2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:191

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

انہیں جہاں کہیں پاؤ قتل کرو اور جس جگہ سے انہوں نے تم کو نکالا ہے تم بھی انہیں نکال باہر کرو کیونکہ فتنہ کا قائم رہنا قتل و خونریزی سے بڑھ کر ہے جب تک وہ خود مسجد حرام کی حدود میں تم سے لڑائی نہ کریں تم بھی ان سے لڑائی نہ کرو ، ہاں ! اگر انہوں نے اس مقام پر لڑائی شروع کردی تو تمہارے لیے اس مقام پر لڑنا ضروری ہوجائے گا ، منکرین حق کا یہی بدلہ ہے

جنگ جاری کرنے والوں کو اب جہاں پاؤ قتل کرو یہاں تک کہ وہ جنگ سے باز آجائیں : 327: ایسے مخالفین اور معاندین اسلام کو جو ہر وقت تمہارے فنا کرنے کی تیاریاں کرتے رہتے ہیں ۔ جہاں پاؤ قتل کردو کیونکہ ان کو چھوڑ دینا اور مخالفت کا موقع دینا ہرگز قرین عقل و انصاف نہیں ہے ۔ جب وہ تمہارے قتل کے لئے ہر مناسب موقع کی تلاش میں رہتے ہیں تو تم انہیں آخر کیوں چھوڑو گے ؟ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً 1ؕ (التوبہ 9 : 10) ” کسی مؤمن کے لئے نہ تو قرابت کا پاس کرتے ہیں ، نہ عہدو قرار کا یہی لوگ ہیں کہ ظلم میں حد سے گزر گئے ہیں “۔ اور ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا : اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ ہَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ ہُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ 1ؕ (التوبہ 9 : 13) ’ ’ اے مسلمانو ! کیا تم ایسے لوگوں سے جنگ نہیں کرتے جنہوں نے اپنے عہد و پیمان کی قسمیں توڑ ڈالیں۔ جنہوں نے اللہ کے رسول کو اس کے وطن سے نکال باہر کرنے کے منصوبہ بنائے اور پھر تمہارے خلاف لڑائی میں بھی پہل انہی کی طرف ہوئی۔ ‘ ‘ بیت اللہ الجلیل کے اصل وارث مسلمان تھے ۔ اس لئے کہ یہی ابراہیمی ملت کے پابند تھے چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ : اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ ہٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا 1ؕ (آل عمران 3 : 68) ” فی الحقیقت ابراہیم (علیہ السلام) سے نزدیک تر لوگ تو وہ تھے جو اس کے قدم بقدم چلے نیز اللہ تعالیٰ کا یہ نبی ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اور وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائے ہیں “۔ مشرکین کی جسارت کا اندازہ لگاؤ : 328: قرآن کریم کہتا ہے کہ ان مشرکین کی جسارت کا ذرا اندازہ لگاؤ کہ یہ کس قدر بڑھ چکے ہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا محاورہ انہوں نے اپنا رکھا ہے۔ جو ابراہیم (علیہ السلام) کے اصل وارث ہیں ان ہی کو ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر سے نکال دیا ہے ۔ غور تو کرو کہ کفار نے ان کو یعنی مسلمانوں کو اور نبی کریم ﷺ کو وہاں سے نکال دیا اور خود اس پر غاصبانہ قبضہ کرلیا۔ اب مسلمانوں کا بھی فرض ہے کہ اس مرکز اسلام سے ان کو الگ کردیں اور اس مرکز کو ان سے خالی کرالیں اور واپس لے لیں۔ مگر مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ صرف بیت اللہ پر قبضہ کر کے ان کا فرض ختم نہیں ہوجاتا۔ وہ اب شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ کے درجہ پر فائز کئے گئے ہیں : ” وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا کَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا “ ان کا طغرائے امتیاز ہے اور ” خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ “ ان کی خصوصیت کبریٰ ہے۔ اس دنیا میں جس قدر انبیاء کرام آئے ہیں ان سب کے وارث اصلی اب مسلمان ہی ہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں ۔ ان رسولوں نے اپنی اپنی امتوں کے لئے مرکز قائم کئے مگر کچھ مدت کے بعد ناخلف ان پر قابض ہوگئے۔ اس لئے بیت اللہ کو اب اپنے قبضہ میں لینے کے بعد ان کا دوسرا فرض یہ ہوگا کہ دنیا بھر میں جس قدر بھی مذہبی مراکز ہیں ان پر قبضہ کرلیں تاکہ حکمۃ اللہ بلند ہو اور صحیح معنوں میں وہ ” شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ “ کے مصداق بن سکیں۔ یہاں ایک بات اچھی طرح سمجھ لیں اور پھر یاد بھی رکھیں کہ ” وَ اقْتُلُوْهُمْ “ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قتال و جہاد فریضہ انفرادی نہیں بلکہ امام کی معیت میں ہے۔ لشکر کا وجود و وجوب بطور عبارۃ النص کے نکلا اور امام کا بہ طور اقتضاء النص کے کہ لشکر کا انتظام و اجتماع بغیر ایک امام کے ممکن نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو آج امت مسلمہ بالکل بھول چکی ہے جس کے نتیجہ میں مسلمان خود ہی ایک جماعت نہیں رہے بلکہ مختلف جماعتوں اور گروہ میں تقسیم ہوگئے اور یہ چیز بذاتہٖ شریک ہے۔ جب تک مسلمان مل کر ایک امیر کو منتخب نہیں کرتے اس وقت تک جہاد کوئی جہاد نہیں بلکہ اس کو جہاد کے نام سے موسوم کرنا اسلام کے ماتھے پر ایک داغ کے مترادف ہے جس نے اسلام کی تصویر کو بگاڑ کر بالکل اسلامی نہیں رہنے دیا۔ اس وقت جو صورت حال اس ملک پاکستان کے اندر ہے کہ ایک جماعت مسلمہ کئی جماعتوں میں تقسیم ہوگئی پھر ایک ایک تقسیم شدہ جماعت کے کئی کئی گروہ بن گئے اور ہر گروہ نے ایک دوسرے پر تلوار سونت لی اس طرح ایک لڑائی اپنے گھر کے اندر جاری ہے اور ملک کے باہر بھی بالکل اس طرح کی لڑائی کو جہاد کے نام سے جاری رکھا ہوا ہے اور اسی طرح ایک ایک جماعت کے کئی کئی سرغنوں نے اپنی اپنی جماعتوں اور اپنے اپنے گروہوں کے نام سے صرف اپنے اپنے پیٹ کی خاطر جہاد کا نام بدنام کر رکھا ہے دراصل اسلامی نکتہ نظر کے مطابق یہ سب ایک نہ ہوں تو واجب القتل ٹھہریں گے اور اس سلسلہ میں رسول اکرم ﷺ کے کھلے اور واضح ارشادات موجود ہیں کہ ایک کی موجودگی میں جب کوئی دوسرا خلافت و امارت کی کوشش کرے گا تو اس کو قتل کردیا جائے ۔ کم ازکم فقہ حنفیہ کی بار بار رٹ لگانے والوں کو پہلے اس مسئلہ پر غور کرنا چاہئے ۔ والی اللہ المشتکی۔ فتنہ کا قائم رہنا خونریزی سے بھی بڑھ کر جرم ہے : 329: مشرکوں کی شرارت جسے اس جگہ فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے وہی تو اصل جڑ تھی اور اخراج و قتل وغیرہ اس کی سزائیں تو محض فروع ہیں۔ ” الْفِتْنَةُ “ سے مراد شرک یا اس کی ترغیب و تحریص اور اہل توحید کی تخویف ہے۔ کفر اور ترغیب کفر کو فتنہ سے اس لئے تعبیر کیا گیا کہ نظام کفر آخر دنیا کو فتنہ و فساد ، کشت و خونریزی اور غدر وبدامنی ہی کی طرف لے جاتا ہے۔ پھر ” وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ 1ۚ“ یعنی فتنہ اتنی بری شے ہے کہ حرم میں قتل و خون سے بھی اپنی برائی میں بڑھا ہوا ہے کیونکہ اس مرکز توحید و ایمان میں شرک ، اشاعت شرک و تبلیغ شرک کا فتنہ بپا کر رکھا ہے اور یہ معنی بھی درست و صحیح ہیں کہ مکہ والوں کی یہ مسلسل وغیر منقطع تعدیاں اور مظالم قتل سے بھی کہیں زیادہ سخت و ناقابل برادشت ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ جنگ کوئی اچھی چیز نہیں بلکہ ایک ناگزیر حالت ہے لیکن فتنے کا قائم رہنا بذاتہ برائی ہے پس مجبوری ہے کہ فتنے کے ازالہ کے لئے جنگ کی حالت گوارا کرلی جائے۔ اب رہی یہ بات کہ اس وقت خصوصا قریش مکہ کا فتنہ کیا تھا ؟ وہ یہ تھا کہ وہ جبر و قہر سے لوگوں کو مجبور کرتے تھے کہ جس بات کو حق سمجھتے ہیں اسے حق نہ سمجھیں یعنی دین و اعتقاد کی آزادی مفقود ہوگئی تھی قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ برائی جنگ سے بھی زیادہ سخت اور نازک ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کا انسداد کیا جائے اور اس کے انسداد کے لئے جنگ کو قبول کرلیا جائے۔ جب کبھی انفرادی و اجتماعی اغراض کا تصادم ہو تو ہمیشہ انفرادی فوائد کو قومی مقاصد پر قربان کیا جاتا ہے کل مصلحت کے مقابلہ میں جزئی مصلحت کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ اگر ایک انسان یا چند انسانوں کا قتل ہونا ملک کے حق میں مفید ثابت ہو تو کوئی حرج کی بات نہیں ۔ پس قتل و قتال اس قدر مذموم نہیں جتنا فتنہ و فساد اور یہ فتنہ بغیر قتال کے فرو نہیں ہو سکتا۔ مسجد حرام کی حدود میں لڑائی جائز نہیں لیکن مجبوری اور شے ہے : 330: مسجد حرام یعنی بیت اللہ بلکہ اس سے مراد دیوار حرم ہے گویا حرم میں لڑائی کی ابتداء کرنا جائز نہیں کہ کرہ ارضی میں صرف یہی ایک مقام ہے جس کو امن و سلامتی کا گھر بنایا گیا ہے : ” وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ “ البتہ اگر کفار کی طرف سے جنگ کی ابتداء ہوجائے تو اس وقت مسلمانوں کو بھی مجبوراً تلوار ہاتھ میں لینا پڑے گی اور پھر یہ استثناء باقی نہ رہے گا۔ حرم مکہ میں انسان کیا کسی شکاری جانور کو بھی شکار کرنا جائز نہیں لیکن اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر حرم محترم میں کوئی آدمی دوسرے کو قتل کرنے لگے تو اس کو بھی مدافعت میں قتال جائز ہے۔ دوسری بات یہ بھی معلوم ہوگئی کی ابتداء جہاد و قتال کی ممانعت صرف مسجد حرام کے اندر یا باہر آس پاس حرم مکہ کے ساتھ مخصوص ہے دوسرے مقامات میں جیسے دفاعی جہاد ضروری ہے اسی طرح اعلان جنگ کے ساتھ ابتدائی طور پر بھی درست ہے۔ گذشتہ سے پیوستہ گذشتہ آیات سے دو باتیں ثابت ہوگئیں کہ دین اسلام میں امت مسلمہ کا ایک امیر ہے اور مسلمانوں پر جہاد فرض ہے۔ 1: کوئی جگہ قتال فی سبیل اللہ سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتی۔ سوائے حرم مکہ کے لیکن اگر فریق کفار وہاں لڑائی شروع کردے تو مدافعانہ طور طور پر ان سے قتال کی اجازت ہے۔ 2: کوئی مسلمان اپنے آپ کو جہاد سے مستثنیٰ نہیں کرسکتا۔ جو لوگ بیت اللہ میں گوشہ گیر ہیں ، ذکر الٰہی ان کا مقصد وحید ہے اور شب و روز اسی کی عبادت میں مصروف ہیں۔ تزکیہ نفس و تہذیب اخلاق ان کے پیش نظر ہو وہ بھی عند الضرورۃ جنگ کی شرکت سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتے کیونکہ جب خود بیت اللہ ہی میں جنگ شروع ہوجائے گی تو کون ان کی اعانت کے لئے آئے گا بلکہ انہیں خود ہی اس کے لئے تیاری کرنا پڑے گی۔ ایسے وقت میں تسبیح و تہلیل پر ہی اکتفانہ کرنا ہوگا بلکہ جہاد میں شرکت ضروری ہوگی۔ باقی واقعات کو چھوڑ کر تم خود لسان الٰہی کی غیر مشتبہ آواز ہی پر غور کرو تو بات سمجھ میں آجائے گی فرمایا گیا : اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ 1ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ 1ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ00 (التوبہ 9 : 19) ” کیا تم لوگوں نے یوں ٹھہرا رکھا ہے کہ حاجیوں کیلئے سبیل لگا دینا اور مسجد حرام کو آباد رکھنا اسی درجہ کا کام ہے جیسا اس شخص کا کام جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا ؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں اور اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ ظلم کرنے والوں پر کامیابی کی راہ نہیں کھولتا۔ ‘ ‘ اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری سے کسی مسلمان کو مفر نہیں ہے ۔ ہاں ! جب مخالفین اپنی شرارتوں سے باز آجائیں اسلام کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا ترک کردیں اور قرآن کریم کی فنا سامانی کے لئے خفیہ تیاریاں کرنی چھوڑ دیں تو پھر جنگ کی ضرورت نہیں۔ قتل و قتال کا فتویٰ اس صورت میں دیا گیا ہے جبکہ اسلام کے بچاؤ کی کوئی صورت نہ رہی ، وسری جگہ حکم قتال اور جواز جنگ کی اصل علت بیان فرما دی : حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا 1ۛ۫ۚ(74 : 4) ” یہاں تک کہ لڑائی موقوف ہوجائے “ یعنی دنیا میں عالمگیر صلح و امن قائم ہوجائے۔ ساری دنیا ایک قوم اور تمام نوع انسانی ایک گھرانے کی طرح زندگی بسر کرے۔ ذرا غور کرلو کہ قریش مکہ کو خانہ کعبہ کی مجاوری اور حاجیوں کے کاروبار کے منصرم ہونے کا بڑا غرور تھا اور جب ایک جماعت اعتقاد و عمل کی حقیقت سے محروم ہوجاتی ہے تو اس طرح کے رسوم و مظاہر کو ہر طرح کی بزرگی وسعادت کا ذریعہ سمجھنے لگتی ہے۔ چناچہ آج کل مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے کہ کسی بزرگ کی سجادہ نشینی ، کسی مزار کی مجاوری ، کسی زیارت گاہ کا متولی ہونا جو اثر و رسوخ رکھتا ہے وہ بڑے سے بڑے اور بہتر سے بہتر مؤمن و متقی کو بھی حاصل نہیں ؟ کیوں یہی گمراہی پھیلی ہوئی ہے دیکھو ایک صالح و متقی مسلمان کو کوئی نہیں پوچھے گا لیکن ایک فاسق وفاجر مجاور یا متولی درگاہ کی ہزاروں آدمی قدم بوسی کریں گے۔ سورة توبہ کی آیت انیس میں اس گمراہی کا ازالہ کیا ہے۔ فرمایا کہ اصل نیکی یہ نہیں کہ ہاجیوں کو پانی پلانے کی سبیل لگا دی جائے یا خانہ کعبہ میں روشنی کردی جائے بلکہ اصل ن کی تو اس کی ہے جو ایمان لایا اور جس نے اعمال حسنہ انجام دیئے اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔
Ayah 2:192

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

جب وہ لڑائی سے باز آگئے تو پھر اللہ کی بخشش کا دروازہ کھلا ہے ، بلاشبہ وہ رحمت سے بخش دینے والا ہے

کفار اپنی روش چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ معاف کردے گا 331: تم جس اللہ پر ایمان لائے ہو اس کی صفت یہ ہے کہ بدتر سے بدتر مجرم اور گنہگار کو بھی وہ معاف کردیتا ہے جب وہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائے۔ یہی صفت تم بھی اپنے اندر پیدا کرو ۔ تخلقوا باخلاق اللہ۔ تمہاری لڑائی انتقام کی پیاس بجھانے کے لئے نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کا راستہ صاف کرنے کے لئے ہو جب تک کوئی گروہ راہ خدا میں مزاحم رہے بس اسی وقت تک اس سے تمہاری لڑائی بھی رہے اور جب وہ اپنا رویہ چھوڑ دے تو تمہارا ہاتھ بھی پھر اس پر نہ اٹھے۔
Ayah 2:193

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان سے لڑائی جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین صرف اللہ ہی کیلئے ہوجائے ، پھر اگر ایسا ہو کہ یہ لوگ لڑائی سے باز آجائیں تو تم بھی ہاتھ روک لو مگر انہی لوگوں کے مقابلہ میں جو ظلم کرنے والے ہیں

فتنہ کے خاتمہ تک جنگ جاری رہے گی ، فتنہ ختم ہوگا تو اللہ کا دین جاری ہوگا : 332: ” ان سے لڑائی جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے “ فتنہ کیا ہے ؟ فتنہ یہ ہے کہ اللہ کے دین کو انہوں نے اللہ کا نہیں رہنے دیا۔ اگر اللہ کے دین کو وہ اللہ ہی کا رہنے دیتے تو آخر لڑائی ہی کیوں لڑتے ؟ مسلمانوں کو جو دکھ دیا جاتا ہے اس کا سبب کیا ہے ؟ اس کا سبب صرف ان کا مسلمان ہونا ہے اور مشرکین گویا جنگ اس لئے لڑ رہے ہیں کہ یہ مسلمان ، مسلمان کیوں ہیں ؟ اب فرمایا جا رہا ہے کہ اے مسلمانو ! تم بھی ان مشرکوں سے جنگ لڑو یہاں تک کہ مسلمانوں کو دین اسلام کی وجہ سے دکھ نہ دیا جائے۔ آگے فرمایا : ” وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ 1ؕ“ اور دین صرف اللہ کے لئے ہوجائے۔ یعنی جب دین کے لئے کوئی دکھ دینے والا نہ ہو تو دین اللہ کا ہوگا۔ یعنی اسلام کے نزدیک جنگ کی غرض مذہبی آزادی کا قائم کرنا ہے اور یہی معنی لَاۤ اِكْرَاہَ فِی الدِّیْنِ 1ۙ۫کے ہیں یعنی دین میں کوئی جبر نہ رہے۔ ” دین اللہ کے لئے ہو “ کا مطلب جو یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ اسلام ہی اسلام ملک میں ہو یہ صحیح نہیں کیونکہ اگر اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ مشرکین سے جنگ جاری رکھو جہاں تک کہ ملک میں اسلام ہی اسلام ہوجائے تو پھر ان آیات کا کیا بنے گا جن سے کفار سے صلح کرلینے کا حکم ہے اور خود نبی کریم ﷺ نے کفار سے صلح کی اور اس وقت تک جنگ جاری نہیں رکھی جب تک اسلام ہی اسلام ہوجائے۔ حدیبیہ کے میدان میں نبی کریم ﷺ نے کفار کی پیش کردہ شرائط پر صلح کی یہاں تک کہ جو کافروں میں سے مسلمان ہو کر آپ ﷺ کے پاس آئے ان کو بھی واپس کردینا منظور فرمایا۔ پھر اہل مکہ کو حالت کفر پر چھوڑ کر معاف کردیا اور اس طرح کی سینکڑوں مثالیں اسلام میں موجود ہیں۔ آپ ذرا غور کریں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے پاس مشرکین کے ۔ یہود کے اور نصاریٰ کے وفد آتے رہے حالانکہ اس وقت مشرکین مشرک ہی تھے وہ مسلمان نہیں ہوگئے تھے۔ اس طرح یہود یہود ہی تھے اور نصاریٰ بھی نصاریٰ ہی تھے ۔ یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو اس وقت بھی عرب میں یہود و نصاریٰ موجود تھے۔ اسلام ہی اسلام نہ ہوچکا تھا۔ دراصل دیکھنے میں تو یہ الفاظ کہ ” سارے کا سارا اسلام ہی ہوجائے “ بڑے اچھے محسوس ہوتے ہیں لیکن اس میں دین کے لئے جبر بالکل صاف صاف نظر آتا ہے جو اسلام کا مطمع نظر بالکل نہیں تھا۔ اسلام نے جبر کو کبھی پسند نہیں کیا اور جب تک جبر رہے دین اللہ کا دین نہیں کہلا سکتا یہاں جو لڑائی لڑنے کا حکم دیا جارہا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ دین اللہ کے لئے ہوجائے۔ اس لئے کہ مشرکین نے اللہ کے دین کو اللہ کا نہیں رہنے دیا تھا اگر وہ دین کو اللہ کا رہنے دیتے تو مسلمانوں سے جنگ کیوں کرتے ؟ فرمایا کہ : ” اگر یہ لوگ لڑائی سے باز آجائیں تو تم بھی ہاتھ روک لو۔ “ باز آجانے سے مراد کافروں کا اپنے کفر و شرک سے باز آجانا نہیں بلکہ فتنہ سے باز آجانا ہے۔ کافر ، مشرک ، دہریئے ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنا جو عقیدہ رکھنا چاہتا ہے رکھے اور جس کی چاہے عبادت کرے یا کسی کی بھی نہ کرے۔ اس گمراہی سے اس کو نکالنے کے لئے ہم اسے فہمائش اور نصیحت کریں گے۔ اس کے باطل عقائد کا رد کریں گے اپنے عقیدے کی خوبی بیان کریں گے مگر اس وجہ سے اور پھر صرف اسی وجہ سے اس سے لڑیں گے نہیں۔ لیکن اس کو بھی یہ ہرگز حق نہیں کہ اللہ کی زمین پر اللہ کے قانون کی بجائے اپنے باطل قوانین جاری کرے اور اللہ کے بندوں کو غیر اللہ کا بندہ بنائے۔ کیونکہ یہی وہ فتنہ ہے اور اس فتنے کو رفع کرنے کے لئے حسب موقع اور حسب امکان تبلیغ سے کام لیا جائے گا اور پھر تبلیغ میں وہ رکاوٹ ہوں گے تو شمشیر سے بھی کام لیا جائے گا اور مؤمن اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کفار اپنے اس فتنے سے باز نہ آجائیں اور پھر یہ فرمایا کہ ” اگر وہ باز آجائیں تو تم بھی ہاتھ روک لو مگر انہی لوگوں کے مقابلہ میں جو ظلم کرنے والے ہیں۔ “ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب نظام حق قائم ہوجائے تو عام لوگوں کو معاف کردیا جائے گا لیکن ایسے لوگوں کو سزا دینے میں اہل حق بالکل حق بجانب ہوں گے کہ جنہوں نے اپنے دور اقتدار میں نظام حق کا راستہ روکنے کے لئے ظلم و ستم کی حد کردی ہو اگرچہ اس معاملے میں بھی عفو و درگزر سے کام لینا ہی صالحین کو زیب دیتا ہے تاہم فتح یاب ہونے کے بعد اگر وہ دیکھیں ان کے جرائم کی فہرست بہت زیادہ طویل ہے تو ان کو سزا دنیا بھی جائز ہے اور اس اجازت سے خود نبی کریم ﷺ نے فائدہ اٹھایا۔ چناچہ جنگ بدر کے قیدیوں میں سے عقبہ بن معیط اور نضر بن حارث کو قتل کر ادیا گیا وہ اسی اجازت سے تھا۔ ” وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ 1ؕ“ کا مطلب عبد اللہ بن عمر ؓ سے دریافت کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ : ” اتاہ رجلان فی فتنۃ ابن الزبیر فقالا ان الناس ضعفوا وانت ابن عمرو صاحب النبی۔ فما یمنعک ان تخرج فقال یمنعنی ان اللہ حرم دم اخی فقال الم یقل اللہ فقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ فقال قاتلنا حتی لما تکن فتنۃ و کان الدین للہ وانتم تریدون ان تقاتلوا حتی تکون فتنۃ و یکون الدین لغیر اللہ “ ( بخاری) عبد اللہ بن زبیر کے فتنہ میں دو شخص ابن عمر کے پاس آئے اور کہا کہ لوگوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ آپ عمر ؓ کے صاجزادے ہیں اور رسول اکرم ﷺ کے صحابی ہیں کیوں نہیں نکلتے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے یہ بات منع کرتی ہے کہ اللہ نے میرے بھائی کا خون حرام کردیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کیا اللہ کا یہ حکم نہیں : ” وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ “ ابن عمر ؓ نے کہا ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ فرو ہوگیا اور دین صرف اللہ کا ہوگیا اور تم اس لئے جنگ کرتے ہو کہ فتنہ پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لئے ہوجائے۔ انہی حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے فتنہ کے متعلق یہ بھی بیان فرمایا کہ : ” کان الا سلام قلیلا و کان الرجل یفتتن فی دینہ اما قتلوہ واما یعذبوہ حتی کثر الا سلام فلم تکن فتنۃ “ یعنی جب اسلام کمزور و ناتواں تھا تو دشمنان دین و ملت مسلمانوں کو فنا کرنے کی فکر میں رہتے تھے مگر جب اسے حکومت و سلطنت نوازش کی گئی اور اسے تمکین فی الاض حاصل ہوگئی تو اب کسی مخالف میں اتنی ہمت نہ رہی کہ فرزند ان اسلام کو نچا دکھا سکے اور ان کی راہ ترقی میں رکاوٹ پیدا کرسکے گویا سرزمین عرب میں اسلام کو غلبہ و اقتدار حاصل ہوگیا اور اس کے دشمن ذلیل و رسوا ہوگئے۔ ان دونوں روایات کے ملانے سے اس آیت کے معنی خود بخود صاف ہوتے ہیں کہ تم برابر جنگ کرتے رہو تاآنکہ فتنہ و فساد کے اجزاء عناصر محوو باطل ہوجائیں کلمۃ اللہ اور قانون الٰہی بلندو برتر ہو کسی شخص کو خدائی قانون کی خلاف ورزی کی طاقت نہ ہو اور اگر کوئی شخص اس کی توہین کرے تو حکومت اس کو فوراً سزا دے۔ اسلام اس امر کا آروز مند ہے کہ قانون الٰہی عام ہوجائے جملہ مذاہب امن و اطمینان سے اس کے ماتحت زندگی بسر کریں۔ مذہبی مقامات گرجے ، عبادت گاہیں اور مسجدیں بدکار لوگوں کی دستبرد سے محفوظ رہیں۔ مذہبی آزادی ہو۔ اسلام کی راہ ترقی میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا کرے خود آپس میں لڑنے نہ پائیں ۔ جب کبھی ان میں سے کوئی اسلام کی یا قانون اسلام کی علی الا علان توہین کرے تو اس سے مواخذہ کیا جائے۔ صرف یہی ایک صورت ہے جس سے دنیا میں امن قائم رہ سکتا ہے ورنہ فتنہ ہمیشہ سر اٹھاتا رہے گا اور لوگ کبھی چین سے زندگی بسر نہ کریں گے۔ اگر یہ لوگ اسلام کی مخالفت سے باز آجائیں اور اس کی صرف دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں : ! جس وقت مسلمانوں نے ان کو اسلام کی دعوت دی ۔ ان کے شکوک و شبہات کو دور کردیا تو وہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ " اسلام قبول کرنے کو تیار نہیں مگر اس کی مخالفت نہ کرنے کا بھی عہد کرتے ہیں اور سوائے توحید کے ماتحت رہنا پسند کرتے ہیں تو شوق سے رہیں مگر انہیں جزیہ ادا کرنا ہوگا۔ اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی انکو اسلام کی مخالفت سے باز نہ رکھ سکے اللہ کے قانون کی خلاف ورزی کرتے رہیں اور برابر اسلام کی تباہی کیلئے تدبیریں سوچتے رہیں تو پھر انکی سزا قتل ہوگی اور انہیں کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ وہ فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں۔
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

اگر حرمت کے مہینوں کی رعایت کی جائے تو تمہاری طرف سے بھی رعایت ہونی چاہیے حرمت کے مقاملہ میں بھی مساوات ہے ، پس جو کوئی تم پر زیادتی کرے تو چاہیے کہ جس طرح کا معاملہ اس نے تمہارے ساتھ کیا ہے ویسا ہی تم بھی اس کے ساتھ کرو ، ہاں ! اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ بات نہ بھولو کہ اللہ انہی لوگوں کا ساتھی ہے جو اپنے تمام کاموں میں متقی و پرہیزگار ہوں

حرمت کے مہینوں کا احترام ضروری ہے : 333: ” اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ “ جن میں جنگ کرنے کی ممانعت ہے چار ہیں ۔ رجب ، ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم ۔ ان مہینوں کا احترام زمانہ جاہلیت میں کیا جاتا تھا۔ جنگ بند کردی جاتی۔ راستے کھل جاتے اور تجارت شروع ہوجاتی ۔ مسلمانوں کو اب بھی یہی حکم ہے کہ ان مہینوں میں جنگ نہ کریں لیکن اگر کفار کی طرف سے ابتداء ہوجائے تو ان کو جواب دینا مسلمانوں کا اولین فرض ہے۔ جب ایک فریق نے پابندی نہیں کی تو دوسرا فریق مجبور ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ کسی مہینہ کی حرمت کی بنیاد تو بس اس پر ہے کہ دوسرا فریق بھی اس کی حرمت ملحوظ رکھے اور یہ نہیں تو پھر کسی مہینہ کیحرمت کی بنیاد ہی نہیں۔ یہ چیز تو محض عوض معاوضہ کی دو طرفین کے تعامل پر مبنی ہے۔ یہاں اشارہ ذی قعدہ 7 ہجری کی جانب ہے ۔ رسول اللہ ﷺ بہ قصدعمرہ اس وقت صحابہ ؓ کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ ہوئے تھے لیکن مشرکین مکہ آمادہ قتال ہوگئے تھے صرف آمادہ ہی نہیں بلکہ تیر اندازی اور سنگ اندازی شروع کردی تھی عرب جاہلیت اپنی جہالت ، شقاوت جنگ جوئی کے لئے بدنام اور بالکل بجا طور پر بدنام تھے لیکن اس کے باوجود سال میں صرف دو تہائی لڑتے تھے اور باقی 3/1 حصہ امن وآشتی ہی کے مشغلہ میں گزار دیتے تھے۔ ” جو تم سے ان حرمتوں کی رعایت کرے تم بھی ان سے حرمتوں کی رعایت ملحوظ رکھو۔ “ قصاص کے لفظی معنی تو بدلہ کے ہیں جیسے پہلے گزر چکا خواہ وہ معاوضہ قولی ہو ، عملی ہو یا جسمانی اور اس جگہ عمل مراد ہے یعنی جیسا تمہارے فریق مقابل نے تمہارے ساتھ کیا ہے تم بھی اس کے ساتھ کرو۔ یہاں کافروں پر تعریض ہے کہ خود تو ان مقدس مہینوں کا ذرا پاس ولحاظ نہیں کرتے اپنی کسی حرکت سے بھی باز نہیں آتے اور مسلمانوں سے توقع یہ رکھتے ہیں کہ وہ ان کے سارے ظلم اور زیادتیوں پر اس لئے خاموش رہیں گے کہ یہ مقدس مہینے ہیں۔ ” تم بھی زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر زیادتی کی۔ “ یعنی اگر فریق مقابل قتال شروع کردے تو تم بھی جوابی کارروائی کرو کیونکہ اگر تم خاموش رہے تو وہ تمہارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے یہ میدان جنگ ہے یہاں اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہوگا اور ان کو چھیڑ خانی کا مزہ چکھانا ہوگا۔ یہاں مسلمانوں کی اسی جوابی کاروائی کو محض مجازاً اور محاورہ زبان کے اعتبار سے اعتداء فرمادیا گیا ۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ زیادتی کے جواب میں کی گئی کارروائی بہ طور سزا ہوئی ہے اس پر حقیقۃً زیادتی کا اطلاق ہو ، کیونکر ہو سکتا ہے ؟ محض لفظی تطابیق کی بنا پر یہاں سزائے اعتداء کو خود اعتداء سے تعبیر کردیا گیا ہے۔ بس یہ محاورۃً ہی صحیح ہوسکتا ہے کہ عام بول چال میں اس طرح بولا جاتا ہے۔ ” اللہ سے ڈرتے ہو۔ “ یہ اسلام ہی کا معجزانہ کمال ہے کہ ایک طرف تو قتال اور انتقام کی اجازت پوری پوری دی اور دوسری طرف آخر میں پھر یہ بھی یاد دلادیا کہ دیکھنا حدود سے تجاوز کسی حال میں بھی نہ ہو۔ جوش میں ہوش کو نہ ضائع کردینا بلکہ قابو رکھنا یہ نہ ہو کہ الٹی زیادتی تم اپنی طرف سے حالت انتقام میں کرنے لگو۔ خوف الٰہی اور باز پرس کا خیال ہر وقت ذہن میں رکھنا۔ جو کچھ بھی ہو ، شدید اشتعال کے موقع پر بھی ہیجان نفس کے ماتحت نہیں خشیت الٰہی کے ماتحت ہو۔ سبحان اللہ ! اس حکیمانہ امتزاج کی نظیر دنیا کے کس قانون ، کس آئین ، کس نظام کے اندر ملے گی ؟ ممکن نہیں یہ اسلام ہی کا کمال ہے کہ عین حالت جنگ میں بھی عقل و فکر کی دعوت کو نہیں بھولا۔ دیکھو ابھی ابھی انتقام میں بھی اہل ایمان پر تقویٰ کی زبردست قید عائد کی جا چکی ہے۔ اب ارشاد ہو رہا ہے کہ ان احکام سے کہیں پست ہمت نہ ہوجانا اور یوں نہ خیال کرنے لگنا کہ ” حدودو قیود “ عائد کر کے پر زور مقابلہ سے روکا جا رہا ہے اور ان کے بعد دل کے حوصلے پوری طرح کیونکر نکل سکیں گے ؟ یہ بات نہیں ہے بلکہ قانون الٰہی یہ ہے کہ اللہ کی فتح و نصرت رحمت و عنایت شامل حال انہی لوگوں کے رہتی ہے جو اس کی خشیت و عظمت اپنے دل میں رکھتے ہیں اور متقی ہوتے ہیں ۔ گویا تقویٰ کی تاکید عین نصرت وہمت افزائی کے لئے ہے ضعف وکمزوری پیدا کرنے کے لئے نہیں۔ متقیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معیت کی آخر نوعیت کیا ہوتی ہے ؟ جتنا غور وفکر کرلو فیصلہ یہی ہوگا کہ اللہ کی معیت بلحاظ اس کی نصرت و اعانت حفظ علم وغیرہ کے ہوتی ہے نہ کہ کسی جسمانی یا مادی اعتبار سے۔ کسی قوم پر اللہ کا سب سے بڑافصل اور انعام یہ ہوتا ہے کہ اس کے ارادہ میں جزم و استحکام پیدا ہوجائے وہ بلند ہمت ہو۔ عزم و استقلال پورا ہو۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے ارادوں کو مضبوط رکھیں ۔ اللہ کے قانون کی عزت و حرمت ان کے پیش نظر رہے ۔ ایسے لوگوں کی ہر موقع پر دستگیری کی جائے گی۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو ایسا نہ ہو کہ اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دو ، نیکی اختیار کرو ! یقینا اللہ کی محبت انہی لوگوں کیلئے خاص ہے جو نیکی کرنیوالے ہیں

جہاد میں مال کی بھی ضرورت ہوگی وقت آنے پر دریغ نہ کرنا : 334: جہاد فی سبیل اللہ کے لیے قدم قدم پر روپیہ کی ضرورت ہوگی۔ اگر ہر ایک مسلمان لڑنے کے لئے تیار ہوگیا اور حکومت کے پاس روپیہ نہ ہوا تو سخت دقتیں پیدا ہوں گی ۔ سامان حرب کی خریداری نہ ہو سکے گی پھر علاوہ ازیں سلطنت کے اور سینکڑوں کام ہیں جو روپیہ کے بغیر پورے نہیں ہوسکتے۔ خصوصاً ایسے وقت میں تو روپیہ کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے جب کہ دشمنوں نے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے کی ٹھان لی ہو اس لئے اب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ اسلام میں جس طرح محض جان دے دینا مطلوب و مقصود نہیں بلکہ وہ جان دینا مطلوب و مقصود ہے جو اللہ کی راہ میں ہو۔ اللہ کے دین کی بڑائی کے لئے ہو اور اللہ کے بتائے ہوئے حکم اور طریقہ کے مطابق ہو۔ اس طرح مطلق صرف مال کی ہرگز کوئی وقعت و قدر نہیں ۔ قدر صرف اس مال کی ہے جو باطل کی راہ میں نہیں ، حق کی راہ میں ہو ۔ ہوائے نفس کی تکمیل کے لئے نہیں بلکہ رضائے الٰہی کے حصول کے لئے ہو۔ یہاں اشارہ خاص جہاد و قتال کی جانب ہے لیکن فی سبیل اللہ کے الفاظ عام ہیں ۔ ہر دینی خدمت میں مالی امداد اس کے تحت میں آجاتی ہے۔ قرآن کریم میں جب صیغہ جمع حاضر آتا ہے تو کبھی تو افراد مخاطب ہوتے ہیں اور کبھی جماعت کیونکہ جماعت بھی ایک لحاظ سے جمع ہے۔ یہاں اصل مخاطبت امت سے بہ حیثیت مجموعی ہے اور بیان یہ حقیقت ہو رہی ہے کہ افراد امت نے اگر جہاد و قتال سے جان چرائی اور مجاہدین کو مالی امداد دینے میں بخل سے کام لیا تو نتیجہ لازمی طور پر ساری امت کی تباہی و بربادی اور ہلاکت کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ ” اپنے کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو “ یعنی اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔ یہاں مراد یہ ہے کہ امت کی ضرورت کے موقع پر بخل کر کے امت کو بربادی میں نہ ڈالو۔ یہی معنی ابن عباس۔ ابوایوب انصاری۔ حذیفہ صحابہ سے اور حسن و قتادہ و عکرمہ و عطا تابعین سے مروی ہے اور محدث جلیل امام بخاری (رح) نے بھی یہی معنی اختیار کئے ہیں۔ جہاد ترک کردینا تباہی و بربادی ہے اور صرف روپیہ دے کر اپنی جان چھڑ الینا بھی کافی نہیں ۔ بلکہ روپیہ دینے کے ساتھ ساتھ خود جنگ کی تیاری اور جہاد میں شرکت ضروری ہے۔ ایسے موقع پر جبن اور بخل سے کام لینا اپنے آپ کو ضعف وکمزور اور مخالف کو قوی و طاقتور بناتا ہے۔ پس جان اور مال دونوں کو حاضر کرو ” وَّ جَاہِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ “ کا حکم یاد رکھو اور جو قانون تم کو دیا گیا ہے نیک نیتی سے اس کی پابندی کرو۔ اللہ تمہاری نصرت ودستگیری کرے گا۔ البتہ جن لوگوں کی نیت صالح نہیں ہوتی اور صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے قانون پر عمل کرتے ہیں اللہ کے نزدیک ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ ” محسنین “ احسان کا لفظ حسن سے نکلا ہے جس کے معنی کسی کام کو خوبی کے ساتھ کرنے کے ہیں ۔ عمل کا ایک درجہ یہ ہے کہ آدمی کے سپرد جو خدمت ہو اسے کر دے ، انجام دے دے اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسے خوبی کے ساتھ کرے۔ اپنی پوری قابلیت اور اپنے تمام وسائل اس میں صرف کردے اور دل وجان سے اس کی تکمیل کی کوشش کرے۔ پہلا درجہ محض طاعت کا درجہ ہے جس کے لئے صرف تقویٰ اور خوف کافی ہوجاتا ہے اور دوسرا درجہ احسان کا ہے جس کے لئے محبت اور گہرا قلبی لگاؤ درکار ہوتا ہے اور یہ ہر عمل میں دونوں درجات موجود رہتے ہیں اور احسان کا درجہ ہر عمل میں نہایت خوبی کا درجہ ہے۔ جہاد کا بیان جاری تھا اچانک حج کا ذکر کیوں ؟ جہاد فی سبیل اللہ کے مسائل بیان کرتے کرتے درمیان میں قرآن کریم نے حج وعمرہ کا تذکرہ شروع کردیا اور کچھ دور تک اس کا ذکر چلا گیا اس سے فارغ ہوتے ہی پھر جہاد فی سبیل اللہ کی طرف توجہ پھرائی گئی۔ اگر ماقبل وما بعد میں درس و فکر سے کام لیا جائے تو فوراً معلوم ہوجائے گا کہ قتال فی سبیل اللہ اور حج بیت اللہ میں نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا ربط وتعلق ہے مگر اس ربط کو معلوم کرنے سے پہلے تمام اعمال اسلام پر ایک سرسری نظر ڈال لیجئے۔ نماز ہر مسلمان مرد و عورت پر لازم کردی گئی کہ جنگی خدمت ہر فرزند اسلام کے لئے ادا کرنا ضروری ہے۔ بیک وقت ایک لشکر جرار تیار ہو جس کے اندر قربانی کا جذبہ صادقہ۔ اپنے امیر کی اطاعت راسخ ہو اور جو ہر قسم کی مصیبت و تکلیف برداشت کرسکے۔ زکوٰۃ اپنی آمدنی کا ایک قلیل حصہ فقراء و مساکین اور دوسرے مصارف مذکور میں دے تاکہ ایک طرف تو اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ہو تاکہ جب خلافت اسلامی کو اس کی دولت کی ضرورت ہو تو اپنی تمام جائیداد راہ حق میں لٹا سکے اور ایک کوڑی بھی اپنے پاس نہ رکھے اور دوسری جانب ابنائے جنس کے ساتھ ہمدردی و رحم ، پیاروشفقت اور محبت پیدا ہو جو ایک جذبہ فطری ہے بخل وامساک کے عیوب سے پاک رہے اور قوم بھیک مانگنے سے بچ جائے۔ رمضان کے روزوں سے غرض یہ تھی کہ مسلمان اپنے اندر بھوک ، پیاس اور دوسری جسمانی تکلیفوں کو برداشت کرنے کی عادت پیدا کریں اور اگر کبھی انہیں مخالفین و معاندین اسلام کے مقابلہ میں مصائب و شدائد کا سامنا ہو تو ہمت نہ ہار دیں۔ ایک فوج کے لئے جن امتیازات وخصائص کی ضرورت ہے اور جن کے بغیر کوئی لشکر کامیاب نہیں ہو سکتا وہ تو یہی ہیں۔ عام مسلمانوں نے ان کی پابندی کرلی مگر ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان میں کتنوں نے صرف ظاہری صورت کی پرستش کی اور حقیقت سے بالکل غافل رہے اور وہ کتنے ہیں جو مشکل سے مشکل کام میں بھی ہاتھ ڈال سکتے ہیں اور ہر کٹھن منزل میں قدم رکھنے کے قابل ہیں ۔ اس لئے کام شروع کرنے سے قبل ان کا امتحان ضروری ہے وہ امتحان یہی فریضہ حج ہے تاکہ مضبوط اور توانا سپاہیوں کا انتخاب ہو سکے۔ اسلام کا ایک پیغام محبت ہے جو بچھڑے ہوؤں کو ملاتا ، بیگانوں کو اپنا اور آشناؤں کو صدیق و حمیم بنا دیتا ہے ۔ اہل محلہ میں محبت و یگانگت پیدا کرنے کے لئے پنج گانہ نمازوں کے وقت محلہ کی مسجد میں جمع ہونا واجب کیا گیا شہروالوں کے تعلقات کو محکم و استوار کرنے کے لئے ہفتہ میں ایک مرتبہ مسجد جامع میں نماز جمعہ ادا کرنا ضروری ٹھہرایا گیا۔ اہل شہر اور قرب و جوار کے دیہات کے رہنے والوں میں تعارف اور شناسائی کو پیدا کرنے کے لئے سال میں دو بار عید کی نماز قائم کی گئی اور آخر کار عالم اسلامی میں رابطہ ، دین و مذہب مضبوط تر کرنے کی خاطر مختف قوموں ، مختلف نسلوں ، مختلف زبانوں ، مختلف رنگتوں اور مختلف ملکوں کے رہنے والوں پر عمر بھر میں ایک دفعہ حج بیت اللہ فرض کیا گیا کہ دین واحد کی وحدت میں سب کے سب شامل ہوسکیں۔ حج اور جہاد کی مناسبت اب حج کے احکام ملاحظہ ہوں دیکھو کہ ان کو جنگ کے ساتھ کس قدر شدید مناسبت ہے : 1 ۔ تمام حاجیوں کو سادہ بن سلا لباس پہننا پڑتا ہے۔ جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ایک ہی رسول۔ ایک ہی قرآن کریم اور ایک ہی قبلہ پر ایمان رکھنے والے۔ ایک ہی صورت ۔ ایک ہی لباس اور ایک ہی سطح پر نظر آئیں اور ایک ہی نغمہ اور وردان کی زبانوں پر ہو۔ چشم ظاہر بیں کو ان اتحاد ظاہری اور معنوی رکھنے والوں کے اندر کوئی ظاہری اختلاف محسوس نہ ہو۔ یہ اللہ کا شکر ہے۔ یہ سب کے سب اسلامی فوج کے سپاہی ہیں اور فوج میں یونیفارم ہونا ضروری ہے۔ 2 ۔ ان لوگوں کو ایک خاص قانون کی پابندی کرنا پڑتی ہے ، سرمنڈانا ، ناخن کتروانا ، شکار کرنا اور عورتوں سے تعلق خاص پیدا کرنا ممنوع ہے۔ اگر کوئی شخص ان کا مرتکب ہو تو اسے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا کہ حاکم علی الا طلاق کی اطاعت راسخ ہو اور اس کے احکام ہماری مصلحتوں کے خواہ کیسے ہی مخالف ہوں مگر ہماری گردنیں ان کے آگے جھک جائیں۔ 3: ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ حج کسے کہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عرفات میں جانے کا نام حج ہے۔ جو شخص تمام ارکان حج ادا کرے اور میدان عرفات میں حاضر نہ ہو تو اس کا حج نہ ہوگا۔ گویا جس طرح آج تم خدائے واحد کی غلامی کا اظہار کرنے کے لئے اس میدان میں آئے ہو آئندہ جب کبھی مسلمانوں کے خلیفہ کو کسی میدان جنگ میں اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر اجتماع کی ضرورت ہو تو اس طرح عزیز و قریب ، وطن و دیار ، اور مال و جائیداد کو چھوڑ کر حاضر ہوجانا۔ اس میدان کی حاضری ایک طرح کی فوجی نمائش ہوگی کہ کس قدر لوگ جنگ کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ 4: ہر حاجی کے لئے ضروری ہے کہ جب حج کو روانہ ہوتواپنا زاد راہ لے کر جائے تاکہ دوسروں کے لئے بار دوش نہ بن جائے۔ ایسے ہی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ جہاد کی تیاری میں مصروف رہے اور ہر قسم کا ضروری سامان حرب اپنے پاس رکھے۔ 5: ارکان حج سے فارغ ہو کر اپنی طاقت کے مطابق جانور ذبح کرے تاکہ معلوم ہو کہ ہم خود بھی رب ذوالجلال کے نام پر قربان ہونے کو تیار ہیں : ” لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ 1ؕ“ یاد رکھو کہ اللہ تک ان قربانیوں کا نہ تو گوشت پہنچتا ہے نہ خون اس کے حضور جو کچھ پہنچ سکتا ہے وہ تو صرف تمہارا تقویٰ ہے یعنی تمہارے دل کی نیکی۔ 6: حج میں تین چیزوں کی ممانعت ہے۔ الف : بےحیائی کی باتیں اور ناشائستہ کلام۔ ب : ناشائستہ باتوں سے اپنے بھائیوں کو مخاطب کرنا۔ ج : لڑنا جھگڑنا اس میں تعلیم دی کہ جب مسلمانوں کا لشکر ایک جگہ پر جمع ہو تو اسے ان باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔ تاکہ آپس میں اختلاف و منازعت نہ ہونے پائے۔ 7: ایک مرکز پر اجتماع سے مقصد یہ تھا کہ ان میں عالمگیر اتحاد و اشتراک پیدا ہو۔ شوکت اسلام کا اظہار ہو۔ بحری اور بری سفر کے جو یا۔ صنادید عالم کے متلاشی ۔ عالمان طبقات الارض۔ واقفان علم الالسنہ اور محققین تاریخ اقوام و جغرافیہ عالم اپنی علمی تحقیقات کو فروغ دیں۔ 8: جب فرزند ان اسلام ان تکالیف و شدائد کو برداشت کرلیں گے تو کوئی قوم ان کا مقابلہ نہ کرسکے گی۔ وہی حزب اللہ ہوگی جس کی فلاح و کامرانی کا وعدہ لسان الٰہی نے بار بار دیا ہے : فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ۔ 9: حج اگر مقصد اصلی ہو اور پھر تجارت بھی کرلے تو جائز ہے ایسے ہی جہاد فی سبیل اللہ میں قانون الٰہی کی بلندی و برتری تو اصلی مقصد ہو اس کے بعد اس کے بعد اگر مال غنیمت بھی مل جائے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ 10: حج کے بعددو قسم کے آدمی فوراً محتاط ہوجائیں گے ایک وہ جن کے سامنے دنیا اور اس کی مالوفات ہیں : مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ 00200 (البقرۃ 2 : 200) اور پھر دیکھ کچھ لوگ تو ایسے ہیں جن کی صدائے حال یہ ہوتی ہے کہ اے اللہ ! ہمیں جو کچھ دینا ہے دنیا ہی میں دے دے پس آخرت کی زندگی میں ان کے لئے کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اور دوسرے وہ جو دنیا اور آخرت دونوں کے طالب ہیں : وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ 00201 ( البقرۃ 2 : 201) اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب دوزخ د سے بچا لے اور یاد رکھو کہ یہی دوسری جماعت جنگ میں کام کرنے کے قابل ہوگی۔
Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور دیکھو حج اور عمرہ کی جب نیت کرلی جائے تو اسے اللہ کی رضا کیلئے ادا کرنے چاہیے اور اگر ایسی صورت پیش آجائے کہ تم راہ میں گھر جاؤ تو پھر ایک جانور کی قربانی دینی چاہیے جیسا کچھ بھی میسر آئے اور اس وقت تک سر کے بال نہ منڈاؤ جب تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے ہاں ! اگر کوئی شخص بیمار ہو یا اسے سر کی کسی تکلیف کی وجہ سے مجبوری ہو تو چاہیے کہ فدیہ دے دے اور فدیہ یہ ہے کہ روزہ رکھے یا صدقہ دے اور پھر جب تم امن کی حالت میں ہو اور کوئی شخص چاہے کہ تمتع حج کرے تو اس کیلئے بھی جانور کی قربانی ہے جیسی کچھ میسر آئے ، البتہ جس شخص کو قربانی میسر نہ آئے تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے سات روزے واپسی پر یہ دس کی پوری گنتی ہوجائے گی ، ہاں ! یاد رہے کہ یہ اس کیلئے ہے جس کا گھر بار مکہ مکرمہ میں نہ ہو اور دیکھو ہر حال میں اللہ کی نافرمانی سے بچو اور یقین کرو کہ وہ یعنی اللہ سزا دینے میں بہت ہی سخت ہے

رضائے الٰہی کے حصول کے لئے حج ادا کرنا : 335: مسلمانوں کو مضبوط اور طاقتور سپاہی بنانے کے لئے حج وعمرہ کا حکم دیا جاتا ہے۔ بس رضائے الٰہی کے حصول کے لئے حج کرو۔ حج کے مقامات یہ ہیں :1 ۔ بیت اللہ جس کا طواف کیا جاتا ہے۔ 2 ۔ صفا اور مروہ کی پہاڑیوں جو بیت اللہ الجلیل کے بالکل قریب ہی واقع ہے۔ 3 ۔ شہر سے مشروق کی جانب تین میل کے فاصلہ پر منیٰ ہے۔ 4 ۔ مزدلفہ جو منیٰ سے آگے بڑھ کر تین میل کے فاصلے پر ہی واقع ہے۔ 5 ۔ عرفات۔ مزدلفہ سے تقریبا تین میل کے فاصلہ پر آگے عرفات کا میدان ہے۔ عمرہ میں صرف بیت اللہ کا طواف کیا جاتا ہے اور صفاو مروہ کے درمیان چلا جاتا ہے جس کو سعی کہتے ہیں۔ فریضہ حج تین طریقہ پر ادا کیا جاتا ہے۔ ! : افراد : ایام حج میں صرف حج ہی کی نیت سے احرام باندھ کر حج ادا کیا جاتا ہے۔ " : تمتع : حج کے مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھ کر اس کے تمام ارکان پورے کر کے احرام کھول دے اور پھر اس سال یعنی قیام حج میں حج بھی کرے۔ تمتع کے معنی فائدہ اٹھانے کے ہیں۔ ایک شخص عمرہ سے فارغ ہو کر احرام کھول دیتا ہے اور اپنے وقت پر حج کرلیتا ہے۔ اس درمیانی وقت میں وہ ان چیزوں سے فائدہ حاصل کرتا ہے جو احرام کی حالت میں ناجائز تھیں۔ گویا عمرہ کی وجہ سے حج کے لیے تمتع کرتا ہے۔ اس لیے اس کو متمتع کہا جاتا ہے۔ # : قران : حج کے مہینوں میں حج اور عمرہ دونوں کو یک جا ادا کرنا اور دونوں کے لئے احرام باندھنا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ موسم حج میں عمرہ کا احرام باندھے مگر اس کا احرام کھولنے سے قبل حج بھی ساتھ ہی کرلے۔ چونکہ حج وعمرہ کا مقصد اصلی فوجی تربیت کی تکمیل ہے ۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ مسلمان دو جداگانہ سفر کریں۔ ایک حج کے لئے اور دوسرا عمرہ کے لئے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ عمرہ کے ایام میں مکہ مبارکہ کے تمام ضروری حالات ومقامات سے واقفیت ہوجائے گی اس لئے حج کے موقع پر اس امر کے لئے آسانی پیدا ہوجائے گی کہ امت مسلمہ کے بہترین دل و دماغ سے تبادلہ افکار و خیالات کرے۔ ان کی صحبت و ہم نشینی سے فیض یاب ہو اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے نشو وار تقاء اور حیات اجتماعی پر غور کرے۔ راستہ میں رک جانے کی اگر کوئی صورت پیش آجائے تو کیا کرے ؟ 336: ہاں ! اگر کوئی شخص راہ کی بدامنی یا بیماری کی وجہ سے روک دیا گیا یا رک گیا اور حج وعمرہ کیلئے نہ جاسکا تو اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کا جانور وہاں بھیج دے یا کسی معتبر شخص سے کہہ دے کہ قربانی کے روز میری طرف سے بھی وہاں ایک جانور ذبح کردینا اور جب اسے گمان غالب ہو کہ میرا جانور ذبح ہوگیا ہوگا تو احرام کھول دے۔ اس سے قبل سر منڈانے یا بال کتروانے اور احرام کھولنے کی اجازت نہ ہوگی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جہاں اس کو رکنا پڑا وہیں وہ جانور اس وقت ذبح کردے جب اس کو یقین ہوجائے کہ اب بیت اللہ پہنچنا ممکن نہیں ہے اور قربانی کے بعد احرام کھول دے اور سرمنڈادے اور پھر جب عذر دور ہوجائے تو حج وعمرہ ادا کرے۔ یعنی آئندہ سال یا جب موقع بن سکے۔ بیماری کے سبب اگر قربانی سے قبل حجامت بنوانا ضروری ہو تو کیا کرے ؟ 337: حالت احرام میں اگر حجامت بنوانے کی ضرورت شدید ہو جیسے سردرد یا چم جوؤں نے تنگ کرلیا ہو یا جسم کے کسی دوسرے حصے سے بال مونڈلئے ہوں تو اس کے لئے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ وہ جرمانہ کیا ہے ؟ 338: فرمایا اس جرمانہ کی تین صورتیں ہیں اور ان تینوں میں سے جو پسند ہو یا جس کا کرنا آسان ہو کرلو اور وہ درج ذیل ہیں : ! : تین دن کے روزے رکھنا۔ " : چھ مسکینوں کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے مطابق الگ الگ گیہوں یا کوئی غلّہ جو تم استعمال کرتے ہو دے دینا جس کی مقدار تقریباً 2600 کلو گرام ہے۔ غلہ دو یا اتنے غلّہ کی رقم۔#: اونٹ۔ گائے یا بکری ذبح کر کے فقراء میں تقسیم کر دے۔ یہ روزے اسی وقت شروع کر کے پورے کر دے یا کچھ عرصہ کے بعد یعنی گھر واپس لوٹ کر اس طرح صدقہ وہیں ادا کرے یا وقت کے بعد جتنا جلدی ممکن ہو اور قربانی کے متعلق بہتر تو یہی ہے کہ وہیں قربانی کی جگہ پر جانور ذبح کردے لیکن کسی وجہ سے یہ بھی اس وقت ممکن نہ ہو تو جب میسر آئے کر دے۔ راستہ کھل جائے یا عذر دور ہوجائے تو پھر حج کرے : 339: جب دشمن کا خوف دامن گیر نہ ہو۔ بیماری وغیرہ کا عذر جاتا رہے ۔ چاروں طرف امن وامان قائم ہوجائے۔ حالات درست ہوجائیں اور پھر حج تمتع ادا کرے تو اسے ایام حج میں حرم کے اندر یعنی عرفات سے واپس آکر منی میں جمرہ عقبیٰ پر رمی کرنے کے بعد ایک جانور ذبح کرنا ہے خواہ وہ اونٹ ، گائے ہو یا بکری۔ جو تو فیق ہو یا جو میسر آئے ۔ لیکن اگر اس قربانی کی توفیق نہ ہو یعنی نہ جانور پاس ہوا اور نہ ہی اس کی قیمت کہ وقت پر خرید کر ذبح کرلے تو اس کے عوض میں دس روزے رکھنے پڑیں گے۔ تین تو وہیں حج کے دنوں میں اور باقی سات جب تم واپس گھر پہنچ جاؤ یا اگر وہاں زیادہ قیام ہے تو جب تم حج سے فارغ ہو کر اپنی قیام گاہ میں آجاؤ ۔ ” ذٰلِكَ “ یہ حج تمتع کا فائدہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو دور دراز کے رہنے والے ہوں یعنی میقات کی حدود کے اندر ان کے گھر نہ ہوں میقات کے اندر رہنے والوں کو صرف حج افراد ہی کی اجازت ہوگی۔ میقات سے مراد وہ جگہ ہے جہاں سے احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہونا پڑتا ہے خواہ یہ احرام عمرہ کی نیت سے ہو یا حج کی نیت سے ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ کے رہنے والے نہ ہوں۔ اس طرح مستثنیٰ صرف مکہ والے ہی ہوں گے۔ ” ذلک “ کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قربانی میسر نہ آنے کی صورت میں جو دس روزے بتائے گئے ہیں یہ سہولت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو مکہ کے رہنے والے نہ ہوں یا جن کے گھر میقات کے اندر واقع نہ ہوں اور مکہ کے رہنے والوں یا میقات کے اندر رہنے والوں کے لئے یہ سہولت نہیں بلکہ ان کو قربانی ہی کرنا پڑے گی کیونکہ وہ جانور لا بھی سکتے ہیں اور اس کی رقم کا بندوبست بھی کرسکتے ہیں تاکہ وہ وہیں سے خرید لیں۔ قانون الٰہی کی پابندی کرو : 340: یہ اعلیٰ ترین قانون ہے اس کی پابندی کرو۔ تمہاری حیات قوی کا دار مدار اس پر ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک مرکز پر جمع ہوں۔ ان میں اتحاد و یگانگت پیدا ہو ۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں اور وہ جسم واحدبن جائیں۔ اگر تم نے اس اتحادویگانگت اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کو ترک کردیا تو اللہ تعالیٰ تم کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ تمہاری وحدت ومعیت جاتی رہے گی اور اختلاف پیدا ہونے کی وجہ سے تم پر غیروں کو مسلط کردیا جائے گا۔ غور کرو کہ آج مسلمانوں نے ان ساری چیزوں کی پابندی کی ؟ اگر نہیں کی تو نتیجہ کیا رہا ؟ وہی جو حکم الٰہی میں طے پا گیا تھا یعنی تم کو سخت ترین عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا۔
Ayah 2:197

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں پس جس کسی نے ان مہینوں میں حج کرنا اپنے اوپر لازم کرلیا تو حج کی حالت میں نہ تو عورتوں کی طرف رغبت کرنا ہے نہ گناہ کی کوئی بات کرنی ہے اور نہ لڑائی جھگڑے کے قریب جانا ہے اور تم نیک اعمال میں سے جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ کے علم میں ہے پس حج کرنا چاہتے ہو تو اس کیلئے سامان کی تیاری بھی رکھو سب سے بہتر سامان تقویٰ و پرہیزگاری کا ہے اور اے ارباب عقل و دانش ! اللہ سے ڈرتے رہو یہی دراصل پرہیزگاری ہے

حج معلوم مہینوں میں ہے : 341: حج کے تین مہینے مقرر ہیں شوال ، ذی قعدہ اور ذی الحج کے دس بارہ دن یعنی عشرہ اول سے دو دن زائد۔ پچھلی آیت میں یہ بتایا گیا تھا کہ جو کوئی حج یا عمرہ کا احرام باندھ لے تو اس پر لازم آتا ہے کہ اس کے احکام پورے ادا کرے۔ ظاہر ہے کہ عمرہ کے لئے تو کوئی تاریخ اور مہینہ مقرر نہیں پورا سال پڑا ہے جو چاہے ادا کرے لیکن حج کے لئے مہینے اور اس کے افعال و اعمال کے لئے خاص تاریخیں مقرر ہیں اور اوقات متعین ہیں۔ اس لئے اب بتایا جا رہا ہے کہ حج کا معاملہ عمرہ کی طرح نہیں ہے۔ اس کے لئے کچھ مہینے مقرر ہیں جس کا مطلب احادیث میں واضح ہے کہ ان مہینوں کے علاوہ اگر کوئی حج کی نیت سے احرام باندھ لے تو وہ محرم نہیں ہوگا اور اس کا احرام ، احرام حج نہیں ہو سکتا ؟ اور عمرہ کے لئے کوئی مہینہ تاریخ یا وقت مقرر نہیں۔ حالت احرام میں کچھ چیزوں کی ممانعت ہے اور اسی ممانعت کی وجہ سے اس کو احرام کہتے ہیں اور یہ تین چیزیں ہیں جن سے سختی کے ساتھ پرہیز لازم ہے اور وہ تین چیزیں رفث ، فسوق اور جدال ہیں۔ ” رَفَثَ “ کیا ہے ؟ یہ ایک جامع لفظ ہے جس میں بیوی سے جنسی تعلق اور اس کے سب مقدمات مراد لئے جاتے ہیں یہاں تک کہ زبان سے عورت کے ساتھ کھلی گفتگو بھی داخل ہے اور محرم کو حالت احرام میں یہ سب چیزیں منع و حرام ہیں۔ عام عورتوں سے تمام لغو اور فضول باتیں جو حج کے دنوں کے علاوہ بھی ناجائز ہیں ان کی ممانعت میں اور سختی آگئی اور اپنی بیوی سے بےحجاب باتیں اگرچہ ان دنوں سے پہلے جائزتھیں لیکن اب یعنی احرام میں وہ حرام ہوگئیں۔ ” فُسُوْقَ 1ۙ“ کیا ہے فسوق کے لفظی معنی خروج کے ہیں اصطلاح قرآنی میں عدول حکمی اور نافرمانی کو فسوق کہا جاتا ہے جو اپنے عام معنی کے اعتبار سے تمام گناہوں کو شامل ہے۔ بیشک گناہ کے ہر کام سے بچنا ہی چاہئے کیونکہ کوئی گناہ بھی اچھا نہیں ہوتا بلکہ ہر گناہ براہی ہوتا ہے تاہم یہاں عبد اللہ بن عمر ؓ نے فسوق سے مراد مخطورات احرام لی ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ ذکر مخصوص حج کا ہو رہا ہے اور اس نسبت سے وہی احکام جو حالت احرام میں ممنوع و ناجائز ہیں اس سے مراد لینا زیادہ صحیح ہیں کیونکہ عام گناہوں کی ممانعت احرام کے ساتھ خاص نہیں وہ ہر حال میں حرام و ناجائز ہیں۔ وہ چیزیں جو دراصل گناہ نہیں لیکن احرام کی وجہ سے ناجائز و حرام ہوجاتی ہیں۔ وہ چھ چیزیں ہیں۔ پہلی چیز تو وہی جو رفث میں آگئی اس کو ذہن میں رکھو اور دوسری چیزبری جانوروں کا شکار کرنا ہے ، کسی شکاری کو شکار کا بتانا یا شکار میں کسی طرح سے اس کی مدد کرنا۔ یہاں تک کہ اشارہ کنایہ بھی منع ہے۔ تیسری چیز بال یا ناخن کا کٹوانا خود کاٹنا کسی آلہ کی مدد سے یا منہ وغیرہ سے۔ چوتھی چیز ہے خوشبو کا استعمال کرنا جس میں ہر طرح کا رنگ اور مہندی بھی شامل ہے اور چاروں چیزیں مردوں اور عورتوں کے لئے حرام و ممنوع ہیں۔ دو چیزیں مردوں کے ساتھ خاص ہیں گویا پانچویں چیز سلے ہوئے کپڑے پہننا اور چھٹی چیز سر اور چہرے کو ڈھانپنا اگرچہ عورت کے لئے بھی چہرے کو ڈھانپنا درست نہیں۔ چونکہ رفث کی بعض حالتیں ایسی بھی ہیں جن میں حج بالکل باطل ہوجاتا ہے اور جن سے جرمانہ بھی پڑتا ہے اور حج کی قضا بھی لازم آتی ہے اس لئے رفث کا الگ کر کے بھی بیان کردیا۔ پھر یہ بھی ہے کہ ان چیزوں کی گنتی فقہاء نے کی ہے اور پھر ان کو فسوق میں شامل کیا ہے تاکہ عام لوگوں کو سمجھنے میں سہولت رہے۔ البتہ یہ چیزیں وہی ہیں جن کی احادیث میں ممانعت موجود ہے۔ جدال کیا ہے ؟ جدال کے اصلی معنی تو ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش کے ہیں۔ لیکن اصطلاح میں سخت قسم کے جھگڑے کو جدال کہا جاتا ہے ۔ چونکہ ایک لمبا سفر درپیش ہے ۔ پوری دنیا کے انسانوں سے واسطہ ہے۔ انسانی حوائج و ضروریات سب کے ساتھ ہیں پھر ہر آدمی کے اپنے اپنے معمولات زندگی ہیں۔ عادت و طبائع کا فرق ہے ۔ فطرت انسانی یہ بھی ہے کہ اپنی عادت کے خلاف کوئی بات دیکھتا ہے تو الجھتا ہے۔ ان ساری باتوں کو مددنظر رکھتے ہوئے جدال کے معنی پر غور و فکر کرو اور بعض اوقات مذہبی بحث و مباحثے بھی انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں ان سب چیزوں سے صرف ایک لفظ جدال کا استعمال کر کے روک دیا گیا۔ فرمایا : ” نیک کاموں میں سے جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ کے علم سے پوشیدہ نہیں “ ” وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ 1ؔؕ“ حج کیا ہے ؟ گویا نیکیوں کا موسم آگیا ہے اور بڑھ چڑھ کر نیکیاں کرلو۔ اتنے بڑے اجتماع میں کئی لوگ اپنی جگہ بھول جاتے ہیں ہمت کرو اور ان کو اصل مقام تک پہنچا دو ۔ کوئی پیاسا ہے تو پانی پلادو کسی کو کھانے کی ضرورت ہے تو پوری کر دو ۔ کسی نے کوئی الٹی سیدھی کہہ دی ہے تو برداشت کرلو۔ آپ کے پاس سواری ہے اور گنجائش ہے تو کسی کو شریک کرلو۔ ہر آدمی کو ضروریات زندگی کی چیزوں کی ضرورت ہے لیکن زبان نہیں آتی وہ خرید نے سے معذور ہے اس کو ضرورت کی چیز خرید دو ۔ ساتھیوں کے آرام کا خیال رکھو۔ اپنے بےآرام ہونے کی پرواہ نہ کرو۔ زیادہ وقت حرم کے اندر اور ذکر و فکر میں گزارو اور جہاں تک ہو سکتا ہے دوسروں کے کام آؤ ۔ حج کرنا چاہتے ہو تو زادہ راہ کا خود بندوست کرو : 342: ” حج کرنا چاہتے ہو تو اس کے لئے سروسامان کی تیاری بھی کرو۔ “ دراصل اس میں ان لوگوں کی اصلاح ہے جو حج وعمرہ کے لئے بےسروسامانی کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر توکل کرتے ہیں ۔ پھر راستہ میں بھیک مانگنا پڑتی ہے چناچہ مانگتے ہیں۔ خود بھی تکلیف اٹھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہیں ۔ ان کی ہدایت کے لئے حکم دیا جا رہا ہے کہ سفر حج کے لئے ضروریات سفر ساتھ لینا چاہئے یہ تو کل کے منافی نہیں بلکہ توکل کی حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اسباب و وسائل کو اپنی طاقت و مقدور کے مطابق حاصل کرو اور محفوظ رکھو تاکہ عند الضرورت کام آئیں تو کل ترک اسباب کا نام نہیں بلکہ یہ سراسر جہالت ہے۔ اس ہدایت کی قدر اس وقت ہوگی جب جاہلی قوموں کے زائرین کی ذہنیت پر نظر ہو۔ خصوصاً جاہلیت عرب کی تاریخ پر۔ عرب جاہلیت میں یہ مرض زیادہ ہی پھیلا ہوا تھا بلکہ بعض گروہوں کو تو یہاں تک غلو تھا کہ احرام باندھنے کے بعد جو کچھ پیسہ پائی ان کے پاس ہوتا اس کو بھی پھینک دیتے۔ اسلام ایسے دستور کو جو جھوٹی اور نمائشی روحانیت پر مبنی تھا اور ایک طرف شخصی غیرت اور خود داری کے بھی خلاف تھا اور دوسری معاشیات اجتماعی پر ایک خواہ مخواہ کا بار تھا کیسے روا دار ہو سکتا تھا اور اسے کیونکر باقی رہنے دیتا لہٰذا اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہر شخص جو حج بیت اللہ کرنا چاہتا ہے اپنا زاد راہ لے کر جائے دوسروں کے لیے بار دوش نہ ہو۔ یمن کے لوگوں کا دستور تھا کہ سفر خرچ لیے بغیر گھروں سے حج کے لئے نکل کھڑے ہوتے ۔ وہاں جا کر بھیک مانگتے ، چوریاں کرتے اور دوسروں کا مال غضب کرنے کی فکر میں رہتے۔ بظاہر ان کے مقصد صبر و تو کل پیدا کرنا تھا مگر تقویٰ و طہارت حاصل کرنے کا یہ طریق کس نے بتایا ؟ اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ انسان اپنا زاد دار ہمراہ لے کر نکلے اس طرح ایک تو سوال کرنے سے بچ جائے گا دوسرے صد ہا گناہوں سے محفوظ رہے گا۔ اللہ کے حکم کے مطابق کام کرنا ہی عقلمندی ہے : 343: ارباب عقل و خرد تو وہی ہیں جو اللہ کے حکم کے مطابق اپنے اوقات صرف کرتے ہیں اور انکے پیش نظر ہر وقت اللہ کے نام پر قربان ہونے کا خیال رہتا ہے مگر جو لوگ ظاہر طور پر دنیا سے علیحدگی اختیار کر کے بھیک مانگنا شروع کردیتے ہیں انہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ جب مسلمان حج کے زمانہ میں ان خصلتوں کے عادی بن جائیں گے تو انہیں زمانہ جنگ میں شریفانہ طور پر رہنا آسان ہوجائے گا اور یہ ایک خصوصی امتیاز ہوگا اسلامی لشکر کا کہ اس میں فسق و فجور اور تمام فواحش منہیات کا ارتکاب نہیں ہوتا جبکہ دوسری قوموں کے لشکر ہر قسم کی بدکاری کے مرتکب ہوتے ہیں۔