2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:40

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے اسرائیل کے بیٹو ! میری وہ نعمت یاد کرو جس سے میں نے تمہیں سرفراز کیا تھا اور دیکھو اپنا ہدایت قبول کرنے کا عہد پورا کرو اور میں تو اپنا عہد پورا کرنے ہی والا ہوں اور (دوسروں سے نہیں) صرف مجھ ہی سے ڈرو

یہود کی علمی خرابی : 88: بنی اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو کہتے ہیں کیونکہ ان کا دوسرا نام اسرائیل ہی ہے۔ قرآن کریم ان کی خرابیاں ذکر کرنے سے قبل تذکیر بالاء اللہ یعنی اپنا انعامات کا ذکر کر کے ان کے اندر حس و بیداری پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایک شریف انسان کی تنبیہ کے لئے صرف اتنا ہی کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ تم شریف زادے ہو۔ چناچہ اس آیت میں بھی انہیں بتایا گیا ہے کہ تمہارے آبائے کرام وہ لوگ تھے جن پر ہر قسم کی نعمتیں نازل ہوئیں ان کو نبوت سے سرفراز کیا گیا۔ حکومت نوازش کی گئی اور یہی سب سے بڑی نعمت ہے کہ کسی امت کو ایسے اعلیٰ ترین عقائد و اخلاق کی تعلیم دی جائے کہ ان کا لازمی اور قطعی نتیجہ حکومت و جہانداری ہو۔ چناچہ دوسرے موقعہ پر اس کا ذکر قرآن کریم میں ان الفاظ کے ساتھ کیا گیا۔ وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا 1ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ 0020 (المائدہ 5 : 20) ” اور وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کہا تھا کہ اے لوگو ! اللہ کا اپنے اوپر احسان یاد کرو۔ اسی نے تم میں نبی پیدا کئے ، تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ بات عطا فرمائی جو دنیا میں کسی کو نہیں دی گئی یعنی نبوت و حکومت دونوں تم میں جمع ہوگئیں۔ “ گویا اللہ کریم نے یہودیوں کو روحانی اور جسمانی دونوں بادشاہتیں نوازش کیں پھر ایسے لوگوں کے لئے تو یہ کبھی جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کی غلامی چھوڑ کر انسانوں کو اپنے رب بنالیں۔ اس قدر تذکیر و مؤعظت کے بعد ان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس عہد کی پابندی کریں جو انہوں نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا۔ اس ایفائے عہد کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ بھی اپنے وعدے کو پورے کرے گا جو ان سے کیا گیا تھا اس آیت میں دو عہدوں کا ذکر کیا گیا ایک بنی اسرائیل کا اللہ سے اور دوسرا اللہ کا عہد بنی اسرائیل سے ، یہ دونوں عہد کیا ہیں ؟ یہ عہد حسب ذیل ہیں : بنی اسرائیل کا عہد اللہ سے : 89: ہم چاہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا عہد خود بنی اسرائیل ہی کی الہامی کتاب تورات سے ذکر کیا جائے تاکہ ان کے لئے اور قرآن کریم کو کتاب الٰہی ماننے والوں یعنی مسلمانوں کے لئے باعث تسکین ہو چناچہ وہ عہد اس طرح ذکر کیا گیا ہے : ” تو نے آج کے دن اقرار کیا ہے کہ خداوند میرا خدا ہے اور میں اسی کی راہوں پر چلوں گا اور اس کی شرطوں اور اس کے حقوق اور اس کے حکموں کی محافظت کروں گا اور اسی کی آواز کا شنواہوں گا “ ۔ (کتاب استثناء : 18) ذرا غور کرو اور دیکھو کہ کتاب الٰہی یعنی تورات ” خداوند کی آواز “ کس کو قرار دیتی ہے اور یہی کتاب کن الفاظ میں اس پر روشنی ڈالتی ہے۔ ” میں ان کے لئے ان کے بھائیوں (اسماعیلیوں) میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔ “ (کتاب استثناء : 11) بنی اسرائیل کے عہد کا تذکرہ قرآن کریم میں : 1: توریت پر عمل کرنے کا عہد چناچہ ارشاد الٰہی ہے : وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ 1ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ (البقرہ 2 : 63) 2: ہفتہ کے روز احکام الٰہی سے سرتابی نہ کرنے کا عہد : وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا 00154 (النساء 4 : 154) 3: اللہ کے احکام سے کچھ نہ چھپانے کا عہد : وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ (آل عمران 3 : 187) 4: اللہ پر افتراء یعنی جھوٹ نہ بولنے کا عہد : اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ (الاعراف 7 : 169) 5: اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنے کا عہد۔ 6: قیام صلوٰۃ کا عہد۔ 7: زکوٰۃ ادا کرنے کا عہد۔ 8: لوگوں سے اچھی بات کرنے کا عہد۔ 9: والدین اور عزیز و ارقاب اور مسکینوں سے اچھا سلوک کرنے کا عہد۔ وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ 1۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ۠ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ 1ؕ (البقرہ 2 : 83) اللہ کا عہد بنی اسرائیل سے : 90: اب اللہ کا عہد بنی اسرائیل سے دیکھنے کے لئے اوپر کے پیرا کو ایک بار پھر پڑھو جس میں ” ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا “ مذکور ہے کیا وہ عہد پورا ہوا یا نہیں ؟ کیوں نہیں جب محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم المرسلین بنا کر مبعوث کیا گیا تو گویا وہ عہد کی تکمیل ہوگئی۔ اور دوسری جگہ اس عہد کا ذکر اس طرح بھی کیا گیا۔ ” اور خداو ند نے بھی آج کے دن تجھ سے اقرار فرمایا جیسا اس نے تجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو اس کی خاص گروہ ہو وے اور تو اس کے سبب احکام کی محافظت کرے اور تجھے سارے گروہوں سے جنہیں اس نے پیدا کیا صفت اور نام اور عزت میں زیادہ بالا کرے اور خداوند اپنے خدا کا مقدس گروہ ہوئے جیسا اس نے کہا۔ “ (کتاب استثناء 26 : 17) گویا اللہ تعالیٰ کا عہد بنی اسرائیل سے یہی تھا کہ ان کی لغزشوں کو معاف کر کے ان پر احسان کیا جائے گا اور اس کا ذکر قرآن کریم کے صفحات میں جگہ جگہ ملتا ہے کہ ہم نے تم پر یہ احسان کیا۔ پھر یہ احسان کیا جیسا کہ ذکر ہے : 1: من وسلویٰ نازل کرنے کا احسان : وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى (البقرہ 2 : 57) 2: پانی کے بارہ چشموں کو جاری کرنے کا احسان : فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا 1ؕ (البقرہ 2 : 60) 3: بادلوں کے سایہ کرنے کا احسان : وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ (البقرہ 2 : 57) 4: سمندر سے پار کردینے کا احسان : وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ۠(البقرہ 2 : 50) 5: فرعون کے عذاب سے نجات دینے کا احسان : یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ (البقرہ 2 : 49) 6: تمام اقوام عالم پر فضیلت دینے کا احسان : اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ 0047 (البقرہ 2 : 47) بنی اسرائیل سے اب بھی یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے عہد کی پابندی کریں ” خداوند کی آواز کے شنوا ہوں “ اور قرآن کریم پر ایمان لے آئیں تو پھر وہ ایسی قوم بنادیئے جائیں گے جو صفت ، نام اور عزت میں زیادہ بالا ہوگی۔ قانونِ الٰہی کی گرفت سے ڈرنے کی ہدایت : 91: بنی اسرائیل کو سمجھایا جارہا ہے کہ جب مذہبی جماعت کی عزت و حرمت کا اصلی سبب اللہ تعالیٰ ہی کا نام ہے اور اسی لئے لوگ اس کو اکرام و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں تو اس کے لئے کبھی یہ جائز نہیں ہوسکتا کہ وہ غیر اللہ سے بھی ڈرے بلکہ اسے صرف ایک ہی ذات کا خوف اپنے دل میں چاہیے ایک دِل دو ڈر کبھی جمع نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ایک سینہ میں دودِل۔ یاد رکھو ” اللہ ہی اس کا حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اگر تم ایمان والے ہو تو اس کا خیال رکھو۔ “ (التوبہ 9 : 13) اس سے بڑھ کر اس جماعت کی اور کیا ذلت ہوسکتی ہے ؟ کہ اللہ کے سوا کوئی دوسری قوت بھی اس کو اپنے فرائض ادا کرنے سے روک سکتی ہے۔
Ayah 2:41

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١٘ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 2:41 in the Quran reader

اور ایمان لاؤ جو میں نے نازل کیا ہے جو اس کلام کی تصدیق کرتا ہوا نازل ہوا جو تمہارے پاس میری طرف سے پہلے موجود ہے اور ایسا نہ ہو کہ اس کے انکار میں بدبختی کا پہلا قدم جو اٹھے وہ تمہارا ہی ہو ، اور ایسا نہ کرو کہ میری آیتوں کو دنیوی مال کے بدلے بیچنا شروع کر دو ، اور میری نافرمانی سے بچتے رہو

محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی پیشینگوئی : 92: پیشین گوئیوں کی ضرورت تصدیق کے لئے محسوس ہوا کرتی ہے آپ کو معلوم ہے کہ باوجود تحریفات لفظی ومعنوی کے پھر بھی کتب سابقہ میں رسول اللہ ﷺ کی آمد کے متعلق پیشینگوئیاں اب تک موجود ہیں چناچہ گزشتہ آیت میں اس کا ذکر کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے موسیٰ جیسا ایک پیغمبر بھیجا جائے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) تک جتنے انبیاء و رسل مبعوث ہوئے کسی کا بھی مثیل موسیٰ ہونے کا دعویٰ نہ تھا۔ اس لئے کہ وہ سب کے سب ملت اسرائیلی کی تجدید و احیاء کے لئے بھیجے گئے تھے بلکہ خود مسیح (علیہ السلام) بھی اسی انتظار میں چلے گئے۔ جب یوحنا بپتسمہ دینے والے کے پاس یروشلم سے کاہن اور لیوی آئے اور انہوں نے آکر پوچھا کہ ” پھر تو کون ہے ؟ کیا تو ایلیاہ ہے ؟ اس نے کہا میں نہیں ہوں ، کیا تو وہ نبی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ “ (یوحنا 1 : 12) جس وقت رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی آپ ﷺ نے اوّل ہی روز یعنی شروع ایام ہی میں مثیل موسیٰ ہونے کا اعلان کردیا۔ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا 1ۙ۬ شَاہِدًا عَلَیْكُمْ کَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ0015 (مزمل 73 : 15) ” ہم نے تمہاری طرف محمد رسول اللہ ﷺ کو گواہی دینے والا بنا کر مبعوث کیا ہے جیسا اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بنا کر فرعون کی طرف مبعوث کیا تھا۔ “ اس لئے بنی اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس قرآن کریم پر ایمان لے آئیں کیونکہ اس کو مان لینے سے ان کی کتابوں کی صداقت پر مہر لگ جائے گی۔ اور تمام دنیا کو یقین ہوجائے گا کہ صحائف آسمانی کی پیشینگوئیاں درست ثابت ہوئیں۔ بنی اسرائیل کو تنبیہ کہ اپنی بدبختی میں پہل نہ کرو : 93: بنی اسرائیل کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کا بیج بونے والے تم نہ بن جائو کیونکہ تم تو مکالمہ و مخاطبہ الٰہی کے قائل انبیاء و رسل کے سلسلہ سے واقف اور کتب سابقہ کا علم رکھنے والے ہو۔ تعلیم یافتہ ہو کر تمہیں انکار کی گنجائش نہیں ورنہ دوسرے لوگ بھی تمہارا اتباع کریں گے اور تمہارے نامہ اعمال میں ان کی غلط کاری یعنی انکار نبوت ختم المرسلین کی جزاء لکھی جائے گی۔ لیکن لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔
Ayah 2:42

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:42 in the Quran reader

(خوب سن لو ! کہ) حق کو باطل کے ساتھ ملا کر مشتبہ مت بناؤ اور نہ حق کو چھپاؤ جب کہ تم جانتے ہو

علمائے بنی اسرائیل کی یہ گمراہی کہ وہ حق کو باطل کے ساتھ ملانے کے عادی تھے : 94: علمائے یہود کی اس شقاوت کا ذکر کہ انہوں نے کبھی حق کی آواز کو لبیک نہیں کہا بلکہ اپنے دنیاوی فائدوں کی خاطر برابر سچائی کو قربان کرتے رہے حالانکہ انہیں خوب یقین تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی وہ نبی ہیں جن کی پہچان ان کی کتاب تورات میں کرائی گئی ہے اور وہ ایک ایک صفت اور نشان آپ ﷺ میں دیکھ چکے ہیں چناچہ قرآن کریم نے ارشاد فرمایا ہے کہ : یَعْرِفُوْنَهٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ 1ؕ (البقرہ 2 : 146) وہ پیغمبر اسلام کو ویسے ہی پہچان گئے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو جانتے پہچانتے ہیں۔ قرآن کریم نے بار بار ان کی اسی غلط کاری کو بیان کیا ہے کہ ایک عالم کے لئے اس سے زیادہ بد اخلاقی اور شیطنت اور کیا ہوگی کہ وہ حق کو پہچان کر پھر اس کی مخالفت کرے ؟ لیکن افسوس ! کہ وہ اپنے علم کی اپچ میں ایسے بدمست تھے کہ انہوں نے کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا کہ کون ہے اور کیا کہہ رہا ہے ؟ تلبیس کے اصلی معنی ہیں کسی چیز کو ڈھانپ لینا یا خلط ملط کرنے اور ادھوری بات کہنا جس سے مطلب کچھ کا کچھ ہوجائے یا جھوٹ کو لفظی اور ظاہری سچائی کا رنگ دے دینا جو بعض اوقات بالکل گھڑے ہوئے جھوٹ سے بھی بڑھ کر دھوکے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس سے ملتی جلتی چیز کا نام آج کل کی اصطلاح میں پروپیگنڈا ہے۔ یہود ان ساری باتوں میں زمانہ کے استاد تھے۔ علمائے یہود کی یہ گمراہی کی وہ بدعات کو جاری کرتے تھے : 95: احکام الٰہی کو بدل دینے کی دوسری صورت اخفاء اور کسمان ہے۔ علمائے یہود کا ایک یہ بھی قصور تھا کہ انہوں نے کتاب اللہ کے علم کی اشاعت کرنے کی بجائے اس کو ربیوں اور مذہبی پیشہ وروں کے ایک محدود طبقے میں مقید کر رکھا تھا اور غیرتو غیر وہ یہودی عوام تک کو اس کی ہوا تک نہ لگنے دیتے تھے۔ پھر جب عام جہالت کی وجہ سے ان میں گمراہیاں پھیلیں تو علمائے یہود نے اصلاح کی کوئی کوشش نہ کی بلکہ وہ عوام میں اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کے لئے ہر اس ضلالت و بدعت کو جس کا رواج عام ہوجاتا اپنے قول و عمل سے الٹی سند جواز عطا کرنے لگے۔ بدقسمتی سے آج کل یہی کچھ علمائے اسلام کی اکثریت کرنے لگی ہے۔ حالانکہ برائی ، برائی ، ہے خواہ کوئی کرے۔ ہر وہ چیز جو عین ضرورت کے وقت ملے وہ حق ہے اور ہر غیر ضروری چیز باطل۔ پس یہ ارباب علم و فضل کی شان سے کس درجہ گری ہوئی بات ہے کہ قوم و ملت کو جن احکام کی ضرورت ہے ان کی طرف تو کوئی بھی توجہ نہ کرے اگرچہ ان پر حیات قومی کا دارومدار ہو اور ان امور پر زور دیا جائے جو فروعیات کا حکم رکھتے ہوں پھر اس پر بھی قناعت نہ ہو بلکہ حق بات جاننے کے باوجود اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جائے۔ سچائی کو چھپانے کی کوشش ہمیشہ اس وقت کی جاتی ہے جب خود اس پر عمل نہ ہو ۔ اس لئے لوگوں کو بھی اس سے بیخبر رکھنے کی سعی کی جاتی ہے کیونکہ اگر انہیں اس صداقت کا علم ہوگیا اور انہوں نے اگر اس پر عمل کرنا شروع کردیا ، تو یہ علماء مورد طعن وتشنیع بنیں گے کہ باوجود جاننے کہ اس پر عمل نہیں کرتے۔
Ayah 2:43

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 2:43 in the Quran reader

نماز قائم کرو ، زکوٰۃ ادا کرو اور جب اللہ کے حضور جھکنے والے جھکیں تو ان کے ساتھ تم بھی سرنیاز جھکا دو

یہود کی عملی کمزوری : 96: گزشتہ آیات میں یہود اور علمائے یہود کی علمی کمزوریوں کا ذکر تھا اب ان کی عملی کمزوری واضح کی جا رہی ہے ۔ صلوٰۃ و زکوٰۃ ہر زمانے میں اسلام کے اہم ارکان ہیں لیکن یہودی ان سے غافل ہوچکے تھے۔ قوموں کے عروج وزوال کے جو اصولی اسباب و مراتب ہیں ان میں بنیادی چیز یہی ہے کہ سب ایک ہو کر رہیں ان کی قوتوں میں اجتماع و انضمام ہو۔ جہاں انتشار و اختلاف ہوا قوم برباد ہوگئی۔ اس لئے کہ علیحدہ ہونے کی صورت میں عوام الناس اور تعلیم یافتہ اشخاص میں بعد و ہجر کی خلیج حائل ہوگئی۔ تمام لوگ بغیر سردار اور امیر کے رہ جائیں گے اور اہل فضل و کمال کے پاس دماغ تو ہوگا مگر دست وبازو نہ ہوں گے کیونکہ کام کرنے والے صحیح معنوں میں عوام الناس ہی ہوا کرتے ہیں۔ نماز اور زکوٰۃ اجتماعی زندگی کی جان ہیں۔ ہمارے پیغمبر اسلام یعنی رسول اللہ ﷺ نے بھی اجتماعی زندگی پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ ” جو شخص جماعت سے الگ ہوا اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو اس کی یہ موت جاہلیت کی موت ہوگی۔ “ من فارق الجما عۃ فمات میتہ جاھلیۃ۔ امت مسلمہ ایک جماعت ہونے کے فضائل بیشمار بیان ہوئے ہیں لیکن اس جگہ جماعت سے مراد نماز فرض کو باجماعت ادا کرنے کے ہیں جو کسی مسجد میں بھی ادا کی جاسکتی ہے ۔ یہ حکم کس درجہ کا ہے ؟ علمائے امت نے اس میں بہت کچھ بیان کیا ہے تاہم ایک کثیر جماعت صحابہ ؓ وتابعین (رح) کی اس جماعت کو بھی واجب قرار دیتی ہے اور اس کے ترک کو سخت گناہ جانتی ہے اور بعض صحابہ کرام ؓ تو اس نماز ہی کو جائز قرار نہیں دیتے جو بلا عذر شرعی کے بدوں جماعت پڑھی جائے۔ یہ آیت ظاہری الفاظ کے اعتبار سے ان حضرات کی دلیل ہے جو وجوب جماعت کے قائل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : (لا صلوۃ لجار المسجد الا فی المسجد) (ابو دائود) یعنی مسجد کے قریب رہنے والے کی نماز صرف مسجد ہی میں جائز ہے جس سے ظاہر ہے کہ جماعت کی نماز ہی مراد ہو سکتی ہے یعنی فرض نماز ، معلوم ہوا کہ مسجد کے قریب رہنے والے کی نماز بھی بغیر جماعت کے جائز نہیں۔ صحیح مسلم میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ منقول ہے کہ ایک نابینا صحابی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا آدمی نہیں جو مجھے مسجد تک پہنچا دے اور مسجد سے واپس لے جائے اس لئے آپ اگر اجازت دیں تو میں نماز گھر میں ہی پڑھ لیا کروں۔ آپ نے اوّل تو ان کو اجازت دے دی۔ مگر جب وہ جانے لگے تو آپ نے سوال کیا کہ کیا اذان کی آواز تمہارے گھر تک پہنچتی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں ! اذان کی آواز تو میں سنتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر تو آپ کو مسجد میں آنا چاہئے اور بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تو میں آپ کے لئے کوئی گنجائش اور رخصت نہیں پاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز با جماعت ادا کرنا ، پابندی سے ادا کرنا ، سارے ارکان کو سکون و آرام سے ادا کرنا ، وقت کی پابندی کرنا ، مسجد کے اندر نماز ادا کرنا ، صف بندی کا پورا خیال رکھنا ، ہر رکن امام کے بعد تبدیل کرنا خصوصاً دل لگا کر نماز ادا کرنا۔ سب باتیں ایک خاص قسم کا نظم وضبط حسن و خوبی اور پوری دلجمعی کے ساتھ امت مسلمہ کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگ لینے کا درس دیتی ہیں اور یہ تمام تصریحات صاف صاف بتا رہی ہیں کہ باہم مل جل کر رہنا اور اکٹھے ہو کر کام کرنا کس درجہ ضروری ہے مگر افسوس ! مسلمان ان سب ارشادات کو فراموش کرچکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ من حیث القوم اللہ کے ہاں بھی فراموش کردیئے گئے ہیں۔ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ ۔ زکوٰۃ ادا نہ کرنا بھی عملی کمزوری ہے : نماز کے ساتھ دوسری تاکید جو بنی اسرائیل کو کی گئی ہے وہ زکوٰۃ ادا کرنے کی ہے۔ اسلئے کہ زکوٰۃ ادا نہ کرنا بھی انسان کی عملی کمزوری ہے اور خصوصاً اسلامی معاشرے کا تیسرا بڑا رکن ہے۔ زکوٰۃ کے معنی ہیں پاک کرنا اور بڑھنا۔ اصطلاح شریعت میں مال کے اس حصہ کو زکوٰۃ کہتے ہیں جو شرعی احکام کے مطابق مال میں سے حساب کر کے نکالا جاتا ہے نماز کی طرح زکوٰۃ بھی ان احکام میں سے ہے جو احکام تمام انبیاء کرام اپنی اپنی قوموں کو دیتے رہے اور یہی حکم قوم یہود کو بھی دیا گیا ۔ گویا نماز حب جاہ کا ایک علاج ہے اور زکوٰۃ حب مال کا۔ حب جاہ اور حب مال دو بیماریاں ہیں جن کے باعث انسان کی دنیوی زندگی اور اخروی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے اور غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ انسانی تاریخ میں اب تک جتنی انسانیت سوز لڑائیاں لڑی گئیں اور جو جو فساد برپا ہوئے ان میں سے اکثر و بیشتر کو انہی دو بیماریوں نے جنم دیا۔ حب ّمال کے نتائج ِبد کا مختصر ذکر : 1: حب مال سے یعنی زکوٰۃ ادا نہ کرنے سے کنجوسی اور بخل پیدا ہوتا ہے جس کا ایک قومی نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ اس کی دولت قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ دوسرا نقصان خود اس کی ذات کو پہنچتا ہے کہ معاشرے میں کوئی بھی ایسے شخص کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا ۔ 2: خود غرضی پیدا ہوتی ہے جو مال کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے اسے اشیاء میں ملاوٹ ، ناپ تول میں کمی ، رشوت ستانی ، مکروفریب اور دغا بازی کے نت نئے حیلے سمجھاتی ہے۔ وہ تجوری پہلے سے زیادہ بھرنے کیلئے دوسروں کا خون نچوڑ لینا جائز قرار دیتی ہے۔ 3: زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے شخص کو کتنا ہی مال مل جائے لیکن مزید کمانے کی دھن ایسی سوار ہوتی ہے کہ تفریح اور آرام کے وقت بھی یہی بےچینی اسے کھائے جاتی ہے کہ کس طرح اپنے سرمایہ میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کروں بالآخرجو مال دوسروں کے لئے آرام و راحت کا ذریعہ بنتا ہے اس کے لئے و بال جان بن جاتا ہے۔ دن کا چین اور رات کی نیند حرام ہوجاتی ہے ۔ 4: زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے کہ حق بات خواہ کتنی ہی صاف اور روشن ہو کر اس کے سامنے آجائے مگر وہ ایسی کسی بات کو مان لینے کی ہمت نہیں کرتا جو اس کی ہوس مال سے متصادم ہو ۔ انجام کا ریہ کہ ایک روز وہ حساب لگاتا ہے کہ کفن پر زیادہ مال خرچ ہوگا یا علاج پر ، تو اس کے کان میں صدا آتی ہے کہ کفن بہتر ہے کیونکہ اس پر مجھ کو کچھ خرچ نہیں کرنا پڑے گا۔
Ayah 2:44

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:44 in the Quran reader

کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو مگر خود اپنی خبر نہیں لیتے ؟ حالانکہ اللہ کی کتاب تمہارے پاس ہے جس کی ہمیشہ تلاوت بھی کرتے رہتے ہو ‘ کیا اتنی موٹی سی بات بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ؟

یہود کی یہ گمراہی کہ دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت : 97: دین اسلام کی نشانی ہی یہ ہے کہ وہ جب دعوت دے گا تو عمل کی دعوت ہی دے گا۔ اس لئے کہ اس کے اوا مرو احکام ایک ایسی امت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو یکسر عمل ہی عمل ہو۔ اس لئے ہر وہ شخص جو اپنی قوت عملیہ فنا کر دے ، اسلام کے نزدیک مردود ہے۔ پھر ان لوگوں کی کیا حالت ہوگی جو دوسروں کو تو کام کرنے کی دعوت دیتے ہیں مگر خود اس سے محروم محض رہتے ہیں ؟ قرآن کریم نے شاعر لوگوں کی ایک اصولی غلط کاری بیان کی ہے اور وہی دراصل ان کے تمام امراض و مفاسد کی علت العلل اور بمنزلہ بنیادی پتھر کے ہے فرمایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ : وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ00226 (الشعرٰء 26 : 226) ” اور وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو بات کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں۔ “ اور پھر مسلمانوں کو قرآن کریم میں مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 002 (الصف 61 : 2) ” اے مسلمانوں ! وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود کرتے نہیں ہو ؟ “ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ 003 (الصف 61 : 3) ” اللہ کو یہ بات نہایت ہی ناپسند ہے کہ جو تمہارا قول ہے وہ تمہارا فعل نہ ہو۔ “ قوم یہود ایک مذہبی قوم ہونے کے ناطے اس امر کی خواہشمند ہے کہ لوگ اس کی امامت و پیشوائی کو تسلیم کرلیں تو اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنے آپ کو عمل صالحہ کا بہترین نمونہ ثابت کرتے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اس کے برعکس ہر وہ برائی جو قوم و ملت کے لئے ہمیشہ مہلک ہی ثابت ہوتی ہے وہ ان میں موجود ہے۔ پھر تعجب ہے کہ وہ دوسروں کو تو نصیحت کرتے ہیں لیکن آپنے آپ کو بالکل بھول چکے ہیں اور اس عمل کا نتیجہ بھی ان کی ہلاکت کے سوا کیا نکل سکتا ہے ؟ پھر ہمارے لیے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ گمراہی صرف قوم یہود کے لئے ہی تباہی و بربادی کا باعث نہیں بنی بلکہ ہر وہ قوم و فرد جس کی حالت یہ ہوگی اس کا نتیجہ تباہی و بربادی ہی ہوگا۔ یعنی اس آیت کا حکم عام ہے اور ہر اس شخص کی اس میں مذمت کی گئی ہے جو دوسروں کو تو نیکی اور بھلائی کی ترغیب دے مگر خود عمل نہ کرے دوسروں کو اللہ سے ڈرائے مگر خود نہ ڈرے ایسے شخص کے بارے میں احادیث میں بڑی ہولناک وعیدیں آئی ہیں چناچہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب معراج میں میرا گزر کچھ لوگوں پر ہوا جن کے ہونٹ اور زبانیں آگ کی قینچیوں سے کترے جا رہے تھے۔ میں نے جبریل (علیہ السلام) سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ جبریل (علیہ السلام) نے بتایا کہ یہ آپ ﷺ کی امت کی دنیا دار واعظ ہیں۔ جو لوگوں کی تو نیکی کا حکم کرتے ہیں مگر اپنی خبر نہیں لیتے۔ (ابن کثیر) ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ بعض جنتی ، بعض دوزخیوں کو آگ میں دیکھ کر پوچھیں گے تم آگ میں کیونکر پہنچ گئے ؟ حالانکہ ہم تو بخدا انہی نیک اعمال کی بدولت جنت میں داخل ہوئے ہیں جو ہم نے تم سے سیکھے تھے۔ اہل دوزخ کہیں گے ” ہم زبان سے کہتے ضرور تھے لیکن خود عمل نہیں کرتے تھے۔ “ (ابن کثیر) خلاصہ آیت یہ ہے کہ واعظ کو بےعمل نہیں ہونا چاہئے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بےعمل آدمی کو وعظ کہنا جائز نہیں ، اور دونوں میں فرق واضح ہے مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بےعمل ہونا تو نہ واعظ کے لئے جائز ہے نہ غیر واعظ کے لئے پھر واعظ کی تخصیص کیوں ؟ جواباً عرض ہے کہ ناجائز تو دونوں کے لئے ہے مگر واعظ کا جرم غیر واعظ کے جرم کے مقابلے میں زیادہ سنگین اور زیادہ قابل مذمت ہے وہ بھی اس کے اپنے حق میں۔ کیونکہ واعظ جرم کو جرم سمجھتے ہوئے جان بوجھ کر کرتا ہے اس کے پاس یہ عذر نہیں ہوتا کہ مجھے اس کا جرم ہونا معلوم نہ تھا بر خلاف غیر واعظ اور اَن پڑھ جاہل کے ، کہ اس کو خواہ علم حاصل نہ کرنے کا گناہ ہو لیکن ارتکاب گناہ میں اس کے پاس کسی درجہ میں عذر موجود ہوتا ہے کہ مجھے معلوم نہ تھا اس کے علاوہ عالم اور واعظ اگر کوئی جرم کرتا ہے تو یہ دین کے ساتھ ایک قسم کا استہزاء ہے چناچہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ قیامت کے دن جتنا اَن پڑھ لوگوں کو معاف کرے گا اتنا علماء کو معاف نہیں کرے گا۔
Ayah 2:45

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ Open ayah 2:45 in the Quran reader

صبر اور نماز سے اپنی اصلاح میں مدد لو یہ ایسا عمل ہے جو انسانی طبیعت پر بہت کٹھن گزرتا ہے مگر وہ لوگ جن کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوں

صبر و صلوٰۃ سے تعاون حاصل کرنے کی ہدایت : 98: مفہوم آیت کا عام ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ تمہیں صبر و استقامت اور دعا سے کام لینا چاہئے کہ یہی چیزیں کامیابی کی ذمہ دار و کفیل ہیں مگر اس سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں احتساب عمل کا یقین ہو ورنہ دوسروں کو ان تکالیف و مصائب کے برداشت کرنے کی ضرورت کیا ؟ اس مفہوم کو سورة بقرہ آیت 153 میں خصوصاً مسلمانوں کو مخاطب کر کے سمجھایا گیا ارشاد ہوا : ” اے مسلمانو ! صبر اور نماز سے تعاون حاصل کرتے رہو یاد رکھو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “ دراصل سمجھایا یہ جا رہا ہے کہ دنیا دارالعمل ہے اس میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دعوت اسلامی کو قبول کرنا کوئی پھولوں کا بستر نہیں جس پر آپ کو لٹا دیا جائے گا۔ یہ تو عظیم الشان اور پُر خطر خدمت ہے جس کا بار اٹھانے کے ساتھ ہی تم پر ہر قسم کے مصائب کی بارش ہوگی ۔ سخت آزمائشوں میں ڈالے جائو گے طرح طرح کے دنیوی اور ظاہری نقصانات اٹھانے پڑیں گے اور جب صبر و ثبات اور عزم و استقلال کے ساتھ ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں بڑھتے چلے جائو گے تب تم پر عنایات کی بارش ہوگی اس کام کے لئے قانون الٰہی یہی ہے اور ویسے بھی محنت کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے ۔ قرآن کریم کے بعض الفاظ کا مفہوم اس طرح غلط بیان کیا جا رہا ہے کہ ان کا اصل مطلب ابھی کسی ذہن میں آنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ کبھی آسان تھا۔ پھر تعجب یہ ہے کہ غلط مطالب ہی بعض ضرب الامثال اور محاورات کے طور پر استعمال ہونے لگے ہیں۔ انہی الفاظ میں ایک صبرکا لفظ بھی ہے ہم نے تفسیر فاتحہ میں اس پر روشنی ڈال دی ہے وہاں مراجعت ان شاء اللہ آپ کے لئے مفید ہوگئی۔ کون لوگ صبر و صلوٰۃ سے تعاون حاصل کرسکتے ہیں : 99: ارشاد ہوا کہ صبر و صلوٰۃ سے تعاون حاصل کرنا کہنے کو تو آسان ہے لیکن کر کے دکھانا نہایت ہی مشکل ہے ہاں ! جو لوگ خاشعین ہیں ان کے لئے یہ مشکل امر کوئی مشکل نہیں بلکہ آسان ہے۔ محاورہ ہے کہ : ” ہمت مرداں مدد خدا “ خشوع اصل میں آواز اور نگاہ کی پستی اور تذلل کے لئے بولا جاتا ہے جس کے اندر بہت بڑا مفہوم پنہاں ہے یعنی وہ لوگ جو اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں اور نظریں نیچی اور نیکی کے کام میں بالکل مگن ہوجاتے ہیں کوئی کیا کہتا ہے ، کیا کرتا ہے ؟ ان کی بلا سے ، وہ تو اپنے کام میں ایسے مصروف ہیں کہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ ان کو کسی کی شاباش کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی کی ملالت کی پروا ہے۔ ان کی گردنیں اللہ کے حضور جھک چکی ہیں اب ان کے پاس کوئی گردن ہی نہیں جو کسی اور چوکھٹ پر جھکائی جائے گی۔ ان کے دل اللہ کی یاد میں ہیں اور ان کے پاس اور کوئی دل نہیں جس میں کسی دوسرے کو یاد کریں گے۔ ان کو صبر کا عنوان مل چکا ہے اور ان کے لئے وہی کلید کامیابی (key to success) ہے اور وہ صبر و استقلال کے ساتھ اپنے رب کی سیدھی راہ پر گامزن ہیں۔ وہ پریشان ہوں گے کیونکہ ساری پریشانیوں کا واحد علاج صلوٰۃ یعنی صرف اللہ کی رضا کی طلب ان کے پاس ہیں۔ مشکلیں اتنی پڑیں کہ آسان ہوگئیں
Ayah 2:46

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 2:46 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو یقین ہے کہ انہیں اپنے پروردگار سے ایک روز ملنا ہے اور اس کے پاس حاضر ہونا ہے

اللہ کی خشیت رکھنے والوں کی دو علامات : 100: آیت زیر نظر میں خشوع قلب کے دو خاص اثرات کا بیان ہورہا ہے پہلا اثر یہ ہے کہ خاشعین کو اس کا دھیان لگا رہتا ہے کہ یہ عبادتیں رائیگاں جانے والی نہیں یقیناً ہم کو ان عبادات کا اجر مل کر رہے گا کیونکہ ہم اپنے شفیق و کریم رب کے ہاں ضرور حاضر ہوں گے اور اس وقت یہ ساری محنت وصول ہوجائے گی اور حق سے کہیں بڑھ کر اجر ملے گا۔ یہ دھیان یقیناً ایسا ہے جس سے نماز کا شوق و ذوق بڑھتا ہے۔ دوسرا اثر خشوع قلب کا یہ ہے کہ خاشعین کے دل میں یہ بات اچھی طرح جم جاتی ہے کہ آخر کو واپسی مالک حقیقی کے روبرو ہوگی ، حساب ہر ہر عمل اور ترک عمل کا ہوگا اور ترک نماز کی عادت خود بخود اس سے ترک ہوجائے گی۔ عمل کی ساری سہولتیں یقین ہی کی مضبوطی اور قوت سے پیدا ہوتی ہے اور یقین کے دونوں پہلو اس مضمون میں آگئے۔ نفسیات جدید میں بھی متحرک عمل دو ہی چیزیں مانی گئی ہیں یعنی ترغیب و ترہیب اور یہ دونوں پہلو بھی یہاں واضح ہوگئے اور یاد رہے کہ اس آیت میں ” ظن “ بمعنی یقین استعمال ہوا ہے۔ اسی لئے ترجمہ میں ” جن کو یقین ہے “ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور دراصل سیاق کلام خود مفہوم متعین کرلیتا ہے اور یہاں بھی سیاق کلام کا تقاضا یہی ہے۔ بنی اسرائیل کی روئیداد کا ماحصل : گزشتہ رکوع یعنی آیت 40 سے 46 تک سات آیتوں میں بنی اسرائیل کی خرابیوں اور بداعمالیوں کا اجمالی ذکر کیا گیا تھا۔ تفصیل آگے آئے گی یہاں ارباب عقل و دانش کے لئے بغرض آسانی و سہولت ان امراض فاسدہ کی تخلیق پیش خدمت ہے ذرا عمیق نظر سے دیکھ لیں ان شاء اللہ عبرت و بصیرت حاصل ہوگی۔ 1: عملی خرابیاں : ! عہد کی پابندی نہیں کرتے۔ # کتاب الٰہی یعنی توراۃ کی تبلیغ و دعوت کے مقابلہ میں دنیوی جاہ و عزت کو ترجیح دیتے ہیں۔ $ ضروریاتِ دین سے لاپرواہ ہو کر فروعیات پر اپنی تمام تر قوت صرف کرتے ہیں۔ % حق و صداقت کو مخفی رکھتے ہیں کہ عوام الناس کے نزدیک مورد طعن وتشنیع نہ بنیں۔ 2: عملی کمزوریاں : ! اللہ کے پاک نام پر معمولی سے معمولی بدنی تکلیف بھی گوارا نہیں کرسکتے۔ " قومی نشو و ارتقاء کے لئے خرچ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ # اجتماعی قوت اور اتحاد امت میں اختلاف و تفریق پیدا کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ 3: انتظامی نقائص : ! مذہبی احکام واوامر اور اخلاق و تہذیب کے باب میں بےانتہاء کمزوری کا اظہار کرتے ہیں۔ " دوسروں سے جب مطالبہ کرتے ہیں تو نہایت سختی برتتے ہیں۔ # احتساب عمل کا یقین نہیں رسماً نام باقی ہو تو دوسری بات ہے اس لئے نظم و ترتیب امور کی پروا نہیں کرتے۔ جن خرابیوں کا ذکر کیا گیا ہے آج اہل بصیرت کو دیکھنا چاہئے کہ کیا اس وقت یہ تمام مع شے زائد علمائے سوء جو اسلام ہی کے نام سے معروف ہیں ان میں پائی جاتی ہیں یا نہیں ؟ اب علمائے سوء کے حالات عام لوگوں پر ذرا بھی مخفی نہیں اس لئے ہم زیادہ تفصیل میں گئے بغیر پوچھتے ہیں کہ یہ جملہ زبان زد خاص و عوام نہیں کہ ” ان لوگوں کا بتایا تو کرلو لیکن ان کا کیا بالکل نہ کرنا “ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ 00
Ayah 2:47

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:47 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ! میری دوسری نعمتوں کے ساتھ اس نعمت کو بھی یاد رکھو جس سے میں نے تم کو سرفراز کیا تھا کہ اقوام عالم پر تم کو فضیلت دی

اجمال کی تفصیل شروع ہورہی ہے : 101: جب بنی اسرائیل میں انبیاء و رسل کا سلسلہ برابر جاری تھا۔ مخاطبہ و مکالمہ الٰہی کے لئے یہی لوگ مخصوص تھے۔ حکومت بھی ان کے پاس تھی اس لئے اپنے زمانہ میں یہی سب سے زیادہ بزرگ و برتر تھے۔ بزرگ آبائے کرام کی اولاد میں ہونا خود ایک شرف و مجد ہے اور یہ بہت کم خوش نصیبوں کو حاصل ہوتا ہے مگر جس وقت انہوں نے اپنے فرائض تبلیغ و دعوت سے انحراف و تجاوز کیا تو ان سے یہ بزرگی جاتی رہی اور ان پر ذلت و مسکنت طاری ہوگئی۔ وہ اللہ کی رحمت بیکراں سے دور ہوگئے اور ان کی تمام فضیلت و بزرگی چھن گئی اور اب اللہ کے اس قانون مکافات کی گرفت میں آگئے کہ : وَ لَىِٕنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ 00 بنی اسرائیل کی اس فضیلت و بزرگی کا ذکر قرآن کریم میں بار بار کیا گیا ہے اور ان کی تفہیم کے لئے ہر ممکن کوشش کی گئی ہے لیکن جب کوئی قوم عذاب الٰہی کی مستحق ہوجائے وہ وقت وہی ہوتا ہے جب کوئی مؤثر سے مؤثر انداز بھی ان پر اثر نہیں کرتا۔ قرآن کریم کی حامل امت مسلمہ کو بھی اپنی حالت زار پر غور و فکر کرنا لازم ہے کہ کل تک قوم بنی اسرائیل پر انعامات کی بارش تھی اور آج وہ اللہ کی پکڑ میں ہیں۔ ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ سنت اللہ یہی ہے جب قوم بدل جائے تو اس کی حالت بھی قانون الٰہی کے مطابق خود بخود بدل جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے انعامات کا ذکر اس طرح ہوتا ہے : 1: بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب ، حکمت اور نبوت عطا فرمائی اور ان کو عمدہ عمدہ چیزیں عطا کیں اور ہم نے ان کو اقوام عالم پر فضیلت دی تھی اور ہم نے انہیں دین کے واضح دلائل بھی دیئے لیکن انہوں نے صحیح علم آجانے کے بعد ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لئے باہم اختلاف کیا اور اسی اختلاف کی بھینٹ چڑھ گئے۔ (الجاثیہ 45 : 16 ، 18) 2: اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی آپ اس کتاب کے ملنے میں شک نہ کریں اور ہم نے اس کتاب تورات کو بنی اسرائیل کے لئے یقیناً راہنما بنایا تھا اور ہم نے انہیں بنی اسرائیل میں سے جب وہ صبر کرنے والے تھے اور ہماری آیتوں پر یقین لانے والے تھے پیشوا و راہنما بنائے تھے جو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور اب یہ لوگ ان ہی باتوں میں اختلاف کرنے لگے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب ان کے اس اختلاف کا فیصلہ سنا دیا جائے گا اور یہ دن وہی ہوگا جو قیامت کا دن ہے۔ (الم سجدہ 32 : 23 ، 25) 3: اور وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا اے لوگو ! اللہ کا اپنے اوپر احسان یاد کرو ، اس نے تم میں نبی پیدا کئے۔ تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ بات عطا فرمائی جو دنیا میں کسی کو بھی اب تک نہیں دی گئی یعنی نبوت اور بادشاہی دنوں کو جمع کردیا۔ (المائدہ 5 : 20) 4: بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل کو سخت ذلت کے عذاب فرعون سے نجادی دی۔ حالانکہ وہ حد سے بڑھ جانے والوں میں سے بہت اونچے درجے کا سرکش تھا اور بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی حالت کے جانتے ہوئے دوسری قوموں پر ترجیح دی۔ (الدخان 44 : 32 ، 34)
Ayah 2:48

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:48 in the Quran reader

اور یہ کہ اس دن کی پکڑ سے ڈر جاؤ ، جس روز کوئی انسان کسی دوسرے انسان کے کام نہیں آئے گا ، نہ کسی کی سفارش سنی جائے گی اور نہ کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے گا اور نہ ہی کسی طرح کی مدد مل سکے گی

تذکیر بما بعد الموت : 102: بنی اسرائیل کا وہ دور بدل چکا وہ انعامات الٰہی کا شکر ادا کرنے کی بجائے سرکش ہوگئے انہوں نے انعامات الٰہی کو انعام سمجھنے سے انکار کردیا اور اس کو اپنا حق تصور کیا۔ اب وقت آگیا کہ ان کی ایک ایک خرابی کو کھول کھول کر بیان کیا جائے تاکہ آنے والے بھی خوب قانون الٰہی کو سمجھ لیں یعنی مسلمان قوم بھی بنی اسرائیل کی طرح ان کی خرابیوں میں مبتلا نہ ہوجائے۔ قوم بنی اسرائیل سے دریافت کیا جائے گا کہ جس قوم کی تمام تر تاریخ ان سیاہ کاریوں اور بدعملیوں سے بھری ہوئی ہو اس کے لئے اس کے سوا اور کیا فیصلہ ہو سکتا ہے کہ اسے ہمیشہ کے لئے یعنی ان کی حالت کے بدلنے تک تخت سلطنت سے محروم کردیا جائے اور وہ غلاموں کی زندگی بسر کرے۔ زیر نظر آیت میں انہیں بتا دیا کہ حادثہ قیامت کو پیش نظر رکھیں اور انصاف و دیانت سے جواب دیں۔ اگر ایک شخص کسی جرم کا مرتکب ہوا اور اسے عدالت میں پیش کردیا گیا ہو تو سزا سے بچنے کے لئے صرف یہی صورت ہوسکتی ہے کہ : ! دوسرا شخص اپنے آپ کو پیش کردے کہ مجرم کو چھوڑ کر مجھ سے مواخذہ کرو۔ " سفارش ہوجائے اور یوں اس کی جان خلاصی پائے۔ # جرمانہ اور معاوضہ ادا کر دے کہ یہ بھی نجات کی ایک شکل ہے۔ $ بےیارومددگار اگر اپنی طاقت و قوت سے کام لیں اور ملزم کو چھڑا لیں۔ لیکن جن لوگوں نے حق پرستوں کی مخالفت کی ، سچائی کے فنا کرنے کی فکر میں رہے اور انکار و سرکشی میں زندگی بسر کی ان کے لئے نجات کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ انہیں اپنے اعمال کا آپ جواب دینا ہوگا اور وہ دن یعنی قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ کون کسی کے کام آئے گا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ0034 وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ0035 وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ0036 لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهؕ30037 (عبس 80 : 34 ، 37) ” اور اس روز آدمی اپنے حقیقی بھائی سے راہ فرار ڈھونڈے گا اور ذرّہ برابر اس کے کام نہ آئے گا۔ اسی طرح اپنی ماں اور اپنے باپ سے اور اپنی رفیقہ حیات (بیوی) سے اور اپنی اولاد سے بھی بھاگے گا۔ اس دن ان میں سے ہر ایک پر ایسا وقت آن پڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی دوسرے کا مطلق ہوش اور خیال نہ رہے گا ہر ایک کو اپنی فکر لاحق ہوگی۔ “ بھلا ایسے روز سوائے اعمال کے اور کون کام آسکتا ہے اور دوسری جگہ ارشاد الٰہی ہے : لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ 1ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ 1ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ 1ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ 003 (الممتحنہ 60 : 3) ” ‘ اگر تمہیں کوئی توقع ہو کہ تمہاری اولاد اور رشتہ داریاں قیامت کے روز تمہارے کچھ کام آسکیں گی تو یہ تمہاری خام خیالی ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جدائی ڈال دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال پر اچھی طرح نظر رکھے ہوئے ہے پس جب حقیقت یہ ہے تو کسی کی خاطر جھوٹ کیوں بولا جائے ؟ ‘ شفاعت کیا ہے اور کیسے ہے ؟ 103: اس آیت میں شفاعت کا تذکرہ آیا ہے اگر اس کے مراتب پیش نظر ہوں تو اس کی حقیقت خود بخود واضح ہوجائے گی اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ذرا وضاحت سے بیان کردیا جائے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے کہ شفاعت کیا اور کیسے ہے ؟ اس طرح سمجھیں کہ شفاعت تین طرح سے کی جاتی ہے۔ ! وجاہت : حکومت ملزم پکڑ لیتی ہے۔ قانوناً وہ مجرم قرار پاتا ہے تو اسے سزا ملنا ضروری ہے مگر ایک رکن سلطنت میں اس کی سفارش کرتا ہے حکومت کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر میں نے اس کی بات نہ مانی تو یہ شخص سلطنت میں بہت خرابیوں کا موجب ہوگا اس لئے رعب میں آکر وہ مجرم کو چھوڑ دیتی ہے اس سفارش کو سفارش وجاہت کہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اللہ کی جناب میں اس قسم کا عقیدہ رکھتا ہے تو اس کے کفر و شرک میں کس کو کلام ہوسکتا ہے ؟ تَعٰلٰى اللّٰهُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ قیامت کے روز تو یہ کیفیت ہوگی کہ : وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا ہَمْسًا 00108 (طہ 20 : 108) ” وہ دن ایسا ہوگا کہ اللہ رحمٰن کے سامنے سب کی آوازیں خاموش ہوجائیں گی اس سناٹے میں کوئی آواز سنائی نہیں دے گی مگر صرف قدموں کی آہٹ ! “ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے : لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ 1ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 0016 (المؤمن 40 : 16) ” آج کے دن کس کی بادشاہی ہے ؟ کسی کی نہیں صرف اللہ واحد وقہار کی۔ “ ذرا خیال کریں کہ کون ہے جس کی وجاہت وہاں کام آئے گی ؟ کس کی نہیں ، ہرگز نہیں اور حاشا و کلا نہیں۔ " محبت حکمران کا کوئی دوست و محبوب سفارش کرتا ہے اور وہ اس کے عشق و محبت کی بنا پر مجرم کو رہائی بخشتا ہے ، کیونکہ تعمیل ارشاد نہ کرنے کی صورت میں اسے اس کے رنجیدہ خاطر ہونے کے اندیشہ ہے اور ایسا خیال بھی جناب باری کی شان میں کفر و سرکشی ہے۔ وَ ہُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ 0028 (الانبیاء 21 : 28) ” اور اس کے جلال سے وہ ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں۔ “ #اجازت شامت اعمال سے ایک شخص نے جرم کیا ، مگر وہ اس پر نادم ہے۔ حکومت سے طالب مغفرت ہے۔ رحم کی اپیل ہے۔ کسی امیر کی پناہ میں نہیں آتا۔ صرف اور صرف اسی کی رحمت پر نظر ہے۔ حکمران بھی اسے معاف کرنا چاہتا ہے لیکن اس کو چھوٹ دی جائے تو پھر دوبارہ ایسی حرکت کا خیال ہوتا ہے کسی امیر کو سفارش و ضمانت کی اجازت دی جاتی ہے وہ سفارش کردیتا ہے اس کو اپیل کی منظوری کہا جاسکتا ہے۔ کتاب و سنت کی تصریحات میں اس کی تائید نظر آتی ہے اور اس سے کسی کو انکار کی آخر ضرورت بھی کیا ہے ؟ اس حقیقت کو قرآن و حدیث کی زبان میں سفارش کہا گیا ہے چناچہ ارشاد الٰہی ہے : مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ 1ؕ اور دوسری جگہ فرمایا : لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا 0038 ” کون ہے جو اس کے پاس کسی کی سفارش کرے مگر ہاں ! اس کی اجازت کے بعد۔ وہ ہرگز بول نہیں سکیں گے مگر ہاں جس کے لئے رحمٰن نے اجازت دے دی۔ اور وہ جو بات کہے گا وہ بھی صاف صاف کہے گا۔ “
Ayah 2:49

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ Open ayah 2:49 in the Quran reader

اور جب ہم نے تمہیں خاندان فرعون سے جنہوں نے تم کو نہایت ہی سخت عذاب میں ڈال رکھا تھا نجات دی تھی وہ تمہارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کی حیا پر ڈاکہ زنی کرتے تھے اور اس صورت حال میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر بڑی ہی بھاری آزمائش تھی

انعامات الٰہی کا تذکرہ بنی اسرائیل کے لئے ایک نصیحت : 104: فرعون نام نہیں بلکہ لقب ہے جس طرح ایران کے بادشاہ کو کسریٰ اور روما کے بادشاہ کو قصیر کہا جاتا تھا ، اس طرح مصر کے حکمران کا لقب فرعون ہوتا تھا۔ آل فرعون سے مراد فرعون کے لوگ یعنی فرعون کی پارٹی۔ آل کے معنی وہی ہیں جو اہل کے ہیں فرق یہ ہے کہ آل کا لفظ ہمیشہ عظیم الشان انسانوں کی طرف مضاف کیا جاتا ہے جیسے عظیم الشان انبیائے کرام اور عظیم الشان بادشاہوں کی طرف اور اس کی وسعت میں سارے کے سارے متبعین داخل ہوجاتے ہیں۔ ہمارے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہر ایک متقی و پرہیز گار برائیوں سے بچنے والا اور میری سنت کے مطابق عمل کرنے والامیری آل میں داخل ہے مطلب یہ ہے کہ یہاں صرف نسل اور خاندان کے لوگ مراد نہیں ہوتے۔ بنی اسرائیل کا قِصّہ قرآن کریم میں جگہ جگہ مذکور ہے مگر اکثر لوگوں کو اس میں یہ دھوکہ ہوتا ہے کہ وہ تمام واقعات کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت میں ہونا سمجھتے ہیں حالانکہ ان میں سے ایسے واقعات بھی ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے اور ان کے بہت بعد کے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے جو واقعات متعلق ہیں وہ سورة البقرہ ، النساء ، المائدہ ، الانعام ، الاعراف ، یونس ، ہود ، بنی اسرائیل ، الکہف ، مریم ، طہٰ ، المؤمنون ، الشعراء ، القصص ، الصافات ، المؤمن ، الزخرف ، ، الدخان اور النازعات یعنی بیس سورتوں میں آئے ہیں۔ ان میں مکرر مضامین بھی بیان ہوئے ہیں اور کسی مقام پر کوئی واقعہ بیان ہوا ہے کسی جگہ پر کوئی واقعہ۔ ہم ان تمام آیات اور الفاظ کو بترتیب تحریر کریں گے اور ساتھ ہی ان کا ترجمہ و مفہوم بھی تاکہ تمام قِصّہ جو قرآن کریم میں بیان ہوا۔ بلفظہ بہ ترتیب معلوم ہوجائے لیکن ابھی مناسبت آیات سے صرف ان واقعات کا ذکر کرتے ہیں جو آیات کے متعلق ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا واسطہ مصر کے دو بادشاہوں کے ساتھ پڑا۔ لیکن قرآن کریم میں چونکہ بادشاہ کا نام نہیں بلکہ لقب کا ذکر ہوا اس لئے وہ فرعون ہی کے نام سے مذکور ہے۔ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو مارڈالنے کا واقعہ : 105: بنی اسرائیل تقریباً چار سو سال تک مصر میں رہے۔ خود اسرائیل یعنی یعقوب (علیہ السلام) مع اپنے بیٹوں کے یوسف (علیہ السلام) کے سبب وہاں آباد ہوتے تھے۔ چونکہ دوسرے ملک کے رہنے والے تھے۔ آہستہ آہستہ مصر کے بادشاہوں نے ان کی اولاد کو مہاجرین خیال کرتے ہوتے خدمتگاری کے کاموں اور ذلیل طرح کے پیشوں پر لگانے کی کوشش کی۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا یہ لوگ دبتے دبتے بالکل ہی دب گئے اور کمزور سے کمزور تر اور کمزور ترین ہوگئے۔ قرآن کریم نے ان کے دکھوں کی داستان کی تفصیل نہیں کی لیکن دو اشارے ایسے کردیئے جس سے ان کی بدحالی کی ساری تصویر سامنے آگئی لیکن تورات میں ان کے دکھوں کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔ مختصر یہ کہ نہایت ذلیل قسم کے مشقت کے کام ان سے لئے جانے لگے چناچہ تورات میں ہے کہ : ” اور مصریوں نے خدمت کروانے میں بنی اسرائیل پر سختی کی اور انہوں نے سخت محنت سے گارا اور اینٹ کا کام اور سب قسم کی کھیت کی خدمت ان سے کروا کر ان کی زندگی نہایت تلخ کردی ان کی ساری خدمتیں جو وہ ان سے کرواتے تھے مشقت کی تھیں۔ “ (خروج 1 : 13 ، 14) یہاں تک کہ ان کے لڑکوں کو مار ڈالتے اور لڑکیوں کو اپنی عیش و عشرت اور گھریلو کام کاج کے لیئے زندہ رکھتے اس کی کیا صورت انہوں نے اختیار کی ؟ قرآن کریم نے اس کی تفصیل بیان نہیں کی لیکن تورات نے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ : ” تب مصر کے بادشاہ نے عبرانی دائی جنائیوں کو یوں کہا کہ جب عبرانی عورتوں کے لئے تم دائی جنائی کا کام کرتی ہو تو ، اگر بیٹاہو تو اس کو ہلاک کر دو اور اگر بیٹی ہو تو جینے دو ۔ “ (خروج 1 : 15 ، 16) علاوہ ازیں بھی مفسرین نے طریقے بیان کئے ہیں کہ فرعون نے بنی اسرائیل کے مردوں کی افرادی قوت ختم کرنے کے لئے یہ طریقے اختیار کئے لیکن جس جگہ قرآن کریم نے تفصیل نہیں کی ضروری بھی نہیں کہ اس کے کھوج میں وقت ضائع کیا جائے مقصد کی بات صرف اتنی ہی ہے کہ فرعون نے ظلم کی انتہا کردی جس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کے لڑکوں تک کو مروا دیا اور بنی اسرائیل اتنی بےحس قوم ہوگئی کہ وہ اس زیادتی کا بھی کوئی دفاع نہ کرسکی۔ آپ اندازہ کریں کہ وہی بنی اسرائیل قوم عیسائیت کو ساتھ ملا کر بلکہ ان کا سہارا لے کر مسلمانوں کو اس طرح دبائے جا رہی ہے کہ وہ اپنے گھروں اور ملکوں میں بھی آزادانہ زندگی بسر نہیں کرسکتے۔ ان سے برملا کہا جاتا ہے کہ ہم تمہارے گھروں کی تلاشی لینا چاہتے ہیں کہ تمہارے گھر میں کیا کیا سامان رکھا ہے ؟ اور مسلم قوم کے رہنما خوشی کے ساتھ باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں وہ ہر قسم کی تلاشی لے کر ان کے گھر کے سامان کو تباہ و برباد کر کے جب باہر نکلتے ہیں تو دانت پیستے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ خبردار تمہارے گھر میں آئندہ یہ یہ سامان دیکھا گیا تو تمہیں تہ تیغ کردیا جائے گا۔ ہمارے قومی رہنما ان کو سلوٹ مارتے ہوئے بزبان قال ہی نہیں بلکہ بزبان تحریر لکھ کر دے دیتے ہیں کہ صاحب ! آپ ہمارے گھر میں یہ سامان آئندہ نہیں دیکھیں گے اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے گھروں میں مکمل صفائی کا کام سر انجام دینے کے بعد عیش و طرب کی محفل کے پروگرام تشکیل دیتے ہوئے قوم کو مطمئن کرتے ہیں کہ ہم نے صاحب کو بلا کر تمہاری دال روٹی کا بندوبست کرلیا ہے اگر یہ بات صحیح ہے تو فرعون کے مظالم کو اسی سے سمجھ لو کہ وہ کیا تھے ؟ آج ہم برداشت کر رہے ہیں تو گزشتہ کل وہ خودبرداشت کرچکے ہیں۔ جب آج بات ان کو سمجھ میں آئی تو ہماری مت ماری گئی۔ کاش کہ قوم مسلم کو زندہ کرنے والا بھی کوئی موسیٰ پیدا ہوجائے۔ بنی اسرائیل کی لڑکیوں کو زندہ رکھنے کی وجہ : 106: لڑکیوں کو قتل نہ کرنا بلکہ انہیں زندہ رکھنے کا حکم صادر کیا۔ کیوں ؟ ظاہر ہے اس کا سبب یہی نظر آتا ہے کہ انہیں آئندہ فرعونی امراء اپنی نفسانی خواہشات کا شکار بنا سکیں اور اپنے گھروں میں رکھ کر ماما (Servant` maid) کا کام بھی ان سے لیں گویا یہ احسان بھی اپنے مطلب ہی کے لئے تھے اور درحقیقت احسان نہیں بلکہ یہ بھی اصل میں قوم بنی اسرائیل کو مزید کمزور کرنے کا ایک نہایت ہی سلجھا ہوا گُر تھا۔