنیا میں انہیں ملے گی۔ یعنی بہشت زا اراضی کے مالک وہ بنادیئے جائیں گے اور خلافت و نیابت الٰہی کے مستحق قرار پائیں گے یہ خیال بالکل غلط اور بےبنیاد ہے کہ نیک کاموں کا بدلہ دنیا میں نہیں ملتا۔ نہیں ، نہیں ! بلکہ اس کی اولین قسط اسی جگہ سے شروع ہوجاتی ہے۔ قرآن کریم خود دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے :
وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ 00139 ( آل عمران 3 : 139)
” اور دیکھو نہ تو ہمت ہارو ، نہ غمگین ہو ، تم ہی سب سے بلند ہو بشرطیکہ تم سچے مؤمن ہو۔ “
پھر حقیقی ثمرات و نتائج مرنے کے بعد ظہور پذیر ہوں گے جن کی وضاحت زیر نظر آیت اور قرآن کریم کی اس جیسی بیشمار آیات میں کی گئی ہے۔
جنت و دوزخ کی حقیقت :
قرآن کریم میں جگہ جگہ جنت کے انعامات اور دوزخ کے عذاب کا ذکر کیا گیا ہے اس آیت سے پہلی آیت میں بھی دوزخ کے عذاب کا ذکر گزرا اور اس آیت میں جنت کے انعامات کا ذکر ہے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جنت و دوزخ کی حقیقت کو ایک حد تک بیان کیا جائے تاکہ جب جنت کے انعامات کا ذکر ہو اور دوزخ کے عذاب کا بیان ، تو اس کی حقیقت خود بخود ذہن نشین ہوتی جائے۔
یاد رکھنے کی پہلی بات تو یہ ہے کہ دوزخ کے عذاب کا بیان ہو ، یا جنت کے انعامات کا ذکر۔ اس کو ماضی کے صیغوں میں بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ ان آیات میں بھی دوزخ کے متعلق بیان ہوا کہ ” اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ00131 “ یعنی دوزخ تیار کی گئی کافروں کے لئے ، جنت کے متعلق ذکر ہوا ” اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ00133 “ یعنی جنت تیار کی گئی ہے متقیوں کے لئے۔ یہ قرآن کریم کے بیان کا انداز ہے کہ جس چیز کو یقینی اور حتمی طور پر بیان کرنا مقصود ہو اس کو ہمیشہ ماضی کے صیغوں ہی میں بیان کرتا ہے۔ اس سے یہ سمجھنا کہ جنت و دوزخ موجود ہیں۔ پھر یہ بحث شروع کردینا کہ وہ کہاں ہیں ؟ آسمان پر یا زمین پر اور اسی طرح بحث سے ایک نئی بحث پیدا کرتے جانا بالکل فضول اور لغو ہے۔
یاد رکھنے کی دوسری بات یہ ہے کہ جب دوزخ کا بیان ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے۔ دوزخیوں کو کھانے کے لئے تھوہر دیا جائے گا پینے کے لئے پیپ اور کھولتا پانی۔ ان کی پیشانیاں اور پشتیں کا ویوں سے داغی جائیں گی۔ ان کو سانپ اور بچھو ڈسیں گے ان کی جلدیں جھلسی بلکہ پکائی جائیں گی لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر ان کے سرپھوڑے جائیں گے۔ ان کی زبانیں آگ کی قینچیوں سے کاٹی جائیں گی اس طرح بہت سی عذاب کی دردناک شکلیں اور صورتیں بیان کی جائیں گی۔
اور جنت کا ذکر ہوگا تو کہا جائے گا وہاں باغات ہوں گے۔ ان کے درمیان نہریں جاری ہوں گی۔ سنگ مرمر کے اور موتی کے جڑائو محل ہوں گے ، دودھ و شراب کی ندیاں بہہ رہی ہوں گی ، ہر قسم کے میوے کھانے کو موجود ہوں گے اور آرام و سکون کے لباس و مشروبات کا ذکر ہوگا اور بالآخر تسکین دل کے لئے بلوری جسم کی بیویاں ملیں گی۔
جنت یا بہشت کی ماہیت جو خود اللہ تعالیٰ نے بتائی ، وہ ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ :
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ 1ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 0017 (حم السجدہ 32 : 17)
” پھر جو کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزا میں ان کے لئے چھپا کر رکھا گیا ہے اس کی کسی نفس کو بھی خبر ہے ؟ “
پیغمبر اسلام ﷺ نے جو حقیقت بہشت کی بیان فرمائی وہ بخاری و مسلم نے ابوہریرہ ؓ کی سند سے اس طرح بیان کی۔
آپ ﷺ نے فرمایا :
قال اللہ تعالیٰ اعدت لعبادی الصالحین ما لا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر۔
” یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ چیز تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے۔ “
پس اگر حقیقت بہشت کی یہی باغ اور نہریں ، موتی اور چاندی سونے کی اینٹوں کے مکان اور دودھ و شرات اور شہد کی نہریں ، لذیذ میوے ، خوبصورت عورتیں اور بچے ہوں تو یہ صریحاً قرآن کریم کی آیت اور رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی تشریح کے خلاف ہے کیونکہ ان سب چیزوں کو تو ہر انسان جانتا ہے اگر فرض کیا جائے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ویسی عمدہ چیزیں نہ آنکھوں نے دیکھیں اور نہ کانوں نے سنیں تو بھی ” لا خطر علی قلب بشر “ سے تو خارج نہیں ہوسکتیں۔ عمدہ ہونا ایک اضافی صفت ہے اور جب ان سب چیزوں کا نمونہ دنیا میں موجود ہے تو اس کی اضافی صفت کو جہاں تک ترقی دیتے جائو انسان کے دل میں اس کا خیال یقیناً گزر سکتا ہے۔ جب کہ بہشت کی ایک ایسی حقیقت بیان ہوئی ہے کہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک نہیں گزر سکتا۔
انسان اپنی فطرت کے مطابق انہی چیزوں کو سمجھ سکتا ہے اور انہیں چیزوں کا خیال کرسکتا ہے یا اس کے دل میں گزر سکتا ہے جو اس نے دیکھی ، چھوئی ، چکھی ، سونگھی یا قوت سامعہ سے محسوس کی ہوں اور بہشت کی جو لذت یا راحت ہے ، اس کو نہ انسان نے دیکھا ہے ، نہ چھوا ہے ، نہ سونگھا ہے ، نہ قوت سامعہ کی حس سے اس کا کوئی تصور موجود ہے۔ پس فطرت انسانی کے مطابق کسی انسان کو اس کا بتلانا ناممکن ہے پس جو کچھ اس سلسلہ میں بیان ہوا ، اس کو صرف تشبیہ یا استعارہ ہی کہا جاسکتا ہے وہ بھی ان الفاظ میں جن کو بولنے کے سوا کوئی چارہ نہیں حالانکہ اس چیز کی ان الفاظ کے ساتھ بھی کوئی نسبت بیان نہیں کی جاسکتی۔
چونکہ تمام انسانوں کی خواہ وہ سرد ملک کے باشندے ہوں خواہ گرم ملک کے مکان کی آراستگی و خوبی ، باغ کی خوشنمائی ، بہتے پانی کی دلربائی ، میوں کی تروتازگی۔ سب کے دل پر ایک عجیب کیفیت پیدا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ حسن یعنی خوبصورتی سب سے زیادہ دل پر اثر کرنے والی ہے۔ خصوصاً جبکہ وہ انسان میں ہو ، اور اس سے بھی زیادہ جب کہ عورت میں ہو۔ پس بہشت کی قرۃ العین کو ان فطری راحتوں کی کیفیات کی تشبیہ میں اور دوزخ کے مصائب کو آگ میں چلنے ، لہو پیپ پلائے جانے اور تھوہر کھلائے جانے کی تمثیل میں بیان کیا ہے تاکہ ہر انسان کے دل میں خیال پیدا ہو کہ بڑی سے بڑی راحت و لذت یا سخت سے سخت عذاب وہاں موجود ہے اور درحقیقت جو لذت یا رنج و کلفت وہاں ہے ان کو اس سے کچھ بھی مناسبت نہیں۔
اَن دیکھی چیزوں کا بیان کیسے ممکن ہے ؟
اس امر کے ثبوت کے لئے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کا ان چیزوں کے بیان کرنے سے صرف اعلیٰ درجہ کی راحت کا بقدر فہم انسانی خیال پیدا کرنا مقصود تھا ، نہ واقعی ان چیزوں کا دوزخ و بہشت میں موجود ہونا۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے یہ حدیث ترمذی نے بریدہ سے روایت کی ہے اس میں بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ بہشت میں گھوڑا بھی ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو سرخ یا قوت کے گھوڑے پر سوار ہو کر جہاں چاہے گا اڑتا پھرے گا۔ پھر ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہاں اونٹ بھی ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ہے جو کچھ چاہو گے سب کچھ ہوگا۔
ظاہر ہے کہ اس جواب سے مقصود آپ ﷺ کا یہ نہیں کہ درحقیقت بہشت میں گھوڑے اور اونٹ موجود ہوں گے بلکہ صرف ان لوگوں کے خیال میں اعلیٰ درجہ کی راحت کے خیال کا پیدا کرنا ہے جو ان کے خیال اور ان کی عقل و فہم اور طبیعت کے مطابق اعلیٰ درجہ کی ہوسکتی تھیں اس مضمون کی جتنی احادیث ہیں ان سب کا مقصود ان اشیاء کا بعینہٖ بہشت میں موجود ہونا نہیں ہے بجز اس کے کہ جہاں تک انسان کی عقل و بصیرت کے مطابق وموافق اعلیٰ درجہ کی راحت کا خیال پیدا ہوسکے وہ پیدا ہو۔
پھر یاد رہے کہ ان دو طرح کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں ہے اس لئے کہ انبیائے ربانی کے مخاطبین میں ہر قسم کے لوگ موجود ہوتے تھے اور ان کو تمام کافہ انام کی تربیت کرنا ہوتی تھی جن کا بہت بڑا حصہ قریب کل کے محض ناتربیت یافتہ جاہل و حشی ، جنگلی اور بدوی ہوتا تھا اس لئے انبیاء کرام کی تعلیم اللہ نے اس طرح کی کہ ان حقائق و معارف کو جن کو تربیت یافتہ عقل بھی مناسب غور و فکر تامل سے سمجھ سکتی ہے ایسے الفاظ میں بیان کریں کہ تربیت یافتہ دماغ اور ناتربیت یافتہ دونوں برابر فائدہ اٹھائیں۔ قرآن کریم میں جو بےمثل چیز ہے وہ یہی ہے کہ اس کا طرز بیان ، ہر ایک مذاق اور دماغ کے موافق ہے باوجود دونوں قسم کے لوگوں کے اور درجات میں اس قدر اختلاف کے دونوں نتیجہ پانے میں برابر ہیں۔ انہیں آیات کی نسبت دو مختلف دماغوں کے خیالات پر غور کرو۔ ایک تربیت یافتہ دماغ خیال کرتا ہے کہ وعدہ وعید دوزخ و بہشت کے جن الفاظ سے بیان ہوئے ہیں ان سے بعینہٖ وہی اشیاء مقصود نہیں بلکہ اس کا بیان کرنا صرف اعلیٰ درجہ کی خوشی و راحت کو فہم انسانی کے لائق تشبیہ میں لانا ہے۔ اس خیال سے اس کے دل میں ایک بےانتہاء عمدگی نعیم جنت کی اور ایک ترغیب اوامر کے بجالانے اور نواہی سے بچنے کی پیدا ہوتی ہے اور ایک عام ذہنیت کا ملا ّ یا شہوت پرست زاہد یہ سمجھتا ہے کہ درحقیقت بہشت میں نہایت خوبصورت ان گنت حوریں ملیں گی۔ طرح طرح کے مشروبات پئیں گے۔ میوے کھائیں گے۔ دودھ و شہد کی ندیوں میں تیریں گے اور نہائیں گے اور جو دِل چاہے گا وہ مزے اڑائیں گے ۔ ان باتوں کا خیال کر کے دن رات اوامر کے بجالانے اور نواہی سے بچنے میں کوشش کرتا ہے اور جس نتیجہ پر پہلا پہنچا تھا اس پر یہ بھی پہنچ جاتا ہے اور اس طرح کافہ انام کی تربیت کا کام بخوبی تکمیل پاتا ہے پس جس شخص نے ان حقائق قرآنی پر جو فطرت انسانی کے مطابق ہیں غور نہیں کیا اس نے درحقیقت قرآن کریم کو مطلق نہیں سمجھا اور وہ اس نعمت عظمیٰ سے بالکل محروم رہا۔
یہ حقیقت جو اوپر بیان کی گئی ہے وہی ہے جو قرآن و حدیث سے ہم نے سمجھی ہے کوئی بات اپنے نفس سے نہیں بنائی گئی۔ بعض طبیعتیں اس سے ابیٰ کریں گی لیکن ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ قبل ازیں بھی علمائے اسلام یہ بیان کرتے آئے ہیں اگرچہ نسبتاً وہ کم ہی ہوں چناچہ تفسیر کشف الاسرار میں لکھا ہے کہ ” جنت ونار کی جو چیزیں بیان ہوئی ہیں وہ سب کی سب تمثیلیں ہیں نہ حقیقتیں تاکہ جو چیز ہمارے پاس ہے اس سے اس چیز کا جو ہم سے پوشیدہ ہے کچھ خیال پیدا ہو۔ “
مُتَشَابِهًا 1ؕ: یہ تشابہ کس سے ہوگا ؟ بعض نے کہا ہے کہ دنیا کی پھل پھلاریوں سے ، اور بعض کہتے ہیں کہ جنت ہی کے میوے ایک دوسرے کے مشابہ ہوں گے لیکن اگر دنیا کے پھلوں سے تشابہ مراد لی جائے تو یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ یہ مشابہت صرف صوری اور ظاہری ہی ہوگی ورنہ اصل لذت ، ذائقہ ، خوشبو وغیرہ کے لحاظ سے جنت اور دنیا کی نعمتوں میں ، چہ نسبت خاک رابعالم پاک ، کے مرادف ہے۔ ہاں ! شکل و صورت اور نام میں مشابہت ہو سکتی ہے مگر بعض علمائے اسلام نے مُتَشَابِهًا 1ؕ کی تفسیر میں ثمر سے مراد درختوں کے میوے نہیں لئے۔ علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لذت دنیا میں معرفت الٰہی اور اس کی اطاعت میں چکھی تھی تو جنت میں وہ لذت بڑھ کر ہوگی۔ اس لئے ان الفاظ سے کہ ” یہ وہی ہے جو ہم کو پہلے ملا تھا “ ثواب مراد ہے اور ” ایک ہی سی ہونے سے “ بزرگی اور علو مدارج میں ایک سا ہونا ہے۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کافروں کے حق میں کہا گیا ہے کہ چکھو جو تم عمل کرتے تھے یعنی : ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0055 (29 : 55)
انسانی زندگی کا آخری سکون :
59: اَزْوَاجٌ : جو زوج کی جمع ہے اس کے معنی ہیں ” جوڑے “ اور یہ لفظ شوہر اور بیوی دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جس طرح شوہر کے لئے بیوی زوج ہے بالکل اسی طرح بیوی کے لئے شوہر بھی زوج ہے۔ جنت کی پاکیزہ زندگی میں ان کا ذکر بھی پاکیزگی کی صفت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ بعض اوقات دنیوی زندگی میں اگر مرد نیک ہے تو عورت نیک نہیں ہوتی اور عورت نیک ہے تو مرد نیک نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہوجائے تو خواہش نفسی کے ازالہ کے سوا زندگی کا کوئی سکون اور کوئی لطف میسر نہیں آتا پھر جنت کی پاکیزہ زندگی میں خواہش نفسی نام کی کوئی شے ہوگی بھی کیوں ؟ اس لئے واضح فرمادیا کہ آخرت میں ایسے بےجوڑ جوڑوں کا رشتہ جب جڑ جائے گا تو وہ بےجوڑ نہیں رہیں گے اور اس طرح انسانی زندگی کا آخری سکون بھی اس کو میسر آئے گا اس لئے کہ جنت اور سکون لازم و ملزوم ہیں اور یہ وضاحت اس لئے فرمادی تاکہ تمہیں یہ نہ کہنا پڑے کہ : ؎
اب تو گھبرا کے کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
لیکن مر کر بھی چین نہ پایا تو پھر کدھر جائیں گے
استحقاق جنت کے اعمال بجا لائو سکون مل جائے گا۔ یہ بات یقینی ہے۔
انہی ازواج کے متعلق دوسری جگہ ارشاد ہوا : اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ 0070 (الزخرف 43 : 70) ” جنت میں داخل ہوجائو تم اور تمہارے ازواج ، وہاں تمہاری خوب خاطر مدارت ہوگی۔ “
دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا :
هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآىِٕكِ مُتَّكِـُٔوْنَ 0056 (یٰسین 36 : 56)
” وہ اور ان کے جوڑے سایوں میں ہوں گے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے۔ “
Ayah 2:26کچھ بن نہ آیا تو نکتہ چینی شروع کردی :
60: قرآن کریم میں اپنے اپنے موقع پر تذکرہ بڑی سے بڑی مخلوق کا بھی آیا ہے اور چھوٹی سے چھوٹی مخلوق کا بھی جانوروں میں ایک طرف ہاتھی ، اونٹ ، شیر کا بھی اور دوسری طرف چیونٹی ، مکھی اور مچھر کا بھی۔ اس تذکرہ پر بعض نافہموں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ دعویٰ تو کلام الٰہی ہونے کا اور مضمون اس کے ایسی حقیر چیزوں کے۔ ایسا کیوں کہا ؟ اس لئے کہ قرآن کریم کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکے جیسا کہ پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں اور ہار ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ غرور وسرکشی نے عجز و انکساری کے اظہار سے محروم رکھا جب کچھ نہ بن آیا تو نکتہ چینی شروع کردی۔ مثل ہے کہ
” ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا “
مکہ مکرمہ میں ایک حصہ قرآن کریم کا نازل ہوچکا تھا لیکن عوام الناس نے رب قدوس کو چھوڑ کر احبارو رہبان کو ” اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ “ کا درجہ دیا ہوا تھا۔ سب کے سب بت پرستی میں مبتلا تھے ان لوگوں کی جہالت و نادانی واضح کرنے کے لئے ارشاد الٰہی ہوا :
مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ کَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ 1ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا 1ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ 1ۘ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ 0041 (العنکبوت 29 : 41)
” ان لوگوں کی مثال جو اللہ کے سوا اور لوگوں سے ہمسری کرتے ہیں مکڑی کی سی ہے ، مکڑی گھر بنانے کو تو بناتی ہے مگر گھروں میں کمزور ترین گھر مکڑی کا ہی گھر ہے۔ کاش کہ ! یہ لوگ سمجھتے کہ مکڑی کا کمزور گھر بھی کتنا جان لیوا ہوتا ہے۔ “
دوسری جگہ ارشاد ہوا :
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ 1ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ 1ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْـًٔا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ۠ مِنْهُ 1ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ 0073 (الحج 22 : 73)
” اے لوگو ! ایک مثال سنائی جاتی ہے غور سے سنو ! اللہ کے سوا جن معبودوں کو تم پکارتے ہو انہوں نے تو ایک مکھی تک پیدا نہیں کی۔ اگر تمہارے یہ معبود اکھٹے ہو کر زور لگائیں جب بھی پیدا نہ کرسکیں اور پھر اگر ایک مکھی ان سے کچھ چھین لے جائے تو ان میں قدرت نہیں کہ وہ اس سے چھڑا لیں تو فکر کرو کہ طلبگار بھی یہاں درماندہ ہو اور مطلوب بھی ، یعنی مرید بھی عاجز ہیں اور پیر بھی۔ “
اس قسم کی آیات کریمات سن کر منافقین ، مشرکین اور معاندین سب نے مختلف قسم کے شبہات پیدا کر لئے اور انجام کارنکتہ چینی کی ایک راہ نکال لی کہ جس کتاب میں ایسی حقیر و ذلیل اور مکروہ چیزوں کا ذکر ہو وہ اللہ کی کتاب نہیں ہوسکتی۔ اس لئے کہ ان چیزوں کا نام لینا اخلاق و مروت کے قانون میں جرم و معصیت ہے کوئی تہذیب یافتہ انسان ان کا ذکر اپنی زبان پر نہ لائے گا۔ بس ! زیر نظر آیت میں ان کے اسی اعتراض کا جواب دیا جارہا ہے لیکن جن کو ضد وعناد ہے کیا وہ مان لیں گے ؟
ہر چیز کا حسن و قبح اس کے نتائج وثمرات سے تعلق رکھتا ہے درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ عاقبت کا رہی نیکی و بدی کا پتہ دیتی ہے۔ انما الاعمال بالخواتیم ، یعنی اعمال نتائج سے معلوم ہوجاتے ہیں۔ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ہر صاحب بصیرت کی نظر انجام پر ہوتی ہے مگر احمق اپنی جہالت و نادانی کی بنا پر ابتدائے کار ہی میں کٹ ہجتیاں شروع کردیتے ہیں۔
تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ بہتر سے بہتر زبان میں ، آسان سے آسان ترکیبوں اور جملوں کے ذریع لوگوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔ اگر فصاحت و بلاغت کا خیال ہو ، مشکل الفاظ ، غیر معروف ترکیبیں اور نامانوس طرز بیان اختیار کیا جائے ، فلسفہ و منطق کی مدد سے استدلال میں زور پیدا کیا جائے ، ہندسہ و نجوم کے لاینحل مسائل سے اوراق کتاب کو زینت دی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک مخصوص طبقہ تو شاید ان علمی تحقیقات سے فائدہ اٹھا سکے گا جس کی تعداد بہت ہی کم ہوگی۔ مگر بیشتر افراد علم کی برکات سے محروم محض رہیں گے۔ آج یورپ کے ماہرین فن تعلیم باوجود اس قدر علم و فضل کے اس اصول کو تسلیم کرچکے ہیں کہ سہل ترین زبان کے ذریعہ تعلیم دینا بےانتہا مفید و نفع بخش ہے چناچہ اس قائدہ کے تحت جدید مصنّفین جدید مصنفات کا ذخیرہ فراہم کر رہے ہیں۔
قرآن کریم نے چودہ سو سال پیشتر اس نظریہ کو اپنایا ۔ اس نے شرک و بت پرستی ، اصنام و طواغیت کی غلامی اور دجاجلہ و شیاطین کی کج نظری کو ایسا عام فہم مثالوں میں واضح کیا کہ سب کے سامنے ان کی حقیقت اصلیہ آگئی اور لاکھوں کڑوڑوں انسان راہ راست پر آگئے۔ اس نے تہذیب و شائستگی ، جہانگیری و جہانداری اور عمران اجتماع کے مسائل کو قصص و اخبار ماضیہ کو شکل میں پیش کیا کہ لوگ خود ان سے استنباط نتائج کرلیں۔
بلاشبہ ایسے امثلہ و نظائر جو ہزاروں انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کا باعث بن جائیں اس قابل ہیں کہ اس کا بار بار ذکر کیا جائے اور ان کے ذکر سے زبان کبھی نہ تھکے ۔ اللہ تعالیٰ کے پیش نظر انسانوں کی فلاح و کامرانی ہے پھر وہ کیوں نہ ان چیزوں کا ذکر کرے ۔ اس قسم کی مثالوں کے جہاں اور صدہا فوائد و منافع ہیں اس کا ایک یہ بین اور لازمی نتیجہ ضرور ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے قلوب غبار شک و اشتباہ سے گرد آلود نہ ہوئے ہوں وہ ان مثالوں کو سنتے ہی فوراً پکار اٹھتے ہیں کہ یہ تعلیم بیشک اللہ تعالیٰ کے جانب سے نازل شدہ ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔ کیوں ؟ اس لیے کہ ان کے دل تو پہلے ہی سے مؤمن تھے مگر اب تک انہیں اظہار کا موقع نہ ملا تھا۔ اب خود بخود ان کی زبان پر ایسے الفاظ جاری ہوگئے جن سے ان کا اسلام عالم آشکارا ہوگیا۔
ہاں ! جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے قلب سلیم کی جگہ زنگ آلودہ اور سیاہ دل رکھتے ہیں ۔ اعمال فاسقہ کی کثرت اور کفر و جہل کے غلبہ کی بنا پر ان کی ہدایت کی تمام راہیں بند ہوتی ہیں ، روشنی کی جگہ تاریکی ، حق کی جگہ باطل اور اسلام کی جگہ کفر کی فرمانروائی ہوتی ہے۔ جو بدبخت اپنے مصالح خصوصی کی بنا پر اپنے کفر و نفاق کو چھپائے پھرتے تھے اور مسلمانوں کے مجمعوں میں اسلام پرستی کا اظہار کرتے تھے ایسی مثالوں کے سنتے ہی کہتے ہیں کہ بھلا ان مثالوں کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان سے تو اور زیادہ لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا ہوگئی۔ وہ بظاہر اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کی منافقت و مخالفت اپنا ظہور کرتی ہے ۔ فرزندانِ اسلام ہوشیار رہیں اور ان کی چالبازیوں میں ہرگز نہ آئیں اور آئندہ کے لئے ان سے اجتناب و احتراز کریں۔
انداز ِگفتگو سے پوشیدہ راز کھل جاتے ہیں :
61: آیت زیر نظر سے یہ بات نہیں ظاہر ہوتی کہ اللہ لوگوں کو گمراہ کرتا ہے بلکہ اس کا مطب و مفہوم یہ ہے کہ اس قسم کی مثالوں سے بہت سے لوگوں کی گمراہی کا اظہار ہوجاتا ہے اور بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کی ہدایت واضح ہوجاتی ہے یعنی قانون الٰہی میں طے ہے کہ گمراہوں کے اعمال و اقوال کیسے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ جب رب قدوس نیکی اور طہارت کا سر چشمہ ہے تو وہ دوسروں کو کیسے گمراہ کرے گا اور کیوں کرے گا ؟ وہ ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے بندوں کے واسطے کفر و ضلالت کو پسند نہیں کرسکتا۔ وہ خود فرما چکا ہے کہ : وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ (الزمر 30 : 7) ” اللہ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا ۔ “ مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو مینارہ ہدایت بنایا ہے جو اس کی طرف آئے گا ہدایت پائے گا اور جو اس سے دور ہوگا گمراہ ہوجائے گا اور اندھیروں میں جا گرے گا۔ قرآن مجید میں یہ امثال بیان کی گئیں ہیں سعید لوگوں نے ان کو تسلیم کیا تو ان کی سعادت واضح ہوگئی ۔ شقی لوگوں نے ان میں میم میخ نکال کر اپنی شقاوت و بد بختی کا اظہار کردیا جس سے ان کی گمراہی کھل کے سامنے آگئی ۔ یہ امثال اگر بیان نہ ہوتیں تو ان لوگوں کی سعادت و شقاوت کیسے واضح ہوتی ؟
یُضِلُّ بِهٖ کَثِیْرًا 1ۙ : میں لفظ اضل کے معنی و مفہوم اس جگہ ” اضل “ کے لفظ کے معنی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئیں ۔ اضل کے ایک معنی تو بہکا دینا یا غلط راہ پر ڈال دینا ہیں مگر ان معنوں میں یہ لفظ اللہ کی طرف قرآن کریم میں منسوب نہیں کیا گیا بلکہ بار بار شیطان کو مضل کہا گیا ہے ۔ اب یہ تو ظاہر امر ہے کلام الٰہی میں اضلال کا فعل اللہ کی طرف اور شیطان رجیم کی طرف ایک ہی معنی میں منسوب نہیں ہو سکتا ۔ جب بہکانے یا غلط راہ پر ڈالنے کا فعل شیطان کی طرف منسوب کیا گیا تو وہی فعل اللہ کی طرف ہرگز ہرگز منسوب نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں قیامت کے دن غلط کار لوگ جو عذر پیش کریں گے وہ خود قرآن مجید میں انہی کی زبان سے اس طرح پیش کیا گیا ہے کے ہمارے سرداروں اور شیطانوں نے ہمیں دھوکہ دے کر غلط راہ پر ڈالا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے :
رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ (حم السجدہ 410 : 29)
وہ یہ عذر کبھی نہیں پیش کریں گے کہ ” اللہ تو نے ہمیں خود ہی غلط راہ پر ڈالا تھا۔ پس قطعی اور یقینی طرح پر معلوم ہوگیا کہ اضلال کا لفظ بہکانے یا غلط راہ پر ڈالنے کے معنی میں ہرگز ہرگز اللہ کی نسبت نہیں بولا گیا۔ بلکہ جن لوگوں نے بولا وہ بھی یہ نہیں کہتے یا سمجھتے۔ “
البتہ ” اضلال “ کے ایک دوسرے معنی بھی آئے ہیں یعنی جب کوئی شخص کسی شے کی وجہ سے خود ایک غلط راہ کو اختیار کرلے حالانکہ وہ شے اس کو غلط راہ پر ڈالنے والی نہیں ۔ جس کی مثال سیدنا نوح (علیہ السلام) کی وہ عرض جو انہوں نے بارگاہ ایزدی میں پیش کی ، سے مثال دی جاسکتی ہے فرمایا : فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا 006 اے اللہ ! ” میرے بلانے نے ان کو اور بھاگنے ہی میں بڑھایا ہے۔ “ حالانکہ بلانا فی نفسہٖ کوئی بھگانے والی شے نہیں۔ بلکہ بھگانے کے مفہوم کے بالکل خلاف اس کا مفہوم ہے۔ وہ بلاتے ہیں وہ بھاگتے ہیں۔ مگر پھر چونکہ وہ جس قدر بلاتے تھے اسی قدر وہ اور بھاگتے تھے ۔ اس لئے بھگانے کو اپنی دعا کی طرف منسوب کیا ۔ انہی معنوں میں یُضِلُّ بِهٖ کَثِیْرًا 1ۙ ہے کیونکہ خود ” وَّ یَهْدِیْ بِهٖ کَثِیْرًا 1ؕ“ کہہ کر یہ فرما دیا ہے کہ جس چیز کی وجہ سے وہ گمراہ ہوتے ہیں وہ تو اصل میں ان کی ہدایت کی چیز ہے اور اس کی غرض ہی ان کو راہ دکھانا ہے مگر یہ ایسے کم بخت ہیں کہ ہدایت کی چیز سے بھی گمراہ ہی ہوتے ہیں۔
” اضلال “ کے ایک اور معنی بھی عربی زبان میں ملتے ہیں اور وہ کسی شخص کو گمراہ پا کر اسے گمراہ قرار دینا ہے اس معنی کی مشہور مثال طرذ شاعر کا یہ شعر ہے۔
؎ وما زال شربی الراح حتی اضلنی ۔ صدیقی وحتی ساءنی بعض ذلکا
یہاں لفظ ” اضل “ صاف طور پر گمراہ قرار دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور قرآن کریم نے جہاں فعل اضلال کو اللہ کی طرف منسوب فرمایا ہے وہاں صاف یہ پایا جاتا ہے جیسے زیر نظر آیت مبارکہ میں ہے ۔ چناچہ فرمایا : وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ0026 یعنی اللہ کا اضلال تو اسی کے لئے ہے جو پہلے ہی فاسق ہوچکا۔ معلوم ہوا کہ جو پہلے ہی فاسق ہے گمراہ تو وہ ہوچکا اب اس کو اور کیا گمراہ کرنا تھا۔ پس معلوم ہوا کہ یہاں ” اضل “ کے معنی گمراہ قرار دینے یا گمراہی کا فتویٰ صادر کرنے یا گمراہی کا نتیجہ سزا دینے کے ہیں۔ اس مضمون کو الاعراف میں نہایت صفائی سے بیان فرما دیا گیا چناچہ ارشاد ہوتا ہے :
فَرِیْقًا ہَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ 1ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ (الاعراف 7 : 30)
تمہارے دو گروہ ہوگئے ایک گروہ نے راہ پائی۔ دوسرے گروہ پر گمراہی ثابت ہوگئی ان لوگوں نے یعنی دوسرے گروہ نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنا لیا۔ یعنی مفسدوں اور شریروں کی تقلید کی۔
اس مضمون کے موید بھی بہت سی آیت قرآن کریم کی ہیں فرمایا : یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ (المؤمن 40 : 34)
اطاعت گزار فاسق نہیں ہوتا :
62: فسق کہتے ہیں احکام سے تجاوز کر جانے کو اور فاسق وہ ہے جو دائرہ اطاعت سے بار بار نکل جائے اور اطاعت الٰہیہ سے نکل جانا۔ کفر و انکار کے ذریعے بھی ہوتا ہے اور عملی نافرمانی کے ذریعہ بھی ، اس لئے لفظ فاسق کافر کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں بیشتر لفظ ْفٰسِقِیْنَ کافروں ہی کیلئے استعمال ہوا ہے اور مؤمن گنہگاروں کو بھی فٰسِقِیْنَ کہا جاتا ہے ۔ اظہار اسلام کے بعد فسق کرنا منافقت کی نشانی ہے۔
Ayah 2:27فاسق کون ہے ؟ :
63: وہی لوگ جو عہد کر کے اسے توڑ ڈالتے ہیں خصوصاً وہ لوگ جو احکام الٰہی کی اطاعت کا عہد کر کے پھر اسے توڑ دیں اور جن کاموں کے کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اس سے قولی یا عملی انحراف کریں۔ عہد اس صورت معاملہ اور معاہدے کو کہا جاتا ہے جو دو شخصوں کے درمیان طے ہوجائیں ۔ میثاق ایسے معاہدے کو کہتے ہیں جو قسم کے ساتھ مضبوط و مستحکم کیا جائے ۔ اس آیت نے گویا پہلی آیت کی تشریح کردی اور بتا دیا کہ قرآن کریم ان مثالوں سے جن پر مشرکین و منافقین نے اعتراض کیا ہے صرف وہی لوگ گمراہ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری سے سرکشی کرتے ہیں جس کی دو وجوہ ہیں۔
پہلی یہ کہ ایسا کرنے والے اس ازلی وعدے کو توڑ ڈالتے ہیں جو تمام انسانوں نے اپنے رب سے باندھا تھا ، اور ایجاب و قبول سے وہ موثق ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ یہ عہد قولی نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ کی ذات لفظوں کے بولنے اور آواز نکالنے سے جو انسان سے متعلق ہے بغیر واسطہ کی بری ہے۔ پس اللہ کا قول انسانی فطرت ہے جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا اس قدرت کی نشانیاں جو دنیا میں اور خود انسان میں ہیں اور جو عقل وتمیز انسان میں بالواسطہ ان کے سمجھنے کی موجود ہے اس کے اللہ ہونے پر موثق عہد ہے جس کا دونوں طرف سے ایجاب و قبول ہوا ہے خود انسان کی فطرت اور قوائے محرک اور قوت مانع یا معتدل کرنے والی ان قویٰ کی اس میں رکھی ہے وہ ٹھیک اس کے دین یا شریعت کے بجالانے کا عین فطرت ہے جو پکا عہد ہے پس جو لوگ اس عہد کو توڑتے ہیں وہی بدکار ہیں اور وہی ان مثالوں سے گمراہ ہوتے ہیں ۔ اس فطری عہد کا ذکر انسانی تفہیم کے لئے اس طرح قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ جب تمام انسانوں کی اس عالم کی پیدائش سے پہلے رب کریم نے تمام پیدا ہونے والے انسانوں کی فطرتوں کو جمع کرکے ایک سوال فرمایا تھا کہ : اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 1ؕ: یعنی کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ اس پر سب انسانی فطرتوں نے بیک زبان ہو کر کہا تھا : ” بَلٰى“ یعنی آپ رب کیوں نہ ہوئے ؟ جس میں بڑی تاکید کے ساتھ اس کا اقرار ہے کہ اللہ جل شانہ ہمارا رب و پروردگار ہے اور اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے سرمو تجاوز نہ کریں۔ اس لئے یہ عہد ازلی انسان اور اللہ کے درمیان ہوچکا ہے جو فطرت انسانی میں موجود ہے ، اب دنیا میں پیدا ہونے کے بعد تمام انبیاء (علیہ السلام) اور آسمانی کتابیں اس عہد کی تجدید ، یاد دہانی اور اس پر عمل کی تفصیلات بتانے کے لئے آئے تھے جس نے اس فطری معاہدے ہی کو توڑ ڈالا اس سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی پیغمبر یا آسمانی کتاب سے فائدہ اٹھائے ؟
دوسری وجہ یہ بتائی کہ ان لوگوں نے ان تمام تعلقات کو قطع کر ڈالا ہے جن کے جوڑے رکھنے یعنی ملائے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا تھا۔ ان تعلقات میں وہ تعلق بھی ہے جو بندہ اور اللہ کے درمیان ہے اور وہ تعلق بھی جو انسان کو اپنے ماں باپ اور دوسرے عزیزوں سے ہے اور وہ تعلق بھی جو ایک انسان کو اپنے پڑوسی اور دوسرے شرکاء کار کے ساتھ ہے اور وہ تعلق بھی جو عام مسلمانوں اور عام انسانوں کے ساتھ ہے ان تمام تعلقات کے پورے کرنے ہی کا نام اسلام ہے یا شریعت اسلام ہے اور انہی میں کوتاہی کرنے سے ساری زمین میں فساد برپا ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اس جملہ کے بعد فرمایا : یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ : یعنی یہ لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں اور آیت کے آخر میں ان کے انجام بد کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں ۔
Ayah 2:28اللہ کے انکار کا مطلب رسول کی رسالت کا انکار ہے :
64: مخاطب وہی لوگ ہیں جو عہد تو ڑنے والے اور فساد فی الارض کرنے والے ہیں۔ ان لوگوں نے اگرچہ بظاہر اللہ کا انکار نہیں کیا مگر یہ تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا یا تو اقرار ہی نہیں کیا اور اگر اقرار کیا تو بھی سچے دل سے اقرار کرنے والے نہ تھے یہی وجہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا انکار کرنے والوں کو اللہ ہی کا انکار کرنے والے قرار دیا اور پھر مخاطب فرما کر پوچھا کہ تم اللہ کا کیسے انکار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تم کو زندہ کیا یعنی پیدا کیا۔
تم مردہ تھے یعنی تمہارا وجود موجود نہ تھا۔ اگر انسان اوّل کے لحاظ سے وجود موجود نہ تھا تو مطلب یہ ہو انسان کے وجود کی ابتداء بےجان ذرّات ہیں جو کچھ منجمد چیزوں کی شکل میں کچھ مائع یعنی بہنے والی چیزوں میں کچھ غذاؤں کی صورت میں تمام دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان بےجان ذرّات کو کہاں کہاں سے جمع فرمایا پھر اپنے قانون کے مطابق ان میں جان ڈالی اور زندہ و تابندہ انسان بنادیا۔ یہ اس کی ابتدائی پیدائش کا ذکر ہے۔
موت کی دوسری صورت ہر انسان کے ساتھ ملحق ہے یعنی ہر انسان اس سے دوچار ہوتا ہے جس کو قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا کہ : ہَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْـًٔا مَّذْكُوْرًا 001 (الدھر : 1) ” اس بات میں کوئی شق و شبہ نہیں کہ زمانے میں انسان پر ایک ایسا وقت بھی گزر چکا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا۔ “
اس لحاظ سے ہر ایک انسان پر ایسا وقت گزرتا ہے کہ وہ کوئی شی مذکور یعنی قابل ذکر چیز بلحاظ شکل و صورت موجود نہیں ہوتا۔ پھر قانون الٰہی کے مطابق وہ کئی ادوار میں سے گزرتا ہوا بالآخر انسان کی صورت سے وجود میں آجاتا ہے پھر پیدائش کے دونوں طریقوں کے لحاظ سے یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ اس کا خلق کرنے والا یعنی پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے کوئی اور نہیں خواہ اس کی تخلیق اول ہو یا تکوینی قانون الٰہی کے مطابق تخلیق دوم اور تخلیق دوم سے مراد نطفہ امشاج سے تخلیق کرنا ہے یعنی ماں باپ سے بچے کا پیدا ہونا۔
زندگی و موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے :
65: پھر وہی ہے جو حیات کے بعد موت طاری کرتا ہے یعنی جس نے پہلی مرتبہ تمہارے بےجان ذرّات کو جمع کر کے ان میں جان پیدا کی وہ اس عالم یعنی عالم دنیا میں بھی تمہاری عمر کا مقررہ وقت پورا ہونے کے بعد پھر تمہیں موت دے گا اور پھر ایک عرصہ کے بعد یعنی قیامت میں اس طرح تمہارے جسم کے بےجان اور منتشر ذرّات کو حیات عطا فرمائے گا یعنی زندہ کرے گا۔ اس طرح ایک موت یعنی بےجان ہونا تمہاری ابتداء میں تھا پھر اللہ نے تمہیں زندہ کیا دوسری موت دنیا کی پوری عمر ہونے کے وقت اور دوسری زندگی یعنی حیات قیامت کے روز ہوگی۔ مختصر یہ کہ اس آیت میں دنیا کی زندگی اور موت کے بعد صرف ایک حیات کا ذکر ہے جو قیامت کے روز ہونے والی ہے جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے علاوہ موت وحیات کے الفاظ جہاں کہیں بھی بولے جائیں گے وہاں حقیقی موت یا حقیقی حیات نہیں ہوگی بلکہ ہر اس جگہ جو اس موت وحیات کے علاوہ یہ الفاظ استعمال ہوں ان کا مفہوم موت وحیات کا مفہوم ثانی ہی مراد لیا جاسکتا ہے جس کو سکنڈری معانی کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور وہ موت شکست یا کفر کی موت ہوگی اور وہ حیات فتح و اسلام کی حیات ماننا پڑے گی۔ کہیں موت سے نیند اور حیات سے بیداری بھی مراد ہوسکتی ہے اور سیاق کلام خود معانی متعین کر دے گا۔
قبر یعنی برزخ کی زندگی جس کے ذریعہ قبر کے سوال و جواب اور قبر یعنی برزخ میں ثواب و عذاب ہونا جو قرآن کریم کی بعض آیات سے استدلالاً اور صحیح احادیث سے ثابت ہے اس کا اس جگہ ذکر نہیں۔ کیوں ؟
اس لئے کہ برزخی زندگی اس طرح کی زندگی نہیں ہے جو انسان کو دنیا میں حاصل ہے یا آخرت میں پھر ہوگی۔ بلکہ یہ ایک درمیانی صورت مثل خواب کی زندگی کے ہے اس کو دنیا کا تکملہ بھی کہا جاسکتا ہے اور آخرت کی زندگی کا مقدمہ بھی۔ کیونکہ یہ کوئی مستقل زندگی نہیں ہے جس کا جداگانہ ذکر کیا جائے۔ یہ ایک خیالی چیز ہے اور خیالی وجود تسلیم شدہ ہے۔
حشر اجساد انسانی کا مسئلہ :
66: ” بالآخر تم سب کو اس کے حضور لوٹنا ہے “ اس سے مراد حشر و نشر اور قیامت کا وقت ہے۔ قرآن کریم کی اس طرح کی عبارات سے انسان کا مکلف ہونا ثابت ہے اور اپنے کئے کا جواب دہ ہونا لازم آتا ہے۔ جو اسلامی عقائد سے آخری عقیدہ ہے۔
مجموعی طور پر اس آیت میں اللہ نے اپنے اس انعام و احسان کا ذکر کیا ہے جو ہر انسان کی اپنی ذات سے متعلق ہے اور جو سارے انعامات و احسانات کا مدار ہے یعنی زندگی ، دنیا و آخرت اور زمین و آسمان کی جتنی نعمتیں انسان کو حاصل ہیں وہ سب اسی زندگی پر موقوف ہیں۔ زندگی نہ ہو تو کسی نعمت سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ زندگی کا نعمت ہونا ظاہر ہے مگر اس آیت میں موت کو بھی نعمتوں میں شمار اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ دنیا کی موت دروازہ ہے اس دائمی زندگی کا جس کے بعد موت نہیں اس لحاظ سے موت بھی ایک نعمت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر دنیوی زندگی کے ساتھ موت نہ ہوتی تودنیوی زندگی کی ساری نعمتیں بھی بیکار ہوجاتیں۔
Ayah 2:29تخلیق کائنات صرف اور صرف انسان کی خاطر ہے :
67: خطاب عام نوع انسانی کو ہے کہا یہ جارہا ہے کہ تم خودہی ساری کائنات ارضی کے مقصود ومطاع ہو۔ پھر یہ کیسی حماقت ہوگی کہ تم کسی اور مخلوق کو مقصود ومطاع بنالو ؟ یعنی اس آیت نے ہر قسم کے شرک ، ہر قسم کی مخلوق پرستی کی جڑ ہی کاٹ دی۔ فرمایا اس دھرتی پر ، اس فرش و زمین پر جو کچھ بھی ہے سب انسان ہی کے لئے ہے۔ یعنی مخلوق سب اللہ کی۔ خالق پوری کائنات کا صرف اور صرف ایک اللہ ! اللہ کی تخلیق میں سے تخلیق کو خود اس تخلیق کے لئے بھی نہیں تخلیق کیا گیا۔ بلکہ جو کچھ ہے وہ سب کا سب انسان کی خاطر ہے ایسا ہرگز نہیں کہ انسان کسی اور مخلوق کے لئے ہو ، اور مشرک انسان اس قدرتی اور فطری ترتیب کو الٹ دیتا ہے۔ حدیث رسول ﷺ کا یہ ٹکڑا جو انسان اور خصوصاً ہر خطیب اسلام کی زبان پر جاری ہوچکا ہے کہ : (ان الدنیا خلقت لکم و انکم خلقتم للاخرۃ) دنیا تمہارے لئے پیدا کی گئی ہے اور تم آخرت کے لئے پیدا کئے گئے ہو ، گویا اسی مفہوم کی ترجمان ہے اور خلیفۃ اللہ کی ٹھیک یہی شان ہونا چاہیے کہ سب کچھ اس کے لئے ہو اور وہ خود صرف اور صرف اللہ کے لئے ہوجائے وہ جس چیز کو جس طرح قانون فطری کے مطابق چاہے استعمال میں لائے اور کوئی چیز اس کے حکم کے سامنے سرتابی نہ کرسکے اور وہ اس کا جوابدہ صرف اور صرف اپنے مالک و خالق کے سامنے ہو۔ مرتبہ انسانی کا یہ شرف و احترام دین اسلام ہی کا قائم کیا ہوا ہے۔ پھر لفظجَمِیْعًا 1ۙ پر دوبارہ غور کرو۔ رب ذولجلال والاکرام نے اس ایک لفظ میں ” سب کچھ “ کس انداز میں شامل فرمادیا کہ گنگامائی بھی شامل ہے تو ننگاپربت بھی۔ گئو ماتا بھی اور ہنومان جی بھی۔ حجر پرستی بھی اور شجر پرستی بھی ، دریا پرستی بھی اور کوہ پرستی بھی ، قبر پرستی بھی اور صنم پرستی بھی ، ناگ پرستی بھی اور مظاہر پرستی بھی۔ یعنی یہ جتنی بھی صورتیں ہیں سب بےمعنی اور ننگ انسانیت ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مشرک انسان دائرہ انسانیت ہی سے خارج ہوجاتا ہے کیونکہ شرک منصب انسانیت کے خلاف ہے۔ انسان تو بڑی دور کی بات ہے اور کسی انسان کا صرف کاغذی مسلمان کہلانا اللہ کے نزدیک ” مسلمان “ ہونا نہیں ہے فافھم یا اخی فتدبر۔
آسمان کیا ہیں ؟
68: سماء واحد اور جمع دونوں طرح آتا ہے اس جگہ لفظ واحد ہے لیکن معنی جمع ہے یعنی جنس سماء کے معنی میں بلکہ یہ بات خود اس آیت سے ثابت ہے کہ ھن کی ضمیر جمع کی ہے۔ یہ لفظ ہر اوپر کی چیز پر بولا جاتا ہے۔ کل سماء بالاضافۃ الی ما دونھا فسماء وبالا ضافۃ الی مافوقھا فارض۔ (راغب)
یعنی ہر ایک سماء اپنے سے نیچے والے کی نسبت سے سماء ہے اور اپنے سے اوپر والے کی نسبت سے الارض یعنی زمین اور دوسری جگہ ارشاد ہے : وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ 1ؕ یعنی زمین بھی ان کی طرح ہے یعنی سات۔ نیز قرآن کریم میں سَبْعَ طَرَآىِٕقَ 1ۖۗ یعنی سات راستے بھی فرمایا گیا ہے اور سورة دخان میں سماء کو دخان بھی کہا ہے۔ غور و فکر سے اس بیان کا اختلاف ختم ہو کر حقیقت ایک رہ جاتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح انسانی تخلیق کے لئے مختلف الفاظ استعمال کر کے اس کی ترکیبی شکل و صورت کی وضاحت کردی ہے۔ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ 1ؕ سے مراد نظام شمسی کے سات اول درجے کے سیارے ہوں۔ ہوسکتا ہے۔ یعنی کرۃ قمر ، کرہ عطارہ ، کرہ زہرہ ، کرہ شمس ، کرہ مریخ ، کرہ مشتری اور کرہ زحل اور کبھی فضا میں ان کے راستوں پر یہ لفظ بول دیا گیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ستاروں کے سات طبقے مراد ہوں جو کھلی آنکھ سے نظر آتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سات سے مراد تعین اعداد نہ ہو بلکہ وسعت عدد مراد ہو۔ کیونکہ ” سبع سبعین وسبع مائۃ “ عربی زبان میں کثرت کے ظاہر کرنے کے لئے بولے جاتے ہیں چناچہ سورة توبہ میں جہاں تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً ، آیا ہے وہاں مفسرین نے کثرت ہی مراد لی ہے گنتی مراد نہیں لی : ” لا من باب حصر العدد “ یعنی یہاں گنتی مراد نہیں ہے اور لسان العرب میں ہے : قد تکور ذکر السبعۃ والسبع والسبعین والسبع مائۃ فی القران وفی الحدیث۔ والعرب تضعہا موضع التضعیف والتکثیر کقولہ تعالیٰ کمثل جنۃ انبتت سبع سنابل ۔ یعنی سات ، ستّر اور سات سو کا ذکر قرآن و حدیث میں بار بار آیا ہے اور عرب لوگ اس کو زیادتی اور کثرت کے اظہار کے لئے بولتے ہیں جیسے ارشاد الٰہی ہے : کَمَثَلِ حَبَّةٍ ، یعنی مثل اس دانے کی جس سے سات بالیں پیدا ہوتی ہیں اور ہر بالی میں سو دانہ کا ذکر آتا ہے اور آسمانوں کی تعداد میں سات ہونا تورات و انجیل کی زبان سے بھی ثابت ہے۔
(ڈکشنری آف دی بائبل ج 2 ص 322)
ربّ ہی اصل مربی ہے :
وہ علیم ہے یعنی اپنے بندوں کی ساری ضرورتوں کا بھی اس کو علم ہے اور اس نے اپنے بندوں کو محض پیدا ہی نہیں کیا بلکہ ازراہ بندہ پروری اس نے ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کا بھی بندوبست کردیا ہوا ہے بندوں کو لازم ہے کہ وہ اپنی حاجات صرف اور صرف اسی کے سامنے پیش کریں کیونکر آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے و الا اور جو کچھ ان کے اندر ہے سب کا پیدا کرنے والا وہ ایک ہی ہے اور وہی ہے جو اس پورے نظام کا چلانے والا ہے۔