Ayah 2:127کعبہ کی تعمیر ابراہیمی تعمیراول نہیں تھی :
237: یرفع کا لفظ ہی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ بنیادیں اول بار رکھی نہیں جا رہی تھی وہ تو حضرت آدم (علیہ السلام) اپنے عہد میں رکھ گئے تھے۔ عمارت کے منہدم ہوجانے کے بعد اب انہیں ازسر نو اٹھایا جا رہا تھا اور بلند کیا جا رہا تھا اہل کتاب کو اور خصوصاً مسیحوں کو بیت اللہ سے جو ضد ہے اس کی قدامت سے جو کد ہے اس کے پہلا گھر ہونے سے بالکل ظاہر ہے وہ ہر امکانی کوشش اپنے قلم سے اس کی مخالفت میں کرچکے ہیں لیکن حقیقت اس کے باوجود حقیقت ہی ہے ۔ آفتاب کے وجود سے پھر وہ بھی روز روشن میں آخر انکار کہاں تک کیا جاسکتا ہے ؟ جارج سیل اپنے ترجمہ قرآن میں تحریر کرتا ہے کہ مکہ جسے بکہ بھی کہا گیا ہے اور یہ دونوں الفاظ مترادف ہیں اور ان کے مقام اجتماع عظیم کے ہیں یقیناً دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ہے اور بعض کی رائے میں تو ریت کے شہرمیسا سے یہی مراد ہے ” اور بار سوتھ اسمتھ لکھتے ہیں :
” بنا کعبہ کا سلسلہ حسب روایات ابراہیم واسمٰعیل تک پہنچتا ہے بلکہ شیث اور آدم تک اور اس کا نام بیت ایل خود اس پر دلالت کرتا ہے کہ اسے ابتدائی شکل میں کسی ایسے ہی بزرگ قبیلہ نے تعمیر کیا ہے۔ “ (ص 166) اور مسیحوں میں سب سے بڑھ کر شہادت سرولیم میور کے قلم سے ہے وہ کہتے ہیں کہ : ” مکہ کے مذہب کی تاریخ بہت ہی قدیم ماننا پڑتی ہے روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کعبہ ایک نامعلوم زمامہ سے ملک عرب کا مرکز چلا آتا ہے جس مقام کا تقدس اتنے وسیع رقبہ میں مسلّم ہو اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کی بنیاد قدیم ترین زمانہ سے چلتی آتی ہے۔ “
(لائف آف محمد ، مقدمہ ص 102 ‘ 103)
کعبہ کی پہلی تعمیر جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) سے بہت پہلے کی تھی لیکن اس کے منہدم ہوجانے کی وجہ سے ان دونوں بزرگوں نے تعمیر کیا پھر منہدم ہوا تو بنو جرہم ، بنو عمالقہ ، قصی اور قریش نے بھی اپنے اپنے وقت میں اسکی تجوید کی ۔ تجوید عمارت کی ضرورت کیوں پیش آتی رہی ؟ ظاہر ہے کہ مرور زمانہ کے اثرات یا سیلاب کے صدموں کی بنا پر اس کی ضرورت پیش آتی رہی ۔ اس میں اعجازیہ ہے کہ پانچ ہزار سال تک جب سے تاریخ روشنی میں آتی ہے کسی غیر قوم نے قبضہ کر کے اس کو نہیں گرایا یہ ایسا شرف ہے جو دنیا کے کسی عبادت خانہ کو حاصل نہیں ہوا۔ جس وقت یہ پیغمبران جلیل یعنی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) خانہ کعبہ کی اساس و بنیاد کو بلند کر رہے تھے تو ان کی زبان پر یہ دعائیہ کلمات جاری تھے اے اللہ ! جس مقصد کے لئے ہم اس گھر کی تعمیر کر رہے ہیں اس کو ضرور پورا کیجیو ، تُو ہماری دعاؤں کو سنتا اور نیتوں کو جانتا ہے ، شہرت وناموری کی آرزو نہیں بلکہ منشایہ ہے کہ اے اللہ ! تیری توحید کا مرکز بنا دیا جائے۔
مثل ہے کہ ہاتھ کار میں ، دل یار میں :
238: دنیا کے باسیوں کو دعا کا طریقہ سمجھایا جا رہا ہے کہ آؤ اس رب جلیل کو پکارنے کا طریقہ سیکھو۔ دنیا کی تاریخ اٹھاؤ اور پڑھو اور آج بھی اس کا مشاہدہ کر کے دیکھو کہ مزدور جب کام کرتے ہیں تو اپنی تھکاؤٹ کو کس طرح دور کرتے ہیں ؟ کام بھی کرتے ہیں اور کچھ گنگناتے بھی جاتے ہیں ۔ یہاں اللہ کا گھر تعمیر کیا جا رہا ہے باپ معمار ہے اور بیٹا مزدوری کر رہا ہے ان کو اس کام پر کسی نے نہیں لگایا مگر اپنے شوق نے۔ انکو مزدوری کون دیگا ؟ کوئی دنیا کا انسان نہیں بلکہ انکی تو صدا ہے : ” اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ 1ۙ “ اللہ کے گھر کے یہ معمارو مزدور بھی اللہ کے گھر کی دیواریں اٹھاتے وقت خاموش نہ تھے۔ یہ اپنی تکان دور کرتے ہیں تو زبان سے ایک مناجات بیان ہو رہی ہے : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا 1ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ 00127 اے ہمارے رب ! ہمارا یہ عمل تیرے حضور قبول ہو۔ بلاشبہ تو ہی ہے جو دعاؤں کا سننے والا اور جاننے والا ہے۔ “ دعا کا طریقہ سکھایا جا رہا ہے کہ پوری لگن سے اللہ کی رضا کیلئے ساری ہمت لگاؤ ۔ عمل صالح میں پورا زور لگا دو لیکن ساری کوششوں کے باوجود صرف اپنے عمل ہی پر انحصار نہ کر بیٹھو بلکہ اللہ کا شکر ادا کرو اور اس سے مزید مغفرت طلب کرو اور مغفرت طلب کرتے وقت اپنی کمزوریوں کو مدنظر رکھو ۔ فقہائے اسلام نے اس سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ ہر عمل صالح کے بعد دعا کرنا مستحب ہے لہٰذا دعا کرنا مت بھولو۔
Ayah 2:128بارگاہ رب ذوالجلال میں امت مسلمہ کے لئے دُعا :
239: بارگاہ رب ذوالجلال سے مانگتے قت انکساری و عاجزی لازمی و ضروری ہے۔ دیکھو ! دونوں باپ بیٹا مسلمان تو پہلے ہی سے تھے جب دعا کر رہے تھے لیکن کہتے یہی ہیں کہ اے اللہ ! ہماری فرمانبرداری میں مزید ترقی فرما اور ہماری نسل سے بھی ایک فرمانبردار امت پیدا فرما یعنی امت مسلمہ۔ دعا کی قبولیت کا اندازہ اسی سے لگا لو کہ وہ امت آج تک اسی نام سے مشہور چلی آرہی ہے۔ دوست دشمن کی زبان پر ” امت مسلمہ “ کے الفاظ جاری ہیں دونوں بزرگ فرماتے ہیں کہ اے اللہ !
ہماری اولاد میں ایک ایسی جماعت ہمیشہ رہے جو تیرے احکام کی پیروی اور اتباع کو اپنی زندگی کا مقصد اصلی بنائے اور چونکہ وہ الگ تھلک ہوگی اگر اس کے پاس کوئی قانون نہ ہوا تو راہ حق سے بھٹک جائے گی اس لئے تو اس کو دائمی اور ابدی قانون نوازش کر اور اگر قانون ملنے کے باوجود اس سے کوئی غلطی سرزد ہو تو ان کے ساتھ لطف و نوازش سے پیش آ۔ پھر یہ دعائیہ کلمات صاف بتا رہے ہیں کہ جس امت مسلمہ کی تخلیق کے لئے درخواست کی جا رہی ہے وہ وہی ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہو کیونکہ دعا میں دونوں بزرگ شامل ہیں اور ایک کو دوسرے کی اولاد ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اور اولاد میں اسماعیل (علیہ السلام) ہیں اور ان کی اولاد جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ امت مسلمہ کا تعلق اسماعیل (علیہ السلام) ہی کی اولاد سے ہے اور وہ وہی ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی امت ہے کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی وہ نبی ہیں جو اولاد اسماعیل (علیہ السلام) سے ہیں اور پھر اسی مضمون کی مزید وضاحت آنے والی آیت کر رہی ہے۔
Ayah 2:129رسول عربی ﷺ کے حق میں دعائے مخصوص :
240: سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی دعا ابھی جاری ہے جیسا کہ اوپر معلوم ہوچکا کہ امت مسلمہ سے مراد اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہی میں ہے اب ” مِّنْهُمْ “ کی قید نے مزید وضاحت کردی کہ اس سے مراد نسل اسماعیل (علیہ السلام) ہی ہے۔ لفظ ھم کا مرجع امت مسلمہ کو بھی سمجھا گیا ہے اور ذریۃ کو بھی اور ماحصل دونوں کا ایک ہی ہے یعنی نسل اسماعیل ، اور یہ بات تاریخ سے اپنی جگہ ثابت ہے کہ نسل اسماعیل قوم عرب ہی میں رہ گئی اسلئے لازمی تھا کہ یہ پیغمبر عرب ہی میں پیدا ہو ۔ پھر ” رَسُوْلًا “ جو صیغہ واحد اور پھر اعراب کی تنوین گویا اشارہ قریب بلکہ بالکل ہی قریب پہنچ گیا کہ وہ رسول اللہ ایک ہی ہوگا متعدد نہ ہونگے۔ یہود کا دعوی ہے اور نصاری بھی انہی کا ساتھ دیتے ہیں کہ نبوت و رسالت تو بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص تھی یہ نیا پیغمبر بنی اسماعیل میں کیسے پیدا ہوگیا ؟ لیکن ان کی اپنی ہی کتاب تو رات باوجود تحریفات کے اب تک شہادت دیتی ہے کہ اس نبی سے مراد بنی اسماعیل ہی میں سے نبی کو ہونا ہے کیونکہ ایک جگہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو مخاطب کر کے کہتے ہیں۔
” خدا وند تیرا خدا تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا تم اس کی طرف کان دھرنا۔ “
(استثناء 18 : 15)
قطع نظر اس کے کہ بنی اسرائیل میں تو ایک نبی نہیں اللہ جانے کتنے ہی انبیاء حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد پیدا ہوتے رہے خود ” تیرے بھائیوں ہی میں سے “ کی تصریح بتا رہی ہے کہ مراد بنی اسرائیل نہیں بلکہ ان کے بھائی یعنی ہم جدبنی اسماعیل ہیں اگر خبر بنی اسرائیل میں نبی کی دینا ہوتی تو بجائے ” تیرے ہی بھائیوں میں سے “ کے عبارت ” تجھ ہی میں سے “ ہوتی۔ یہ الفاظ تو صرف مخاطین کی وحشت دور کرنے اور ان میں جذبہ انس و محبت پیدا کرنے کے لیے ہے کہ اے ہم قومو ! جب وہ نبی آئے تو اس کی اطاعت کرنا وہ بھی تمہارا غیر نہیں تمہارے ہی بھائیوں میں سے ہوگا پھر تورات میں بھی بعینہٖ یہ مضمون براہ راست اللہ تعالیٰ کی جانب سے ادا کیا گیا ہے چناچہ لکھا ہے کہ :
” خداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کہا میں ان کے لئے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔ “ (استثناء 18 : 18)
ٹھہریں اور غور کریں کہ کیا کہا جا رہا ہے ” اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا “ لفظی کلام الٰہی ہونے کا مصداق بجز قرآن کریم کے ساری آسمانی کتابوں میں اور ہے ہی کون ؟ لفظی کلام الٰہی ہونے کا دعویٰ کسی دوسری کتاب کا ہے ؟ اچھا اس کو بھی رہنے دیں اور دیکھیں کہ کہا گیا : ” تجھ سا “ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا سا۔ مثیل موسیٰ ہونے کا مصداق تاریخ کی دنیا میں بجز محمد رسول اللہ ﷺ کے اور کون ہے ؟ کیا اس کا کوئی جواب ہے ؟ مطلق نہیں۔ پھر یہی پیشگوئی موسیٰ نبی کی زبان سے نکلی ہوئی نصاریٰ کی انجیل میں بھی موجود ہے ، اس کو کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ۔ چناچہ انجیل میں ہے کہ :
” موسیٰ نے کہا کہ خداوند خدا تمہارے بھائیوں سے تمہارے میں سے تمہارے لئے مجھ سا نبی پیدا کرے گا جو کچھ وہ تم سے کہے گا تم اس کی سننا۔ “ (اعمال 3 : 22)
منصب رسالت پر فائز ہونے والے رسول کے فرائض :
241: سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی دعا کا اختتام ان الفاظ پر ہورہا ہے کہ : ” اے ہمارے رب ! ان بنی اسماعیل میں ایک رسول بھیج جو حسب ذیل فرائض انجام دے :
(ا) تیری آیات ان کو پڑھ کر سنائے تاکہ لوگ ان کا مفہوم و مطلب سمجھ لیں اور جو لوگ عربی نہ جانتے ہوں وہ ترجمہ کے ذریعہ واقفیت بہم پہنچائیں۔ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ ۔
(ب) تلاوت کے بعد جس قدر شکوک و شبہات پیدا ہوں ان کو دور کرنا کیونکہ جب تک اعتراضات کو دور نہ کیا جائے گا قانون کی طرف توجہ نہ ہوگی اور یہ کتاب دینے ہی سے ممکن ہے ۔ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ ۔
(ج) تعلیم حکمت ، کچھ لوگوں نے حکمت سے مراد نبی کریم ﷺ کی سنت لی ہے اور اس کی تائید میں مقدام کی روایت پیش کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تین بار نہایت زور دے کر فرمایا : (الا وانی اوتیت ال کتاب و مثلہ) خبردار ! میں کتاب اللہ کے ساتھ اس کی مثل بھی دیا گیا ہوں۔ بلاشبہ حکمت سے مراد سنت صحیہ ہے لیکن قرآن کریم کی تصریحات نے اس سنت رسول ﷺ میں مزید وسعت پیدا کردی ہے جس سے مقام سنت اور حقیقت سنت کا تعین بھی کردیا گیا ہے کہ حکمت سے مراد علم اور دانائی کی باتیں ہیں اور ظاہر ہے کہ علم اور دانائی میں پیغمبر و رسول سے کون بڑھ سکتا ہے ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی نسبت فرمایا ہے : وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا 1ؕ (یوسف 22 : 12) ” پھر جب ایسا ہوا کہ یوسف اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے کارفرمائی کی قوت اور علم کی فراوانی بخش دی “ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت ارشاد فرمایا کہ ” وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ “ (آل عمران 3 : 48) اللہ نے اس کو کتاب و حکمت کا علم سکھایا۔ “ اور لوط (علیہ السلام) کے متعلق ارشاد فرمایا اور کہا : وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا (الانبیاء 21 : 74) اور لوط (علیہ السلام) کو بھی ہم نے احکام حق دینے کا منصب لور نبوت کا علم عطا فرمایا۔ “ اور زیر نظر سورة بقرہ میں حکمت کو خیر کثیر سے تعبیر کیا چناچہ ارشاد ہوا کہ : وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا 1ؕ(البقرہ 2 : 269) وہ جس کو چاہتا ہے حکمت دے دیتا ہے اور جس کسی کو حکمت مل گئی تو یقین جانو اس نے بڑی ہی بھلائی پالی۔ “
اس طرح کی صدہا آیات کریمات بتاتی ہیں کہ حکمت سے مراد علم اور دانائی کی باتیں ہیں۔ بلاشبہ ہر نبی کے دور میں نبی سے بڑھ کر کوئی علم و حکمت جاننے والا نہیں ہوتا لیکن اللہ کے قانون کے مطابق نبوت کا معاملہ تو ختم ہوگیا اور محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا تاہم علم و دانائی کا باب بند نہیں ہوا اور نہ ہی قیامت تک ہوگا۔ ہاں ! حکمت و دانائی کی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن تک صرف ارباب فہم و فراست ہی کی دسترس ہو سکتی ہے اور قرآن کریم کے علوم قیامت تک کھلے رہیں گے ان پر کوئی شخص قدغن (Bane) نہیں لگا سکتا جو سمجھ لیا گیا وہ بس ہے اور اب مزید قرآن کریم سے کچھ نہیں سیکھاجا سکتا۔ جو پیغمبر اسلام نے بیان فرمایا وہ بھی حکمت و دانائی سے باہر نہ تھا ، نہ ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔
اس سے واضح ہوگیا کہ جوں جوں زمانہ ترقی کرے گا اور نئے نئے علوم کھلتے جائیں گے وہ سب قرآن کریم کی تصدیق کریں گے وہ کبھی قرآن کریم سے متصادم نہ ہوں گے اور نہ ہی قرآن کریم ان سے متصادم (Contrudiction) ہوگا دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم کو ایسے کلیہ پر حل کرنا کہ دنیا کے تمام مذاہب دلیل کے ساتھ اس کا انکار نہ کرسکیں اور اس کی عالمگیر دعوت کے آگے اپنی گردنیں خم کردیں۔
ابن وہب کہتے ہیں کہ : قلت لما لک ما الحکمۃ ؟ قال المعرفتہ بالدین والفقہ فیہ والا تباع لہ ، میں نے امام مالک سے دریافت کیا کہ حکمت کسے کہتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ دین کی معرفت ، اس میں درس و فہم اور اس کے اتباع کا نام حکمت ہے اور احکام دین کا معلوم کرنا بھی حکمت ہے حق و باطل میں تمیز کرنا اور حقائق اشیاء کی معرفت بھی اسی قبیل سے ہیں۔ “
(د) انسان کی سعادت و نیک بختی کے لئے تعلیم محض بیکار ہے جب تک اس کے زندہ نمونے بھی انسانوں کے سامنے دکھائی نہ دیں۔ انسانی طبیعت منفعل اور اثر پذیر واقع ہوئی ہے ۔ محض تعلیم کی سماعت وہ اثر نہیں پیدا کرسکتی جو انسانی نمونہ عمل کا کرتا ہے۔ پس نبی گویا اس نمونہ کو پیش کرتا ہے اور اپنی صحبت وہم نشینی سے لوگوں کو پاک و مز ّکی بناتا ہے اور جب نبوت ختم ہوچکی علمائے حق پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ جہاں تک اس کو نباہ رہے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔
ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی اپنے متعلق ارشاد فرمایا کہ : انا دعوۃ ابی ابراہیم ، کہ میں اپنے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی نتیجہ میں نبی بنا کر مبعوث کیا گیا ہوں۔ مختصر یہ کہ انجام کار یہ دعائیں قبول ہو کر رہیں۔ اس رسول عربی نے آیات تلاوت بھی کیں اور نہ صرف عرب کے لوگوں کو پاک بنایا بلکہ وہ تو دوسروں کے پاک ہونے کا ذریعہ بنے ۔ جن کو آپ نے تعلیم دی وہی دنیا کے رہبر اور معلم بن گئے اور قصیرو کسریٰ کے خزانوں کی چابیاں ان کے ہاتھ آگئیں۔
یہ اسی کا تھا کرشمہ کہ عرب کے بچے۔ کھیلنے جاتے تھے ایوان گہہ کسریٰ میں شکار
Ayahs 2:130–131ملت ِابراہیمی سے منہ موڑنے والا کبھی عقلمند نہیں ہو سکتا :
242: مطلب یہ ہوا کہ جو کچھ پیچھے آپ نے پڑھا ہے وہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ ہے آپ کو معلوم ہوچکا ہے کہ ملت ابراہیمی تو عین دین فطرت ہے اس کی تعلیمات عین طبع سلیم کی ترجمان ہیں ، ظاہر ہے کہ پھر اس سے کنارہ کشی تو صرف وہی اختیار کرسکتا ہے جس کی فطرت ہی سلیم نہ رہی ہو بلکہ مسخ ہوچکی ہو۔ اس مقدمہ کی تصدیق انسان جو چاہے اعتقاد سے نہیں آزمائش سے کرے۔ اسلام نے جماعت یعنی سوسائٹی کا جو نظام قائم کیا ہے وہی بہترین نظام جماعتی ہے ہر فرد کے لئے جو ضابطہ و عمل بنادیا ہے وہی بہترین ضابطہ شخصی ہے عقل و جذبات ، فرد و جماعت دل ، جسم و روح ، حریت و اطاعت اور حیات انسانی کے متضاد متنا قض عنصروں کی جتنی باہمی رعایت شریعت اسلامی نے ملحوظ رکھی ہے دنیا کے کسی قانون میں کہیں اس کی نظیر نہیں ملے گی۔ دعائے ابراہیمی ختم ہوئی اب بیان ملت ابراہیمی کا شروع ہو رہا ہے کہ یہ تو وہی دین توحید ہے جس کی دعوت آج فقط اسلام دے رہا ہے اور جسے تم سب باوجود اپنے مشترک بزرگ ابراہیم کی پیروی کے دعویٰ کو چھوڑے بیٹھے ہو۔ قرآن کریم کا یہ اعجاز نہیں تو اور کیا ہے ؟ کہ اس نے اپنے دین اسلام ہونے کی نسبت نہ حق تعالیٰ کی جانب کی اور نہ ہی رسول وقت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی جانب بلکہ اپنی نسبت صرف ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی جانب کی۔ پھر بلاغت قرآنی کا اندازہ لگائیں کہ یہاں مخاطب اصلاً یہودو نصاریٰ اور مشرکین عرب ہیں اور یہ تینوں قومیں مسلمانوں ہی کی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا مقدس پیشوا مانتی ہیں۔ اس اسلوب بیان کو اختیار کر کے گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ قرآن کریم تمہیں کسی نئے دین کی طرف دعوت نہیں دے رہا بلکہ تمہارے ہی بزرگ و محترم پیشوا ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے دین کی طرف تمہیں بلا رہا ہے ۔ حسن تبلیغ کا پیرایہ اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا تھا ؟ کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو بزرگ و محترم ماننے والے ہی دعوت ابراہیمی سے منہ موڑ کر دوسری طرف چل دیتے ہوں تو ان کے لئے اور کیا طریقہ کیا جاسکتا تھا۔ جس طرح آج بدقسمتی سے محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا دَم بھرنے والے اور اپنے آپ کو غلامان مصطفیٰ ، عاشقان رسول اور محبان رسول کے ناموں سے یاد کرنے والے محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم سے انحراف کرچکے ہیں۔ نام لیتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کا اور کام کرتے ہیں تو اپنی اہواء و خواہشات کے۔ کبھی آپ کو دیکھنے کا اتفاق ہو تو یہود و نصاریٰ کے نوشتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل اس وقت بھی موجود تھے اور آج بھی ہیں لیکن کام ان کے بھی آپ کے سامنے ہیں چناچہ تورات میں ہے کہ :
” اپنے باپ ابراہیم پر اور اس پر جو تمہیں جنی نگاہ کرو کہ جب میں نے اسے بلایا وہ اکیلا تھا پھر اس کو برکت دی اور اس کو بہت بنایا “
(یسعیاہ 51 : 12)
” اے ابراہیم تو مت ڈر میں تیری سپر اور تیرا بہت بڑا اجر ہوں۔ “ (پیدائش 15 : 1)
” اور وہ خدا پر ایمان لایا اور یہ (ابراہیم) اس کے لیے صداقت محسوب ہوا۔ “ (پیدائش 15 : 6)
اور مسیحیوں کی انجیل میں آج بھی لکھا ہے کہ :
” ابراہیم خدا پر ایمان لایا اور یہ کہ اس کے لیے راست بازی گنا گیا ، بس جان لو کہ جو ایمان والے ہیں وہی ابراہیم کے فرزند ہیں۔ “
(رومیوں 40 : 3)
ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے آخرت میں بھی درجات ِعالیہ مقرر ہیں :
243: یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے دنیاوی شرف و بزرگی کا ذکر تھا آخرت کا معاملہ بھی جو ابھی سامنے نہیں اس میں بھی ابراہیم (علیہ السلام) کا مقام قرآن کریم کی اس آیت نے واضح کردیا کہ جس طرح اللہ نے ان کو دنیا میں عزت و فضیلت عطا فرمائی اسی طرح آخرت میں بھی ان کے درجات بہت بلند ہیں۔
اس جگہ ایک بات یا درکھنے کے قابل ہے کہ ایک پیغمبر جلیل القدر کے شایان شان یہود و نصاریٰ نے اہل کتاب ہونے اور نبوت و سلسلہ وحی پر ایمان رکھنے کے باوجود اپنے اپنے نوشتوں میں کوئی کسر عصمت انبیاء کے داغدار بنانے میں اٹھا نہ رکھی اس لئے قرآن کریم جہاں جہاں انبیاء سابق کا ذکر کرتا ہے اکثر ان حضرات کی اخلاقی و روحانی عظمت پر بھی زور دیتا جاتا ہے اور اسی طرح انبیاء بر حق کی نصرت و حمایت کا فرض تورات و انجیل کی عائد کی ہوئی فرد ِجرم کے مقابلہ میں ادا کرتا جاتا ہے۔ اہل کتاب نبی اور نبوت کو کیا سمجھتے ہیں ؟ یہ کہ نبی وہ ہے جو کاہنوں ، جوتشیوں کی طرح غیب کی خبریں دے سکے اور اس سے ان کو کوئی بحث ہی نہ تھی کہ اس کے اخلاق کا کیا عالم تھا۔ اس کے روحانی کمالات کس درجہ کے تھے اس کی تعلیمات کیا تھیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) تو اکثر انبیاء کرام کے ابوالاباء ہیں۔ آپ کی عصمت کے تحفظ کا تو قرآن کریم نے اور بھی زیادہ اہتمام کرر کھا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے آج اہل اسلام کی اکثریت نے بھی یہود و نصاریٰ کی پیروی میں انبیاء کرام کی عصمت کا قرآن کریم کی رہنمائی کے باوجود بہت کم خیال رکھا اور زیادہ ترباتیں تورات وانجیل سے اٹھا کر قرآن کریم کی تفسیر میں داخل کردیں اس جگہ صرف اشارہ کیا جا رہا ہے تفصیل اپنے موقعہ پر آئے گی۔