Ayah 2:103انسانیت سے عاری لوگوں کی حالت پر بھی اظہار افسوس کی ہدایت :
198: رحمت الٰہی کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کا نظارہ دیکھو کہ انسانیت سے عاری لوگوں کی حالت پر بھی اظہار افسوس کیا جا رہا ہے۔ فطرت انسانی کا تقاضا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو ہدایت کرتا ہے لیکن وہ اس کی دی ہوئی ہدایت کو قبول نہیں کرتا بلکہ اس کے خلاف عمل کرتا ہے اور اپنے کیے کے نتیجے میں جب اس کو کوئی دکھ یا تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ ہدایت کرنے والا آدمی اس کے حال سے خوش ہوتا ہے اور بڑے فخریہ انداز میں کہتا ہے کہ دیکھو میں نے کہا تھا کہ یہ کام مت کرو لیکن وہ باز نہیں آیا۔ اب چکھے نا اپنے کیے کا مزا۔ میں تو کہوں گا اس کے ساتھ ابھی یہ اور بھی ہونا چاہیے تاکہ اس کو سمجھ آجائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کے فرمان پر غور کرو جب ہدایات الٰہی کے خلاف کرنے والا اپنے منطقی نتیجہ کو پہنچ جاتا ہے تو ارشاد ہوتا ہے کہ کاش ! یہ لوگ ایسا نہ کرتے۔ کاش ! یہ لوگ ایمان لاتے اور اس طرح برباد نہ ہوتے۔ کاش ! یہ لوگ نیک عملی کی راہ اختیار کرتے تو اس نتیجہ سے دوچار نہ ہوتے۔ گنہگار بلکہ سرکش ، نافرمان اور غدار بندوں کے حق میں بھی اس قدر تاسف اس مالک حقیقی کا حصہ ہے۔ کیا حد ہے اس کی شفقت اور کرم بےحساب کی۔ سبحان اللہ۔
Ayah 2:104مشتبہ الفاظ کے استعمال کی ممانعت :
199: جس وقت رسول اللہ ﷺ وعظ و تذکیر میں مصروف ہوتے اور مسلمانوں کو آپ کی کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تو فطرت انسانی کے مطابق وہ عرض کرتے کہ اس بات کی ذرا مزید وضاحت فرما دیجئے اور ایسے مواقع پر راعنا کا لفظ استعمال کرتے۔ یہ مراعات سے ہے یعنی ہماری رعایت کیجئے۔ اور اس بات کو دوبارہ فرما دیجئے۔ مگر یہودیوں کے نزدیک یہ لفظ سبّ و شتم کے موقع پر بولا جاتا تھا اور اس کے معنی یہ ہوتے تھے کہ : اسمع لا سمعت ، سن ! اللہ تجھے سننے کا موقع ہی نہ دے۔ بعض کے نزدیک ان کے خیال میں یہ لفظ رعونۃ سے مشتق ہے جس کے معنی احمق اور بیوقوف کے ہیں۔ جن مجالس میں یہود بھی ہوتے وہ اس لفظ کو شرارتاً ادا کرتے گویا ان کو نبی ﷺ کی تضحیک کا مشغلہ ہاتھ آجاتا اور اپنی مجلسوں میں کہتے کہ ہم تو رسول کے ساتھ استہزاء خفیہ خفیہ کیا کرتے تھے لیکن مسلمانوں نے تو علی الاعلان کہنا شروع کردیا ہے اور اس طرح ایک موضوع ان کے ہاتھ آجاتا جس سے خوب استہزاء اور مذاق اڑاتے۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے ان کی اس شرارت کے متعلق اس طرح بیان دیا ہے کہ : وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ 1ؕ (النساء 4 : 48) کہ رَاعِنَا کے الفاظ کہتے وقت وہ اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر یعنی عین کو ذرا کھینچ کر اور لمبا کر کے پڑھتے اور یہ کام ازراہ طعن کرتے تھے جس کا ایک مطلب یہ بھی پیدا ہوتا کہ ” اے ہمارے چرواہے “ ، ” گڈریئے “ اس لئے قرآن کریم نے مسلمانوں کو ہدایت فرما دی کہ ایسا لفظ جو ذو معنی استعمال کیا جاسکتا ہے بلکہ کچھ لوگ استعمال کر رہے ہیں تو تم اس لفظ کو بالکل ترک کر دو اور یہود کو بتا دو کہ انہوں نے یہ لفظ استعمال کیا تو اس کا مطلب یہ سمجھا جائے گا کہ انہوں نے ازراہ تضحیک یہ لفظ استعمال کیا ہے جس کا نتیجہ ان کو بھگتنا ہوگا۔ گویا یہود کے الفاظ و محاورات سے بھی اب نفرت کرنے کا حکم مل چکا ہے اور یہ ایسا وقت آچکا ہے کہ ان سے قولاً ، عملاً اور اعتقاداً اجتناب کیا جائے۔ پھر یہ کہ اگر تمہاری سمجھ میں کوئی بات نہ آئے اور تم اسی مفہوم کو ادا کرنا چاہو تو تم انْظُرْنَاکے الفاظ استعمال کرلیا کرو اور مزید ہدایت فرما دی کہ جب پیغمبر بات کریں تو خوب دل لگا کر بات کو سنو اور سمجھنے کی پوری کوشش کرو اور اس کے باوجود دوبارا بات دہرانا چاہو تو انْظُرْنَاکہو تاکہ یہود کی دریدہ دہنی اور گستاخی کے الفاظ تمہاری زبان سے نہ نکلیں۔ جس سے مسلمانوں کے لئے ہدایت نکل آئی کہ مشتبہ اور ذو معنی بات مت کیا کرو بلکہ صاف ستھری اور حکمت کی بات زبان سے نکالو اس طرح کی ہدایات قرآن کریم نے وقتاً فوقتاً مسلمانوں کو دیں اور ہر مقام پر ان کی راہنمائی فرمائی چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
وَ لَا تَكُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ ہُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ 002
” اے ایمان والو ! دیکھو ان لوگوں کے مانند نہ ہو جائو جنہوں نے زبان سے کہا تھا کہ ” ہم نے سنا “ اور واقعہ یہ تھا کہ وہ سنتے نہ تھے۔ “ جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ وہ سنی ہوئی کو ان سنی کردیتے تھے ۔ یعنی سننے کے مطابق عمل نہیں کرتے تھے۔
ایک جگہ ارشاد ہوا :
یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاہِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ 1ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا 1ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ 1ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ 1ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ (المائدہ 5 : 41)
” اے پیغمبر اسلام ! اس گروہ میں سے جس نے زبان سے کہا کہ ہم ایمان لائے مگر ان کے دل مؤمن نہیں ہوئے اور ان میں سے جو یہودی ہے جو لوگ کفر میں تیز گام ہوئے تو ان کی حالت تم کو غمگین نہ کرے یہ لوگ جھوٹ کے لئے کان لگانے والے ہیں اور اس لئے کان لگانے والے ہیں کہ ایک دوسرے گروہ تک جو تمہارے پاس نہیں آیا خبریں پہنچائیں یہ کلموں کو باوجود یکہ ان کا صحیح محل ثابت ہوچکا ہے ، صحیح محل سے پھیر دیتے ہیں۔ “
” یہ لوگ جھوٹ کے لئے کان لگاتے ہیں۔ “ اس کے دو مطالب ہیں ، ایک یہ کہ یہ لوگ چونکہ خواہشات کے بندے ہیں اس لئے سچائی سے ان کو کوئی دلچسپی نہیں جھوٹ ہی انہیں پسند آتا ہے اور اس کو یہ جی لگا کر سنتے ہیں کیونکہ ان کے نفس کی پیاس اس سے بجھتی ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ اور مسلمانوں کی مجلسوں میں یہ جھوٹ کی غرض سے آکر بیٹھتے ہیں تاکہ یہاں جو کچھ دیکھیں اور جو باتیں سنیں ان کو الٹے معنی پہنا کر یا ان کے ساتھ اپنی طرف سے غلط باتوں کی آمیزش کر کے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے لوگوں میں پھیلائیں۔
” بات کو صحیح محل سے پھیرتے ہیں “ اس کے بھی دو ہی مطلب ہیں ۔ ایک یہ کہ جاسوس بن کر آتے ہیں اور نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کی مجلسوں میں اس لئے گشت لگاتے پھرتے ہیں کہ کوئی راز کی بات کان میں پڑے تو اسے آپ کے دشمنوں تک پہنچائیں۔ دوسرے یہ کہ جھوٹے الزامات عائد کرنے اور افتراء پردازیاں کرنے کے لئے مواد فراہم کرتے پھرتے ہیں تاکہ ان لوگوں میں بدگمانیاں اور غلط فہمیاں پھیلائیں جن کو نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں سے براہ راست تعلقات پیدا کرنے کا موقع نہیں ملا ہے۔
ایک جگہ ان کی حرکتوں طرح بیان فرمایا ہے :
وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ 1ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ 1ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ 1ۚ یَصْلَوْنَهَا 1ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ 008 (المجادلہ 58 : 8) ” اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو ان الفاظ سے سلام کرتے ہیں جن الفاظ سے اللہ نے آپ پر سلام نہیں بھیجا اور اپنی مجلسوں میں کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں اس پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ ان کے لئے جہنم کافی ہے اس میں یہ لوگ داخل ہوں گے سو وہ بہت بڑا ٹھکانا ہے۔ “
مطلب یہ کہ یہود و نصاریٰ اپنے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے رسول نہ ہونے کی دلیل سمجھتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ اگر یہ رسول ہوتے تو جس وقت ہم انہیں اس طریقہ سے سلام کرتے اسی وقت ہم پر عذاب آجاتا ۔ اب چونکہ کوئی عذاب نہیں آتا حالانکہ ہم شب و روز یہ حرکت کرتے رہتے ہیں لہٰذا یہ رسول نہیں ہیں۔
Ayah 2:105اسلام دشمنی میں یہود و نصاریٰ اور مشرک سب ہم خیال ہیں :
200: یہود و نصاریٰ اور مشرکین کبھی اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنے مکالمہ و مخاطبت کے لئے چن لے اور اس طرح وہ ترقی کے اعلیٰ مراتب پر پہنچ جائیں بلکہ ان کی انتہائی خواہش یہ تھی کہ جس طرح بھی ہو مسلمان کہلانے والوں کو دنیوی ترقی سے روک دیں۔ انہیں سراٹھانے کا موقع ہی نہ ملے اور دائمی طور پر یہ لوگ ہمارے غلام رہیں۔ حالانکہ شریعت کے نازل کرنے میں کبھی اس امر کا خیلا نہیں کیا جاتا کہ ایک قوم جو حد درجہ کی نالائق ہو اور کتاب الٰہی سے دوری اختیار کرچکی ہو فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی ہو۔ اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ کو ترک کرچکی پھر بھی اس کو اپنی رحمت کے لئے مخصوص کرے ؟ اس کے فضل عظیم کی ایک ہی قوم اجارہ دار نہیں بن سکتی بلکہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق اپنے کام کے لئے منتخب کرلیتا ہے۔
اس آیت میں مشرکین کا نام لیا گیا ہے اس لئے کہ یہ بھی اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا متبع سمجھتے تھے۔ نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج اور ختنہ۔ اللہ کے نام پر جانوروں کو ذبح کرنا ۔ اشہر عام میں لڑائی نہ کرنا تمام کام بطور رسم ان میں موجود تھے جس طرح آج مسلمان کہلانے والوں میں بھی بطور رسم ہی رہ گئے ہیں ان کو قرآن کریم کا نزول اس لئے ناگوار تھا کہ اب عرب کی سیادت اور حکومت ان کے ہاتھوں سے نکل کر مسلمانوں یعنی ان کمزور لوگوں میں آجائے گی جن کو وہ رذیل و ارذل سجھتے تھے اور وہ تمام دنیا کی حکومت حاصل کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جس قوم کی حکومت چھن جائے ضرور وہ دوسروں کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرے گی۔
مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا کی کوئی قوم ان کی دوست نہیں بن سکتی بلکہ ان کے مقابلہ میں تمام کفار و مشرکین اور اہل کتاب ایک ہوجایا کریں گے۔ اس لئے کفر دراصل ملت واحدہ ہوگیا۔ قرآن کریم نے مسلمانوں کو بار بار یہ بتایا ہے کہ تم سب کو ایک جسم و جان کی طرح مل کر رہنا چاہئے ۔ اتحاد و تنظیم کو ایمان کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ سب معبود انِ باطل کی عبادت ترک کر کے صرف ایک اللہ کی عبادت پر جمع ہوجائیں۔ مسلمانوں کے لئے لازم ہے کہ تمام انبیاء کرام کے بعد آنے والے نبی پر اس طرح ایمان لائیں کہ وہ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور جو بھی اور جہاں بھی دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا اور اس کو جھوٹا کہنا پڑے گا ۔ وہ کتنے سچ بولے کبھی سچا نہیں ہو سکتا کیونکہ اس نے ایک ایسا جھوٹ بول دیا جو اس کے سارے سچوں کو کھا گیا۔ مسلمانوں کے لئے لازم ہے کہ وہ ہم قبلہ ہوں اور بیت اللہ کے سوا ان کا کوئی قبلہ نہ ہو ، وہی ان کا مرکز ہو اور اس کے سوا کوئی ان کا مرکز نہ ہو۔ مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ زندہ مسلمانوں میں سے ایک کو اپنا پیشوا سمجھیں اس کو امیر المؤمنین ، خلیفہ وقت یا جس نام سے بھی اس کو بلا لیں اجازت ہے لیکن اس ایک کی موجودگی میں جب بھی کوئی دوسرا بغاوت کر کے اس عہدہ پر فائز ہونے کی کوشش کرے اس کو قتل کردیں خواہ وہ کوئی ہو اور کسی جگہ ہو۔ مسلمانوں کے لئے لازم و ضروری ہے کہ وہ ایک جماعت ایسے لوگوں کی چن لیں جو جماعت اس خلیفہ وقت ، امیر المؤمنین یا جس نام سے بھی اس کو بلایا جاتا ہو اس کا اسلام کے مطابق محاسبہ کرتے رہیں اگر کوئی کمزوری دیکھیں تو وہ اس کو آگاہ کریں۔ اگر اسلام کے اصولوں میں سے وہ کسی اصول کی خلاف ورزی کرے تو اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔ اگر وہ اس کوشش میں ناکام ہوں تو اس کو معزول کر کے نئے آدمی کا انتخاب کریں اور ہر حال میں وہ صرف اور صرف ایک ہی جماعت سے وابستہ رہیں مختلف جماعتیں نہ بنائیں۔ جو شخص بھی کوئی دوسری جماعت بنائے وہ اسلام کے قانون کے مطابق مشرک ہے اور صرف مشرک ہی نہیں ہے فساد فی الارض کی اس نے گویا بنیاد رکھی ہے لہٰذا اس کو فوراً قید کرلیا جائے ۔ اگر توبہ کرے تو بہتر ورنہ اس کو سر عام قتل کردیا جائے۔
کاش کوئی مسلمان ایسا پیدا ہو جو مسلمانوں کو مسلمان بنا دے۔ کاش کہ پیشوایانِ زمانہ سب مل کر کسی ایک کو اپنا پیشوا بنا لیں اور باقی سب اس کے ماتحت ہوجائیں ۔ اسی چیز کا نام اجتماع اسلام ہے جو تلاش کرنے سے بھی کہیں دستیاب نہیں ۔ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے ساتھ ہی یہ دنیا سے ناپید ہوگیا۔ اور اب جو کچھ ہے وہ صرف نام ہی نام ہے مرے ہوئوں کا نام لینے سے وہ زندہ نہیں ہوجائے گا ۔ یہود و نصاریٰ کے گٹھ جوڑنے اسلام کا گلا گونٹ دیا اور قوم مسلم میں کفر کی روح پھونک دی۔ اسلام کا دیّا گل کردیا اور کفر کا دیّا جلا کر ان پر روشنی کردی اور ہماری آنکھوں پر ایسا جادو کیا کہ کوئی آنکھ دیکھ ہی نہ سکی کہ یہ روشنی اسلام کے دیے کی ہے یا کفر کے دیے کی۔
قرآن کریم ہمیں کہتا رہا اور اب بھی کہہ رہا ہے سب کے سب کفار ، مشرکین اور اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ تمہارے مقابلہ میں ایک ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ وہ تمہارا مقابلہ کرنے کے لئے ایک دوسرے کے دوست ہیں ان سب کی خواہش اور سب کی چاہت ایک ہے ان سب کا نظریہ ایک ہے وہ ہر ممکن چاہتے ہیں کہ تم نہ ہو یہی ان کی دوستی کی بنیاد ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے :
وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ 1ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ کَبِیْرٌؕ0073 (الانفال 8 : 73)
اور دیکھو جن جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ راہ کفر میں ایک دوسرے کے مددگارو دوست ہیں اگر تم ایسا نہیں کرو گے یعنی تم سب بھی مل کر ایک نہیں ہو جائو گے جس کا تمہیں بار بار حکم دیا جا رہا ہے تو یادر کھو کہ ملک میں فتنہ پیدا ہوجائے گے اور بڑی ہی خرابی پھیلے گی۔
اللہ کے لئے غور کرو اور دیکھو سب کفار اسلام کے مقابل میں مل کر ایک ہوئے کہ نہیں ؟ مسلمانوں کو ایک ہونے کی ہدایت دی گئی تھی کیا وہ ایک رہے ؟ بالکل نہیں۔ اچھا ! اس وقت فتنہ بپا ہوا ہے یا نہیں ؟ ہوا ہے۔ کیا پوری دنیا شر اور فساد کے لپیٹ میں نہیں ؟ پوری دنیا شر و فساد کی لپیٹ میں ہے۔ پھر غور کرو کہ اس سارے بگاڑ کا سبب کون ہے ؟ آئو قران کریم کو دیکھو :
” یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے اور اگر اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آچکا یعنی قرآن کریم۔ تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی۔ تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار تمہارے لئے نہیں ہوگا۔ “ (البقرہ 2 : 120)
کیا ہم نے یہود ونصاریٰ کو کہا کہ ہمیں تمہاری جمہوریت کی ضرورت نہیں ہمارے پاس اسلام کی دی ہوئی راہ موجود ہے ؟ کیا ہم نے قرآن کریم کی ہدایت کو وراء ظہور پھینک کر ان کی خواہشات کو نہیں اپنایا کیا اس وقت ہم اللہ کے قانون کی پکڑ میں پکڑے ہوئے نہیں ہیں ؟ غور کرو گے تم دیکھو گے کہ تینوں ہی سوالوں کا جواب ایک ہے ۔ قرآن کریم پڑھو۔
” وہ تم سے ہمیشہ لڑے ہی جائیں گے جب تک ان کے دم میں دم ہے اور یہ لڑائی ان کی اس وقت تک جاری رہے گی جب تمہیں اس دین سے پھیرلے جائیں جس کو اسلام کہتے ہیں اور تم بھی اچھی طرح کان کھول کر سن لو جو شخص بھی تم میں سے پھرے گا اور حالت کفر ہی میں مرے گا ۔ ہمارے ہاں اس کے اچھے اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے اور ایسے سب لوگوں کو انجام کار ہم اپنے قانون کے مطابق جہنم رسید کردیں گے۔ “ (البقرہ 2 : 217)
” مؤمنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز نہ بنائیں جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہاں ! اگر کوئی ایسی صورت پیش آجائے کہ تم ان کے شر سے بچنے کے لئے اپنا بچائو کرنا چاہو تو کرلو ، لیکن اس وقت بھی یہ بات نہ بھولو کہ اللہ بھی تمہیں اپنے قانون کے مطابق مواخذہ سے ڈراتا ہے اور ایسا نہ ہو کہ ان سے بچنے کے لئے اللہ کے قانون کی زد میں آجائو ۔ اس لئے کہ انجام کار تم کو لوٹ کر اسی کی طرف جانا ہے۔ “ (آل عمران 3 : 28)
اے لوگوں ! جو ایمان لائے ہو ان لوگوں کو دوست مت بنائو جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب فرمایا ہے ، جو آخرت سے اس طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر مایوس ہیں۔ (الممتحنہ 60 : 13)
” اے ایمان والو ! ایسا نہ کرو کہ اپنے لوگوں کے سوا کسی دوسرے کو اپنا ہم راز اور معتمد بنائو۔ ان لوگوں کا یعنی یہود و نصاریٰ کا حال یہ ہے کہ وہ تمہاے خلاف فتنہ انگیزی میں کمی کرنے والے نہیں جس بات سے تمہیں نقصان پہنچے وہی انہیں اچھی لگتی ہے ۔ ان کی دشمنی تو ان کی باتوں ہی سے ظاہر ہے لیکن جو کچھ دلوں میں چھپا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے اگر تم سمجھ بوجھ رکھتے ہو ہم نے فہم و بصیرت کی نشانیاں تم پر واضح کردی ہیں۔ دیکھو ! تمہارا حال تو یہ ہے کہ تم ان سے دوستی رکھتے ہو لیکن ان کا حال یہ ہے کہ وہ تمہیں ایک لمحہ کے لئے بھی دوست نہیں رکھتے۔ تم اللہ کی کتاب پر ایمان رکھنے والے ہو جتنی کتابیں بھی نازل ہوئی ہیں ان کی عزت کرتے ہو لیکن ان کی حالت بالکل مختلف ہے کہ وہ جب کبھی تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لانے والے ہیں لیکن جب الگ ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف جوش غضب میں اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں۔ “ (آل عمران 3 : 119)
ہائے اللہ ! مسلمانوں نے ان آیات کریمات بلکہ آیات بینات کی بےحرمتی کی۔ ان کا احترام ان کے دلوں سے جاتا رہا۔ علمائے وقت نے ان کی تاویلات شروع کردیں جس کا نتیجہ یہ ہوا تمام بلاد و امصار اسلامی یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گئے ہیں بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھین لئے۔ پھر انہوں نے بڑی چالاکیوں ، فریب کاریوں اور مکاریوں سے مسلمانوں کو اپنا بنایا اور پھر انہیں کے بلاد و امصار کو اپنا سمجھ کر انہیں مشروط طور پر واپس کرنا شروع کردیا۔ اب بظاہر صورت یہ ہوگئی کہ مسلمانوں کو واپس کردیئے گئے۔ حاشا اللہ بالکل نہیں۔ بلکہ مسلمانوں کی حالت یہ ہوگئی کہ
^ تاکس نہ گوید من و یگرم تو دیگری
اے ارض مقدس ! تیرے رب کی قسم یہ صحیح ہے کہ ہم اپنے گناہوں کی پاداش میں پکڑے گئے لیکن تیرا درد آج بھی ہمارے سینوں میں موجود ہے وہ وقت دور نہیں جب ان سب چیرہ دستیوں کے باوجود تیرے جانثار تیرے پر قربان ہو کر زمانے کو دکھا دیں گے کہ
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
Ayah 2:106ناسخ و منسوخ کیا ہے ؟ کیا قرآن کریم کی آیات منسوخ ہیں ؟
201: ” ہم احکام میں سے جو بدل دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس کی جگہ اس سے بہتر یا اس جیسا حکم نازل کردیتے ہیں۔ “ اس آیت کو ناسخ و منسوخ کے مسئلہ میں بنیاد قرار دیا گیا ہے اور پھر قرآن کریم ہی کی آیات کو ناسخ اور منسوخ بتایا گیا اور اس بحث کو اتنا طول دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی سات سو آیات کریمات کو منسوخ قرار دیا گیا ہے۔ پھر اپنے اپنے مذاق کے مطابق کسی نے اس کی تعداد کو کم کرنا شروع کردیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ پانچ سو آیات منسوخ ہیں اور کسی نے یہ نتیجہ نکالا کہ صرف پانچ آیات منسوخ ہیں۔
سب سے پہلے غور طلب امر سیاق وسباق آیت ہے یہ تو ظاہر ہے اور جس طرح پیچھے سے آپ پڑھتے آرہے ہیں کہ یہود کو یہ اعتراض تھا کہ یہ وحی بنی اسرائیل میں نازل ہونا چاہیے تھی یہ بنی اسمعٰیل میں کیسے نازل ہوگئی۔ لہٰذا چونکہ وحی بنی اسمعٰیل میں نازل ہوئی تھی اس لئے انہوں نے حق ناحق دیکھے بغیر اس کا انکار کردیا اور نہ صرف انکار ہی کیا بلکہ وہ جس پر وحی نازل ہوئی اس کے اور وحی لانے والے کے خلاف ہوگئے اور ہر طرح کی شرارتیں اور منصوبے کرنے لگے۔ چونکہ درمیان میں ان شرارتوں ، منصوبوں کا ذکر آگیا اس لئے بات لمبی ہوگئی اور اس طرح ان کی ایک شرارت کا ذکر اور پھر اس کا جواب دینے کے بعد اصل مضمون کی طرف متوجہ کرنے کے لئے یہاں ایک اشارہ کردیا اور فرمایا کہ اصل اعتراض ان کو یہ ہے کہ تم پر یہ خیر و رحمت کیوں نازل ہوئی کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر بنی اسرائیل کے کسی نبی پر نازل ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت منسوخ نہ ہوتی۔ اگرچہ یہ بھی ان کا اپنا گمان تھا جس طرح دنیا داروں کی سوچ ہوتی ہے بالکل اسی طرح یہ ان کی عامیانہ سوچ تھی تاہم انہوں نے اپنے دل میں یہ بطور یقین بات جمالی کہ اب محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے سے جو بنی اسمعٰیل میں سے ہے یہ بھی ضرور ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت منسوخ ہو اور پھر جب ان کی اپنی خواہشات و اہواء کے خلاف حکم آیا تو انہوں نے اس کو اس بات پر محمول کیا ، اس میں اصل جواب تو ان کے اس اعتراض کا دیا گیا ہے کہ شریعت موسوی کے جو احکام منسوخ ہوگئے ہیں اس کی دلیل تو تمہارے ذمہ ہے کہ کیا یہ احکام موسوی شریعت کے تھے یا تمہارے اپنے ہی بنائے ہوئے تھے جو تم نے شریعت موسوی کے ذمہ لگا دیئے اس کے لئے یہ بیان دیا گیا ہے کہ ہم نے احکام میں سے جو بدل دیئے ہیں ان سے بہتر وہاں یعنی شریعت محمدی میں بتائے گئے ہیں یا کم از کم اس جیسے تو ہوں گے ذرا غور کر کے ان کو دیکھو تو سہی گویا ان کی توجہ اصل مضمون کی طرف پھرائی گئی ہے جس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ تھا کہ وہ احکام جو شریعت موسوی کے طور پر ان میں معروف تھے اور ان میں ردوبدل ناگزیر تھا کیونکہ انہوں نے بہت کچھ اس میں تحریف کرلی ہوئی تھی ، اور بہت کچھ انہوں نے حق و باطل کو ملا دیا ہوا تھا چونکہ ان کی ان کارستانیوں کا ذکر پیچھے کیا جاچکا تھا اب ان کو کہا جارہا ہے کہ جو بدلا گیا ہے اس کو بھی دیکھو اور جس کے ساتھ بدلا ہے اس پر بھی غور کرو پھر بتاؤ کہ اس میں بہتر کون ہے۔ بجائے غور و فکر کرنے کے اپنے اندھے پن کا ثبوت کیوں دے رہے ہو ؟
لیکن افسوس کہ مفسرین نے آیت کے لفظ سے قرآن کریم کی آیات مراد لے کر ایک طرح کا الٹا مفہوم بیان کردیا ، اور ہو سکتا ہے کہ یہ انہی یہود کی کارستانی ہو جس کو سادگی سے ہمارے مفسرین سمجھ ہی نہ سکے ہوں حالانکہ آیت کے لفظ سے یہ ضروری نہیں تھا کہ قرآن کریم کی آیت مراد لی جاتی بلکہ اکثر استعمال اس کا سابقہ شرائع پر ہوا جیسے ارشاد فرمایا کہ : اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ 1ۙ یعنی جب بھی تمہارے پاس رسول آئے اور انہوں نے میری آیات کو تم سے بیان کیا۔ ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ پہلی کتابوں کے احکام پر بھی آیات کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ پس سیاق وسباق مضمون بتاتا تھا کہ یہاں جن احکام کے نسخ کا ذکر ہے۔ وہ احکام شریعت سابقہ کے ہیں نہ کہ قرآن کریم کے ، اور شریعت سابقہ میں سے بھی وہ احکام جو انہوں نے خود وضع کر کے شریعت موسوی میں شامل کر لئے ہیں اور اس کی بیسیوں مثالیں قرآن کریم کے صفحات میں موجود ہیں اور اس وقت یہودو نصاریٰ کی یپروی میں اہل اسلام کے علماء سوء نے بھی بہت کچھ شریعت محمدی میں تبدیلی کرلی ہے اگرچہ قرآن کریم کے معجزہ کے مطابق وہ قرآن کریم کے اندر تو کوئی کمی بیشی نہیں کرسکے اور نہ ہی کوئی کرسکتا تھا اور نہ ہی کرسکتا ہے البتہ مفہوم میں اب بھی بہت کچھ کیا گیا ہے بلکہ شریعت اسلامی کا پورا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا گیا ہے۔ بیسیوں چیزیں جو مسلمان بطور رواج کر رہے ہیں اگرچہ علماء سوء ان کی سند کا جواز بھی پیش کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں تاہم رواج سمجھ کر کرنے والے یہ بات ثابت نہیں کرسکتے یہ شریعت میں کیسے داخل ہوگئی۔
لیکن افسوس ہے کہ اکثر مفسرین نے اسے نسخ آیات قرآنی پر لگایا ہے اب یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا نسخ آیات قرآنی سے مراد کونسی آیات کا نسخ ہے۔ اگر تو اس سے مراد کسی ایسی آیات کا نسخ ہے جو قرآن کریم میں موجود نہیں تو اس سے کچھ بحث کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ قرآن کریم کے باہر کے احکام پر اسلام میں آیت کا لفظ استعمال ہی نہیں۔ لیکن ان سے مراد کوئی ایسی آیات ہیں جیسا کہ عام مفسرین کا خیال ہے جو قرآن کریم کے اندر موجود ہیں تو اس قسم کے نسخ پر سب سے پہلے سوال یہ ہوگا کہ ان آیات پر جو نبی کریم ﷺ کے حکم سے قرآن کریم میں لکھی گئی ہیں کس نے منسوخ کیا ہے۔ اگر کسی آیت کے متعلق جو پہلے کسی سورت میں نبی کریم ﷺ نے لکھوائی ہے اور بعد میں خود ہی نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہو کہ فلاں آیت جو فلاں سورت میں فلاں جگہ لکھائی گئی تھی وہ اب منسوخ سمجھی جائے تو بحث ختم ہوجاتی ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ وہ آیت منسوخ مانیں لیکن خود نبی کریم ﷺ نے جب کبھی کسی آیت کو منسوخ نہ فرمایا ہو تو پھر ہم یہ کیسے مان سکتے ہیں کہ دنیا میں کسی شخص کو یہ اختیار ہے خواہ وہ صحابی ہو ، تابعی ہو ، امام ہو یا مفسر ہو کر وہ قرآن کریم کی کسی آیت کو جو نبی کریم ﷺ نے خود قرآن کریم کے اندر لکھوائی ہو منسوخ قرار دے۔ ہمارے نزدیک نبی ﷺ کے بعد کسی شخص کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی آیت کو منسوخ قرار دے۔
اب جب ہم تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نسخ آیات کی ان ساری روایات میں جو کتب احادیث یا کتب تفاسیر میں موجود ہیں ایک بھی روایت ایسی نہیں جو نبی کریم ﷺ تک پہنچتی ہو یا جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ نبی کریم ﷺ نے فلاں آیت کو فلاں آیت سے منسوخ فرمایا تھا ، اور کسی دوسرے شخص کا قول نسخ آیات کے متعلق سنت نہیں بنایا جاسکتا اور خود نبی کریم ﷺ کا کوئی ارشاد نہیں کہ فلاں آیت منسوخ ہے تو ایک مرحلہ اس سوال کا اس جگہ طے ہوجاتا ہے کہ ہمارے پاس واقعی کوئی سند ایسی نہیں جس کی بناء پر قرآن کریم کی ان آیات میں سے کسی آیت کو جو قرآن کریم میں موجود ہیں منسوخ قرار دیا۔
دور نہ جائیں بلکہ حق تسلیم کرنے کے لئے ہوتا ہے تسلیم کریں کہ نسخ پر کسی صحیح سند کے نہ ہونے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ بعض لوگوں نے سات سو آیات کو منسوخ قرار دیا تو بعض نے عند التحقیق صرف پانچ آیتوں کو منسوخ کہا۔ اب ساری امت کی اجماعی شہادت اس بات پر موجود ہے کہ جو کچھ قرآن کریم میں موجود ہے یہ سب کچھ نبی کریم ﷺ کا لکھوایا اور بتایا ہوا ہے اور پورے قرآن کریم کو ” ہدی الناس “ فرمایا ہے۔ حالانکہ اگر اس کے بعض حصے جو بعض کے نزدیک سات سو آیات تک پہنچ جاتے ہیں ناقابل عمل ہوتے تو اس کو کھول کر یہ بتانا چائیے تھا۔ پھر ایک طرف پورے قرآن کریم کو قابل عمل ماننے کی شہادت ، امت کی اجماعی شہادت ، کتاب اللہ کی شہادت اور نبی کریم ﷺ کی اپنی شہادت ہے۔ دوسری طرف اس کے کسی حصہ کو ناقابل عمل ماننے کے لئے ان ساری شہادتوں میں ایک بھی میسر نہیں ، پھر ہم کو کس کی بات ماننی چاہئے آیا ان کی جو سات سو آیات منسوخ قرار دیتے ہیں یا ان کی جو پانچ آیتوں کو منسوخ کہتے ہیں۔ یہ اختلاف اور اس قدر اختلاف خود بتا رہا ہے کہ دراصل کسی شخص کے ہاتھ میں کوئی شہادت اس امر پر موجود نہیں کہ کوئی آیت قرآن کریم واقعی منسوخ ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ کم از کم پانچ آیتوں پر تو اتفاق ہے تو ہم کہیں گے کہ جس تحقیق کی رو سے 695 منسوخ سمجھی گئی آیات قابل عمل قرارد گئی ہیں کیا وہ تحقیق ایک قدم اور آگے اٹھانے میں کیوں مجبور ہے ؟ اور اس کو کیا مانع ہے ؟ کیوں ممکن نہیں کہ وہ پانچ بھی درحقیقت منسوخ نہ ہوں ؟ آخر ممکن نہ ہونے کا کیا مطلب ؟ ہم زور دے کر کہہ سکتے ہیں کہ ایک آیت بھی جو قرآن کریم کے اندر نبی کریم ﷺ نے لکھائی ہو منسوخ نہیں ہوسکتی جب تک کہ خود نبی کریم ﷺ اس کو منسوخ قرار دینے والے نہ ہوں ، اور یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی ایک آیت کو بھی ناقابل عمل یا منسوخ قرار نہیں دیا۔ ہَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 00111
اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر یہ ناسخ و منسوخ کا جھگڑا کیوں پیش آیا ؟ محض اس لئے کہ بعض لوگوں نے بعض آیات کو دوسری آیات کے خلاف سمجھا۔ پس یہاں یہ سمجھ نہ آیا کہ فلاں دو آیات میں کیونکر تطبیق ہو سکتی ہے جھٹ ایک آیت کو منسوخ قرار دے دیا مثلاً یوں کہہ دیا کہ عفو و درگزر کا حکم جہاں جہاں نبی کریم ﷺ کو دیا گیا تھا وہ قتال کے حکم کے ساتھ منسوخ ہوگیا۔ حالانکہ یہ کس قدر غلط بحث ہے۔ عفو و درگزر کے احکام پر تو قتال کے اندر بھی نبی کریم ﷺ عمل کرتے رہے اور مسلمانوں کو عمل کرنے کی ہدایات دیتے رہے۔ کیا فتح مکہ میں جو عفو و درگزر سے کام لیا گیا اس کی نظیر دنیا میں اور کہیں مل سکتی ہے ؟ پھر یہ کس قدر جرات ہے کہ کہہ دیا جائے کہ عفو و درگزر کے احکام منسوخ ہوگئے تھے۔ تو کیا نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ قرآن کے خلاف کرتے تھے۔ قتال کا حکم اپنی جگہ ان ضروریات کے لحاظ سے تھا جو پیش آئیں اور عفو کا حکم اپنی جگہ ، اس کو نسخ کس قاعدہ سے کہا جاسکتا ہے ؟
قرآن کریم نے فرمایا کہ نماز ادا کرنے سے پہلے وضو کرلیا کرو ، پھر فرمایا کہ پانی نہ ملے تو تیمم کرلیا کرو۔ وضو کا حکم اپنی جگہ ہے تیمم کا حکم اپنی جگہ۔ اس طرح قتال کا حکم اپنی جگہ ہے اور عفو و درگزر کا اپنی جگہ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض نے سات سو آیات کو منسوخ کہہ دیا جہاں جہاں تطبیق نہ ہوسکی ، بجائے اس کے کہ وہ تطبیق دینے کی کوشش کرتے فوراً ایک کو منسوخ کہہ دیا۔ حالانکہ اکثر حالتوں میں یہ بھی شہادت موجود نہیں کہ آیا جسے منسوخ کہا جاتا ہے کیا وہ پہلے نازل ہوئی تھی۔ ذرا غور کرو کہ قرآن کریم علان کرتا ہے کہ : وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا 0082 ” اگر قرآن کریم اللہ کے سوا کہیں اور سے آیا ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے “ جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ چونکہ یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے لہٰذا اس میں اختلاف ممکن ہی نہیں ہے ۔ اختلاف تو تب ہوتا جب غیر اللہ کی طرف سے ہوتا۔
افسوس کہ ناسخ منسوخ کے مسئلہ میں اس ارشاد الٰہی کو بھی بھلا کر اختلاف پہلے قائم کیا گیا اور پھر اس کو نسخ آیات سے حل کیا گیا جو دراصل اختلاف کے مان لینے کے مترادف ہے کیونکہ مخالف تو یہی کہے گا کہ اختلاف تو تم خود مانتے ہو تو پھر اس کا جواب کیا ہے ؟ حالانکہ قرآن کریم کی آیات میں نسخ کا دعویٰ ایسا ہے جس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن کریم کی ایک اور آیت جو اسی نسخ کے مضمون پر پیش کی جاتی ہے وہ یہ ہے : وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ 1ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ 1ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ 00101 (النحل 16 : 101) اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے کہ وہ کیا نازل کررہا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم تو بس اپنے جی سے گھڑ لیا کرتے ہو حالانکہ ان میں اکثروں کو یہ معلوم نہیں کہ حقیقت حال کیا ہے۔
یہ سورت بالاتفاق مکی ہے ، مکہ میں کسی حکم کے منسوخ کئے جانے کا ذکر بھی روایات میں نہیں ملتا ۔ کیونکہ تفصیلی احکام تو دراصل نازل ہی مدینہ میں ہوئے۔ بس اس آیت سے نسخ کا استدلال کرنا اور پھر نسخ بھی ان آیات کا جو قرآن کریم کے اندر موجود ہیں غلط ہی نہیں بلکہ سراسر زیادتی ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی حکومتوں اور اداروں میں کسی حکم کو منسوخ کر کے دوسراحکم جاری کردینا مشہور و معروف بات ہے لیکن انسانوں کے احکام میں نسخ کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ پہلے کسی غلط فہمی سے ایک حکم جاری کردیا بعد میں حقیقت معلوم ہوئی تو حکم کو بدل دیا۔ کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ جس وقت یہ حکم جاری کیا گیا اس وقت کے حالات کے مناسب تھا اور آگے آنے والے واقعات و حالات کا اندازہ نہ تھا جب حالات بدلے تو حکم بھی بدلنا پڑا یہ دونوں صورتیں احکام الٰہی میں نہیں ہو سکتیں اور اگر کوئی شخص ایسا نسخ قرآن کریم کی آیات میں تسلیم کرتا ہے تو اس کی یہ سوچ قرآن کریم کے بالکل منافی ہے اور اس آیت سے تو کسی طرح یہ استدلال ہو ہی نہیں سکتا ہے اس لئے کہ اس میں تو ملتوں اور قوموں کے عروج وزوال پر بحث کی گئی ہے اور قوموں کا مٹنا اور پیدا ہونا کون نہیں جانتا یا کون ہے جو انکار کرتا ہے ؟
آیت زیر بحث میں نُنْسِهَا کے لفظ میں بھی ان احکام کی طرف اشارہ ہے جو پہلے انبیاء (علیہ السلام) کی امتوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنے انبیاء کی تعلیم میں اپنی طرف سے اضافہ کر لئے تھے اور اس کے باوجود وہ اپنے اضافہ کو بھی بھول گئے ۔ ورنہ قرآن کریم کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک طرف تو وحی الٰہی نازل ہو رہی تھی اور دوسری طرف کچھ ایسی آیات بھی تھیں جو نبی کریم ﷺ نعوذباللہ ساتھ بھولتے بھی جاتے تھے۔ اور پھر نہ صرف آپ اکیلے ہی بھول جاتے تھے بلکہ وہ حافظ قرآن صحابی جن کا کام ہی قرآن کریم کو حفظ کرنا تھا وہ بھی ساتھ ہی بھول گئے اور پھر چونکہ ہر آیت لکھوا دی جاتی تھی وہ تحریریں بھی کس طرح ساتھ ہی محو ہوجاتی تھیں۔ حاشاء للہ ہرگز نہیں۔
مختصر یہ کہ قرآن کریم کی آیات کریمات کے اندر نسخ کا عقیدہ ان معنوں میں جو اوپر بیان ہوئے ہیں بالکل غلط ہے۔ صحابہ ؓ کے متعلق جو بعض روایات میں ایسے الفاط آگئے ہیں ان سے اس سے زیادہ کچھ مطلب معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ایک حکم کو جس میں کسی دوسرے کی تفصیل ہوجاتی تھی ایک رنگ میں اس کا نسخ کہہ دیتے تھے جیسے مثلاً پانی مل جانے سے تیمم کا حکم منسوخ ہوجاتا ہے ظاہر ہے کہ اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ حکم درحقیقت قابل عمل نہیں رہا بلکہ اسکی منشاء یہ ہے کہ ایک حکم بعض شرائط کے تحت دیا جاتا ہے جب تک وہ شرائط اور حالات پیدا نہ ہوں اس وقت تک اس حکم پر عمل نہیں ہو سکتا اور اس طرح کے بیسیوں احکامات ہیں جیسے قصر نماز ہے تیمم ، سفر میں روزہ ، بیماری کی حالت میں روزہ کا حکم ، زکوٰۃ کے استعمال کرنے اور نہ کرنے کا حکم ہے۔ یعنی ایک ایسا وقت آسکتا ہے ایک آدمی کیلئے زکوٰۃ حلال تھی اور حرام ہوگئی یا حرام تھی مگر حلال ہوگئی۔ وصیت ہے۔ سفارش ہے اگر ان پر نسخ کا لفظ اطلاق کرتا ہے تو اس سے آخر وہ کون ہے جو انکار کرتا ہے ؟ یا کون ہے جو انکار کرے گا ؟
Ayah 2:107نبوت عطائی یا وہبی چیز تھی کسبی نہیں کیا تم کو اتنی واضح بات بھی معلوم نہیں ؟
202: یہود کو اس بات قلق تھا کہ نبوت بنی اسماعیل کو کیوں مل گئی ؟ اور بنی اسرائیل کو کیوں نہ ملی ؟ بتایا جا رہا ہے کہ نبوت نہ تو کسبی چیز تھی اور نہ ہی خاندانی کہ جب ایک خاندان میں نبوت آئی تو دوسرے خاندان میں نہیں آسکتی تھی کیوں ؟ کیا یہ کسی کی وراثت ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیز ہے اور جس کو وہ اپنے قانون کے مطابق چاہتا تھا عطا کردیا کرتا تھا۔ جب اس نے چاہا نبوت کا پروگرام شروع کردیا اور جب اس نے چاہا ، نبوت جیسی رحمت کو بند کردیا اور اعلان کردیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ خاتم المرسلین ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ جس طرح کسی آنے والے نبی کا اقرار ایمانیات میں داخل تھا اسی طرح اب نبوت کا انقطاع یعنی خاتمہ بھی ایمانیات میں داخل ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ بادشاہ حقیقی تو میں ہوں یعنی اللہ تو میں ہی اپنے قانون کے مطابق اس کا استحقاق رکھتا ہوں کہ کار سازی اور مددگاری کروں اور میرے سوا کون ہے جو کسی کی مدد کرسکتا ہے یا کوئی کار ساز ہو سکتا ہے ؟ کیا تم اتنی واضح بات کو بھی نہیں سمجھ سکتے ؟
Ayah 2:108یہود کی اس شرارت کا بیان کہ وہ مسلمانوں کو بےجا سوالات پر اکساتے تھے :
203: اس آیت میں یہود کی اس شرا رت کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ سے بےجا سوالات پر برا نگیختہ کرتے تھے اس طرح مسلمانوں کے دلوں میں خلجان پیدا کرتے رہتے تھے۔ جس طرح مسلمانوں نے یہودیوں سے قبلے پر اعتراض سنے تو ان کے دلوں میں بھی خلجان پیدا ہوا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق کچھ سوالات کئے۔ انہیں جواب دیا گیا کہ جب تم نے شارع (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول تسلیم کرلیا اب اس کے احکام واوامر میں شبہ کی گنجائش کیسے رہ گئی ؟ جو شبہات تمہارے دل میں پیدا ہوگئے ہیں یا پیدا کئے گئے ہیں ان کی اصل غرض تو یہ ہے کہ تمہارے ایمان و اسلام میں خرابی آجائے اور بنیادی اصول غلط نظر آنے لگیں۔ کثرت سے سوال کرنا اور سمجھ سوچ کر سوال نہ کرنا پھر سوال سے سوال نکالتے ہی چلے جانا پھر فلسفیانہ موشگافیاں اور دور ازکار مباحث لاکھڑے کرنا تو یہود کا کام ہے اور ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ کس طرح انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے سوالات سے تنگ کردیا تھا پھر ان سوال و جواب کا کوئی نتیجہ بھی نکلا ؟ الاّیہ کہ ان کا اپنا حلقہ ہی تنگ ہوتا گیا۔ یاد رکھو کہ ایسے سوالات کرنا مسلمانوں کی شان سے بعید ہے۔
ویسے بھی جن لوگوں میں کام کرنے کی استعداد ہوتی ہے اور وہ نوع انسانی کی خدمت کرنا چاہتے ہیں انہیں فرضی سوالات کا بہت ہی کم موقع ملتا ہے کیونکہ انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی ہی سے فرصت نہیں ہوتی کہ ایسے فرضی سوالات کی طرف ان کا دماغ متوجہ ہو۔ البتہ بیکار لوگ برابر سوال کرتے رہتے ہیں اور یہ دیکھا گیا ہے کہ زیادہ باتیں کرنے والے اور فرضی سوالات اٹھانے والے ہمیشہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو اعمال میں کوتاہ ہوتے ہیں ان کے اعمال کی قلت کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی قلت عمل کی عادت اور بد عملی کو کثرت کلام میں چھپانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور وہ دراصل اس مصرعہ کے مصداق ہوتے ہیں کہ
^ جب تک سوکھے پتے ہیں آوارہ ، میں آوارہ ہوں
چنانچہ قرآن کریم نے مسلمانوں کو ان فرضی سوالوں سے بچنے اور فضول و بیکار سوال کرنے سے منع فرمایا ارشاد الٰہی ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْـَٔلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ 1ۚ وَ اِنْ تَسْـَٔلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ 1ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا 1ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ 00101 قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا کٰفِرِیْنَ 00102 (المائدہ 5 : 101 ۔ 102)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو ، جو تم پر ظاہر دی جائیں جو تمہیں نا گوار گزریں لیکن اگر تم اس وقت پوچھو گے جب کہ قرآن کریم نازل ہو رہا ہے تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی اب تک جو کچھ تم نے کیا سب اللہ نے معاف کردیا اور وہ درگزر کرنے والا اور بہت ہی بردبار ہے تم سے پہلے ایک گروہ یعنی یہود نے ایسے سوالات کئے تھے پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے۔ “
سوال انہوں نے کئے تھے جو بالکل لا یعنی اور بغیر کسی مقصد کے تھے لیکن تاہم جواب ان کو دیا گیا چونکہ جواب ان کی مزاج کے خلاف تھا وہ بگڑ گئے اور ایسے بگڑے کہ بگڑتے ہی چلے گئے اور آج بھی اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ خود لوگوں کو ان فرضی سوالوں اور بال کی کھال اتارنے والوں کو سمجھاتے رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال چھیڑا جو لوگوں پر حلال کی گئی تھی اور پھر محض اس کے سوال چھیڑنے کی بدولت وہ چیز حرام ہوگئی۔ “ مثلاً ایک آدمی پوچھتا ہے یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ ہر آدمی جانتا ہے کہ باپ ہمیشہ وہی ہوتا ہے جس کے ساتھ اس کی ماں کا نکاح ہوا تھا اور نکاح کے بعد عرف عام کی مدت کے بعد جو بچہ پیدا ہوا تو وہی اس بچہ کا باپ ہے یہ اسلام کا عرف ہے اور حقیقت حال کو اللہ کے سپرد کرنا پڑتا ہے لیکن علم الٰہی تو ہرچیز کو محیط ہے اگر پوچھنے والے کا کوئی ایسا جواب دیا جائے جو حقیقت پر مبنی اور عرف عام کے خلاف ہو تو بتائو اس سوال کے پوچھنے والے کی رسوائی کا ذمہ دار کون ہوا ؟
^نہ چھیڑتے تم ہم کو نہ تمہاری یہ رسوائیاں ہوتیں
بے جا سوالات بھی کفر تک پہنچنے کا سبب ہو سکتے ہیں :
204: اسلام کی ہدایت عام یہ ہے کہ اصول اسلام کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جہاں تک ہو سکے عمل کا دائرہ وسیع کیا جائے اور بات سے بات نکالنے کی عادت کو ترک کردیا جائے کیونکہ اسلام ایمان کے بعد عمل صالح کا تقاضا کرتا ہے اور دور ازکار باتوں سے منع کرتا ہے اسلام کہتا ہے کہ : کن یدا ولا تکن لسانا کہ زبان کی بجائے دست عمل بننے کی کوشش کر ۔ جیسا کہ پیچھے بتایا جا چکا ہے سیاق کلام سے واضح ہے کہ یہاں بھی اصل ذکر تو یہود ہی کا ہے اور وہی زیادہ سے زیادہ سوال اٹھانے کے عادی ہیں اور وہ اب بھی اپنی عادت سے باز نہیں آتے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کے ایک نبی کے صحیفہ کا اقتباس یہاں تحریر کردیا جائے۔
” سنو اے آسمانو ! اور کان لگا اے زمین ! کہ خداوندیوں فرماتا ہے کہ لڑکوں کو میں نے پالا پوسا پھر انہوں نے مجھ سے سرکشی کی بیل اپنے مالک کو پہچانتا ہے اور گدھا اپنے صاحب کی چرنی کو۔ بنی اسرائیل نہیں جانتے۔ میرے لوگ کچھ نہیں سوچتے ۔ آہ ، خطار کار گروہ۔ ایک قوم جو گناہ سے لدی ہوئی ہے ۔ بدکاروں کی نسل خراب اولاد کہ انہوں نے خداوند کو ترک کیا۔ اسرائیل کے خدا ہی کو حقیر جانا ، اس سے بالکل پھرگئے۔ “ (یسیعاہ 1 : 472)
Ayah 2:109اس چھیڑ چھاڑ سے یہود کی اصل غرض کیا ہے ؟
205: مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور تعلقات قائم رکھنے کی غرض وغایت ان کی یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقہ سے مسلمانوں کو دین حق سے منحرف کردیں ان کو بغض و عداوت مسلمانوں سے کیوں ہے ؟ صرف اور صرف اس لئے کہ بنی اسماعیل پر وحی کیوں نازل ہوئی۔ حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اب زمانہ کی ضروریات اس بات کی مقتضی ہیں کہ قرآن کریم کا نزول ہو ۔ کیونکہ تورات و زبور اور انجیل میں سے کسی ایک کو بھی انہوں نے اس کی اصل حالت پر نہیں رہنے دیا ۔ اس لئے اب ان میں سے کوئی کتاب بھی انسانوں کیلئے مفید ثابت نہیں ہو سکتی۔
جب ایک علامہ آدمی قانون کا اتباع چھوڑ دیتا ہے اور اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ بھی راہ حق سے منحرف ہوجائیں ورنہ اس پر اعتراض ہوں گے۔ یہی حال یہود کا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب کو تو ” ور آء ظہور “ کردیا اور اب مسلمانوں میں بھی یہی بےعملی کا مرض پیدا کرنے کی فکر میں ہیں اس لئے اعتراضات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے۔
مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ان لوگوں کا اصلی مقصد تو اسلام سے الگ کرنا ہے تو ان کے غصہ و انتقام کی کوئی حد نہ رہی کہ ان کی عزیز ترین متاع حیات پر حملہ ہو رہا ہے ۔ اب انہیں سمجھا دیا گیا کہ ابھی بدلہ لینے کا وقت نہیں آیا۔ اس وقت در گزر سے کام لینا مناسب ہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ جہاد فی سبیل اللہ کے احکام نافذ کرے چناچہ جب مسلمان اس کے لئے تیار ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی :
اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا 1ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ0039 ا۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ 1ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ کَثِیْرًا 1ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ 1ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ 0040 (الحج 22 : 39 ، 40)
” جن مؤمنوں کے خلاف ظالموں نے جنگ شروع کررکھی ہے اب انہیں بھی اس کے جواب میں جنگ کی رخصت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر سراسر ظلم ہورہا ہے اور اللہ ان کی مدد پر یقیناً قادر ہے وہ مظلوم ہیں جو بغیر کسی حق کے اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے۔ ان کا کوئی جرم نہ تھا اگر تھا صرف یہ کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے اور دیکھو اگر اللہ بعض آدمیوں کے ہاتھوں بعض آدمیوں کی مدافعت نہ کراتا رہتا تو کسی قوم کی عبادت گاہ زمین پر محفوظ نہ رہتی۔ خانقاہیں ، گرجے ، عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اس کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے سب کبھی کے ڈھائے جا چکے ہوتے۔ یاد رکھو جو شخص بھی اللہ کی سچائی کی حمایت کرے گا ضروری ہے کہ اللہ بھی اس کی مدد فرمائے کچھ شک نہیں کہ وہ یقیناً قوت رکھنے والا اور سب ہی پر غالب رہے۔ “
اب وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کو گویا معاندین و مخالفین کے ساتھ جنگ آزما ہونے کے لئے تیار کیا جارہا ہے اور اس کی پہلی بنیاد یہ رکھی ہے کہ یہود اور دوسرے مخالفین کی چالاکیوں کو واضح کر کے ان کا دو ٹوک جواب دینا شروع کیا ہے تاکہ مسلمانوں کی وہ جھجک دور ہوجائے جو ایک مدت سے ان کی زیادتیوں کو برداشت کر کر کے ان کے اندر پیدا ہوگئی ہے۔ اسی طرح یہود کی ایک چالاکی کا اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ : وَ قَالَتْ طَّآىِٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اکْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ0072
(آل عمران 3 : 72)
” اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صبح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کردو ، شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھرجائیں۔ “
گویا یہ ان چالوں میں سے ایک چال تھی جو اطراف مدینہ کے رہنے والے یہودیوں کے لیڈر اور مذہبی پیشوا اسلام کی دعوت کو کمزور کرنے کے لئے چلتے رہتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو بد دِل کرنے اور نبی کریم ﷺ سے عامہ خلائق کو بدگمان کرنے کے لئے خفیہ طور پر آدمیوں کو تیار کر کے بھیجنا شروع کیا تاکہ پہلے اعلانیہ اسلام قبول کریں پھر مرتد ہوجائیں اور ارتداد کے بعد جگہ جگہ لوگوں میں یہ مشہور کرتے پھریں کہ ہم نے اسلام میں اور مسلمانوں میں اور ان کے پیغمبر میں یہ اور یہ خرابیاں دیکھی ہیں تب ہی تو ہم ان سے الگ ہوگئے ہیں۔
اسلام ، اہل اسلام کو بھڑکا کر نہیں بلکہ سمجھا کر کام پر لگاتا ہے :
206: جب اہل کتاب اور دوسرے مخالفین اسلام نے اسلام کے خلاف ہر طرح کی چالیں شروع کردیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے ان کی ہر چال کو ننگا کرنا شروع کردیا اور کھول کھول کر بتانا شروع کیا کہ یہ لوگ اسلام کی مخالفت میں اس طرح کے انداز اس اور اس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ ان کی ان چالوں کو دیکھ کر مسلمانوں کا دل کھولتا تھا اور یہ فطری چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت جاری ہوتی ہے کہ عفو و درگزر سے کام لو۔ بھڑک کر نہیں سمجھ سوچ کر کام کرنے کی عادت کو اپناؤ ۔ تمہارے قدم اکھاڑنے کے لئے وہ جو بداعتدالیاں کرتے ہیں تم ان کی ساری بداعتدالیوں کو خاک میں ملا دو ، وہ کس طرح ؟ اس طرح کہ تم پتھر کی چٹان پر کھڑے ہو ، ریت کے ٹیلے پر نہیں۔ وہ ایسی بد اعتدالیاں کر کر کے تھک جائیں لیکن تم اعتدال کی راہ سے ایک انچ بھی نہ سرکو۔ تمہاری پرواز اتنی اونچی ہو کہ ان کی نظریں خیرہ ہوجائیں۔
دیکھو تم کو پختہ کرنے کے لئے دو باتوں کا حکم دیا جاتا ہے ایک ” عفو “ ہے اور دوسرا ” صفح “ ان دونوں ہتھیاروں کو دل کھول کر استعمال کرو۔ ان کے استعمال سے تمہاری قوت بڑھے گی اور اچھی طرح سمجھ لو کہ ” عفو “ کا مطلب یہ ہے کہ ان کی حرکات کو اس وقت اپنے دل سے اس طرح فراموش کر دو کہ باوجود زور دینے کے پھر بھی یاد نہ آئیں اور ” صفح “ کا منشا یہ ہے کہ ان باتوں کی طرف توجہ تک نہ دو کیونکہ جب ان باتوں کی یاد تمہارے دل میں تازہ ہوگی تو فوراً بھڑک اٹھو گے اس لئے عفو سے کام لو اور آنے والے وقت کے لئے تیار ہوجاؤ اور وہ وقت وہ ہے جب تم کو جہاد فی سبیل اللہ کی اجازت ہوگی لیکن یاد رکھو کہ جہاد سے قبل جہاد کی اہمیت سمجھو۔ افسوس کہ ان آیات کو منسوخ قرار دیا گیا جن میں عفو و درگزر کا ذکر آیا اور کہا گیا کہ جہاد کی فرضیت نے ان آیات کو منسوخ کردیا۔ وائے حسرتا ! یہ کیسی بات کہہ دی ان آیات کا منشا کیا تھا اور ان کو کیا بنا دیا گیا ؟
یہ فرصت کا وقت ہے اس کو غنیمت جانو اور لڑائی یعنی جہاد کیلئے جن ابتدائی امور اور اخلاق و جذبات کی ضرورت ہوتی ہے ان کی مشق ان ایام میں کرلو ، نماز ، زکوٰۃ ، روزہ ، حج ابتدائی تعلیم کے قائم مقام ہیں جب تک ان میں کمال نہ پیدا ہوگا۔ جہاد میں کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔