2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا تھا ” میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں “ فرشتوں نے عرض کیا ” کیا ایسی شخصیت کو خلیفہ بنایا جائے گا جو زمین میں خرابی پھیلائے گی اور خونریزی کرے گی ؟ ہم تیری حمد و ثنا کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی و قدوسی کا اقرار کرتے ہیں “ ارشاد الٰہی ہوا کہ : ” میری نظر جس حقیقت پر ہے تمہیں اس کی خبر نہیں “

ابتداء قِصّہ آدم g : 69: آسمان و زمین اور جو کچھ آسمان و زمین کے اندر ہے اس کی پیدائش کے بعد آیت 29 سے وہ ذکر شروع ہورہا ہے جو آدم (علیہ السلام) کا قِصّہ کہلاتا ہے۔ عوام اس کو ایک واقعی جھگڑا یا مباحثہ سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے فرشتوں کے درمیان ہوا۔ تعالیٰ شانہ عما یقولون۔ اور خواص جانتے ہیں کہ یہ انسانی فطرۃ کا بیان ہے جو متضاد قوتوں کا حامل ہے یعنی خیر و شر دونوں کے مجموعے کا نام انسان ہے اور خیر و شر دونوں ہی کا خالق اللہ ہے اور وہی ہے جو انسان کے وجود میں ان متضاد قوتوں کا رکھنے والا ہے اس نے اس جگہ خیر کو ملک اور شر کو شیطان یا ابلیس کا نام دیا ہے تاکہ انسان کو اپنی تخلیق کا سمجھنا آسان ہوجائے وہ جان لے کہ قوت خیر اپنا کام کرنے پر مجبور محض ہے اور اسی طرح قوت شر بھی اپنا کام کرنے پر مجبور محض ہے۔ لیکن جس کے اندر دونوں قوتوں کو جمع کیا گیا ہے یعنی انسان ، اس کو اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنی قوت خیر سے کام لے یا قوت شر ہے۔ لیکن وہ جس سے کام لے گا وہ یقیناً اس کو کام دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو مکلف قرار دیا ہے اور وہیں تک مکلف ہے جہاں تک اس کا اختیار ہے پھر اسی پیرایہ بیان کو اس سہل انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ ہر انسان کہلانے والے کی عقل و سمجھ میں وہ اچھی طرح بیٹھ جائے اور وہ اپنی حقیقت کو خوب سمجھ لے۔ اللہ کا بات کرنا کیا ہے یا کیسے ہے ؟ 70: قول کا لفظ عربی زبان میں مختلف افعال کے اظہار کے لئے آتا ہے چناچہ مفردات میں ہے کہ قول کے ظاہر معنی تو یہی ہیں کہ نطق سے یعنی بول کر کچھ ظاہر کیا جائے لیکن جو بات دل میں ہو ، اس پر بھی قول کا لفظ اطلاق کرتا ہے۔ کسی چیز کی حالت کسی بات پر دلالت کرے تو اسے بھی قول کہہ دیتے ہیں جیسے : امتلاء الحوض وقال قطنی ۔ ” حوض بھر گیا اور اس نے کہا کہ اب میرے لئے بس ہے۔ “ چناچہ قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے : یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ ہَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ 0030 (ق 50 : 30) ” جس روز ہم دوزخ سے کہیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟ “ علاوہ ازیں بھی معانی بیان کئے گئے ہیں چناچہ تاج العروس میں ہے : قال بیدہ ، قال برجلہ ، قال براسہ ، قال بثوبہ وغیرہ جن کے معنی ہیں کہ اس نے پکڑ لیا ، وہ چلا گیا ، اس نے سر سے اشارہ کیا ، اس نے کپڑا اٹھایا۔ قرآن کریم میں قول کا لفظ سوائے انسان کے دوسروں کے لئے بھی بولا ہے۔ جیسا کہ ابھی بیان ہوا کہ ” جہنم نے کہا “ اور ایک دوسری جگہ : قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآىِٕعِیْنَ 0011 یعنی آسمان و زمین دونوں نے عرض کیا کہ ہم فرمانبردار ہوئے۔ امام راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ ان ذلک کان بتسخیر من اللہ تعالیٰ ، یعنی اللہ کے مسخر کرنے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح قول کا لفظ جب اللہ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس سے مراد اس طرح کا نطق توقطعاً مراد نہیں ہوتا جس طرح کا نطق انسان کے لئے ہے کیونکہ انسان کا نطق تو خاص خاص مخارج سے خاص خاص آوازوں کا نکلنا ہے اللہ کی ذات چونکہ وراء الوراء ہے اس لئے اس کا قول بھی انسان کے قول سے علیحدہ ہے پھر مختلف حالات میں اس قول کے معنی بھی مختلف ہوتے ہیں مثلا : یٰنَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا ۔ محض آگ کو حکم ہے ایک جگہ ارشاد فرمایا : اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْـًٔا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ کُنْ فَیَكُوْنُ 0082 بعض وقت یہ الہام اور وحی کی صورت میں ہوتا ہے جیسے انبیاء اور رسولوں کے بارے میں ، لیکن جہاں شیطان کو کچھ کہا ہو وہاں یہ مراد نہ ہوگی بلکہ مراد طاقت شر ہوگی ، یہاں ملائکہ کو کچھ فرمایا ہے جس کا یہاں بیان ہے تو چونکہ ملائکہ وہ ہستیاں وسائط کے طور پر اللہ کے احکام کو تعمیل میں لاتی ہیں۔ جیسے وَ ہُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ 0027 تو یہاں اللہ کا فرمان نہ بطور مشورہ ہے اور نہ بطور کسی اور غرض وغایت کے ، بلکہ ارادہ الٰہی کا اظہار فرمایا ہے اور اس اظہار کے لئے یہ الفاظ اختیار کئے گئے ہیں۔ کیا فرشتے اور جِنّ کوئی وجود رکھتے ہیں ؟ 71: اس میں بہت کلام کیا گیا ہے کیا فرشتے اور جن کوئی وجود رکھتے ہیں یا نہیں ؟ اور پھر یہ کہ اگر وجود رکھتے ہیں تو ایک ہی جیسا یا مختلف ؟ لیکن ان ساری بحثوں کا قرآن کریم متحمل نہیں کیونکہ ان کا تعلق قرآنی نظریات سے نہیں ہے۔ قرآن کریم کتاب ہدایت ہے اور ہدایت کے لئے اتنی ہی بات اصل حقیقت سے تعلق رکھتی ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے جو نظام عالم جسمانی اور عالم روحانی میں وسائط ہیں خواہ وہ محض ایک قوت و طاقت تسلیم کی جائے یا ایک مستقل وجود رکھنے والی مخلوق۔ عالم جسمانی میں تو ان کا ثبوت ہمیں اس طرح ملتا ہے جس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کو جس قدر قویٰ دیئے گئے ہیں ان کے ظہور میں آنے کے لئے بیرونی وسائط کی بھی ضرورت ہوتی ہے جیسے آنکھ کے لئے روشنی کی ، سماعت کے لئے گویائی کی ، شامہ کے لئے بو کی ، بالکل اسی طرح پر عالم روحانی میں بھی ہے۔ نیکی اور بدی کی جو قوتیں انسان کے اندر ہیں ان کے عمل میں آنے کے لئے بھی وسائط ہونے ضروری ہیں اور یہ کہ نیکی کے محرک ملائکہ اور بدی کے محرک شیاطین یا ابلیس ہیں۔ عالم جسمانی میں بھی یہ ظاہر ہے کہ ایک طاقت بذات خود کوئی چیز نہیں اس کا وجود ہم کو نظر آئے یا نہ آئے۔ ہاں بعض اوقات جس طرح طاقت کے باوجود انسانی آنکھ نہیں دیکھتی اسی طرح اس طاقت و قوت والی چیز کو بھیآنکھ نہیں دیکھ سکتی لیکن اس کے باوجود طاقت کا وجود تسلیم شدہ ہے۔ اس پر ان کو بھی قیاس کرلینا مفید مطلب ہے۔ البتہ وجود کے لئے پانچ درجات علمائے اسلام نے مقرر کئے ہیں جس کا شاہ ولی اللہ (رح) نے حجۃ اللہ میں بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اگر کوئی شخص وجود کے ان پانچوں درجات میں سے کسی ایک پر بھی دلیل کے ساتھ ایمان رکھتا ہے تو اس کے لئے مسلمان ہونے کے لئے کافی و وافی ہے۔ وہ درجات یہ ہیں : وجود ذاتی ، وجود حسی ، وجود خیالی ، وجود عقلی اور وجود شبہی۔ ان میں سے وجود ذاتی وہ وجود ہے جس کو وجود حقیقی بھی کہا جاتا ہے اور وہ وہی وجود ہے جو نظر و مشاہدہ میں آتا ہے ، جیسے زمین کا وجود ، انسان کا وجود اور نباتات و حیوانات کا وجود۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کا وجود ذاتی یا حقیقی نہ تو جِنّ و شیاطین کا ہے اور نہ ہی ملائکہ کا اور باقی چار وجودوں میں سے جس طرح کا بھی وجود کوئی تسلیم کرتا ہے وہ اسلامی تعلیمات کے لئے کفایت کرتا ہے اور زیادہ بحث کا یہ مقام نہیں۔ ہاں ایک بات مزید سمجھ لینا نہایت ضروری ہے کہ دنیا کی ہرچیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے لہٰذا جو شخص خیر کو تسلیم کرتا ہے یقیناً وہ شر کو بھی مانتا ہے کیونکہ خیر و شر دونوں آپس میں ضد ہیں۔ خیر بغیر شر کے پہچانی نہیں جاتی اور شر بغیر خیر کے کوئی پہچان نہیں رکھتا۔ ملائکہ و شیاطین دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں جو ملائکہ کو مانے گا وہ شیاطین و ابلیس سے انکار نہیں کرسکتا۔ گویا شیاطین و ابلیس کا انکار ملائکہ ہی کا انکار ہے۔ لہٰذا ایک کا نام لینا دوسرے کا اثبات ہے۔ کیا آدم سے پہلے کوئی مخلوق موجود تھی ؟ 72: تخلیق آدم سے پہلے بیشمار مخلوق موجود تھی بلکہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر طرح کی مخلوق موجود تھی اور اب ان میں انسان نامی محض ایک نئی صنف کا اضافہ ہورہا ہے بلکہ اللہ کا نائب زمین پر پیدا کیا جارہا ہے تخلیق تو ساری ہی موجودات کی ہوئی ہے جنات کی بھی ، ملائکہ کی بھی ، جنت کی بھی ، عرش کی بھی بلکہ دنیا کے اندر جو کچھ ہے سب کی ، ان کی بھی جن کو ایک مستقل وجود یعنی ذاتی یا حقیقی وجود عطا ہوا ہے اور ان کی بھی جن کو وجود ذاتی یا حقیقی نہیں ملا لیکن اور کسی چیز کے بھی ” قصہ تخلیق “ کے ذکر کا اہتمام قرآن کریم میں نہیں ہوا یہ فخر صرف اور صرف خلقت آدم ہی کے حصے میں آیا اور یہی دلیل کافی ہے آدم کی افضلیت و شرافت کی۔ یہیں سے یہ ظاہر ہوگیا کہ انسان کو جو قویٰ ملے ہیں وہ اس غایت و مقصود یعنی منصب خلاف الٰہی کے متناسب ملے ہیں اور کسی دوسری مخلوق کو ایسے قویٰ نہیں ملے۔ یہی وجہ ہے کہ نسل انسانی خودبھی اپنی اصلاح و فلاح کے لئے اس کی محتاج ہے کہ اپنے کسی ہم جنس کے واسطہ سے شریعت الٰہی سے استفادہ کرے اور سلسلہ نبوت بھی اسی غرض سے قائم ہوا پھر اسی خاص حکمت الٰہی کے تحت اپنے قانون تکوینی کے مطابق اس سلسلہ نبوت کے خاتمہ کا اعلان کر کے یہ وراثت خلافت اہل علم کے سپرد کردی گئی۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قوم مسلم کے لئے لازم و ضروری ہے کہ ایک زندہ انسان اس منصب خلافت پر قائم رہے اور اس کی موجودگی میں جب بھی کوئی دوسرا اس منصب کا دعویٰ کرے تو اس کو فوراً قتل کردیا جائے۔ فسادامت مسلمہ صرف اسی صورت رک سکتا ہے۔ جب تک یہ صورت قائم نہیں ہوتی۔ فساد روکنے کی کوئی دوسری صورت ممکن نہیں ہے۔ ہاں ! اس منصب پر قائم ہونے والے زندہ انسان کو آپ خلیفہ کہیں یا امیر المؤمنین کہیں یا صدر اور وزیر اعظم ، جو چاہیں اس کا نام رکھیں۔ اسلامی نام اس کا ہر حال میں ” خلیفۃ اللہ “ ہی رہے گا۔ کاش کہ ! امت مسلمہ اس حقیقت کو سمجھتی ؟ آج دنیا میں یہودیت و عیسائیت جیسی مغضوب و ضالین قوم اس رمز کو پا گئی اور شہداء علی الناس کا لقب پانے والی امت نے اس حقیقت کو ” وراء ظہور “ پھینک دیا اور اس عمل کا نتیجہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔ انما اشکوا بثی و حزنی الی اللہ۔ فرشتوں نے مشورہ دیا نہ اعتراض کی : 73: : اَتَجْعَلُ فِیْهَا : یعنی جو زمین میں خرابی پھلائے گا یہ بات صرف مخلوق کی زبان حال سے اصل مطلب کا بیان ہے اس کو نہ مشورہ کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی اعتراض کا نام دیا جاسکتا ہے۔ پھر قرآن کریم نے جو تصور ملائکہ یعنی فرشتوں کے متعلق دیا ہے وہ اس طرح ہے کہ : بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ0026 لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ ہُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ 0027 (الانبیاء 21 : 26 ، 27) ” وہ معزز بندے ہیں یعنی عمدہ مخلوق ۔ اللہ کے سامنے وہ بات نہیں کرتے اور جو وہ کہتا ہے وہی وہ بجالاتے ہیں۔ “ اس طرح مخلوق کی زبان حال سے سوال و جواب میں مطلب کا بیان اور جگہ بھی قرآن کریم میں آیا ہے ۔ اللہ نے زمین و آسمان کی زبان سے حکایتاً یہ فرمایا کہ جب ہم نے آسمان و زمین سے کہا کہ دونوں خواہ مخواہ حاضر ہوں ؟ تو دونوں نے عرض کیا یعنی زبان حال سے کہا کہ ہم دونوں بخوشی حاضر ہیں۔ (حم السجدہ) ایک جگہ جہنم کی نسبت فرمایا : کہ جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ تو بھر گئی ؟ تو وہ کہے گی کہ ہے اس سے زیادہ کچھ اور بھی ؟ (ق : 30) پس ان آیات میں اللہ نے ایسی چیزوں کی زبان حال سے جو گویا نہیں ہیں ۔ سوال و جواب کے طور پر ان کی فطرت کو جس طرح کے انسان کے خیال میں آسکتی ہے بیان کیا ہے۔ بعینہٖ یہی صورت یہاں واقع ہوئی ہے۔ فرشتوں کی نیاز مندی اور اقرار فرمانبرداری : 74: مطلب یہ ہے کہ ہم تو سب کے سب آپ کے فرمانبردار ہیں یعنی ہم میں نافر مانی کا عنصر موجود نہیں۔ ان میں یعنی انسانوں میں کوئی مفسد و سفاک بھی ہوگا سو اگر یہ کام ہمارے سپرد کیا جائے تو ہم سب مل کر اس کو انجام دیں گے اور وہ لوگ سب کے سب اس کام کے نہ ہوں گے جو مطیع ہوں گے وہ تو اس کام میں لگ جائیں گے مگر جو مفسد و ظالم ہوں گے ان سے کیا امید ہے کہ وہ اس کام کو انجام دیں۔ تسبیح کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کا ہر نقص سے مبرا ہونے کا اقرار کرنا۔ چونکہ یہ ملائکہ کا اعتراض نہیں تھا اور نہ ہی وہ اعتراض کرسکتے تھے اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کے ہر نقص سے پاک اور بےعیب ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔ تسبیح اور تقدیس کے درمیان یہ فرق کیا گیا ہے کہ تسبیح کا اطلاق باعتبار عبادات کے ہوتا ہے اور تقدیس کا باعتبار اعتقادات کے۔ پھر اس میں یہ حکمت بھی پوشیدہ ہے کہ جاہل قوموں میں فرشتوں کے متعلق مختلف خیالات چلے آر رہے تھے کسی قوم نے کسی فرشتے کو اگنی دیوتا مان لیا کسی کو اندر دیوتا ۔ قرآن کریم نے ان کی زبان حال سے ایسا بیان دیا کہ ان کی عبدیت پر مہرثبت کردی اور وہ بھی انہی کی زبان سے۔ کیونکہ فرشتے یہاں صاف صاف عرض کر رہے ہیں کہ ہم خدام تو اپنی سرشت کے لحاظ سے بجز حضور والا کی تحمید و تقدیس کے اور کچھ کر ہی نہیں سکتے ۔ اس طرح وہ ایک طرح تو اپنی عاجزی اور کمزوری کا اعتراف کر رہے ہیں اور دوسری طرف حکم بجالانے کے لئے مستعد و تیار نظر آتے ہیں جو ان کی فطرت میں داخل ہیں۔
Ayahs 2:31–32

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور آدم نے فطری تعلیم الٰہی سے تمام چیزوں کے نام معلوم کرلیے تو اللہ تعالیٰ نے وہ تمام چیزیں فرشتوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم حقیقت حال سے واقف ہو تو ان کے نام بتاؤ

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

فرشتوں نے عرض کیا کہ : اے اللہ ! ساری پاکیزگیاں تیرے ہی لیے ہیں ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہماری فطرت میں رکھا ، (حقیقت میں تو) علم تیرا ہی علم ہے اور حکمت تیری ہی حکمت ہے

فرشتوں میں خلافت ارضی کی استعداد نہیں : 75: فرشتوں کی زبان حال سے جو نسل انسانی کے فساد و خون ریزی کا بیان ہوا تھا جس سے استحقاق نیابت آدم پر شبہ کا اظہار ہوتا تھا اس کا جواب اجمالاً یہ دیا گیا کہ ” میری نظر جس حقیقت پر ہے تمہیں اس کی خبر نہیں “ جس میں یہ اشارہ صاف نظر آ رہا ہے کہ جس چیز کو تم نیابت و خلافت کے منافی سمجھ رہے ہو ، دراصل وہی اس کی اہلیت کا بڑا سبب ہے کیونکہ نیابت زمین کی ضرورت ہی رفع فساد کے لئے ہے اور جہاں فساد نہ ہو وہاں خلیفہ اور نائب کے بھیجنے کی ضرورت ہی کیا ؟ دوسری بات یہ کہ جو شخص حقیقت فساد سمجھ ہی نہ سکے وہ کیسے معلوم کرسکے گا کہ یہ فساد ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ فسادی نے کبھی فساد کا اعتراض نہیں کیا بلکہ وہ تو ہمیشہ فساد کو اصلاح کا نام دیتا ہے اور ہمیشہ فساد کو اصلاح کے نام سے کرتا ہے اور اصلاح کو فساد کے نام سے مٹا دینے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے جس کا پورا پورا نقشہ آج بھی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس ملک کی ہر حکومت یہی کچھ کر رہی ہے۔ غرض یہ بھی بتلا دیا کہ منشا الٰہی یہ ہے کہ جس طرح اس نے ایک ایسی مقدس و معصوم مخلوق فرشتہ پیدا کردی۔ جس سے کسی گناہ و خطا کا صدور ہو ہی نہیں سکتا اور جس نے ایسے شیطان پیدا کردیئے ہیں جن میں نیکی اور بھلائی کی صلاحیت ہی نہیں اسی طرح ایک ایسی مخلوق بھی پیدا کرنا منشائے ایزدی ہے جس میں خیر وشر اور نیکی و بدی کا مخلوط مجموعہ ہو جس میں خیر و شر کے دونوں جذبات ہوں اور پھر وہ جذبات شرکو مغلوب کر کے خیر کے میدان میں آگے بڑھے اور رضائے الٰہی کی خلعت حاصل کرے۔ آدم سے مراد بنی نوع انسان ہیں : 76: علم کے لفظ سے بعض علمائے اسلام نے جو علمائے محققین کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں پڑھانا یا سکھانا یعنی تعلیم کرنا مراد نہیں لیا ہے اور یہی صحیح ہے ۔ بلکہ انسان میں ان قویٰ کا مخلوق کرنا مراد لیا ہے جن سے انسان تمام چیزوں کو جانتا اور سمجھتا اور خیال کرتا اور سوچتا اور نئے نئے نام رکھتا اور نئی نئی باتیں ظاہر کرتا ہے ۔ چناچہ علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مختلف اجزاء اور متبائن قوتوں سے پیدا کیا تھا جو طرح طرح معقولات اور محسوسات اور متخیلات و متوہمات کے جاننے کے لائق تھیں اور حقائق اشیاء اور ان کے اسماء اور علوم اور صنائع کے قواعد اور ان کی آلات کی کیفیات اس کے دل میں ڈالی تھیں۔ پس جو چیزیں کہ فطرت انسانی میں ہیں انہی کو اللہ تعالیٰ نے تعلیم کرنے کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک انسان ان سے کام لے کر نئی نئی ایجادات اور نئے نئے اسماء رکھتا آیا ہے اور ابھی نہ معلوم کیا گیا ایجادات کا اس سے اظہار ہوگا ۔ اور آدم (علیہ السلام) کے لفظ سے بھی یقیناً نوع انسانی مراد ہے اگرچہ عوام الناس اس کو باوا آدم کے نام سے ایک خاص انسان کا نام جانتے ہیں اور صحیح یہی ہے کہ آدم سے مراد نسل انسانی ہے چناچہ کشف الاسرار میں بھی تحریر کیا گیا ہے کہ : وما المقصود بادم ادم وحدہ : اور اللہ تعالیٰ نے بھی ایک دوسری جگہ اس کو اس طرح ارشاد فرمایا ہے : وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ 1ۖۗ(الاعراف 7 : 11) ” اور دیکھو ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری شکل و صورت بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے خلیفہ بنائے جانے کی وجہ سے سجدئہ شکر بجالائو۔ “ پس ” کُمْ “ کا خطاب انسانوں کی طرف ہے جو اس وقت وجود میں آئے اور آدم سے بنی نوع انسان ہی مراد ہیں۔ آدم (علیہ السلام) اور علم اسماء : 77: اسماء کے لفظ سے اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں جس کو ہم نام کہتے ہیں جیسے گھوڑا ، گدھا ، گائے ، اونٹ ، کتا اور بلی وغیرہ مگر یہ صحیح نہیں ہے۔ علمائے اسلام میں سے بھی بہت علماء نے صرف یہی معنی مراد نہیں لئے۔ بیضادی۔ یہی وجہ ہے کہ ترجمہ میں ان کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ آدم نے فطری تعلیم الٰہی سے تمام چیزوں کے نام معلوم کر لئے۔ چناچہ اس سے مراد یہی ہے جو قویٰ اس میں پیدا کیے گئے ہیں اور جن کے سبب سے اس کا ذہن ایک نشان یا دلیل سے دوسری طرف منتقل ہوتا ہے اور نتیجہ پیدا کرتا ہے اسی کو اسماء کے لفظ سے بیان فرمایا ہے۔ اور جو کہ یہ قویٰ ایسے تھے جن سے انسان تمام چیزوں کو محسوسات و معقولات سے جان سکتا ہے اس لئے کُلَّهَا کے لفظ سے اس کی تاکید کی ہے جس سے اس بات کا اشارہ ہے کہ تمام چیزوں کے جاننے کا مادہ انسان میں ودیعت کیا گیا ہے اور قویٰ کو جو اسماء کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے اس میں ایک بڑا مضمون پوشیدہ ہے جس کا اختصار یہ ہے کہ انسان کسی چیز کی حقیقت و ماہیت کو نہیں جانتا جو کچھ وہ جانتا ہے وہ صرف اسماء ہی اسماء ہیں پس : وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّهَا کہنا بالکل انسان کی فطرت کے مطابق اور اس کے بیان کے نہایت ہی مناسب ہے ۔ پس آیت کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں ایسے قویٰ پیدا کئے ہیں جن سے ہر ایک چیز کو وہ سمجھ سکتا ہے اور دلیل سے نتیجہ کو حاصل کرسکتے ہے۔ : عَرَضَهُمْ : میں جو ضمیر جمع مذکر کی ہے اس کے مرجع اوپر مذکور نہیں ہے۔ اس لئے محققین نے اسماء کے لفظ سے جو ضمناً اس کے مصمیات سمجھ میں آتے ہیں اس پر ”“ کی اس ضمیر کو راجع کیا ہے پھر ان کو یہ مشکل پیش آئی ہے کہ اس کے لئے ضمیر مونث کی ہونی چاہئے تھی نہ ضمیر جمع مذکر کی۔ اس کا حل انہوں نے یوں نکالا کہ مسمیات میں ذوی العقول وغیرذی العقول سب شامل تھے۔ اس لئے تغلیباً ضمیر جمع مذکر کی جو ذوی العقول کے لئے مخصوص ہے لائی گئی ہے۔ علاوہ ازین بھی اس کے مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ فرشتوں پر ان اسماء کا پیش کرنا : 78: جس طرح پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ انسان اور فرشتہ دونوں جبلۃً اور فطرۃً الگ الگ ہیں اور اس پورے واقعہ سے یہی سمجھنا مقصود و مطلوب ہے کہ جو علم آدم (علیہ السلام) اور ان کی ذریت کی فطرت میں آفرنیش سے ودیعت کردیا گیا تھا جیسے بچہ ابتداء ولادت میں ماں کا دودھ پینا جانتا ہے۔ بطخ کا بچہ تیرنا جانتا ہے۔ اس میں کسی ظاہری تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح فطرۃً اور جبلۃً فرشتوں میں وہ علم ودیعت نہیں کیا گیا اور یہ کہ اکثر فرشتوں میں بھی اسی طرح فطرۃً ان اسماء کا علم ودیعت کیا جاتا تو وہ کیوں انسان ہی نہ ہوتے ؟ اور ان کو فرشتے کیوں کہا جاتا ؟ رہا یہ سوال کہ جب اللہ کی قدرت میں سب کچھ ہے تو وہ فرشتوں کے مزاج اور طبیعت بدل کر ان کو بھی یہ چیزیں سکھا سکتا تھا پھر ان کو کیوں نہ سکھا یا گیا ؟ لیکن اس کا ماحاصل بھی وہی ہوا کہ فرشتوں کو ہی انسان کیوں نہ بنا دیا کیونکہ اگر فرشتوں کی جبلت و فطرت کو بدلا جاتا تو پھر فرشتے کیسے ہوتے ؟ اور پھر انسان کیوں نہ ہوتے ؟ مختصر یہ کہ فرشتوں پر ان اسماء کو پیش کرنے کا یہ مطلب ہے کہ علم الٰہی میں وہ علم ان کی جبلت کے خلاف تھا اور جبلت کے خلاف ممکن نہیں تھا ؟ اور اس ناممکن ہونے کو اس پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے تاکہ عوام الناس کی تفہیم انہی کی فطرت کے بیان سے ہوجائے۔ پھر اس واقع سے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں بلکہ پوری مخلوق کو یہ بتلا دیا کہ زمین کی نیابت کے لئے معصوم ہونے کو ہی نہیں دیکھا جاتابل کہ دیکھا اس اصول کو جاتا ہے کہ وہ زمین کی چیزوں سے پورا واقف ہو ، ان کے استعمال کے طریقوں اور ان کے ثمرات کو جانتا ہو ۔ اگر تمہارا یہ خیال زیادہ صحیح ہے کہ فرشتے اس خدمت کے لئے زیادہ موزوں ہیں تو ان چیزوں کے نام اور خواص بتلاؤ ۔
Ayah 2:33

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

اللہ نے حکم دیا ” اے آدم اب تم فرشتوں کو ان کے نام بتاؤ “ جب آدم نے بتلا دیئے تو پھر ارشاد الٰہی ہوا ” کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمان و زمین کے تمام غیب مجھ ہی پر روشن ہیں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی میرے علم میں ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ بھی مجھ سے مخفی نہیں ہے “

کیا فرشتوں نے اپنے بیان سے کچھ چھپایا بھی تھا ؟ 79: ” اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی میرے علم میں ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ بھی مجھ سے مخفی نہیں ہے ؕ۔ “ یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اپنے بیان سے فرشتوں نے کچھ چھپالیا تھا جس کو کسی وجہ سے انہوں نے اظہار نہیں کیا ؟ جس طرح آدم (علیہ السلام) کا ملائکہ کو اسماء بتانا یہ معنی نہیں رکھتا کہ آدم (علیہ السلام) نے ان کو وہ علم دے دیا جو اللہ تعالیٰ نے نہ دیا تھا۔ بلکہ یہ ان کے عمل کی خبر دیتا ہے انسان کے اشیاء تصرف پر تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس کو ان کی صفات پر اطلاع ہے کیونکہ بغیر اطلاع کے تصرف ممکن نہیں۔ کُتُمْ کا معنی چھپانا ہے مگر ایک چیز جب کسی کے عمل سے ظاہر ہو تو اس پر بھی کُتُمْ کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے بخل کرنے والے کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے : وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ 1ؕ (النساء 4 : 37) اور جو کچھ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے اسے خرچ کرنے کی جگہ چھپا رکھتے ہیں یعنی کفران نعمت کرتے ہوئے صحیح طریقہ کے مطابق خرچ نہیں کرتے گویا کفران نعمت کرنا چھپانے کی مانند ہے کیونکہ وہ ان کا ایسا عمل ہے جو خلاف ِحقیقت ہے۔ مال ملنے کی حقیقت یہی ہے کہ وہ جائز طریقوں سے خرچ کیا جائے ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا (رح) 0042 (النساء 4 : 42) وہ اس دن اللہ تعالیٰ سے کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں رکھ سکیں گے۔ یعنی وہ عملاً اس کا اظہار کرچکے ہیں ، اب چھپایا کیسے جاسکتا ہے ؟ اسی طرح مَا تُبْدُوْنَ وہ باتیں جو ملائکہ نے گویا ظاہر کیں یعنی انسان کا فساد اور خونریزی کرنا ۔ وَ مَا کُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ 0033 وہ جو اس سے مخفی رہا یعنی انسان کا علم خواص اشیاء اور اس کا کمال اور اس کا جاننا جو ان کی فطرت کے مطابق ان پر ظاہر نہ ہو سکتا تھا نہ ہوا۔
Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

جب ایسا ہوا تھا کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کی بزرگی کا اعتراف کرتے ہوئے سجدۃ شکر ادا کرو ، وہ سب حکم سنتے ہی سجدۃ شکر میں گر گئے مگر ابلیس کو یہ سجدہ ناگوار گزرا ، لگا گھمنڈ کرنے اور وہ تھا ہی منکروں سے

سجدہ کا حکم پا کر فرشتوں کا سجدئہ شکر ادا کرنا : 80: سجدہ کے اصل معنی فرمانبرداری اختیار کرنا ہیں یا جھک جانا۔ جس کو عام زبان میں کہتے ہیں بار تسلیم کرلینا اور اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اختیار کرنا اور اس کی عبادت کرنا ، کے معنوں میں بھی عام استعمال ہوتا ہے اور پھر وہ بھی دو طرح پر ہے ایک سجدہ اختیار سے جو انسان ہی بجالا سکتا ہے اور دوسرا تسخیر سے جو انسان ، حیوان اور نباتات بلکہ ہر مخلوق اپنے خالق حقیقی کو کرتی ہے۔ ِاسْجُدُوْا لِاٰدَمَ کے معنی بھی دو طرح سے کئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ آدم (علیہ السلام) کو بمنزلہ قبلہ رکھ کر اللہ کو سجدہ کرنا ، دوسرا یہ کہ ان کو آدم کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا اور اس بات کا حکم کہ وہ آدم (علیہ السلام) اور اس کی ذریت کے مصالح کو قائم کریں۔ اصطلاح شریعت میں سجدہ عبادت کے اس خاص رکن کا نام ہے جب پیشانی زمین پر رکھ دی جاتی ہے اور یہ سجدہ اللہ کے سوا دوسروں کے لئے صرف ناجائز ہی نہیں بلکہ حرام اور شرک ہے۔ چناچہ سجدئہ آدم (علیہ السلام) کے متعلق کہا گیا ہے۔ اللام فئ لام للتعلیل ھو اللہ سبحانہ وخلافۃ ادم علۃ و سجود اخوۃ یوسف لہ مثل ذلک والسجود لغیر اللہ شرک بہ لم یرخص بہ فی شریعۃ . ” لام جو لام تعلیل کا ہے مسجود اللہ تعالیٰ ہے اور سجدہ کی علت آدم (علیہ السلام) کی خلافت ہے اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا سجدہ بھی اسی طرح کا سجدہ تھا کیونکہ غیر اللہ کو سجدہ حرام اور شرک ہے جو کسی شریعت میں بھی غیر اللہ کے لئے جائز نہیں ہوا اور نہ اب ہے ۔ “ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے : وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ 1ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ 0037 (حم السجدہ 41 : 37) ” رات ‘ دن ‘ سورج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تم نہ سورج کو سجدہ کرو ، نہ چاند کو بلکہ اسی اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان کو پیدا کیا۔ اگر تم فی الواقعہ اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔ “ دوسری جگہ ارشاد ہوا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ 0077 (الحج 22 : 77) ” اے مسلمانو ! رکوع میں جھکو ، سجدے میں گرو ، اپنے رب کی عبادت کرو اور جو کچھ نیکی کی بات کرو عجب نہیں کہ اس طرح با مراد ہو۔ “ زیر نظر آیت میں بھی یہی حکم دیا گیا تھا کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کی بزرگی کا اعتراف کرتے ہوئے سجدۃ شکر ادا کرو۔ گویا ” لِاٰدَمَ “ میں لام علت کا ہے جیسے : ” اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ “ یعنی نماز ادا کرو اس لئے کہ سورج ڈھل گیا۔ نماز ادا کرو ، کیوں ؟ اس لئے کہ سورج ڈھل چکا ہے۔ اسجدوا لادم سجدہ کرو۔ کیوں ؟ اس لئے کہ آدم (علیہ السلام) کو خلافت مل گئی۔ وہ خلافت کا مستحق ٹھہرا۔ وہ تم پر فوقیت لے گیا۔ آدم (علیہ السلام) کی فوقیت کے اعتراف میں سجدہ بجالائو۔ اس حکم کے سنتے ہی ان کی گردنیں اپنے اللہ کے حضور جھک گئیں۔ وہ سجدہ شکر بجالائے اور اس طرح آدم (علیہ السلام) کی علمی فوقیت کو تسلیم کرلیا اور اعتراف کیا کہ اے اللہ ! اصل حقیقت حال سے تو ہی واقف ہے اور گویا زبان حال سے اس امر کا عہد و میثاق کیا۔ کہ وہ کبھی اس کی یعنی آدم (علیہ السلام) اور اس کی ذریت سے منحرف نہ ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اس کے تابع فرمان رہیں گے۔ اور وہ کبھی آدم (علیہ السلام) اور اس کی ذریت سے منحرف نہ ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اس کے تابع فرمان رہیں گے۔ اور وہ قلوب بنی آدم میں نیکی اور طہارت کی تحریک کریں گے۔ وحی الٰہی کو لبیک کہنے اور انبیاء و رسل کی تعلیم کے سامنے سرنیاز خم کرنے کے لئے ان کو تیار کریں گے۔ اس طرح آدم (علیہ السلام) کی راہ میں جو مشکلات و موانع ہوں گے ان کے دور کرنے میں اس کے معین و مددگار بنیں گے۔ انکارِ ابلیس کیا ہے ؟ چور بھی اور چتر بھی : 81: ابلیس نے سجدۃ شکر بجالانے سے صاف انکار کر یا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ آدم (علیہ السلام) اور اس کی ذریت کی فوقیت کی تسلیم نہیں کرتا تھا اور اس طرح اس نے آدم اور اس کی ذریت کی اطاعت وانقیاد سے صاف انکار کردیا اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ وہ فرشتہ ہی تھا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ فرشتہ تو نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لا کر اور فرمانبرداری اختیار کر کے فرشتوں میں شامل ہوچکا تھا۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں ہی صحیح نہیں ہیں کیونکہ نہ تو وہ فرشتہ تھا اور نہ ہی فرشتوں میں وہ شامل ہوا۔ قرآن کریم صاف اعلان کرتا ہے کہ اس کو فرشتوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بلکہکَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ 1ؕ (الکہف 18 : 50) ” وہ جنات کے گروہ سے تھا اور اپنے رب کے حکم سے باہر ہوگیا یعنی اپنے رب کا حکم ماننے کے لئے تیار ہی نہ ہوا۔ “ فرشتوں کی تو خصوصیت ہی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ طہارت و پاکیزگی اور نیکی و معصومیت کے پیکر ہوتے ہیں اور اللہ کے حکم سے کبھی انحراف نہیں کرتے اور نہ کرسکتے ہیں۔ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ 006 (التحریم 66 : 6) لیکن ابلیس کا جہاں ذکر آیا غرور و سرکشی اور طغیان و ضلالت کے ساتھ آیا۔ پس یہ بات صاف ہوگئی کہ ابلیس ایک جداگانہ مخلوق ہے یعنی وہ جنوں میں سے تھا یعنی اقسام جن میں سے ایک قسم تھا جو فرشتوں کے بخط مستقیم مخالف ہے جس کی رگ و پے میں عصیان وعدوان اور اور نافرمانی سرایت کئے ہوئے ہے۔ اس سے اطاعت و فرمانبرداری کی توقع رکھنا ہی عبث و بیکار اور فضول ہے۔ اس لئے جس وقت اس نے سجدہ آدم یعنی آدم (علیہ السلام) کی فوقیت و برتری کی بات سنی تو فوراً بول اٹھا : ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ0061 کیا میں اس شخص کی بزرگی مان لینے کے لئے سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے دوسری جگہ اس کی تفصیل کی ہے کہ جب اس نے سجدہ سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ 1ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ 1ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ 0012 (الاعراف 7 : 11) ” سجدہ کا حکم تو میں نے دیا ہے تو تجھ کو کونسی چیز مانع ہوئی ؟ کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں تو اس کی بزرگی کو کیونکر تسلیم کرلوں جب کہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے بنایا ہے۔ “ گویا انکار کی اصل وجہ اس کا غرور اور تکبر تھا وہ اپنے آپ کو آدم اور اس کی ذریت سے بہتر خیال کرتا تھا مگر اللہ تعالیٰ کو یہ استکبار کبھی پسند نہیں آسکتا تھا۔ چناچہ اس کے کبر و نخوت کا نتیجہ یہ ہوا کہ لعنت کا طوق ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کے گلے میں پڑگیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ مجسمہ برائی تھا۔ یہ عبارت ایک طریقہ بیان ہے۔ پس ! تاکہ ذریت آدم کو اپنے ابدی دشمن کا پتہ و کھوج بتادیا جائے کہ وہ اس سے ہوشیار رہیں اور اس کے داؤ و فریب میں نہ آئیں کیونکہ وہ ایسا شیطان ہے کہ گویا چور بھی ہے اور چتر بھی ، یعنی شیطان بھی ہے اور شیطنت کو مانتا بھی نہیں۔
Ayah 2:35

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

ہم نے آدم سے کہا ” اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو ، جو چاہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ پیو اور امن و چین کی زندگی بسر کرو مگر ہاں ! دیکھو وہ جو ایک درخت ہے اس کے قریب مت جانا ورنہ زیادتی کرنے والوں میں شمار ہونے لگو گے

آدم (علیہ السلام) کی جنت اول : 82: یہاں دراصل فطرۃ انسانی کی اس کمزوری کو بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار لیتا ہے۔ اور خلق انسانی کا پہلا مرتبہ علم تھا۔ دوسرے مرتبہ میں اس کو بزرگی اور رفعت عطا ہوئی کہ اس عالم دنیا میں جتنی مخلوق ہے ، اس میں سب سے زیادہ شرف اس انسان کو حاصل ہے یعنی وہ اشرف المخلوقات ہے ، پھر تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ اسے راحت و آرام کی زندگی میسر آئے اور یہی اس کی جنت اول ہے۔ پھر غور کرو کہ جب تیسرے مرتبہ یعنی آرام و سکون کی زندگی بسر کرنے کا ذکر آیا تو ساتھ ہی آدم کی بی بی بھی شامل ہوگئیں جس سے اس بات کی تفہیم کرائی گئی کی راحت و آرام کی زندگی اکیلا انسان حاصل نہیں کرسکتا۔ ہاں ! علم اور بزرگی حاصل کرسکتا ہے کیونکہ ان دونوں چیزوں کا تعلق قوائے ملکوتی سے ہے۔ پھر قوت بہیمیہ کا کیا ہوا ؟ جب کہ انسان دونوں قوتوں کا مجموعہ ہے۔ چناچہ دوسری جگہ فرمایا : خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا (الروم 30 : 21) ” تمہاری جنس سے تمہاری بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے سبب راحت و آرام پاؤ ۔ “ یعنی راحت و آرام کی زندگی بسر کرنے کے لئے زوجین کا ہونا ضروریات زندگی کے لئے لازم و ملزوم ہے۔ مختصر یہ کہ مسجود ملائیکہ کا خطاب ملنے کے بعد آدم (علیہ السلام) کو جنت میں زندگی بسر کرنے اور مشروط طور پر سکون آرام حاصل کرنے کے لئے بیوی کو ساتھ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس جنت سے مراد بہشت ہے جس کا وعدہ اعمال صالحہ پر ہے ؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں۔ کیونکہ وہ جنت جو بعد موت حاصل ہوگی اس سے انسان کبھی نکالا نہیں جائے گا اور نہ ہی اس جنت میں کسی شخص کو کسی تکلیف کا سامنا ہوگا۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ : لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا ہُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ 0048 (الحجر 15 : 48) ” اس جنت کے اندر کوئی تکلیف ان کو چھوئے گی بھی نہیں اور نہ ہی وہ کبھی اس سے نکالے جائیں گے۔ “ اور ایسا مضمون قرآن کریم میں بہت سی مختلف جگہوں پر بیان کیا گیا ہے مزید دیکھو ( سورة طہٰ 20 : 18 ، 19) لہٰذا ضروری ہے کہ وہ جنت جو آخرت پر ملنے والی ہے یہاں وہ مراد نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ وہ جنت ہے جس میں آدم (علیہ السلام) کو عارضی طور پر رکھا گیا تھا پھر وہاں تکلیف بھی پہنچی اور اس سے ہاتھ بھی دھونے پڑے۔ یعنی وہاں سے نکالے بھی گئے اور نکلنا بھی پڑا۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی زمین کا ایک ٹکڑا ہوگا جو اس غرض کے لئے مخصوص کردیا گیا جس میں قوائے مثالیہ کے ذریعہ جنت کے آثار و مختصات پیدا کردیئے گئے ہوں۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ آدم (علیہ السلام) خلافت ارضی کے لئے خلق ہوئے تھے پھر اس حقیقی جنت میں کیسے رہ سکتے تھے ؟ اس جنت ارضی میں بھی انہیں صرف اس لئے عارضی طور پر رکھا گیا تھا کہ ان کی قوتیں نشونما حاصل کریں اور زمین میں کام کرنے کے قابل ہوجائیں۔ ویسے بھی آپ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وہ سب سامان زمین میں پیدا کردیئے ہیں جن سے انسان کی بھوک دور ہوتی ہے اور پیاس بجھتی ہے جن سے لباس ملتا ہے اور رہنے کے لئے مکان میسر آتا ہے اور یہی چار چیزیں انسان کی اصل ضرورت ہیں لیکن یہاں یہ ساری چیزیں کوشش سے حاصل ہوتی ہیں۔ پھر انسان میں اللہ تعالیٰ نے طاقت بھی رکھ دی جس کو استعمال کر کے یہ چیزیں حاصل کرسکتا ہے ، اور پھر علم عطا فرمایا اور وہ صلاحیتیں اس کی فطرت میں رکھ دیں کہ جوں جوں علم حاصل کرتا جائے اپنی طاقت و قوت میں بھی اضافہ کرتا جائے۔ جنت کی مشروط زندگی کا انجام : 83: آدم (علیہ السلام) کی مثال اس جنت میں جہاں ان کو عارضی طور پر رکھا گیا اس بچہ کی سی ہے جو ابھی ماں کی گود میں ہے۔ کچھ مدت تک اس کا صرف دودھ پر گزارا ہے کہ کھانے کی قابلیت اس میں پیدا ہو۔ جس طرح کوئی بچہ ہمیشہ کے لئے ماں کے دودھ پر گزارا نہیں کرسکتا اسی طرح آدم (علیہ السلام) ابدی طور پر اس جنت میں نہیں رکھے جاسکتے بلکہ جس وقت ان میں محنت و مشقت کی استعداد پیدا ہوجائے گی فوراً وہاں سے نکال دیئے جائیں گے اوپر مذکور ہوا کہ آدم (علیہ السلام) کو جنت میں جو رکھا گیا تھا وہ مشروط طور پر تھا۔ وہ شرط کیا تھی ؟ وہ شرط یہ تھی کہ انہیں ایک درخت کے قریب جانے سے روک دیا گیا تھا۔ ہمارے مفسرین نے اس درخت کی حقیقت و ماہیت پر بہت کچھ لکھا ہے لیکن واقع یہ ہے کہ وہ تمام و کمال جو لانئی طبع کے سوا اور کچھ نہیں۔ کتاب و سنت سے اس بات کا پتہ نہیں لگتا کہ وہ درخت کون سا درخت ہے ؟ پھر جب ناموس الٰہی اور لسان نبوت نے خاموشی اختیار کی ہو تو ہمیں فلسفیانہ موشگافیاں کرنے کا کیا حق ہے ؟ ہاں ! اس درخت کی مثال اس کڑوی دوا کے ساتھ دی جاسکتی ہے جو ماں اپنے پستان پر یا فیڈر کی نپل پر اس لئے لگا دیتی ہے کہ بچہ دودھ پینا چھوڑ دے اور ساتھ ہی اس کی محبت بھی والدین کے ساتھ بدستور قائم رہے۔ والدہ بچہ کو اس کے قریب جانے سے روکتی ہے مگر جب وہ نہیں مانتا اور اسے منہ لگا ہی دیتا ہے تو آخر اس کا کڑوا پن اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے دودھ ترک کردے۔ یہی کیفیت آدم (علیہ السلام) کے متعلق نظر آتی ہے ، انہیں روک دیا جاتا ہے کہ اس کے قریب بھی نہ جانا ورنہ اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ آخر بھول چوک بھی تو انسانی فطرت کا خاصہ ہے ، اور اسی کا بیان یہاں مقصود حقیقی ہے۔
Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

شیطانی وسوسہ اندازی نے ان دونوں کے قدم ڈگمگا دیئے تو اس زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے کیونکہ حکم الٰہی ہوا کہ ” یہاں سے نکل جاؤ تم میں سے ہر وجود دوسرے کا دشمن ہے اب تم کو زمین میں رہنا ہے اور ایک خاص وقت کیلئے اس میں رہ کر فائدہ اٹھانا ہے “

بھول چوک فطرت انسانی میں داخل ہے : 84: فَاَزَلَّهُمَا : کے الفاظ قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں۔ زلۃ اس قصور کو کہا جاتا ہے جو بغیر عزم و ارادہ کے سرزد ہوجائے۔ شیطان یعنی قوائے بہیمیہ جو فطرت انسانی میں داخل ہیں ، کے پھسلانے کی وجہ سے بغیر عمد و ارادہ کے آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ سے وہ قصور ہوگیا جس سے منع کیا گیا تھا۔ جب تک علم الٰہی میں آدم (علیہ السلام) کا اس جنت میں رہنا طے تھا رہ گئے اور جب ان کے نکلنے کا زمانہ آگیا تو ان سے وہ قصورہوگیا جس میں ان کا عزم و ارادہ شامل نہ تھا چناچہ خود قرآن کریم میں یہ ارشاد موجود ہے کہ : وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا (رح) 00115 (طہٰ 20 : 115) ” اور واقع یہ ہے کہ ہم نے آدم (علیہ السلام) کو پہلے سے جتا کر عہد لے لیا تھا ، پھر وہ بھول گیا اور ہم نے نافرمانی کا قصد اس میں نہیں پایا۔ “ فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِٞ (طہٰ 20 : 121) ” پس دونوں میاں بیوی نے اس درخت کا پھل کھالیا اور دونوں کے ستران پر کھل گئے تب ان کی حالت ایسی ہوگئی کہ باغ کے پتے توڑنے لگے اور ان سے اپنا جسم ڈھانکنے لگے۔ “ جس وقت انہوں نے پھل کھالیا یعنی جب وہ کام کرنے کے قابل ہوگئے تو ان سے اس رخصت پر عمل نہ ہوسکا نتیجہ یہ ہوا کہ ان سے وہ سب کچھ چھین لیا گیا یا فطرۃً چھوٹ گیا اور پوری زندگی کا نقشہ بدل کر رہ گیا چونکہ یہ پہلے سے طے تھا کہ آدم (علیہ السلام) ہمیشہ کے لیے اس جنت میں نہیں رہ سکتے۔ شجر ممنوعہ کو ان کے اخراج کا ایک سبب قرار دیا گیا اس لئے اس کے پھل کا کھانا تھا کہ انہیں وہاں سے نکلنے کا حکم صادر ہوگیا۔ ہبط کے لفظ سے بعض ارباب فکر و علم کو یہ شبہ ہوا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی جنت ضرور آسمانوں پر ہوگی کیونکہ ہبوط کے معنی اوپر سے نیچے آنے کے ہیں۔ لیکن مزید غور کریں گے تو اس شبہ کا ازالہ خود بخود ہوجائے گا۔ قرآن کریم نے نبی اسرائیل کیلئے یہی لفظ استعمال کیا ہے چناچہ ارشاد ہوا کہ : اِهْبِطُوْا مِصْرًا (2 : 61) اور یہاں سب کا اتفاق ہے کہ اس جگہ نقل مکانی کے معنی میں یہ لفظ آیا ہے اور اسی طرح تکلیف و مصیبت میں مبتلاہونے کو بھی کہتے ہیں پس یہاں بھی ہبوط آدم کے یہی معنی ہیں کہ ان کو جنت ارضی سے نکال کر دوسری زمین میں رہنے کا حکم دیا گیا۔ آدم (علیہ السلام) کے جنت سے نکلنے کا باعث ابلیس ہوا اور اس سے پہلے یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ ابلیس کی لعنت کا سبب بھی آدم (علیہ السلام) تھے جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ درحقیقت یہ انہیں قوائے ملکوتیہ اور بہیمیہ کی آپس میں جنگ ہے اور اس میں اشارہ دیا گیا کہ اب قدرتی طور پر جو دونوں میں بغض و عداوت کا بیج بویا گیا تھا اس نے ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کا دشمن بنادیا اور دشمن کا وار جب چل جائے تو وہ کمی نہیں کرتا۔ اس مضمون کو قرآن کریم نے سورة الاعراف میں اس طرح بیان فرمایا : ” اے نسل انسانی ! کہیں شیطان تم کو اللہ کی سیدھی راہ سے بہکا نہ دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو بہکا کر بہشت سے نکلوا دیا کہ لگا ان کے لباس ان سے اتروانے تاکہ ان کے پردہ کی چیزیں ان پر ظاہر کر دے۔ یاد رکھو کہ اغوائے شیطان سے بچتے رہو کیونکہ وہ اور اس کی ذرّیات تم کو ادھر سے دیکھتے ہیں جدھر سے تم ان کو نہیں دیکھتے۔ “ (الاعراف 7 : 27)
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر آدم نے اپنے رب کی فطری تعلیم سے چند کلمات معلوم کرلیے جن سے اس کے حضور قبولیت تھی ، پس اس طرح اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی ، بلاشبہ وہی ہے جو توبہ قبول کرنے والا ہے ، اس کی درگزر کی کوئی انتہا نہیں ہے

بھول کا اعتراف اور وحی الٰہی کی راہنمائی : 85: ا جس وقت آدم (علیہ السلام) وہاں سے نکال دیئے گئے تو انہیں ایک دائمی قانون کی طرف متوجہ کردیا گیا اور وہ دستور العمل یہ تھا کہ دنیا دارالعمل ہے کوئی شخص یہاں تعطل و بیکاری کی زندگی بسر کرنے کے لئے نہیں پیدا کیا گیا بلکہ ہر ایک کو محنت و مشقت کرنی پڑے گی۔ اسی سے وہ کمالات و فضائل حاصل کرے گا اسی پر اس کی فلاح و کامرانی کا دارومدار ہوگا۔ جہاں اس نے عیش و آرام کا خیال کیا تباہ و برباد ہوگیا اور جب تک اپنی حالت کے بدلنے کی خود کوشش نہ کرے گا اس کی حالت کبھی نہیں بدلے گی ، کامیابی انہیں کو نصیب ہوگی جو اس کو حاصل کرنے کی سرتوڑ کوشش کریں گے اور پھر ان کی کوشش بھی قانون الٰہی کے خلاف نہیں ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے کامیابی حاصل کرنے والوں کے لئے مقرر فرما دی ہے۔ آدم (علیہ السلام) جنت سے نکل کر کتنی مدت پریشان خاطر رہے ؟ قرآن کریم نے ذکر نہیں کیا اور اس کی ضرورت بھی نہ تھی کیونکہ فطرت انسانی میں سعی و کوشش کا طریقہ رکھ دیا گیا کہ جتنا اضطراب بڑھے گا اور پریشانی زیادہ ہوگی اتنی ہی سعی و کوشش تیز سے تیز تر ہوگی۔ قانون الٰہی اپنا کام کرنے کے لئے اتنا ہی تیار ہوگا ۔ یہاں بھی یہی ہوا آدم (علیہ السلام) کا اضطراب اتنا بڑھا کہ قانون الٰہی کی زبان خود گویا ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی ہی جوش میں آئی اور آدم (علیہ السلام) کو چند کلمات الہام کئے گئے بس ! وہ کلمات ہی ان کے اطمینان و سرور کا باعث ہوگئے ، ان کلمات کا اگرچہ یہاں ذکر نہیں تاہم دوسری جگہ ان کلمات کو بھی ذکر کردیا گیا تاکہ ذر ّیت آدم بھی اپنی زلت کے موقعہ پر ان سے فائدہ اٹھاتی رہے۔ الفاظ یہ تھے : رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ 0023 (الاعراف 7 : 23) ” دونوں پکارنے لگے کہ اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر بڑا ظلم کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو یقیناً ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں ہوجائیں گے “ ــــــــــــسبحان اللہ ! کہ ابو بشر (علیہ السلام) اور امّ بشر کی اس مناجات میں ادب اور استغفار کی تعلیم سارے آدم زادوں کے لئے قیامت تک باقی ہے۔ والحمد للہ علی ذلک۔
Ayah 2:38

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

جنت سے نکل جانے کا حکم ہمارا بدستور قائم رہا اس کے لیے ہدایت تھی کہ ہماری جانب سے تم پر ہدایت و راہنمائی کی راہ حق کھولی جائے گی جو کوئی اس ہدایت کی پیروی کرے گا اس کے لیے کسی طرح کا غم و فکر نہیں

توبہ کیا قبول ہوئی کہ وحی الٰہی کی بارش ہوگئی : 86: چونکہ آدم (علیہ السلام) کے اطمینان قلب کا باعث وہی کلمات تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کئے گئے تھے۔ اس لئے آئندہ کے لئے یہی قاعدہ کلیہ بنا دیا گیا کہ انسانوں کے عزم و ارادہ میں قوت و طاقت پیدا کرنے ، فطرۃ اصلیہ کو خارجی اثرات و ضلالت سے بچانے ، اللہ کے حضور قلب سلیم کے ساتھ حاضر ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء و رسل کو مبعوث کیا کرے گا۔ ان صحائف و اسفار آسمانی پر ایمان لانا ہر انسان کا فرض ہوگا جو ان پیغمبروں پر نازل ہوں گے اور ان الہامات کا مقصد یہی ہوگا کہ اس کے اندر جذبات صادقہ کی تولید ہو۔ دعا کو بہترین وسیلہ فلاح و کامرانی خیال کرے اور خالق و مخلوق کے تعلقات و روابط میں کسی قسم کی کدورت نہ پیدا ہو۔ اسی موضوع پر دوسری جگہ ان الفاظ میں روشنی ڈالی گئی۔ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ 1ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ 0035 وَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ 1ۚ ہُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ 0036 (الاعراف 7 : 35 ، 36) ” اے اولاد آدم ! جب کبھی ایسا ہو کہ میرے پیغمبر تم میں پیدا ہوں اور میری آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں تو جو کوئی اس کی تعلیم سے متنبہ ہو کر برائیوں سے بچے گا اور اپنے آپ کو سنوارے گا اس کے لئے کسی طرح کا اندیشہ نہ ہوگا ‘ نہ کسی طرح کی غمگینی ہوگی اور جو لوگ میری آیتیں جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلے میں سرکشی کریں گے تو وہ دوزخی ہوں گے ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے۔ “ یہاں سے وحی لٰہی کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو محمد رسول اللہ ﷺ تک بد ستور جاری رہا۔ ہر قوم ، ہر بستی اور ہر علاقے میں یہ پیغام پہنچانے والے مبعوث ہوتے رہے اور لوگ ان چشموں سے سیرابی حاصل کرتے رہے ۔ ازیں بعد خاتم المرسلین ﷺ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے اس وحی الٰہی کا بحر ذخار لائے جو رہتی دنیا تک انسانوں کی راہنمائی کرتا رہے گا ۔ اور ہر عاصی و خطاکار کو اس میں غوطہ زن ہونا ہوگا اسی طرح جس وحی الٰہی کا سلسلہ آدم (علیہ السلام) سے شروع ہوا تھا محمد رسول اللہ ﷺ پر اس کو ختم کردیا گیا اور آخری رسول کی آخری وحی بنی نوع انسان کی ہدایت کا سامان پیدا کرتی رہے گی۔ اللھم صلی علی محمد و علی آل محمد۔