Ayah 2:116اللہ کی اولاد بنانے والوں کا اصل موقف کیا ہے ؟
217: کوئی قوم جب کوئی نظریہ قائم کر کے اپنے عقائد میں داخل کرلیتی ہے وہ اس کو چھوڑنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوتی۔ اس نظریہ کی غلطی ثابت کرو تو وہ غلط ثابت کرنے والوں کو ہزار بار غلط کہیں گے۔ مرنے مارنے پر تل جائیں گے لیکن اپنے نظریہ پر نظر ثانی کرنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوں گے۔ دیکھو یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہا تو عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا تسلیم کرلیا۔ ان کی دیکھا دیکھی مشرکین مکہ نے ملائکہ کو اللہ کی لڑکیاں قرار دے دیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ان تمام تعلقات اور قیود سے پاک ہے اور زمین و آسمان کی ہرچیز اس کی مملوک ہے ۔
بنی اسرائیل نے اپنے علماء و مشائخ کے لئے ابن اللہ کا لفظ استعمال کیا تھا لیکن ان کے ہاں جب یہ عقیدہ گھڑا گیا تو اس کے معنی ” محبوب الٰہی “ کے ہونے لگے مگر جب عیسائیوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تعلیم کے خلاف یونانیوں کو اپنے مذہب کی جانب بلانے کی کوشش کی تو ان کے عقول عشرہ کے مسئلہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور یونانیوں کو اپنے مذہب کی طرف مائل کرنے کیلئے عقل اول کی روح ان میں حلول کرگئی ہے ، کا عقیدہ بنا لیا۔ اس لئے اگر پہلے احبار یہود مجازی طور پر ابناء اللہ کہے جاتے تھے تو عیسیٰ (علیہ السلام) حقیقی معنی کے اعتبار سے ابن اللہ بنا دیئے گئے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ان سب قوموں کو اللہ کی اولاد قرار دینے کی کیا ضرورت پڑی ؟ اس کی اصل وجہ جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر رسول و نبی کے ذریعہ قوموں کو ایمان باللہ اور عمل صالح کی طرف دعوت دی لیکن متضاد قوتوں کے اس مجموعے یعنی انسان نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ اللہ پر ایمان لانے کے لئے اللہ کو دیکھیں کہ وہ کیسا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ دکھائی دینے والی کوئی چیز نہیں ہے تو پھر انہوں نے اللہ کو پانے کے لئے کوئی جسم تلاش کیا خواہ وہ انسان کا ہو یا کسی حیوان کا یا درخت کا ، مطلب یہ ہے کہ کوئی دیکھی جانے والی چیز ضرور ہو۔ اس نظریہ نے ترقی کی تو اس کی کئی شکلیں بنا لی گئیں جن کی تشریح اپنے مقام پر آئے گی۔ مختصر یہ کہ ان ہی نظریوں میں سے ایک نظریہ اولاد کا بھی ہے کیونکہ انسان نے جب دیکھا انسان خواہ کوئی ہو۔ وہ اپنی اولاد کی طرف ضرور جھک پڑتا ہے لہٰذا انہوں نے اپنی قومی و مذہبی شخصیتوں کو اللہ کی اولاد تصور کرلیا کیونکہ وہ اعمال صالح بجا لانے سے قاصر تھے اور جنت کو بھی ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے تھے انہوں نے اپنے تصور میں کسی نہ کسی کو اللہ کا بیٹا تصور کر کے اپنا سفارشی ، نجات دہندہ بنا لیا اور آہستہ آہستہ ذہن میں یہ بات پختہ کرلی کہ جس طرح بیٹا ضد کر کے باپ سے منوا لیتا ہے ہمارے سفارشی بھی ، جن کو ہم نے اللہ کے بیٹے اور محبوب تصور کرلیا ہے اللہ سے ہماری سفارش کر کے ہمارے گناہوں کو بخشوا لیں گے اور ہمیں جنت مل جائے گی ۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب سب نے اس طرح کے عقیدے گھڑے تھے جن کی وضاحت قرآنی صفحات میں موجود ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ جن لوگوں پر قرآن کریم جیسی بین و روشن کتاب نازل کی گئی انہوں نے بھی ان اقوام کی پیروی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ آج مسلم قوم بھی انہیں آرزوئوں اور خواہشوں پر انحصار کرتے ہوئے بےراہ رو ہوچکی ہے اور دن بدن اسی اندھے کنوئیں میں گرتی جارہی ہے ہمارے ہاں ابن یا ولد و اولاد کے الفاظ اللہ کی نسبت نہیں بولے گئے ان کی جگہ نئے الفاظ نے لے لی۔ اہل اللہ ، اولیاء اللہ ، ولی اللہ ، حبیب اللہ ، مختار کل جیسے الفاظ کے ساتھ وہی نظریات و عقائد وابستہ کردیئے جو یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب نے ابن اللہ ، ولد اللہ ، اتخاذ ولد کے ساتھ وابستہ کئے ہوئے تھے۔
حالانکہ قرآن کریم پکار پکار کر کہتا ہے کہ :
” نیز ان لوگوں کو متنبہ کر دے جنہوں نے کہا اللہ بھی اولاد رکھتا ہے۔ اس بارے میں انہیں کوئی علم نہیں نہ ان کے باپ دادوں کے پاس کوئی علم تھا کیسی سخت بات ہے جو ان کی زبانوں سے نکلتی ہے (اللہ کی اولاد قرار دے کر) یہ کچھ نہیں کہتے مگر سرتاسر جھوٹ۔ “ (الکہف 18 : 4 ، 5)
” وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو ، جبکہ کوئی اس کی بیوی نہیں ، اس نے تمام چیزیں پیدا کیں اور وہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔ “ (الانعام 6 : 101)
” اور ان لوگوں نے اللہ کے ساتھ جنوں کو شریک ٹھہرا لیا ہے حالانکہ انہیں بھی اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور انہوں نے بغیر علم کی کسی روشنی کے اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں بھی تراش لی ہیں اللہ کی پاکیزگی ہو اس کی ذات تو ان تمام باتوں سے پاک اور بلند ہے جو یہ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں۔ “ (الانعام 6 : 100)
ذرا غور کرو کہ مشرکین عرب کے مشرکانہ عقائد کو کس طرح روکا ہے۔ یہ لوگ جنوں کی نسبت طرح طرح کے تو ہم پر ستانہ خیالات رکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ جس انسان کو چاہیں مافوق الفطرت طریقہ پر نقصان پہنچا دیں ۔ جسے چاہیں عجیب عجیب طاقتیں دے دیں نیز ان کا خیال تھا کہ پاک روحیں یعنی فرشتے اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں اور وہ کارخانہ عالم میں طرح طرح کے تصرفات کرسکتے ہیں ۔ پھر غور کرو کہ کیا آج مسلمان بھی ان نظریات کے حامل نظر نہیں آتے جو مشرکین مکہ کے تھے ؟
” تم کہہ دو اگر اللہ کے ساتھ بہت سے معبود ہوتے جیسا کہ وہ کہتے ہیں تو اس صورت میں ضروری تھا کہ فوراً صاحب تخت ہستی تک راہ نکال لیتے۔ ان ساری باتوں سے اس کی ذات پاک اور بلند ہے ، بیحد بلند۔ “ (بنی اسرائیل 17 : 42 ، 43)
” آسمانوں میں جو کوئی ہے اور زمین میں جو کوئی ہے سب اس کے لیے ہے ، جو اس کے حضور ہیں وہ کبھی گھمنڈ میں آ کر اس کی بندگی سے سرتابی نہیں کرتے ، نہ کبھی تھکتے ہیں۔ وہ رات دن اس کی پاکیزگی کے ترانوں کے تسبیح خواں ہیں ، وہ کبھی تھمتے نہیں۔ (ذرا غور کرو کہ) کیا ان لوگوں نے زمین سے ایسے معبود بنا لیے ہیں جو مردوں کو زندہ کردیتے ہیں ؟ اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی ہوتا تو یقینا وہ بگڑ کر برباد ہوجاتے پس اللہ کے لیے کہ وہ تخت کا مالک ہے پاکیزگی ہو ، ان ساری باتوں سے پاکیزگی جو یہ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں۔ “
(الانبیاء 21 : 19 ، 23)
” نہ تو اللہ نے کسی ہستی کو اپنا بیٹا بنایا ہے ، نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہو سکتا ہے اگر ہوتا تو ہر معبود اپنی ہی مخلوق کی فکر میں رہتا اور ایک معبود دوسرے معبود پر چڑھ دوڑتا ، اللہ کی ذات ان باتوں سے پاک ہے جو یہ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں۔ “ (المؤمنون 23 : 91)
” اگر اللہ کسی کو اولاد بنانا چاہتا تو جس کو چاہتا مخلوق میں سے چن لیتا وہ (ایسے تمام تصورات سے) پاک ہے ، وہ اللہ ایک ہے (وہ) غلبہ والا ہے۔ “ (الزمر 39 : 4)
” اور ان لوگوں نے کہا کہ خدائے رحمٰن نے اپنا ایک بیٹا بنا رکھا ہے۔ بڑی ہی سخت بات ہے جو تم گھڑ لائے ہو۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں ، زمین کا سینہ چاک ہوجائے ، پہاڑ جنبش کھا کر گر پڑیں۔ لوگ اللہ کے لیے بیٹا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اللہ کی یہ شان کب ہو سکتی ہے کہ اپنے لیے ایک بیٹا بنائے۔ آسمان اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ اس لیے ہے کہ اس کے آگے بندگی کا سر جھکائے حاضر ہو۔ اس نے انہیں گھیر رکھا ہے اور ایک ایک کی ہستی گن رکھی ہے۔ قیامت کے دن سب اس کے حضور تن تنہا آ کھڑے ہوں گے۔ “ (مریم 19 : 88 تا 95)
” اور انہوں نے کہا خدائے رحمٰن نے اپنے لیے اولاد بنائی ہے پاکیزگی ہو اس کے لیے بلکہ وہ تو اس کے معزز بندے ہیں۔ وہ اس (یعنی اللہ تعالیٰ ) کے آگے بڑھ کر بات نہیں کرسکتے ، وہ اس کے حکم پر سر تاسر کاربند رہتے ہیں۔ “ (الانبیاء 21 : 26 تا 27)
سورئہ بقرہ کی اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری کی ایک قدسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ : ” مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اسے یہ لائق نہیں تھا۔ مجھے وہ گالیاں دیتا ہے اسے ایسا زیب نہیں دیتا تھا اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ خیال کر بیٹھتا ہے کہ میں اسے مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوں ۔ اور اس کا گالیاں دینا یہ ہے کہ وہ میری اولاد بناتا ہے۔ حالانکہ میں اولاد سے پاک ہوں اور بلند وبالا ہوں اس سے کہ میری اولاد اور بیوی ہو۔ “
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بری باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ سے زیادہ کوئی نہیں ہے۔ لوگ اسکی اولاد بتائیں اور وہ انہیں رزق و عافیت دے۔ پھر فرمایا ہرچیز اسکی اطاعت گزار ہے اس کی غلامی کی اقراری ہے۔ اس کیلئے اخلاص کرنے والی ہے۔ اسکی سرکار میں قیامت کے روز دست بستہ کھڑی ہونے والی اور دنیا میں عبادت گزار ہے ۔ وہ جو چاہے سو کرتا ہے اور جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔
زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اسی کا تو ہے :
218: فرمایا زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرمانبردار ہیں پھر آخر وہ کسی کو بیٹا کیوں بنائے گا ؟ یعنی یہ کہہ کر ابینت کی تردید فرما دی۔ کہ اللہ تو سب کا خالق ہے اور سب کا مالک ہے اور سب ہی اس کے فرمان میں بندھے ہوئے ہیں کیا کوئی اولاد کا خالق بھی ہوتا ہے ؟ صحیح بات یہی ہے کہ باپ بیٹے کا خالق نہیں ہوتا اور نہ ہی بیٹے کا مالک ہوتا ہے اور نہ ہی بیٹا باپ کا کامل فرمانبردار ہو سکتا ہے پھر جب اللہ اور اس کی مخلوق میں باپ اور بیٹے کے تعلق سے بڑھ کر ایک تعلق موجود ہے تو پھر وہ بیٹا کیسے بنائے گا ۔ ارشاد فرمایا :
” آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کیلئے ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اسے ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو وہ تم سے ضرور حساب لے گا وہ جسے چاہے بخش دے ، جسے چاہے عذاب دے اس نے ہرچیز کے لئے ایک اندازہ مقرر کیا ہوا ہے۔ “ (البقرہ 2 : 284)
” آسمانوں کی اور زمین کی اور ان میں جو کچھ ہے سب کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے ، اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے “
(المائدہ 5 : 120)
” جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے ، بلاشبہ اللہ بےنیاز ، لائق حمد (وثنا) ہے “ (لقمان 31 : 26)
” اس کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں اور جو لوگ اللہ کی نشانیوں کے منکر ہوئے (اور اس کے احکام کو نہ مانا) وہی لوگ خسارے میں رہیں گے “ (الزمر 39 : 63 )
” اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی برتر اور عظمت والا ہے “ (الشوریٰ 42 : 4)
” آسمانوں اور زمین کی حکومت اللہ ہی کے لیے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے (سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہے) جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے وہ سب کچھ جانتا ہے ہر بات پر قادر ہے “ (الشوریٰ 42 : 49 ۔ 50)
Ayah 2:117بغیر کسی مادہ کے پیدا کرنے والا ہی ” اللہ “ ہے :
219: بدیع وہ ہے جو نہ کسی آلہ کا محتاج ہو نہ کسی مال مسالہ کا۔ نہ مکان و مقام کا پابند ہو اور نہ ہی زمان و وقت سے مقید ہو۔ نہ کسی چیز کا محتاج ہو نہ کسی نمونہ و نقشہ کا نہ استاد کا۔ اصلی اور حقیقی معنوں میں خالق اور موجد ہے بغیر کسی کی اعانت اور شرکت کے وجود میں لانے والا۔ بدیع کا لفظ دراصل ان مشرک قوموں کے رد میں ہے جو اللہ کو محض صانع کی حیثیت دیتے ہیں اور روح یا مادہ دونوں کو کسی نہ کسی درجہ میں اس کا شریک و سیہم رکھتے ہیں۔ گویا مادہ پہلے سے موجود ہے وہ قدیم اور غیر حادث ہے۔ یا روح بھی اس کے ساتھ ساتھ قدیم و غیر حادث ہے اب اللہ نے صرف اتنا کیا کہ ایک اعلیٰ درجہ کے کیمسٹ کی طرح ان میں باہمی ترکیب و تربیت سے نئی نئی صورتیں نمودار کردیں۔
ابداع کا لفظ ان سارے مشرکانہ تخیلات کی تردید کے لئے کافی ہے۔ تقدیم ذاتی کے علاوہ تقدیم زمانی بھی تمام صفات کمال کی طرح اس کی ذات کے لئے ثابت ہے۔ وہ سب پر ” زمانۃ ً “ بھی مقدم ہے ایک زمانہ تھا کہ صرف وہ تھا اور کچھ بھی نہیں تھا اور یقیناً وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ صرف وہی ہوگا اور کچھ بھی نہیں ہوگا۔
اللہ کے کلمہ ” کُن “ کا صحیح مطلب کیا ہے ؟
220: یعنی عدم محض سے وجود میں آجا۔ نیست سے ہست ہوجا۔ ” یقول “ : کہتا ہے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے آپ کی طرح یہ دو حرفی لفظ ” کن “ بولتا ہے لفظ و حروف تو خود ہی حادث ہے اور نہ حق تعالیٰ کا تلفظ زبان ، ہونٹ یا اعصاب کا محتاج ہے۔ بندوں کی سمجھ کے لائق آخر اس کے سوا قریب سے قریب تر پیرایہ بیان اور اسلوب اور کیا اختیار کیا جائے۔
اے بروں ازوہم و قال و قیل من ۔ خاک بر فرق من و تمثیل من !
مقصود صرف اسی قدر ہے کہ ادھر حق تعالیٰ کا ارادہ ہوا ادھر معاً اور بلا تو سط و توقف اس کا ظہور عملاً ہوگیا۔
Ayah 2:118علم نہ رکھنے والوں سے کون لوگ مراد ہیں ؟
221: اس سے مراد مشرکین مکہ ہی ہو سکتے ہیں اور یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ نے محمد ﷺ سے جو بات کی ہے اور اس کو نبی بنایا ہے کیا وہ ہم سے بات نہیں کرسکتا ؟ حالانکہ ان کے انکار کا اصلی باعث یہ نہیں ہے کہ اللہ نے ان سے بات کیوں نہیں کی بلکہ جو کچھ ان کے اندر ہے اس کو چھپا کر یہ ایسا سوال کر رہے ہیں ان کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ جب کسی آبادی میں کوئی داعی حق کھڑا ہوتا تھا تو وہاں کے سردار محسوس کرتے تھے کہ اگر دعوت حق کامیاب ہوگئی تو ان کے ظالمانہ اختیارات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس لئے انہیں ایک طرح کی ذاتی دشمنی اور کد ہو جائی تھی وہ طرح طرح کی مکاریاں کرتے تھے تاکہ لوگ دعوت حق قبول نہ کریں۔
لیکن اگر ان سے اہل کتاب ہی مراد لئے جائیں ، تو لئے جاسکتے ہیں کیونکہ جو بات انہوں نے کہی ہے وہ اہل علم کی سی نہیں بلکہ جاہلوں کی سی ہے اور ایسی جہالت کی باتیں کہنے والے اگرچہ اہل کتاب ہی کیوں نہ ہوں بہر ہال جاہل ہی ہوں گے۔ جب قوی دلائل کثرت سے قائم کردیئے تھے پھر بھی جو انکار کئے جا رہے تھے تو یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے ؟ یہ جاہلوں ہی کی سی بات کہلائے گی اور اللہ نے بھی ان کو جاہل ہی کہا ہے۔
ہر دور میں گمراہوں کی گمراہی ایک ہی جیسی رہی ہے :
222: ان کی یہ فرمائشیں کوئی انوکھی اور ان کا یہ مطالبہ کوئی نرالہ نہیں۔ جاہلوں نے ہر دور اور ہر ملک میں اس قسم کی فرمائشیں پیش کی ہیں۔ رسالت محمدی ﷺ سے حضرات انبیاء میں قریب ترین زمانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کا گزرا ہے آپ عرب میں نہیں شام میں تھے۔ آپ سے بھی تعلیمات اور اصل پیام کو چھوڑ کر تقاضے انہی آسمانی نشانوں کے ہوتے تھے۔ چناچہ انجیل میں ہے کہ :
” فرسیوں اور صدوقیوں نے پاس آ کر آزمانے کے لئے اس سے درخواست کی کہ ہمیں کوئی آسمانی نشانی دکھا۔ “ (متی 16 : 1)
یہاں تک کہ خود حق تعالیٰ کو لا کر دکھانے کی فرمائش ہونے لگی چناچہ انجیل میں ہے کہ :
” فلپس نے اس سے کہا کہ اے خداوند ہمیں باپ کو دکھا بس ہمیں کافی ہے۔ “ (یوحنا 14 : 8)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے انہوں نے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا کیونکہ ان سے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو آمنے سامنے دکھا۔ ایک جگہ بیان فرمایا کہ جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ! ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں۔ فرمایا کہ ان کے اور ان کے دل یکساں ہیں۔ بعض ایک ہی جیسے ہیں اس لئے کہ ہر دور میں گمراہوں کی گمراہی ایک ہی جیسی رہی ہے ۔ فرمایا کہ پہلوں نے بھی اپنے رسولوں کو جادو گر اور دیوانہ کہا تھا اور یہ لوگ بھی آپ کو اے پیغمبر اسلام ! یہی کچھ کہتے ہیں یعنی جادو گر اور دیوانہ۔
سب کے دل ایک جیسے ہونے کا مطلب ایک ہی جیسے سوالات کرنا ہے :
223: یعنی اگلوں اور پچھلوں کے قلب بےبصیرتی اور ناحق شناسی میں بالکل ایک ہی جیسے ہیں کیوں ؟ اس لئے انہوں نے ایک ہی طرح کے سوالات کئے ہیں انجیل میں ان کی گمراہی کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ :
” اس زمانہ کے برے اور زنا کار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یونس کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا۔ “ (متی 16 : 4)
” اے گردن کشو اور دل اور کان کے نامختونو ! تم ہر وقت روح القدس کی مخالفت کرتے ہو ، جیسے تمہارے باپ دادا کرتے تھے ویسے ہی تم بھی کرتے ہو۔ نبیوں میں سے کس کو تم نے نہیں ستایا ؟ “ (اعمال 51 : 52)
مطالبہ ایک نشان کا تھا لیکن ان کو نشان پر نشان دکھایا گیا جو بےاثر ثابت ہوا :
224: ان کا مطالبہ ایک نشان کا تھا کیونکہ انہوں نے کہا تھا : اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ 1ؕ، جو اب ملا کہ یہاں تو نشان پر نشان : قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ ، پیش کئے جا چکے ہیں اور پھر سب نشانات سے قطع نظر دو نشانات یعنی معجزے تو بالکل بین و نمایاں تھے اور ان دونوں کے اندر بیسیوں نشانیاں بھی موجود تھیں لیکن کیا ان لوگوں نے ان کو مان لیا ۔ ان کے مطالبہ کا جواب دیئے جانے کے باوجود وہ اپنے مطالبہ دہرائے جانے کے عادی ہیں تو ایسے لوگوں کو ان کے حال پر نہ چھوڑا جائے تو اور کیا کیا جائے ؟
1 ۔ رسول اللہ ﷺ کا سچائی ، امانت ، پاکبازی اور عقل و فہم کے لحاظ سے بےنظیر ہونا۔ آپ کی سیرت طیبہ کے ایک ایک جز کا بجائے خود معجزہ نشان ہونا۔
یعنی دوسری نشانیوں کا کیا ذکر سب سے نمایاں ترین نشانی تو محمد رسول اللہ ﷺ کی اپنی شخصیت ہے۔ آپ ﷺ کے نبوت سے پہلے کے حالات اور اس قوم اور ملک کے حالات جس میں آپ ﷺ پیدا ہوئے اور پھر خصوصاً وہ حالات جن میں آپ ﷺ نے پرورش
پائی اور چالیس سال زندگی بسر کی اور پھر وہ عظیم الشان کارنامہ جو نبی ہونے کے بعد آپ ﷺ نے انجام دیا یہ سب کچھ ایک ایسی روشن نشانی ہے جس کے بعد کسی اور نشانی کی حاجت نہیں رہتی۔
2 ۔ قرآن کریم کا لعفظی و معنوی ، ظاہری و باطنی ، تعلیمی و ادبی اعتبار سے بےمثل ہونا۔ یہ سب نشانات ان سے کچھ چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ ہم نے انہیں بالکل واضح و آشکارا کر رکھا ہے۔ ان میں سے ایک چیز بھی چھپی ہوئی نہیں ، ” قَدْ بَیَّنَّا “ ” قَدْ “ کی تاکید نے ” بَیَّنَّا “ کیا صراحت کو اور زیادہ زور دار بنا دیا ہے اور اس کے اظہار کے لئے اردو ترجمہ ” کھول کھول “ کیا جاسکتا ہے لیکن یہ کھلے ہوئے نشانات بھی انہی لوگوں کو نظر آتے ہیں جن کے قلب جہل وعناد کی گندگی اور شک اور ارتیاب کی آلودگی سے پاک ہیں۔ شواہد و دلائل مادی قسم کے ہوں یا معنوی بہر حال ان سے نفع حاصل کرنے کے لئے دیدئہ بصیرت و چشم بینا ضروری ہے آنکھ رکھنے والوں کے لئے پیغمبر کی کتاب زندگی کی ایک ایک سطر معجزہ ہے عارف رومی نے اسی حقیقت کی ترجمانی اپنے خاص انداز میں کی ہے۔
؎ در دل ہر کس کہ از دانش مزاست ۔ روے و آواز پیمبر معجزہ است
لیکن یہ انہی لوگوں کے لیے ہے جو یقین کی طلب اور پیاس اپنے اندر رکھتے ہیں۔ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ 00118
Ayah 2:119بعثت کی ضرورت :
225: ممکن تھا کہ اہل کتاب کی کج بحثیوں اور جاہلانہ باتوں سے رسول اللہ ﷺ تنگ دل ہوتے جیسے کئی جگہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد ہے : لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ 003 (الشعر 26 : 3)
” اے پیغمبر اسلام ! آپ شاید اس غم میں اپنی جان کھو بیٹھیں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ “
اس لئے آپ ﷺ کے اطمینان قلب کے لئے یہاں ارشاد فرمایا کہ ہم نے تم کو خواہ مخواہ رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ پوری دنیا کے حالات و واقعات کا مکمل تقاضا تھا کہ اب وہ خاتم الانبیاء تشریف لائے جس کے بعد رسالت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہونے والا ہے۔ اس جگہ ذرا تفصیل سے دیکھ لو کہ وہ حالات و واقعات کیا تھا ؟
(ا) بنی اسرائیل کو زمانہ ہوا ہے کہ وہ مسیح (علیہ السلام) سے قبل ہی غضب الٰہی میں مبتلا ہوچکے تھے۔ ان کو انبیاء کرام کی زبان سے سانپ اور سانپ کے بچے کہا جاتا تھا ۔ مسیح (علیہ السلام) کو انہوں نے اس قدر تنگ کیا کہ ان کو ان پر لعنت بھیجنا پڑی جس نے یہودیوں کو اور زیادہ مسنح کردیا۔ اب ان میں انسانیت کا ذرا برابر بھی شائبہ باقی نہ رہا۔ ہمسایہ قوموں کی صحبت اور یکجائی سے ان میں بت پرستی بھی آگئی ۔
(ب) یورپ قرون مظلمہ میں سے گزر رہا تھا۔ وہاں چاروں طرف جہالت کا دور دورہ تھا۔ انگلستان میں برٹن اور سیکسن و حشی قومیں آباد تھیں۔ نا تھمبر لینڈ ، مڈلینڈ ، کون ٹیز ، نار فوک ، سو فوک اور ساسیکس اضلاع انگلستان میں ووڈن بت کی پوجا ہوتی تھی۔
فرانس ، ہرن ہلڈ ، سگ برٹ ، فرے دی ، گوٹن دی اور مل ہیرک کے نصف پر انسانوں کی حکومت تھی۔ جب کہ پادریوں کے ایماء سے بہت سی بیہودگیاں روا رکھی جاتی تھیں۔ فرانس ہمیشہ سیکسن قوم سے دریائے الب پر جنگ کرتا رہتا تھا اور یہ لڑائی 782 ء کے بعد دیر تک جاری رہی جب کہ ساڑھے چار ہزار سیکسن قیدی نہایت ہی بےرحمی سے شہر ورڈن میں قتل کئے گئے۔ ہنگری ان دنوں بےانتہا وحشی و بربری اقوام کے قبضہ میں تھا جس کو ظالمانہ وسائل سے اپنے مذہب میں لایا گیا تھا۔
(ج) ایران میں مشروکیہ کا زور تھا۔ جنہوں نے زر۔ زن اور زمین کو وقف عام کردینے سے اخلاق انسانی اور نوعی ارتقاء کا ستیا ناس کردیا تھا۔ اخلاق نام کی کوئی چیز وہاں موجود نہ رہی تھی۔
(د) ہندوستان میں پرانوں کا زمانہ تھا۔ بام مارگی فرقہ اس سرزمین پر قابو یافتہ تھا جو اپنے گندے اور ناپاک اصولوں کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے۔ مندروں میں عورتوں اور مردوں کی برہنہ تصاویر بنا رکھی تھیں۔ انہی کی پرستش ہوتی تھی ۔ عبادت خانوں کے در ودیوار پر ایسی ایسی تصاویر آویزاں تھیں جن کو ایک لمحے کے لئے بھی کوئی شریف اور مہذب انسان دیکھنا گوارا نہ کرتا تھا۔ کیر انسانی کا ادب و احترام ہوتا تھا اور اس کی تصاویر یعنی مجسمے بنا کر مندروں میں رکھے جاتے تھے جو عورتوں کی مشکل کشائی کے کام آتے تھے۔
(ہ) چین کے رہنے والے اپنے ملک کو آسمانی فرزند کی بادشاہت تصور کر کے خدا سے منہ موڑ چکے تھے۔ ہر کام کے جدا جدا بت مقرر تھے کوئی بارش کا ہے تو کوئی امن کا اور کوئی جنگ کا۔ عام خیال یہ ہے کہ کنفیوشس نے آ کر چین کی اصلاح کی ہے مگر اس وقت تک ابھی اس کا ظہور نہ ہوا تھا۔
(و) مصر میں عیسائیت کا دور دورہ تھا۔ مسیح (علیہ السلام) کی شخصیت اور ابنیت کے متعلق نت نئے عقیدے بنتے تھے۔ جن کی وجہ سے ایک فرقہ دوسرے کی تکفیر کرتا۔ باہمی خونریزی ہوتی اور اگر موقع بن پڑتا تو آگ میں بھی جلا دیتے تھے۔
(ز) عرب میں خود سری تھی۔ اپنے ہی بھائیوں کو قتل کرتے ۔ جوا اور شراب کا عام دستور تھا۔ بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ پتھر ، درخت ، چاند ، سورج ، پہاڑ اور دریا ان کے معبود تھے۔ انسانی حقوق کا کوئی ضابطہ نہیں تھا۔ اسی لئے قتل انسانی ، رہزنی ، حبس بےجا ، ناجائزتصرف ، بیجا مداخلت کے مرتکب ہوتے تھے۔
پس عین ضرورت کے مطابق جو قانون الٰہی میں طے تھا آپ ﷺ کی بعثت ہوئی اس لئے آپ اپنا فرض برابر ادا کرتے رہیں۔ جو لوگ راہ حق اختیار کریں ان کی ہمتوں کو اور زیادہ بڑھاتے رہیں اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی ان کو بشارت دیتے رہیں لیکن جو آپ کی مخالفت کریں ان کی کمر ہمت کو توڑتے رہیے اور ان کو عذاب الیم کی خبر دیجئے اور وہ لوگ جو ضدی اور اور ہٹ دھرمی قسم کے ہیں ان کو راہ راست پر لے آنا آپ کے ذمہ نہیں ہے اس لئے کہ آپ نصیحت کرنے والے تو ہیں لیکن ان پر داروغہ نہیں لگائے گئے۔ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ0021 لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ0022 (الغاشیہ 88 : 21 تا 22) ان کی نا پاک اور ملحدانہ زندگی کے متعلق تم سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 2:120یہود نصاریٰ آپ سے کبھی خوش نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ آپ ان کی مان لیں :
226: یہاں بالکل صاف صاف فرما دیا کہ اے پیغمبر اسلام اور پیغمبر کے ساتھیو ! یہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کبھی آپ سے خوش نہیں ہو سکتے یعنی ایک لمحے کے لئے بھی ان کی ناراضگی دور نہیں ہو سکتی کیونکہ اسلام کی عداوت و دشمنی ان میں کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ انہوں نے ایک رب کو رب مان لیا ہے اور ظاہر ہے کہ نا مسلمان رب کو رب ماننے سے باز آسکتے ہیں اور نہ ہی وہ مخالفت چھوڑ سکتے ہیں ۔ اسی معصیت کی طرف درج ذیل آیت میں اشارہ ہے :
وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ008 (البروج 85 : 8) اور ان کی دشمنی مسلمانوں سے محض اس بنا پر تھی کہ وہ اس اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور ستودہ صفات ہے۔ اور اس کو کہا جاتا ہے۔
^ حیاتک زنب لا یق اس بہ زنب
البتہ مسلمان اگر اپنے قرآن کریم کو ترک کردیں اور ان کی طاعت قبول کرلیں تو پھر وہ ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن ان کو یقین ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ قرآن کریم اہل کتاب کی اطاعت کو کفر سے تعبیر کرتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ کٰفِرِیْنَ 00100 وَ کَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ 1ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ہُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (رح) 00101 (آل عمران 3 : 100 تا 101)
” اے مسلمانو ! اگر تم اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی باتوں پر کاربند ہوگئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تمہیں راہ حق سے پھرا دیں گے اور تم ایمان کے بعد کفر میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم کفر کی راہ اختیار کرو جب کہ اللہ کی آیتیں تمہیں سنائی جا رہی ہیں اور اس کا رسول تم میں موجود ہے اور یاد رکھو جو شخص مضبوطی کے ساتھ اللہ کا ہو رہا تو بلاشبہ اس پر سیدھی راہ کھل گئی۔ “
دوسری قوم کی اطاعت کی ضرورت تو اس وقت محسوس ہوا کرتی ہے جب کسی قوم کے پاس قانون نہ ہو لیکن مسلمانوں کے پاس قانون بھی ہے اور شرح قانون بھی۔ رسول اللہ ﷺ کی حیات مقدس قرآن کریم کی عملی تفسیر ہے اس کے باوجود پھر یہود و نصاریٰ کی فرمانبرداری کریں تو انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ کی رحمت سے دور جا پڑے ہیں۔ چناچہ فرمان الٰہی ہے :
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ کِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْـًٔا قَلِیْلًاۗۙ0074 اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا 0075 (بنی اسرائیل 17 : 74 تا 75)
” اور اگر (راہِ حق میں) ہم نے تجھے جما نہ دیا ہوتا تو تُو ضرور ان کی طرف کچھ نہ کچھ میلان کر ہی بیٹھتا۔ اور اس صورت میں ضرور ایسا ہوتا کہ ہم تجھے زندگی کا بھی دوہرا عذاب چکھاتے اور موت کا بھی اور پھر تجھے ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار نہ ملتا۔ “
فرمایا اے پیغمبر اسلام ! اگر وحی الٰہی کی روشنی تیری راہنمائی کے لئے موجود نہ ہوتی تو وقت کی تاریکی اتنی شدید تھی کی ممکن نہ تھا کہ تو اس بےلاگ ثبات اور اتنی پختگی کے ساتھ اپنی راہ پر چلتا رہتا۔ کام کی دشواریاں ضرور تجھے مغلوب کرلیتیں اور لوگوں کی بار بار اپیلیں ضرور تجھے تھکا دیتیں۔ طاقتور افراد کی منتیں اور التجائیں ضرور تجھے متوجہ کرلیتیں طرح طرح کی مصلحتیں ضرور دامنگیر ہوجاتیں۔ لغزشیں ، ٹھو کریں ، قدم قدم پر نمودار ہوتیں۔ لیکن اب کوئی چیز بھی تیری راہ نہیں روک سکتی۔ کوئی فتنہ بھی تجھے قابو میں نہیں لاسکتا۔ یہ وحی الٰہی کی راہنمائی ہے اور وحی الٰہی کی راہنمائی پر کوئی انسانی طاقت غالب نہیں آسکتی۔
داعئی حق کے لئے بڑا ہی نازک مقام ہے وہ جب کسی کا دل مائل ہوتا دیکھتا ہے تو اس کے گوشہ دل میں بھی نرمی پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ اس کا جی تو چاہتا ہے کہ جس طرح ممکن ہو حق کو قبول کرلیا جائے لیکن شرارتی ذہن اس نازک وقت سے فائدہ اٹھانے کے لئے کوئی ایسی بات لگاوٹ کی کہہ دیتے ہیں کہ داعی کا بھی دل مائل ہوجاتا ہے لیکن ذرا ڈھیل ہوئی تو قدم پھسل گیا۔ پھر جس کی دعوت ، دعوت الٰہی ہو وہ خود اس کا محافظ و نگہبان ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ایسے ذہنوں کی نبوت کے مقابلہ میں نہ چل سکی۔ یہاں بھی اس کا ذکر ہے اگرچہ مخاطب نبی کریم ﷺ ہیں لیکن آپ ﷺ کے توسط سے امت کے ہر داعئی حق کو سمجھانا مقصود ہے۔ خطاب نبی معصوم سے ہو رہا ہے کہ اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا ، لیکن ثابت قدم کیسے نہ رکھا ہوتا۔ یہ ثابت قدمی تو فرع ہے ، معصومیت کی اور معصومیت لازمہ نبوت ہے۔ نبی ، اور کفر کی طرف جھکائو ممکن ہی نہیں ! تصور ہی نہیں یا جاسکتا۔ ہاں ! بطور تلقین بات کی جا رہی ہے اور اس کا انداز بھی بڑا پیارا ہے۔ فرمایا اگر یہ جھکائو ہوتا جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جھکائو نہیں ہوا۔ وہ کیسے ہوتا کہ ہماری ثابت قدمی کی زنجیر عصمت نے اتنا بھی ہلنے کا موقع کب دیا ؟ یہاں تفہیم کرائی گئی کہ توفیق خیر حق تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور اسی کی طرف منسوب کرنا چاہئے کیونکہ یہ کمال انسانی اللہ کی عطا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی تمام تر زندگی اس بات پر شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہمیشہ نصرت و یاوری کی اور کبھی ان کو بےیارومددگار نہیں چھوڑا آپ ﷺ نے یہود و نصاریٰ کی اتباع کا خیال بھی نہیں فرمایا ، آیت کے معنی دو طریقہ سے ہو سکتے ہیں :
(ا) رسول اللہ ﷺ کی معرفت تمام امت مسلمہ سے خطاب کیا جا رہا ہے کہ اگر تم نے اہل کتاب کا اتباع کیا۔ تو نتیجہ تمہارے حق میں صحیح نہیں نکلے گا گویا ایک قسم کی تلقین کی جارہی ہے وہ بھی افراد ملت کو۔
(ب) غیر ممکن اور محال کو فرض کیا گیا ہے اور اس طرح فرض کرنے میں ایک قسم کی مزید پختگی کا پہلو پنہاں ہوتا ہے۔ اور یہ انداز بہت پیارا اور محبت سے لبریز ہوتا ہے۔ جیسے ارشاد فرمایا : لَوْ کَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا (الانبیاء 21 : 22) ” اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی ہوتا تو وہ یقیناً بگڑ کر برباد ہوجاتے۔ “
لہٰذا آیت سے یہ استدلال کرنا کہ رسول اللہ ﷺ معاذ اللہ اہل کتاب کا اتباع کرسکتے تھے سخت غلطی کا مرتکب ہونا ہے ایسی آیات کا مطلب بیان کرتے وقت احتیاط لازم ہے۔
Ayah 2:121اسلام دین الٰہی ہونے کا نشان :
227: اسلام ہی وہ دین ہے جو ہر سچائی اور صداقت کی تہ دل سے تصدیق کرتا ہے۔ مخالف سے مخالف میں بھی اگر کوئی خوبی کی بات پائی جائے تو اس کو کھلے دل تسلیم کرتا ہے۔ یہود و نصاریٰ کی اسلام دشمنی میں کس کو شک ہے ؟ لیکن انہی معاندین میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو قومی لحاظ سے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کتاب الٰہی کی تہ دل سے عزت و احترام اور سچے دل سے تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ اس میں تحریف و تغیر کو راہ نہیں دیتے اور یہ سب کچھ اس اعتراف حقیقت میں آگیا کہ وہ حق تلاوت ادا کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ اپنی مذہبی کتاب تورات کی تلاوت کریں گے تو وہ قرآن کریم اور نبی آخر الزمان محمدرسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرنے پر خود بخود مجبور ہوں گے کیونکہ ان کی کتاب تورات میں آخری رسول ﷺ اور اس کی تعلیم دونوں کا ذکر بتفصیل موجود ہے اور جن لوگوں نے پیغمبر اسلام اور قرآن کریم کی تصدیق نہیں کی گویا انہوں نے اپنی ہی مذہبی کتاب تورات کی تعلیم اور اس کے احکام سے روگردانی کی ہے اور ان کا کتاب الٰہی کو تسلیم کرنے کا دعویٰ ریت کے ٹیلے پر عمارت بنانے کے مترادف ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر بات اس طرح ہے تو اس میں خسارہ و نقصان کس کا ہے ؟
Ayahs 2:122–123اجمال اور تفصیل ِاجمال کے بعد دوبارہ اجمال کی حکمت :
228: آیت نمبر 122 اس سے پہلے آیت 40 ، اور آیت نمبر 47 میں دو بار ذکر کی جا چکی ہے۔ اور تیسری بار پھر ذکر کی ہے اور اس طرح آیت 123 بھی اس سے پہلے آیت 48 میں بیان کی جا چکی ہے۔ ان دونوں آیات کی تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 88 تا 91 اور 101 تا 103 نمبر ملاحظہ ہوں۔ آیت 40 اور 47 میں جو اجمال تھا اس کی تفصیل آیت 48 سے 121 تک کی گئی اور بنی اسرائیل کے متعلق جن خاص خاص مضامین کا بیان کرنا مقصود تھا وہ پورا ہوا۔ پھر اس تفصیل کے بعد مجمل طور پر دوبارہ ان کے انعامات الٰہی کو ذکر کیا جاتا ہے۔ محاورات میں یہ طرز بلیغ بھی اعلیٰ درجہ کا سمجھا جاتا ہے کہ مفصل اور مطول بات کرنے سے پہلے ایک مجمل عنوان سے اس کی تقریر کردی جائے۔ جس کا قدر مشترک تمام تفاصیل کے سمجھنے میں معین و مددگار ہو اور آخر میں بطور خلاصہ اور نتیجہ تفصیل اس مجمل عنوان کا پھر اعادہ کردیا جائے کہ تکبر بڑی مضر خصلت ہے۔ اس میں ایک ضرر یہ ، دوسرایہ ، تیسرا یہ ، اسی طرح آٹھ دس یا دس بیس مضر تیں گنوا کر پھر آخر میں کہہ دیا جائے کہ غرض تکبر بڑی ہی مضر خصلت ہے۔
پھر یہ بات بھی ہے کہ انسان دراصل مجموعہ اضداد ہے۔ وہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو یقیناً کوئی نہ کوئی خوبی بھی اس میں ضرور ہوگی اور یہ بات من حیث الافراد بھی ہے اور من حیث الجماعت بھی۔ جہاں ان کو الزامی جواب دیئے گئے وہاں اب تحقیقی اعتبار سے بھی گفتگو کی جاتی ہے اس طرح سے ان کی قومی دیانت ، خاندانی بزرگی اور احتساب اعمال کو پیش کر کے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ جھوٹ بولنے سے پرہیز کریں اور صحیح جواب دیں۔