2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:133

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

پھر کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کے سرہانے موت آ کھڑی ہوئی تھی اور اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ ” میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ “ انہوں نے جواب دیا تھا ” اس اللہ واحد کی جس کی تو نے عبادت کی ہے اور تیرے آباء ابراہیم ، اسماعیل اور اسحاق نے کی ہے اور ہم بھی اسی کے حکموں کے فرمانبردار رہیں گے “

یعقوب (علیہ السلام) کا استفسار بیٹوں سے کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ 245: اسلام کی تعلیم تو وہی ہے جو اوپر ذکر کردی گئی مگر یہودی کہتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی وفات کے قریب وصیت فرمائی تھی کہ یہودیت کے پابند رہنا یہی وصیت سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچی ہے اس کا جواب ان کو دیا جارہا ہے کہ ان کی وصیت تویہی تھی کہ خدائے واحد کی عبادت و غلامی کرنا اور ان کی اولاد نے بھی یہ اقرار کیا تھا لیکن تم جو یہ تسلیم نہیں کرتے اگر تم یہ کہنے میں سچے ہو جو تم کہہ رہے ہو یہ تو بتاؤ کہ انکی وفات کے وقت کون شخص موجود تھا جس پر تمہاری روایت کی انتہا ہوتی ہے ۔ یعنی تم جو واہیات خرافات حضرت یعقوب کی جانب منسوب کر رہے ہو تو تمہارا اس وقت وجود ہی کہاں تھا ؟ نہ آپ خود اس وقت موجود تھے اور نہ ہی اس بات کا کوئی گواہ تم پیش کرتے ہو اور جو بات کہتے ہو وہ ایسی ہے جس کو کم از کم نبی نہیں کہہ سکتا کیونکہ کسی نبی نے فرقہ وارانہ تعلیم کبھی نہیں دی پھر تم ان واقعات کو کس بناء پر جھٹلاتے ہو جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں۔ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ سارے انبیاء کی آواز ایک ہی جیسی تھی : 246: سارے انبیاء کی صدائے حقیقی تو ایک ہی جیسی تھی اس لئے کہ وہ سب کے سب ہم مشرب تھے۔ اگر موجودہ تو رات کے اوراق اس اہم اور ضروری تذکرہ سے خاموش ہیں تو احبار یہود کا یہ قول تو آج بھی موجود ہے کہ : ” یعقوب نے اپنی وفات سے قبل اپنے بیٹوں کو یہتین احکام دیئے تھے : ! بت پرستی نہ کرنا۔ " خدا کی بےحرمتی نہ کرنا ۔# میرے جنازہ کو کوئی کافر ہاتھ نہ لگانے پائے۔ “ (جیوش انسائیکلوپیڈیا ج 7 ص 24) روایات و حکایات کی جو دوسری کتابیں ہیں ان میں صراحت اس سے بھی بڑھ کر ہے ” یعقوب نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم میں سے کوئی بت پرستی کا میلان رکھتا ہے ۔ اس کے جواب میں بارہ بیٹوں نے کہا ” سن اے اسرائیل اے ہمارے باپ ! ہمارا خدا وند وہی خدا ہے جس طرح تیرا دلی ایمان ایک خدا پر ہے۔ اسی طرح ہم سب کا دلی ایمان ایک خدا پر ہے (کنزبرگ کے قصص یہود ج 2 ص 141) ابائک سیدنا اسماعیل عیہ السلام حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بڑے چچا یعنی تایا تھے۔ فرزند یعقوب نے کمال سعادت مندی سے ان کا شمار بھی آبائے یعقوب میں کیا جیسا کہ اردو محاورہ میں بھی باپ چچا کو ایک ہی حکم میں رکھا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے آپ کے چچا حضرت عباس ؓ کے لئے یہی لفظ اب آیا ہے : ” ھذا بقیۃ ابائی “ یعنی میرے بڑوں یا بزرگوں میں اب یہی باقی ہیں۔ اسحٰق یہ نام پہلی بار قرآن کریم میں آیا ہے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے صاحبزادے ہیں جو حضرت سارہ ؓ کے بطن تھے۔ یہ مسئلہ اختلافی ہے کہ اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہیں یا اسحاق (علیہ السلام) ولادت غالباً 2060 ق م اور سال وفات 1880 ق م۔ عمر شریف بحوالہ توراۃ 180 سال یہ بھی تحریر ہے کہ آپ کی ولادت کے وقت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر 100 سال کی تھی۔ آپ کے بستر مرگ کا منظر قصص ال یہود میں اس طرح دکھایا گیا ہے : ” جب اسحاق نے دیکھا کہ ان کا وقت موعود آپہنچا تو انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو اپنے پاس بلوایا اور کہا میں تمہیں خدائے تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جس کی صفات علی ، عظیم ، قیوم اور عزیز ہیں اور جو آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر شے کا خالق ہے کہ تم خوف اسی کا رکھنا اور عبادت اس کی کرنا (جلد اول ، ص : 416)
Ayah 2:134

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

یہ ایک امت تھی جو گزر چکی ، اس کیلئے وہ تھا جو اس نے کمایا ، تمہارے لیے وہ ہوگا جو تم کماؤ گے تم سے اس کی پوچھ گچھ نہیں ہوگی کہ ان کے اعمال کیسے تھے

دنیا سے رخصت ہونے والے انبیاء (علیہ السلام) سب ایک ہی جماعت تھے : 247: یہاں بات انہی انبیاء کرام کی ہے جو اجد اد یہود ہیں جن کا شمار انبیاء میں ہے۔ یہود سے کہا جا رہا ہے کہ آبائی مفاخرت ، نسلی عظمت پیمبرزادگی کے نشہ میں کیوں چور ہو اور ایسا کہنے میں ایک بڑا سبق آج کل کے پیرزادوں ، رسمی مشائخ زادوں اور بہت سے بدعتی فرقوں کے لیے موجود ہے کہ بلاسعی عمل محض بزرگوں کی نسبت سے فائدہ اٹھانے کی جڑ ہی اسلام نے گویا کاٹ دی ہے۔ اسلام کی ہدایت کی وجہ سے آج یہ بات معمولی سی معلوم ہوتی ہے لیکن قرآن کریم نے جب اس حقیقت کا اعلان کیا تو اس وقت بہت ہی اہم اور ایک نادر سی بات تھی۔ شخصی و ذاتی ذمہ داری اور انفرادی مسئولیت کی تعلیم اسلام کی خصوصیات امتیازی میں سے ہے ورنہ مشرک تو مشرک یہود اہل توحید تک اس سفاہت میں مبتلا ہوگئے تھے کہ ذاتی عمل کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ مقبولانِ الٰہی کی جانب انتساب نسلی اور بزرگوں کی طرف نسبت نسبی بالکل کافی ہے۔ مسیحیوں کا گھڑا ہوا مسئلہ ” معصوصیت متوارث “ سب کو معلوم ہے یعنی جو معصیت ابوابشر سے ہوگئی تھی وہ ہر نسل آدم میں متوارث منتقل ہوتی چلی آرہی ہے ۔ یہود نے اس کے مقابل ایک عقیدہ ” نجات متوارث “ کا وضع کرلیا تھا اور یہ سمجھ لیا تھا کہ : ” خدا تعالیٰ اپنے اسم پاک کے طفیل میں اور بہ طور اپنے افضال کے باپ کے حسنات اولاد کی طرف منتقل کرتا رہتا ہے۔ “ (جیوش انسائیکلوپیڈیا ج 13 ص 447) تو ریت مروجہ میں بھی ایک آیت اس مضمون کی ملتی ہے : ” میں خدا وند تیرا خدا غیور خدا ہوں جو باپ دادوں کی بدکاری کا بدلہ ان کی اولاد سے تیسری اور چوتھی پشت تک جو میرا کنبہ رکھنے والے ہیں لیتا ہوں۔ “ (استثناء 5 : 9) بس اس تنکے کی اوٹ پہاڑ یہ کھڑا کرلیا گیا کہ ہر نسل کا انتقال ثواب اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی اسلاف واخلاف دونوں کی طرف سے ہوتا رہے گا اور پھر اولاد ابراہیم کو تو کوئی ڈر ہی نہیں۔ “ بعض کو ثواب اپنے اسلاف کے اعمال کا ملے گا اور بعض کو ثواب اپنے اخلاف کے اعمال کا “ (جیوش انسائیکلوپیڈیا ج 6 ص 60) ” افراد یہود کی امیدیں سب اسلاف کے تقویٰ پر قائم ہوگئی تھیں یعنی اس پر کہ ہم ابراہیم کی اولاد ہیں۔ “ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ج 13 ص 194 طبع یازدم) تم اپنے اعمال کے جوابدہ نہ ہو کہ دوسروں کے : 248: قرآن کریم یہود کو مخاطب کر کے گویا کہہ رہا ہے کہ اچھا تھوڑی دیر کے لئے مان لو کہ انہوں نے ایسا کہا تھا تو تمہیں کیا ؟ ہر شخص اپنے اعمال کا آپ ذمہ دار ہے ۔ اپنے لئے تم خود راہ نجات تلاش کرو اور دیکھو یہ تعلیم صحیح ہے یا نہیں۔
Ayah 2:135

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

یہودیوں نے کہا ، یہودی ہوجاؤ ، ہدایت پاؤ گے ، نصاریٰ نے کہا نصرانی ہوجاؤ ، ہدایت پاؤ گے ، لیکن تم کہو نہیں ، اس کی راہ تو وہی ” حنیفی “ راہ ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کی راہ تھی کیونکہ یقینا وہ شرک کرنے والوں سے نہ تھا

ملت ابراہیمی اور اسلام دونوں ایک ہی چیز کے دونام ہیں : 249: ان کا دعویٰ کیا ہے ؟ کہ نجات کے لئے ضروری ہے کہ یہودی یا عیسائی ہوجاؤ تب ہی ہدایت یافتہ ہوسکتے ہو۔ یہ اتحاد تم کو کب نصیب ہوا ؟ یہود تو کہتے تھے اور برملا کہتے تھے کہ نصاریٰ کا کوئی دین و مذہب نہیں اور نصاریٰ بھی صدا بلند کئے ہوئے تھے کہ یہود کا کوئی دین و مذہب نہیں۔ اب دونوں متحد کیسے ہوگئے ، یہ سبق ان کو اسلام ہی نے سکھایا اور اسلام ہی پر یہ دونوں پل پڑے۔ اپنے وعدے کے ثبوت میں نہ تو ان کے پاس نقل صحیح ہے اور نہ مشاہدہ پیش کرسکتے ہیں مگر پھر بھی کہتے ہیں کہ ہدایت اور رہنمائی صرف یہودی یا نصرانی ہونے سے مل سکتی ہے۔ اس کا صحیح جواب تو یہ ہے کہ ان میں سے کوئی راستہ بھی نیکی کی طرف نہیں لے جاتا دونوں ہی گروہ افراط تفریط میں مبتلا ہیں ایک نے مسیح کا انکار کیا ہے اور تفریط میں مبتلا ہوئے دوسرے نے مسیح کے ماننے میں حددرجہ کا غلو کیا کہ مسیح کو اللہ ، اللہ کا بیٹا اور اللہ کا جزء تسلیم کیا اور اس طرح وہ افراط کے مرتکب ہوگئے بس ہدایت نہ تو افراط میں ہے اور نہ تفریط میں بلکہ وہ راہ اعتدال میں ہے اور وہ راہ اعتدال ملت ابراہیمی ہی میں ممکن ہے جو ایک طرفہ تھا اور یہ یہودیت اور نصرانیت تو اس کے بعد کی اختراع ہے۔ کیا تم ہدایت کے لئے ملت ابراہیم کو کافی نہیں سمجھتے ؟ جبکہ ابراہیم کو تم بھی ابو الانبیاء بنی اسرائیل تسلیم کرتے ہو۔ آخر ابراہیم کی ملت نجات کے لئے کیوں کافی نہ رہی ؟ آؤ یہودیت و نصرانیت کے دعوے چھوڑ کر ملت ابراہیمی پر اتفاق کرلو ہم تم کو ثابت کردیں گے کہ ملت ابراہیم اور اسلام دونوں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور یہ دوسرا نام اس لئے رکھا گیا کہ تم نے ملت ابراہیمی کو ملت واحدہ نہ رہنے دیا۔
Ayah 2:136

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، قرآن پر ایمان لائے ہیں جو ہم پر نازل ہوا ہے ان تمام تعلیموں پر ایمان لائے ہیں جو ابراہیم کو ، اسماعیل کو ، اسحاق کو ، یعقوب کو اور اولاد یعقوب (علیہم السلام) کو دی گئیں نیز ان کتابوں پر جو موسیٰ کو اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دی گئی تھیں اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان تمام تعلیموں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو دنیا کے دوسرے نبیوں کو ان کے رب سے ملی ہیں ، ہم ان میں سے کسی ایک کو بھی دوسروں سے جدا نہیں کرتے اور ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں

ایمان میں مثالی نمونہ ہی اگر دیکھنا ہے تو بانی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کا ایمان ہی ہو سکتا ہے : 250: ایمان کی حقیقت تو کہیں مجمل اور کہیں مفصل بیان ہوتی ہی رہی ہے اور آئندہ قرآن کے صفحات میں بھی ہوگی لیکن غور کرو کہ اس آیت میں ایک ایسا اجمال ہے جو تمام تفصیلات اور تشریحات پر حاوی ہے کیونکہ ” اَنْتُمْ “ کے مخاطب رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام ہیں۔ اس آیت میں ان کے ایمان کو ایک مثالی نمونہ قرار دے کر حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک مقبول ومعتبر صرف اس طرح کا ایمان ہے جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے اختیار فرمایا جو ایمان اس سے سرمو مختلف ہو وہ اللہ کے نزدیک مقبول نہیں ہوسکتا اور نہ ہی وہ ملت ابراہیمی کہلا سکتا ہے۔ توضیح اس کی یہ ہے کہ جتنی چیزوں پر یہ لوگ ایمان لائے ان میں کوئی کمی یا زیادتی نہ ہو اور جس طرح افلاس کے ساتھ ایمان لائے اس میں کوئی فرق نہ آئے کہ وہ نفاق میں داخل ہے اور اللہ کی ذات وصفات ، فرشتے اور انبیاء و رسل ، آسمانی کتابیں اور ان کی تعلیمات کے متعلق جو ایمان و اعتقاد رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیا ہے اللہ کے نزدیک وہی مقبول ہے اس کے سوا یعنی اس کے خلاف اس میں کوئی تاویل کرنا یا کوئی دوسرے معنی مراد لینا اللہ کے نزدیک مردود ہے۔ فرشتوں اور انبیاء و رسل کے لئے جو مقام رسول اللہ ﷺ کے قول و عمل سے واضح ہوا اس سے ان کو گھٹانا یا بڑھانا ایمان کے منافی ہے۔ اس وضاحت سے ان تمام باطل فرقوں کے ایمان کا خلل واضح ہوگیا جو ایمان کے دعویدار ہیں مگر حقیقت ایمان سے بےبہرہ ہیں کیونکہ زبانی دعویٰ ایمان کا تو ہر کوئی کرتا آیا ہے اور کرتا ہے یہاں تک کہ بت پرست مشرکین بھی کرتے تھے اور موجودہ مشرک بھی کرتے ہیں اور اس طرح یہود و نصاریٰ بھی اور ہر زمانے میں زندیق ملحد بھی مگر چونکہ ان کا ایمان بتفصیل اس طرح کا نہیں تھا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ہے ، اس لئے وہ اللہ کے نزدیک مردود و نامقبول ہوا۔ یاد رکھو کہ فرشتہ اور رسول کی عظمت و محبت میں اعتدال مطلوب ہے افراط وتفریط گمراہی تھی ، ہے اور رہے گی ۔ اسی طرح نبی و رسول کی اختراعی و رسول کی اختراعی قسمیں ، ظلی ، بروزی اور لغوی ، ختم نبوت کے بعد سب کی سب گمراہی ہے اور ایمان آخرت کی تاویلات باطلہ سب کی سب مردود ہیں۔ ان سب چیزوں کی تفصیل اسلام میں کردی گئی ہے۔ سب سے بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ ہمارا اللہ پر ایمان ہے قرآن کریم پر ایمان ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا لیکن وہ تمام تعلیمات بھی ہم مانتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں جو ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یقعوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر اترتی رہیں اس طرح ان کتابوں پر بھی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی بلکہ ہم تو ان تمام تعلیمات پر ایمان رکھتے ہیں جو دنیا کے دوسرے نبیوں کو بھی دی گئی تھیں معلوم یہ کیسے ؟ ایسے ہی کہ ہم ایک دوسرے سے بالکل اصولوں میں جدا نہیں کرتے بلکہ وہ سب ایک ذات کی طرف سے بھیجے گئے تھے اور اصولی طور پر ان سب کی تعلیمات بھی ایک ہی تھیں اور سب ہی کی تعلیمات کا نچوڑ یہ تھا کہ اے انسانو ! تم سب مل کر ایک اللہ کے پرستار ہوجاؤ اور اس کی فرمانبرداری کا سب دَم بھرو۔ پھر سن لو کہ سچے مسلمان کبھی یہ نہیں کہتے کہ : ” نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ 1ۙ“ اور وہ کبھی یہ نہیں کہتے کہ : ” نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ 1ۗ“ ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ ہر نبی پر ایمان لاتا ہے۔ صداقت کی آواز دنیا کے کسی گوشہ سے بلند ہو مسلمان اس کو لبیک کہتا ہے ۔ مسلمان کا دین عالمگیر دین ہے اور ہر سچائی اس کے دامن میں جگہ پکڑنے والی ہے اور اس حقیقت کی طرف رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں اشارہ فرمایا ہے کہ : ” کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن فحیث وجدھا فھوا حق بھا “ حکمت و دانائی کی بات مسلمان کی گمشدہ متاع ہے۔ جہاں دیکھے اس پر قبضہ کرلے کہ وہی اس کا وارث ہے۔ اگر اب بھی وہ اس تعلیم صحیح کے آگے گرد نیں خم نہ کریں تو معلوم ہوگیا کہ ان کا اصلی مقصد اسلام کی عداوت اور مخالفت ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔ وہ دراصل مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنے کے آرزو مند ہیں اور ان کی قومیت متحدہ کو فنا کرنے کے درپے ہیں اور یہی فکر ان کو ہر وقت دامنگیر ہے۔
Ayah 2:137

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ بھی ایمان کی راہ [ اختیار کرلیں بالکل اسی طرح جس طرح تم نے اختیار کی ہے تو انہوں نے بھی ہدایت پا لی اور اگر اس سے روگردانی کریں تو پھر ان کی راہ ہٹ دھرمی کی راہ ہے ، وہ وقت دور نہیں جب اللہ کی مدد تمہیں ان کی مخالفت سے بےپروا کر دے گی وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

پھر اہل کتاب یعنی یہود ونصاریٰ کی طرف منہ کر کے کہا جاتا ہے : 251: ” یہ لوگ “ سے مراد وہی منکر و کافر و اہل کتاب ہیں جن کا سلسلہ اوپر سے چلا آرہا ہے گویا مسلمانوں کو مخاطب کر کے ان لوگوں کے متعلق کہا جارہا ہے بلکہ ان کو بشارت دی جا رہی ہے کہ اتنی ضدو عناد کے باوجود اگر اب بھی وہ ایمان لے آئیں تو ان کا پچھلا کفر وعناد ان کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا ” فَاِنَّ “ سے اشارہ اس طرح ہے کہ اب جب کہ تعلیمات اسلامی کا مغزان پر پوری واضح ہوگیا ہے یعنی اگر اتنی واضح ہدایت پہنچ جانے کے بعد اگر اب بھی ایمان نہ لائیں تو اب انہیں جو مخالفت ہے وہ مخالفت ہی کی غرض سے ضد اور عداوت ہی کی بنا پر ہے اس لئے نہیں کہ حق کے واضح ہونے میں کوئی چیز مخفی ہے یا کوئی ابہام باقی رہ گیا ہے۔ اب جو وہ دین کو نہیں سمجھتے تو محض اس لئے کہ وہ سمجھنا نہیں چاہتے جس سے یہ بات ثابت ہوگئی وہ ہٹ دھرم ہیں اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج .......؟ مخالفوں کی مخالفت کی پروانہ کرنا ہی اللہ کی حفاظت میں آنا ہے : 252: نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ (علیہ السلام) ان مخالفوں کی زیادہ فکر نہ کریں ہم خود ان سے نمٹ لیں گے ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ : وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 1ؕ کہ آپ (علیہ السلام) اے پیغمبر اسلام مخالفین کی اتنی زیادہ فکر نہ کریں اللہ ان سے آپ کی حفاظت خود فرمائے گا۔ اس طرح کے ارشادات کا اصل مطلب یہی ہے کہ آپ ان مخالفوں کی پروانہ کریں اور نہ ان کے ساتھ کسی قسم کا الجھاؤ کریں کیونکہ یہ الجھاؤ ہی کے لئے تو سب کچھ کر رہے ہیں ۔ آپ ان کی جہالت کی وجہ سے مشتعل نہ ہوں اپنے منہ دھیان اپنا کام کرتے جائیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں ۔ جب آپ نے ایسا کیا تو گویا آپ نے اللہ پر کا مل بھروسہ کرلیا اور جو شخص بھی اللہ پر بھروسہ کرے اللہ اس کا حامی و ناصر ہوجاتا ہے۔ آپ تو اسکے رسول ہیں اور یہ رسالت کا منصب اس نے خود تم کو عطا کیا ہے وہ آپ کی حفاظت کیوں نہیں کرے گا ؟
Ayah 2:138

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

اللہ کا رنگ دینا یہی ہے اور تم ہی بتاؤ اللہ سے بہتر اور کس کا رنگ دینا ہوسکتا ہے ؟ اور ہم سب اسی کی بندگی کرنے والے ہیں

نصاریٰ کی ایک رسم اصطباغ کا رَد : 253: نصاری کی رسومات مذہبی میں سے ایک رسم ” اصطباغ “ تھی جو اس طرح ادا کی جاتی تھی کہ جو بچہ پیدا ہوتا اس کو ساتویں روز ایک رنگین پانی میں نہلاتے تھے اور اس نہلانے کو بچہ کی طہارت اور مذہب نصرانیت کا پختہ رنگ سمجھتے تھے اس آیت نے بتلادیا کہ یہ رنگ تو پانی کے ساتھ دھل کر ختم ہوگیا اور اس کے بعد اس کا کوئی اثر نہ رہا اصل رنگ تو دین کا رنگ ہے ، ایمان کا رنگ ہے جس سے ظاہری اور باطنی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور یہ رنگ تامین حیات باقی رہتا ہے۔ اس رسم اصطباع کو انجیل کی زبان میں ” بپتسمہ “ کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے۔ دوسرے دین و ایمان کو رنگ فرما کر اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جس طرح رنگ آنکھوں سے محسوس ہوتا ہے مؤمن کے ایمان کی علامت اس کے چہرہ بشرہ سے اور تمام حرکات و سکنات ، معلومات و عادات میں ظاہر ہونا چاہئے۔ ذرا غور کرو کہ اسلام نے اپنا عقیدہ پیش کرتے وقت کمال درجہ کی بےتعصبی اور فراخدلی کا اظہار کیا مگر یہودی اب بھی یہی کہتے ہیں کہ مذہبی رنگ پیدا ہی نہیں ہو سکتا جب تک ایک شخص یہودی یا نصرانی نہ بن جائے۔ حالانکہ رنگ دینے اور دین اختیار کرنے کی دو ہی صورتیں ہیں۔ (ا) اللہ تعالیٰ کی تعلیم کو اپنی زندگی کا دستور العمل بنا لے اور تمام انبیاء (علیہم السلام) کی صداقتوں کا اقرار کرے یہی اللہ کا رنگ اور دین ہے صرف اسی تعلیم پر کاربند ہو کر ہم میں یہ جذبہ صادقہ پیدا ہو سکتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی انسان کے آگے ہماری گردن نہ جھکے اور تمام انسانوں سے باغی ہو کر ایک اللہ کی حکومت کو مان لیں۔ (ب) دوسرا رنگ انسانوں کا خود تجویز کردہ ہے جس کو قبول کرنے کے بعد انسان توحید سے نکل جاتا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت شروع کردیتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جس تعلیم سے فطری جذبات کی تربیت ہوتی ہے وہی بہترین مذہب ہے اور ہم اسی خدائے واحد کے پرستار ہیں یہ کس قدر جہالت کا سوال ہے کہ اللہ کا رنگ کس قسم کا ہوگا ؟ تعلیم یافتہ کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اس قسم کی باتیں کرے ، ایسے لوگوں سے تو جس قدر پر ہیز رہ سکے پرہیز کرنا ہی بہتر ہے۔
Ayah 2:139

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

تم ان سے کہو کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب وہی ہے ، ہاں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں تمہارے لیے تمہارے اعمال اور ہمارا طریقہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ہم صرف اس کی بندگی کرنے والے ہیں ؟

اہل کتاب سے کہا جا رہا ہے کہ جھگڑا چھوڑ دو کیونکہ تمہارا اور ہمارا رب ایک ہی ہے : 254: اے اہل کتاب جب ہمارے تمہارے درمیان کوئی اختلاف پروردگار کے تعین میں نہیں تو اول تو اس کی توحید پر قائم رہنا چاہئے اور تثلیث فی التوحید یا توحید فی التثلیث اور اللہ کے فرزند وبروز و مظہر وغیرہ قسم کے خرافات سے بالکل بچنا چاہئے دوسرے جب اس کی صفات کمالیہ پر ایمان ہے تو اپنی حکمت و ربوبیت کے تقاضا سے جس نسل کے جس فرد کو بھی چاہے نبوت و رسالت سے سرفراز فرما دے وہ ہر طرح کا مالک و مختار ہے پھر اسرائیلی اور غیر اسرائیلی کسی خاصل نسل کا اجارہ نہیں اس لئے کہ اس وقت بھی نبوت جاری تھی اب جب نبوت کو ختم کردیا گیا اب کہیں سے بھی کوئی دعویٰ کرے وہ کاذب ہی ہوگا۔ رہے اعمال تو ہمارے اور تمہارے اعمال کے فرق کا اثر آخرت میں تو تمہیں بھی نظر آجائے گا آج جتنا چاہو اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرلو۔ لیکن یہ بات اچھی طرح یاد رکھو کہ ہم صرف اور صرف اسی یعنی اللہ ہی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
Ayah 2:140

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

کیا تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ ابراہیم ، اسماعیل ، یعقوب (علیہم السلام) اور اولاد یعقوب بھی یہودی اور نصرانی تھے ؟ کیا تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ زیادہ جاننے والا ہے ؟ پھر تم ہی بتلاؤ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جس کے پاس اللہ کی گواہی موجود ہو اور وہ اسے چھپائے ؟ جو کچھ بھی تم کر رہے ہو اللہ اس سے ہرگز غافل نہیں ہے

اے اہل کتاب ذرا عقل کے ناخن لو کیا کہہ رہے ہو ؟ 255: کیا تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحٰق ، یعقوب اور اولاد یعقوب (علیہم السلام) سب کے سب یہودی یا نصرانی تھے ؟ اس جواب کو سمجھنے کے لئے دو باتوں کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ایک یہ کہ یہودیت اور عیسائیت دونوں بعد کی پیداوار ہیں۔ ” یہودیت “ اپنے اسی نام اور اپنی مذہبی خصوصیات اور رسوم و قواعد کے ساتھ تیسری چوتھی صدی قبل مسیح میں پیدا ہوئی اور ” عیسائیت “ جن عقائد اور مخصوص مذہبی تصورات کے مجموعے کا نام ہے وہ حضرت مسیح کے بھی ایک مدت بعد وجود میں آئے۔ اب سوال یہ خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے برسر ہدایت ہونے کا مدار یہودیت یا نصرانیت اختیار کرنے ہی پر ہے تو حضرت ابراہیم اور دوسرے انبیاء اور نیک لوگ جو ان مذہبوں کی پیدائش سے صدیوں پہلے پیدا ہوئے تھے اور جن کو خود یہودی اور عیسائی بھی ہدایت یافتہ مانتے ہیں وہ آخر کس چیز سے ہدایت پاتے تھے ؟ ظاہر ہے کہ وہ ” یہودیت “ اور ” عیسائیت “ نہ تھی ۔ لہٰذا یہ بات خود بخود واضح ہوگئی کہ انسان کے ہدایت یافتہ ہونے کا انحصار ان مذہبی خصوصیات پر نہیں ہے جن کی وجہ سے یہ یہودی اور عیسائی وغیرہ مختلف فرقے بنے ہیں بلکہ دراصل اس کا مدار اس عالمگیر صراط مستقیم کے اختیار کرنے پر ہے جس سے ہر زمانے میں انسان ہدایت پاتے رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ یہود ونصاریٰ کی اپنی مقدس کتابیں اس بات پر گواہ ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک اللہ کے سوا دوسرے کی پرستش ، تقدیس ، بندگی اور اطاعت کے قائل نہ تھے اور ان کا مشن ہی یہ تھا کہ خدائی صفات و خصوصیات میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ لہٰذا یہ بالکل ظاہر ہے کہ یہودیت اور نصرانیت دونوں اس راہ راست سے منحرف ہوگئی ہیں جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چلتے تھے کیونکہ ان دونوں میں شرک کی آمیزش ہوگئی ہے۔ اس مضمون کو قرآن کریم نے دوسری جگہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے : یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ 1ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 0065 (آل عمران 3 : 65) ” اے اہل کتاب ! تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑا کرتے ہو ؟ تورات اور انجیل تو ابراہیم کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ؟ “ یعنی تمہاری یہ یہودیت اور نصرانیت بہرحال تورات اور انجیل کے نزول کے بعد پیدا ہوئی ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) ان دونوں کے نزول سے بہت پہلے گزرچکے تھے۔ اب ایک معمولی عقل کا آدمی بھی یہ بات بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) جس مذہب پر تھے وہ بہرحال یہودیت یا نصرانیت تو نہ تھا ، پھر اگر حضرت ابراہیم راہ راست پر تھے اور نجات یافتہ تھے تو لامحالہ اس سے لازم آتا ہے کہ آدمی کا راہ راست پر ہونا اور نجات پانا یہودیت اور نصرانیت کی پیروی پر موقوف نہیں ہے۔ پھر ارشاد فرمایا کہ : مَا کَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا 1ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ 0067 (آل عمران 3 : 67) ” ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھا نہ عیسائی بلکہ وہ تو ایک مسلم یکسو تھا اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا “ ۔ حنیف دراصل اس کو کہتے ہیں جو ہر طرف سے رخ پھیر کر ایک خاص راستہ پر چلے اور دوسرے راستہ کی طرف کبھی دھیان ہی نہ دے اور اس کو ہماری زبان میں یکسوئی کہتے ہیں۔ اللہ کی شہادت یہ ہے کہ یہ سب توحید خالص کے پیرو تھے : 256: نزول قرآن کے وقت یہود میں بڑے عالم و فاضل موجود تھے ان سب کو چیلنج دے کر ایک امّی کی زبان سے کہلایا جا رہا ہے کہ تم واقعات کو توڑ موڑ کر ، صداقتوں کا گلا گھونٹ کر جو کچھ بھی کہے جاؤ ، کہے جاؤ ۔ واقعہ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب حضرات خالص موحد اور توحید کے مبلغ ہوئے ہیں اور آج بھی یورپ کے بڑے بڑے ماہرین تاریخ اور محققین اثریات جو کچھ ان حضرات کے دین کے متعلق کہہ رہے ہیں وہ اس قرآنی متن کی شرح اور اسی امّی کے لائے ہوئے کلام کے اجمال کی تفصیل ہے۔ اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے : 257: یاد رکھو اپنے بنائے ہوئے ڈھکو سلوں پر مطمئن اور بےفکر نہ ہوجاؤ وہاں تو رتی رتی کی خبرموجود ہے اور ویسا ہی معاملہ پیش آئے گا جیسا کہ یہ تمہارے اعمال ہوں گے ۔ وہاں بزرگوں کے ساتھ نسلی ونسبی انتساب ہرگز ہرگز کام نہ دے گا۔ منکروں کے ضمیر کو بیدار کرنے کے لئے اس سے بہتر اور مؤثر کوئی ذریعہ نہیں کہ اللہ کے عالم الغیب ہونے کا استحضار ذہن کے سامنے بار بار ہوتا رہے اور قرآن کریم یہی کراتا رہتا ہے ۔
Ayah 2:141

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

ہاں ! یہ ایک امت تھی جو گزر چکی اس کے لیے وہ تھا جو اس نے اپنے اعمال سے کمایا ، تمہارے لیے وہ ہوگا جو تم اپنے عمل سے کماؤ گے ، تم سے کچھ اس کی پوچھ گچھ نہیں ہوگی کہ ان کے اعمال کیسے تھے ؟

ہاں اکابرین یہود ایک امت تھے : 258: ” تِلْكَ اُمَّةٌ“ سے مراد قوم اسرائیل کے اکابر اسلاف خصوصاً اجداد ثلاثہ ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) جنکی اولاد ہونے پر بنی اسرائیل کو سب سے زیادہ فخر ہے ان سب کا گویا نام لے کر بنی اسرائیل کو کہا جارہا ہے کہ یادر کھو انکے اعمال صالح سے تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا اور نہ تمہارے کفر اور اعمال سیئہ سے انہیں کوئی ضرر ہوگا اور آج جو تم نے اپنی کتابوں میں لکھ لیا ہے وہ ان بزرگوں پر اترے ہوئے کلام میں ہرگز نہیں پایا جاتا یہ تمہاری تحریف ہے۔ جس میں تم کو بڑی مہارت ہے۔ ” جس طرح انگور کی زندہ و شاداب بیل ایک بےجان ستون کے سہارے بڑھتی اور پھیلتی رہتی ہے اسی طرح زندہ یہودی اپنے مرحوم مورثوں اور بزرگوں کے بل بوتے پر پروان چڑھتا رہتا ہے اور تینوں اجداد اسرائیل نیز دوسرے صالحین و اخیار نے اعمال صالحہ کا جو انبار عظیم لگا دیا ہے اس سے انکی اولاد کو مجموعا منفرداً حصہ ملتا رہتا ہے اور اس طرح کسی فرد میں خواہ کتنی ہی کمزوریاں ہوں اس کی نجات یقینی ہے ۔ “ قرآن کریم اس ” متوارث نجات “ پر برابر ضرب شدید لگاتا جاتا ہے۔ لیکن تم نے جو عقیدے گڑھے ہیں گھڑتے رہو امت مسلمہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اللہ کے لئے مخلص ہے اور اسی ” اخلاص “ کے معنی میں حضرت سعید بن جبیر نے بتلایا تھا کہ اخلاص یہ ہے کہ انسان اپنے دین میں مخلص ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اور اپنے عمل خالص اللہ کے لئے کرے ، لوگوں کے دکھانے یا ان کی مدح و شکر کی طرف نظر نہ کرے۔
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

جو لوگ عقل و بصیرت سے محروم ہیں وہ کہیں گے مسلمان جس قبلہ کی طرف [ رُخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے کیا بات ہوئی کہ ان کا رخ اس طرف سے پھر گیا ؟ تم کہو مشرق ہو یا مغرب سب اللہ ہی کے لیے ہے وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے

جو شخص سوچ سمجھ کر بات نہ کرے وہی بیوقوف ہوتا ہے : 259: سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اقوام کی امامت ملی تھی انہوں نے مکہ میں عبادت گاہ تعمیر کی اور امت مسلمہ کے ظہور کی الہامی دعا مانگی اور مشیت الٰہی میں اسی کے ظہور کے لئے ایک خاص وقت مقرر تھا جب وہ وقت آیا تو پیغمبر اسلام سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا ظہور ہوا اور ان کی تعلیم و تزکیہ سے موعودہ امت پیدا ہوگئی۔ اس امت کو ” نیک ترین امت “ ہونے کا نصب العین عطا کیا گیا اور اقوام عالم کی تعلیم اس کے سپرد کی گئی ضروری تھا کہ اس کی روحانی ہدایت کا ایک مرکز بھی ہوتا۔ یہ مرکز قدرتی طور پر عبادت گاہ کعبہ ہی ہو سکتا تھا چناچہ تحویل قبلہ نے اس کی مرکزیت کا اعلان کردیا۔ یہی حقیقت قبلہ کے تقرر میں پوشیدہ تھی اور اب سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ سے یہی بیان شروع ہوتا ہے۔ پیردانی دعوت قرآنی مخاطب ہیں اور انہیں بتلایا جا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عمل حق نے جو بیج بویا تھا وہ بار آور ہوگیا تھا اور وہ جو ” نیک ترین امت “ کی پیشینگوئی تھی وہ تم ہی ہو۔ تورات کی شہادت پیش کی گئی ۔ کتاب پیدائش کے واقعات بیان کئے گئے اور سب کو معلوم ہوگیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کو یہودیت و نصرانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے بیت اللہ کی تعمیر کی کہ قبلہ عام بن جائے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص ملت ابراہیمی کا پابند ہوگا اس کا قبلہ بیت اللہ ہی ہونا چاہئے لیکن باوجود ان حقائق ثانیہ کے احمق یہی کہتے ہیں کہ یہ لوگ بیت المقدس کو چھوڑ کر بیت اللہ کی جانب کیوں پھرگئے یہ اعتراض ان کی سقاہت اور بےعقلی کا نتیجہ ہے۔ بنی اسرائیل کا قبلہ بیت المقدس تھا رسول اللہ ﷺ نے بھی قیام مکہ کے زمانہ میں اسی رخ پر نماز جاری رکھی بلکہ جب مدینہ طیبہ ہجرت فرمائی جب بھی اس قبلہ کو برقرار رکھا۔ بیت المقدس مدینہ سے سمت شمال میں واقعہ ہے۔ آپ کا دل بار بار چاہتا تھا کہ اپنے جد بزرگوار سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بنائے ہوئے خانہ کعبہ کو قبلہ بنا لیں ۔ لیکن حکم الٰہی اس سلسلہ میں خاموش تھا۔ آخر ورود مدینہ کے سولہویں مہینے کے بعد تحویل قبلہ کا حکم ملا۔ اب نماز بجائے بیت المقدس کے خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھی جائے اور اس حکم کی معاً تعمیل ہوئی۔ خانہ کعبہ مدینہ سے ٹھیک جنوب میں واقع ہے اور اس طرح مدینہ کے نمازیوں کے رخ دفعتاً شمال سے جنوب کی جانب پھرگئے۔ بیت المقدس یہود کا قبلہ تھا اور اس کی منسوخی کا اعلان رسول کریم ﷺ کی زبان سے یہود کو بہت ناگوار گزرا۔ وہ یوں بھی رسول اللہ ﷺ کو اپنا دشمن اور اپنے دین کا بیخ کن سمجھنے لگے تھے تحویل قبلہ کے اس تازہ اعلان کو وہ اس سلسلہ کی ایک کڑی سمجھے اور اس پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرنے لگے۔ ان کے ہمنوا کچھ اور لوگ بھی منافقوں اور بد دینوں میں سے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کسی مقام یا جہت میں پابند نہیں ہے : 260: اللہ تعالیٰ کی توجہ تو مغرب و مشرق اور شمال وجنوب کی طرف یکساں ہے وہ کسی جہت میں پابند نہیں ہے ۔ ہاں جس قدر مرکز اعلیٰ ترین ہوگا اس کے نتائج بھی نہایت ہی شاندار ہوں گے اس لئے امت مسلمہ کو بہترین مرکز نوازش کیا گیا کہ وہی اس عزت و کرامت کی مستحق تھی اور ایک عالمگیر مذہب کے لئے یہی موزوں و مناسب تھا کہ توحید الٰہی کا پہلا گھر آخری نبی کا قبلہ ہو۔ قبلہ کے لفظی معنی ہیں سمت ، توجہ یعنی جس طرف رخ کیا جائے۔ یہ ظاہر ہے کہ مؤمن کا رخ عبادت میں صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک لہ کی طرف ہوتا ہے اور اسی کی ذات پاک مشرق و مغرب شمال و جنوب کی قیدوں اور سمتوں سے بالاتر ہے وہ کسی خاص سمت میں نہیں۔ اس کا اثر طبعی خاص طور پر یہ ہوتا تھا کہ کوئی عبادت کرنے والا کسی خاص رخ کا پابند نہ ہوتا جس کا جس طرف جی چاہتا نماز میں اپنا رخ اس طرف کرلیتا اور ایک ہی آدمی کسی وقت ایک طرف اور کسی وقت کسی طرف رخ کرتا تو وہ بھی بےجانہ ہوتا۔ اب ایک دوسری حکمت الٰہیہ اس کی مقتضی ہوئی کہ تمام عبادت گزاروں کا رخ ایک ہی طرف ہونا چاہتے اور وہ یہ ہے کہ عبادت کی مختلف قسمیں ہیں بعض انفرادی ہیں اور بعض اجتماعی ذکر اللہ اور روزہ وغیرہ انفرادی عبادات ہیں جن کو خلوت میں اور اخفاہ کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے اور نماز اور حج اجتماعی عبادات ہیں جن کو جماعت اور اجتماع اور اعلان کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے ۔ ان میں عبادت کے ساتھ مسلمانوں کو اجتماعی زندگی کے آداب کا بتلانا اور سکھانا بھی پیش نظر ہے اور یہ بھی بالکل ظاہر ہے کہ اجتماعی نظام کا سب سے بڑا بنیادی اصول افراد کثیرہ کی وحدت اور یک جہتی ہے۔ یہ وحدت حقیقی جتنی زیادہ قوی ہوگی اتنا ہی اجتماعی نظام مستحکم اور مضبوط ہوگا۔ انفرادیت اور تشتت اجتماعی نظام کے لئے سم قاتل ہے بعض نقطہ وحدت متعین کرنے میں ہر قرن ہر زمانہ کے لوگوں کی مختلف راہیں رہی ہیں ۔ کسی قوم نے نسل درنسل کو نقطہ وحدت قرار دیا ہے کسی نے وطن اور جغرافیائی خصوصیات کو کسی نے رنگ کو اور کسی نے زبان کو اور کسی نے ہم خیال ہونے کو۔ آپ جتنا غوروفکر کرتے جائیں گے آپ پر روز روشن کی طرح واضح ہوجائے گا کہ ان سب وحدتوں سے نہایت ہی اہم چیز سمیت قبلہ کی وحدت ہے ۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہر سمت و جہت سے بالاتر ہے اس کے لئے تو شش جہت یکساں ہیں لیکن نماز میں اجتماعی صورت اور وحدت پیدا کرنے کے لئے تمام دنیا کے انسانوں کا رخ کسی ایک ہی جہت و سمت کی طرف ہونا ایک بہترین اور آسان اور بےقیمت وحدت کا ذریعہ ہے جس پر سارے مشرق و مغرب اور شمال وجنوب کے انسان آسانی سے جمع ہو سکتے ہیں ۔ اب وہ ایک سمت و جہت کونسی ہو جس کی طرف ساری دنیا کا رخ پھیرا جائے ۔ اس کا فیصلہ اگر انسانوں پر چھوڑا جائے تو بھی ایک سب سے بڑی بناء اختلاف و نزاع بن جاتی ہے اس لئے ضروری تھا کہ اس کا تعین خود حضرت حق سبحانہ کی طرف سے ہوتا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو دنیا میں اتارا تو ملائکہ کے ذریعے بیت اللہ کعبہ کی بنیاد پہلے ہی رکھ دی گئی تھی۔ حضرت آدم اور اولاد آدم کا سب سے پہلا قبلہ یہی بیت اللہ اور خانہ کعبہ بنایا گیا ۔ مرور زمانہ اس کی حالت پر اثر انداز ہوا اور یہ منہدم ہوا لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اللہ تعالیٰ نے جد انبیاء سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کی بنیاد دوبارہ رکھوا دی اور پھر سنت اللہ کے مطابق اس پر زمانہ کے اثرات غالب آئے تو اس جہت کو چھوڑ کر نئی نئی جہتیں مقرر ہوتی رہیں ان ادوار میں سے ایک دور بیت المقدس کے قبلہ بنانے پر بھی گزر چکا لیکن مشیت ایزدی نے اپنے فیصلہ کے مطابق جو خاص وقت مقرر کر رکھا تھا اسی وقت قبلہ کو دوبارہ قبلہ بنایا جائے گا وہ وقت آگیا اور جس شخصیت پر نبوت کو ختم کرنا لازم رکھا گیا تھا یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت اس پر قبلہ اول کی سمت کو دوبارہ مقرر کرادیا لیکن اس دفعہ اس کی صورت وہ مقرر کردی گئی کہ اب یہ تاحین حیات سمت بدلی نہ جاسکے گی۔ چناچہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو اسی طرح بیان فرمایا کہ : اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ ہُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ0096 سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا ہے وہ گھر ہے جو مکہ میں ہے جو برکت اور ہدایت والا ہے تمام جہان والوں کے لئے۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے تمہیں نیک ترین امت ہونے کا درجہ عطا کردیا تاکہ تم انسانوں کیلئے گواہی دینے والے ہو اور تمہارے لیے اللہ کا رسول گواہی دینے والا ہو اور یہ جو اتنے دنوں تک ہم نے تمہیں اس قبلہ پر رہنے دیا تو یہ اس لیے تھا ، تاکہ معلوم ہو کہ کون لوگ اللہ کے رسول کی پیروی میں سچے ہیں اور کون لوگ ہیں جو الٹے پاؤں پھرجانے والے ہیں اس میں شک نہیں کہ ہدایت یافتہ لوگوں کے سوا اور سب کیلئے اس معاملہ میں بڑی ہی سخت آزمائش تھی ، یقین کرلیں ، ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ تمہارا ایمان رائیگاں جانے دے ، وہ تو انسانوں کے لیے سرتاسر شفقت و رحمت رکھنے والا ہے

بہترین قبلہ بیت اللہ ہے اور بہترین امت امت ِمسلمہ ہے : 261: جس طرح تمہیں بہترین مرکز نوازش کیا گیا ہے ایسا ہی ہم نے تم کو بہترین امت ، امت عادلہ پیدا کیا ہے جس میں یکسر خیر و برکت ہی ہے تاکہ تم تمام دنیا کے لئے راہ اعتدال و توسط میں نمونہ ہو۔ ہر قوم و ملت تمہاری نگرانی میں راہ مستقیم حاصل کرے کہ طریق استقامت صرف تمہارے ہی پاس ہے اور تمہارے لئے رسول اللہ کی ذات اقدس نمونہ ہو ” وسط “ کے معنی عدول ہی کے آتے ہیں۔ لیکن بعض کے نزدیک اس کے معنی درمیان کے ہیں یعنی غلو اور تقصیر کے درمیان اسلام کی تعلیم ہے ۔ نصاریٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارہ میں غلو کیا اور یہودیوں نے تحریف و تبدیل سے کام لیا لیکن قرآن کریم اس افراط وتفریط سے پاک راہ اعتدال اختیار کئے ہوئے ہے۔ پھر یہ نگرانی اس جگہ دنیا ہی میں ختم نہ ہوگی بلکہ قیامت کے روز بھی تمہیں بطور شہید اور گواہ کے کام دنیا پڑے گا چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے روز جب تمام قومیں میدان محشر میں موجود ہوں گی اللہ تعالیٰ انبیاء کرام سے سوال کرے گا کہ کیا تم نے تبلیغ حق و صداقت کا فرض ادا کیا تو سب اثبات میں جواب دیں گے مگر ان کی امتیں انکار کریں گی اس پر امت مسلمہ شہادت دے گی کہ بیشک ان پیغمبرانِ جلیل نے اپنا فرض ادا کیا۔ آیت کے اس حصہ میں دو چیزیں بیان کی گئیں : ! مسلمان دنیا کے امام و پیشوا ہیں اور ان کی زندگی دوسروں کے لئے نمونہ ہوگی۔ ہر نیکی کو قائم کرنے والے اور ہر برائی سے منہ موڑنے والے اور ہر برائی کے دور کرنے والے یہی ہوں گے۔ جیسے دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ : كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (آل عمران 3 : 110) ” مسلمانو ! تم تمام امتوں میں “ بہتر امت ہو جو لوگوں کی ارشاد و اصلاح کے لئے ظہور میں آئی ہے ۔ تم نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے ہو۔ “ " قیامت کے روز ان لوگوں کو بطور گواہ کے پیش کیا جائے گا اس دعوے کے ثبوت میں کہ ہر نبی نے اپنا فرض ادا کردیا۔ ان دو چیزوں کو پیش نظر رکھ کر ہر مسلم کا مقصد حیات خود بخود معلوم ہوجاتا ہے اور وہ یہی ہے کہ قرآن کریم کو اپنے ہاتھ میں لے لے اور اس کی نشرواشاعت میں سر بکف کوشش کرے۔ دنیا کا ایک ایک کونہ چھان مارے اور کوئی امت ایسی نہ رہ جائے جس میں اس نے اسلام کی تبلیغ نہ کی ہو اگر ایسا نہ کرے تو قیامت کے روز شہادت دینے کے قابل نہ ہوگا اور وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا 1ؕ، سے محروم ہوجائے گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی شہادت اس صورت میں ہی میسر ہو سکتی ہے جب کہ وہ اس فرض کو ادا کرے۔ لیکن مسلمانوں کی موجودہ حالت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ عوام تو ایک طرف تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی اس طرف توجہ نہیں۔ آہ۔ وہ کتاب جو دنیا کی ہدایت و راہنمائی اور عالمگیر امن و سلامتی کے لئے آئی تھی اس کی طرف سے بےاعتنائی اختیار کی جا رہی ہے۔ اے فرزندان اسلام ! وائے عزیز انِ ملت ! ایسا نہ ہو کہ آج تم اس فرض اہم واقدم سے اجتناب کرو اور کل جب کہ تمام اقوام عالم ایک میدان میں جمع ہوں گی سب کے سامنے تمہیں ذلیل و رسوا ہونا پڑے اور خود رسول بھی تمہاری نسبت یہ شکایت کرے کہ : یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 0030 ” اے میرے رب ! افسوس ہے کہ میری امت نے قرآن کی ہدایتوں اور تعلیمات پر عمل نہ کیا اور اس قرآن کریم سے انہوں نے اپنا رشتہ توڑ لیا۔ “ پس ابھی وقت ہے خواب غفلت سے بیدار ہو اور کتاب الٰہی کو ہاتھ میں لے کر اپنے فرض کو ادا کرو نہیں معلوم کہ کل کیا ہونے والا ہے کہ : یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ 1ۚ، کس کا چہرہ سفید ہوگا اور کس کا سیاہ ! بیت المقدس کو عارضی قبلہ کیوں رہنے دیا گیا ؟ 262: رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ مسئلہ کے متعلق کوئی حکم موجود نہ ہوتا اس میں اہل کتاب کی اتباع کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ نماز تو آغاز نبوت ہی میں پڑھی جا رہی تھی مگر قبلہ کے متعلق کوئی صاف حکم موجود نہ تھا اس لئے آپ مکہ مبارکہ میں بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اس طرح بیت اللہ کی جانب بھی پشت نہ ہوتی تھی ۔ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو بیت المقدس ہی قبلہ رہا مگر ہجرت کے دوسرے سال تقریباً 16 ماہ بعد اللہ تعالیٰ نے قبلہ بدل دیا اور اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ کو مسلمانوں کا قبلہ گاہ بنا دیا جسے مکعب شکل ہونے کی وجہ سے کعبہ اور صرف عبادت الٰہی کے لئے بنائے جانے کا سبب بیت اللہ اور عظمت و حرمت کی بنا پر مسجد الحرام کہا جاتا تھا ۔ بیت المقدس کو عارضی قبلہ بنائے رکھنے کے اسباب حسب ذیل تھے : ! جب تک آپ مکہ مکرمہ میں رہے بیت المقدس قبلہ رہا کیونکہ مشرکین مکہ بیت المقدس کے احترام کے قائل نہ تھے اور کعبہ کو تو انہوں نے خود ہی اپنا بڑا معبد بنا رکھا تھا لیکن ابھی تک انہوں نے بت بھی وہاں رکھے ہوئے تھے ۔ اس لئے شرک چھوڑدینے اور اسلام قبول کرنے کی بین علامت مکہ مکرمہ میں یہ رہی کہ مسلمان ہونے والا بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے۔ " مدینہ میں زیادہ تر یہودی اور عیسائی آباد تھے ان کے نزدیک بیت اللہ کی کوئی عزت نہ تھی۔ وہ صرف بیت المقدس ہی کو انوار و تجلیات الٰہیہ کا محیط یقین کرتے تھے اس لئے مدینہ میں اسلام قبول کرنے کی نشانی یا علامت یہ قرار پائی کہ بیت اللہ کی جانب نماز پڑھیں۔ #دنیا معلوم کرلے کہ عرب نے رسول اللہ ﷺ کا اتباع اسلئے نہیں کیا کہ آپ انکے آبائی قبلہ کو اپنا سجدہ گاہ بنا رہے ہیں بلکہ وہ آپ کی دعوت کو حق و صدق پر مبنی خیال کرتے ہیں اور اسلئے جس طرف آپ کا ارشاد ہوتا ہے فوراً اپنے آپ کو پھیر لیتے ہیں ۔ اگرچہ ایک قوم کیلئے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ کسی کی خاطر اپنے آبائی قبلہ کو ترک کر دے مگر چونکہ حق ان پر واضح ہوچکا تھا اسلئے وہ ہر ایک بات کیلئے تیار ہوگئے۔ $ جس قدر منافقین ہیں اور اپنے ایمان کو چھپاتے پھرتے ہیں الگ ہوجائیں تاکہ آئندہ صرف راسخ ال ایمان ہی میدان عمل میں نکلیں۔ بیت المقدس کو قبلہ بنا کر پڑھی گئی نمازیں صحیح اور درست ہیں : 263: یہاں اگر ایمان سے مراد اس کے معروف معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوا کہ تحویل قبلہ پر جو بعض بیوقوف لوگوں کو یہخیال پیدا ہوا کہ یہ دین سے منحرف ہوگئے اور ان کا ایمان ہی ضائع ہوگیا اس کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں ہے بیوقوف لوگوں کی آواز پر کان نہ دھریں۔ اور بعض روایات و احادیث میں اور اقوال سلف میں اس جگہ ایمان کی تفسیر نماز سے کی گئی ہے اور معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو نمازیں سابقہ قبلہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی گئی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ضائع کرنے والا نہیں ۔ وہ تو صحیح و مقبول ہوچکیں تحویل قبلہ کے حکم کا پچھلی نمازوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ صحیح بخاری میں بروایت ابن عازب ؓ اور ترمذی میں بروایت ابن عباس (رح) منقول ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کا قبلہ بیت اللہ کو بنایا گیا تو لوگوں نے سوال کیا کہ جو مسلمان اس عرصہ میں انتقال کر گئے جب کہ نماز بیت المقدس کی طرف ہوا کرتی تھی اور بیت اللہ کی طرف نماز پڑھنا ان کو نصیب نہیں ہوا ان کا کیا حال ہوگا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں نماز کو ایمان کے لفظ سے تعبیر کر کے واضح کردیا کہ ان کی نمازیں سب صحیح و مقبول ہوچکی ہیں ۔ ان کے معاملہ میں تحویل قبلہ کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہارا چہرہ آسمان کی طرف بار بار اٹھتا ہے یقین کرو ہم عنقریب تمہارا رخ اس قبلہ کی طرف پھیرنے والے ہیں جس سے تم خوشنود ہوجاؤ گے تم اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر لو اور جہاں کہیں بھی تم نکلو ضروری ہے کہ اپنا رخ اسی طرف پھیرا کرو جن لوگوں کو آپ سے پہلے کتاب دی گئی ہے وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ معاملہ ان کے رب کی طرف سے ایک امر حق ہے اور جیسے کچھ ان کے اعمال ہیں اللہ ان سے غافل نہیں

رسول اللہ ﷺ وہی چاہتے تھے جو رضائے الٰہی ہوتی : 264: رسول اللہ ﷺ کو جذبہ دین کے ماتحت اس کا یقین تھا کہ اب جب کہ امامت بنی اسرائیل سے چھن چکی ہے تو ان کا قبلہ بھی قبلہ امت نہیں رہ سکتا ، تحویل قبلہ کا حکم اب آکر رہے گا۔ اور وحی الٰہی کے انتظار میں آپ ﷺ کی نظر بار بار آسمان کی طرف بھی اٹھ جاتی تھی۔ اس جگہ اسی کیفیت کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ بیشک کسی جہت کا پابند اور کسی مکان میں محدود نہیں تاہم تجلیات خاصہ کو قرآن کریم میں آسمان کی جانب منسوب کیا گیا ہے۔ گویا آپ ﷺ کو کہا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ حیران ومضطرکیوں ہوتے ہیں ہم نے خوب دیکھ لیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کی خواہش کیا ہے ؟ ” یقین جانو ہم عنقریب تمہارا رخ ایک ایسے قبلہ کی طرف پھرا دینے والے ہیں جس سے تم خوشنود ہوجاؤ گے۔ “ یہ وعدہ ہے تحویل قبلہ کا۔ یہاں بجائے براہ راست یہ ارشاد فرمانے کے کہ ہم کعبہ کی طرف آپ کو پھیر دیں گے ارشاد یہ ہوا کہ ہم اسے آپ ﷺ کا قبلہ قرار دے دیں گے جسے آپ خود قبلہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کی کمال رفعت مراتب اور کمال درجہ کی قبولیت ظاہر ہوتی ہے ۔ کیا ٹھکانا ہے اس بلندی مرتبہ کا کہ اللہ تعالیٰ خود طالب رضائے بندہ ہوجائے ۔ اس سے آگے کوئی مرتبہ رفعت تصور میں بھی نہیں آسکتا۔ اقبال (رح) نے بھی اس مقام کی تشریح کی ہے۔ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے ۔ خدا بندہ سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے ؟ المسجد الحرام بیت اللہ کا نام ہے : 265: مسجد حرام یعنی عزت و حرمت والی مسجد جس سے مراد مکہ مکرمہ کی وہ مسجدہ ہے جس کے اندر خانہ کعبہ واقع ہے یعنی باہر کے برآمدوں سے نیچے اتر کر جو مکان بنا ہوا ہے بس وہی مسجد حرام بھی ہے اور خانہ کعبہ بہت ہی مختصر سی عمارت کا نام ہے ۔ امام مالک کہتے ہیں کہ مسجد حرام ساری دنیا کا قبلہ ہے اور خانہ کعبہ قبلہ ہے اس مسجد کا ۔ مسجد حرام یا حرم شریف کی موجودہ عمارت کا نقش اول خلیفہ مہدی عباسی کے زمانہ کا ہے بعد کے خلفاء و سلاطین برابر اس میں اضافہ کرتے رہے۔ خصوصاً ترک سلاطین۔ موجودہ ہیئت سلطان سلیم ثانی متوفی 1577 کے عہد سے تقریباً قائم ہے صحن کی وسعت تقریباً 600 فٹ ہے۔ ” شطر “ سے مراد ہے مسجد حرام کی سمت یا اس کے رخ پر نہ کہ عین اس کے مقابل کہ اس کی تعمیل دور دراز کے علاقوں میں ممکن ہی نہیں۔ وسعت کے لئے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد کفایت کرتا ہے کہ ” مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے “ اور ” جنوب و شمال کے درمیان قبلہ ہے “ جس سے سمت کی ساری بحثیں ختم ہوجاتی ہیں جو دور جدید سے پہلے اٹھائی گئی تھیں اور جو اس وقت دور جدید میں لگائی جاتی ہیں ۔ کبھی کوئی اٹھتا ہے کہ دیکھو تمہاری مسجد کا قبلہ صحیح نہیں یہ سمت یہاں سے اتنے زاویہ پر ہوگی تو قبلہ درست ہوگا۔ ان ساری تحقیات پر حدیث رسول ﷺ نے پانی پھیر دیا اور صحیح بات یہی ہے کہ یہ ایک قوم کے لئے نظامی صورت ہے جس میں اتنی وسعت ہونی چاہیے تھی اور اس وسعت کو انسان کا تنگ ذہن سما نہیں سکتا۔ خانہ کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا مگر کعبہ کے اندر تو ابھی بت بھرے ہوئے تھے لہٰذا یقینی بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں یہ خیال پیدا ہوتا ہوگا کہ اس آلائش سے یہ مرکز توحید کب اور کس طرح پاک ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے تسلی دے دی کہ ہم تم ہی کو اس قبلہ کا متولی بنائیں گے یعنی مسلمانوں کو اور تم یقیناً اس بیت اللہ کو ان آلائشوں سے پاک و صاف کردیں گے اور دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ حکم آئے ہوئے ابھی چند ہی سال گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو ان بتوں سے پاک و صاف کرادیا اور اب رہتی دنیا تک اس کو اپنی خاص امان میں لے لیا۔ اہل کتاب بھی جانتے تھے کہ بیت اللہ ہی مستقل قبلہ ہے : 266: اہل کتاب پر رسول اللہ ﷺ کی صداقت پوری طرح کھل چکی تھی۔ پیشگوئیاں ان کی کتاب میں موجود تھیں جن کے پورا ہونے کا انہیں ابھی تک انتظار تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ساتھ وعدہ تھا یہی وجہ تھی آپ کو عرب میں لا کر بسایا گیا یہی سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کا اصل میں ذبیح ہونا تھا ۔ تعجب ہے کہ ساری امت مسلمہ جانتی ہے کہ اسماعیل (علیہ السلام) ہی ذبیح ہوئے ہیں اور یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ اسماعیل ذبح نہ ہوئے تھے اگر وہ ذبح کرنے کیلئے لائے بھی گئے ہوں اور ابراہیم (علیہ السلام) ذبح کرنے کے لئے تیار بھی ہوئے ہوں تاہم ذبح نہیں ہوئے تھے۔ لیکن اسکے باوجود سب ان کو ذبیح کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ پھر اس میں کیا شک رہ گیا کہ اسماعیل (علیہ السلام) کا ذبیح ہونا دراصل یہی تھا کہ وہ اپنے والد سے جدا کر کے اپنے وطن سے اٹھا کر دور دراز علاقہ عرب میں بسائے گئے اور یہ کام اللہ تعالیٰ کی ہدایت و حکم کے مطابق کیا گیا۔ باپ نے اپنے بیٹے کو حکم الٰہی کے مطابق اپنے سے جدا کرنا اور بیٹے نے حکم الٰہی کو تسلیم کر کے باپ اور ملک سے جدا ہونا تسلیم کرلیا۔ یہ بات نہ اس وقت کسی سے پوشیدہ تھی اور نہ ہی اب ہے اور اہل کتاب بھی کتاب الٰہی کے حوالے سے یہ سب کچھ جانتے تھے ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں جو موعود نبی کے حق میں مانگی تھیں آج بھی تورات میں موجود ہیں۔ پس جب ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا موعودبنی آیا تو ضروری تھا کہ اس کا قبلہ بھی وہی کعبہ ہوتا جو ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) نے مل کر تعمیر کیا تھا ۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ وہ موعود نبی عرب میں آئے گا بلکہ یہودیوں کا عرب کے علاقہ میں کثرت سے آکر آباد رہنے کی اصل وجہ ہی یہ تھی کہ وہ اس انتظار میں تھے کہ وہ آنے والا نبی عرب کے علاقہ میں آئے گا۔ ان پیشگوئیوں کا ذکر آج تک ان کی کتاب تو ریت میں موجود ہے چناچہ (یسعیاہ 31 : 13) میں ان الفاظ کے بعد ” عرب کی بابت الہامی کا کلام “ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کی صاف پیش گوئی ہے۔ یہود کے ہاں اس قدر روشن نشان آپ ﷺ کی صداقت کے موجود تھے کہ ان کے دل اس صداقت کا انکار نہ کرسکتے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو حسد کی آگ کھا گئی اور نسلی تقویٰ نے ان کو مجبود کیا کہ وہ اس حقیقت کا انکار کردیں جس کو وہ اس طرح جانتے ہیں جس طرح ہر انسان اپنی اولاد کو پہچانتا ہے ۔ انہوں نے صداقت کے سارے نشانات کا انکار کیا تو محض اس لئے کہ وہ موعود نبی نبی اسماعیل میں کیوں پیدا ہوگیا۔ وہ تو عرب میں آباد ہی اس لئے ہوئے تھے تاکہ عرب کی پیش گوئی بھی پوری ہو وہ موعود نبی ہم بنی اسرائیل میں سے پیدا بھی ہو۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اگر تم اہل کتاب کے سامنے ساری دلیلیں پیش کر دو تب بھی وہ تمہارے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ، نہ یہ ہوسکتا ہے کہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرنے لگو اور ان میں سے ہر ایک گروہ دوسرے گروہ کا قبلہ ماننے والا نہیں اور اگر تم نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی جب کہ تمہیں اس بارے میں علم بھی ہوچکا ہے تو تم یقینا نافرمانی کرنے والوں میں شمار ہونے لگو گے

اہل کتاب دلائل کے ماننے والے ہوتے تو ان کے پاس بھی موجود تھے : 267: پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کے لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ اہل کتاب کے بغض و حسد کی یہ حالت ہے کہ اگر آپ ﷺ ان کے سامنے تمام دلائل پیش کردیں جس سے ثابت ہو کہ بیت اللہ ہی قبلہ اصل ہے پھر بھی وہ بیت اللہ کو قبلہ نہیں مانیں گے اور چونکہ آپ ﷺ کو بہترین مرکز نوازش کیا گیا ہے اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اس ادنیٰ ترین قبلہ کی طرف متوجہ ہوں۔ ہم نے پوری دنیا کو بیت اللہ قبلہ بنا کر دکھا دیا ہے کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ اسلامی سیلاب کے سامنے سب خس و خاشاک کی طرح بہتے چلے جائیں گے ۔ بیت اللہ شریف مشرکین مکہ کی تو لیت سے نکال کر اسلام کی تولیت میں دے دیا جائے گا۔ پھر مزید یہ دلیل ان کو بتائی کہ خود اہل کتاب کو دیکھو ایک ہی تورات پر سب کا ایمان ہے لیکن قبلہ میں سب مختلف ہیں وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کی اتباع نہیں کرتے سامریوں کا قبلہ اور ہے اور یہودیوں کا دوسرا یعنی بیت المقدس پہلے بھی پوری امت اسرائیل کا قبلہ نہیں ہے ۔ اسرائیل ہی میں سے عیسائی بھی ہیں اور ان کا رخ بیت المقدس کی بجائے مشرق کی جانب ہوتا ہے ۔ یہ صرف اسلام کی خصوصیت ہے کہ آج کروڑوں نفوس کا قبلہ بیت اللہ شریف ہی ہے۔ نہ ماننے والوں کے لئے کوئی دلیل بھی دلیل نہیں ہوتی : 268: اللہ کے قانون میں رو رعایت کی کوئی گنجائش نہیں خواہ وہ کوئی ہو یہاں تک کہ انبیاء (علیہم السلام) کے لئے بھی نہیں اور نفس فطرت بشری کے لحاظ سے گناہوں کی صلاحیت ان میں بھی ویسی ہی ہوتی ہے جیسی دوسرے انسانوں میں۔ یہ دوسری بات ہے کہ توفیق الٰہی ان کا تعلق ہر وقت اور ہر حال میں اپنے ساتھ قائم رکھتی ہے اور انہیں خطا سے محفوظ اور معصیت سے معصوم بنائے رکھتی ہے۔ اور یہ تفہیم کرنا بھی مقصود تھا کہ بحث ونظر وہاں ہوتی ہے جہاں کوئی دلیل کو مان لینے والا نہ ماننے والوں کے لئے بھی کبھی کوئی دلیل دلیل ہوتی ہے ؟ یعنی اس کا فیصلہ نہ تو اس طرح ہوسکتا ہے کہ دلیل سے انہیں مطمئن کردیا جائے کیونکہ یہ تعصب وہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں اور کسی دلیل سے بھی اس قبلہ کو چھوڑ نہیں سکتے جسے یہ اپنی گروہ بندی کے تعصبات کی بنا پر پکڑے ہوئے ہیں اور نہ اس کا فیصلہ اس طرح ممکن ہے کہ تم ان کے قبلہ کو اختیار کرلو کیونکہ ان سب کا کوئی ایک قبلہ ہی نہیں۔ جس پر یہ سارے متفق ہوں اور اسے اختیار کرلینے سے قبلہ کا جھگڑا چک جائے ، مختلف گروہوں کے مختلف قبلے ہیں ، پھر ایک کا قبلہ اختیار کر کے بس ایک ہی گروہ کو راضی کرسکو گے دوسروں کا جھگڑا بدستور قائم رہے گا اور سب سے بڑی اور آخری بات یہ ہے کہ پیغمبر کی حیثیت سے تمہارا یہ کام ہے ہی نہیں کہ تم لوگوں کو راضی کرتے پھرو ان سے لین دین کے اصول پر مصالحت کرلو۔ تمہارا کام تو یہ ہے کہ جو علم ہم نے تمہیں دیا ہے سب سے بےپروا ہو کر صرف اس پر سختی کے ساتھ قائم ہوجاؤ ۔ اس سے ہٹ کر کسی کو راضی کرنے کی کوشش کرو گے تو اللہ ناراض ہوجائے گا پھر کیا آپ اللہ کو ناراض کرسکتے ہیں ؟
Ayah 2:146

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے آپ سے پہلے کتاب دی ہے وہ آپ کو اس طرح پہچان گئے ہیں جس طرح ہر آدمی اپنی اولاد کو پہچانتا ہے لیکن اس کے باوجود انمیں ایک گروہ ایسا ہے جو علم رکھتے ہوئے جان بوجھ کر سچائی کو چھپاتا ہے

اہل کتاب آپ کو اور آپ کے قبلہ کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے ہر انسان اپنی اولاد کو : 269: اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو بحیثیت رسول پہچاننے کی تشبیہ اپنے بیٹوں کو پہچاننے کے ساتھ دی گئی ہے کہ یہ لوگ جس طرح اپنے بیٹوں کو پوری طرح پہچانتے ہیں ان میں کبھی اشتباہ نہیں ہوتا کہ یہ بچہ میرا ہے یا میرا نہیں اس طرح تورات و انجیل میں جو رسول اللہ ﷺ کی بشارت اور آپ ﷺ کی واضح علامات ونشانات کا ذکر آیا ہے اس کے ذریعے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو بھی یقینی طور پر جانتے ، پہچانتے ہیں۔ ان کا انکار محض عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے ۔ جس طرح کوئی شخص اپنے بیٹوں کے شناخت کرنے میں غلطی نہیں کرسکتا بالکل اسی طرح یہ بھی آپ کے پہچاننے میں غلطی نہیں کرسکتے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اہل کتاب کو خوب معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا قبلہ بیت اللہ ہی ہوسکتا ہے مگر بد دیانتی کی وجہ سے اس کو مخفی رکھتے ہیں ۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح فرمایا کہ : ” کسانی کہ دادہ ایم ایشاہ را کتاب می شناسندوے را یعنی حقیقت استقبال کعبہ راچنا ن کہ می شنا سند فرسنداں خویش را۔ “ پس مسلمانوں کا دائمی قبلہ یہی ہونا چاہئے اس لئے دل میں کبھی کوئی شک نہ پیدا ہونے پائے۔ لیکن پہلا بیان زیادہ موزوں ہے اس لئے کہ رسول کے حق ہونے کی شناخت سے قبلہ کی شناخت خود بخود ہوجاتی ہے۔ تاہم دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بات میں فرق ضرور ہوجاتا ہے لیکن اصول میں کوئی فرق نہیں پڑتا اندریں وجہ دونوں ہی باتیں مراد لی جاسکتی ہیں۔
Ayah 2:147

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

تمہارے رب کی طرف سے ایک امر حق ہے ، پس ایسا نہ ہو کہ تم شک کرنے والوں سے ہو جاؤ

حق ہمیشہ اپنی دلیل آپ ہوتا ہے : 270: کسی بات کا حق ہونا ہی اس کی حقانیت کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ حق کے معنی ہی قائم و ثابت رہنے کے ہیں اور جو بات قائم و ثابت رہنے والی ہے اس کے لئے اس کے قیام و ثبات سے بڑھ کر اور کون سی دلیل ہوسکتی ہے ؟