Ayah 2:281احکام ” الربوا “ کی آیات کے ختم پر و بارہ بارگاہ ایزدی کا حکم :
492: احکام ” الربوا “ پر نازل کی گئی چھ آیات ختم ہوچکی ہیں اور اب اس ساتویں آیت میں اہل ایمان کو مخاطب فرما کر کہا جاتا ہے کہ اس دن سے ڈرتے رہو جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہاں تم سب کی اپنے اپنے اعمال کی پیشی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کا معاوضہ یعنی کیے کا بدلہ پورا پورا ملے گا اور ان پر ظلم ذرا بھی نہ ہوگا کہ کسی کا عمل بلا معاوضہ رہ جائے یا کسی کے نامہ اعمال میں کوئی بدی خواہ مخواہ لکھ دی جائے۔ ” تُوَفّٰى کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ “ یعنی اعمال کا پورا پورا معاوضہ دیا جائے گا اور یہ بات اپنی جگہ پر حق ہے کہ کسی کو پورا پورا معاوضہ ادا کردینے کے بعد اس کو جتنا کچھ زیادہ عطا کیا جائے تو یہ عطا کرنے والے کی مزید عطا ہے اس کو معاوضہ میں کمی بیشی نہیں کہا جاسکتا یا یہ بات پورا پورا معاوضہ ادا کرنے کے کسی حال میں بھی منافی نہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نزول کے اعتبار سے سب سے آخری آیت ہے اس کے بعد کوئی آیت اس سلسلہ میں نازل نہیں ہوئی۔ اس کے اکتیس روز بعد نبی کریم ﷺ کا وصال ہوگیا اور بعض روایات میں صرف نو دن بعد وفات ہونا بھی مذکور ہے۔
ربوا کے متعلق سورة بقرہ کی آیات ختم ہوئیں جو اس آخری ہدایت کی آیت کو ملا کر سات آیات کریمات ہوتی ہیں اور سورة آل عمران میں ایک اس حکم ربا کے متعلق موجود ہے اور سورة نساء میں بھی دو آیتیں اس مضمون کی ہیں اور ایک آیت سورة روم میں بھی ہے جس کی تفسیر میں اگرچہ اختلاف ہے۔ بعض نے اس کو بھی اس ” الربوا “ یعنی بیاج کے مفہوم میں شمار کیا ہے اور بعض نے اس کی تفسیر میں خاندانی رسم و رواج کے لین دین کے متعلق بیان کیا ہے۔ اس طرح گویا قرآن کریم کی دس آیات کریمات میں ” الربوا “ و رباء کے احکام بیان ہوئے ہیں۔
اس ضمن میں قرآن کریم کی دوسری آیات
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً 1۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ00130 (آل عمران 3 : 130)
” اے مسلمانو ! حرام کی کمائی [ 3 ] سے اپنا پیٹ مت بھرو جو دوگنی چوگنی ہوجایا کرتی ہے اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ “
ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ کَثِیْرًاۙ00160 وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ 1ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا 00161 (النساء 4 : 160۔ 161)
” یہودیوں کے اس ظلم کی وجہ سے ہم نے اچھی چیزیں ان پر حرام کردیں ، جو حلال تھیں اور اس وجہ سے بھی کہ وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہت روکنے لگے تھے۔ اور وہ الر بوا کھانے لگے تھے حالانکہ اس سے روکے گئے تھے اور یہ بات کہ ناجائز طریقہ پر لوگوں کا مال کھانے لگے اور ان میں جو لوگ منکر ہوگئے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “
اس آیت میں یہود کو ” الربوا “ سے روکنے کا ذکر آیا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تصدیق کے لیے یہود کی کتاب سے کوئی عبارت بتائی جائے جس میں یہ حکم موجود ہو تاکہ قرآن کریم کا کلام الٰہی ہونا واضح ہوجائے۔ تورات میں اگرچہ بیشمار تحریف ہوچکی اور قوم یہود کے علماء نے دل کھول کر اس کتاب الٰہی میں ردوبدل کیا تورات کی اصل ہدایات کو حذف کر کے اپنی طرف سے عبارات کی عبارات داخل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تاہم تورات کے اندر آج تک یہ احکامات موجود ہیں ، چناچہ لکھا ہے کہ :
” اگر تو میرے لوگوں میں سے جس کسی کو جو تیرے آگے محتاج ہے کچھ قرض دیدے تو اس سے بیاجیوں کی طرح سلوک مت کر اور ” الربوا “ مت لے۔ “ (خروج 22 : 25)
” تو اس سے ” الربوا “ اور نفع مت لے ، اپنے خدا سے ڈر تاکہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگی بسر کرے تو اسے ” الربوا “ پر روپیہ قرض مت دے ، نہ اسے نفع کے لیے کھانا کھلا۔ “ (احبار 35 : 36۔ 37)
واضح ہوگیا کہ یہود کو ” الربوا “ سے روکا گیا تھا لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اس دنیا میں سب سے زیادہ ” الربوا “ خور قوم خود یہی یہود ہیں اور ان کے ” الربوا “ دنیا کے ادبیات میں ضرب المثل بن گئے ہیں۔
لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کریم کی آیات میں مسلمانوں کو اس لعنت سے بچنے کی صرف تلقین ہی نہیں بلکہ ان کو دنیوی اور اخروی دونوں عذابوں کے متعلق پوری وضاحت سے سمجھایا گیا۔ نتیجہ کیا ہوا ؟ یہی کہ آج اس قوم میں بھی ان لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو کھلے بندوں سودی کاروبار کرتے ہیں اور کوئی بستی یا شہر ایسا نہیں ملتا جہاں یہ مہاجن موجود نہ ہوں۔ یہ دوسری بات ہے کہ انہوں نے اپنا نام مہاجن کی بجائے شیخ یا سیٹھ رکھ لیا ہو ، اس کی وضاحت ہماری کتاب ” سوال اٹھتا ہے نمبر 2 “ میں دیکھیں۔
اور آج جو ” الربوا “ کی نئی نئی شکلیں اور نئے نئے نام رکھ لیے گئے ہیں ، ان کا ذکر بھی آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں اور وہ اس ” الربوا “ کو ” الربوا “ ماننے کے لیے تیار کب ہیں ؟ اور وہ آخر مانیں گے بھی کیوں ؟ اور اپنے پاؤں پر کلہاڑی کیوں ماریں ؟ ان کو بغیر پیسہ لگائے مال ملتا ہے پھر ” الربوا “ خور بھی کوئی نہیں
کہتا۔ عزت الگ ہوتی ہے لیکن خوب سن لو کہ اگر یہ مال کھانے کا طریقہ باطل نہیں تو دنیا میں کوئی طریقہ بھی باطل نہیں ہوگا اور یہ راز اس وقت کھلے گا جب ان سارے ” الربوا “ خوروں کے ہاتھ خالی ہوچکے ہوں گے خواہ وہ کسی قوم سے بھی تعلق رکھتے ہوں۔
سورئہ روم کی ” اختلافی آیات “
کہ اس کا حکم کس طرح کے ” الربوا “ سے ہے ؟
وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ 1ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ 0039 (الروم 30 : 39)
” اور جو تم زیادہ حاصل کرنے کے لیے دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال سے مل کر (تمہارا مال) بڑھتا رہے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو تم پاک دل سے واپس لینے کے لیے نہیں صرف اللہ کی رضامندی کے لیے دیتے ہو پس وہی لوگ ہیں جو اپنے مال کو دو چند کریں گے (اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا مال دوچند ہوگا) ۔ “
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے دو اقوال ہیں : ایک گروہ کہتا ہے کہ اس سے مراد وہ معروف ربا یا ” الربوا “ ہے جسے شریعت نے بعد میں مکمل طور پر حرام ٹھہرایا ہے اور یہاں صرف ترغیب ہے کہ اس طریقہ سے مال نہیں بڑھتا۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ یہاں ربا سے مراد وہ ” الربوا “ نہیں ہے جو شرعاً حرام کیا گیا ہے بلکہ وہ عطیہ یا ہدیہ و تحفہ ہے جو اس نیت سے دیا جائے کہ لینے والا بعد میں اس سے زیادہ واپس کرے گا جیسے شادی بیاہ یا دوسری لین دین کی رسومات میں لیا دیا جاتا ہے یا اس لیے کہ معطی کے لیے کوئی مفیدخدمت انجام دے گا ، جیسے حکومتی افسروں ، مولوی اور پیروں کو یا اس کا خوش ہوجانا معطی کی اپنی ذات کے لیے نافع ہوگا۔ ابن عباس ؓ ، مجاہد (رح) ، ضحاک (رح) ، قتادہ ؓ اور محمد بن کعب القرظی اور حضرت شعبی کا قول بھی یہی ہے اور یہ تفسیر دوسری تفسیر کی نسبت زیادہ مشہور بھی ہے اور صاف بھی۔
اس جگہ الربوا کی بات ختم کر کے آگے ایمان والوں کو مخاطب کر کے ادھار یعنی قرض جس کو عربی میں ” دین “ کہا جاتا ہے کہ بات شروع کی جا رہی ہے اور یہ معاملہ تجارت یا برابری کا ہے ، اس سے اس بات کو ایک انسان سمجھنا چاہے تو ” الربوا “ کی مکمل حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔ کیسے ؟ ایسے کہ نبی کریم ﷺ کے ارشادات کے مطابق ” الربوا “ کی تحریر کرنا ، کرانا ، اس پر گواہ بننا ، بنانا ” الربوا “ لینا یا دینا سب کی ممانعت ہے اور سب گناہ میں برابر کے شریک ہیں ، کیوں ؟ محض اس لیے کہ ” الربوا “ صدقہ و خیرات کی ضد ہے اور صدقہ و خیرات چیز ہی ایسی ہے کہ جس کو صدقہ و خیرات دیا جائے گا اس سے واپس لیا ہی نہیں جاسکتا ، تو پھر اس کی تحریر کیسے ؟ یہ تو قرض حسنہ ہے اور قرض حسنہ کا قرآنی مفہوم یہ ہے کہ جس کو دیا جائے اس سے واپس نہ لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے واضح فرمایا کہ ” الربوا “ ہمیشہ ادھار ہی ہوتا ہے اور قرض حسنہ ادھار کو نہیں کہا جاسکتا۔ اس کی وضاحت مطلوب ہو تو ہماری کتاب ” سود کیا ہے ؟ “ اور ” سوال اٹھتا ہے نمبر 2 “ کا مطالعہ کریں ، ان شاء اللہ عقل و فکر پر پڑے ہوئے تمام پردے اٹھ جائیں گے۔
Ayah 2:282ادھار دینا بھی ایک قسم کی مالی اعانت ہے جو ضرورت کے وقت لیا ، دیا جاسکتا ہے :
493: پہلے انفاق فی سبیل اللہ پر زور دیا جا رہا تھا اور بتایا گیا تھا کہ انسانیت سے پیار و محبت مال و دولت کی پیار و محبت سے بہت زیادہ ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اس کا درجہ مال و دولت کی نسبت بہت بڑا ہے۔ پھر ” الربوا “ کی حرمت سے مسلمانوں کو آگاہ کردیا گیا یہاں تک کہ خاندانوں اور برادریوں کے اندر جو چھوٹے پیمانے پر ” رسماً “ لیا دیا جاتا ہے اس سے بھی نفرت دلائی اور اس کو ختم کرنے پر پورا زور دیا تو اب بتایا جا رہا ہے کہ کسی صاحب مال بھائی کو ضرورت پڑجائے تو وہ اپنی ضرورت کو کس طرح پورا کرے ، فرمایا کہ عندالضرورت مال والا اپنے بھائی کو اس کی ضرورت کی چیز ادھار دیدے تاکہ اس کا کام چل جائے اگر مکمل طور پر اس کی مدد کرنے سے قاصر ہے تو وقتی طور پر اس کے لیے آسانی کا باعث بنے۔ اس پہلو کی طرف متوجہ کرنے کے لیے لین دین کا ایک قانون مرتب کیا تاکہ لین دین کے متعلق جس قدر انسانی ہمدردی کا لحاظ رکھا جاسکتا ہے اس قدر اس کا لحاظ کرلیا جائے ، اس لیے کہ یہ معاملہ برابری کی صورت میں آتا ہے ، ناداری کی صورت میں نہیں۔ جس کی تقسیم حسب ذیل ہے :
(ا) کبھی لینے اور دینے کی دونوں چیزیں موجود ہوتی ہیں۔
(ب) قیمت تو موجود ہے لیکن جس چیز کو خریدنا ہے وہ موجود نہیں۔
(ج) جس چیز کو خریدنا ہے وہ تو موجود ہے مگر قیمت اس وقت موجود نہیں۔
یہ تینوں صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں اور اسلام نے ان تینوں ہی صورتوں کو جائز قرار دیا ہے اور ان صورتوں کے متعلق ہی اس آیت میں احکام بیان کیے گئے ہیں لیکن آج کل ایک لین دین کی اور صورت بھی ہے جس کو اسلام جائز نہیں کہتا بلکہ حرام قرار دیتا ہے ، وہ یہ ہے کہ :
(د) لینے اور دینے کی کوئی چیز بھی موجود نہیں۔ فرضی بیع ہے نہ روپیہ پاس ہے اور نہ چیز۔ اسلام نے اس کی سختی سے ممانعت کی ہے لیکن ہمارے بڑے بڑے سیٹھوں میں اب یہی کاروبار زیادہ چل نکلا ہے۔
اُدھار لینے ، دینے لگو تو ضرور اس کو لکھ لیا کرو :
494: جب آپس میں کوئی معاملہ کرنے لگو اور دام یا چیز ادھار ہو تو اس کو ضرور لکھ لیا کرو۔ اس دستاویز (یادداشت) میں ادا کرنے کی مدت ضرور معین کرو۔ تمہارے درمیان ایک تحریر لکھنے والا آدمی ہونا چاہیے یعنی کوئی کتاب یا وثیقہ نویس۔ کاتب یا وثیقہ نفیس کے لیے یہ ہدایت ہے کہ وہ وہی لکھے جو اس کو لکھوایا جا رہا ہے اور پوری دیانتداری کے ساتھ لکھے۔ بددیانتی نہ کرے اگر اس نے کوئی ایسی حرکت کی تو وہ عنداللہ مجرم ہوگا۔
عموماً دوستوں اور عزیزوں کے درمیان قرض کے معاملات میں دستاویز لکھنے اور گواہیاں لینے کو معیوب اور بےاعتمادی کی دلیل خیال کیا جاتا ہے لیکن اللہ کا حکم یہ ہے کہ قرض اور تجارتی قراردادوں کو تحریر میں لانا چاہیے اور اس پر شہادت ثبت کرا لینی چاہیے
فائل نمبر 2.6
تاکہ لوگوں کے درمیان معاملات صاف رہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جو اللہ سے فریاد کرتے ہیں مگر ان کی فریاد رسی نہیں کی جاتی۔ ایک وہ شخص جس کی بیوی بدچلن ہو اور وہ اس کو طلاق نہ دے۔ دوسرا وہ شخص جو یتیم کے بالغ ہونے سے پہلے اس کا مال اس کے حوالے کر دے۔ تیسرا وہ شخص جو اپنا مال قرض دے اور اس پر گواہ نہ بنائے اور تحریر نہ لکھے۔
اُدھار کی تحریر لکھوانا ادھار لینے والے کا حق ہے یا ادھار دینے والے کا :
495: جس شخص کے ذمہ حق واجب ہے اور جس کوہ رقم یا چیز ادا کرنا ہوگی تحریر وہ لکھوائے گا۔ کاتب کا کام یہ ہے کہ وہ ایمانداری سے جو اس کو لکھوایا جاتا ہے وہ لکھتا جائے اور ضرورت کے وقت کاتب یا وثیقہ نویس لکھنے سے انکار نہ کرے۔ مثلاً خالد نے محمود سے جنس ، غلہ یا کوئی اپنی ضرورت کی چیز خریدی جو طے پایا وہ خالد نے وصول پا لیا اور محمود کی رقم گویا خالد کے ذمہ ادا کرنا باقی ہے۔ بس اس تعلیم کے مطابق خالد کو حق ہے کہ وہ تحریر لکھوائے کیونکہ اس کے ذمے ، دینا ہے۔ اگرچہ زمانا کا رواج یہ نہیں بلکہ زمانہ کے رواج کے مطابق جس کے ذمے اب لینا ہے وہ اپنے پاس لکھ لیتا ہے اور جس کے ذمے دینا ہے اس نے کبھی نہیں لکھوایا۔ حکم الٰہی میں ایک بہت بڑی حکمت پنہاں ہے ، جس وجہ سے قرآن کریم نے یہ ہدایت فرمائی کہ چاہیے کہ املاء وہ شخص لکھوائے جس نے ادھار واپس کرنا ہے۔ علماء نے تحریر کیا ہے کہ یہ حکم وجوباً نہیں۔ مفسرین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ فی الواقع تحریر کرنا کوئی ضروری حکم نہیں ہے حالانکہ قرآن کریم نے اس پر بہت زور دیا ہے۔ اپنی سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ مفسرین نے کن الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ ابو سلیمان مرعشی نے جنہوں نے حضرت کعب کی صحبت بھی اٹھائی تھی۔ ایک روز اپنے پاس والوں سے کہا کہ اس مظلوم کو بھی جانتے ہو جو اللہ کو پکارتا ہے اور اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ لوگوں نے استفسار کیا کہ یہ بات کس طرح ہو سکتی ہے ؟ فرمایا : یہ وہ شخص ہے جو ایک مدت تک ادھار دیتا ہے اور نہ گواہ رکھتا ہے اور نہ ہی لکھت پڑھت کرتا ہے۔ پھر مدت گزرنے پر تقاضا کرتا ہے اور دوسرا شخص انکار کرجاتا ہے۔ اب یہ اللہ سے دعا کرتا ہے لیکن رب کریم اس کی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔ اس لیے کہ اس نے یہ کام اللہ کے حکم کے خلاف کیا ہے اور اپنے رب کا نافرمان ہوا ہے۔
یہ اور اس طرح کی دوسری احادیث کے پیش نظر بعض مفسرین نے یہ کہہ دیا کہ پہلے تو تحریر کرنا کرانا لازم و ضروری تھا یعنی فرض و واجب تھا بعد میں اس کا وجوب منسوخ ہوگیا۔ اور فرمایا گیا کہ اگر ایک کو دوسرے پر اطمینان ہو تو جسے امانت دی گئی ہے اسے چاہیے کہ ادا کر دے پھر اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش کی جاتی ہے جو درج ذیل ہے :
” ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا کہ آپ نے بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا تذکرہ کیا کہ اس نے بنی اسرائیل کے ایک آدمی سے ایک ہزار دینار قرض مانگا ، تو اس نے کہا کوئی گواہ لاؤ تاکہ میں ان کو گواہ مقرر کروں اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے پھر اس نے کہا کوئی ضامن لاؤ تو اسنے کہا اللہ کی ضمانت کافی ہے ، اس نے کہا تم سچ کہتے ہو ، چناچہ اسے ہزار دینار ایک مدت مقررہ کے وعدے پر دیدئیے ، قرض لینے والا بحری سفر کو روانہ ہوا اور اپنی ضرورت پوری کی ، پھر سواری تلاش کی تاکہ قرض دینے والے کے پاس اس مدت کے اندر ہی پہنچ جائے جو اس سے مقرر کی تھی ، لیکن کوئی سواری نہ ملی تو اسنے ایک لکڑی لی اور اس کو کھود کر اس میں ہزار دینار اور ایک خط قرض دینے والے کے نام لکھ کر رکھا ، پھر اس کا منہ بند کیا اور سمندر کے کنارے آیا اور کہا اے میرے اللہ تو جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض مانگا تو اس نے مجھ سے ضامن طلب کیا ، میں نے تجھ کو ضمانت میں پیش کیا تو وہ اس پر راضی ہوگیا ، اس نے مجھ سے گواہ مانگا تو میں نے کہا اللہ کی گواہی کافی ہے وہ اس پر رضا مند ہوگیا ( اور قرض دیدیا) میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی سواری مل جائے تو میں اس کا قرض بھیج دوں ، لیکن نہ مل سکی ، اس لئے میں اس کو تیرے سپرد کرتا ہوں ( یہ کہہ کر ) اس نے اس لکڑی کو سمندر میں پھینک دیا ، یہاں تک کہ وہ لکڑی ڈوب گئی اور وہ واپس ہوگیا اور اس اثنا میں وہ اپنے شہر جانے کے لئے سواری تلاش کرتا رہا ، ادھر جس شخص نے اس کو قرض دیا تھا ۔ ایک دن یہ دیکھنے کے لئے باہر نکلا کہ شاید کوئی جہاز اس کا مال لے کر آیا ہو اس کی نظر اس لکڑی پر پڑی جس میں دینار تھے ، گھر کے لئے ایندھن کی خاطر اس کو لے کر گیا ، جب اس کو چیرا تو وہ مال اور خط اس کو ملا بعد ازاں جس شخص کو قرض دیا تھا وہ بھی آگیا اور ہزار دینار لے کر آیا اور کہا خدا کی قسم میں سواری کی تلاش میں سرگرم رہا تاکہ میں تمہارے پاس تمہارا مال لے کر آؤں ، لیکن جس جہاز سے میں آیا اس سے پہلے کوئی جہاز مجھے نہ ملا ، تو اس نے کہا کہ تو نے میرے پاس کوئی چیز بھیجی تھی ؟ تو قرض لینے والے نے کہا میں تو کہہ رہا ہوں کہ جس جہاز میں میں آیا ہوں ، اس سے پہلے کوئی جہاز مجھ کو نہیں ملا ، قرض دینے و الے نے کہا اللہ نے تیری وہ چیز مجھے پہنچا دی ، جو لکڑی میں تو نے مجھے بھیجی تھی ، چناچہ وہ اپنی ہزار اشرفیاں لے کر خوش خوش واپس ہوا۔ “ (صحیح بخاری کتاب الحوالہ)
یہ حدیث اگرچہ صحیح بخاری میں موجود ہے لیکن اس سے جو نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے وہ بالکل اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن کریم کا حکم اپنی جگہ ایک اٹل حکم ہے جو اس طرح منسوخ نہیں ہو سکتا اور اس کی وضاحت آیت کے اندر موجود ہے۔
مقروض اگر ایسا شخص ہو کہ املاء نہ لکھوا سکتا ہو تو اس کا ولی املاء لکھائے گا :
496: قرض دینے والا وہ شخص ہے جو اس وقت بظاہر قرض لے رہا ہے اور ادھار لی ہوئی رقم واپس کرنا جس پر لازم آتا ہے اگر وہ اتنی عقل نہیں رکھتا کہ زبان سے کچھ الفاظ جن کی اس وقت ضرورت ہے ادا کرے تو چاہیے کہ اس کا ولی یعنی سرپرست و ذمہ دار املاء لکھوائے۔ اگر اس تحریر کی کوئی خاص اہمیت نہ ہوتی تو جس کا لکھنا اور نہ لکھنا برابر ہوتا اور قرض یا دوسرے ہر قسم کے لین دین میں اللہ کی ضمانت پر ہی کام چل سکتا تو اتنی احتیاط کی آخر ضرورت کیا تھی ؟ قانون جو بنایا جاتا ہے وہ سب انسانوں کے لیے ایک جیسی حیثیت رکھتا ہے اور سب کو اس کی پابندی لازمی و ضروری ہوتی ہے۔ اگر ایک شخص دیانت و امانت میں کتنی ہی شہرت رکھتا ہو اس کی اچھی شہرت کی وجہ سے قانون الٰہی میں لچک نہیں ڈالی جاسکتی اور یہ معاملہ تجارتی لین دین سے تعلق رکھتا ہے یا لینے دینے والے دونوں فریق مالدار ہیں ، قلاش نہیں۔
حکم الٰہی کتنا واضح اور صاف ہے کہ جس کو رقم یا چیز ادا کرنی ہوگی وہ خود اپنی زبان سے لکھوائے ہاں ! لکھواتے وقت اللہ کا خوف دل میں رکھے اور پوری دیانت و امانت کے ساتھ لکھوائے اور اس میں ذرا برابر بھی کمی و بیشی نہ کرے اور کسی بات کو مبہم نہ رکھے بلکہ وضاحت کرے مثلاً جس سے معاملہ طے ہوا ہے وہ دیسی مہینوں کی گنتی جانتا ہے یا چاند کے مہینوں کا وہ علم نہیں رکھتا بلکہ انگریزی مہینوں کو سمجھتا ہے تو لکھنے والا اسی مہینہ کا ذکر کرے گا جس کو فریقین جانتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ طے تو چاند کے مہینے ہوئے تھے لیکن لکھواتے وقت اس کے برابر کا انگریزی مہینہ لکھوا دے۔ نہیں وہی جو اصل میں طے ہوا ہے۔ پھر یاد رکھو کہ اگر وہ شخص کم گویا کم عقل ہو یعنی مجنون ہو یا حواس باختہ ہو۔ ضعیف البدن ہو یا نابالغ ہو یا پیر فرتوت ہو یا کسی اتفاقی امر سے خود بیان کرنے اور لکھوانے کی قدرت نہیں رکھتا۔ گونگا ہے ، کاتب اس کے اشارہ کو نہیں سمجھتا۔ اجنبی ملک کا باشندہ ہے اور زبان سے ناواقف ہے تو ان سب صورتوں میں اس کا رکن۔ کفیل یا ترجمان ٹھیک ٹھیک لکھوا دے۔ جس کا تصرف اس کے مال میں نافذ ہو سکتا ہے جیسے باپ ، دادا ، باپ کا وصی ، دادا کا وصی یا قاضی اور حکومت کا نمائندہ۔
قرض یا ادھار کی دستاویز پر گواہ ٹھہرانا بھی ضروری ہیں :
497: جہاں گواہ بنانا اختیاری فعل ہو جیسے لین دین کے معاملہ میں اختیار کو عمل دخل ہے۔ ایسی صورت میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں ہی کو گواہ بنائیں غیر مسلموں کو گواہ نہ بنائیں۔ ہاں ! ذی آدمی ذمیوں کو گواہ بنا سکتا ہے اور ہر کس و ناکس کو گواہ نہ بنایا جائے کیونکہ سب انسان ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ ایسے لوگوں کو گواہ بنایا جائے جو اپنے اخلاق و دیانت کے لحاظ سے بالعموم لوگوں کے درمیان قابل اعتماد ہوں۔ ناقابل اعتمادنہ ہوں۔ گواہوں کی تاکید اس حد تک ضروری ٹھہرائی کہ اگر دو آدمی کسی وقت میسر نہ آئیں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہی کے لیے مقرر کرلو۔ اس سے ایک طرف تو تحریر کی تاکید ہوگئی کہ تحریر ضروری ہے وہ بات نہیں جو عام طور پر سمجھ لی گئی ہے کہ تحریر کی تو کی ورنہ نہ کرنے میں بھی تو خیر ہی ہے۔ ہرگز نہیں۔ پھر گواہوں کی تاکید اور لزوم بھی اس آیت سے نکل آیا اور تیسری بات یہ بھی معلوم ہوگئی کہ اگر لین دین کے معاملات میں کسی وقت دو مرد موجود نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ مقرر کی جاسکتی ہیں تاکہ ” ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا دے “ ان الفاظ کے اندر کیا کچھ پنہاں ہے ؟ اس کی تشریحات بہت لمبی ہیں۔ کیا بھول جائے ؟ یعنی شہادت کے کسی حصہ کو اور واقعہ کے کسی جزء کو۔ رہا یہ امر کہ عورت کی شہادت مرد کے مقابلہ میں ضعیف کیوں مانی گئی ہے ؟ اور نسیان کا احتمال مرد کی شہادت میں کیوں نہیں رکھا گیا ؟ تو یہ سوالات ذہن و اخلاق کی دنیا میں بالکل ایسے ہی ہیں جیسے جسم و مادیات کی دنیا میں یہ دریافت کیا جائے کہ حمل و رضاعت کا تعلق صرف عورت سے ہی کیوں رکھا گیا ہے اور مرد کو باوجود اس کی قوت و جسامت کے اس بار کے برداشت کے کیوں ناقابل سمجھ لیا گیا ؟ یہ فاطر کائنات پر ظاہر ہے جو جسمیات و مادیات کے ایک ایک ذرہ سے واقف ہے اس کے پیش نظر ذہنیات و اخلاقایت کی باریک سے باریک حقیقتیں ہیں اور وہی ان کی اصل حقیقت کو جانتا ہے۔ کتنی حقیقتیں ہیں جو اس وقت کھل کر سامنے آ چکی ہیں اور جو ابھی تک مکمل طور پر نہیں کھلیں وہ بھی ان شاء اللہ جب کھل کر سامنے آئیں گی تو تسلیم کرنا پڑیں گیں اس وقت اگر ایک بات پر دئہ غیب میں ہے تو کل وہ شہادت میں بھی آسکتی ہے۔
اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ ہر معاملہ میں عورت کی گواہی مرد کے مقابلہ میں کمزور و ضعیف نہیں ہے بلکہ بعض صورتوں میں ایک مرد کی گواہی بھی ایک عورت کے مقابلہ میں ضعیف و کمزور سمجھی گئی ہے جیسے جنائی و ضاعت میں اور اس کی مثالیں ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعدا میں خود اسلام کے اندر موجود ہیں اور بہت سی چیزوں میں گواہی اور شہادت کے معاملہ میں عورت بالکل مرد کے برابر بھی ہے۔ جیسے لعان وغیرہ میں ، جوں جوں آپ غور کرتے جائیں گے تو سربستہ راز کھلتے جائیں گے اور یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ کسی صنفی اور فطری کمزوری کو کمزوری کہا جائے تو یہ گویا اس کی فطرت ہی کا اظہار ہوتا ہے اور فطرت وہی ہے جو کسی کے بدلنے سے بھی نہیں بدلتی بلکہ اس کے بدلنے والوں کو ظالم یا حد سے تجاوز کرنے والا کہا جات 4 ا ہے۔
گواہ طلب کیے جائیں تو وہ گواہی سے انکار نہ کریں :
498: گواہوں کے لیے دو اوقات ہوتے ہیں کہ وہ انکار کرسکتے ہیں۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ان دونوں ہی مقامات پر انکار نہیں کرنا چاہیے۔ ایک اس وقت جب کوئی معاملہ طے ہونے لگے تو گواہوں کو گواہ بنانے کے لیے طلب کیا جاتا ہے تو ایسے وقت بھی ضروری ہے کہ گواہ گواہ بننے سے انکار نہ کریں اگر ایسا ہوا تو کاروبارِ زندگی قتل ہو کر رہ جائے گا۔ دوسرا وقت وہ ہے کہ جب لینے دینے میں کوئی ایسا جھگڑا شروع ہوجائے اور اس وقت گواہوں کو طلب کیا جائے خواہ یہ گواہی موجودہ عدالت میں پیش کردینا ہو یا کسی پنچائیت وغیرہ میں تو بہرحال گواہوں کو جب بھی اور جہاں بھی طلب کیا جائے تو وہ بالکل سچی بات کہہ دیں ، کسی کی رعایت ہرگز نہ کریں ، نہ گواہی دیتے ہوئے رشتہ داری کا لحاظ کریں ، نہ اپنی مذہبی یا سیاسی پارٹی کا اور بالکل یہی حکم کاتب یعنی لکھنے والے کے لیے ہے کہ جس وقت لکھنے کی ضرورت پیش آئے تو لکھنے سے انکار نہ کرے اور لکھنے والے کو کسی جگہ طلب کیا جائے تو وہاں جانے سے پرہیز نہ کرے جس سے لکھنے یا لکھوانے والے کا کوئی نقصان ہو۔ یعنی یہ سب لوگ دونوں فریقوں کے درمیان بغیر رو رعایت کے اپنا مؤقف بیان کردیں اور گواہوں کو وہ گواہی دینا چاہیے جو انہوں نے آنکھوں سے دیکھی ہو اگر بات سنی سنائی ہے تو گواہی میں اس کی مزید وضاحت کیں۔ سنی سنائی بات یا بغیر آنکھوں دیکھا حال بیان نہ کریں۔
فرمایا جا رہا ہے کہ معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ضبط تحریر میں ضرور لایا کرو اس وقت کا تساہل کیا ہوا تمہارے لیے مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے اور بعض دفعہ جس بات کو انسان آسان و سہل خیال کرتا ہے وہی اس کے لیے مشکل ہو کر رہ جاتی ہے۔ میعاد کا مقرر کرنا اور لکھنے سے جی نہ چرانا ہی اللہ کے نزدیک انصاف پسندی کی بات ہے اور زیادہ سے زیادہ قرین عدل ہے ، اللہ کے نزدیک انصاف کی بات یہی ہے کیونکہ جب عدالت میں مقدمہ چلا گیا تو وہاں اللہ کو گواہی کے لیے پیش نہیں کیا جاسکتا اور قاضی کو فیصلہ کرنے میں جو مدد ملے گی وہ اس تحریر اور گواہوں ہی سے مل سکتی ہے اور اس سے صحیح واقعات اس کے سامنے آسکتے ہیں۔ گواہوں کو شک و اشتباہ کا موقعہ بھی نہ رہے گا کیونکہ دستاویز دیکھتے ہی حق بات ظاہر ہوجائے گی کہ گواہ کون کون تھے اور انہوں نے کسی قسم کی تحریر پر گواہی ثبت کی ہے اور یہ لوگ سچی گواہی بھی دے سکیں گے اگر کا نفس ان کو کچھ الٹی سیدھی پڑھائے گا تو قانون کا دنڈا ان کو خود سیدھا کرلے گا اگر یہ راہ راست سے کھسکنے کی کوشش کریں گے تو تحریر ان کو اس فعل سے بھی باز رکھنے میں مدد دے گی اور یہ خود مستوجب سزا ہوں گے اگر کوئی ایسی حرکت کریں گے اور جب قرض کی مقدار اور مدت واضح طور پر تحریر ہوگی تو بدگمانی کا موقع بھی یقیناً نہیں رہے گا۔
اگر سودا دست بدست ہو تو تم لکھ لینے سے آزاد ہو ، چاہو لکھو چاہو نہ لکھو :
499: خریدو فروخت کی اشیاء اور معاوضہ کی رقم دست بدست ہے تو پھر ضروری نہیں کہ اس کو ضبط تحریر میں لایا جائے تاہم ضابطہ تحریر میں لے آنا ہی زیادہ بہتر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ روزمرہ کی خریدو فروخت میں معاملہ بیع کا تحریر میں آجانا بہتر ہے اور اس سلسلہ میں صرف کیش میمو بھی کفایت کرتا ہے اور اس کو استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے ، لہٰذا دکاندار سے اس کا مطالبہ کرنا ایک اچھا عمل ہے۔
غور کرو کہ نافہموں نے آج کل شور برپا کر رکھا ہے کہ اب زمانہ اس کا نہیں کہ مذہب خصوصاً اسلام کو عقائد معاد سے پرکھا جائے۔ اب تو دیکھنا یہ ہے کہ اس دنیا کے لیے سب سے زیادہ عملی مذہب کونسا ہے ؟ روزانہ زندگی کے مسائل کو حل کرنے میں کونسا مذہب سب سے زیادہ زور دے رہا ہے ؟ یہ معیار بجائے خود کس حد تک صحیح ہے ؟ یہ تو ایک الگ سوال ہے لیکن بہرحال جو لوگ اس معیار کو مانے ہوئے ہیں کم از کم و خالی الذہن ہو کر ذرا غور کریں کہ ساری شریعتوں میں اسلام سے بڑھ کر کس شریعت نے روزانہ زندگی کے چھوٹے بڑے تمام مسائل کے حل کرنے کا اہتمام کر رکھا ہے۔ اگر وہ غور کریں گے تو یقیناً اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے زندگی کے ہر چھوٹے بڑے پہلو کو مدنظر رکھا ہے۔
کاتب اور گواہوں کو نقصان نہ پہنچانے کا تاکیدی حکم :
500: اخلاقی طور پر جس طرح کاتب کے لیے ہدایت ہے کہ جب اس کو تحریر لکھنے کے لیے بلایا جائے تو وہ انکار نہ کرے اور گواہوں کے لیے ہدایت تھی کہ وہ صحیح اور سچ سچ گواہی دیں اور جب اور جہاں طلب کیے جائیں گواہی کے لیے حاضر ہوں۔ کاتب اور گواہوں کو بھی کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں ظاہر ہے کہ ایک وثیقہ نویس سے صرف کام ہی لیا جائے لیکن معاوضہ کی بات نہ کی جائے اس کو دبایا جائے تو کام کیوں کرے گا لہٰذا اس کی اجرت ادا کردینا بھی لازم و ضروری ہے ، ان سے مفت میں کام لے کر ان کو دکھ میں نہ مبتلا کرو۔ اس طرح سے عدلیہ کو بھی تکلیف ہوگی اور فرمایا جا رہا ہے کہ اس سلسلہ میں اللہ سے ڈرتے رہو ، دنیوی فوائد کو آخرت پر ترجیح نہ دو ۔ اس جگہ کی ہرچیز فنا ہونے والی ہے یہاں کسی چیز کو بھی ثبات نہیں اور تاکیداً اگر حکم دیا جاتا ہے کہ علم سے کام لو اور یاد رکھو علم حقیقی عین نتیجہ ہوتا ہے تقویٰ الٰہی کا۔ تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم کو علم الٰہی مرحمت کیا جاسکے۔ چند ٹکوں کی خاطر دین و دنیا کو برباد نہ کرو اور نہ ہی عدالت کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرو۔ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہی قانون تمہارے جھگڑوں کو دور کرسکتا ہے۔
سورئہ بقرہ کی اس آیت 282 کا ماحصل :
501: زیر بحث آیت کریمہ میں قانون معاملات جن کو آج کل کے قانون میں معاہدات کہا جاتا ہے اسکے اہم اصولوں کا بیان ہے اور اس آیت کے اندر ضابطہ شہادت کے خاص اصول بھی مذکور ہیں۔ آج کل تو زمانہ لکھنے لکھانے کا ہے اور تحریر ہی انسان کی زبان کی قائم مقام ہو کر رہ گئی ہے لیکن آپ اس وقت کے زمانہ کی طرف مڑ کر دیکھیں گے جب نزول قرآن کریم ہوا تو معلوم ہوگا کہ دنیا کا سارا کاروبار صرف زبانی ہوتا تھا لکھنے لکھانے اور دستاویز مہیا کرنے کا اصول بالکل نہ تھا۔ سب سے پہلے قرآن کریم ہی نے اسکی طرف توجہ دلائی اور ان تحریرات کو ضروری قرار دیا اور جھگڑے اور جہالت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ اکھاڑ کر پھینک ہی دیا اور صاف صاف حکم فرما دیا۔
اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاکْتُبُوْهُ 1ؕ: یعنی تم آپس میں ادھار کا معاملہ کرو تو وقت مقرر کر کے ضرور لکھ لیا کرو جس سے ایک اصول تو یہ بتا دیا کہ ادھار کے معاملات کی دستاویز لکھنا ضروری ہے تاکہ بھول چوک یا انکار کے وقت پر کام آئے ، دوسرا اصول یہ بیان ہوا کہ ادھار کا معاملہ جب کیا جائے تو اس کی معیاد یعنی معین مدت ضروری ہے اور غیر معین مدت کے لیے ادھار لینا دینا جائز نہیں ہے اور معیاد بھی ایسی متعین کرنا چاہیے جس میں ابہام نہ ہو۔ ابہام کی معیاد اس طرح ہو سکتی ہے کہ تحریر کیا جائے ” گندم کے کاٹنے کے مہینے میں “ ، ” کپاس بیچنے کے دنوں میں “ مروجہ تاریخ کی مقررہ تاریخ کو تحریر کرنا لازم ہے مثلاً 6 /اگست 1994 ء۔ 7 ربیع الاول 1415 ھ وغیرہ۔
وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ کَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ 1۪: یعنی ” یہ بھی ضروری ہے کہ تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ لکھے “ اس میں ایک اصول تو یہ بتایا گیا کہ کاتب کسی فریق کا مخصوص آدمی نہ ہو اور نہ ہی فریقین میں سے کوئی خود تحریر کرے بلکہ تیسرا آدمی ایسا ہو جو غیر جانبدار ہو تاکہ کسی کو شبہ اور خلجان نہ ہو۔ دوسرے کاتب کے لیے ہدایت دی گئی جو معاہدہ کا گویا چوتھا اصول ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ لکھے دوسرے کے عارضی نفع کے لیے اپنا دائمی نقصان نہ کرے اور کاتب کے لیے ہدایت بھی کی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ ہنر دیا ہے کہ وہ لکھ سکتا ہے ، اس کا شکرانہ یہ ہے کہ وہ لکھنے سے انکار نہ کرے۔
دستاویز کی کتابت کس کی طرف سے ہو ، فرمایا : ” وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ “ یعنی تحریر لکھوانے والا وہ آدمی ہو جس کے ذمہ حق ہے مثلاً سودا خریدا اور قیمت کا ادھار کیا تو جس شخص کے ذمہ ادھار ہے وہ دستاویز کا مضمون لکھوا دے کیونکہ یہ اس کی طرف سے گویا اقرار نامہ ہے اور اس پر اب ادائیگی کی ذمہ داری واجب ہے جس سے وہ چیز یا سودا سلف خریدا گیا اس نے تو دے دیا اور اس طرح لکھوانے میں بھی یہ احتمال تھا کہ کوئی کمی بیشی کر دے اس لیے فرمایا کہ : ” وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْـًٔا 1ؕ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے جو آپ کا پروردگار سے ڈرتا رہا اور حق کے لکھوانے میں ذرہ برابر کمی بیشی نہ کرے معاملات میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس شخص پر حق عائد ہوتا ہے خفیف العقل یا نہایت بوڑھا یا نابالغ بچہ ہو یا کوئی گونگا اور بہرا کوئی دوسری زبان بولنے والا ہو جس کو کاتب نہیں سمجھتا اس لیے دستاویز لکھوانے پر اس کو قدرت نہیں ہوتی اس لیے اس کے بعد فرمایا کہ اگر ایسی صورت پیش آجائے تو اس کی طرف سے اس کا ولی لکھوا دے ، مجنون اور نابالغ کی طرف سے ولی ہونا ظاہر ہے کہ ان کے سارے معاملات وہی ہی کے ذریعہ ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح گونگے یا دوسری زبان بولنے والے کا ولی بھی یہ کام کرسکتا ۔ یہاں تک تو معاملات دستاویز لکھنے لکھوانے کے متعلق بات ہو رہی تھی ، اب فرمایا جا رہا ہے کہ کوئی تحریر اس وقت تک تحریر کہلوانے کی مستحق نہیں جب تک اس پر گواہ نہ متعین کیے جائیں۔ گویا محض تحریر حجت شرعی نہیں ہے جب تک اس پر شہادت شرعی موجود نہ ہو خالی تحریر پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
گواہی کیلئے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کا ہونا ضروری ہے ، جب اس طرح کے ادھار لین دین کے معاملات ہوں کیونکہ یہ مقدمات فوجداری نہیں کہ جلدی جلدی تاریخ ہوگی بلکہ یہ دیوانی معاملات ہیں جن کی تاریخیں لمبی ہوں گی ، مختصر یہ کہ ضابطہ شہادت کے اہم اصول یہ ہیں :
گواہ دو مرد ہوں اگر کسی وجہ سے دو مرد موجود نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہونا ضروری ہیں ، ایک اکیلا مرد یا دو عورتیں ، عام معاملات کی گواہی کیلئے کافی نہیں ہیں۔ دوسرے یہ کہ گواہ مسلمان ہوں کیونکہ فرمایا گیا : ” مِنْ رِّجَالِكُمْ 1ۚ “ یعنی تمہارے مردوں ہی سے ہوں۔ تیسرے یہ کہ گواہ ثقہ اور عادل ہوں جن کے قول پر اعتماد کیا جاسکے کہ فاسق و فاجر نہ ہوں۔ ” مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ “ میں یہی حکم مذکور ہے۔
گواہی دینے سے بلا عذر شرعی انکار کرنا بھی گناہ ہے۔ اس میں ہدایت یہ ہے کہ جب ان کو کسی معاملہ میں گواہ بنانے کے لیے بلایا جائے تو وہ آنے سے انکار نہ کریں کو ن کہ شہادت ہی احیائے حق کا ذریعہ ہے اور جھگڑے چکانے کا طریقہ پھر تاکیداً فرمایا کہ معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اس کو ضابطہ تحریر میں لانا شرعی نکتہ نگاہ سے ضروری ہے اور تحریر بھی باقاعدہ شرعی احکام کے مطابق ہو۔
ہاں ! اگر کوئی لین دین دست بدست ہو یعنی ادھار نہ ہو اس کو اگر نہ لکھیں تب بھی کوئی حرج نہیں ہے مگر اتنا اس میں بھی کیا جائے کہ کیش میمو حاصل کرلیا جائے اور اگر کوئی شرط ہو تو وہ بھی اس پر تحریر کردینا ضروری ہے۔ مثلاً اگر ریٹ میں فرق ہو تو چیز واپس کرنا ہوگی۔ آپ کی چیز اچھی نہ ہوئی تو واپس ہوگی اگر یہ روپیہ کھوٹا ہوا تو واپس ہوگا ، وغیرہ۔
وَ لَا یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ 1ؕ۬ : یعنی ضروری ہے کہ لکھنے والے یا گواہ کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ اپنی مصلحت اور فائدہ کے لیے ان کی مصلحت اور فائدہ کو نظر انداز کردیا جائے یا اس میں خلل اندازہ کی جائے۔ بعض اوقات جس کے خلاف گواہی دی جائے تو وہ اس گواہی کے دکھ میں لگ جاتا ہے کہ ہاں ہاں ! اس نے گواہی کیوں دی ، یہ بری بات ہے۔ یہ جتنی چیزیں بیان کی گئی ہیں اس وقت ان سب پر اخلاقی پابندیاں لگائی گئیں اور حکومت وقت اس میں باقاعدہ قانون بنانے کی مجاز ہے تاکہ ان سب باتوں پر عمل کیا جاسکے او خلاف ورزی کرنے والوں کو اس سزا کا سامنا ہو اور پھر یہ سزا ایسی ہو جس میں ردوبدل بھی کیا جاسکتا ہو یعنی جس طرح حالات بدل رہے ہیں ان کے مطابق کسی میں مزید سخت کی ضرورت ہو تو وہ کی جاسکے اور اگر کچھ کمی یا نرمی کی ضرورت ہو تو اس میں بھی گنجائش موجود ہو۔
Ayah 2:283رہن رکھنے کا طریقہ اور اس کی حقیقت کا بیان :
502: رہن یعنی گروہ رکھنے میں سفر کا ذکر اس لیے فرمایا گیا کہ سفر میں اس کی زیادہ ضرورت پیش آسکتی ہے۔ فرمایا کہ سفر میں اگر قرض لینے کی ضرورت محسوس ہو اور کاتب و گواہ دستیاب نہ ہوں تو ایسی حالت میں اطمینان کی یہی ایک صورت ممکن ہے کہ قرضدار اپنی کوئی چیز رہن کے طور پر قرض خواہ کے پاس رکھ دے اور اگر ان کو ایک دوسرے پر اعتماد ہو تو اس کی ضرورت نہیں۔ ہاں ! اب مدیون کو چاہیے کہ اللہ سے ڈر کر حق نہ مارے اس میں خصوصاً لفظ ” مَّقْبُوْضَةٌ 1ؕ “ سے اس طرح اشارہ پایا جاتا ہے کہ شے مرہون سے نفع اٹھانا اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ مرتہن کو صرف اتنا حق ہے کہ اپنا قرض وصول ہونے تک اس کی چیز پر اپنا قبضہ رکھے اور آخر میں تبصرہ کر کے فرمایا دیا کہ شہادت اور گواہی کو چھپانے کی کوشش نہ کرو ، ورنہ تمہارے اعمال و اخلاق پر برا اثر پڑے گا۔
عرب کے لوگ نزول قرآن کریم کے وقت کچھ لکھے پڑھے نہ تھے۔ ان کے تمام قوم معاملات ، معرکہ ہائے کار زار اور دوا دین و اشعار کا دارومدار صرف حافظہ پر تھا۔ ان کے سامنے قرآن کریم نے یہ قانون بیان کیا اور نہایت ہی لطیف طریقہ سے بتا دیا کہ تم عنقریب دنیا کی عظیم الشان قوم بن جاؤ گے کامیابی و کامرانی تمہارے ہمرکاب ہوگی۔ تمہارے معاملات اس قدر وسیع ہوجائیں گے کہ ان میں کتابت اور تحریر کی ضرورت محسوس ہوگی۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ایک ترقی یافتہ قوم کی تمام ضروریات اجتماعی کے لیے جو چیز اساس و بنیاد کا کام دے سکتی ہے وہ یہی ہے کہ عرائض نویس ہوں اور ان کی تحریر کا معاوضہ دیا جائے۔ گواہی کا قاعدہ یہ ہے کہ گواہ شہادت سے انکار نہ کریں اور رہن سہن رکھنے کی ضرورت پیش آئے تو رہن رکھی ہوئی چیز سے نفع نہ حاصل کیا جائے۔ ہاں ! اگر سواری کا جانور ہے یا دودھ دینے والا جانور ہے تو اس کی چونکہ خوراک کا بندوبست کرنا ہوگا ، اس لیے اگر اس پر سواری کی گئی یا دودھ دوہا گیا تو وہ انتفاع میں نہیں آئے گا بلکہ حق الخدمت تصور ہوگا۔ ان ساری تعلیمات کا ماحصل اور نچوڑ صرف اور صرف یہ ہے کہ کسی کی غرض سے ناجائز فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں اور جو ناجائز فائدہ حاصل کرے گا اور کسی کی غرض کو اس وقت تک پورا نہ کرے جب تک اس کو نفع وصول نہ ہو تو اس طرح کا ہر نفع نفع نہیں ، بلکہ سود ہی ہے اور اگر نیت کسی کے ساتھ احسان کرنے کی ہو اور اس کے کام آنے کی۔ اس کی مصیبت دور کرنے اور اس کے لیے کوئی ایسی صورت کرنا جس سے دوسرے کو تو فائدہ حاصل ہوجائے لیکن اپنا بھی نقصان نہ ہو تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ اگر یہ اصول اچھی طرح ذہن نشین رہے تو زیادہ باریکیوں کی ضرورت نہیں۔ دین اسلام کی تعلیمات بالکل آسان اور سہل ہیں ، ان کو مشکل بنا دینا کوئی کمال نہیں ہے بلکہ آسان کو مزید آسان بنانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات کا اختصار یہی ہے کہ
^” کام آئے دنیا میں انسان کے انساں “
آؤ گے تو کیا لاؤ گے ؟ اور ہم جائیں گے تو کیا دو گے ؟ کا اصول دل میں چھپانا اور عملی طور پر اس کا اظہار کرنا گنہگار دل کا ہی کام ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے کسی کے دل کی حالت پوشیدہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ کفر جو سارے کبائر سے بڑھ کر ہے وہ بھی قلب ہی کا گناہ ہے اس لیے اس اسلوب بیان نے خود یہ ظاہر کردیا کہ کتمان شہادت شدید ترین گناہ ہے اور اگر شہادت کی اجرت موصول ہوجائے تو چاہے جو شاہدت دلوا لو ، کا اصول بنانا اور اس پر یہ بات اختیار کرنا کہ ہم تو شہادت چھپانا نہیں چاہتے بذاتہٖ ایک ظلم عظیم ہے یعنی جھوٹی گواہی دینا اسلام کا کام نہیں بلکہ کفر کا شیوہ ہے۔ اپنی حالت اگر انسانوں سے چھپائی بھی جاسکتی ہے تو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تو دلوں کے رازوں تک کو جانتا ہے۔ اس سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں اور عذاب وثواب کا تعلق بھی خالصتاً اللہ سے ہے ، بندہ کسی کو اس کا اجر نہیں دے سکتا۔
رہن کیا ہے ؟ گویا ایک قسم کی امانت ہے جو ہر حال میں قابل واپسی ہے :
503: رہن رکھی گئی چیز گویا امانت ہے وہ ہر حال میں واپس کرنا ہی پڑے گی اس حکم کی کیا ضرورت ہوئی ؟ اس لیے کہ کسی کی غرض سے اس طرح بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے کہ آج ایک چیز گروی رکھی اور قرض دے دیا۔ شرط یہ لگا دی کہ آپ کی چیز ۔ 150/روپے کی ہے لیکن میں ایک صد روپے ۔ 100/اس کے دے سکتا ہوں ، اگر اس مدت کے اندر تم نے رقم واپس کردی تو رہن رکھی ہوئی چیز جو ۔ 150/روپے کی مالیت رکھتی ہے تمہاری ہوگی اور اگر تم نے متعین مدت کے اندر قرض واپس نہ کیا تو یہ چیز ناقابل واپسی ہوگی۔ گویا سود کھانے کا ایک نیا طریقہ بنا لیا گیا ایسی شرطیں باطل ہیں اگر زیادہ سے زیادہ کہا جاسکتا ہے تو یہ کہ ” آپ کی ڈیڑھ سو کی چیز فروخت کردی جائے گی اور جو رقم وصول ہوگی اس میں سے اپنا قرض یعنی 100/= روپے وصول کر کے باقی رقم آپ کو اد اکر دی جائے گی “ اگر وہ خود فروخت کر کے رقم واپس کرے تو بھی اس کو حق ہے کہ اس چیز کو فروخت کر دے۔ ہاں ! قبضہ رکھنے والا بھی یہ حق رکھتا ہے کہ وہ خریدنا چاہے تو قیمت طے کر کے خرید لے اور اپنی رقم منہا کر کے باقی رقم اس کو دیدے۔
Ayah 2:284آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے :
504: یہ آیت ایک لحاظ سے گزشتہ آیت کا تتمہ ہے یا اس کا تکملہ ، جس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ شہادت کا چھپانا حرام ہے۔ اگر تم نے معاملہ کو جانتے ہوئے چھپایا تو رب کریم جو علیم وخبیر ہے تم سے اس کا حساب لے گا یہ تو اس کی مخصوص صورت اور مخصوص حکم ہے اور عموم الفاظ کے اعتبار سے عام ہے اور تمام اعتقادات ، عبادات اور معاملات کو شامل ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا مشہور قول ہی اس کی تفسیر ہے۔ اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ حق تعالیٰ اپنی مخلوق کے تمام اعمال کا محاسبہ فرمائے گا اور وہ عمل بھی جس کو وہ کر گزرے ہیں اور وہ بھی جن کا دل میں پختہ ارادہ کرلیا ہے اور دل میں چھپا کر رکھا مگر عمل کی نوبت نہیں آئی۔
ارکانِ خلافت کو بتایا جا رہا ہے کہ زمین و آسمان کی حکومت اللہ کے قبضہ میں ہے البتہ یہ امانت تمہارے سپرد کردی گئی ہے ، اس لیے اترا نہ جانا بلکہ اعلیٰ ترین حکمران جماعت ہونے کی وجہ سے تمہارا احتساب اور بھی زیادہ سخت ہوگا۔ اگر دوسروں کے اعمال پر نظر ہوگی تو تمہارے ارادے بھی ہمارے محاسبہ سے بچ نہ سکیں گے۔
A نزد یکاں را بیش بود حیرانی ؟
صحابہ ؓ اس حکم کو سن کر چیخ اٹھے اور کانپ کر رہ گئے اور نبی کریم ﷺ سے دریافت فرمایا کہ وساوس و خطرات سے بچنا مشکل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم یہودیوں کی طرح ” سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا “ نہ کہنے لگ جاؤ ۔ اس پر سب کی گردنیں تسلیم و رضا کے طور پر جھک گئیں اور فوراً بعد دوسری آیت نازل ہوئی ، جس نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا۔
بعض لوگوں نے آیت کو : ” لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا 1ؕ “ سے منسوخ جانا ہے۔ حالانکہ ان آیات میں نسخ کی بحث ماننا ہی بیکار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت منسوخ نہیں بلکہ جس وقت صحابہ کرام ؓ پریشان و مضطرب ہو کر دربار رسالت میں حاضر ہوئے تو غایت خشیت اور شدت خوف کی بناء پر آپ ﷺ کی نظر بھی الفاظ کے ظاہری عموم پر پڑی ، مگر اللہ تعالیٰ نے فوراً بات کو واضح کردیا اور صحابہ ؓ کے اشکال کو کھول کر رکھ دیا کہ یاد رکھو : ” اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی قدرت سے زائد تکلیف نہیں دیتا۔ “
جس کا حاصل یہ ہے کہ غیر اختیاری وساوس اور خیالات پر مواخذہ نہیں ہوگا ، اس پر صحابہ کرام ؓ کو اطمینان ہوگیا۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں بروایت ابن عباس نقل کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر کیا ہوا ہے :
505: انسان پر جو اعمال اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کئے گئے ہیں یا حرام کئے گئے ہیں وہ کچھ تو ظاہری اعضاء وجوارح سے متعلق ہیں جیسے نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج اور تمام معاملات اسی قسم میں داخل ہیں اور کچھ اعمال و احکام بھی ہیں جو انسان کے قلب اور باطن سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایمان و اعتقاد کے تمام مسائل اس میں داخل ہیں اور کفر و شرک جو سب سے زیادہ حرام و ناجائز ہیں ان کا تعلق بھی انسان کے قلب ہی سے ہے۔ اخلاق صالحہ ، تواضع ، صبر ، قناعت ، سخاوت وغیرہ اسی طرح اخلاق رذیلہ ، کبر ، حسد ، بغض ، حب ّدنیا ، حرص وغیرہ یہ سب چیزیں ایک درجہ میں حرام قطعی ہیں۔ ان سب کا تعلق بھی انسان کے اعضاء وجوارح سے نہیں بلکہ دِل سے اور باطن سے ہے۔
سورئہ بقرہ قرآن کریم کی ایسی بڑی اور اہم سورة ہے جس میں احکام الٰہی کا بڑا حصہ آگیا ہے۔ اس سورت میں اصول اور فرعی معاش و معاد کے متعلق اہم ہدایات نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، قصاص ، حج ، جہاد ، طہارت ، طلاق ، عدت ، خلع ، رضاعت ، حرمت شراب ، ربا اور قرض ، لین دین کے جائز و ناجائز طریقوں کا تفصیلی بیان آگیا ہے۔ اس لئے حدیث میں اس سورت کا نام ” سنام القرآن “ بھی آیا ہے یعنی قرآن کریم کا سب سے بلند ترین حصہ اور ان تمام احکام کی تعمیل میں سب کی روح اخلاص ہے ۔ یعنی کسی کام کو کرنا یا اس سے بچنا دونوں ہی خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے ہوں۔ ان میں نام و نمود یا دوسری نفسانی اغراض شامل نہ ہوں اور یہ ظاہر ہے کہ اخلاص کا تعلق انسان کے باطن اور قلب سے ہے۔ سب کی دوستی اس پر موقوف ہے۔ اس لئے سورت کے آخر میں اس آیت کے ذریعہ انسانوں کو تنبیہ کردی گئی کہ فرائض کی ادائیگی یا محرمات سے پرہیز کے معاملہ میں مخلوق کے سامنے تو حیلہ جوئی کے ذریعہ بھی راہ فرار اختیار کی جاسکتی ہے مگر حق تعالیٰ علیم وخبیر ہے اس سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں اس لئے جو کچھ کرے یہ سمجھ کر کرے کہ رقیب و حفیظ میرے سب ظاہری اور باطنی حالات کو دیکھ رہا ہے اور سب کا حساب قیامت کے روز دینا ہے۔ یہی وہ روح ہے جو قرآن کریم انسانوں میں پیدا کرتا ہے کہ ہر قانون کے اول یا آخر میں خوف الٰہی اور فکر آخرت کا ایسا محافظ ان کے قلوب پر بٹھاتا ہے کہ وہ رات کی اندھیری میں اور خلوتوں میں بھی کسی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہوا ڈرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اندازہ کرنے کا مطلب قبل ازیں کئی بار بیان کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ بس اپنے ہی ارادہ یا مشیت کے علاوہ کسی اور قانون کا پابند نہیں ہے بلکہ وہ مختار کُل ہے جو قانون اس نے بنائے ہیں اسی حیثیت سے بنائے ہیں ، کسی کی پابندی سے نہیں ۔ وہ قادر مطلق ہے اس نے کوئی قانون ایسا نہیں بنایا کہ وہ قانون بنانے کے بعد اس کے سامنے مجبور ہو۔ اس نے اپنے ہی اختیار سے یہ فرمایا ہے کہ میں اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی خلاف ہونے دیتا ہوں ۔ سزا دینے سے معاف کرنے کے لئے بھی اس نے قانون اپنی مرضی سے بنائے ہیں اور وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس طرح اس کا قانون بھی ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ چلتا رہے گا۔ وہ کسی کے سامنے مجبور نہیں بلکہ ہر قانون اس کی ذات کے مقابلہ میں کمزور ہے کیونکہ اس کا بنایا ہوا ہے۔ اور خلق خالق پر زور آور نہیں ہو سکتی۔
Ayah 2:285رسول بھی اپنی رسالت پر اسی طرح یقین رکھتا ہے جس طرح دوسروں کو ایمان کی دعوت دیتا ہے :
506: نبی کریم ﷺ کا اسم مبارک ذکر نہ کرنے سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ تعظیم و تشریف اس میں ہے کہ امت اپنے رسول کا نام لے کر مخاطب نہ کرے بلکہ رسول اللہ ، نبی اللہ ہی کے خطاب سے خطاب کیا جائے جس کی تعلیم دوسرے مقامات پر دی گئی ہے فرمایا گیا کہ رسول بھی اپنی وحی پر اسی طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح دوسرے مؤمنوں کو ایمان لانے کا حکم فرمایا گیا ہے اور یہ طرز بیان اسی طرح لایا گیا ہے کہ پہلا جملہ نبی کریم ﷺ کے ایمان ہی میں ذکر ہے اور آپ ﷺ کا ذکر کرنے کے بعد دوسرے مؤمنین کے ایمان کا تذکرہ کیا گیا۔ اس میں اشارہ فرما دیا کہ اگرچہ نفس ایمان میں نبی کریم ﷺ اور دوسرے سب مسلمان شریک ہیں لیکن درجات ایمان کے اعتبار سے دونوں میں بڑا فرق ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا علم مشاہدہ اور سماع کی بناء پر ہے اور دوسرے مسلمانوں کا علم ایمان بالغیب یعنی نبی کریم ﷺ کی رویت کی بناء پر۔
ایمان مجمل کی تفصیل بھی بتا دی :
507: بعد ازیں اس ایمان مجمل کی تفصیل بتا دی جو نبی کریم ﷺ اور عام مؤمنین میں شریک تھا کہ وہ ایمان تھا اللہ تعالیٰ کے موجود اور ایک ہونے پر اور تمام صفات ِکاملہ کے ساتھ متصف ہونے پر اور فرشتوں ، اللہ کی کتابوں اور رسولوں پر اس کے بعد اس کی وضاحت فرمائی کہ اس امت کے مؤمنین پچھلی امتوں کی طرح ایسا نہیں کریں گے کہ اللہ کے رسولوں میں باہمی تفرقہ ڈالیں کہ بعض کو نبی مانیں اور بعض کو نہ مانیں بلکہ بعض کا واضح طور پر انکار کریں ۔ ایسا نہیں ہو سکتا جیسا کہ یہود نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبی مانا لیکن خاتم المرسلین ﷺ کو نبی نہ مانا۔
ایک نبی کا انکار سارے انبیاء (h) کے انکار کے مترادف ہے :
508: اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جس نے کسی ایک نبی کی نبوت کا انکار کیا گویا اس نے تمام انبیاء کرام کا انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اس امت کی یہ مدح فرمائی کہ یہ اللہ کے کسی رسول کا بھی انکار نہیں کرتے اور پھر ان کے اس جملہ پر بھی تعریف فرمائی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے موافق زبان سے کہا تھا : ” سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ “ اے ہمارے رب ! ہم نے تیرا حکم سنا۔ ہم نے تیرے حکم کے سامنے سر ِنیاز جھکا دیا۔ تیری مغفرت ہی کے ہم طلبگار ہیں اور اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم سب کو تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔
گویا یہ وسعت صرف اور صرف اسلام کو حاصل ہے کہ وہ دنیا کی تمام صداقتوں پر ایمان کا اظہار کرتا ہے ۔ حق و صدق کی آواز دنیا کے کسی گوشہ سے بلند ہو مسلمان اس کو لبیک کہنے کو تیار ہوں گے کیا کوئی اس خصوصیت میں اسلام کا مقابلہ کرسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔