Ayah 2:259زیر نظر آیت میں کس شخص کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ؟ غور طلب ہے :
447: زیر نظر آیت کا ترجمہ چاہو جس کے ترجمہ سے پڑھو یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ یہ واقعہ کس شخصیت کا ہے ؟ کس بستی کا ہے ؟ اور کس زمانہ کا ہے ؟ اور حقیقت یہ ہے کہ درس و عبرت حاصل کرنے کے لئے ان تینوں ہی سوالوں کے جواب کی کوئی ضرورت بھی نہیں۔ جو ہدایت اس آیت کریمہ سے مقصود ہے وہ ان سارے سوالوں اور ان کے جوابات سے مستغنیٰ ہے اور اس بحث میں گئے بغیر ہدایت حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن چونکہ مفسرین نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جو ایک حد تک آپس میں مختلف فیہ ہے اس لئے اس جگہ گفتگو کرنا حرام و ممنوع نہیں کیونکہ کسی صحیح حدیث میں اس کی وضاحت نہیں ملتی ہاں ! مقصود آیت متاثر نہیں ہونا چاہئے۔
” اَوْ کَالَّذِیْ مَرَّ “ کے الفاظ پر بہت بحث کی گئی ہے جس کو زیر بحث لانے کی ہم کو ضرورت نہیں۔ کسی نے اس شخص سے مراد حضرت عزیر (علیہ السلام) لئے ہیں کسی نے کوئی اور نبی ، بنی اسرائیل سے بھی مراد لئے ہیں لیکن بعض نے اس سے مراد کوئی کافر بھی لیا ہے کسی نے اس کو ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں اس واقعہ کا ہونا تسلیم کیا اور کسی نے بہت بعد کا۔
حضرت عزیر (علیہ السلام) کا زمانہ جو بنی اسرائیل میں سے ایک مشہور ومعروف نبی گزرے ہیں جن کے متعلق یہود کا یہ بھی خیال تھا کہ وہ ” اللہ کے بیٹے ہیں “ جیسا کہ قرآن کریم میں بھی ہے کہ ” وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ ا۟بْنُ اللّٰهِ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد یرمیاہ نبی ہیں۔ عزیر (علیہ السلام) کا زمانہ نبوت پانچویں صدی قبل مسیح تھا 450 ق م میں ڈیڑھ ہزار یہود کو ان کی قید اور جلاوطنی سے چھڑا کر واپس فلسطین لائے۔ بائیل میں ان کا نام عزرا کا تب یعنی کاتب تورات کی حیثیت سے آتا ہے۔ ایک صحیفہ بھی ان کے نام کی طرف منسوب ہے اور یرمیاہ نبی کا زمانہ ساتویں صدی قبل مسیح میں تھا اور تاریخ یہود میں آتا ہے کہ انہیں نبوت 646 ق م میں ملی تھی۔ بعض لوگوں نے اس سے مراد حضرت حزقیل نبی بھی لئے ہیں جو یرمیاہ نبی کے ہم عصر اور چھٹی صدی قبل مسیح میں تھے۔
یہ بستی کونسی تھی ؟ نام مختلف لئے گئے ہیں لیکن اکثریت بیت المقدس کی طرف گئی ہے اور یہی صحیح معلوم ہوتا ہے ۔ یہ شہر بخت نصر تاجدار باہل کے ہاتھوں 586 ق م میں پوری طرح تاخت و تاراج ہوا ہے بظاہر یہ واقعہ اسی شہر سے متعلق یعنی اس کی تباہی کے بعد قریب ہی کے زمانہ کا ہے۔
عجائب پرستوں نے اس قصہ اور واقعہ کو دیوپری کا قصہ بنا دیا ہے حالانکہ قرآن کریم کا انداز غور فکر کرنے کی طرف دعوت دینے کا ذکر ہے اس وقت بھی جب کہ یہ بصورت وحی نازل کیا گیا اور آج بھی اور رہتی دنیا تک اس کے اندر قومی زندگی کے لئے بہت سی راہنمائیاں ہیں جو ملتی رہی ہیں اور آج بھی مل رہی ہیں جب کہ کوئی ان کے حاصل کرنے والا بھی ہو۔ آیت کے معنی بالکل صاف ہیں اور کسی طرح کا ان میں ابہام نہیں۔ یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ کاف حرف تشبیہ کا ہے اور ” کان “ بھی اس کاف تشبیہ سے بنا ہے اور کاف تشبیہ کو بہ سبب کسی ضرورت کے مثلاً بغرض اہتمام تشبیہ یا تبدیل سیاق کلام یا کسی اور ضرورت زبان کے مشبہ بہ سے جدا کر کے مقدم کردینا بھی جائز ہے مثلاً زید کا لاسد سے جب کاف تشبیہ کو کسی سبب سے جدا کر کے مقدم کریں تو یوں کہیں گے۔ کان زید الاسد اس جگہ بھی الذی مشبہ بہ نہیں ہے بلکہ اس سے اس شخص کے مرور کی تشبیہ یا تمثیل مراد ہے پس تقدیر آیت کی یہ ہے : کہ ” الم ترالی الذی کانہ مرعلی قریۃ “ یعنی کیا نہیں دیکھا تو نے اس شخص کو جو گویا کہ گزرا تھا ایک قریہ پر۔ مگر نحوی قاعدہ کے مطابق ” کان “ کا لفظ الذی موصول کے صلہ میں واقع نہیں ہوسکتا تھا اس ضرورت سے حرف تشبیہ یعنی لفظ کان کو مقدم لانا پڑتا تھا اور وہ مقدم ہو نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے اسم و خبر صلہ کے جزو تھے اس لئے ہرف کاف جو اصل لفظ تشبیہ کا تھا وہ اس جگہ مقدم کیا گیا۔
مطلب واضح ہوگیا کہ ” یعنی کیا نہیں دیکھا تو نے اس شخص کو جو گویا کہ گزرا تھا ایک قریہ پر اور درحقیقت وہ شخص گزرا نہیں تھا بلکہ اسی نے رویا میں دیکھا تھا کہ میں ایک قریہ یعنی بستی پر گزرا ہوں جو ویران پڑی تھی۔ “ اور پھر پورا واقعہ جو اس نے دیکھا تھا بیان کردیا۔
قرآنِ کریم میں اس شخص کا جس کا رویا بیان ہوا ہے ذکر نہیں ہے اور نہ ہی اس قریہ کا جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا جس میں گزرنا اس شخص نے رؤیا میں دیکھا تھا اگرچہ اس بستی کے تعین کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ اس سے کچھ مقصود نہیں کہ وہ کونسی بستی ہو اور تعین کرنے والوں نے اسکو جو تعین کیا ہے ممکن ہے کہ وہ ہی بستی ہو۔ البتہ اس شخص کا جس نے یہ رویا دیکھا تعین کرنا چاہئے اسی طرح بستی خود بخود متعین ہوجائے گی۔ یہ بات حقیقت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ اقدس میں اس بستی کو اور اس گزرنے والے شخص کے متعلق ہر کوئی جانتا ہوگا جس وجہ سے ان کا تعین نہ کیا گیا ہو ممکن ہے۔ تاریخی واقعات سے جہاں تک کہ تحقیق ہو سکتی ہے اور پھر جن پر اعتماد بھی ہوسکتا ان سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نحمیانبی تھے اور یہ نبی عزیز (علیہ السلام) کے معاً بعد ہوئے۔
توریت میں جو واقعات بیت المقدس کی ویرانی کے لکھے ہیں اور جو زمانہ اس کا قرار دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بخت نصر نے 586 ق م میں بیت المقدس کا محاصرہ کیا اور 584 ق م میں بیت المقدس کو فتح کرلیا اور معبد کو جلا دیا اور بیت المقدس کو تباہ وویران کردیا مگر کیخسرو بادشاہ ایران نے غلبہ پا کر یہودیوں کو قید بابل سے آزاد کیا اور 546 ق م میں انہوں نے بیت المقدس میں واپس آکر قربانیاں کیں اس کے بعد کسی بادشاہ نے یہودیوں کو بیت المقدس کی تعمیر کی اجازت دی اور کسی نے پھر منع کردیا۔ پھر 518 ق م میں دارا نے بیت المقدس کی تعمیر کی اجازت دی لیکن ہامان کی دشمنی سے اس پر بھی عمل درآمد نہ ہوسکا۔
467 ق م میں عزیز پیغمبر بیت المقدس گئے اور یہودیوں کی بھلائی کا زمانہ شروع ہوا مگر بیت المقدس اس طرح جلا ہوا اور گرا پڑا تھا کہ عزیر نبی بھی اللہ کو پیارے ہوئے اور ازیں بعد عممیانبی ان کی تحریک کو دوبارہ لے کر اٹھے ان کو بھی بیت المقدس کا بہت رنج تھا انہوں نے اللہ سے بہت التجا کی اور دعا کرتے رہے کہ وہ کسی طرح پھر تعمیر ہو۔ ایک وفعہ بادشاہ وقت کے پاس حاضر تھے لیکن بہت ہی رنجیدہ خاطر بادشاہ نے پوچھا کہ تم کیوں رنجیدہ ہو انہوں نے کہا کہ میں کیوں زنجیدہ نہ ہوں کہ وہ شہر جس میں ہمارے آباء کے نشانات اور بیت المقدس جیسی عبادت گاہ تھی وہ ویران پڑا ہے۔ اس کے دروازے آگ سے جلے پڑے ہیں اور چھتیں ڈھ ڈھیری ہوئی ہیں۔ بادشاہ نے پوچھا پھر آپ کیا چاہتے ہیں نممیانبی نے کہا کہ آپ مجھ کو وہاں جانے دیں تاکہ میں اس کو پھر تعمیر کروں۔ بادشاہ نے اجازت دی اور ایک میعاد بھی مقرر کردی کہ اتنے عرصہ کے اندر اندر اس کو تعمیر کرلو۔
حضرت نحمیابیت المقدس کی تعمیر میں مصروف تھے تو لوگ اور خصوصاً مخالفین ان پر ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ کیا وہ بیت المقدس کو دوبارہ بنائیں گے اس کے پتھروں کو جو جلے ہوئے اور خاک کے ڈھیروں کے تلے جمع ہیں نکال لیں گے۔ کتاب نحمیا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نحمیا کو بیت المقدس کی تعمیر کی بڑی ہی فکر تھی اور اپنے اللہ کے سامنے ہمیشہ التجا اور دعا کرتے تھے بلاشبہ ان کے دل میں یہ بات گزری ہوگی کہ اس شہر کے مرجانے یعنی ویران ہوجانے کے بعد کس طرح اللہ تعالیٰ اس کو زندہ یعنی آباد کرے گا۔ انہیں تردوات اور اللہ سے التجا کرنے کے زمانہ میں جیسا کہ مقتضائے فطرت انسانی ہے حضرت نحمیا نے رویا میں دیکھا اور ان کو تسلی ہوئی کہ بیت المقدس آباد اور تعمیر ہوجائے گا۔ اس رویا کا ذکر اس آیت میں جس کی اس وقت تفسیر کی جا رہی ہے اور وہ رویا یہی ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ میں ایک قریہ میں گیا ہوں جو بالکل تباہ و برباد اور ویران پڑا ہے رویا ہی میں انہوں نے کہا کہ اس قریہ کے اس طرح مرجانے یعنی ویران ہوجانے کے بعد کس طرح اللہ اس کو زندہ یعنی آباد کردے گا۔ اسی حالت رویا میں انہوں نے دیکھا کہ میں مر گیا ہوں اور پھر جی اٹھا ہوں رویا ہی میں ان سے کسی نے کہا کہ کتنی دیر تک تم پڑے رہے انہوں نے جواب دیا کہ ایک دن ایک دن سے کچھ کم اس نے رؤیا ہی میں کہا کہ تم تو سو برس تک پڑے رہے اپنے کھانے اور پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ وہ تو نہیں بگڑیں اور اپنے گدھے کو دیکھو کہ اس کا کیا حال ہوگیا ہے اور دیکھو کہ اس کی ہڈیاں کس طرح ہلتی ہیں اور آپس میں ملتی ہیں اور پھر کس طرح ان کے اوپر گوشت چڑھتا ہے ۔ اس عجیب رویا سے جب وہ بیدار ہوئے تو ان کو مکمل تسلی ہوئی کہ بیت المقدس ضرور تعمیر ہوجائے گا پس یہی قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت و عظمت کو جتاتا ہے اور اس طرح زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے۔
ہمارے مفسرین نے اس سیدھی بات کو بھی ایک عجوبہ بات بنا کر بیان کیا اور سنی سنائی باتیں جن کی کوئی تحقیق نہ کی اور دور از کار قصے کہانیاں اس میں شامل کردیئے ۔ بہ ایں ہمہ ان تمام باتوں پر غور کیا جاتا ہے تو اصل بات بھی اس میں سے نکل آتی ہے۔ چناچہ اس مقام پر بھی جو روایت ابن عباس ؓ سے تفسیر کبیر میں بیان کی گئی ہے اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ یہ تمام واقعہ جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے وہ ایک رؤیا تھا اس روایت میں بھی بجائے حضرت نحمیا کے حضرت عزیر کا نام لکھا ہے ممکن ہے کہ اس خواب کو دیکھنے والے حضرت عزیر ہی ہوں مگر تاریخ سے مطابقت کرنے سے حضرت نحمیا کا ہونا زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔ اس روایت میں لکھا ہے کہ جب وہ بیت القدس میں پہنچے تو وہاں انجیر اور انگور پک رہے تھے۔ انہوں نے انجیر اور انگور کھائے اور انگوروں کو نچوڑ کر ان کا شیرہ پیا اور سو رہے اور سونے ہی حالت میں اللہ تعالیٰ نے انکو مردہ کردیا اور سو برس تک مرے پڑے رہے۔ ان لفظوں سے صاف صاف ثابت ہوتا ہے کہ علماء متقدمین کی بھی یہ رائے تھی کہ یہ واقعہ حالت نوم میں گزرا تھا جس کو ہم نے سیدھی طرح رؤیا سے تعبیر کیا ہے۔
قرآنِ کریم کا سیاق کلام اس طرح پر واقع ہوا ہے کہ جو قصے اس میں بیان کئے گئے ہیں ان کا مقصد بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ دیکھو سیدنا یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد گرامی سے کہا کہ میں نے گیارہ ستاروں ، چاند اور سورج کو اپنے تئیں سجدہ کرتے دیکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ میں نے ایسا خواب میں دیکھا کہ چاند ستارے اور سورج مجھ کو سجدہ کرتے ہیں ۔ کیونکہ خواب میں دیکھنا قرینہ کلام سے علانیہ روشن تھا والد نے فواً فرمایا کہ بیٹا اپنا خواب دوسرے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا اور پھر یہ سن کر بیٹے یعنی یوسف نے بھی نہیں فرمایا کہ ابوجان ! میں نے تو حقیقت میں دیکھا تھا ۔ اس مقام پر بھی حضرت نحمیا کے خواب کا مقصد بیان کیا گیا ہے اور پھر ” فَلَمَّا تَبَیَّنَ “ کے لفظ سے صاف پایا جاتا ہے کہ وہ تمام واقعات جو زیر نظر آیت میں بیان ہوئے ہیں رؤیا میں واقع ہوئے ہیں۔
رویا میں اصل حقیقت واضح کر کے دکھا دی گئی :
448: ” اپنے کھانے اور پینے کی چیزوں پر نظر ڈالو ان پر برسوں پڑے رہنے کی کوئی نشان نہیں ہے اور اپنی سواری کے گدھے پر بھی نظر کرو کہ وہ کس حالت میں ہے ؟ “ اس پورے منظر سے گویا اللہ تعالیٰ نے حیات افرادی اور حیات قومی کا فرق ظاہر کر کے بتا دیا کہ حیات افراد میں صرف کھانے پینے کی اشیاء پر انحصار ہوتا ہے اگر یہ ساری چیزیں بافراغت ملتی رہیں تو حیات افراد موجود رہتی ہے اور اس کا تعلق روز مرہ زندگی کے ساتھ ہے لیکن قومی زندگی اور موت کا تعلق صدیوں سے ہوا کرتا ہے۔ کوئی قوم اچانک ہی نہیں مرتی بلکہ مرتے مرتے مرتی ہے اور اس طرح جب وہ زندہ ہونے لگتی ہے تو اچانک زندہ نہیں ہوجاتی بلکہ زندہ ہوتے ہوتے ہی زندہ ہوتی ہے۔ قوموں کا عروج وزوال انفرادی زندگی کی طرح نہیں ہوتا۔ اس رویا صادقہ میں انفرادی زندگی کو کھانے اور پینے کی اشیاء سے تعبیر کیا گیا اور قومی زندگی کو سواری کے جانور کے مرنے اس کی ہڈیاں اور پارہائے گوشت کے گل سڑجانے سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ پورا منظر دکھا کر اس کو باور کرا دیا گیا ہے کہ موت وحیات معنوی کے لئے یہی قانون قدرت اپنا کام کر رہا ہے جوان اصولوں سے فائدہ اٹھائے گا یقیناً ان کو فائدہ دیا جائے گا اور جو غافل رہے گا وہ بھی اپنی غفلت کا انجام دیکھے گا۔
Ayah 2:260سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک رؤیا کا ذکر :
449: جس طرح پچھلی آیت کے سیاق کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا قصہ ایک رویا کا واقعہ تھا اسی طرح اس قصہ کا بھی رویا میں واقع ہونا پایا جاتا ہے اول تو اس وجہ سے کہ سب سے اول جو قصہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا نمرود کے ساتھ بیان ہوا وہ ظاہر صورت میں ایک واقعہ تھا اس سے ابراہیم (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو علیحدہ کر کے اس قصہ کے بعد بیان کیا ہے جو رویا میں واقع ہوا تھا ۔ دوسرے یہ کہ کیفیت احیائے موتی امر مشاہد بالعین نہیں ہے اور اس لفظ ” اَرِنِیْ “ سے کسی ایسے امر سے مراد نہیں ہے جو وقوع فی المشاہدہ ہو بلکہ ارادت قلبی مراد ہے پس گویا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ کہنا کہ ” اے رب ! میرے دل کو بتادے کہ مردے کسی طرح زندہ ہوں گے۔ تیسرے یہ کہ اس طرح کے ترددات جو بزرگوں کو اور اہل دل کو واقع ہوتے ہیں ان کا رفع اور تسلی اس طریق سے ہوتی ہے جس کو مشاہدات یا مکاشفات یا رؤیا سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جو فطرت انسانی کے بالکلیہ مطابق ہے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں پیدا ہوا تھا اس کا رفع ہوناچاہا تھا اس کا رفع ہونا دنیاوی مشاہدہ اور ان ظاہری آنکھوں کے دیکھنے سے علاقہ نہیں رکھتا تھا ۔ پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ جو یہاں مذکورہوا ہے وہ ایک رؤیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔
انہوں نے رؤیا میں اللہ تعالیٰ سے فرمایا کہ اے اللہ ! مجھ کو دکھلا یا بتا کہ تو کس طرح مردے زندہ کرے گا۔ پھر خواب ہی میں اللہ تعالیٰ کے بتلانے سے انہوں نے چار پرندہ جانور لیے اور ان کو ہلا کر اور مانوس کر کے پہاڑ پر رکھ دیا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے چار پہاڑوں پر رکھا گیا ہو۔ پھر ان کو ایک ایک کر کے بلایا تو وہ سب جانور الگ الگ زندہ ہو کر چلے آئے اور اس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل کو مردوں کے زندہ ہونے سے جن کے اجزاء بعد مرنے کے عالم میں مخلوط اور منتشر ہوتے ہیں ، طمانیت ہوگئی۔
مسلمان علماء کرام اور قدیم مفسرین کو بھی اس بات پر یقین نہیں تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سچ مچ جانوروں کا قیمہ کر کے پہاڑ پر رکھ دیا تھا اور اس لیے اس آیت کی نسبت مفسرین کی تین رائیں قائم ہوتی ہیں :
ایک وہ لوگ ہیں جن کی رائے یہ ہے کہ درحقیقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جانوروں کا قیمہ کر کے پہاڑوں پر رکھ دیا اور پھر جب بلایا تو وہ زندہ ہو کر چلے آئے۔
دوسرے وہ لوگ ہیں جو ” صُرْهُنَّ “ کے معنی قیمہ کرنے کے نہیں لیتے بلکہ اپنے سے ہلا لینے یعنی مانوس کرلینے کے لیتے ہیں اور جزء کے معنی ہر ایک جانور کے جزء کے نہیں لیتے بلکہ چار کُل میں سے ایک کے جزء ہونے کے لیتے ہیں کیونکہ جب مجموعہ چار ہے تو ایک اس کا جزء ہی ہے جس سے آیت کا مطلب صرف یہ رہ جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے چند جانور اپنے سے ہلائے یعنی مانوس کیے اور پھر کوئی جانور کسی پہاڑ پر اور کوئی کسی پہاڑ پر چھوڑ دیا اور پھر جب بلایا تو سب چلے آئے۔
تیسرے وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ جانوروں کا قیمہ کرنا اور پہاڑوں پر رکھنا واقع نہیں ہوا بلکہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس حکم سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل کو طمانیت ہوگئی پھر انہوں نے نہ جانور پکڑے ، نہ ان کا قیمہ کیا یا ہلایا اور مانوس کیا ، نہ پہاڑوں پر رکھا ، نہ اس کی ضرورت باقی رہی۔ ہمارے خیال میں ان تینوں گروہوں نے رؤیا کے واقعات کو ظاہری واقعات سمجھنے میں غلطی کی ہے۔
عیسائی بحث کرنے والوں نے ہمارے مفسرین کے ان اقوال کو غنیمت سمجھا اور بلا تحقیق اصل مطلب کے قرآن کریم پر اعتراض کرنے شروع کردیئے اور ان کو یہ بھی یاد نہ رہا کہ جن الفاظ پر وہ بحث کر رہے ہیں وہ الفاظ قرآن کریم کے نہیں بلکہ مفسرین کے ہیں ، جن الفاظ کا قرآن کریم متحمل ہی نہیں ہے اور وہ یہ بھی بھول گئے کہ ان کی اپنی کتابوں میں کیا کیا تحریر ہے ؟ چناچہ کتاب حزقیل میں حضرت حزقیل کے رؤیا کا ذکر ہے کہ : ” وہ ایک جنگل میں جس میں آدمیوں کی بہت سی ہڈیاں پڑی ہوئی تھیں ، خدا نے کہا کہ کیا یہ ہڈیاں زندہ ہو سکتی ہیں ، پھر حزقیل نے ان ہڈیوں سے خدا کے حکم سے کہا کہ تم زندہ ہوگی ، تم پر رگ اور گوشت آجاوے گا اور جان پڑجاوے گی اور تم زندہ ہوجاؤ گے۔ چناچہ وہ ہڈیاں ہلیں اور گوشت و چمڑہ پیدا ہوا ، پھر وہ سب اسی طرح زندہ ہوگئیں “ اور توریت کتاب پیدائش باب 15 میں لکھا ہے کہ : ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیٹا پیدا ہونے کی بشارت کے وقت خدا نے کہا تھا کہ چار جانور لے اور ان کے دو دو ٹکڑے کیے مگر پرندوں کے ٹکڑے کو اس کے مقابل رکھ دے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے چارپایوں کے ٹکڑے ٹکڑے کیے مگر پرندوں کے ٹکڑے نہیں کیے اور پھر اس کو نیند آگئی اور وہ سو گیا “ پس عیسائیوں نے ہمارے مفسرین کی ناتحقیق روایتوں کو تو دیکھ کر کہہ دیا کہ یہ دونوں قصے جو قرآن کریم میں موجود ہیں اور جن کے ساتھ مفسرین کی ناتحقیق روایتیں ملائی ہیں وہ ان دونوں قصوں سے جو تورات میں موجود ہیں بنائی گئی ہیں لیکن ہم کو اس وقت ناقابل فہم قصوں پر جو تورات میں اور کتاب حزقیل میں مذکور ہیں بحث کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ صرف اس قدر بتانا ضروری ہے کہ قرآن کریم میں جو یہ دونوں قصے مذکور ہیں ان سے اور کتاب حزقیل اور تورات کے مندرجہ قصوں سے کچھ تعلق نہیں ہے بلکہ ہمارے بعض مفسرین کی سادگی اور عیسائیوں کی چالاکی کا یہ نتیجہ ہے۔ زیر بحث آیت میں علاوہ ازیں مفہوم کی بھی گنجائش موجود ہے۔ ہمارا بیان صحیح ہے تو وہ اللہ کا احسان ہے اور اگر اس میں غلطی یا کمی ہے تو وہ میری کم علمی کی وجہ سے ہے اور میری دعا ہے کہ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا 00
سیّدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی التجاء بدرگاہ الٰہی :
450: سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ اے میرے رب ! میں نے ان لوگوں کو بہت سمجھایا جو کفر کی موت مر چکے ہیں لیکن انہوں نے میری بات پر ذرا دھیان نہ دیا اب تو ہی بتا کہ ان کو ایمان کی زندگی کیونکر ملے گی اور کس طرح یہ زندہ ہوں گے ؟ یہ سوال یوں پیدا ہوا کہ اللہ نے فرمایا تھا : ” تیری نسل ایک عظیم الشان قوم بن جائے گی “ میں نے بہت مدت تک ان کو دعوت دی لیکن بےاثر رہی اب اس کا خیال آنا فطرت انسانی کے مطابق ہے کہ یہ کس طرح ہوگا ؟ اور کب ہوگا ؟ یہی وجہ ہے کہ جب آپ سے کہا گیا کہ ” کیا تمہیں یقین نہیں ہے ؟ “ عرض کی ضرور ہے : ” وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَىِٕنَّ قَلْبِیْ 1ؕ “ لیکن یہ اس لیے چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار ہوجائے۔ یہ الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ یہ آپ کو احیائے موتیٰ پر شک نہیں بلکہ ان معاندین کے متعلق دل میں صرف ایک خیال پیدا ہوتا ہے کہ وہ وقت کب آنے والا ہے جس کا وعدہ دیا گیا ہے کہ : ” تیری نسل ایک عظیم الشان قوم بن جائے گی “ چناچہ بالکل اس سے ملتے جلتے الفاظ تورات میں بھی موجود ہیں ، جب یہ وعدہ آپ کو دیا گیا۔
” کہ کنعان کا ملک آپ کو دیا جائے گا تو آپ نے دریافت کیا اے خداوند خدا ! میں کس طرح جانوں کہ میں اس کا وارث ہوں گا۔ “
(پیدائش 15 : 5)
آپ خود غور فرما لیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے قیامت کو مردے زندہ ہونے کے بارے میں سوال کیا یا ان مردہ لوگوں کے زندہ ہونے کے بارے میں جن پر آپ کی تبلیغ کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا اور وہ قوت ایمانی ضائع کر کے اور کفر کی روش اپنا کر زندگی ہی میں مر چکے تھے۔ ان دو احتمالوں میں سے جو احتمال بھی آپ کے پیش نظر ہے اس کا جواب اس آیت میں موجود ہے۔ عام مفہوم جو سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ :
ابراہیم (علیہ السلام) کو ان چار پرندوں کو پکڑ کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے یا قیمہ کردینے کا حکم ہوا اور انہوں نے ایسا ہی کیا اور پھر ان پارہ ہائے گوشت یا قیمہ شدہ گوشت کو چار حصوں میں تقسیم کر کے چار پہاڑوں پر رکھ دیا اور پھر ان کے ناموں سے جو ان کے ابراہیم (علیہ السلام) نے رکھے تھے یا جن ناموں سے وہ معروف تھے ان کو بلایا گیا تو وہ دوڑ کر ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچنے لگے جس سے ابراہیم (علیہ السلام) کو یقین آگیا یا شک دور ہوگیا۔
حالانکہ یہ تفہیم کسی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے کیونکہ نہ تو قرآن کریم کے الفاظ اس کے متحمل ہیں اور نہ ہی کوئی صحیح حدیث اس سلسلہ میں موجود ہے بلکہ اس طرح مفہوم قرار دینے میں بہت کچھ اپنے پاس سے ملانے کی ضرورت پیش آتی ہے جو خواہ مخواہ قرآن کریم سے زیادتی ہے۔
” فَصُرْهُنَّ “ کے معنی ٹکڑے ٹکڑے (Torn into pieces) کرنا یا قیمہ کرنا نہ لغت کے اعتبار سے صحیح ہے اور نہ ہی سیاق وسباق اس کا ساتھ دیتا ہے بلکہ اس کے صحیح معنی سدھا لینے (Tame them) ، ہلا لینے اور مانوس کرلینے کے ہیں۔
” ادْعُهُنَّ “ میں جو ضمیر ہے وہ ذی روح کے لیے ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ پرندے جن کو بلانے کا حکم دیا جا رہا ہے وہ مردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں اور اگر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردینے یا قیمہ کوٹ لینے کے بعد بھی وہ زندہ تھے تو پھر صحیح ہے ورنہ اس کا یہ مفہوم لینا سراسر قرآنی الفاظ کے ساتھ زیادتی ہے۔
مختصر یہ کہ اس آیت کا واضح مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ اگر تم چار پرندوں کو لو اور ان کو خوب مانوس کرلو کہ وہ تم سے اچھی طرح مانوس ہوجائیں جس طرح شکاری پرندے شکار کرنے والے یا سدھانے والے سے مانوس ہوجاتے ہیں پھر ان کو الگ الگ پہاڑ پر چھوڑ دو جو درحقیقت ان کا اصل مسکن ہے اور اس طرح اب تم ان کو آزاد کرنے کے بعد بلاؤ تو وہ بےساختہ آزادی کو چھوڑ کر تمہاری طرف چلے آئیں گے کیونکہ وہ تم سے اس قدر مانوس ہوچکے ہیں کہ اب ان کو آزاد رہنا گویا پسند ہی نہیں ہے تو پھر یہ چار عناصر سے مرکب انسان جو اس قدر مردہ دل ہوچکے ہیں کہ آپ کی زندہ کردینے والی تعلیم کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے اگر آپ ان کو اخلاق حسنہ سے مسلسل تعلیم کے ساتھ مانوس کرلیں تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کی تعلیم وبلیغ کا اثر قبول نہ کریں ؟ آپ ان کی تعلیم کا خیال رکھیں ، ان کو مانوس کرنے کی پوری کوشش جاری رکھیں اور بددل (Dis heart) نہ ہوں وہ دن دور نہیں کہ تمہاری اس تبلیغ کا اثر ہو کر رہے گا۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو تبلیغ کا ایک ایسا ڈھنگ اور ایسا بہترین طریقہ سکھا دیا جس کے اچھے نتیجہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مفسرین ہی میں سے وہ بھی ہیں جو اس طرح تفسیر کرتے چلے آ رہے ہیں اگرچہ وہ کم ہوں۔ پھر اس سے اس کی تائید ہوجاتی ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو نہ تو کبھی احیائے موتیٰ میں شک ہوا اور نہ ہی ظاہری آنکھوں سے مشاہدہ کی کوئی ضرورت۔ وہ تو دو سرے انسانوں کی نسبت ایمان بالغیب کے زیادہ پابند ہوتے ہیں بلکہ ان کا ایمان بالغیب اتنا قوی اور اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ عام انسانوں کا مشاہدہ کرلینے کے بعد بھی اتنا قوی نہیں ہو سکتا۔ پھر کشف حجاب کا سوال کیسا ؟ اور ایسے جواب کی ضرورت ہی کیا ؟ دراصل یہ سب ہمارے مفسرین اور ذی علم لوگوں کا اپنا تخیل ہے یہی وجہ ہے کہ پرندوں کی بحث کہیں سے کہیں نکل گئی جس کا اصل مطلب سے کوئی واسطہ نہیں۔
اس سلسلہ میں ایک ارشاد نبوی ﷺ بھی پیش کیا جاتا ہے اس کا حال بھی سنتے جائیں تاکہ حقیقت واضح ہوجائے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی بخاری (حدیث : 630) و مسلم (حدیث : 424) دونوں میں موجود ہے کہ : ” نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّکِّ مِنْ إِبْرَاہِیمَ ..... “ اس کا مطلب نہایہ ابن الاثیر ، مجمع البحار ، فتح الباری ، نووی ، مشکل الآثار طحاوی ص : 135 ج اوّل میں امام بیہقی (رح) نے کتاب الاسماء والصفات میں ، امام خطابی (رح) اور امام مزنی (رح) نے عبداللہ بن مبارک ، سعید بن جبیر ، عبداللہ بن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے کہ انبیاء کرام کے لیے احیاء موتیٰ میں شک مستحیل ہے اگر وہ نبوت کے منافی نہ ہوتا تو ہم بھی کرسکتے تھے مگر جب ہمیں شک نہیں تو ابراہیم (علیہ السلام) کو کیسے شک ہو سکتا ہے۔ فتح الباری میں ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حدیث میں ” نَحْنُ “ سے مراد مسلمانوں کی جماعت ہے کہ ہم مسلمانوں کو جب شک نہیں تو ابراہیم (علیہ السلام) جیسے اولو العزام نبی کو کیسے ہو سکتا ہے ؟
لیکن اس فقرہ کا مطلب اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ ان الفاظ کو قرآن کریم کے الفاظ کے بالمقابل رکھ دیا جائے اور مطلب خود بخود واضح ہوجائے گا۔ چناچہ قرآن کریم کے الفاظ ہیں : ” نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ “ (البقرہ 2 : 247) کہ جو لوگ ملک کے حقدار ہیں ان کو تو ملک دیا نہیں اور جو اس کے حقدار نہیں تھے ان کو دیدیا گیا اور یہ کیسی بےانصافی ہے۔ بالکل اسی طرح اب حدیث کے اس فقرہ کا ترجمہ کر کے دیکھو۔
ہماری طرف تو ان نادانوں نے کوئی شک منسوب نہیں کیا جن کے ساتھ ان کا اصل تنازع ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف انہوں نے شک منسوب کردیا جو کہ ان کے تسلیم شدہ نبی بھی ہیں ، یہ کیسی بےانصافی ہے۔
کیا آسان کو مشکل اور پھر مشکل ترین بنانا تفسیر ہے ؟
451: ” ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى کُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا “ پھر ان کا ایک ایک حصہ پہاڑ پر رکھ دیجیے۔ ” پھر ان چاروں میں سے ہر ایک کو ایک ایک پہاڑ پر رکھ دو “ غور کرو کہ ” کُل “ چار ہو تو ایک اس ” کُل “ کا جز نہیں ہوتا ؟ کتنی آسان بات ہے جس کو جان بوجھ کر مشکل کردیا یعنی ان میں سے ایک ایک حصہ کہہ کر ثابت کیا کہ پہلے اس کُل کو جو چار ہیں قطع و برید کر کے ملاؤ یا ان کو کوٹ کوٹ کر ان کا قیمہ کرو ، پھر ان قطع و برید کیے گئے ٹکڑوں میں سے ہر ایک کا ایک ایک حصہ یا اس پورے قیمہ کا چوتھا حصہ لے کر پہاڑ پر رکھو۔ یہ اتنی بڑی لمبی چوڑی عبارت کیوں بنائی گئی ؟ کیا آیت قرآنی اسکی متحمل ہے ؟ اس آسان کو مشکل کیوں کیا گیا ؟ محض اس وجہ سے کہ ایک مفہوم خود اخذ کرلیا جس مفہوم کے قرآنی الفاظ متحمل نہ تھے ، اس لیے اس کو اتنا پھیلا دیا گیا تاکہ متعین مفہوم کی ترجمانی ہو سکے۔ ورنہ بات بالکل آسان تھی کہ ان چاروں میں سے ایک ایک کو الگ الگ پہاڑ پر رکھو تم جس کو بلاؤ گے وہ تمہارے پاس دوڑتا آئے گا ، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کا تمہارے پاس آنا اس بات پر دلیل ہے کہ تم نے ان کو مانوس کرلیا۔ پھر کہا گیا کہ ” مِّنْهُنَّ جُزْءًا “ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ملے جلے ہوئے گوشت کا ایک ایک حصہ لو۔ کیوں ؟ اس لیے کہ ” جُزْءًا “ کے اصل معنی ہی عربی میں ٹکڑے کے ہیں ، جس کا فارسی مترادف پارہ ہے جو ” جُزْءًا “ یعنی پارہ پارہ کردن۔
یہ تکلیف کیوں برداشت کرنا پڑی کہ ” کُل “ چار کا ” ایک “ جز نہ ہوجائے تاکہ ان کا اختیار کیا ہوا مفہوم گڈمڈ نہ ہو اور پارہ اور ٹکڑا میں اس بات کو لٹکا کر رکھ دو تاکہ نہ چار ” کُل “ کا ” ایک جزء “ ہوگا اور نہ بات صاف ہو کر ختم ہوگی۔ ماشاء اللہ بہت محنت کی ہمارے علمائے کرام اور مقررین عظام نے لیکن اس ” کُل “ اور ” جزء “ کو ذرا قرآن کریم کی زبان میں پڑھ کر دیکھ لو پھر یار زندہ صحبت باقی۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ :
وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ0043 لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ 1ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ (رح) 0044 (الحجر 15 : 43۔ 44)
” اور ان سب کے لیے جہنم کے عذاب کا وعدہ ہے۔ اس کے لیے سات دروازے ہیں ان کی ہر ٹولی کے حصہ میں ایک دروازہ آئے گا جس سے جہنم میں داخل ہوں گے۔ “
اب جہنم میں داخل کرنے کے لیے ان سب دوزخ کے مستحقین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے یا ان کا قیمہ کوٹ کر دوزخ میں داخل کیا جائے گا یا ان کے مختلف گروہ بنا کر ان دروازوں سے گزرنے کا کہا جائے گا۔ جیسے تمہاری خوشی لیکن فقط جزء کو ذہن میں رکھیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے حدیث پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوکِینَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ یَکُنْ لَهُ مَالٌ غَیْرَهُمْ فَدَعَا بِهِمْ رَسُولُ اللّٰهِ ۔ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا ثُمَّ أَقْرَعَ بَیْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَیْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِیدًا۔ (مسلم : 1842)
عَنْ مَالِکِ بْنِ ہُبَیْرَةَ الشَّامِیِّ وَکَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ کَانَ إِذَا أُتِیَ بِجِنَازَةٍ فَتَقَالَّ مَنْ تَبِعَهَا جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ ثُمَّ صَلَّی عَلَیْهَا وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ۔ قَالَ مَا صَفَّ صُفُوفٌ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِینَ عَلَی مَیِّتٍ إِلَّا أَوْجَبَ ۔ (ابن ماجہ : 1490)
قَالَ کَانَ مَالِکُ بْنُ ہُبَیْرَةَ إِذَا صَلَّی عَلَی جَنَازَةٍ فَتَقَالَّ النَّاسَ عَلَیْهَا جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ۔ (ترمذی : 1024)
فَکَانَ مَالِکٌ إِذَا اسْتَقَلَّ أَهْلَ الْجَنَازَةِ جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ لِلْحَدِیثِ ۔ (ابوداؤد : 1398)
ان سب احادیث میں ” جزء “ کا لفظ موجود ہے کیا ہمارے علمائے کرام اور مترجمین ان سب جگہوں پر ان سب انسانوں کو جو نماز جنازہ پر حاضر ہوں ٹکڑے ٹکڑے کر کے یا ان کا قیمہ کوٹ کر تین حصوں میں تقسیم کا حکم دیں گے یا حاضرین جنازہ کو تین صفوں میں کھڑا ہونے کا ارشاد فرمائیں گے۔ جیسے تمہاری خوشی ! ہاں ! ان جگہوں پر جزء کے لفظ پر غور کرلیں ، بس اتنی ہی ہماری اپیل ہے۔
Ayah 2:261اللہ کی راہ میں خرچ کرنا زمین میں غلّہ ہونے کے مترادف ہے :
452: خلیفہ اسلام کو سلطنت کے بقاء و استحکام ، قوم کی تعلیم و تربیت ، مجاہدین کے لشکروں کی تیاری ، سامان حرب کی خریداری اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے روپیہ کی ضرورت ہوگی جو شخص ایسی ضرورت کے موقعہ پر مال صرف کرے گا اس کے خرچ کی مثال اس بیج کی سی ہے جو
ایک دانہ سے سات سو بن جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اس قسم کے صدقات کی خیر و برکت بیان کرتے رہے۔
” اور جو اچھی زمین میں بویا گیا یہ وہ ہے جو کلام کو سنتا اور سمجھتا ہے اور پھل بھی لاتا ہے ، کوئی سو گنا پھلتا ہے ، کوئی ساٹھ گنا اور کوئی تیس گنا۔ “ (متی 13 : 32)
” اور جو کچھ اچھی زمین پر گرا اور وہ اگا اور بڑھ کر پھلا اور کوئی تیس گنا ، کوئی ساٹھ گنا ، کوئی سو گنا پھل لایا۔ “ (مرقس 4 : 8)
مگر قرآن کریم بتاتا ہے کہ ایک مسلم قانت جب جہاد فی سبیل اللہ کے لیے دیتا ہے تو وہ سات سو گنا بڑھتا ہے اور اس سے زیادہ کی حد نہیں۔ صحابہ کرام ؓ نے اس وعدہ کو دیکھ لیا کہ سینکڑوں خرچ کر کے کروڑوں کے مالک بن گئے۔ جس مال کے یہ ثمرات و نتائج ہوں وہاں خرچ کرنے سے آدمی کمی کیوں کرے ؟ جو کچھ اس کے پاس وقتی ضرورت سے زائد ہے وہ الٰہی بینک میں جمع کیوں نہ کرا دے ؟
گزشتہ بیانات میں جس قدر احکام دیئے گئے ہیں ان سب کی سچی اور صحیح تعمیل جبھی ہو سکتی ہے جبکہ نیکی کے لیے مال خرچ کرنے کی پوری پوری استعداد پیدا ہوجائے۔ وصیت ، روزہ ، حلال و طیب کمائی ، حج ، جہاد ، نکاح ، طلاق ، یتیموں کی خبر گیری ، عورتوں کے ساتھ حسن سلوک یہ تمام امور ایسے ہیں جن پر ٹھیک ٹھیک عمل وہی کرسکتا ہے جو روپے کے عشق میں نہ مرتا ہو اور نیکی کی راہ میں مال خرچ کرنے کا ولولہ رکھتا ہے اس لیے پچھلے بیانات کے بعد خصوصیت کے ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کے مواعظ بیان کیے جا رہے ہیں ، یہ گویا ان سب کے لیے ایک متمم بیان ہے۔
اللہ کی راہ میں مال صرف کرنے کو کھیتی سے تشبیہ دی گئی ، کیوں ؟
453: ایک عام فہم اور مادی مثال دے کر یہ سمجھا دیا کہ اس تکثیراجر پر اتنی حیرت کیوں کی جائے۔ ایسی مثالیں تو مادیات میں روزمرہ مل جاتی ہیں اور تجارتی اور کاروباری تلمیحیں قرآن کریم میں بکثرت ملتی ہیں اور زرعی اور کاشتکارانہ تلمیحیں مفقود نہیں۔ یہاں نیکی کی راہ میں خرچ کرنے کو کھیتی سے لطیف تشبیہ دی گئی ہے ، جس سے دو نکتے پیدا ہوتے ہیں۔
! : ایک یہ کہ اپنے مصارف خیر کی حفاظت و نگہداشت بھی اہل زراعت ہی کی طرح کرتے رہنا چاہیے۔ ریا ، نمائش ، عجب ، تکبر ، ایذا اور احسان رکھنے سے انہیں برباد نہ کردینا چاہیے۔
" : دوم جس طرح تخم ریزی ، آبپاشی وغیرہ کے اختلاف سے پیداوار ، محنت اور قیمت اور نفع میں مختلف ہوتی رہتی ہے ، اس طرح اجر گو مقدار میں برابر ہو تاہم حسن قبول اور قریب درجات وغیرہ کی کیفیات میں نیت و اخلاص کے اعتبار سے کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔
آخر آیت میں فرما دیا کہ اس کے وسعتوں کی کوئی انتہاء نہیں ، اس لیے مشرک قومیں یہ نہ سمجھیں کہ عطاء و بخشش سے اس کے خزانہ میں کوئی کمی آسکتی ہے ، ہرگز نہیں اور اس کے علم سے کائنات کا کوئی ذرّہ نہیں چھپ سکتا۔ اسی لیے مشرک قومیں یہ نہ سمجھیں کہ کوئی بھی مخلص و مستحق نظر انداز ہونے پائے گا۔
Ayah 2:262راہ الٰہی میں خرچ کرنا نیکی ہے تو ” نیکی کر اور دریا میں ڈال “ :
454: عام دستور ہے کہ کسی محتاج کو پیسہ دے کر لوگ اس پر احسان جتاتے ہیں اور اس طرح مال دینے کے بعد مال لینے والے کو تکلیف بھی دیتے ہیں۔ جنہیں قومی کاموں میں خرچ کرنے کی کچھ عادت ہے وہ ہر موقعہ پر اپنے چندوں کا ذکر فخر و مباہات سے کرتے ہیں اور جن لوگوں نے کم چندہ دیا ہے ان کا ذکر اکثر حقارت سے کرتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں بری ہیں کہ صدقہ بھی دو اور احسان بھی رکھو۔ ایک سچے مسلمان کی شان یہ ہے کہ جس کے ساتھ کچھ اچھا سلوک کیا ہے اس پر احسان بالکل نہ رکھے اور نہ ہی اسے اپنے برتاؤ سے تکلیف پہنچائے۔ حقارت سے پیش آنا یہ بھی تکلیف دہ برتاؤ میں داخل ہے۔ کسی کی خدمت کا موقعہ ہاتھ لگ جائے تو یہ تو خود اپنے لیے باعث اجر اور موجب سعادت ہے نہ یہ کہ الٹا اس پر فخر کیا جائے اور جس کے ساتھ سلوک کیا گیا ہے اسے کسی درجہ میں بھی ذلیل ٹھہرایا جائے۔ کیا اللہ کی راہ میں خرچ کرنا نیکی نہیں ؟ کیوں نہیں ! نیکی ہے ، پھر آپ نے یہ نہیں سنا کہ ” نیکی کر دریا میں ڈال “ دریا میں ڈالنا یہی ہے کہ نیکی کر کے جتایا نہ جائے۔
نیکی وہی ہے جس کے بعد احسان نہ جتایا جائے :
455: جس قدر خلوص اور جتنے گہرے جذبے کے ساتھ انسان اللہ کی راہ میں مال خرچ کرے گا اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا اجر زیادہ ہوگا ، جو اللہ ایک ایک دانے میں اتنی برکت دیتا ہے کہ اس سے سات سو گنا دانے اُگ سکتے ہیں ، اس کے لیے کچھ مشکل نہیں کہ تمہاری خیرات کو بھی اسی طرح نشو ونما بخشے اور ایک روپے کے خرچ کو اتنی ترقی دیدے کہ اس کا اجر سات سو گنا ہو کر تمہاری طرف لوٹے لیکن یہ کب ہو سکتا ہے ؟ جبکہ خرچ کرنے کے بعد اس کو ضائع نہ کیا جائے بلکہ جہاں تک ہو سکے اس کی آبیاری کی جائے۔ پھر آبیاری کیونکر ممکن ہے ؟ فرمایا پہلی شرط یہ ہے کہ خرچ کرنے کے بعد احسان نہ جتاؤ اور نہ انہیں یاد دلا کر ان کو اذیت دو ۔ اللہ کے نزدیک صرف وہ مال قدروقیمت رکھتا ہے جس کے بعد من اور اذی نہ ہو۔ ورنہ سب کیا کرایا برباد ہوجائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ روپیہ بھی خرچ ہوگیا اور اجر وثواب کی بجائے جوتے بھی کھانے پڑے۔
Ayah 2:263سیدھے منہ کی بات اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد اذیت ہو :
456: اپنی حاجت کا اظہار کرنے والے کی بات سن کر معذرت کی نرم بات کہہ دینا یعنی سائل یا حاجت مند کی بات کو سن کر اس وقت ٹال جانا خصوصاً جب وہ سختی یا بدتہذیبی سے پیش آنے لگے۔ گویا آیت میں صاف صاف یہ تعلیم ہے کہ صدقہ یا خیرات مقصود بالذات نہیں ، مقصود اصلاح قلب ہے اور اس کے بعد دینے والا لینے والے پر کوئی احسان نہیں رکھتا بلکہ دینا اپنا فرض سمجھتا ہے بلکہ الٹا لینے والے کا شکر گزار ہوتا ہے کہ اس نے قبول کر کے اس کو ایک بار سے ہلکا کردیا۔
” اذی “ کا لفظ عام ہے ہر قسم کی دل آزاری کو شامل ہے۔ زبان سے یا عمل سے احسان جتانا بھی اس میں داخل ہے۔ ناداری کے وقت نرمی سے جواب دیدنا اور سائل کی سختی کو پی جانا موجب قرب و اجر ہے یہی وجہ ہے کہ ان کو خیر کہا گیا ہے۔ وہ ” غنی “ ہے کہ تمہارا مال تمہارے ہی فائدے کے لیے خرچ کراتا ہے اور جو کوئی کچھ خرچ کرتا ہے وہ اپنے ہی نفع کے لیے خرچ کرتا ہے۔ کوئی مشرک یا مشرک صفت احمق یہ نہ سمجھ لے کہ الٰہی راہ میں جو خرچ کیا جاتا ہے وہ خود اللہ کو دیا جاتا ہے اور اللہ ہمارے زَر و مال کا محتاج ہے۔ حاشاء اللہ ہرگز ہرگز نہیں۔ وہ نہایت ہی بردبار اور حلیم ہے کہ قانون شکنوں کو فی الفور سزا نہیں دیتا۔ سائل کی بدتہذیبی اور غنی کی بددماغی سب کو ایک مدت تک معاف کرتا رہتا ہے۔
Ayah 2:264ایمان والوں کو تاکید مزید ہے کہ اپنے خرچ کیے ہوئے کو مٹا نہ دو :
457: لکھ کر کاٹا ہوا کبھی لکھنے والے کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ اس طرح راہ الٰہی میں خرچ کرنے کے بعد ضائع کردینے والے کے لیے یہ عمل کب مفید ہوگا ؟ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے صدقات و خیرات کو احسان اور اذی سے برباد نہ کریں اور یہ تو ایک مسلم کی شان ہی نہیں کہ وہ لوگوں کو دکھانے کے لیے کچھ خرچ کرے بلکہ یہ تو اس شخص کا کام ہو سکتا ہے جس کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جس کو نہ اللہ پر یقین ہے اور نہ یوم آخرت پر۔ اس کی ریاکاری خود ہی اس کی دلیل ہے کہ وہ اللہ اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اس کا محض لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرنا صریحاً یہ معنی رکھتا ہے کہ خلق ہی اس کی خدا ہے جس سے وہ اجر چاہتا ہے۔ اللہ سے نہ اس کو اجر کی کوئی توقع ہے اور نہ اسے یقین ہے کہ ایک روز اعمال کا حساب ہوگا اور اجر عطا کیا جائے گا۔ ایمان والوں کو دوبارہ بلکہ سہ بارہ تاکید کی جاتی ہے کہ تم مال خرچ کرو لیکن خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے جس نے تم کو مال دیا ہے وہی تم کو اس کا اجر بھی دے گا لیکن اجر تب ہی ملے گا جب خرچ کیا ہوا مال محفوظ رہا ، ضائع نہ ہوگیا۔
پھر یہ بھی یاد رکھو کہ دکھاوے کی خیرات اکارت ہوجاتی ہے اور یہ برائی پچھلی برائی سے بھی سخت ہے کیونکہ جو شخص نیکی کو نیکی کے لیے نہیں بلکہ نام و نمود کے لیے کرتا ہے اور اللہ کی جگہ انسانوں کی نگاہوں میں بڑائی چاہتا ہے وہ یقیناً اللہ پر سچا ایمان نہیں رکھتا۔
دکھاوے کی خیرات کرنے والا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا :
458: دو صورتیں الگ الگ بیان ہوئی ہیں۔ دونوں کے فرق کو خوب سمجھ لو۔ پہلی صورت میں نفس صدقہ تو ان لوگوں کا قبول ہوجائے گا لیکن احسان جتلانے یا اذیت پہنچانے سے ترقیٔ درجات اور اضافہ اجر سلب ہوجائے گا۔ دوسری صورت زیادہ ہی خطرناک ہے کیونکہ اس نے وضاحت کردی اور اس کی حیثیت معلوم ہوگئی کہ جب اللہ اور آخرت پر اس کا ایمان ہی نہیں تو اس کو صدقہ و خیرات سے بظاہر جو کچھ بھی مقصود ہو سب کا حاصل دنیا ہی ہوگا پھر اس کو آخرت میں اجر کس چیز کا ؟ گویا ریا ایسی بری شے ہے کہ اس نے ایمان ہی سے خارج کردیا اور بتا دیا کہ ریا کار کبھی مؤمن نہیں ہو سکتا۔
اس آیت نے ایک طرف انفاق فی سبیل اللہ کی پوری وضاحت کردی اور دوسری طرف ریاکار کی پوزیشن کو واضح کردیا اور پورے عزم و یقین سے کہہ دیا کہ ریاکار دکھاوے کا عمل کرنے والا ، اپنے کفر پر مہر ثبت کردیتا ہے اور اسی طرح نہ وہ صرف اپنے خرچ کیے ہوئے کو ضائع کرتا ہے بلکہ اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ، جس سے خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ 1ؕ کا مصداق قرار پاتا ہے۔
دکھاوے کی خیرات کرنے والوں کی مثال قرآن کریم میں :
459: جو لوگ دکھاوے کے لیے اپنی دولت صرف کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے پہاڑ کی ایک چٹان ، جس پر مٹی کی ایک تہہ جم گئی ہو ، ایسی جگہ پر کتنی ہی بارش ہو لیکن کبھی سرسبز نہ ہوگی کیونکہ اس میں پانی سے فائدہ اٹھانے کی استعداد ہی نہیں۔ پانی جب برسے گا تو دھل دھلا کر صاف چٹان نکل آئے گی۔ اس تمثیل میں بارش سے مراد خیرات ہے۔ پتھر کی اس چٹان سے مراد نیت کی اور جذبے کی خرابی ہے جس کے ساتھ خیرات کی گئی۔ مٹی کی ہلکی تہہ سے مراد نیکی کی وہ ظاہری شکل ہے جس کے نیچے نیت کی خرابی چھپی ہوئی ہے۔ اس توضیح کے بعد مثال اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ بارش کا فطری اقتضاء تو یہی ہے کہ اس سے روئیدگی ہو اور کھیتی نشو ونما پائے لیکن جب روئیدگی قبول کرنے والی زمین محض برائے نام اوپر ہی اوپر ہو اور اس اوپری تہہ کے نیچے نری پتھر کی چٹان رکھی ہوئی ہو تو بارش مفید ہونے کی بجائے اُلٹی مضر ہوگی۔ اسی طرح خیرات بھی اگرچہ بھلائیوں کو نشو ونما دینے کی قوت رکھتی ہے مگر اس کے نافع ہونے کے لیے حقیقی نیک نیتی شرط ہے۔ نیک نیت نہ ہو تو ابر کرم کا فیضان بجز اس کے کہ محض ضیاع مال ہے اور کچھ بھی نہیں۔
” كٰفِرِیْنَ “ کا لفظ یہاں منکرین انعامات الٰہی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے ، فرمایا : جو لوگ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی راہ میں خالصتاً اس کی رضا کے لیے خرچ کرنے کی بجائے خلق کی خوشنودی کے لیے خرچ کرتے ہیں اور خواہش نفس ان سے کراتی ہے جو کچھ کراتی ہے تو ان کا یہ کیا کرایا سب اکارت جاتا ہے ، وہ دراصل ناشکرے اور اپنے مالک حقیقی کے احسان فراموش ہیں اور جو لوگ خود ہی رضائے الٰہی کے طالب نہیں ، تو ان کو خو اہ مخواہ رضائے الٰہی کیوں نصیب ہوگی ؟ یہ دوسری مثال ہے جو ان لوگوں کے لیے بیان کی گئی ایسے ہی منکرین کے متعلق دوسری جگہ ارشاد ِ الٰہی ہے :
” مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ کَرَمَادِ ا۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ 1ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ 1ؕ ذٰلِكَ ہُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ 0018 “ (ابراہیم 14 : 18)
” جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا تو ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے راکھ کا ڈھیر کہ آندھی کے دن ہوا لے اڑے جو کچھ انہوں نے کمایا ہے اس میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ آئے گا ، یہی گمراہی کی حالت ہے جو بڑی ہی گہری گمراہی ہے۔ “
ایک جگہ ارشاد ہوا :
اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ ہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا 00104 اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا 00105 ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا کَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ ہُزُوًا 00106 (الکہف 18 : 104۔ 106)
” وہ جن کی ساری کوششیں دنیا کی زندگی میں کھوئی گئیں اور وہ اس دھوکے میں پڑے ہیں کہ بڑا اچھا بنا رہے ہیں۔ یہی لوگ ہیں کہ اپنے پروردگار کی آیتوں سے اور اس کے حضور حاضر ہونے سے منکر ہوئے پس ان کے سارے کام اکارت گئے اور اس لیے قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن تسلیم نہیں کریں گے۔ (ان کی سزا دوزخ ہوگی) انہوں نے جیسی کچھ کفر کی راہ اختیار کی تھی اور ہماری آیتوں اور رسولوں کی ہنسی اُڑائی تھی۔ “
ایک اور جگہ ارشاد ہوا :
وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ کَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً 1ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْـًٔا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ 1ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ0039 اَوْ کَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ 1ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ 1ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا 1ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ (رح) 0040 (النور 24 : 39 ۔ 40)
” اور جو لوگ کافر ہیں ان کے اعمال کی مثال بیابان میں سراب کی طرح ہے کہ پیاسا اس کو پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو کچھ نہیں پاتا اور اپنے پاس اللہ کو موجود پاتا ہے بالآخر اللہ اس کا حساب پورا پور اچکا دیتا ہے اور اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ یا (کفار کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے کسی گہرے سمندر کی تاریکیاں اس کے اوپر موج اور موج کے اوپر موج چڑھی آتی ہے اور اس پر سیاہ بادل ہیں (اس طرح) ایک پر ایک تاریکیاں ہی تاریکیاں ہیں ، جب کوئی ہاتھ نکالے تو اسے دیکھ نہ پائے اور جسے اللہ ہی نور (ہدایت) نہ دے اس کے لیے کہیں بھی روشنی نہیں ہوگی۔ “
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ ہَبَآءً مَّنْثُوْرًا 0023 (الفرقان 25 : 23)
” اور ہم ان کے کاموں پر جن کو وہ کیا کرتے تھے آپہنچے ، پھر ہم ان کو خاک کے ذروں کی طرح اڑا دیں گے۔ “
Ayah 2:265رضائے الٰہی کی خاطر مال خرچ کرنے والوں کا حال :
460: فرمایا : دوسرے وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کو محض اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی رضامندی حاصل ہو اور نفس میں پختگی پیدا ہو۔ یہ اصول طے شدہ ہے کہ جس کام میں نفس کو تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے اس کے بار بار کرنے سے عادت ہوجاتی ہے اور پھر طبیعت میں وہی ملکہ راسخ ہوجاتا ہے ، نفس کی مزاحمت جاتی رہتی ہے اور دوسرے اعمال صالح میں بھی دقت نہیں پیدا ہوتی پھر اس پختگی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ چونکہ ہم اپنی عزیز ترین متاع حیات اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو جس چیز کیلئے اس کو خرچ کریں گے خود اس سے بھی ایک قسم کا ربط وتعلق قائم ہوجائے گا۔ اس سے اللہ کی راہ میں زیادہ ثابت قدمی اور وفاداری نوازش ہوگی اور اس سے مزاحمت کی قوت مغلوب و ضعیف ہوجاتی ہے۔ یہی دلیل ہے اس بات کی کہ عمل صالح سے جس طرح حصول اجر مقصود ہوتا ہے اسی طرح اصلاح نفس بھی مقصود ہوتی ہے۔
” تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ “ کے یہ معنی تو ظاہر ہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے ہیں کہ وہ خرچ اس لیے کرتے ہیں کہ کمال ایمان اور ثابت قدمی اور اطمینان حاصل ہو لیکن اب دوسرے معنی بھی اس سے لیے گئے ہیں وہ یہ کہ ان کے دل اللہ کے کرم اور ثواب پر مطمئن ہیں ، وہ صرف مال کو نہ نقصان سمجھتے ہیں ، نہ بوجھ جانتے ہیں۔
اس باغ سے تشبیہ جو کسی اونچے مقام پر لگایا گیا ہو :
461: سائنس نے آج ثابت کیا کہ جوں جوں بلندی کی طرف جائیں ، ہوا لطیف ہوتی جاتی ہے اور موسم معتدل۔ قرآن کریم نے آج سے صدیوں پیشتر اس باغ کی مثال پیش کی جو کسی بلند مقام پر واقع ہو۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اخلاص کے ساتھ صدقہ و خیرات کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بلند اور موزوں مقام پر باغ ہو۔ جب بارش ہوگی تو اس کی شادابی دوگنی ہوجائے گی ، اگر زور سے پانی نہ بھی برسے گا تو ہلکی ہلکی بوندیں بھی اس سے سرسبز و شاداب کردیں گی کیونکہ اس میں شادابی کی استعداد موجود ہے جو اپنی اونچائی والی جگہ کی وجہ سے دوگنی ہوگئی کیونکہ اونچائی کی ہوا قدرۃً بارآور (Fruit full) ہوتی ہے۔
اس جگہ ” زور دار بارش “ سے مراد وہ خیرات ہے جو انتہا جذبہ خیر اور کمال درجے کی نیک نیتی کے ساتھ کی جائے اور ہلکی ہلکی پھوار سے مراد ایسی خیرات ہے جس کے اندر جذبہ خیر کی اتنی شدت نہ ہو تاہم خیر بہرحال خیر ہی ہے۔ اسی حالت کو دوسری جگہ قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا :
” یاد رکھو اللہ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا اگر ذرہ برابر بھی کسی نے نیکی کی ہے تو وہ اسے دوگنا کر دے گا اور پھر اپنے پاس سے ایسا بدلہ بھی عطا فرمائے گا جو بہت بڑا بدلہ ہوگا۔ “
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا 1ۚ (القصص 28 : 84)
” جو نیکی لے کر آئے گا تو اس کو اس سے بہتر اجر ملے گا (کیونکہ نیکی کا بدلہ دس گنا ہے) ۔ “
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ 0039 (الروم 30 : 39)
” اور جو تم پاک دل سے واپس لینے کے لیے نہیں صرف اللہ کی رضامندی کے لیے دیتے ہو پس وہی لوگ ہیں جو اپنے مال کو دو چند کریں گے (اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا مال دوچند ہوگا) ۔ “
متلاشیانِ رضائے الٰہی سے خطاب :
462: ” جو کچھ تم کر رہے ہو ، اللہ دیکھ رہا ہے “ مندرجہ بالا تمثیل کی زبان میں بیان اس حقیقت کا بھی تھا کہ جس درجہ کا اخلاص ہوگا اس درجہ کا اس کا بدلہ بھی ، تاہم اخلاص پھر بھی اخلاص ہے اگر وہ درجہ اعلیٰ میں نہ ہو تب بھی جبکہ احسان نہ جتایا اور اس طرح ایذا نہ پہنچائی تو بھی صدقہ کے مقبول ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہوگی۔ پھر اللہ وہ ذات ہے کہ نسل انسانی میں سے کوئی کافر ، مؤمن ، مخلص اور غیر مخلص سب کے محرکات عملی اور سب کے درجہ اخلاص و عدم اخلاص سے وہ خوب اچھی طرح واقف ہے اور اس کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔