2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بلاشبہ صفا اور مروہ دونوں پہاڑیاں اللہ کی رحمت و حکمت کی نشانیوں میں سے ہیں ، پس جو شخص حج یا عمرہ کی نیت سے اس گھر کا قصد کرے تو اس کے لیے کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرے اور جو کوئی خوشدلی کے ساتھ نیکی کا کوئی کام کرتا ہے تو اللہ ہر عمل کی اس کی منزلت کے مطابق قدر کرنے والا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے

صفا اور مروہ دو پہاڑیاں ہیں جو بیت اللہ کے بالکل قریب ہیں : 281: ہر تعلیم کی کامیابی کے لئے تین چیزوں کی ضرورت ہے : ! نصاب تعلیم ،" معلم اور # تعلیم گاہ ، تینوں ہی چیزیں جتنی معیاری ہوں گی تعلیم اتنی ہی صحیح ہوگی ۔ اسلام نے ان تینوں ضرورتوں کو بہترین طریقہ سے پورا کیا غور کیجئے کہ : ! نصاب تعلیم بہترین ہو کہ اس سے قوم کے بچوں میں حس و بیداری پیدا ہوگی ، جوش وولولہ عمل سے قوم زندہ ہوجائے گی اور جذبہ قومیت ووطنیت ہر شخص میں نظر آئے گا۔ اسلام نے قرآن کریم کو نصاب تعلیم تجویز کیا فرمایا : لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ 1ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ 0042 ( حم السجدہ 41 : 42 ) یہ ایسا نصاب تعلیم ہے کہ نہ تو اس کے آگے باطل جم سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے اسے جگہ مل سکتی ہے وہ خدائے حکیم و مجید کا اتارا ہوا ہے پھر باطل کا یہاں سے کیسے گزر ہو ؟ اس کی نسبت حضرت عمر ؓ نے فرمایا : حسبنا کتاب اللہ۔ " معلم کا وجود اس تعلیم کا بہترین نمونہ ہو کہ تعلیم محض بالکل بےکار ہے جب تک اس کے ساتھ انسانی نمونہ عمل نہ ہو چناچہ اسلام کے معلم رسول اللہ ﷺ ہیں : یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ 1ۗ ، آپ خود اس تعلیم کے اکمل ترین نمونہ ہیں ، فرمایا : لَقَدْ کَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب 33 : 21) ” بیشک رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ان لوگوں کے لئے پیروی اور اتباع کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ “ یہی وجہ ہے کہ : وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ 004 کی تفسیر میں سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ : کان خلقہ القرآن ، رسول اللہ ﷺ کا خلق قرآن کریم ہے۔ #تعلیم گاہ ایسی ہو جس کی روایات شاندار ہوں اور جس کی تربیت نے بہترین افراد امت پیدا کئے ہوں۔ اسلام کی درسگاہ حریت یہی بیت اللہ ہے جس میں آنے کی ہر مسلمان کو دعوت دی : وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا 1ؕ ۔ تہذیب اخلاق کے باب میں جن جذبات صحیحہ کی تعلیم دی گئی ان کی تربیت و تکمیل کے لئے فرمایا کہ صفا اور مروہ کا طواف کرلیا کرو یعنی صفا ومروہ کے درمیان سعی ایک مفید عمل ہے کہ کثرت کار اور والہانہ مشق کی بنا پر ہر وقت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے مقامات اور تعمیر بیت اللہ کے اعمال یاد آتے رہیں ہے اور بتدریج وہی اخلاق و جذبات جڑ پکڑیں گے جو ان دونوں بزرگوں کے اندر موجود تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس گھر کی بنا اس لئے ڈالی تھی کہ اس جگہ مجاہدین فی سبیل اللہ تیار ہوں جو پوری دنیا اسلام کے غازی ہوں۔ اس لئے سپاہیانہ زندگی کے لوازمات کی تکمیل بھی اس جگہ ہو سکتی ہے آپ آگے چل کر دیکھیں گے کہ جس جگہ سورة بقرہ میں احکام حج بیان کئے گئے ہیں اس کے ساتھ جہاد کے فرائض کا بھی تذکرہ ہے اگر قرآن کریم کی آیات کریمات باہم دگر مربوط و مسلسل ہیں تو وہاں اس کے سوا اور کوئی معنی ہو ہی نہیں سکتے کہ حج اور جہاد کا آپس میں کوئی نہایت ہی گہرا تعلق ہے۔ جو لوگ اس کا باربار طواف کر کے اپنے جذبات صحیحہ کی تکمیل کریں گے اللہ تعالیٰ ان امتیازات کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ صحیح موقع پر ان سے کام لے لے گا وہ موقع کونسا ہوگا اس کو اللہ کے سوا دوسرا نہیں جانتا۔ جب میدان جنگ میں مسلمانوں اور کافروں کی صفیں آراستہ ہوں گی کامیابی کے لئے صبر و استقامت اور عزم و استقلال کی ضرورت ہوگی اس وقت مسلمان دعا کریں گے : رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ00250 (البقرہ 2 : 250) ” اے اللہ ! اے ہمارے رب ! صبر کے جام ہم پر انڈیل دے کہ عزم و ثبات سے سیراب ہوجائیں اور ہمارے قدم میدان جنگ میں جمادے اور پھر ایسا کر کہ منکرین حق کے گروہ پر ہم فتح مند ہوجائیں ۔ “ اس وقت ان جذبات صحیحہ سے کام لیا جائے گا ۔ صفا اور مروہ بیت اللہ کے قریب دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان دوڑنا سعی یا طواف صفاو مروہ کہلاتا ہے۔ کبھی تو وہ دونوں فی الواقعہ پہاڑیاں تھیں لیکن اس وقت محض چٹان کی سی معمولی بلندیاں رہ گئی ہیں صفا حرم شریف کی داہنی جانب اور مروہ بائیں جانب ہے دونوں کے درمیان فاصلہ 493 قدم کے قریب ہے ۔ صفا کے معنی صاف پتھر یا چٹان کے ہیں اور مروہ کے معنی سفید نرم پتھر کے ۔ شعائر اللہ یعنی قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں یا علامتیں یعنی مناسک حج میں سے ہیں۔ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے جو فرض ہے اور عمرہ سنت ہے : 282: ذوالحجہ کی مقررہ تاریخوں میں بیت اللہ کی جو زیارت مع احکام زیارت کی جاتی ہے اس کو حج کہتے ہیں اور ان تاریخوں کے سوا دوسرے دنوں میں جو زیارت کی جاتی ہے وہ عمرہ کہلاتی ہے اور دونوں کے احکامات کی تفصیل آگے آئے گی ۔ مختصر یہ کہ حج عبادات اسلامی کا چوتھا رکن ہے یعنی چوتھا فریضہ۔ امت کے ہر فرد پر خواہ وہ دنیا کے کسی علاقہ کا باشندہ ہو بہ شرط استطاعت و صحت و امن راہ اور زاد راہ کے عمر میں ایک بار فرض ہے گویا دنیائے اسلام کی بین الاقوامی سالانہ کانفرس۔ حج میں جو چیزیں فرض ہیں وہ تین ہیں : ! احرام یعنی حدود حرم میں داخلہ سے پہلے عام لباس اتار کر احرام باندھنا۔ " میدان عرفات میں 9 /ذی الحجہ کو حاضری جس کو اصطلاح میں وقوف کہتے ہیں ۔ #طواف زیارۃ یعنی وقوف کے بعد خانہ کعبہ کا طواف۔ حج میں سنت مؤکدہ چار چیزیں ہیں : ! نویں اور دسویں ذی الحجہ کی درمیانی شب مزدلفہ میں قیام۔ " صفاو مروہ کے درمیان آمدورفت جس کا اصطلاحی نام سعی ہے۔# مزدلفہ میں قیام کے بعد منیٰ میں کنکریاں پھینکنا جس کا اصطلاحی نام رمی جمرات ہے۔ $ طواف ِکعبہ یہ فرض کے علاوہ ہے اور طواف صدر کہلاتا ہے ۔ قربانی کرنا ، سر کے بال اتروانا ، غسل کرنا بھی بعض اوقات سنت موکدہ اور بعض اوقات غیر مؤکدہ ہے ۔ عمرہ کا دوسرا نام حج صغیر ہے اس میں حج کی طرح مہینہ اور تاریخ کی قید نہیں ہے اور نہ ہی وقوف عرفات ہے اور نہ قیام مزدلفہ ہے اور نہ ہی منیٰ میں جانا یا قربانی کرنا ۔ یہ پورے سال میں ان مخصوص دنوں کے علاوہ ہر وقت ہو سکتا ہے ۔ عمرہ کی نیت سے احرام حدود حرم سے پہلے باندھ کر حرم میں داخل ہونا طواف ِکعبہ اور سعی بین الصفاء والمروہ کے بعد بال کٹوادینا عمرہ کہلاتا ہے اور اب احرام کھول دیا جائے گا فقط۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآىِٕدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا 1ؕ (المائدہ 5 : 2) ” مسلمانو ! شعائر اللہ کی یعنی خدا پرستی کی مقرر کی ہوئی نشانیوں اور آداب اسلامی کی بےحرمتی نہ کرو اور نہ ان مہینوں کی بےحرمتی کرو جو حرمت کے مہینے ہیں اور نہ حج کی قربانی کی ، نہ ان جانوروں کی جن کی گردنوں میں بطور علامت کے پٹّے ڈال دیئے ہیں نیز ان لوگوں کی بھی بےحرمتی نہ کرو یعنی انکی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالو اور انہیں کسی طرح نقصان نہ پہنچاؤ جو بیت حرام یعنی کعبہ کا قصد کرتے ہیں اور اپنے پروردگار کا فضل اور اس کی خوشنودی ڈھونڈتے ہیں۔ “
Ayah 2:159

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جن لوگوں کا شیوہ یہ ہے کہ وہ ان باتوں کو چھپاتے ہیں جو سچائی کی روشنیوں میں سے ہم نے نازل کی ہیں ، باوجودیکہ ہم نے انہیں کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے تو یقین کرو ، ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنتیں بھی ان کے حصے میں آتی ہیں

احکام حق کو چھپانے والے اللہ کی لعنت کے سزاوار ہوتے ہیں : 283: کتاب اللہ کی تعلیم و تذکیر ایک مقدس جماعتی فریضہ ہے جو لوگ دنیا کے خوف یا طمع سے حق کو چھپاتے ہیں وہی دراصل بداخلاق ہیں ۔ اچھے اخلاق وہی ہیں جن کو ہر مذہب وملت میں اچھے ہی تسلیم کیا جاتا ہے کتاب الٰہی میں ان کے بیان کرنے سے مقصد یہی ہے کہ ان کی نشرواشاعت ہو اور لوگ ان سے فائدہ حاصل کریں مگر جو بدبخت ان کی تبلیغ و دعوت سے گریز کرتے ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو جنگل میں پانی کے ایک شیریں چشمہ پر قابض ہے مگر نہ تو انسانوں کی تشنہ لبی کو دور کرتا ہے اور نہ کسی جانور کو اپنی پیاس بجھانے دیتا ہے ایسے شخص پر زمین و آسمان کی ہرچیز لعنت کرے گی ۔ یہی حال ان ارباب ِعلم کا ہوگا جو اپنے علم کو چھپاتے ہیں حالانکہ ان سے وعدہ لیا گیا تھا کہ وہ اس کی نشرواشاعت میں مصروف ہوجائیں گے۔ علمائے یہود کا سب سے بڑا قصور یہ تھا کہ انہوں کتاب اللہ کے علم کی اشاعت کرنے کی بجائے اس کو رہبوں اور مذہبی پیشہ وروں کے ایک محدود طبقہ میں مقید کر رکھا تھا اور عامہ خلائق تو دو کنار خود یہودی عوام تک کو اس کی ہوا تک نہ لگنے دیتے تھے۔ پھر جب عام جہالت کی وجہ سے ان کے اندر گمراہیاں پھیلیں تو علماء نے نہ صرف یہ کہ اصلاح کی کوئی کوشش کی بلکہ وہ عوام میں اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کے لئے ہر اس ضلالت و بدعت کو جس کا رواج عام ہوگیا تھا اپنے قول و عمل سے یا اپنے سکوت سے الٹی سند ِجواز عطا کرنے لگے۔ اس سے بچنے کی تاکید مسلمانوں کو کی جارہی ہے لیکن افسوس کہ آج علمائے اسلام بھی اس گمراہی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ کیا ان کو معلوم نہیں رہا کہ جو سزا یہود کو دی گئی تھی اسی سزا میں آج وہ بھی مبتلا ہوچکے ہیں ؟ ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے : وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا 1ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ 00187 (آل عمران 3 : 187) ” اور اہل کتاب کو وہ وعدہ بھی یاد دلاؤ جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا اور انہیں پوشیدہ نہیں رکھنا ہوگا۔ مگر انہوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اسے بیچ ڈالا کتنا برا کاروبار ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ “ یہاں جس عہد کا ذکر کیا گیا ہے اس کا ذکر جگہ جگہ بائیل میں آتا ہے خصوصاً موسیٰ (علیہ السلام) کی آخری تقریر جو نقل کی گئی ہے اس میں تو وہ بار بار بنی اسرائیل سے عہد لیتے ہیں کہ ” جو احکام میں نے تم کو پہنچائے ہیں انہیں اپنے دل پر نقش کرنا ، اپنی آئندہ نسلوں کو سکھانا ، گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اٹھتے ہر وقت ان کا چرچا کرنا ، اپنے گھر کی چوکھٹوں پر اور اپنے پھاٹکوں پر ان کو لکھ لینا۔ “ (استثناء 6 : 4 ، 9) پھر انہوں نے اپنی آخری وصیت میں تاکید کی کہ ” فلسطین کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد پہلا کام یہ کرنا کہ کوہ عیسال پر بڑے بڑے پتھر نصب کر کے تورات کے احکام ان پر کنندہ کروادینا۔ “ (استثناء 27 ، 2 ، 4) بنی لاوی کو توراۃ کا ایک نسخہ دے کر ہدایت فرمائی کہ : ” ہر ساتویں برس عید خیام کے موقع پر قوم کے مردوں ، عورتوں اور بچوں سب کو جگہ جگہ جمع کر کے یہ پوری کتاب لفظ بہ لفظ ان کو سناتے رہنا۔ “
Ayah 2:160

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

مگر ہاں ! جن لوگوں نے توبہ کرلی اور اپنی بگڑی ہوئی حالت سنوار لی اور ان کو بیان کرنے کا شیوہ اختیار کرلیا تو ایسے ہی لوگ ہیں جن کی توبہ ہم قبول کرلیتے ہیں اور ہم بڑے ہی درگذر کرنے والے بخش دینے والے ہیں

فساد کی اصلاح کریں جو چھپایا ہے ظاہر کردیں تو یہ ان کی تو بہ ہوگی : 284: توبہ کرنے سے مراد ہے باز آنا۔ نادم ہونا اور عزم و ارادہ کو ترک کرکے فساد کی اصلاح کرلینا اپنی آسمانی کتابوں کے ان مضامین کو جنہیں وہ اب تک چھپاتے رہے تھے ظاہر کردینا یعنی وہ پیشگوئیاں جو رسول عربی ﷺ کے متعلق ان کی آسمانی کتابوں میں موجود ہیں اور وہ جان بوجھ کر ان کو چھپائے ہوئے ہیں ان کو ظاہر کردیں تو یقیناً تلافی ہوجائے گی ۔ اور یہ تائبین لعنت الٰہی کی زد سے نکل جائیں گے بلکہ رحمت ومغفرت الٰہی کے ماتحت بھی آجائیں گے۔ توبہ اور قبول توبہ کا بیان قرآن کریم میں بار بار آتا رہتا ہے ۔ اس جگہ توبہ کے ساتھ قید کی اصلاح اور تبیین کی لگی ہوئی ہے یعنی جو فساد پھیلا تھا اس کی اصلاح اور جو چھپایا تھا اس کا اظہار۔ مطلب یہ ہے کہ جن گناہوں سے صرف حقوق اللہ کی خلاف ورزی ہوتی ہے مثلاً نماز ، روزہ کا ترک اس کے لئے محض توبہ و استغفار کافی ہے کہ اس کا تعلق صفات و رحمانیت سے ہے لیکن جن گناہوں سے بندوں کی حق تلفی لازم آتی ہے مثلاً قتل ، چوری ، بدامنی ، سود خوری عقائد باطلہ کا اعلان ان کے لئے ضروری ہے کہ ہر متعین معصیت کے ضرر کا عملی تدراک بھی بقدر امکان کرلے جب توبہ قبول ہوگی کہ یہاں واسطہ حق تعالیٰ کی صفت عدل سے ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص کفر و بدعت کی طرف لوگوں کو بلانے والا ہو وہ بھی جب سچے دل سے توبہ کرلے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلے تو اس کی توبہ بھی قبول ہوجاتی ہے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ توبہ ، توبہ کرنے سے توبہ نہیں ہوتی بلکہ توبہ نام ہے غلط کاموں کے چھوڑدینے کا۔ فساد کو اصلاح سے بدل دینے کا۔ برائی کو اچھائی سے تبدیل کرنے کا۔ قرآن کریم کا بار بار توبہ پر زور دینا ایک طرف ان گمراہ قوموں کے مقابلہ میں ہے جو سمجھتے ہیں کہ قانون مکافات عمل جس کو اردو زبان میں ” کرم “ کہتے ہیں ہر حال اور ہر صورت میں اپنا عمل کر کے رہتا ہے اور کوئی الٰہی قوت اس پر غالب نہیں آسکتی اور دوسری طرف ان گمراہ قوموں کے مقابلہ میں جو سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صفت رحیمی کا اظہار پوری طرح کر ہی نہیں سکتا اور اس کی صفت عدل کے تقاضا کو پورا کرنے اور گنہگاروں کو معافی دلانے کے لئے کسی کفارہ کا وجود لازمی ہے جس طرح مسیحیوں کے لئے ان کے عقیدہ میں عیسیٰ (علیہ السلام) کفارہ ہوئے۔
Ayah 2:161

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے راہ حق سے انکار کیا اور پھر مرتے دم تک اسی پر قائم رہے ، تو یہ وہی لوگ ہوں گے جن پر اللہ کی ، اس کے فرشتوں کی اور انسانوں سب کی لعنت ہوئی

کفر پر قائم رہنے والوں کے لئے اللہ اور اس کی تمام مخلوق کی لعنت ہے : 285: کفر پر قائم رہنے کا مطلب واضح ہے کہ وہ کفر پر قائم رہتے ہوئے مر گئے اور اس دار العمل سے انتقال کر کے وہ دار الجزاء کی طرف منتقل ہوگئے۔ جب تک کوئی شخص زندہ ہے وہ کتنا ہی گنہگار ہو اس پر لعنت کرنا جائز نہیں سوائے اس کے کسی کو متعین کر کے کہا جائے جیسے یہ کہا کہ جھوٹے پر لعنت یا یہ کہنا کہ چور پر لعنت اور مؤمن کے لئے لعنت تو اس کے قتل کرنے کے مترادف ہے یعنی اتنا گناہ اور ظلم ہے جتنا کسی کو ناحق قتل کرنا بلکہ زندگی میں تو کافر متعین تک کو بھی لعنت کی اجازت نہیں۔ ” وَ مَاتُوْا “ کی قید نے خود مسئلہ صاف کردیا کہ یہاں جن پر لعنت آئی ہے ان کی موت ہی کفر پر ہوچکی تھی اور اصل مدار ختم اعمال یا وفات پر ہے ۔ اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنا چاہئے جو اپنے کسی بھائی کو لغزش میں مبتلا دیکھ کر جھٹ اس پر لعنت بھیجنے لگتے ہیں اور خصوصاً یہ عورتوں کی عادت تو راسخ ہی ہوچکی ہے۔ لعنت کیا ہے ؟ اللہ کی رحمت سے دوری کا نام اصل میں لعنت ہے شیطان کا لعنتی ہونا عام لوگوں میں معروف ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کردیا گیا ہے یعنی اس پر کبھی بھی اللہ کی رحمت نازل نہیں ہوتی اور نہ ہی رحمت نازل ہونے کا کوئی امکان ہے اس طرح جو لوگ ہمیشہ دوزخ میں رہنے کے مستحق ہوگئے گویا وہ اللہ کی رحمت سے ہمیشہ ہمیشہ دور کردیئے گئے اور دوسرے لفظوں میں وہ اللہ کی لعنت کے مستحق ہوگئے اور جو شخص اللہ کی لعنت کا مستحق ہوا اس پر گویا فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہوگئی۔
Ayah 2:162

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی حالت میں رہنے والے ہیں ، یقینا نہ تو ان کے عذاب میں کبھی کمی کی جائے گی اور نہ ہی انہیں مہلت ملے گی

ابدی محروموں کے لئے نہ تحفیف ہوگی اور نہ ہی مہلت دی جائے گی : 286: تخفیف کا تعلق بعد عذاب سے ہے اور مہلت کا تعلق قبل عذاب سے ۔ یعنی جن لوگوں کے لئے ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں رہنے کا فیصلہ ہوگیا وہ ابدی طور پر رحمت الٰہی سے محروم ہوگئے ایسے محروموں کے لئے نہ تو عذاب میں تحفیف ہوگی اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ان کے لئے تخفیف نہیں ہوگی اور نہ ہی عذاب میں داخل ہونے سے پہلے کوئی مہلت انہیں ملے گی۔ آیات مذکورہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آیات بینات نازل کی گئی ہیں ان کا لوگوں سے چھپانا بڑا جرم ہے۔ اتنا بڑا جرم کہ اس پر اللہ اور اس کی تمام مخلوق کی لعنت برستی ہے جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ جس علم کے اظہار اور پھیلانے کی ضرورت ہے اس کا چھپانا حرام ہے چناچہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرمی ہے۔ من سئل عن علم یعلمہ فک تمہ الجمہ اللہ یوم القیامۃ بلجام من النار (رواہ ابوداود و عمرو بن عاص اخرجہ ابن ماجہ) یعنی جو شخص دین کے کسی حکم کا علم رکھتا ہے اور اس سے وہ حکم دریافت کیا جائے اگر وہ اس کو چھپائے گا تو قیامت کے روز اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔ بات تو بالکل واضح ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو عالم یا فقیہ نہ ہوں علماء وفقہاء نے اس آیت سے جو مسائل نکالے ہیں ان کو بھی ذرا سن لو اور یا درکھو کہ علماء و فقہاء کن کو کہا جاتا ہے۔ ! حضرات فقہاء نے فرمایا کہ یہ وعید اس صورت میں ہے جب کہ اس کے سوا کوئی دوسرا آدمی مسئلہ کا بیان کرنے والاوہاں موجود نہ ہو اگر دوسرے علماء موجود ہوں تو گنجائش ہے کہ یہ کہہ دے کہ دوسرے علماء سے دریافت کرلو۔ " جس کو خود صحیح علم نہیں اس کو مسائل و احکام بتانے کی جرأت نہیں کرنا چاہتے۔ #یہ بھی معلوم ہوگیا کہ علم چھپانے کی یہ سخت وعید انہیں علوم مسائل کے متعلق ہے جو قرآن و سنت میں واضح بیان کئے ہیں اور جن کے ظاہر کرنے اور پھیلانے کی ضرورت ہے وہ باریک اور دقیق مسائل جو عوام نہ سمجھ سکیں بلکہ خطرہ ہو کہ وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا ہوجائیں گے تو ایسے مسائل و احکام کا عوام کے سامنے بیان نہ کرنا ہی بہتر ہے اور وہ کتمان علم کے حکم میں سے نہیں ہے کیونکہ آیت مذکورہ میں لفظ ” مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى “ سے اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ایسے ہی مسائل کے متعلق عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا اگر تم عوام کو ایسی احادیث سناؤ گے جن کو وہ پوری طرح نہ سمجھ سکیں تو ان کو فتنہ میں مبتلا کر دو گے۔ اس طرح صحیح بخاری میں حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا عام لوگوں کے سامنے صرف اتنے ہی علم کا اظہار کرو جس کو ان کی عقل و فہم برادشت کرسکے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کریں۔ کیونکہ جو بات ان کی سمجھ سے باہر ہوگی ان کے دلوں میں اس سے شبہات وخدشات پیدا ہوں گے اور ممکن ہے کہ اس سے انکار کر بیٹھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ عالم کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ مخاطب کے حالات کا اندازہ لگا کر کلام کرے جس شخص کے غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو اس کے سامنے ایسے مسائل بیان ہی نہ کرے اس لئے حضرات فقہاء بہت سے مسائل کے بیان کے بعد لکھ دیتے ہیں : ھذا ھما یعرف ولا یعرف یعنی یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اہل علم کو خود تو سمجھ لینا چاہئے مگر عوام میں پھیلانا نہیں چاہئے۔ معلوم ہوگیا ہوگا کہ جن باتوں کو علماء بیان نہیں کرتے وہ کیوں بیان نہیں کرتے ؟ اور پھر بیان کرنے والوں کو وہ جاہل اور اَن پڑھ کا فتویٰ کیوں لگاتے ہیں ؟ وہ اسلامی درس گاہوں میں مخصوص علوم کیوں پڑھاتے ہیں ؟ وہ جدید علوم کو علوم کیوں نہیں سمجھتے ؟ وہ ان علوم پر الحاد اور کفر کے فتوے کیوں لگاتے ہیں ؟ وہ ہر ایجاد سے فائدہ حاصل کرنے کے باوجود موجد پر کفر کی ضرب کیوں لگاتے ہیں ؟ وہ اپنی مخصوص مجلسوں میں جو بیان کرتے ہیں وہ عوام کی مجالس میں بیان کرنے سے کیوں گریزاں ہیں ؟
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور تم سب کا معبود ایک ہی ہے ، کوئی معبود نہیں مگر صرف اسی کی ذات رحمت والی اور پیار کرنے والی ہے

پوری کائنات اور انسانیت کا معبود حقیقی ایک ہی ہے : 287: یہاں خطاب ساری نوع انسانی سے ہے ۔ نفس وجود ساری باری تعالیٰ تو مشرکین عرب کو بھی تسلیم تھا اور آج بھی ساری مشرک قوموں کو تسلیم ہے ۔ لیکن مشرکین عرب ہوں یا عجم ہندوستانی ہوں یا پاکستانی علاوہ خدائے اعظم و برتر کے اور بھی بہت سے چھوٹے خدایا دیوتا یا داتا تسلیم کرتے ہیں بلکہ مشرکین قدیم و جدید اپنی قوم کے علاوہ دوسری قوموں کے یہاں تک کہ اپنی دشمن قوموں کے بھی دیوتاؤں اور داتاؤں کے وجود کے قائل تھے ۔ ان کی طاقت و قوت کے قائل تھے۔ ان کی خدائی کے قائل تھے بس غیر قوموں کے معبودوں کی عبادت سے منکر تھے اور اس کی توجیہ یہ کرتے تھے اور کرتے ہیں کہ دشمن کا دیوتا یا داتا بھی دشمن ہی ہوگا ! قرآن کریم نے آکر اس عقیدے پر ضرب لگائی اور دعوے سے باربار اعلان کیا کہ قابل پر ستش و ناقابل پرستش ہونا کیسا ؟ کسی دوسرے دیوتا یا داتا کا وجود ہی سر سے نہیں۔ نہ بڑے کانہ چھوٹے کا نہ ملکی کا اور نہ غیر ملکی کا اور اللہ کے ساتھ شریک کا وجود محض وہم انسانی کی ایک اختراع ہے ۔ یعنی اللہ وہ ذات ہے جو مظہر ہے کامل رحمانیت کا بھی اور رحیمیت کا بھی دونوں صفتیں اسی کی ذات پر ختم ہیں کوئی اس کا شریک نہ اس صفت میں ہے نہ اس صفت میں یعنی نہ رحمانیت میں ہے نہ رحیمیت میں۔